Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 2 دسمبر، 2020

إِلْحَادٍ صرف اللہ کا حق ہے

اللہ کا حتمی اورناقابلِ تبدیل حکم ،کہ إِلْحَادٍ اُس کے سواء کوئی نہیں کر سکتا۔

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِي جَعَلْنَاهُ لِلنَّاسِ سَوَاءً الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ ۚ وَمَن يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ  (22:25) 

صرف وہ لوگ جو کفرکرتے ہیں - اور   سَبِيلِ اللَّـهِ اورالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ   میں رُکاوٹ بنتے رہتے  ہیں ۔ اُس  (اللَّـهِ)نے انسانوں کے لئے اُس   (سَبِيلِ اللَّـهِ اورالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ) میںالْعَاكِفُ  اور الْبَادِ قرار دیاہے ۔ اور جو اِس  (آیت ) میں   إِلْحَادٍ کے ساتھ ،ظلم کے ساتھ  کی خواہش رکھتا ہے، ہم اُسےعَذَابٍ أَلِيمٍ میں  ذائقہ دیں گے۔

إِلْحَادٍ الکتاب کی آیات میں تبدیلی ،صرف اللہ کا حق ہے ۔جو اب ممکن نہیں؛ کتاب اللہ (کائینات) میں اللہ اپنی آیات کو بہترین بنا رہاہے ۔

 وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا  (18:25)

اور وہ ( أَصْحَابَ الْكَهْفِ ) اپنےكَهْف میں تین سو برس ٹھہرے رہے اور نو اور بڑھا دیئے گئے -

 قُلِ اللَّـهُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا ۖ لَهُ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ أَبْصِرْ بِهِ وَأَسْمِعْ ۚ مَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا  (18:26)

کہہ : اﷲ جانتا ہے کہ وہ کتنا ٹہرے اُس کے لئے ، غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ  ہے ۔وہ اِس (غیب) کے ساتھ باصر اور سامع ہوتا ہے ۔ اُس کے لئے کوئی دوسرا  وَلِيٍّ نہیں اور نہ کوئی شرک کرنے والا ہو سکتا ہے اُس کے کسی ایک بھی حکم میں۔

 وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَ ۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِ مُلْتَحَدًا (18:27)

 اور اُن کے لئے تلاوت کر ( یہ حکمِ قطعی ) جو تیرے ربّ کی طرف سے کتاب (قرآن نہیں) میں وحی کیا گیا ہے ۔اُس کے کلمات کا کوئی (انسانی کلمہ ) بدل ہو نہیں سکتا ۔اور تو ہرگز اُس کے علاوہ کوئی لحد ( إِلْحَادٍ -الفاظ تبدیل کرنے والا) نہیں پا سکتا ۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 مشرکوں نے کیسے إِلْحَادٍ کرتے ہوئے اللہ کی کلمات تبدیل کرنے کے بعد أَصْحَابَ الْكَهْفِ پر کتابوں کی کتابیں لکھ ماریں ؟

 لحد ٍ - ( اللہ کے الفاظ لحد میں ڈال کر اپنے الفاظ نشر کرنے والا ) - بإلحاد [22:25] - ملتحدا [18:27] - يُلْحِدُونَ [41:40]  

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 اور اللہ کا یہ حتمی حکم :

 وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِيلاً [17:85

وہ ( ملحد و مشرک ) تجھ (محمد ) سے الرُّوحِ  میں سوال کرتے ہیں ! کہہ الرُّوحِمیرے ربّ کی طرف سے امر ہے ۔ اور (محمد) تجھے جوالْعِلْمِ میں سے عطا کیا جاچکا ہے (وحی کے ذریعے ) قلیل ہے ۔

 ملحدوں نے کئی سو صفحات کی کتابیں " روح کیا ہے ؟ " پر لکھی ہیں ۔

روح اور الروح کے بارے میں، انسانوں  کے لئے ،  تفصیلاً العلم صرف الکتاب میں ہے ۔

٭٭٭٭٭

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔