میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 9 فروری، 2019

شگُفتہ نثر کی چھٹی محفل مزاح نگارانِ قہقہہ آور

9 فروری 2019
۔۔
روداد چھٹی ماہانہ نشست بزم مناثرین
بروز ہفتہ، مورخہ 9 فروری 2019 ۔۔۔
بمقام۔۔۔ نسٹ اسلام اباد
از قلم: حبیبہ طلعت
 
زندگی  کے مصروف روز و شب گزارنے والے بھی شگفتگی سے جینے کا ہنرخوب جانتے ہیں۔۔۔۔۔ بزم مناثرین کے شگفتہ مزاج نثار حضرات۔۔۔۔
ذکر ہے بزم مناثرہ کی باقاعدہ نشست کے انعقاد کا۔۔۔  آج کی بزم سینٹرل لائبریری نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی مین کیمپس اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔۔۔ جس کے میزبان رہے عاطف مرزا صاحب۔۔۔۔
دیگر شرکائے بزم میں آصف اکبر صاحب، عزیز فیصل صاحب اور حبیبہ طلعت شامل تھے۔  جو احباب شریک نہ ہو سکے ان کے لیے ہلکی پھلکی تفصیلی روداد قلم بند اور منظر بند کی گئی ہے۔۔۔

پروگرام حسب سابق وقت پر شروع ہوا۔۔۔۔ جس کی ابتداء میں میزبان عاطف مرزا صاحب نے اپنا انشائیہ "تیل" کے عنوان سے پیش کیا۔۔۔ جس میں تیل سے متلعق محاورات اور ضرب الامثال کو خوبی سے استعمال کرتے ہوئے پھلجھڑیاں چھوڑیں۔
کہتے ہیں کہ:
 
تیل ۔۔۔ چکناہٹ کا ضامن ہے ۔اِس کا نام سنتے یا پڑھتے ہی عجیب قسم کی چِپ چِپاہٹ اور جانے کیا کیا تصور میں آتا ہے۔اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ عموماً تیل کی دو اقسام ہوتی ہیں، خوردنی تیل اور معدنی تیل مگر کچھ اور اقسام بھی سننے اور دیکھنے میں آئی ہیں۔ یہ اقسام اردو کے اکثر محاورات اور ضرب الامثال میں دیکھی جا سکتی ہیں۔فرہنگِ عاطفیہ کے مطابق تیل بیک وقت اِسم، فعل اور صفَت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔کسی جگہ اسے بہ طور کیفیت بھی برتا جاتا ہے اور بسا اوقات تو یہ کیفیات بدلنے یا اُنہیں ’’رواں دواں‘‘ رکھنے کے کام بھی آتاہے۔
تیل ہونا ایک مشہور فعل ہے، یہ عموماً غریب کا ہوتا ہے، وہ بھی اِس صورت میں کہ اگر غربت کا عرصہ اُس کی عمر سے زیادہ ہو جائے۔ تیل دیا بھی جاتا ہے، مشینوں کو دینے کے علاوہ ہمارے ہاں اپنے محسنوں کو ، وطن کو ، اپنے اداروں وغیرہ کواچھی طرح تیل دیا جاتا ہے۔ ویسے مفت کی عیاشی کو تیل دینا کہا جاتا ہے۔ پی ایس او ایک عرصے سے پاکستان کو تیل دے رہا تھا، مگر پچھلے پندرہ بیس سال کے دوران کچھ سرکاری اداروں نے مفت تیل لے کر پی ایس او کا تیل کر دیا ہے۔"
اسکے بعد آصف اکبر صاحب نے اپنی خود نوشت کا نام ہے 'بس ٹھیک ہے'، سےظرافت اور قدرے شرارت کے ساتھ تاریخی تناظر میں ملکی تاریخ کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا۔ لکھتے ہیں کہ
"پھر کوچہ سپہ سالاراں سے ایک درویش صورت شخص آکھڑا ہوا۔ اس نے کشتی کو مسجد میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا۔ اس کا رخ مکّہ کی طرف موڑ دیا مگر پتوار چلانے والے پتوار واشنگٹن کی طرف چلاتے رہے۔ یہ بادشاہ نقاب پوش بادشاہ تھا۔ اس کے تمام تر نائیبین یک چشم قزّاق تھے۔ اس نے ایک مجلس مشورہ بھی بنائی تھی، جو اسکے مشورے سے مشورے دیا کرتی تھی۔"

 اس دلچسپ تاریخی تجزیے کے بعد اب باری تھی ڈاکٹر عزیز فیصل صاحب کی۔۔۔ جو سادہ انداز میں چھوٹے فقروں سے مزاح ڈھالنے کا فن بخوبی نبھاتے ہیں ۔۔۔"بدپرہیزی کے صارفین کے نام سے"
لکھتے ہیں کہ؛

"خرابی بسیار برطرف، بدپرہیزی ایک" گناہ بالذت "ہونے کے ساته ساته مسیحانہ حکم عدولی کی ایک تفریحی سرگرمی بهی ہے.  یہ بیماری کے دوران حملہ  آور جراثیم کے تواضع کی مساعی جمیلہ بهی ہے اور  معصوم معدے سے اظہار یک جہتی اور لذت کام و دہن کے ساته شانہ نشانہ کهڑے ہونے کی ایک حقیرانہ کوشش بهی ہے. حاذق مریض گونا گوں بد پرہیزیوں کا تشفی بخش جواز بهی پلو سے باندهے ہوئے بلکہ اس پر سٹیپلر سے پنیں بهی لگائے ہوئے ہیں. اسی سکول آف تهاٹ کے ایک فعال مریض نے ہمیں بتایا تها کہ وہ بیماری کے دوران عام روٹین کے برعکس زیاده کهاتا پیتا ہے تاکہ جراثیم  کے پیدا کرده نقصانات کا موقع پر ہی فوری ازالہ ہوتا رہے۔"
آخر میں ناچیز نے حسب سابق حالات حاضرہ اور سماجی رویوں پر اپنے مشاہدات سے حاضرین کو محفوظ کیا۔ ہمارے انشایئے کا عنوان "بہن بھائی چارہ" تھا۔۔۔اقتباس پیش خدمت ہے کہ؛
"بہن بھائی چارہ ایک اہم چیز ہے جسے مرد بھی نبھاتے ہیں اور خواتین بھی۔ خواتین خاص طور سے بہن بھائی چارے پر مبنی رشتے قائم کرتی ہیں اور ان کے تقدس کی قسمیں بھی کھاتی ہیں۔ سرحد پار تو 'راکھی بندھن' سے بہن بھائی چارہ اعلانیہ نبھایا جاتا ہے۔شاید اسکی وجہ یہ ہے کہ ہندووں کے بچے کم کم ہوتے ہیں اور ذاتی بہن بھائی کم کم دستیاب ہوتے ہیں۔مگر ہم لوگ بھی کسی سے کم نہیں۔گھر میں چار پانچ بہنوں کے ہوتے ہوئے بھی مزید بہنیں بنائی جاتی ہیں۔"
بزم کی خاص بات یہ رہی کہ روایت شکنی کرتے ہوئے فرہنگ عاطفیہ کے تحت  موسم کا لطف دوبالا کرتے لوازمات نے دلچسپ جملوں اور مسکراہٹوں کے ساتھ ساتھ لطف اندوز ہونے کا موقع دیا۔ یوں گرما گرم شامی کباب، سموسوں اور فرائی فش کے ساتھ بھاپ اڑاتی کافی نے بزم کا لطف انگیخت کیا۔۔۔

پرسکون ماحول کی اس یادگار بزم کے بعد عاطف مرزا صاحب نے ہم سب کو نسٹ کیمپس کے مختصر تعارف مگر مکمل سیر کے بعد مرکزی گیٹ پر رخصت کیا۔۔۔۔

(مبصّر -  حبیبہ طلعت )
٭٭٭٭٭٭واپس جائیں٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔