Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 20 جنوری، 2014

تجارۃ ۔ ربا ۔ الربو ۔ ربو اور ربوۃ

اُفق کے پار بسنے والے ، دوستو :
  سود (کالی کمائی)  اور ربا (تجارت میں منافع ) دو الگ الفاظ ہیں ۔
 پہلا لفظ سود القرآن میں نہیں ۔ جبکہ دوسرا ، ربا ۔ اللہ انسانوں کی راہنمائی کے لئے بذریعہ روح القدّس ، نے اللہ کے حکم سے رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ۔ مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ کو القرآن میں تفصیلا بتایا ۔ جس کا فہم میں نے بغدادی تشریحات ( پی ایل ڈی) کو ایک طرف رکھ کر خالص القرآن سے اپنا فہم بنایا ہے ۔
جس سے آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں ، 
 
لیکن ایک بات اہم ہے کہ ، تجارت ( مضاربی یا مشارکہ) میں الربا ، دوگنا اور چوگنا کھانا منع ہے ۔ آپ کو اللہ کا معاشی نظام چلانے کے لئے صرف ایک گناہ کھانے کی اجازت ہے ۔ کیوں ؟
کہ اللہ نے  عوام الناس کا مال باطل طریقے سے کھانے کے لیئے حکمیہ منع کیا ہے لیکن تجارت میں اِس کی اجازت دی گئی ہے ۔ 
 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَأْكُلُواْ أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ إِنَّ اللّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا [4:29]
 
اگر یہ باطل طرلقے سے تجارت میں لیا گیا مال میرے فہم کے مطابق ایک گنا سے بڑھ جائے تو یہ ربا کی جانب جانے لگتا ہے اور دو گنا تک پہنچنے میں باطل کے بجائے مکمل حرام ہو جاتا ہے ۔ شکریہ
 ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭٭ ٭ ٭ ٭ ٭٭ ٭
 
روح القدّس نے مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ کو اللہ کا ناقابلِ تبدیل حکم ، إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ  ، کا نعرہ لگانے والوں کے لئے " ر ب و " مادے سے بننے والے الفاظ  القرآن میں  الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ  کے لئے بتائے :
  - رَ‌بَتْ(2)،  يَرْ‌بُو(2)،  رَ‌بَّيَانِي،  نُرَ‌بِّكَ،  يُرْ‌بِي،  رَّ‌ابِيًا،  رَّ‌ابِيَةً،  أَرْ‌بَىٰ،  الرِّ‌بَا(7)،  رِّ‌بًا،  رَ‌بْوَةٍ اور بِرَ‌بْوَةٍ  یہ 20 الفاظ ، جو درج ذیل 15آیات کا حصہ ہیں،  الرِّ‌بَا کی مفصل وضاحت کرتا ہے ۔

رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ۔ مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ   
نے اللہ کی رضا کے لئے، وحی خفی کو عوام الناس کو سناکر  اموال کی تقسیم، کا فائدہ بتایا ، جس سے الناس پہلے واقف نہ تھے :۔  

  الرِّبَا - دو گُنا اور چار گنا کھانا اللہ نے منع کیا ہے ۔ 
1. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ [2:278] 
 
  اموال کا انفاق مَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبْوَةٍ  ہے :۔
2. وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّـهِ وَتَثْبِيتًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبْوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَآتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِن لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ﴿البقرة: 265﴾

الرِّبَا - کو اللہ نے حرام قرار دے دیا ۔
3. الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّـهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَن جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّـهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿البقرة: 275﴾

الرِّبَا - اللہ الرِّبَا کو ختم کرتا ہے اور صدقات کو رْبِي کرتا رہتا ہے ۔
4. يَمْحَقُ اللَّـهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّـهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ ﴿البقرة: 276﴾

الرِّبَا - کا بقایا اللہ سے متقی ہوتے ہوئے چھوڑ دو !
5. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿البقرة: 278﴾

 ھادو انسانوں سےالرِّبَا  لیتے ہیں اورانسانوں کے اموال جھوٹ (بول کے) کھاتے ہیں !
6. وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ﴿النساء: 161﴾

سیلاب سے بننے والا زَبَدًا رَّابِيًا متاع ہے اور انسان کے لئے اہمیت رکھتا ہے ۔
7. أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًا وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْيَةٍ أَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهُ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ اللَّـهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ اللَّـهُ الْأَمْثَالَ ﴿الرعد: 17﴾

قسموں کی بنیاد پر ایک امت دوسری سے أَرْبَىٰ نہ ہو !
8. وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِن بَعْدِ قُوَّةٍ أَنكَاثًا تَتَّخِذُونَ أَيْمَانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ أَن تَكُونَ أُمَّةٌ هِيَ أَرْبَىٰ مِنْ أُمَّةٍ إِنَّمَا يَبْلُوكُمُ اللَّـهُ بِهِ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ ﴿النحل: 92﴾

تیرے والدین نے جیسے تجھے کمسنی میں رَبَّيَان کیا -
9. وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا ﴿الإسراء: 24﴾

بارش کے پانی سے زمین رَبَتْ ہوتی ہے ۔
10. يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِن مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنبَتَتْ مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ﴿الحج: 5﴾

اللہ نے ابن مریم اور اُس کی ماں کورَبْوَةٍ  میں رہائش دی 
11. وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ آيَةً وَآوَيْنَاهُمَا إِلَىٰ رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ ﴿المؤمنون: 50﴾

کیا ہم نے تمھیں اپنے درمیان رَبِّ نہیں کیا  ؟
12. قَالَ أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدًا وَلَبِثْتَ فِينَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ ﴿الشعراء: 18﴾

   رِّبًا سے انسانوں کے اموال رْبُوَ  کرنے پر اللہ کے نزدیک وہ رْبُوَ نہیں ہوتے بلکہ اللہ کی خوشنودی کے لیے زکاۃ دینے والے انہیں دو گنا کرنے والے ہیں ۔
13. وَمَا آتَيْتُم مِّن رِّبًا لِّيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُو عِندَ اللَّـهِ وَمَا آتَيْتُم مِّن زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ ﴿الروم: 39﴾

بارش کے پانی سے زمین رَبَتْ ہوتی ہے ۔
14. وَمِنْ آيَاتِهِ أَنَّكَ تَرَى الْأَرْضَ خَاشِعَةً فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴿فصلت: 39﴾

انہوں اپنے ربّ کے رسول  سے نافرمانی کی  رَّابِيَةً  نے انہیں  پکڑا لیا۔
15. فَعَصَوْا رَسُولَ رَبِّهِمْ فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةً رَّابِيَةً ﴿الحاقة: 10﴾

امید ہے کہ ہمیں اِس بات میں ذرا بھی اختلاف نہیں ہوگا کہ " ر ب و " مادے سے بننے والے الفاظ کا مفہوم دوگنا اور چار گنا اضعافہ ، بلکہ کئی جگہ ہماری گنتی ناکام ہو جاتی ہے - لیکن ایک بات واضح ہے ،

3. يَمْحَقُ اللَّـهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّـهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ ﴿البقرة: 276﴾

13. وَمَا آتَيْتُم مِّن رِّبًا لِّيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُو عِندَ اللَّـهِ وَمَا آتَيْتُم مِّن زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ ﴿الروم: 39﴾

5. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّـهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿آل عمران: 130﴾

4. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿البقرة: 278﴾

فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْ‌بٍ مِّنَ اللَّـهِ وَرَ‌سُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُ‌ءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ ﴿279﴾ البقرة

فَلَكُمْ رُ‌ءُوسُ أَمْوَالِكُمْ - پس تمھارے لئے رُ‌ءُوسُ أَمْوَالِكُمْ یعنی اگر آپ  رُ‌ءُوسُ أَمْوَال لیتے ہیں تو وہ الرِّ‌بَا نہیں اور نہ ہی تم فَأْذَنُوا بِحَرْ‌بٍ مِّنَ اللَّـهِ وَرَ‌سُولِهِ ۖ میں پھنسو گے ۔ یعنی ، اس آذان حرب جو اللہ اور رسول کے ساتھ شروع ہوگی سےبچت ہو جائے گی ۔ 
رُ‌ءُوسُ أَمْوَالِكُمْ ۔ رُ‌ءُوسُ ( رءَس (سر) کی جمع ہے ) 
أَمْوَالِكُمْ ۔ تمھارے اموال ۔
یہاں رُ‌ءُوسُ أَمْوَال کا ترجمہ اصل زر لیا جاتا ہے ۔ جودرست نہیں ۔

اب ہم اس کے ان دونوں یعنی 
رُ‌ءُوسُ اور أَمْوَال  کے فہم کو اس آیت سے دیکھتے ہیں:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّ‌بَا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّـهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿آل عمران: ١٣٠﴾

ایک شخص نے دوسرے شخص کو 10 تولہ سونا بطور قرض منافع  ( 10٪) اور انٹرسٹ (10٪) پر سال کے لئے دیا  ۔

اصل زر: مال 10 تولے سونا ۔ دوگنا منافع ( 10 جمع 20) ، چارگنا منافع ( 10 جمع 40 )۔ 
 
 المال 10 تولے سونا ۔ تو اس کا سر کتنا ہوگا ؟ 
 
    آپ کی کیا رائے ہے؟   
  ٭٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
جاری  ہے   ۔ 
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭٭ ٭ ٭ ٭ ٭٭ ٭ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔