Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 17 دسمبر، 2020

اصول پرست کامیاب - بے اصول ناکام


اللہ کے کلمہ کُن سے کتاب اللہ (کائینات) میں تخلیق ہو کر بننے والی ایک آیت ، جس کی  تصریف  نہ معلوم کتنی ہوں گی ، شائد ارب یا اِس سے بھی زیادہ ۔ 
لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ تصویر میں نظر آنے والی یہ مزدور  چیونٹیاں ہو بہو ایک دوسرے کی اصل ہیں ؟۔اِسی طرح اِن کے خاندان  میں ملکہ ، بادشاہ ، شہزادے ، شہزادیاں ، خادمائیں ،  حاکم ، اور محافظ و لڑاکا  سپاہی سات صفات  کی چیونٹیوں پر مشتمل گرو ہ ہیں ۔

یہ بالکل اپنے فرائض ایسے انجام دیتے ہیں جیسا کہ اِن کے خالق ، اللہ نے اِنہیں علم دیا ۔ یہ اَن پڑھ نہیں ۔اِن کی جبلّت اِن کو ارد گرد کے حالات کے مطابق اِنہیں ، اِن کے حواس کے مطابق  علم سے روشناس کرتی ہے ۔اِن میں بھی وہی خمسہ حواس ہیں جو انسانوں میں پائے جاتے ہیں ۔ 

اب میں وہ بات بتانا چاھتا ہوں جو اِس پوسٹ کے بھیجنے والے نے لکھی ہے ۔

A drop of water on a tree leaf gathered by 12 ants to drink
 ... the unusual thing in the picture is that the ants have divided themselves into four groups.  This is to maintain the balance of the water drop from tilting and then falling to the ground.
 It is the knowledge of ants to cooperate and divide the share of water equally among them and give everyone his right!
  

  یقیناً ، درخت کے پتے پر گرنے یا محقق کی طرف سے ڈالے جانے والے اِس قطرے کے بارے میں اطلاع، مزدور چیونٹی نے سونگھ کر اپنی آواز میں نشر کی ہو گی اور اُنہیں مکمل معلومات دی ہوں گی ۔ جس کی بنیاد پر 11 اور چیونٹیاں پودے یا درخت کا تنا چڑھ کر خطیب کے پاس پہنچی ہوں گی ، نہ صرف خطیب بلکہ باقی 11 چیونٹیوں نے، اپنے اِن بلٹ اصولِ  تدبّر (فکر ، عقل اور ذکر )     کو  اپنایا اور کسی ایک نے بھی اصولِ توازن  کے  میزان میں خسارا نہیں ڈالا ۔

کیا آپ کو یاد ہے ، کہ چیونٹیوں نے اپنے ننھے سے دماغ میں موجود اللہ کی اِس پر طوعاً عمل کیا ۔ 

[55:9] وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ

 

٭٭٭٭٭٭

اب میں آتا ہوں ایک اور  پوسٹ پر جو ، وٹس ایپ پر گردش کر رہی ہے ۔آپ بھی پڑھیئے 

 اُس نے کرسچن ہیگن کی ایجاد کردہ گھڑی کو دیکھا ۔ نماز کا وقت قریب تھا   وہ اٹھا اور ایڈی بوئر کی ایجاد کردہ جیکٹ پہنی ، ڈیملر اور میبچ کا ایجاد کردہ موٹر سائیکل نکالا اور مسجد کی جانب روانہ ہو گیا ۔ 

وہاں پہنچ کر ہالسے ٹیلر کے ایجاد کردہ واٹر کولر سے فلٹر شدہ صاف پانی پیا اور کلارکس والوں کے جوتے اتار کر وضو کرنے لگا ۔ بینجامن موغن کے ایجاد کردہ گیزر کی وجہ سے گرم پانی آ رہا تھا اور اسے کوئی مشکل پیش نہیں آ رہی تھی ۔ اس کے بعد وہ مسجد کے اندرونی گیٹ کی طرف گیا اور رابرٹ ہاومن کا ایجاد کردہ شیشے کا دروازہ کھولا ۔

 ایڈیسن کا ایجاد کردہ بلب آن کیا ۔ بینجامن فریکلن کی ایجاد کردہ بجلی کی مدد سے بلب روشن ہو گیا اور مسجد میں ایسے روشنی ہو گئی جیسے سورج کی وجہ سے باہر تھی ۔ مسجد میں جا بجا فلپ ڈائل کے ایجاد کردہ پنکھے لگے تھے مگر سردی کی وجہ سے انھیں آن نہیں کیا گیا ۔ سامنے ولس کیریر کا ایجاد کردہ اے سی بھی لگا ہوا تھا مگر اس نے چارلس بیکر کا ایجاد کردہ ہیٹر آن کیا اور جیمز ویسٹ کے ایجاد کردہ مائیکروفون پہ اذان دینے لگا ۔ ایڈورڈ کیلگ اور چیسٹر رائس کے ایجاد کردہ لاوڈ سپیکر کی وجہ سے آواز دور دور تک سب مسلمانوں تک پہنچ رہی تھی۔ اس نے میڈ اِن چائنہ جائے نماز پہ نماز پڑھی اور دعا کےلیے ہاتھ اٹھائے:۔

"یا اللہ کافروں کو نیست و نابود کر اور مسلمانوں کو ان پہ غلبہ عطا فرما  "

مہاجرزادہ نے کمنٹ لکھا :۔

مگر اللہ نے تو یہ اصول بنا دیا ہے :۔

وَلاَ تَهِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ [3:139]

اب اِن کو کیسے سمجھایا جائے؟ کہ کا مطلب وہ نہیں جو مُلّا نے برصغیر کے نوجوانوں یا قبر میں پیر لٹکائے گرگ ظالموں کے ذہنوں میں ٹھونس دیا ہے ۔   

 ٭٭٭٭٭٭

 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔