Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 7 جون، 2014

بلتتسان کے نور بخشی

نور بخشیوں کا    سلسلہ کبرویۃ  ، صوفی طریقت   (جو سنّی و علویت  کا امتزاج ہے ) کا   شاگرد بنا،    جو   سید محمد  نور بخشی  شاہ کوہستانی ،سرینگر    کے  مرید وں کے امام سے خپلو ، میں سیکھا ۔ 
مجھے جو سب سے زیادہ  چیز پسند آئی وہ  اُن کا عملِ خود احتسابی ہے ، جو جماعتِ اسلامی کے عملِ خود سراہی کا متضاد ہے ۔
عملِ خود احتسابی   انسان رات کو سونے سے پہلے  اپنے دن بھر کی کوتاہیوں کا احتساب کرتا ہے ، اللہ سے معافی مانگتا ہے اور دوسرے دن اُن کوتاہیوں  کی درستگی کے  عمل   کا اللہ سے وعدہ کرتا ہے ۔ عملِ خود سراہی میں ، میں کہ آج میں نے کیا اچھے کام کئے۔اور کل کیا کرنے ہیں ۔
اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوتا کہ اللہ  کو ہمارے اچھے کاموں کی خواہش نہیں ، وہ ہمیں بُرے کاموں سے منع کرنے کے لئے اپنے نبی اور رسول بھیجتا ہے ۔

مجھے  نوربخشیوں کا خود احتسابی کا عمل بہت پسند آیا ۔ اور میں اپنی ایک بہت بڑی خطا سے پیچھا چھڑا پایا ۔
خطا یہ تھی کہ میں ، اپنے بچوں کی تقریریں ،  اتفاق اور اختلاف کی تقریریں خود لکھتا تھا ، بڑھیا تیاری کرواتی ۔ اور بچے پوزیشن لیتے ، 1993 میں بچوں نے تقریری مقابلے  پہلی اور دوسری  پوزیشن لی ، جس کا عنوان تھا
  ”دولت انسانی اقدار کی قاتل ہے“ یہ عروضہ اور ارمغان کے لئے  اور
 " عورتیں بہترین ٹیچر ہوتی ہیں "  ارسلان اور سائرہ کے لئے ، لکھوا دیا۔
میں نے فوراً دو موافقت میں اور دومخالفت میں تقریر یں لکھیں۔اُس سال چاروں بچے بوری میں بھر کر اپنے کپ لائے ۔
مجھے اطلاع ملی تو  یکم کو جوانوں کی تنخواہ لینے  خپلو جانے سے پہلے جلیبی شاپ سے  جلیبی اور گلاب جامن لئے  اور  خپلو میں اما م  صاحب کے لئے ، مٹھائی لے کر گیا ، امام صاحب نے مبارکباد دی۔
 " میجر صاحب آپ کے دو بچے حق پر مقابلہ جیتے ہیں اور دو بچے ناحق "  
میں اما م صاحب  کے چہرے کی طرف دیکھا ، اور اُن کی بات سمجھ کر مسکرایا ۔ وہ دوبارہ گویا ہوئے ۔
" لیکن میں اُن بچوں کی جیت کی مٹھائی ضرور کھاؤں  جو حق پر تھے " 
یہ کہہ  کر اُنہوں نے جلیبی منہ میں رکھی اور مجھے طریقت کا  عمدہ درس دے  دیا ،  چنانچہ اُس کے بعد میں بھی ہر کھانے والی  حلال کھانے والی چیز کسی کے ہاں سے بھی آئے ، اُسے   پہلے  مسلمان کرتااور پھر یہ کہہ کر کھا لیتا -
" اے اللہ ، اگر یہ  جائز ہے تو اِسے میرے بدن کا جزو بنا اور اگر ناجائز  تو اِسے میرے بدن سے بغیر فائدہ پہنچائے خارج کر دینا " 

 
اُن کی ماہانہ ہم نشینی میں کئی اچھی اور اصولی باتیں سیکھیں   ،  لیکن جو اہم بات سیکھی -
" میجر صاحب آپ نے اپنے خدا  کو اپنا جواب  دینا ہے اور میں نے اپنے خدا کو !  تو پھر ہم کیوں ایک دوسرے  سے جھگڑیں  ؟ "



نور بخشیوں کو ختم کرنے کے لئے ، اُن کا بے تحاشا قتل کیا گیا ، لیکن وہ اب بھی بلتستان میں موجود ہیں ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


1 تبصرہ:

  1. كسقدر عقلمند جرواهاتها جو وسي بادامي كي مانند معصومانه سوال كر كي هم سب كو تكليف مين دالتا

    جواب دیںحذف کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔