Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 26 ستمبر، 2022

نیوزی لینڈ کا خرگوش

اُفق کے پار بسنے والے ، نیک دل خرگوش پال دوستو۔آپ  نیوزی لینڈ بریڈ سے شاید سمجھتے ہوں کہ یہ نیوزی لینڈ سے آپ کے پاس آرہی ہے ۔

جبکہ ایسا نہیں ، اِس میں کوئی شک نہیں، یہ مہاجر سفید روئی کے  گالے مانند  ، چار سے پانچ کلو وزنی ،خرگوش  ، اپنے مالکوں کے ہاتھوں یا اغواء کنندہ انگریزوں کے ہاتھوں ، سفر کی صعوبتیں برداشت کرتا ۔ کیلیفورنیا (امریکہ )  میں پہنچا ۔اور تجربات کی بھٹی سے گذرا ۔

نیوزی لینڈ میں یہ ماروئی قبائل کی خوراک تھا ، پھر یہ پوری دنیا کے گوشت خور انسانوں کی بھوک تو نہیں، البتہ لذِت خور د و نوش  کے کام آنا شروع ہوا ۔لیکن پاکستان میں، بوڑھے کے پاس ، یہ کیلیفورنیا سے نہیں بلکہ انڈونیشیئین مہاجر ہے ۔جو  کوٹ رادھا کشن کے نئے خرگوش پال امجدثانی سے پہنچا ۔اور برفی ریبٹری-1 میں اپنی نسل کا جد بنا ۔ 

کہا جاتا ہے کہ ، برٹش ایمپائر نے اپنے مقبوضہ نیوزی لینڈ پر وہاں کے ماروئی قبائل  سے 1840 میں جنگ و جدل کے بعد کمانڈر ولیم ہابسن  نے    معاہدہِ ویتانگی کیا اور اِس خوشی میں ماروئی مردو زن نے  ھاکا  (ڈانس) کرکے  ،  وہاں کے خرگوشوں  کے باربی کیو سے، اپنی پشت پر بندوقوں سے مسلح برطانوی سامراج کے لئے  جشن منایا ۔ 

برطانوی تاجروں و فوجیوں  کا  اپنے تمام مقبوضہ علاقوں کو ایک یونین بنا کر اپنا یونئین جیک وہاں لہرا کر نغمہ گانا  کہ ۔ کہ بادشاہ سلامت تا حیات رہیں ۔ اُن کا شوق تھا۔

یہ برف کی طرح سفید خرگوش ، امریکہ جاکر وہاں کے باشندوں  ریڈ انڈین کی طرح، پہلے پالیمنو ہوا ، پھر گندمی (میکسی پاک)   رنگت اختیار کرکے لنکس ہوا گہرا سرمئی (بلیو) ہوا اور پھر افریقہ سے اغوا کئے افریقیوں کی بستی میں ، اُن کی رنگت اختیار کرکے ، اُنہیں لُبھانے لگا ۔    

پاکستان میں پائے جانے والے مقامی خرگوش جو بوڑھے نے ریٹائرمنٹ کے بعد کافی پالے اور سب سے پہلے ، اپنی پوتی برفی کی خواہش پر جب وہ نئی نئی بولنا سیکھی اور  اُس کی پھپو نے اُسے چھوٹا سا بنّی  پہلی سالگرہ پر تحفہ میں دیا۔ پھر چم چم کی خواہش پر چھوٹا سا پپی  (فلفّی) ایک دوست سے لیا ۔

تو جب  دو سالہ برفی بوڑھے اور بڑھیا سے ملنے اپنے بابا اور ماما کے ساتھ ایبٹ آباد سے  آئی۔ تو بوڑھے نے اُس سے پوچھا کہ اُسے کون سا جانور پسند ہے تو اُن نے کہا بنّی ۔یوں بوڑھے کی پالتویات میں تین بنّیز کا اضافہ ہو گیا ۔  
یوں بوڑھا ، خرگوشوں سے صحیح متعارف ہوا ۔مقامی خرگوش کے بچے آتے رہے ، بلّیوں ، نیولوں اور چیل کی خوراک بنتے رہے۔ 

یہاں تک کہ11 مارچ 2022 کو بوڑھے کے پاس کوٹ رادھا کشن سے امجد ثانی نے تین جوڑے، نیوزی لینڈ و ائیٹ کے بھجوائے ۔ جو انڈونیشیئن ٹاٹو  نسل کے تھے ۔جاوا سے جناب احمد سلطان نے ، سنٹرل ریبٹ رینچ  سے امپورٹ کئے اور 25 اکتوبر2020 کوجناب امجد ثانی کے پاس کوٹ رادھا کشن پہنچ گئے ۔

جن کا مکمل پڈگری سرٹیفکیٹ امجد ثانی  صاحب کے پاس موجود ہے ۔

لہذا،  اعتبار کے لحاظ سے ، بوڑھے کے پاس 100 فیصد خالص ، جاوا انڈونیشیاء کی نیوزی لینڈ  کی  بریڈ  کے بنّیز ،کوٹ رادھا کشن میں جم پل کے بعد  پہنچ گئے ۔اور اپنی نسل آگےبڑھانےکے لئے تیاری پکڑ رہے ہیں ۔اور  جو   BR1اور BR2 کے نام سے اپنی نسل پھیلائیں گے

اُفق کے پار بسنے والے خرگوش پال دوستو۔سنا ہے کہ نیوزی لینڈوھائیٹ کا گوشت، لذت میں دیگر خرگوشوں کے کم و بیش برابر ہے ، لہذا 1840 کے بعد ، نیوزی لینڈ پر یونیئن جیک لہرانے  کے بعد برٹشرز  تجارتی وفد   ملکہ وکٹوریہ کے لئے  ، بطور تحفہ لائے کیوں کہ ملکہ اور بادشاہ ہی ایسے تحفوں کے حقدار ہوتے ہیں ، جو اُن کے باجگذار ملکوں میں توشہ خانوں میں جمع کروادیئے جاتے تھے ، ورنہ عام حاکموں کے لئے اُن کا ستعمال اتنا ہولناک ہوتا کہ وہ گائے کی کھال میں سلوا کر ملتان سے حجاز منگوائے جاتے ۔اب تو کوڑیوں کے مول خرید کر حکمران سونے کے بھاؤ بیچنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ حاجی یا عمرہی،   پرائے مال پر دیدے لال کرنے کو اپنا حق سمجھنا حکمرانی کا فتور ہے ۔ جب ہی تو مال ِ غنیمت میں قابو پا ئی ہوئی   کنیزیں حورم سلطان کا لقب پاتیں ۔

تو ذکر ہورہا تھا نیوزی لینڈ کی حورم  سلطانیں برطانیہ کے راستے یورپ میں داخل ہوئیں ، اطالوی حکمرانوں کے دنیا پر قابض ہونے کے خواب کو یونین جیک نے مٹی میں ملا دیا ورنہ یورپ میں داخل ہونے کے تمام  راستے روم سےگزرتے  تھے چنانچہ  بحری تجارتی راستوں کو  یونیئن جیک کے بعد  بھی یہی اعزاز رہا تمام بحری راستوں کا مرکز  روم رہا ، چنانچہ بحری جہازوں میں سوار تمام  وبائیں اٹلی کے راستے ہی یورپ یں داخل ہوئیں ۔1631 کا طاعون روم کے راستے میلان سے ہوتا ہوا فرانس میں داخل ہوا ۔  

چنانچہ برٹش راج محتاط تھا  کی نیوزی لینڈ  سے آنے والی خرگوشنیاں  اپنی وباؤں کے ساتھ  یورپی  /اطالوی لیبارٹری سے پہلے شاہی محلات کی راہ داریوں میں نہ داخل ہوجائیں ۔لہذا کئی سالوں بعد ، نیوزی لینڈ وھائیٹ خرگوشوں کی نسل کو ، نسل پرستوں نے  قبول کیا ۔

امریکہ میں، بسنے والے کھلے دماغ کے ہوتے ہیں لہذا وہاں 1691 میں کیلیفورنیا میں نیوزی لینڈ وھائیٹ خرگوش، رجسٹر ہو کر   اپنا ڈیرہ جمانے میں کامیاب ہوئے اور یہاں سے باقی دنیا میں پھیلے ۔کہا جاتا ہے کہ رجسٹریشن حاصل کرنے کا سہرا، نیوزی لینڈ کے سرخ خرگوشوں  ، پالیمنو  نے حاصل کیا ۔

نیوزی لینڈ وھائیٹ کے گوشت کی لذت ، سے مستفید ہونا کافی مہنگا شوق ہے ۔بس انڈین یا پاکستانی مصالحوں کا مناسب استعمال ہو ۔ ویسے بھی  میل خرگوش  کا گوشت پاکستان میں ۔تقریباً 11 سو روپے کلو فروخت ہوتا ہے ۔       زندہ میل خرگوش غالباً 700 روپے کلو فروخت ہوتا ہے۔ اگر آپ نے چند  نیوزی لینڈ خرگوش رکھے ہیں تو کوئی فائدہ نہیں ، کم از کم آپ کے پاس 20 فیمیل ہوں اور وہ ہر45 دن بعد 120 بچے دیں کو آپ نیوزی لینڈ وھائیٹ کے میٹ بزنس میں، بہترین انداز میں  قدم جما سکتے ہیں ۔         ،

   ٭٭٭٭٭٭٭جاری ٭٭٭٭٭٭

   مزید مضامین پڑھنے کے لئے جائیں ۔

 فہرست ۔ خرگوشیات  



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔