میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 24 اگست، 2019

شگفتگو- استاد بقلم خود

استاد کا نام تو ہمیں معلوم نہیں، اور شاید کسی کو بھی معلوم نہ ہو گا، مگر مشہور وہ استاد بقلم خود کے نام سے تھے۔ سبب اس کا یہ سنا گیا ہے کہ شاگردوں کی کاپی بکس پر جہاں کہیں کچھ کاٹ چھانٹ کرتے تھے یا غصیلے تبصرے لکھتے تھے وہاں استاد بقلم خود لکھ دیا کرتے تھے۔ تمام کھرے استادوں کی طرح ان کا بھی خیال تھا کہ وہ ہر معاملے میں سند ہیں، اور یہ کلمہ لکھ کر وہ گویا مہر تصدیق ثبت کرتے تھے۔ بس پھر ہر شخص انہیں ان کے سامنے استاد اور پیٹھ پیچھے استاد بقلم خود ہی کہنے لگا۔
خوش قسمتی سے استاد میرے استاد کبھی نہیں رہے۔ وہ میرے کچھ زیادہ ہی چھوٹے بھائی کے پرائمری کے استاد تھے، اس حوالے سے کبھی کبھار ان سے آمنا سامنا ہو جاتا تھا۔ مگر ان کی شاگردی کے زمانے میں بھائی اکثر ان کی شان میں ناقابلِ بیان بیانات دیا کرتا تھا، جس سے ان کی شخصیت کا ایک عجیب سا خاکہ میرے ذہن میں بھی بن گیا تھا۔
وہ دور تو رفت و گزشت ہوا۔ بھائی غیر ملک جا بسا۔ ہم نے وہ محلہ چھوڑ دیا۔ مگر پھر ہوا یوں کہ بھائی اپنی عادت کے مطابق ایک بار پرانے محلے لوگوں سے ملنے گیا تو کہیں استاد بقلم خود بھی راستے میں مل گئے۔ بھائی نے بڑی عقیدت سے ان کو سلام کیا اور اپنا تعارف کرایا۔ بولے ابے تجھ کو کون بھول سکتا ہے۔ سارے اسکول میں تجھ جیسا نالائق اور کوئی نہیں تھا۔ اگر بھائی کو یہ معلوم نہ ہوتا کہ یہ بات وہ ہر لڑکے سے کہتے ہیں، تو شاید وہ احتجاج کرتا۔
اسی دوران استاد کی نظر بھائی کے ہاتھ میں موجود اس کی ایک پسندیدہ کتاب پر پڑی جو اسی دن کسی نے اسے تحفے میں دی تھی۔ استاد نے بھائی کے ہاتھ سے کتاب جھپٹ لی الٹ پلٹ کر دیکھا اور پوچھا کس کی کتاب ہے یہ؟
وہ بولا استاد میری ہے۔ کہنے لگے جھوٹ بولتا ہے۔ یہ میری کتاب ہے۔ یہ کہہ کر انہوں نے کتاب لینن کی طرح اپنی بغل میں دبائی اور یہ جا وہ جا۔
اب تین چار ماہ بعد بھائی نے مجھ سے کہا کہ اگر آپ کا اس علاقے میں جانا ہو تو استاد بقلم خود سے کتاب واپس لینے کی کوشش کیجیے۔ اس فرمائش کے نتیجے میں میں ایک پیچیدہ شام استاد کے گھر کے دروازے پر دستک دے رہا تھا۔
----------------
استاد نے بڑی شفقت سے مجھے اپنے گھر کے اندر بلایا اور بٹھا کر مجھ سے میری آمد کا مقصد پوچھا۔ میں نے تعارف کرانے کے بعد کہا کہ استاد میرے بھائی سے آپ نے ایک کتاب چھینی تھی۔ اب اگر آپ کے کام کی نہ رہی ہو تو اسے بخش دیجیے اور کتاب بخش دیجیے۔ استاد ایک قہقہہ مار کر ہنسے اور پھر سنجیدہ شکل بنانے کی کوشش کرتے ہوئے، جو رونی زیادہ لگ رہی تھی، بولے دیکھو جوان، تم کو پتا ہے علم بڑی دولت ہے اور کتاب اس علم کا مخزن ہے۔ میں نے کہا جی استاد۔ بولے تم کو یہ بھی پتہ ہو گا کہ دولت ہاتھ کا میل ہوتی ہے یعنی آنی جانی چیز۔ پس میرے پاس کتابوں کی دولت بھی آتی جاتی رہتی ہے۔ میں اپنے جس شاگرد کے پاس کوئی کتاب دیکھتا ہوں چھین لیتا ہوں۔ اور پھر ایسا ہے کہ ایک شاگرد میرا ردی کا کام کرتا ہے۔ بہت سر چڑھا ہے۔ مہینے دو مہینے میں آتا ہے اور جو کتابیں نظر آئیں سب اٹھا لے جاتا ہے۔ اور مجھے دس بیس روپے تھما دیتا ہے۔ تو تمہاری کتاب بھی گئی۔
میں نے واپس جانے کی اجازت چاہی تو بولے ارے بیٹا بیٹھو۔ میں تمہارے لیے جوس لے کر آتا ہوں۔ یہ کہہ کر اندر گئے، اور واپس آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک ٹرے تھی جس میں ایک پیالہ چائے کا تھا اور ایک پلیٹ میں کچھ رس رکھے ہوئے تھے، جنہیں پاپے بھی کہا جاتا ہے۔ میں حیرت سے ان کو دیکھنے لگا تو بولے حیران کیوں ہو؟ یہ پلیٹ میں کیا ہے؟ میں نے کہا رس۔ بولے تو رس کو انگریزی میں جوس ہی تو کہتے ہیں۔ اور یہ کہہ کر چائے کا پیالہ اٹھا کر منہ سے لگا لیا اور بولے میری بیوی آنے جانے والوں کو چائے نہیں دیتی کہ اس طرح لوگ بلاوجہ چائے پینے آجاتے ہیں۔ لو تم جوس کھاؤ۔
میں نے پھر اجازت چاہی تو بولے عجیب بدتہذیب آدمی ہو۔ کچھ دیر بیٹھو کچھ باتیں کرو۔
اب استاد شروع ہوئے اور بولے میرا اسکول میری جنت ہے۔ میں اپنی اس جنت میں امن اور چین کے ساتھ براجمان ہوں۔ بس ایک اس نوجوان ہیڈ ماسٹر کا خوف رہتا ہے کہ کہیں وہ مجھے میری جنت سے کسی بشر ممنوعہ کو کھانے کی پاداش میں اسی طرح سے نہ نکلوا دے جیسے اس کے جد امجد نے میرے جد امجد کو شجر ممنوعہ کھانے پر اکسا کر نکلوایا تھا۔
تم لوگوں کو پتا ہی ہوگا کہ میں چالیس سال سے پرائمری کے بچوں کو پڑھنا سکھا رہا ہوں۔ اس کے باوجود وہ دشمن جاں مجھے پڑھانا سکھانا چاہتا ہے۔ اب اگر تم حساب کتاب سے ذرا بھی واقفیت رکھتے ہو تو خود حساب لگا لو کہ ہر سال ایک سیکشن کے پچیس سے پچاس بچے۔ تو سیکشن کبھی دو کبھی چار۔ سو لڑکے تو ہوئے نا سال کے۔ تو چالیس سال کے پچاس ہزار تو ہو گئے۔ سارے شہر میں میرے شاگرد مل جاتے ہیں۔ پچاس ہزار بچے پڑھ ہی گئے، یعنی بیس لاکھ کی آبادی بھی ہو تو آدھا شہر تو میرا شاگرد۔ کسی بھی تھانے میں چلے جاؤ، بستہ الف اور بستہ ب کے سارے معززین میرے شاگرد ملیں گے۔ ان شاگردوں میں سے بہت سے مجھے ظالم کہتے ہیں، وحشی کہتے ہیں، اجڈ گنوار کہتے ہیں، کوئی کوئی جاہل بھی کہہ دیتا ہے، مگر کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ استاد بقلم خود کو پڑھانا نہیں آتا۔ بس بہت ہوا تو کسی افلاطون کے مستانے نے یہ کہہ دیا کہ استاد کے پڑھانے کا طریقہ درست نہیں۔ حالانکہ میرا پڑھانے کا طریقہ وہی ہے جو ہزاروں سال سے چلا آ رہا ہے کہ ایک ہاتھ میں قلم اور دوسرے میں ڈنڈا۔
آہ۔ ڈنڈے پر یاد آیا کہ ایک بار جب میں جب انگشت بڈنڈاں نابکار لونڈوں کی ہنسلی پنسلی ایک کرنے میں مصروف تھا تو ناگہاں میری نظر دروازے پر پڑی جہاں وہ تنگ نظر ہیڈ ماسٹر ساری کارروائی کا بچشم خود عینی مطالعہ کر رہا تھا۔ اس کے بعد جو سلوک میرے ساتھ ہوا وہ ہرگز ایسا نہ تھا جیسا استاد استادوں کے ساتھ کرتے تھے۔ اس کے بعد تو اس ستمگر کا یہ وطیرہ ہی ہو گیا کہ جب میں بورڈ پر لکھ لکھ کر پڑھا رہا ہوتا تھا تو وہ دبے قدموں آکر کھڑا ہو جاتا۔ لیکن استاد پھر استاد ہوتا ہے۔ میں بھی اب ایسے لکھتا ہوں کہ ہاتھ بورڈ پر لکھ رہے ہوتے ہیں اور نظریں دروازے پر۔ بیشک ایسے میں تحریر کچھ ٹیڑھی میڑی ہو جاتی ہے مگر جان تو بچی رہتی ہے۔
میں نے کہا استاد آپ کے بارے میں مشہور ہے کہ پڑھاتے ہوئے موضوع سے ہٹ جاتے ہیں اور انٹ شنٹ بولنے لگتے ہیں۔ اگر اکبر اعظم کے بارے میں پڑھانا ہو تو آپ فوراً نپولین اعظم تک پہنچ جاتے ہیں اور بچوں کو یہ بتاتے ہیں کہ اسے بونا پارٹ اس لیے کہتے ہیں کہ اس نے اسکول کے زمانے میں ایک ڈرامے میں بونے کا پارٹ ادا کیا تھا۔
استاد بولے دیکھو ناہنجار، ہمارے بزرگ علماء کا ہمیشہ سے یہ طریقہ رہا ہے کہ جس کلام کے بارے میں پتا چل جائے کہ موضوع ہے اسے چھوڑ دیتے تھے۔ اس لیے میں بھی موضوع کو چھوڑ دیتا ہوں۔ تو اس میں کیا قباحت ہے۔
لیکن مجھے ناہنجار کا لفظ بہت برا لگا تھا۔ میں نے کہا استاد میں آپ کا شاگرد کبھی نہیں رہا جو آپ مجھے ایسے مخاطب کر رہے ہیں۔ بولے میرے شاگرد نہیں رہے تو کسی میرے جیسے کے تو رہے ہو گے۔ میں نے کہا استاد میں جس پرائمری اسکول میں تھا وہاں آپ کے جیسے ڈنڈا بردار استاد نہیں ہوتے تھے۔ وہاں عورتیں پڑھاتی تھیں۔
بولے ہاں جبھی تو میں کہوں کہ تمہاری یہ لچکتی کمر، مچلتی آنکھیں اور پھسلتی زلفیں کس بات کا شاخسانہ ہیں۔ اور اپنے ہاتھوں کے ناخن تو دیکھو، لگتا ہے کسی مونا لیزا کے ہیں جن پر لپ اسٹک لگا دی گئی ہے۔
میں نے کہا استاد ناخنوں پر نیل پالش لگائی جاتی ہے لپ اسٹک نہیں۔ بولے تم بچے ہو۔ میاں کسی مرد کے ناخنوں کو اس کی محبوبہ چومے گی تو ناخنوں پر کیا لگے گا؟
پھر بولے دیکھو میاں عورت جب ٹیچر بنتی ہے تو سارا وقت تو آئینہ دیکھنے، بال سنوارنے اور لپ اسٹک لگانے میں گزر جاتا ہے۔ کلاس میں تو صرف حاضری لی جاتی ہے اور باقی ہوم ورک۔ مرد استاد تو پہاڑے پڑھا پڑھا کر رزق حلال کرتے ہیں۔
پھر بولے اچھا چھوڑو یہ بتاؤ کہ تم کیا کرتے ہو۔ میں نے کہا استاد میں پروفیسر ہوں۔ بولے مجھ سے پڑھے ہو نہیں پھر تم کو یہ نوکری کس نے دے دی۔ آتا جاتا تو تم کو خاک نہیں ہو گا۔ اب بھی میرے پاس آکر کچھ سیکھ لیا کرو تو کچھ بن جاؤ گے۔ دیکھو ایک بات سمجھ لو۔ پڑھانے کے لیے پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں ہے۔ یہ قول ہے استاد بقلم خود کا۔ استاد کو اتنا ہی آنا چاہیے جتنا اسے پڑھانا ہو۔ ورنہ اس کا ذہن ادھر ادھر بھٹکتا ہے۔
پھر بولے دیکھو تقسیم پرانے زمانے میں یوں ہوتی تھی کہ اکثر کچھ بچ جاتا تھا، جسے خارج قسمت (انگریزی میں ریمینڈر) کہتے تھے۔ یہ خارج قسمت غریب غرباء کی قسمت میں آتا تھا۔ مگر ملکوں کی تقسیم کے بعد تقسیم کے اصول بدل گئے اور اعشاریہ کا آئین نافذ کر کے خارج قسمت کو بھی داخل قسمت بنا لیا گیا ہے گویا ریمینڈر کو ریماینڈر کر دیا گیا ہے اس روش کا کہ چت بھی اپنی، پٹ بھی اپنی ڈنڈا میرے باپ کا۔ کیا سمجھے؟
اتفاق سے ان کے سامنے ایک اخبار تھا جس میں کسی خاکوانی کا ایک مضمون چھپا تھا۔ بولے دیکھو دنیا کہاں جا رہی ہے۔ دراصل یہ لفظ خاکدانی تھا جو بگڑ کر خاکوانی ہو گیا ۔ اب میں تو اس لیے جانتا ہوں کہ ہم لوگ اس زمانے کے پڑھے ہوئے ہیں جب 'د' اور 'و' شیر و شکر ہوتے تھےاور ایک دوسرے کی جگہ نہایت آسانی سے لے لیتے تھے۔ اسی لیے آدھی دنیا آج بھی ذمہ داری کو ذمہ واری کہتی ہے اور کجاوہ کو بلا تکلف لوگ کجادہ کہتے ہیں۔ مگر ساری دنیا بگڑ جائے، میں استاد بقلم خود ہوں میں کبھی بگڑا لفظ نہیں کہوں گا۔
میں نے کہا استاد آپ نے ساری عمر ماسٹری میں گزاردی یا اور بھی کوئی کام کیا؟
بولے ایسا بھی نہیں کہ میں نرا ماسٹر کا ماسٹر ہی ہوں۔ بہت کم لوگوں کو یہ بات پتا نہیں ہو گی کہ میں ساتھ ساتھ ایک بلند پایہ بے سند معالج بھی ہوں۔ کچھ لوگ مجھ سے علاج کرواتے ہیں اور جو لوگ ازراہِ انکسار میرے پاس آتے ہوئے جھجھکتے ہیں، ان کا علاج کرنے کے لیے میں خود پہنچ جاتا ہوں۔ دیکھو بھلا میں نے کس کس کا علاج نہیں کیا۔
کامران کی ران کا علاج، رخسانہ کے رخسار کا علاج، کفیل آپا کے فیل پا کا علاج، دردانہ کے درد کا علاج، قمر کی کمر کا علاج، مرزبان کی زبان کا علاج، فخر النساء کے عِرق النَساء کا علاج، صنلی کی پنڈلی کا، اللہ وسائی کی کلائی کا علاج، آرزو کے بازو کا علاج، افسر کے سر کا علاج، خاقان کے خفقان کا علاج، منوچہر کے چہرے کا علاج، مسکان کے کان کا علاج۔ اب زندگی اور موت تو مالک کے ہاتھ ہے اور شفا دینا نہ دینا اسی کا کام۔ اتفاق سے میرے مریض شفایاب نہیں ہوئے تو کیا ہوا۔ علاج تو میں نے کیا نا۔
یہ کہہ کر بولے اب تم جاؤ۔ بہت وقت ضائع کیا میرا۔
اور میں بدھو۔


(تحریر - آصف اکبر)
٭٭٭٭٭٭
(یہ مضمون 24 اگست 2019 کو زعفرانی بزم مناثرہ کی بارہویں محفل میں پڑھا گیا۔) 

٭٭٭٭٭٭واپس جائیں٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔