Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 12 ستمبر، 2018

قادیانیت ۔ مجدد ، مہدی و مسیح ابنِ مریم ۔

کہا جاتا ہے کہ ،   مرزا غلام احمدآف قادیان  اسلامی  مذہب اور قرآن کا عالم تھا  ، بحث و مباحثہ اور لیکچر کی وجہ سے پڑھے لکھے حلقوں میں مشہور تھا۔ 
1875 میں چالیس سال کی عمر میں اُس نے اعلان کیا کہ ، "اُس پر وحی نازل ہوتی ہے "
1880  میں پہلی کتاب ، " براہینِ احمدیہ " لکھی جو علمی حلقوں میں مقبول ہوئی ۔1884 تک چار جلدیں شائع ہوئیں اور پانچویں جلد  وفات کے بعد شائع کی گئی ۔
  امام مہدی کی آمد   اور تمام مسلمانوں کو ایک وحدت میں پرونا اور مسیح عیسیٰ ابنِ مریم  کا آسمان سے اترنا اور امام مہدی کی شہادت اور پہچان ، یہ مذہب اسلام کے عقیدوں میں سے ہے اور یہ عقیدہ اتنی شدت سے پھیلایا گیا کہ اب اِس کا انکار ، توہینِ مذہب کے زمرے میں آتا ہے ۔
" براہینِ احمدیہ " کی پہلی 4 جلدوں میں ،کشف، الہام  اور ولایت تک محدوودرہنے کی باتیں ہیں ۔
1892 میں اُس نے  خود کے مسیح موعود   ہونے کا  دعوے دارا قرار دیا   ، تو اسلامی مذہب کے اِس عقیدے پر ایمان لانے والے ، مرزا غلام احمد  کے اعلان پر حیران اور سیخ پا ہوئے ، کیوں کہ  ، ایرانی لکھی ہوئی کتابوں کے مطابق ،امام مہدی و عیسیٰ کا نزول شام میں ہونا تھا نہ کہ ہندوستان میں ، بلکہ اُن دونوں کی دجال سے جنگ  بھی مذہب اسلام کے ایمان کا حصہ ہے ۔
جبکہ ، مرزا غلام احمدآف قادیان نے، احمدی فرقہ بنا کر ،  جہاد بالسیف کے خاتمے کا اعلان کیا اور  احمدیوں کے علاوہ سب کو کافر قرار دے دیا ۔ 

1901 میں  خود کو بروزی نبی قرار دیا ، ایسا نبی جو امتی تو محمدﷺ کا ہے لیکن موجودہ دور کے مسلمانوں کے لئے ،  محمدﷺ کی شریعت  کو قائم رکھتے ہوئے ہدایت کے لئے اللہ کی طرف سے نامزد ہوا ہے ۔
" لہذا    میں قرآن کی اِس آیت پر دیگر مسلمانوں  کی طرح مکمل ایمان رکھتا ہوں اور  اگر احمدیہ جماعت  کا کوئی فرد  محمدﷺ کو 
خَاتَمَ النَّبِيِّينَ تسلیم  نہ کرے تو وہ بالاتفاق کافر ہے "۔
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ﴿33:40

"یہ جدا امر ہے  کہ ہم   اِس کے کیا معنی کرتے ہیں اور ہمارے مخالف کیا ۔اگر  محمدﷺ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ ہیں تو   میری نبوت بھی  محمدﷺ کے وسیلے سے قائم ہے ، جس کا محمد ﷺ نے مسلمانوں کو خوشخبری سناتے ہوئے آمدِ عیسیٰ کا  وعدہ کیا تھا ۔  گویا ختمِ نبوّت اور مسیح موعود کی نبوّت لازم و ملزوم ہے ۔  مریم کی طرح مجھ میں  عیسیٰ   کی روح نفخ کی گئی  اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹہرا دیا گیا   اور آخر دس مہینے بعد مجھے الہام  کے ذریعے مریم سے عیسیٰ  بنایا گیا ، پس اِس طور پر میں ابنِ مریم ٹہرا " ۔
"میں نے تمثیل کے طور پر خدا تعالیٰ کو دیکھا اور وہ کاغذ جنابِ باری کے آگے رکھ دیا  کہ وہ اِس پر دستخط کر دیں  ، سوخدائے تعالیٰ نے  سرخ سیاہی سے  دستخط کر دیئے  اور قلم کی نوک کوجھاڑا  ، جس کے قطرے مجھ پر اور  میرے مخلص ساتھی عبداللہ پٹواری  ، غوث گڑھ ، ضلع پٹیالہ  کے کپڑوں پر گرے   ،جس کی اطلاع مجھے کشف سے ہو گئی ، عبداللہ کے پاس اب تک بعض کپڑے موجود ہیں " 
" میرے سچے ہونے کی دلیل   قرآن کی یہ آیت ہے "
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ۖ فَيُضِلُّ اللَّـهُ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿14:4
" تعجب کی بات یہ ہے  کہ مجھ پر  بعض الہامات اِن زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے  کچھ بھی واقفیت نہیں  جیسے انگریزی ، سنسکرت اور عبرانی، جیسے اِس بار مجھے سنسکرت میں الہام ہوا    اور میں نے ایک ہندو لڑکے سے  ، اُس کا مفہوم جاننے کی بالکل اُسی طرح کوشش کی جیسے محمدﷺ  نے ورقہ بن نوفل سے کی تھی  اور اِس کی گواہی قرآن میں موجودہے " ۔
فَإِن كُنتَ فِي شَكٍّ مِّمَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَؤُونَ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكَ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ  ﴿14:94

یہاں ایک بات قابلِ غور ہے وہ یہ ، کہ محمدﷺ نے     اللہ کی طرف سے  بذریعہ روح القدّس ،    بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ   سے مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ     تک  نازل ہونے والی الکتاب   ، اللہ کے منتخب حفّاظ کو حفظ کروا ئی جو  اِس وقت لاکھوں حفّاظ کے سینوں میں محفوظ ہے  اور ناقابلِ تبدیل ہے ۔ جس میں کہیں  وہ اساطیر نہیں جو امام مہدی و  نزولِ عیسیٰ  سے متعلق ہیں ۔ 
الکتاب،کا ایک ایک لفظ  جس پر ، منجانب اللہ ہونے پر،  ہر مسلمان کا ایمان ہے ۔جس کے عربی ٹیکسٹ  کی ذرہ برابر  تبدیلی بھی ممکن نہیں چہ جائیکے کہ کوئی آیت یا کوئی پیرا گراف تبدیل کیا جاسکے ۔ 
کیوں کہ یہ حفّاظ کے سینوں میں محفوظ ہے ، ماضی کی کسی کتاب یا تحریر سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ۔
لیکن سوال پیدا ہوتا ہے ، کہ ایسی کیا وجہ یا وجوہات تھیں جن کی بنیاد پر ، مرزا غلام احمدآف قادیان نے،  مجددیت ، مہدیت یا احمدیت کا دعویٰ کر دیا اور بہت سے مسلمانوں کو اِس کایقین بھی دلا دیا جو  اُس کے پیروکاروں  میں شامل ہیں اور نہ صرف اُن کی اولادیں  ، بلکہ یورپ میں پاکستان سے شفٹ ہونے والے مسلمانوں کی اولادیں  اسلام چھوڑ کر احمدی اسلام میں شامل ہوگئیں ۔
پڑھیں :  مرتد  - عاطف رحمان میاں قادیانی ۔

اللہ کے  الدین میں کوئی سقم نہیں  ۔جو ایک صراط المستقیم ہے۔ 
  بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ   سے مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ      تک اللہ کی آیات کے درمیان ہے، اِس سے باہر  ، تراجم  و تفسیر کی صورت میں وہ سب  سقوم موجود ہیں، جو کسی بھی صورت میں اللہ کی آیات نہیں ہو سکتیں ۔

 جس کی وجہ سے مختلف مسلک بنتے ہیں۔ جو بالآخر ایک ہجوم میں تبدیل ہو کر فرقوں کا روپ دھار لیتے ہیں ۔ 
اُندلسی شیخ اِبنِ عربی    (1165 تا 1240)  نے فتویٰ دیا ،
" بنوّت جو بند ہوئی ہے وہ صرف تشریعی ہے ، غیر تشریعی نبوّت جاری رہے گی "

  یہ وہ تشریحات ہیں ، جس نے نبوت اور رسالت کا دروازہ کھول رکھا ہے ، مسلم امّہ کی لعنت ملامت کے باعث   یہ دروازہ مکمل بند تو نہیں ہوا  ، لیکن اِس کے رخنوں ، سے مولا ، مولانا،   پیر ، فقیر ، شیخ الشیوخ ، مجدد (الف ، ثانی ، ثالث)   ، گنج بخش ، داتا ، ولی اللہ ، آیت اللہ  جیسی ہستیاں برآمد ہو کر محمدﷺ کے برابر کھڑی ہوتی رہیں گی اور اللہ کے الدین میں  فرقے بنتے رہیں گے ، سب سے پہلے فرقہ بندی کی ابتدا ، کوفہ و بصرہ سے ہوئی :

 اللہ کی ایک معمولی سی آیت ،"  شہد کی مکھی" نہ معلوم کتنی صدیوں سے اِس کرہ ارض پر موجود  اللہ کی حکم پر عمل پیرا ہے ۔ وہ درخت پر چھتّہ بنائے  یا انسانی ڈبے میں اُس کا کا م وہی رہے گا جو اُسے سونپا گیا ہے ۔ اور یہی خوبی انسان کے علاوہ کرہ ارض کی ہر ذی حیات میں ہے ، جن کو کسی قسم کی تفاسیر کی ضرورت ہی نہیں ۔ 
اگر ہم غور کریں تو اللہ کی آیات میں   تبدیلی  کی بنیاد ترجموں نے ڈالی ، پھر اُن تبدیلیوں کو مستحکم کرنے کے لئے ، تفاسیر کا سہارا لیا ۔  تفاسیر لکھنا ہر انسان کے بس کی بات نہیں ۔ لیکن جس نے تفسیر لکھی اُس نے اپنا فرقہ ضرور بنایا ۔یوں 73 فرقے وجود میں آئے ، جن میں سے ایک جنتی ہے اور باقی 72 جہنمی ۔  
یاد رہے کہ فرقے       بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ   سے مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ     تک  عربی آیات پر نہیں بنتے۔
   جو ایمان والا ، صرف، اللہ کی  عربی آیات پر رہا ۔ اُس نے صرف اپنا نفس بہتر بنایا ۔

مرزا غلام احمدآف قادیان ، صحافی ، محقق اور عالم تھا ۔ جس نے ، اللہ ہی کی آیات کا  جو روح القدّس نے محمدﷺ پر نازل کیں ، اپنی قادیانیت  کو محکم کرنے کے لئے ، اپنی تفسیر کے لئے  سہارا لیا :

1-  بنی آدم کے لئے رسولوں کی آمد جاری رہے گی :
  يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي ۙ فَمَنِ اتَّقَىٰ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿7:35

2-  قادیانیت  سے احمدی فرقے میں تبدیلی :

وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءَهُم بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ  [61:6]

  3-  وحی اللہ ہر انسان  اُس پر کرتا ہے جسے وہ منتخب کرتا ہے  :
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ    [42:51]


4-  اطاعت اللہ اور الرسول  کے فائدے کیا ہوں گے ؟
وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَـٰئِكَ رَفِيقًا ﴿4:69

جیسا کہ اوپر  لکھا ہے ، کہ اللہ کی آیات   کا  موضوع ،  تبدیل کرتے ہوئے اپنا مخصوص فہم نکالنے کے لئے ، اللہ کی آیات کو  تقسیم کرنا لازمی ہے ۔وہ القرآن میں ممکن ہے الکتاب میں نہیں ، کیوں کہ الکتاب تو حفّاظ کے ذہنوں میں حفا ظت سے رکھی ہوئی ہے ۔ جسے وہ حسبِ موقع القرآن کرتے رہتے ہیں ۔

روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کا حکم بتایا :

 وَقُلْ إِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْمُبِينُ ۔ 
كَمَا أَنزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِينَ ۔ الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ ۔
فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ۔ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ۔
فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ ﴿15:89﴾ تا ﴿15:94﴾

 الْمُقْتَسِمِينَ (اللہ کی آیت کی  تقسیم کرتے ہوئے )   الْقُرْآنَ کوعِضِينَ (قطع  و برید)   کرنا لازمی ہے  ۔ 
کیسے ؟ 
ہم سب مسلمانوں کا ایمان ہے کہ :  بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ   سے مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ      تک اللہ کی آیات  ۔ بذریعہ روح القدّس محمدﷺ  کے قلب پر نازل ہوئیں ۔
محمدﷺ نے یہ  تمام نزول  ، اللہ کے منتخب حفّاظ کو   یہ کہہ کر حفظ  کروا دیں ، کہ یہ اللہ کی آیات ہیں اور مجھ پر نازل ہوئی ہیں ۔ 

اللہ کی یہ آیات  ، ایک حافظ سے دوسرے حافظوں کو حفظ کروائی جاتی رہیں ، تا آنکہ  یہ  عام انسانوں نے سُن کر    اپنے لئے کتابت کرنا شروع کیا ۔لہذا سُن لکھے ہوئے   مجموعے کو ، الکتاب کے بجائے ، القرآن  سے موسوم کر دیا ۔یہ بات نہایت غور طلب ہے کہ ایسا کیوں کیا گیا ؟
اِن جملوں میں سے کونسا جملہ زیادہ صحیح   ہے ؟

1- قرآن کہتا ہے (یہ خیال رہے قرآن اللہ کا اسم نہیں اللہ کا   کلام ہے ):

نَتْلُوا عَلَيْكَ مِن نَّبَإِ مُوسَى وَفِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ﴿28:3
 2- الکتاب میں لکھا ہے :
 نَتْلُوا عَلَيْكَ مِن نَّبَإِ مُوسَى وَفِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ﴿28:3 

3-  روح القدّس نے محمدﷺ کو  اللہ کی طرف (خبر،حکم، خوشخبری، وارننگ )بتائی/ بتایا  :
 نَتْلُوا عَلَيْكَ مِن نَّبَإِ مُوسَى وَفِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ﴿28:3 

  اب حفّاظ کو  انسانوں کو کیا کہنا چاھیے ؟ 
یاد رہے ، الکتاب  میں  اللہ کا تمام پیغام  محمدﷺ  کے لئے ہے ، جو انہوں نے انسانوں کو پہنچانا ہے  ۔
جب بھی کسی بھی انسان کے ذہن میں یہ فتور پیدا ہوا ، کہ اللہ  بلا واسطہ  (ڈائریکٹ) اُس سے مخاطب ہے ، تو اپنے تئیں رسول بن کر نبوت کی مسند پر جا بیٹھا ۔ 

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ   سے مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ      تک اللہ کی آیات   میں وہ کوئی تبدیلی تو نہیں کر سکتا ، لیکن وہ خواب میں پیغامات لینا شروع کر دے گا ، اللہ سے نہیں  نہ معلوم کِس سے ؟
پڑھیں :    طاہر القادری کا دعویٰ

 ٭٭٭٭٭٭٭٭جاری ہے ٭٭٭٭٭٭٭مہاجرزادہ 
  پچھلے مضامین  :

مرزا غلام احمدآف قادیان 
ختمِ نبّوت اور احمدیت ۔
کیا یہ توہین قرآن نہیں ؟
فتنہءِ مودودیت 
گستاخیءِ رسولﷺ  
کُتُبِ اساطیر الاولین 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔