میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 15 جون، 2019

شگفتگو - کس قیامت کے یہ 'بدنامے' میرے نام آتے ہیں - حبیبہ طلعت

مورخہ 15 جون نسٹ لائبریری میں زعفرانی بزم مناثرین کی منعقدہ دسویں نشست میں پڑھا گیا ہمارا انشائیہ
شگفتہ نثر؛
** کس قیامت کے یہ 'بدنامے' میرے نام آتے ہیں **

اگر ہم یہ کہیں کہ ہم سب لوگ جنہوں نے سلسلہء سوشل میڈیا کی فیس بک یا وہاٹس ایپ یا چہچہے یعنی ٹویٹر جیسے قطبانِ دوراں کے دستِھائےحق و ناحق شناس پر انٹرنیٹ کے توسط سے بیعت کی ہوئی ہے اپنی نیکدلی کے سبب ایک واہیات در واہیات جنون کے وکٹم ہیں تو ہرگز حیران ہونے کی کوشش نہ کیجیے گا کہ اردو تحریر میں انگریزی لفظ کیوں؟
اب اگر ہم اس بحث میں پڑ گئے کہ اردو میں انگریزی کے الفاظ حرام ہیں، مکروہِ تحریمی یا مکروہِ تنزیہی ہیں یا غیر مستحب تو پھر بھینس درمیان میں آجائے گی کیونکہ اس میدان میں ایک عرصے سے جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول کارفرما ہے اس لیے بھینس کو گوالوں کے حوالے کرتے ہوئے ہم صرف یہ بتانا چاہیں گے کہ ہم سب کس چیز کے وکٹم ہیں۔

تفصیل اس اجمال کا یہ ہے کہ دجالی میڈیا جس کے خوفناک جال کا ذکر تو ہم سب بچپن سے ہی بہت سنتے آئے ہیں کہ ہمارے تمام امراض کہنہ و بوسیدہ یعنی عاقبت نااندیشی، سنی سنائی، ایمان بالجہل اور روایت پرستی کا ذمہ دار یہی میڈیا ہے جو کبھی صحافت کے نام پر اور کبھی ثقافت کے نام پر بہشتی زیوروں سے آراستہ بہو بیٹیوں اور جہادی ہتھیاروں سے پیوستہ داماد بیٹوں کو گمراہ کر رہا ہے اور جس کی سازشوں مکر و فریب کا ہم سب ہی شکار ہیں، اسی دجالی میڈیا پرایک نیا فرقہ جنم لے چکا ہےجس نے ففتھ جنریشن وار کا علم از خود اٹھا کر ہم کو اپنا وکٹم بنا لیا ہے۔۔
سوچیے ذرا! ہم نے صبح صبح منہہ ہاتھ دھونے سے پہلے اپنے موبائل پر وہاٹس ایپ میں آئے ہوئے ان میسیجز پر نظر ڈالنے کی کوشش کی، جن کی آمد کی اطلاعات رات بھر ٹوں ٹوں کی شکل میں کانوں میں بِس گھولتی رہی ہیں تو جانے اور ان جانے دوستوں کی طرف سے آئے ہوئے میسیجز میں کیا پایا؟
٭اس درود کو شئیر کیجیے خبردار سلسلہ رکنے نہ پائے۔۔۔۔ ورنہ ۔۔۔۔
اب کون کافر ہے جو اسے آگے بڑھانے میں کمزوری دکھائے۔
٭٭اس آیت کریمہ کو پانچ سو افراد تک شئیر کریں تو شام تک خوشخبری مل جائے گی۔
چلیے مانا مقدس سلسلے جاری رہنا چاہیں مگر کیا ایسے؟؟؟
آگے چلیے
آپ کو بھی واٹس ایپ پر یا فیس بک پر پوسٹ ملی ہوگی کہ
"آنے والے دنوں میں ایکوی نوکس نامی طوفان کے, ملک کے بیشترعلاقوں میں شدید اثرات کا باعث ہوں گے۔
درجہ حرارت 40 سینٹی گریڈ ڈگری کے آس پاس ہوگا۔۔
برائے مہربانی اپنے آپ اور اپنے متعلقین کو پانی کی کمی سے بچائیں۔۔۔
کم از کم 3 لٹر پانی پئیں۔۔۔۔
بے شمار ہدایات درج ہوتی ہیں جن کو دہرانے سے کچھ فائدہ نہیں ہے کہ یہ سب باتیں کم و بیش ہم سب کے علم میں ہیں۔۔۔
اور حوالہ ریڈ کراس سوسائٹی کا۔"

اب اگر آپ کے جیسے پڑھے لکھے لوگ جو اس سماج کی کریم ہیں وہ بھی بغیر سوچے سمجھے یہ میسیجز فارورڈ کردیتے ہیں تو عام آدمی سے کیا گلہ کیا جائے؟ کسی کو توفیق نہ ہوسکی کہ ایکوی نوکس نامی جس خوفناک بلا سے ڈرایا جارہا ہے اسکے معنی لغت میں دیکھ لے کہ یہ ہے کیا؟
اب جو لوگ انگلش میڈیم ہیں اور او لیول وغیرہ کرتے ہیں، ان میں سے کسی کو مذاق سوجھا تو انہوں نے جغرافیہ کی ایک عام سی اصطلاح ایکوی نوکس کو جس کے معنی 'دن رات برابر' کے ہوتے ہیں، یہ سوچ کر کہ اردو میڈیم والوں کی تفریح لی جائے، سال کے سب سے لمبے دن کے طور پر متعارف کروا کر دہشت کا ایک سماں پیدا کر دیا۔ اور ہم سادہ لوح
بس جیسے بغیر سوچے سمجھے ٹوتھ پیسٹ ویسے کاپی پیسٹ
۔۔۔۔۔۔
دجال نے خوب ہمیں اپنے دجالی میڈیا پر مشغول کر دیا ہے ۔۔۔ آپ سوچیں ذرا کہ وہ خود تو علم کے میدان میں آگے ہی آگے بڑھتے جا رہے ہیں ہمیں کہاں پھنسا دیا گیا ہے۔ ان کو پتا ہے کہ ہماری قوم والے بغیر سوچے سمجھے چیزیں آگے بڑھانے کے دس ہزار سال پرانے مرض میں مبتلا ہیں۔ مگر مذاق صرف ہماری قوم سے نہیں کیا جاتا۔ شاید آپ نے البرٹ آئن اسٹائن کو سوئٹزرلینڈ کی ایک یونیورسٹی کی جانب سے لکھا گیا ایک خط بھی اسی میڈیا پر دیکھا ہو جو اسی جعل سازی کا شاہکار تھا۔
وہ تو بھلا ہو استاد محترم آصف اکبر کا جنہوں نے بتا دیا کہ یہ خط جعلی ہے۔ اور وہ بھی مستند حوالوں کے ساتھ۔ اب وہ ٹھہرے صاحب علم و دانش۔ اس قسم کی پوسٹیں کسی اور تو کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، بس یہی ہوتا کہ گھر والوں کو اکثر رات کے سناٹے میں سر پیٹنے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ مگر غلطی میڈیا والوں کی نہیں۔ یہ تو ہماری روایات ہیں جو ہمیں نگل رہی ہیں۔ بغیر سوچے بغیر جانے بات کو آگے بڑھا دینا وہ بھی اپنی طرف سے گرہ در گرہ اضافے کے ساتھ جیسا کہ میر انیس کہہ گئے ہیں کہ

گل دستۂ معنی کو نئے ڈھنگ سے باندھوں
اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں

قوم کے خزانہء جہل میں دن رات بیش بہا اضافے کرتا ہے۔
ہفتے دو ہفتے پہلے ہی کی تو بات ہے پاکستان کے سمندر میں تیل کی تلاش کے لیے کھودا جانے والا ایک کنواں ناکام ہو گیا۔ بس جناب اس سلسلے میں ایک میل نے تو دھوم مچا دی جس کے مصنف نے اپنے دل کے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ سمندر میں ٹھیک اسی مقام پر تیل کے اتنے بڑے ذخائر ہیں کہ اگر ان سے تیل نکالا جائے تو آئی ایم ایف پاکستان سے قرض لیتا پایا جائے گا۔ میڈیا کی قدرت سے ہمیں بھی میل بار بار موصول ہوئی اور ہم بھی اس پر بھرپور ایمان لے آئے۔
مگر اس ایمان کا حاصل کیا؟
یہ کوئی بے ضرر مذاق نہیں۔ اس سے عام آدمی کے دل میں شک پیدا ہوتا ہے۔ اپنے ماہرین کی قابلیت کے بارے میں۔ اپنے حکمرانوں کے خلوص کے بارے میں۔ اور اپنے ملکی نظام کے فعال ہونے کے بارے میں۔مگر ہم کاپی پیسٹ کے دیوانوں کو اس سے کیا مزے کی بات یہ کہ 'سب کو بھیج دو' کے عمل کے ذریعے آپ کو یہ بھی نہیں پتہ چلتا کہ یہ خرافات کہاں کہاں جا رہی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

چلیے اسے بھی ایک طرف رکھ دیں۔ آگے چلتے ہیں ۔۔یہ کیا میسیج ٹون بجی ہے ۔۔۔ ہماری عزیز دوست کا جہادی میسیج تھا وہ بھی خوب بلند آہنگ کے ساتھ بتا رہی تھیں کہ جب سے سندھ طاس معاہدہ ہوا ہے تب سے انڈیا ہم سے کھیوڑہ کے مقام سے نکالا گیا نمک پینتیس پیسے کلو کے حساب سے حاصل کرتا ہے۔ آگے وہ اسے کرش کر کے اچھی پیکنگ میں یورپ کو بر آمد کرتا ہے اور وہ یوں اربوں ڈالر سالانہ کماتا ہے۔۔
اب اتنا سوچنے کی فرصت کس کے پاس کہ اگر ایک پیکٹ نمک یورپ یا امریکہ میں دس ڈالر کا بکے، تو اس پر انڈیا کے تاجر کا منافع کتنا ہوگا، زیادہ سے زیادہ ایک ڈالر۔ تو اربوں ڈالر کمانے کے لیے اربوں پیکٹ بھی بیچنے ہوں گے اور اربوں پیکٹ بیچنے کے لیے کتنی آبادی چاہیے جو یہ خاص نمک استعمال کرتی ہو؟
یہودی کوشر کا لیبل اور یہ اعداد و شمار دیکھ کر قوم کی نبض دھڑادھڑ ڈوبنے بھی لگتی ہے۔ اور دوست کے جہادی پیغام کی لے پر دل دھڑ دھڑ دھڑکنے بھی لگتا ہے۔۔۔ کیوں آخر کیوں۔؟
سندھ طاس معاہدہ۔۔کیوں۔۔۔ہمارا نمک کیوں۔۔؟ یہ کیوں وہ کیوں؟
پھر سوچنے والا دماغ اور بغاوت پر آمادہ دل دونوں برسرپیکار ہوجاتے ہیں۔۔۔ کہ سندھ طاس کا معاہدہ کرتے ہوئے ہمارے حکمران نمک نہ دینے پر کیوں نہیں اڑے کہ نہ نہ نہ لالہ جی، پانی تو تم ہمیں دو گے ہی دو گے، ورنہ ہم مسجدوں میں ایسی دعائیں مانگیں گے کہ تمہارے ہوش اڑ جائیں گے، مگر ہم اپنا سونے جیسا قیمتی نمک تم کو کسی قیمت پر نہیں دیں گے۔ چلیے اس دور کے لوگوں کوتو اندازہ نہیں ہوا تھا آپ خود قدم آگے بڑھائیں اورانڈیا سے معاہدہ توڑ لیں۔ اسے کیا فرق پڑنا ہے جہاں کھربوں ڈالر کی کامیاب تجارت ہوتی ہو وہاں چند ملین ڈالرنہ ملیں تو؟
مگر معاہدہ توڑنے کی ضرورت نہیں۔ کامیاب کاروباری کاروبار کے گر جانتا ہے۔ مدینے میں جن صحابی نے پینے کے پانی کے کنویں کی آدھی ملکیت حاصل کی تھی، انہوں نے کاروباری گر استعمال کرتے ہوئے ہی تو اس کے آدھے حصے کے مالک کو اپنا بقیہ حصہ فروخت کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔
تو ہم بھی بجائے پوسٹیں لگانے کے کیوں آج تک کھیوڑہ مائنز سے اپنا نمک کرش کرکے کارآمد بنا کر اسے کسی خوب صورت نہ سہی بد صورت پیکنگ میں ہی پیک کرکے کوشر، حلال اور پوتر کے لیبل لگا کر برآمد نہ کرسکے ۔۔ اگر ہندوستان کا تاجر 10 ڈالر کا پیکٹ بیچے تو آپ 8 میں بیچنا شروع کر دیجیے۔ اربوں ڈالر کا منافع آپ کا۔
تو بس آپ بھی اپنا نمک لیجیے۔۔بوتل میں ڈالئے پھر ڈٹ کر انڈیا کو للکارئیے۔
کوئی حکومت پاکستان نے منع کیا ہے؟ یا مفتیان کرام نے؟
ایسے تمام امور تو ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہیں۔۔۔۔کجا کہ وہ اس پر کچھ سوچنے کی زحمت بھی گوارا کریں۔۔۔

لیجیے ایک اور فارورڈنگ میسیج آیا ہے۔۔۔فرماتے ہیں کہ
ایک بزرگ سے روایت ہے کہ کتّے میں دس خصلتیں ایسی ہیں کہ ہر مومن کو اپنے اندر پیدا کرنی چاہیں وغیرہ۔
لیجیے آپ مومن کو کتا بنانے پر تلے ہوئے ہیں جبکہ ڈارون غریب نے ماضی بعید بعید بعید میں آپ کا کروڑوں سال پہلے تعلق بندر سے ظاہر کر دیا تو غیرت کے ایوانوں میں زلزلہ آ گیا جو ابھی تک آ رہا ہے۔ اکبر الہ آبادی نے جو فکر ہر کس بقدر ہمت اوست کہہ کر مصرع طرح دیا تھا اس پر مشاعرہ آج بھی جاری ہے۔
٭٭٭
بہرحال کتے کی صفات پڑھتے پڑھتے دل میں گداز پیدا ہوجاتا ہے اور آنکھیں نم ناک نہیں بلکہ لہو رنگ ہو جاتی ہیں اور دل گلہ کرتا ہے کہ پروردگار تو نے ہمیں انسان کیوں بنایا کتا کیوں نہیں بنایا۔
دیکھ ترے سنسار کی حالت کیا ہو گئی بھگوان
اب جب کسمپرسی کے سبب سن دوہزار انیس میں کتے کے اجزائے ترکیبی خاشعین مساکین راضعین ہمیں اپنے اندر ہی نظر آتے ہیں جب مہنگائی کے سبب ہم ون ڈش پر قناعت کرتے ہیں، مکان بنانا تو دور کی بات رات خواب بھی نہیں بن پاتے اور لوڈ شیڈنگ مچھروں کی یلغار اور ساتھ ڈینگی کا خوف آنسو بہانے پر مجبور کردیتا ہے تو یگانہ چنگیزی یاد آتے ہیں کہ
یا مجھے افسرِ بیس گریڈانہ بنایا ہوتا
یا مرا وجود مہنگا والا سگایانہ بنایا ہوتا
-----
چلیے اب آپ کی چھٹی۔ ہم ذرا دس بیس میسیج بغیر پڑھے فارورڈ کر دیں۔۔۔۔ آخر ہمیں بھی تو اپنی عاقبت سنوارنی ہے۔۔۔۔

  از قلم: حبیبہ طلعت
٭٭٭٭٭واپس  ٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔