Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 17 فروری، 2021

مہاجرزادہ کی آپّا میں شمولیت

 "پاکستان کے تمام پنشنرز ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں ۔ چلو چلو اسلام آباد چلو "
18 فروری کو مجھے ایک دوست لیفٹننٹ کرنل (ر) محمد عمران بٹ نے وٹس ایپ کیا ۔ جو مجھے بہت پسند آیا ۔ میں نے اُسے وٹس ایپ کیا کہ، بٹ صاحب ہم سوچ رہے تھے ، آل پاکستان پنشنرز کے اتحاد کا  یہ نعرہ مجھے بہت پسند آیا ۔

میں نیچے اُس  کا وائس میسج ڈال رہا ہوں ۔

کرنل عمران بٹ کے اِس وائس میسج نے  میرے ذہن میں سیاچین پر میری خدمت کرنے والے میرے  بیٹ مین  گنرمحمد بوٹا خان  کی بات      میرے تحت الشعور (دماغی ہارڈ ڈسک) سے شعور  ( ریم میموری) میں چھلانگ لگا کر آگئی ۔

پنڈ دادن خان کا بوٹا جو اپنی سروس کا آخری سال 1993 میں مکمل کر رہا تھا ، اُس سے میری ملاقات ۔ 29 نومبر 1976 میں ہوئی تھی    - جب اُسے وادیءِ نیلم میں دھنّی کے مقام پر  مجھے بطورِ بیٹ میں  دیا گیا ۔ بوٹا خان  ، ٹھیٹھ پنجابی بولنے والا ، تعلیم کے حساب سے چٹّا اَن پڑھ لیکن تربیت کے مطابق ایک بہترین ملازم ثابت ہوا ۔  دو سال میرے پاس رہنے کے بعد وہ میرے بیٹری کمانڈر   میجر ارسل نواز کے پاس بھجوادیا گیا ۔ وقت گذرتا گیا ۔ پھر اَن پیڈ لانس نائیک محمد بوٹا خان سے میری ملاقات  مارچ 1993 میں ہوئی جب میں اپنی یونٹ کا سیکنڈ اِن کمانڈ پوسٹ ہوا ۔ 

میں آفس میں بیٹھا تھا کہ رنر نے بتایا  کہ ، سر ، اَن پیڈ لانس نائک محمد بوٹا  خان آپ سے ملنا چاہتا ہے وہ ایک مہینہ بعد ریٹائر ہو رہا ہے ۔ 


اَن پیڈ لانس نائک محمد بوٹا  خان آفس میں داخل ہوا ۔   وہ اندر داخل ہوا ۔ میں پہچان گیا ۔ اُس نے زور سے سلیوٹ مارا ۔ میں کھڑا ہوا اور بولا،
بوٹے خانا تینوں کدروں پُٹ کے میرے مگر مار دتا  جے ۔

اَن پیڈ لانس نائک محمد بوٹا  خان ، شرمندہ ہو کر ویسے ہی مسکرایا جیسے وہ  18 سال پہلے مسکرایا کرتا تھا  اور پہلی بار جواب دیا :
سر جی تہاڈی ماسی دے پنڈ، توں !

 میری گلزار خالہ کے لئے پڑھیں ،" نمّو  کی پہلی اُڑان "

میں اُس سے اُٹھ کر گلے ملا۔ پاس کرسی پر بٹھایا  اور بوٹے نے چائے پینے تک اپنی پوری  کہانی سنا دی ۔ میں نے کمانڈنگ آفیسر  سے بات کی یوں، اَن پیڈلانس نائیک بوٹا خان میرا بیٹ مین بن کر سیاچین کے میدانِ جنگ میں  آگیا ، جہاں اُس کی تنخواہ  میں اضافہ ہو اور وہ   دو ماہ بعد ریٹائر ہو کر   سنٹر چلا گیا اور پھر پنڈدادن خان ۔  

بوٹے   یونٹ سے   میرا موبائل نمبر اور جولائی 2019 میں فون آیا :

یہ سب گفتگو پنجابی میں ہوئی ۔

بوٹے کیسا حال ہے ؟ بہو اور بچے کیسے ہیں ؟

سر جی ۔ اللہ کا شکر ہے ۔   سر جی کوئی ملازمت دلا دو ؟
بوٹے ملازمت کہاں ملتی ہے ؟ سر جی آپ نے پہلے احسان کیا تھا ، اب ایک اور کردو ، پنشن بہت کم ہے ۔ بوڑھا ہوگیا ہوں ملازمت نہیں ملتی ،  بہو تنگ کرتی ہے -آپ تو لوگوں کو  بیٹ میں کی ملازمت دلواتے ہو مجھے بھی دلوادو ۔

بوٹے  70 سال کا ہوگیا ہے اب تجھے ملازمت پر کون رکھے گا ۔ اگر رکھوا دوں تو  اگلا بندہ کہے گا ، میجر صاحب :  اے بوٹا  کدروں پُٹ کے میرے مگر مار دتا  جے ۔

سر جی : مجھے اپنے ہاں گیٹ پر چوکیدار رکھوادو ، آپ کی گاڑی صاف کروں گا ، آپ کے لئے گیٹ کھولوں گا، بس مجھے کھانا کھلا دینا اور  برانڈے میں چارپائی رکھ دینا ۔

بوٹے ، تیرا پنشن میں گذارا نہیں ہوتا  ، پھر بیٹا بھی ہے، پنشن کے پیسوں سے  تو نے گھر بھی بنایا تھا ، روٹی تو تجھے بیٹا بھی کھلاتا ہوگا  ، 6 ہزار روپے گھر بیٹھے کافی نہیں ؟
" سر جی بیٹا کہندا جے ، ابّا   تیری پنشن نال ساڈا گذارا نئی ہونا ، نالے توں ٹاپاں بہوں کھاندا جے، کسی صاب کو ل  چوکیدار دی ملازمت کر لے  "

یہ سُن کر ، یہ بوڑھا سُن سا ہو گیا ۔ لیکن پھر غصے میں بھر گیا،
بوٹے اپنے خبیث بیٹے کو بتاؤ ، کہ گھر تمھارا ، پنشن   تمھاری  ، بچے کے بیٹی اور بیٹے کے چوکیدار تم   ، تم نے اُسے پالا ، پڑھایا   اب وہ کیسے کہتا ہے ؟ کہ بڑھاپے میں تم چوکیداری کرو ۔ اُسے تمھاری خدمت کرنا چاھئیے  تم اُس کے باپ ہو، اب باپ بنو ، رات کو درخت کے نیچے سونے اور بارش میں   چھپّر کے نیچے سونے کے بجائے  ، اُسے بولو اپنا گھر تلاش کرے ۔ یا تمھیں چوکیداری کے بدلے کھانا کھلائے۔

سر جی میں ،بہت بیمار ہوا تھا ، رشتہ داروں کے کہنے پر  گھر  اُس کے نام کر دیا ہے ۔

پنشنر دوستو، یہ جملہ کہانی کا کلائمکس تھا ۔ جب میں  جولائی  2020 میں عدیس ابا با سے واپس آیا ، بوٹے کے نمبر پر فون کیا ، تو معلوم ہوا ۔اَن پیڈلانس نائیک بوٹا خان روٹیوں سے بے نیاز ہو چکا تھا ۔


پنشنر دوستو:  یوں بوٹے  کے دُکھ بھرے جملے نے  بوڑھے کو سیّد حفیظ  سبزواری کو فُون کرنے پر مجبور کر دیا ، جو بقول اُس کے  محکمہ صحت کا  ایک ریٹائرڈ  پنشنر ہے ۔ بوڑھے نے اُسے بتایا کہ بوڑھا بھی ایک پنشنر ہے اور فوج سے تعلق ہے ۔ فوج کے پنشن کے قواعد و ضوابط اپنے ہیں اور اکاونٹنٹ  جنرل آف پاکستان کے مختلف اداروں کے لئے اپنے ۔ یہ بتائیں کہ میں کیسے تمام پنشروں کی مدد کر سکتا ہوں۔

 یوں یہ پوسٹ اِس بوڑھے نے دیگر بوڑھوں کو ایک نیک کاز کے لئے ڈالی :

 19 فروری کی صبح مجھے سبزواری کا فون آیا   کہ  میجر صاحب ،  اسلام آباد و راولپنڈی کے تمام  پنشنر کی  میٹنگ  ، رانا   محمد اسلم  ریٹائرڈ پی ایس  تو سیکریٹری وفاقی مذہبی امور کے گھر ہوگی  جہاں 22 فروری کی پریس کانفرنس کے انتظامات کے بارے میں  ، ڈسکشن ہو گی اگر آپ جاسکتے ہیں تو وہاں اپنے پنشنر ساتھیوں کے ساتھ پہنچ جائیں  اور باقی پنشنرز جن کو آپ جانتے ہیں اُنہیں بھی بتائیں ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

٭- پنشنرز کی اسلام آباد میں پہلی میٹنگ-


 

 

 

 

 
میں نے سبزواری سے بات کی اُس نے بتایا کہ وہ 22 فروری کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرے گا ۔ میں نے پوچھا اسلام آباد کب آنے کا پروگرام ہے ؟ اُس نے بتایا کہ وہ 21 فروری کو اسلام آباد پہنچے گا ۔
مجھے 18 فروری کو جناب رانا محمد اسلم کی طرف سے میسج ملا کہ 19 فروری کو اُن کے گھر میں میٹنگ ہے آپ تشریف لائیں ۔ میں وہاں پہنچا وہاں جو بھی کاروائی ہوئی اُس کی مکمل گُفتگو کی وڈیو میں نیچے ڈالتا ہوں ۔
وہ دیکھ کر آپ سمجھ جائیں گے ۔ کہ 65 سے 70 سال کے سمجھدار ، لوگوں نے ایسوسی ایشن بنانے کے لئے کیا گُفتگو کی ۔

٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔