جن میں سے 95 فیصد تحت الشعور میں رہتی ہیں اور پانچ فیصد شعور کا چکر لگا کرواپس تحت الشعور میں سکونت اختیار کر لیتی ہیں ۔یوں دنیا میں آتے ہی انسانی بچے کے دماغ کا سفراُس کے بیرونی دنیا سے رابطہ استوار ہوتے ہی ،وہ اپنے زیرو پوائینٹ سے آگے بڑھنے لگتا ہے ۔
اُس کے دماغ میں جمع ہونے والی معلومات جو ضروری ہیں وہ یاد رکھتا ہے۔ اور جو غیر ضروری ہیں وہ بھول جاتا ہے۔ لیکن وہ اُس کے دماغ میں رہتی ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ دماغ میں آنکھوں سے داخل ہونے والی معلومات فلم کی صورت میں تقریباً 30لاکھ گھنٹوں کی وڈیو ریکارڈنگ جگہ میں محفوظ ہو تی ہیں ۔جوباقی چار حواس خمسہ سے لنک ہوتی ہیں ۔
یقیناً ہمارے دماغ میں بھی ، اتنے ہی وڈیو ڈیٹا کی سہولت موجود ہے ، جس کی ریکارڈنگ ہمارے دماغ کے تحت الشعور (ڈیٹا سٹوریج) میں موجود ہو گی ۔ ہم بھی اُنہیں شعور میں لاکر اپنے ماضی بعید میں جھانک کر شعور (یاداشت) میں لا سکتے ہیں لیکن یہ سہولت صرف سوچنے والوں کومیسر ہوتی ہے۔ اگر ہم روزانہ تقریباً 70 ہزار سوچوں کو پرانی سوچوں سے لنک کرنے کا ہنرجانتے ہوں۔
اِس کے لئے کتابوں ، ماضی کے دوستوں ، پرانی جگہوں ، مختلف شہروں کے سفر سے رشتہ استوار کرنا پڑے گا تو ماضی کی یاداشتوں کے لنک ، سائیکلک تھنکینگ سے دوبارہ تازہ ہونا شروع ہوجائیں گے ، کیوں کہ شعور (یاداشت) اور تحت الشعور (دماغ کے گم شدہ خانوں سے) رابطے کا یہی واحد ذریعہ ہے ، کہ آپ کی ذھانت کے پیمانے میں اضافہ کرنے کا۔
ذہانت دراصل وہ عام ذہنی صلاحیت (تخیل) ہے جس میں سیکھنے، استدلال کرنے، مسائل حل کرنے، پیچیدہ خیالات کو سمجھنے، منصوبہ بندی کرنے اور تجربے سے حاصل شدہ علم کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت شامل ہوتی ہے، یہ صرف کتابی علم نہیں بلکہ ماحول کو سمجھنے اور اس سے مطابقت پیدا کرنے کی وسیع تر قابلیت ہے جس میں ادراک، فہم، منطق اور تخلیق جیسی خصوصیات شامل ہیں۔
تو کیا ، آپ اپنی ذھانت میں بننے والے تخیل کو مصنوعی ذھانت میں ڈھال سکتے ہیں؟
تخیل
دماغ کی وہ قوت ہے جس کے ذریعے انسان ایسی چیزوں، خیالات اور مناظر کو
ذہنی طور پر اپنے شعور میں تخلیق کرتا ہے جو اس وقت سامنے موجود نہیں ہوتیں۔ یہ ماضی کے
تجربات کو نئے انداز سے جوڑنا، مستقبل کے منصوبے بنانا، یا مکمل طور پر نئی
دنیاؤں اور تصورات کو ذہن میں لانا ہے، اور یہ تخلیقی کاموں (جیسے شاعری،
مصوری،یا تکنیکی صلاحیت) اور مسائل کے حل کے لیے تخیل ایک بنیادی صلاحیت ہے۔
ہمارے سامنے ، انسانی تخیل سے تخلیق کردہ ہمارے چاروں طرف بکھری ہوئی ہیں ۔ جو انسانی غذا ، لباس ، سامان تعیشات، اشیائے ضرورت ۔ تعمیرات ، مختلف اقسام کی مشینریاں ۔ہوا ۔ پانی ۔ بھاپ اور بجلی کی مددسے چلنے والی اشیاء ۔یہ تمام کام میکینیکل یا الیکٹریکل نظام کی بدولت ہے۔
انسانی ذھانت کے طرزِ عمل سے ملتا جلتا ایسا تخلیقی نظام جو خودکار نظام کے ذریعے ۔ تمام معلومات کو استدلال اور ادراک کی بنیاد پر مشینوں میں منتقل کرے۔یہ کمپیوٹر سائنس کی اُس شاخ کے ذریعے ممکن ہے جسے ہم مصنوعی ذھانت کہتے ہیں ۔یہ مشینوں کو انسانوں کی طرح سوچنے ، سیکھنے اور فیصلے کرنے کے قابل بناتی ہے ، اِس کا مقصد ایسے ذہین نظام بنانا ہے جو منطق اور استدلال کر سکیں، ماضی کے تجربات سے سیکھ سکیں اور اپنے ماحول کے مطابق خود مختارانہ طور پر کام کر سکیں، جس میں مشین لرننگ ایک اہم ذیلی شعبہ ہو
ارے ہاں یہ بات تو میں پوچھنا بھول گیا ۔کیا کمپیوٹر پروگرام کی مصنوعی ذھانت کوتبدیل کیا جاسکتا ہے ؟
ضرور کی جاسکتی ہے ۔جس کے لئے آپ کے اِن پٹ ڈیوائس کے ذریعے ایک چھوٹی سی کمانڈ ڈالی جاتی ہے جِس سے آپ کی مصنوعی ذھانت کا تبدیل ہو کرمکمل نہ سہی عارضی طور پربیڑا غرق ہو جاتا ہے ۔اور آپ کی مشین آپ کی دوستی بھول کر آپ کے خلاف ہو جاتی ہے ۔یا پھر آپ کا اہم کمپیوٹر ڈیٹا ، کہیں اور چلاجاتا ہے ۔ جس سے بچنے کے لئے آپ ایک حفاظتی جال بناتے ہیں ۔بالکل ایسے جیسے قدرت نے زمین کو بیرونی حملوں سے بچانے کے لئے اوزون گیس کا جال زمین کے چاروں طرف سیکیورٹی کے لئے پھیلایا ہوا ہے ۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ کسی دوسرے کے مقفل گھر میں داخل ہو کر اُس کی کوئی چیز اٹھا لینا یا توڑ دینا جرم کہلاتا ہے ؟
بالکل اِسی طرح کسی دوسرے کے کمپیوٹر سے بغیر اُس کی اجازت سے اُس کے کمپیوڑ پروگرام یا اہم ڈیٹا کاپی کرنا یا اُس کو خراب کرنا جرم ہے ۔اب چونکہ پوری دنیا انٹر نیٹ سے جڑ کر گلوبل گاؤں بن چکی ہے ، حکومتیں ، مالیاتی کمپنیاں اور بزنس اداروں کا قیمتی ڈیٹا محفوظ رکھا جاتا ہے جس کے لئے سائبر سیکیورٹی کا نظام وضع کیا گیا ہے ۔ لیکن اُس ڈیٹا کو چرانے والے بھی گھات لگانے کے اتنے ہی ماہر ہیں جتنے اُن کو محفوظ بنانے والے ، لیکن جیتتا وہی ہے ، جو چوکنا رہے ۔
٭٭٭آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) ٭٭٭
٭






کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں