Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 7 جولائی، 2021

ملٹری انکارپوریٹ اور آرمی آفیسرز کو ملنے والی زمینیں ، پلاٹ اور مکان

 ڈیفنس فورسز کے اپنے کے لئے وہی قوانین ہیں جو انگریزوں نے تمام وفاقی اداروں کے لئے بنائے تھے۔ لیکن فوج نے ملکی حالات کے پیش نظر ریٹائر ہونے والے ، فوجیوں کی ویلفیئر کے لئے اِن میں کچھ تبدیلیاں کیں ہیں ۔ جن سے ہم سب  ریٹائرڈ  فوجی مستفیض ہو رہے ہیں ۔

 سب سے اہم فوج میں بہتر کارکردگی کی بنیاد پر میرٹ پر ملنے والے نمبروں کے مطابق کھیتی باڑی کے لئے جوانوں اورآفیسروں کو زمین الاٹ کرنے کا نظام انگریزوں کے وقت سے موجود ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ فوج کے زیرنگیں جنگی مشقوں کے علاقے ، کیمپنگ کی زمینیں ، ملٹری فارم ہاوسز ، گھوڑی پال مربعے اور بیابان و بنجر علاقے اب لہلہاتے کھیتوں باغوں اور فارم ہاوسز میں تبدیل ہو رہے ہیں اور ڈیفنس سوسائیٹیز وجود میں آرہی ہیں ۔

 مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب ہم 1977 میں انفنٹری سکول کوئٹہ میں کورس کر رہے تھے ۔تو وہاں آرمی آفیسرزھاؤسنگ سوسائیٹی کے پلاٹ کے فارم، اٹارنی پاورز پر موٹر سائیکل کے عوض بیچنے کے لئے پراپرٹی ڈیلر سرگرداں تھے ۔ سنا تھا کہ یہ پلاٹس کالا پل سے کورنگی کریک ، کورنگی جانے والی سڑک کے کہیں قریب تھے ۔جہاں سیم و تھور لگی زمینیں ، اجاڑ و بیاں سمندری ریت کا صحرا اور کیکر کے درختوں سے بھرے جزیرے تھے ۔

 بعد میں معلوم ہوا کہ یہ ریٹائرڈ  آرمی آفیسرز ھاوسنگ سوسائیٹی 1950 سے قائم تھی اور بمشکل سو دوسو پلاٹس پر ریٹائرڈ آرمی آفیسرز نے فوج سے لیز پر زمین لے کر کینٹ ریلوے سٹیشن کے پیچھے بنائی تھی ۔جو آج کل ڈیفنس فیز -1 کہلاتا ہے اور 4 کنال پلاٹ کی قیمت صرف 2 ہزار روپے تھی ۔

 جب ایک پنشن پر جانے والے میجر کی ماہانہ تنخواہ اگر میں غلطی پر نہیں تو 425 روپے تھی ۔اوررہی پنشن وہ آپ کیلکولیٹ کر سکتے ہیں ۔ یہ رقم ڈاؤن پے منٹ مبلغ   50 روپے ادا کرنے  باقی ماندہ رقم  ،  قسطوں میں ادا کی جاتی ۔ اب یہ ایک وسیع العریض ھاوسنگ سوسائٹی بن چکی  ہے ۔

 پہلے یہ پلاٹ بیلٹنگ پر ملتے تھے ۔ جس کو مل جاتا وہ بیچ دیتا زیادہ تر سویلیئن خرید لیتے ۔

 آرمی ویلفئر ٹرسٹ سکیم  ، 1950 کے  سٹڈ فارم  کے بعد  1970 میں شروع کی گئی ۔

   عسکری ھاؤنگ سکیم  1980 میں ھاوسنگ سکیم لانچ کی گئی۔

 جس کے مطابق 13،500 روپے ڈاؤن پےمنٹ کے بعد ہر ماہ ریٹائرمنٹ قسط جمع کروانے کے بعد ریٹائرمنٹ کے بعد بقایا رقم ڈاؤن پے منٹ سے ادا کرنے کے بعد   آفیسر کو گھر ملنا تھا ۔

 اُن دنوں میں جہلم میں تھا اور چوراسی بازار کے پاس نئے تعمیر ہونے والے گھرو ں میں سے ایک مجھے ملا ۔ جو ٹھیکیدار نے بنایا تھا ۔ حالت یہ تھی کہ تصویر ٹانکنے کے لئے کیل پر ہتھوڑا مارا جاتا تو ایک چوٹ سے ایک انچ کی کیل دیوار میں ایسے گھستی جیسے تھرمو پور میں ٹھونکی گئی ہو ،تھرڈ کلاس مستری کا کام ، دروازے اور الماریاں سب سٹینڈرڈ مٹیریل کی بنی ہوئیں ۔ 

چنانچہ آفیسروں میں یہ مشہور ہو گیا کہ اگر ریٹائر منٹ کے بعد ٹھیکیداروں کے ہاتھ کے بنے ہوئے ایسے گھر بنے تو اِس سے بہتر ہے کہ والدین کے گھروں ہی میں رہا جائے ۔یا پلاٹ لے کر اپنا گھر خود  بنایا جائے ۔

  کیوں کہ میں شادی کے بعد موٹر سائیکل خرید چکا تھا اور وہی بچت تھی لہذا ۔ ریٹائرمنٹ پر گھر لینے   کاارادہ چھوڑ دیا ۔

 جب میں نے 1993 میں لاہور میں برکی روڈ پر ، پشین سکاؤٹ میں ساتھ سروس کرنے والے میجر (ر) آفتاب درانی    کے گھر گیا  تو مصمم ارادہ کر لیا کہ اگر اب سکیم آئی تو ،ضرور گھر کے لئے کوشش کی جائے گی یوں ڈاؤن پے منٹ کے لئے بچت شروع کر دی۔

  یوں 1995  میں پھر سکیم آئی۔ 25 ہزار ڈاؤن   پیمنٹ دے کر گھر کی قسط جمع کروانی شروع کر دیں۔  1999 میں وہ 13 لاکھ کے لگ بھگ ہو گئیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد 2003 میں 13 لاکھ 62 ہزار روپے جمع کروانے کے بعد 26 لاکھ میں گھر پڑا ۔ 

لہذا سویلیئن کی یہ سوچ کے فوجی آفیسروں کو عسکری ہاوسنگ سوسائیٹی میں مُفت کے گھر ملتے ہیں یکسر غلط ہے ۔

 ڈی ایچ اے 2 میں اپنے ایک دوست سے 2000 میں ساڑھے تین لاکھ کے تین پلاٹس کی فائل خریدیں جو 9/11 کے بعد اگلے ہی مہینے میں تین لاکھ 40 ہزار پر تینوں بیچ دیئے کیوں کہ بزنس وغیرہ ختم کرکے بارڈر پر ۔-جانے کی افواہیں ہندوستان کی فوجوں کی حرکت نے گرم کردیں تھیں.

  میں جب میں1993 میں  سیاچین پر تھا تو مورگاہ 2 یعنی (ڈی ایچ اے 2) کے پلاٹس کے لئے فوجی افیسران ایپلائی کر رہے تھے ۔ اِن میں وہ بھی شامل تھے ، جنہوں نے کراچی ، لاہور اور اب راولپنڈی ڈیفنس ہاوسنگ سکیم کی بیلٹنگ میں پیسے ڈالے ۔

 فوجی دماغوں نے ،بیلٹنگ کا نظام ختم کرکے ،25 سال کی سروس مکمل کرنے پر ، ایک آفیسر کو پورے ملک میں ڈی ایچ اے کا صرف ایک پلاٹ ، الاٹ کرنا شروع کر دیا ۔ وہ جنہیں ریٹائر ہوئے دو سال ہو گئے تھے اُنہیں بھی پلاٹ الاٹمنٹ کے لیٹر مل گئے   اور  29 سال سروس مکمل کرنے والے ایک کمرشل پلاٹ کے حقدار ٹہرے ۔

 زمانہ قبل از ضیاء الحق ، ایک آرمی آفیسر اور سول سروس کے آفیسر کی تنخواہ برابر ہوتی تھی ۔ آرمی آفیسر کو یونیفارم الاؤنس کی اضافی رقم ملتی تھی ۔

 مجھے نہیں معلوم کہ آرمی آفیسرز کو کاشت کاری پر لیز پر دینے والے ڈپٹی کمشنرز نے اپنے لئے کاشتکاری کی کتنی زمین مختص  کی ۔

لیکن ایک بات تو یقینی ہے کہ سول سروسز کے افسران نے اپنے یا اپنے عملے کے لئے کوئی ایسا پلان نہیں بنایا ۔جس سے اُن کے ریٹائر ہونے والے ماتحت یعنی گریڈ 1 تا 16 کے ملازمین کو رہائش کے لئے گھر ملتے ۔

 زیادہ تر ملازمین کی یہی خواہش تھی کہ اُن کے بچے سرکاری ملازم ہو جائیں ۔تاکہ وہ اپنی باقی عمر اُسی مکان ، میں گذاریں ۔ لال کوارٹرز کا علاقہ ایسے خواہشمند ریٹائرڈ ملازمین سے بھرا ہوا ہے  ۔

 تو ذکر ہورہا تھا فوج کی  مینیجمنٹ اور ویلفیئر پراجیکٹ پالیسویوں کا جو کئی لوگوں کو ملٹری انکارپوریٹ کی صورت میں شر انگیزمواد لکھنے میں  جھوٹا مواد و پروپیگنڈا   پھیلانے میں مدد دیتی ہیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

٭۔کیا فوجی آفیسران نے پاکستان لوٹا ؟

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔