Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 9 جنوری، 2014

آیات اللہ پرانسانی ردِعمل - 2


قارئین۔ کذب اور افتراء  میں بہت فرق ہے افتراء بے بنیاد جھوٹ کو کہتے ہیں اور کذب اس جھوٹ کو کہتے ہیں جس ہیں بہت کم سچ ہو  جسے ہمارے ہاں عام طور پر افواہ کہا جاتا ہے۔  افتراء قبول کرنے میں تذبذب کی کیفیت پائی جاتی ہے جبکہ کذب ان لوگوں کے ہاں جلدی قبول کر لیا جاتا ہے جو کانوں کے کچے ہوتے ہیں اور ہر سنی سنائی بات پر اعتبار کر لیتے  ہیں گویا ان کے دل مضبوط نہیں ہوتے ہیں چاہے یہ جھوٹ کسی کی مبالغہ آمیز برائی بیان کرنے کے لئے ہو یا اچھائی بیان کرنے کے لئے  اور ایسا جھوٹ وہ لوگ بیان کرتے ہیں جو اس بارے میں پوری معلومات  (ھدایت)  رکھتے ہیں وہ اِس میں مہارت رکھتے ہیں کہ کس طرح  سچے واقعات، میں جگہ جگہ جھوٹ کا پیوند اس طرح لگاتے ہیں کہ پڑھنے والے اور سننے والے اسے بھی سچ کا حصہ سمجھتے ہیں یوں حقیقت، متشابھات میں تبدیل ہو جاتی ہے (نسیم حجازی کے ناولوں کو دیکھ لیں۔ تاریخی حقیقتوں میں چاشنی پیدا کرنے کے لئے کس طرح  لفّاظی اور جھوٹ کا سہارا لیا گیا، اور اب وہ حقیت کا روپ دھار چکے ہیں)  اس طرح وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں اور مسلم بننے کی کوشش کرتے ہیں وہ کسی کذب کو جو معاشرے میں پھیلایا جاتا ہے اسی وقت پکڑ سکتے ہیں جب وہ اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص بنائیں  اور اس کے لئے  اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور اسوہء الرسول پر عمل کرتے ہوئے  لوگوں پر صرف اور صرف القرآن تلاؤوت کیا جائے اور خود کو عظیم مبلغ ثابت کرنے کے لئے من دون اللہ کے حوالے نہ دیئے جائیں مگر ہوتا یوں ہے کہ جب صرف  ”اللہ کی آیات“ اُن کے کسی مسئلے کے حل کے لئے پیش کی جاتی ہیں تو لوگ ان سے کفر کرتے ہیں۔ اللہ علیم و خبیر ہے اسے یہ باتیں پہلے سے معلوم ہیں کہ مشرک  کافر اور منافق ان لوگوں کو کیا کہیں گے جو اللہ کے حکم کے مطابق دین کو اللہ کے لئے خالص کرتے ہوئے صرف اللہ کی آیات  پیش کرتے ہیں۔ خالص اللہ کی آیات پیش کرنے پر الرسولﷺ  کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا ،  وہی رویہ  اسوہ ء الرسول  پر چلنے والوں کے ساتھ لازماً ہو گا۔
            چنانچہ اللہ نے  مسلمانوں کو بتایا کہ محمد الرسول اللہ کے ساتھ غیر مسلموں نے جو رویہ اختیار کیا جو یقیناً اچھارویہ نہیں کہلایا جا سکتا۔ ان کے تمام رویوں کو اللہ نے کتاب اللہ میں لکھ دیا ہے،  تاکہ اللہ کے بندے  محمد الرسول    کے ساتھ ہونے والے رویوں پر نظر رکھتے ہوئے اپنے ساتھ ہونے والے  رویوں پر  دل برداشتہ نہ ہوں۔
یہ کسی عظیم آدمی پر کیوں نہیں نازل ہوا ؟   -1   

وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَـٰذَا الْقُرْ‌آنُ عَلَىٰ رَ‌جُلٍ مِّنَ الْقَرْ‌يَتَيْنِ عَظِيمٍ  -( 31 الزخرف
     اور انہوں نے کہا کیوں نہیں نازل ہوا یہ القرآن ۔دونوں بستیوں کے کسی عظیم مرد پر؟  
2-    ہم پراس طرح  آیت کیوں نہیں نازل ہوتی؟

وَیَقُولُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ لَوْلا أُنزِلَ عَلَیْْہِ آیَۃٌ مِّن رَّبِّہِ  إِنَّمَا أَنتَ مُنذِرٌ وَلِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ۔ ﴿7﴾ الرعد
     اورکافر کہتے ہیں۔ ہم پر ہمارے ربّ کی طرف آیت کیوں نہیں نازل ہوئی۔ بے شک تو منذر ’‘ ہے۔ اور ہر قوم کے لئے (تو)ایک ھادٍ (ھدایت دینے والا) ہے۔
وَيَقُولُونَ لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّن رَّ‌بِّهِ ۖ فَقُلْ إِنَّمَا الْغَيْبُ لِلَّـهِ فَانتَظِرُ‌وا إِنِّي مَعَكُم مِّنَ الْمُنتَظِرِ‌ينَ ﴿20﴾ يونس   
اوروہ کہتے ہیں۔ ہم پر ہمارے ربّ کی طرف آیت کیوں نہیں نازل ہوئی۔ پس تو کہہ بے شک الغیب اللہ کے لئے ہے، پس تم انتظارکرو  میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔
3-  تاویلیں دیتے ہیں کہ ہماری بہت بڑی اور شاندار جماعت  ہے
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا لِلَّذِينَ آمَنُوا أَيُّ الْفَرِ‌يقَيْنِ خَيْرٌ‌ مَّقَامًا وَأَحْسَنُ نَدِيًّا ﴿73﴾ مریم 
 اور جب ان پر ہماری واضح  آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ایمان والوں سے کہتے ہیں ہم دونوں فریقین میں کس کا مقام بہتر ہے؟  اور کون احسن ندیا (ندوی) ہے؟
زبان دانی پر اعتراض کرتے ہیں-4 
وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ‌ ۗ لِّسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَـٰذَا لِسَانٌ عَرَ‌بِيٌّ مُّبِينٌ ﴿103﴾ النحل
  اور بے شک ہم جانتے ہیں۔ یقینا وہ کہتے ہیں۔ بے شک اُس کا علم ایک بشردیتا ہے  وہ  اس کی طرف”الحاد“کرتے ہیں کہ وہ عجمی ہے  اور یہ (الکتاب) واضح عربی زبا ن میں ہے۔
 5-  کیا یہ تمھاری طرح کا ایک  بشر نہیں ہے ؟
 لَاهِيَةً قُلُوبُهُمْ ۗ وَأَسَرُّ‌وا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا هَلْ هَـٰذَا إِلَّا بَشَرٌ‌ مِّثْلُكُمْ ۖ أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ‌ وَأَنتُمْ تُبْصِرُ‌ونَ ﴿ 3﴾ الأنبياء
ان کے دل غافل ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا خفیہ سرگوشیاں کرتے ہیں۔ کیا یہ تمھاری طرح کا بشر نہیں؟ اور کیا تم  بصیرت کے باوجود بھی سحر کی طرف آتے ہو -
6- ان آیات کے بارے میں ہمارے  آباواجداد نے کیا بو لاہے ؟ 

  وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا ائْتُوا بِآبَائِنَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ   ﴿ 25﴾  الجاثية 
  اور جب ان پر ہماری واضح آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کے پاس کوئی حجت نہیں ہوتی سوائے اس کے، کہ ہمارے آباء کے (اقوال کے)ساتھ آؤ اگر تم سچے ہو۔

 جب کچھ نہیں بن پڑتا تو پھر  
7- ہاں  ہم نے سنے ہیں یہ پرانے افسانے ہیں یہ توہم بھی کہہ سکتے ہیں  
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا قَالُوا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَـٰذَا ۙ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ‌ الْأَوَّلِينَ ﴿ 31﴾ الأنفال
   اور جب ان پر ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں توکہتے ہیں ہاں ہم نے سن لیا ہے اور اگر ہم چاہیں تو اس کی مانند کہہ سکتے ہیں۔ یہ تو بس پرانے  افسانے ہیں۔
 وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ ۖ وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرً‌ا ۚ وَإِن يَرَ‌وْا كُلَّ آيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوا بِهَا ۚ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوكَ يُجَادِلُونَكَ يَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا إِنْ هَـٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ‌ الْأَوَّلِينَ   ﴿ 25﴾  الأنعام
 اور اُن میں سے جو تیری طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ ہم نے اُن کے قلوب پر پردہ ڈال دیا ہے کہ وہ  ”فقہ“ کریں۔ اور اُن کے کانوں میں بہرہ پن ہے۔ اور وہ تمام آیات دیکھنے کے باوجود اَن پر ایما ن نہیں لاتے۔ یہاں تک کہ وہ جب تیرے پاس آتے ہیں تو تجھ سے مجادلہ کرتے ہیں۔کافر کہتے ہیں بے شک یہ تو بس پرانے  افسانے ہیں۔
8- اس کے علاوہ کوئی اور پڑھائی لاؤ  یا اس کو بدل دو۔
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ ۙ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْ‌جُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْ‌آنٍ غَيْرِ‌ هَـٰذَا أَوْ بَدِّلْهُ ۚ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِن تِلْقَاءِ نَفْسِي ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ ۖ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَ‌بِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ  ﴿ 15﴾ یونس
  اور جب ان پر ہماری واضح آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہماری ملاقات کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی اور پڑھائی لے آ یا اس کو بدل دے۔ کہہ میرے لئے ممکن نہیں کہ میں اِس کو  اپنی مرضی سے بدل دوں۔  میں تو اُس کی اتباع کرتا ہوں جو مجھ پر وحی ہوتا ہے۔ اگر میں اپنے رب کی معصیت (اُس کے کلمات کا نعم البد ل تلاش کرتے ہوئے کروں) تو مجھے یومِ عظیم کے عذاب کا خوف ہے۔
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَ‌بِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا ۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿ 115﴾  الأنعام
  تیرے ربّ کے کلمات صدق اور عدل  سے مکمل ہوئے۔ اُس کے کلمات کا کوئی نعم البد ل نہیں وہ السمیع اور العلیم ہے۔
 ٭۔   صاحبِ وحی بھی بلحاظ زمانہ یا وقت اُس کو بدل سکنے کی جرا ت نہیں پاتا۔ خواہ یہ بذریعہ اجتحاد ہو یا بذریعہ صوابدیدی اختیارات۔ کیونکہ: 
  مَا كَانَ لِبَشَرٍ‌ أَن يُؤْتِيَهُ اللَّـهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِّي مِن دُونِ اللَّـهِ وَلَـٰكِن كُونُوا رَ‌بَّانِيِّينَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُ‌سُونَ   ﴿ 3:79﴾ 
 ایک بشر جسے  اللہ اسے  الکتاب  الحکم اور  نبوت!  اُس سے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ لوگوں سے کہے کہ تم اللہ کے سواء  میرے عباد (میرا کہنا ماننے والے) ہو جاؤ۔ لیکن وہ تو کہے گا کہ تم خود ربانی ہو جا ؤ اس لئے کے تمھیں الکتاب کا علم ہے اور تم درس دیتے ہو۔
٭۔   الرسول ﷺ  اپنے اوپراللہ کی طرف سے وحی کئے جانے والے احکامات پر عمل کرتا ہے اور یہ عمل ہمارے سامنے اسوہ ء الرسول ﷺ کی صورت میں سامنے آتاہے۔
  لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَ‌سُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْ‌جُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ‌ وَذَكَرَ‌ اللَّـهَ كَثِيرً‌ا   ﴿ 21﴾   الأحزاب
حقیقت میں تمھارے لئے رسول اللہ کی اسوہ ء حسنہ ہے۔ جو اللہ اور یوم الآخر سے رجو ع چاہتا ہے اور اللہ کا ذکر (ربّ کی آیات کے ساتھ) کثرت سے کرتا ہے-
  وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ‌ بِآيَاتِ رَ‌بِّهِ ثُمَّ أَعْرَ‌ضَ عَنْهَا ۚ إِنَّا مِنَ الْمُجْرِ‌مِينَ مُنتَقِمُونَ  ﴿ 22﴾  السجدۃ
 اور کو ن ظلم کرتا ہے (وہ)  جو جب اُس کے ربّ  کی آیات سے ذکر کیا جاتا ہے تو وہ اُن سے اعراض کرتا ہے۔ بے شک ہم المجرمون کے لئے منتقم ہیں۔
٭۔  اللہ تعالی کے حکم کے مطابق ہمارے لئے رسول اللہﷺ کی اُسوہ ء حسنہ ہے۔ ہمیں آباء و اجداد، بزرگوں اور اللہ کے نیک بندوں کی اُسوہ  پر عمل کرنے کا کہا جاتاہے۔ اگرہمارے اسلاف اللہ کا حکم ہو بہو اِسی طرح مان رہے ہیں جس طرح  محمد رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کو اللہ کی اِذن سے بتایا ہے  تو اُن سب کا عمل مشترک ہونا چاہیئے  اور وہ  عمل، خواہشِ نفس، ذاتی وعلاقائی پسند و ناپسند اور فرقہ بندی و مسلک پرستی سے ارفع ہونا چاہیئے۔ فرقہ بندی کی ابتداء کہاں سے ہوتی ہے یہ بھی محمد الرسول نے ہمیں اللہ کی یشاء سے بتا دیا ہے: کہ جب انسانوں کے درمیاں اللہ کے دین میں اختلاف پید ہوتا اور” امت واحدہ“  دو حصوں میں تقسیم ہوتی تو اللہ تعالیٰ نبیوں کو بعث کرتا وہ اپنے ہمراہ ”الکتاب“ لاتے اور اُس سے انسانوں کے اختلاف پر اللہ کا حکم بتاتے ہیں جو لوگ الکتاب کو اللہ کا حکم سمجھتے ہیں اُن کا اختلاف اللہ کے اذن سے دور ہو جاتا ہے اور وہ دوبار ہ صراط المستقیم پر آجاتے ہیں جو  انسانوں کے لئے اِس اوراگلی دنیا میں الکتاب ہے ۔
  كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّـهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِ‌ينَ وَمُنذِرِ‌ينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ ۚ وَمَا اخْتَلَفَ فِيهِ إِلَّا الَّذِينَ أُوتُوهُ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۖ فَهَدَى اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ ۗ وَاللَّـهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَ‌اطٍ مُّسْتَقِيمٍ   ﴿ 213﴾  البقرۃ
 انسان”امت  واحدہ“ہوئے۔ پس اللہ نے النبیین بعث کئے مبشرین اور منذرین، اور اُن کے ہمراہ ”الکتاب“  بالحق نازل کی۔ تاکہ وہ انسانوں کے درمیان جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں حکم کریں۔ اور نہیں اختلاف کیا اُس (الکتاب) میں  سوائے اُن لوگوں نے جب ان کے پاس البینات (الکتاب میں سے) آئیں۔ (کیوں؟) آپس کی بغی کی وجہ سے، وہ لوگ جو ایمان لائے (الکتاب اور اُس کے ساتھ آنے والے انبیاء پر)پس اللہ نے اُن کی ہدایت بالحق (بذریعہ الکتاب)  اپنے اذن سے، اُن کے اختلاف دور کرتے ہوئے کی، اور اللہ اپنی یشاء سے صراط المستقیم کی طرف ہدایت کرتا ہے۔
فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ صِرَ‌اطٍ مُّسْتَقِيمٍ   ﴿ 43﴾  الزخرف
پس تو تھامے رکھ اُسے جو تیری طرف وحی ہوا بے شک تو صراط المستقیم پر ہے
وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ‌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۖ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ  ﴿ 44﴾  الزخرف
   اور بے شک وہ (وحی)تیرے لیے اور تیری قوم کے لئے ذکر ہے  اور تم سے یقینا سوال ہوگا  
وَاسْأَلْ مَنْ أَرْ‌سَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّ‌سُلِنَا أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّ‌حْمَـٰنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ  ﴿ 45﴾  الزخرف
 اور پوچھ! جو ہم نے تجھ سے قبل ہم نے اپنے رسول بھیجے، کیا ہم نے رحمان کے ساتھ کوئی الہہ بنائے، جن کے لئے وہ عبد  ہیں؟
  9- بڑی عجیب بات کہہ رہا ہے
  وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ هَـٰذَا سِحْرٌ‌ مُّبِينٌ  ﴿ 7﴾  الأحقاف
  اور جب ان پر ہماری واضح آیات تلاوت کی جاتی ہیں  تو کفر کرنے والے  اُس حق کے لئے  جو اُن کے پاس آیا کہتے ہیں یہ تو واضح سحر  (حیرت انگیز) ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔