میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 14 دسمبر، 2019

شگفتگو کی سولہویں محفل

سولھویں نشست، رہائشگاہ قیوم طاہر گلریز ہاوسنگ سوسائٹی، روالپنڈی میں ہوا -

 آن لائن شرکاء: آصف اکبر، چھور، سندھ سے
ڈاکٹر محمد کلیم، لاہور سے
موسم سردی کا شباب دکھانے پر تلا ہوا تھا مگر محفلِ شگفتگو کے شرکاء اپنے قلم کی جولانیاں دکھانے پر مصر تھے، اور جیت آخرکار قلم کی ہوئی۔ سات حاضر اور دو گھوسٹ (اردو لفظ سے کوئی ناراض ہی نہ ہو جائے) مزّاحین کے قہقہہ بار مضامین نے محفل کو گرمائے اور حاضرین کو پھڑکائے رکھا۔ محفل حسبِ معمول تاخیر سے شروع ہوئی، جس پر آصف اکبر نے کہا کہ آپ کے یہاں دیر بھی ہے اور اندھیر بھی۔ 
میزبان محفل کے سلیقے سے سجے دولت کدے میں سارے شریک (شریکے نہیں) لذّتِ سماعت کے ساتھ ساتھ موسم سرما کی خاص سوغاتوں سے بھی مسلسل لطف اندوز ہوتے رہے، بلکہ ہوں کہنا چاہیے مسکراتے چہرے مسلسل میوے ٹھونگتے رہے۔ مگر داد دینے میں کہیں کنجوسی نہ دکھائی گئی اور ہر مضمون کے چست جملوں پر خوب برجستہ داد دی گئی۔ اس بزم کی محافل کا، جن میں نہ کوئی مہمان خصوصی یا صدر گرامی کا تکلف ہے نہ سینیر جونیر کا تفاوت ہے، یہی تو وصف ہے کہ یہاں ہر ناثر یکساں توجہ اور کما حقّہ داد پاتا ہے- 
محفل کا آغاز کرتے ہوئے عاطف مرزا نے اپنے مضمون چمچہ' میں چمچوں کی اقسام اور خصوصیات بیان کیں۔۔ اس مضمون کے کٹیلے فقروں نے خوب داد پائی۔ 

ان کے بعد آصف اکبر نے کراچی سے آن لائین اپنا مضمون بعنوان " مریضانہ آئے ستا کر چلے" پیش کیا، جس میں مریضوں کی متعدد اقسام خوبصورت مزاح کے پیرائے میں بیان کی گئی تھیں۔ ان کو بھی بھرپور داد دی گئی۔ 

اس کے بعد حسب دستور حلقے کی ترتیب کے مطابق قیوم طاہر کی باری تھی۔ بقول ان کے ان کی یہ پہلی شگفتہ نثر تھی مگر ثابت ہوا کہ قلم کے شہسوار کو کہیں جانے کا موقع ملے وہ فتح کے جھنڈے گاڑ کر ہی دم لیتا ہے۔ انہوں نے چاچا ہڑپوی پر لکھا مضحکہ پیش کیا اور سب احباب خوب محفوظ ہوئے۔

اب لاہور سے آن لائن شریک ہوکر ڈاکٹر محمّد کلیم نے 'جام ساقی کی ادائیں' بیان کیں۔ ان کے مختصر شذرے نے کئی غنچے کھلائے اور محفل کو زعفران زار بنایا-ان کے بعد توجہ کا مرکز قرار پائے -


محفل میں پہلی بار شریک ہونے والے مبشّر سلیم نے جنہوں نے بے حد سنجیدگی کے ساتھ مزاح پارہ پیش کیا عنوان تھا 'گڈو کی شادی اور ممتاز الدین خرمانی' ۔ ان کی تحریر نے بھی مسکراہٹیں بکھیریں۔ 
ان کے بعد ڈاکٹر فاخرہ نورین نے ' واہ یوسفی' کے عنوان تلے مشتاق احمد یوسفی سے اپنی عقیدت شگفتہ لہجے میں بیان کی۔ نفاست سے لکھے گئے اس مضمون نے بہت داد سمیٹی۔


  اس کے بعد راقم الحروف نے 'دیس کے رنگ نرالے'میں سبز، سفید اور کالے رنگوں کی سیاست پر ایک مختصر شذرہ پیش کیا۔ 
محفل میں پہلی بار شرکت کرنے والے اعجاز خاور ، اسلام آباد راولپنڈی کے ادبی حلقوں کی ایک معروف علمی و ادبی شخصیت ہیں۔ انہوں نے "ایک نابغہء روزگار ادبی ٹرائیکا سے ملاقات" کا احوالِ لطیف بیان کیا۔ چست فقروں میں بہت کچھ کہہ نہ کہتے ہوئے بھی بہت کچھ کہہ گئے اور خوب داد سمیٹی۔ 
اب باری تھی ہر دلعزیز ڈاکٹر فیصل عزیز کی جنہوں نے موٹاپے پر اپنا شگفتہ شگفتہ مشاہدہ بیان یوں کیا-
"سچ کہتے ہیں کہ آپے سے باہر نکلنے کی بھی کوئی نہ کوئی حد ہوتی ہے۔ جب یہ حد، بےحد بڑھ جائے تو بقول شخصے، حد نہیں رہتی، حدود سی بن جاتی ہے-"
انگریزی کا مقولہ ہے کہ تمام اچھی چیزیں اختتام تک آجاتی ہیں، یہی اس محفل کے ساتھ ہوا۔ لیکن خاتمہ اس طرح بالخیر ہوا کہ اختتام پر طاہر قیوم نے عصرانہ کے بجائے عشائیے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ 

اگرچہ دوران محفل مسلسل میوہ جات چگنے کے بعد گنجائش کم ہی بچی تھی تاہم میزبان کی دل شکنی کسی کو منظور نہیں تھی اس لیے مزیدار حلیم کو بھی جلد اور سستا انصاف مہیّا کیا گیا۔

اس کے بعد قیوم طاہر صاحب نے اپنا مجموعہء کلام "سلوٹ" حاضرین کو تحفتا پیش کیا ۔۔۔۔ جس کے بعد محفل اختتام پذیر ہوئی ۔
(مبصّر -  حبیبہ طلعت )
٭٭٭٭٭٭واپس جائیں٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔