میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 24 اگست، 2019

شگفتگو کی بارھویں ماہانہ محفلِ مزاح

روداد: زعفرانی بزم مناثرہ کی ماہانہ محفلِ مزاح برائے اگست 2019
محفل کی تاریخ: 24 اگست 2019
نشست: بارہویں نشست۔
مقام: رہایش حبیبہ طلعت، کورنگ ٹاون، اسلام آباد
میزبان: حبیبہ طلعت اور والد گرامی عزیر احمد شیخ
30 ستمبر 2018 کو اپنے سفر کا آغاز کرنے والے اس ہنستے مسکراتے کاروان نے اگست کی محفل کے ساتھ ہی ایک سال مکمل کر کے ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا۔ اور اس دوران کسی مہینے بھی محفل کا ناغہ نہیں ہوا۔ ہے نا ایک طویل سفر کاخوش آیند آغاز۔۔۔۔
یہ ہماری خوش قسمتی رہی کہ جس محفل کو 10 اگست کو ہونا تھا اسے بقرعید کی وجہ سے دو ہفتے موخّر کیا گیا، اور اس بہانے مزاح کی دنیا کے ایک معروف لکھنے والے ڈاکٹر اشفاق احمد ورگ اور ان کے ساتھ ہی کہنہ مشق شاعر اور مزاح کے میدان میں نووارد ڈاکٹر شاہد اشرف اور ان کی معیت میں ڈاکٹر فرخ رضوی صاحب لاہور سے تشریف لا کر محفل میں شریک ہوئے، اس طرح اس ماہ کی محفل کو ایک خصوصی اہمیت حاصل ہو گئی۔
روداد نویسی بھی کوئی اتنا آسان کام نہیں ہے۔ دانتوں میں پسینا آجاتا یے۔ پھر آجکل کا موسم اور گھر کے کام ہی کام اس لیے دیر ہونے کی معذرت۔
محفل کا وقت تو 5 بجے شام کا تھا اور کچھ شرکاء بروقت پہنچ بھی گئے تھے۔ اس دن گرمی بھی آپے سے باہر ہو رہی تھی اور خدشہ تھا کہ کہیں اس سبب سے شرکاء کم نہ آئیں مگر اس محفل کی کشش ہی کچھ ایسی تھی کہ سوائے نسیم سحر صاحب کے جو شرکت کے خواہشمند ہونے باوجود سواری کی مجبوری کے سبب تشریف نہ لا سکے، اور نعیم الدین خالد صاحب کے جواپنی بیگم کی طبیعت کی وجہ سے اپنا بوریا بستر لپیٹ کر اسلام آباد سے مستقل جا رہے ہیں، اس وجہ سے بہت مصروف تھے-
تقریباً سارے متوقع شرکاء تشریف لائے اور ہمیں شرف میزبانی بخشا۔ ان کے علاوہ لاہور اور فیصل آباد سے تشریف لانے والے مہمانوں نے خصوصی عزت افزائی کی، جس کے لیے ہم ان کے ممنون ہیں۔ آخر میں تو کمرے میں جگہ کم پڑنے لگی تھی، جس پر ہمیں بہت مسرت ہو رہی تھی۔
ساڑھے پانچ بج گئے تھے اور ڈاکٹر عزیز فیصل کا کوئی پتا نہیں تھا۔

 استاد محترم آصف اکبر نے کہا کہ آج پہلا پتھر میں ماروں گا، اور ساتھ ہی انہوں نے اپنا تازہ لکھا ہوا مزاحیہ مضمون 'استاد بقلم خود" پڑھنا شروع کر دیا۔ ان کی تحریر حسب معمول دلکش تھی اور سامعین کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب رہی۔
ان کے بعد چونکہ فردوس عالم، آصف اکبر کے ساتھ ہی بیٹھے تھے اس لیے ان کو مدعو کیا گیا۔ یوں وہ خوشگوار چکر شروع ہوا جس کے چکر میں سارے شرکاء چکرائے ہوئے تھے۔ فردوس عالم نے ایک شاندار بکرے کا ذکر کیا جس کی وجہ سے سارے محلے اور سارے خاندان میں ان کی امارت کی دھوم مچ گئی، مگر جب سسرال والے بکرا دیکھنے کے لیے آئے تو عین وقت پر بکرے کا مالک اسے لینے کے لیے آ گیا، اور یہ راز کھل گیا کہ بکرا کرائے پر لیا گیا تھا۔ فردوس عالم کا دلچسپ انداز بیان لطف دے گیا۔

ان کے بعد ڈاکٹر فاخرہ نورین کو موقع ملا۔ انہوں نے اپنے شوہر کے بارے میں مزاحیہ پیرائے میں ایک طویل تحریر لکھی ہے، جس کا ایک حصہ انہوں نے پیش کیا، اور جب دیر سے آنے والے مہمانوں کی خاطر بار دگر ان کو دعوت دی گئی تو انہوں نے ایک اور حصہ پڑھا۔ ان کی پیشکش بھی خاصی کامیاب رہی اور لوگ ہنستے مسکراتے رہے۔
ان کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں ڈاکٹر سائرہ بتول جو اسلامی یونیورسٹی میں اردو کی پروفیسر ہیں اور اس محفل میں پہلی بار شریک ہوئی تھیں۔ انہوں نے ایک سنجیدہ موضوع پر ایک شگفتہ تحریر پڑھی جو لوگوں نے بہت پسند کی۔ ان کی تحریر پی ایچ ڈی کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان اور مقالوں کے غیر کارآمد ہونے کے احوال کے بارے میں تھی۔ ساتھ ہی پی ایچ ڈی اور ایم فل کے طلباء کی دشوایوں کی بھی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس موقع پر کسی نے ڈاکٹر فاخرہ اور ڈاکٹر سائرہ کو ایک صوفے پر بیٹھے دیکھ کر بہت دلچسپ بات کہی کہ ایک زمانے میں پی ایچ ڈی خال خال ہوتے تھے اور اب یہ حال ہے کہ ایک صوفے پر دو دو مل جاتے ہیں۔


ان کے بعد ہماری باری آ گئی۔ ہم نے ناک کے بارے میں ایک طویل مضمون کا آدھا حصّہ پیش کیا جس کا عنوان تھا "ناک کا سوال ہے بابا"۔ اس میں ناک کے مختلف پہلووں اور زبان میں اس کے استعمال پر ہلکی پھلکی بات کی گئی تھی۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ مضمون بھی پسند کیا گیا تھا، مگر ابھی تک کسی سمت سے تصدیق نہیں ہوئی اس لیے دعویٰ نہیں کرتے۔
اس کے بعد چوہدری بابر عباس گویا ہوئے۔ محفل کی ہیئت کے بارے میں آگاہی نہ ہونے کے سبب وہ اپنی کوئی تحریر نہیں لائے تھے اس انہوں نے کسی اور کا ایک اقتباس سنایا۔ ان کے بعد قیوم طاہر صاحب کی باری تھی مگر انہوں نے حسب معمول یہی کہا کہ ان کے پاس کوئی تحریر نہیں۔
اس کے بعد عاطف مرزا کو موقع ملا۔ انہوں نے بھی ایک خواب کی روداد سنائی جس میں وہ سنہ 3019 میں پہنچ کر بکرے کی خریداری کر رہے تھے۔ ان کو بھی خوب داد ملی جس کے سبب وہ کچھ پھولے پھولے لگنے لگے۔

اب زحمت دی گئی جناب ارشد محمود کو۔ انہوں نے 'لاہور یاترا' کے عنوان سے اپنے مخصوص رنگ میں ایک دلچسپ تحریر عنایت کی اور خوب داد سمیٹی۔

اس دوران کہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا، ڈاکٹر عزیز فیصل لاہور سے آئے ہوئے معروف مزاح نگار ڈاکٹر اشفاق احمد ورگ کو ساتھ لے کر پہنچے۔ جبکہ دوسرے دو مہمان راستہ بھٹک کر لوئی بھیر کے ہیر پھیر میں گم ہو گئے اور اس وقت پہنچے جب آخری شریک اپنی تحریر پڑھ رہے تھے۔

 اب عزیز فیصل صاحب کو باری دی گئی۔ انہوں نے بدپرہیزی اور خوش خوراکی کے بڑھتے ہوئے قومی رجحان کے بارے میں ایک خوبصورت مزاحیہ مضمون سنایا اور قہقہے بھری داد سمیٹتے رہے۔
اس کے بعد ایک وقفہ کیا گیا اور شرکاء کی ماکولات اور چائے سے تواضع کی گئی۔ بزم کے قیام کی پہلی سالگرہ کی مناسبت سے اہتمام رہا۔
وقفے کے بعد حسن ابدال سے تشریف فرما پروفیسر ظہیر قندیل صاحب کو اکسایا گیا۔ انہوں نے اپنی زیر تصنیف کتاب سے اردو قواعد و انشاء کے حوالے سے کچھ حصّہ سنایا اور لوگوں کو محظوظ کیا۔ اس دوران ڈاکٹر شاہد اشرف اور ڈاکٹر فرّخ رضوی بھی بھٹکتے بھٹکتے پہنچ ہی گئے۔ 
ان کے بعد ڈاکٹر اشفاق ورگ کو زحمت دی گئی۔ انہوں نے پہلے کچھ کھلکھلاتے جملے عنایت کیے جن میں ایک یہ تھا کہ مجھے آج تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ کچن کو اندر سے اور باتھ روم کو باہر سے کنڈی لگانے کی کیا تک ہے۔ پھر انہوں نے ڈاکٹر غفور شاہ قاسم کا ایک انتہائی پرلطف خاکہ سنایا جو شرکاء نے بہت اشتیاق سے سنا اور خوب داد دی۔
ان کے بعد محفل کے آخری گویا ڈاکٹر شاہد اشرف صاحب کو دعوت دی گئی۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ شاعری تو میں عرصے سے کر رہا ہوں مگر مزاح کے میدان میں یہ میرا پہلا قدم ہے۔ اپنی تحریر بعنوان'بیداری کے بعد' پڑھی جو واقعی پرلطف تھی۔
محفل میں بیگم فردوس عالم، قیوم طاہر ، عزیر احمد اور ڈاکٹر فرّخ بطور سامع شریک رہے۔ محفل شروع ہی آدھے گھنٹے کی تاخیر سے ہوئی اور پڑھنے والوں کی تعداد زیادہ تھی۔ 

پھر ڈاکٹرعزیز فیصل کے کہنے پر کچھ لوگوں نے اپنی تحریریں دوبارہ دیر سے آنے والوں کو سنائیں۔ اس طرح محفل تقریبا تین گھنٹے جاری رہی۔ طوالت کے باوجود شرکاء کی دلچسپی آخر دم تک قائم رہی۔ شاید یہی مزاح کی جادوگری ہے۔
موسم شدید گرم تھا سو ہمیں بھی وسیع لاونج کو چھوڑ کر ہنگامی بنیادوں پر اے سی والے چھوٹے کمرے میں بیٹھک بنانا پڑی۔ یقیناً شرکاء کو تکلیف ہوئی ہوگی جس کے لیے ہم احباب سے معذرت خواہ ہیں۔ شکریہ
(مبصّر -  حبیبہ طلعت )
٭٭٭٭٭٭واپس جائیں٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔