مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَـٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔
ابراہیم یہودی یا نصرانی نہیں ہو سکتا بلکہ وہ تو حنیف مسلم ہے اور نہ ہی وہ المشرکین میں سے ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سعودی عرب کی مستقل فتویٰ کمیٹی نے "اتحاد مذاہب" اور "ابراہیمی ہاؤس" کے حوالے سے پائے جانے والے اختلافات کو ختم کرتے ہوئے درج ذیل فتویٰ جاری کیا:۔
.* مستقل فتویٰ کمیٹی کا فتویٰ - فتویٰ نمبر 19402
.* مستقل فتویٰ کمیٹی کا فتویٰ - فتویٰ نمبر 19402
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور درود و سلام ہیں اس نبی پر جن کے بعد کوئی نبی نہیں، اور ان کے اہل و عیال اور صحابہ کرام اور ان کے راستے پر چلنے والوں پر قیامت تک
سائنسی تحقیق اور افتاء کی مستقل کمیٹی نے میڈیا میں شائع ہونے والے سوالات اور مضامین کا جائزہ لیا جو مذاہب (اسلام، یہودیت اور عیسائیت) کے اتحاد کے حوالے سے پیش کیے گئے، جن میں ایک جگہ مسجد، چرچ اور مندر بنانے یا قرآن، تورات اور انجیل کو ایک جلد میں شائع کرنے کی تجویز دی گئی۔ کمیٹی نے اس مسئلے پر غور کرنے کے بعد مندرجہ ذیل فیصلہ کیا۔فتوی نمبر: 19402
سائنسی تحقیق اور افتاء کی مستقل کمیٹی نے میڈیا میں شائع ہونے والے سوالات اور مضامین کا جائزہ لیا جو مذاہب (اسلام، یہودیت اور عیسائیت) کے اتحاد کے حوالے سے پیش کیے گئے، جن میں ایک جگہ مسجد، چرچ اور مندر بنانے یا قرآن، تورات اور انجیل کو ایک جلد میں شائع کرنے کی تجویز دی گئی۔ کمیٹی نے اس مسئلے پر غور کرنے کے بعد مندرجہ ذیل فیصلہ کیا۔فتوی نمبر: 19402
پہلا نکتہ:* اسلامی عقیدہ کی بنیاد یہ ہے کہ اسلام کے علاوہ کوئی سچا مذہب نہیں ہے اور یہ وہ آخری دین ہے جس نے تمام سابقہ مذاہب اور شریعتوں کو منسوخ کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: ’’بے شک اللہ کے نزدیک دین اسلام ہے۔
دوسرا نکتہ: قرآن پاک اللہ کی آخری کتاب ہے اور اس نے تورات، زبور، انجیل اور دیگر کتابوں کو منسوخ کر دیا ہے۔
تیسرا نکتہ: تورات اور انجیل کو منسوخ کر دیا گیا ہے اور تحریف بھی کر دی گئی ہے جیسا کہ قرآن کی آیات میں مذکور ہے۔
چوتھا نکتہ: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
پانچواں نکتہ:جس نے اسلام قبول نہیں کیا، خواہ وہ یہودی ہو، عیسائی یا کوئی اور، وہ کافر اور اللہ کا دشمن ہے، اور اگر اس نے توبہ نہیں کی تو وہ جہنم کا مستحق ہے۔
چھٹا نکتہ:اتحاد مذاہب کی دعوت ایک فتنہ انگیز اور مکارانہ سازش ہے جس کا مقصد کمزور کرنا ہے۔
ساتواں نکتہ:اس دعوت کا ایک اثر یہ ہو گا کہ اسلام اور کفر کا فرق ختم ہو جائے گا اور مسلمانوں کی کفار سے بیزاری ختم ہو جائے گی، جس سے جہاد بھی ختم ہو جائے گا اور کلمہ کو بلند کرنے کی جدوجہد بھی۔
آٹھواں نکتہ:اگر کوئی مسلمان اس دعوت کو فروغ دیتا ہے تو وہ دین اسلام سے مرتد ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ دعوت اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے۔
نواں نکتہ: کسی مسلمان کے لیے اس دعوت کی حمایت کرنا، اس کے سیمینار میں شرکت کرنا یا اس کے نظریات کو پھیلانا جائز نہیں ہے۔
قرآن، تورات اور انجیل کو ایک ہی جلد میں شائع کرنا یا ایک جگہ مسجد، کلیسا اور مندر بنانا جائز نہیں، کیونکہ یہ اسلام کی بالادستی کو رد کرنے کے مترادف ہے۔
سائنسی تحقیق اور اجراء کے لیے مستقل فتویٰ کمیٹی اللہ اس فیصلے کو کمیٹی کے لیے باعث اجر بنائے، آمین۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں