Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 24 دسمبر، 2018

انڈوں سے چوزے نکالنا

مرغی  کے بغیر انڈوں سے مصنوعی حرارت کے ذریعے چوزے نکالنا سب سے آسان اور فائدہ مند  عمل ہے ۔ 
جب مرغی  انڈے  دینے کے بعد کُڑک ہو کر جب انڈے سینے (ہیچنگ ) کے لئے بیٹھتی ہے ، تو اُس کے جسم کا درجہ حرارت  99 سے 102 ڈگری فارن ہائیٹ ہوتا ہے ۔
مصنوعی گرمی سے جب اِن انڈوں کو ہیچ کیا جاتا ہے ، تو اِس کا آئیڈیل ٹمپریچر  99.5 ڈگری فارن ہائیٹ  یا  37.8 سنٹی گریڈ سمجھاجاتا ہے ۔ 
٭- ہیچنگ بکس کے اندر کا ٹمپریچر ۔ 99 سے 102 ڈگری فارن ھائیٹ کے درمیان رہے ۔
٭- بکس  میں ہوا اور  نمی کا تناسب   ہیچنگ بکس کے اندر  ٹمپریچر سے منسلک ہے ۔ اگر ہم ایک پیالی میں پانی ڈال کر  ہیچنگ بکس میں رکھ دیں تو اندر موجود گرمی ، پانی سے بھاپ بنائے گی جو بکس میں نمی پیدا کر دے گی ۔ لیکن اگر بکس میں آپ نے پانی کا پیالی نہ رکھی تو بکس کے اندر موجود ہوا میں موجودنمی ختم ہو جائے گی ۔ جس سے انڈے کے اندر بننے والے چوزے کی یقینی موت ہو سکتی ہے ۔
ماہرین کے مطابق، ٹمپریچر اور ہوا میں نمی کے تناسب      کے لئے ، یہ  چارٹ آپ کی راہنمائی کرے گا  ۔
ہیچنگ بکس میں آپ ہیٹر ، بلب ، لالٹین یا موم بتیوں سے  100 ڈگری فارن ہائیٹ تک ٹمپریچر رکھ سکتے ہیں ۔ 
(اگلے مضمون میں آپ کا نہایت سادہ ہیچنگ بکس بنانے کا طریقہ بتایا جائے گا ۔جس سے بچے تا میرے جیسے نوجوان ، انڈوں سے بچے نکالنے کے کھیل سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ انڈے اپنے گھر کے ہوں بازار کے نہیں )  ۔
آئیے دیکھتے ہیں ، کمرشل بنیادوں پر بنایا ہوا ،انڈیا کے ماہر کا ، لالٹین سے گرم ہونے والا ، ہیچنگ بکس !
1- لکڑی کی الماری 
2-جس کےسب سے نچلے خانے میں تین  لالٹین  اور پانی کی پیالی ، نمی پیدا کرنے کے لئے ۔
3 ۔ اوپر  کے خانوں میں انڈے ۔
4- ٹمپریچر معلوم  کرنے کا تھرما میٹر ۔
 5۔ سب سے اوپر کھڑکی ، تاکہ اندر کی ہوا کو باہر نکالا جاسکے ۔ 
6- انڈے کے اندر کے  روشنی کی شعاع سے  جانچنے کا بکس ، جس میں اندر موم بتی اور ایک انڈے کے سائز کا سوراخ ۔
7- پہلے دن  ہیچنگ بکس میں رکھنے سے پہلے  انڈے   کا عکس ۔
8-ہیچنگ بکس میں رکھنے کے بعد ،  آٹھویں دن ، انڈے کی حالت ۔
٭۔8a.بانجھ انڈا۔
٭۔8b.خراب ہوجانے والا انڈا۔
٭۔8c.انڈے میں چوزے (ایمبریئو)کی ابتدا ء۔ 
9۔ اٹھارویں دن ، انڈوں کو زیادہ نم کرنے کے لئے پانی میں نچوڑے ہوئے نرم کپڑے کو ہلکے ہاتھوں سے پھیرنا۔
10۔انیسویں دن ، چوزے کی ٹھونگ سے انڈے میں کھڑکی کا نمودار ہونا ۔
11۔20 تا  23 دن میں چوزوں کی چیاؤں چیاؤں !
  چوزوں  اور بطخ کے بچّوں کو دانہ کھلانا نہایت آسان ہے ۔بنسبت  باقی پرندوں کے ، کیوں کہ اُن کی مائیں  دانہ کھا کر اپنے معدے میں نرم کرتی ہیں اور پھر بچوں کے منہ میں ڈالتی ہیں ۔
نوٹ: اِس وقت چم چم ، لڈو کے محلّے کے تمام بچے شدّت سے چوزوں کی چیاؤں چیاؤں سننے کے لئے بے تاب ہیں ۔ اُنہیں دن میں ایک وقت انکیوبیٹر میں پڑے انڈوں کو دیکھنے کی اجازت ہے ۔ہر بچے نے دو دو ، چوزے لینے پر اپنا حق جتا دیا ہے ۔
وہ بوڑھے کو بتاتے ہیں ، کہ ، 
"انکل اتنے دن ہوگئے ہیں اوراتنے دن رہتے ہیں ۔"
دوستو ! کیا  آپ کو معلوم ہے ، کہ کتنے دن رہ گئے ہیں ؟ 
نہیں  ! تو پڑھیں  ۔اگلا مضمون۔

تو نوجوان دوستو ، یہ مضامین ہیں پڑھیں اور انجوائے کریں اور ہاں اگر غیر محسوس طریقے سے  اِس ایڈونچر میں شامل ہو جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔