میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 30 ستمبر، 2018

شگُفتگو- ممبر- حبیبہ طلعت

محترمہ حبیبہ طلعت ، کےمحفل مزاح نگارانِ قہقہہ آور میں پڑھے گئے مضامین -


  



٭٭سال 2018 ٭٭

نشست ماہ مضمون
1 ستمبر
2 اکتوبر
3 نومبر
4 دسمبر

٭٭سال 2019 ٭٭
شمار ماہ مضمون
5 جنوری
6 فروری بہن بھائی چارہ
7 مارچ
8 اپریل
9 مئی
10 جون کس قیامت کے یہ بدنامے میرے نام آتے ہیں۔
11 جولائی تہذیبوں کے تصادم
12 اگست ناک کا سوال ہے بابا
13 ستمبر ناک کا سوال ہے بابا
14 اکتوبر
15 نومبر
16 دسمبر دیس کے رنگ نرالے


٭٭سال 2020 ٭٭

شمار ماہ مضمون
17 جنوری ک سے کوفتہ ۔۔ف سے فالودہ
18 فروری
19 مارچ
20 اپریل کیا کیا مچی ہیں یارو، اوہام کی بہاریں
21 مئی میاں بیوی اور رسّہ
22 جون ک سے کوفتہ ۔۔ف سے فالودہ
23 جولائی
24 اگست
25 ستمبر
26 اکتوبر
27 نومبر
28 دسمبر
٭٭٭٭٭٭واپس جائیں٭٭٭٭٭٭


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔