Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 6 ستمبر، 2018

مرتد - عاطف رحمان میاں قادیانی

 
خلاصہ :
میں  1974 میں نائیجیریا میں پیدا ہوا اور پرورش پاکستان میں ہوئی ۔  3 بہنوں کے بعد والدین کی پہلی نرینہ اولاد کی وجہ خوب لاڈ پیار ملا۔ والدین کے ایما پر امریکی تعلیمی اداروں میں داخلے کی درخواستیں بھیجیں ۔ میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں داخلہ مل گیا اور میں 1993 میں امریکہ پہنچ گیا ۔ 
جہاں مجھے اپنے اسکول کے دنوں کا ایک دوست حامد شیخ مل گیا، میں اسے 8برس سے جانتا تھا لیکن یہ علم نہیں تھا کہ وہ ایک قادیانی ہے ، اُس نے مجھے قادیانیت کی جانب راغب کیا ۔اس کی فراہم کردہ کتب اور بتائے گئے ویب ایڈریسز سے میں نے قادیانیت کو جانا ۔2001 میں شکاگو یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر پہلی نوکری کا آغاز کیا ۔ 
بوسٹن میں قیام کے دوران میں نے مسلم علما کے پیچھے نماز سے بچنے کیلئے مساجد جانا چھوڑ دیا ۔ قادیانی عبادت گاہ دور تھی اور کار نہ ہونے کی وجہ سے میں وہاں نہ جاسکتا تھا ۔ 
شکاگو میں قیام کے دوران کار ملنے کے بعد وہاں مجھے قادیانی عبادت گاہ مل گئی جہاں میں نے جمعہ کے جمعہ جانا شروع کر دیا ۔ شکر ہے کہ میں نے ایک سچا مذہب پا لیا ورنہ گم راہی کی تاریکی میں بھٹکتا رہتا
  2002 میں قادیانیت کا فارم بھر دیا اور مجلس خدام احمدیہ میں بھی کام کر رہا ہوں ۔
مکمل مضمون پڑھنے کے لئے ،کلک کریں !
کیا اب بھی کسی وضاحت کی ضرورت ہے ؟
مزید تفاصیل بالا بیان ۔



٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مہاجرزادہ :
میں نے فیس بُک پر وصول ہوئی درج ذیل پوسٹ  ، اپنے وٹس ایپ کے گروپس اور  نیوز گروپس  پر پوسٹ کی ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔