Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 31 دسمبر، 2025

الگورتم Algorithm کا تعارف

  بنیادی طور پر ہدایات یا قواعد کا  مجموعہ   الگورتھم  کہلاتا  ہے، جسے ایک خاص مسئلہ کو حل کرنے کے لیے مرحلہ وار ترتیب میں لکھا جاتا ہے۔ یہ ہدایات یا قواعد کمپیوٹر یا کسی مشین کو بتاتی ہیں کہ ایک مسئلے کو کیسے حل کیا جائے یا کسی کام کو کیسے انجام دیا جائے۔

جب آئی بی ایم نے سسٹم کمپیوٹر بنائے۔ الگورتھم کی ابتدا تو کمپیوٹر کی ایجاد کے ساتھ  ڈاس کمانڈ کے ہمراہ  ہوگئی۔ سرچ ۔فائینڈ ۔کمپئیر  اور سالو وکی کمانڈ اگر آپ کو یاد ہوں تو یہ ڈیسک ٹاپ میں موجود ہوتیں اور آپ اپنی فلاپی ڈسک میں  استعمال کرتے۔ جب انٹر نیٹ کا زمانہ شروع ہوا تو ویب سائیٹ  کی کمانڈ ونڈو میں ، کسی بھی ویب سائیٹ کا لنک ڈھونڈنا بہت مشکل ہوتا ۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے اپنی ویب سائیٹ بنائی تو اُس کے انڈیکس پیج کے بعد سوشل ویب پیج بنایا اور اُس میں آئی کون کے ساتھ  ویب پیج کے مختصر نام لکھ کر 2001 میں اپنے لئے  آسانی پیدا کر دی ۔ پھر اپنے مضامین لکھ کر انٹر نیٹ پر ڈالنے شروع کر دیئے ۔یوں میرا کمپیوٹر  تو کیا ہر پرسنل کمپیوٹر سے   ڈیٹا انٹر نیٹ پر پھیلنا شروع ہو گیا اور وکی پیڈیا نے الگورتھم بنانا شروع کردیا ۔جس کی بنیادی اہمیت سرچ اور فائینڈ کی بدولت  الگورتھم کی مدد سےآپ کی سکرین   پر نظر آنے لگی ۔

اور  اب یہ  الگورتھم مصنوعی ذہانت  (اے آئی ) میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ مشینیں انہی الگورتھمز کی مدد سے ڈیٹا کو پروسیس کرتی ہیں اور فیصلے کرتی ہیں۔جیسے ہمیں بڑھاپے میں سی ایم ایچ سے پہلے جو دوائیاںملتی تھیں تو میری بیوی اپنے موبائیل کو دوائیو ں کے نام سنا کر، اُن کے اجزاء  اور اُس سے ٹھیک ہونے والی بیماری کا سن کر استعمال کرتی اور میں  بھئی جو میڈیکل سپیشلسٹ نے دوا دے دی وہ چپ کرکے کھا لو ، مسئلہ جب پیدا ہوا جب جو دوائیاں پہلے ملتی تھیں اب ان کے متماثل دوائیاں ملنا شروع ہوگئیں۔ تو میں  بھی پریشان ہوگیا ۔ بیوی سے پوچھتا تو وہ موبائل سے زبانی پوچھ کر مجھے سنواتی کہ یہ بلڈ پریشر کی ہے ، یہ کولیسٹرول ختم کرنے کی ، یہ خون پتلا کرنے کی ، یہ جسم کے درد کی ، یہ سکون کے لئے ہے اور یہ دوائیاں کھانے سے پیٹ میں پڑنے والے زخم کو ٹھیک کرنے کے لئے ۔ آہ بوڑھا  پہلے تو حیران ہوا  پھر  پریشان ہوا۔یہ مکمل سیٹ ہے جو بوڑھا پچھلے 15 سال سے روانہ بلا ترّد پورا کر رہا ہے تو پیارے بچو اپنے دادا بابا اور نانا بابا کا خیال اپنی دادی ماں اور نانی ماں کے ساتھ رکھو۔

 الگورتھم کی وضاحت:۔
  ایک الگورتھم کو عام طور پر ایک سیٹ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
  ان پٹ  : وہ ڈیٹا یا معلومات جو آپ الگورتھم کو دیتے ہیں۔
  پروسیسنگ  : وہ حساب کتاب یا فیصلے جو الگورتھم ان پٹ پر عمل کر کے کرتا ہے۔ 

آؤٹ پٹ  : وہ نتیجہ جو پروسیسنگ کے بعد حاصل ہوتا ہے۔
 مثال: فرض کریں آپ ایک ریاضی کے مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں، جیسے کہ دو نمبروں کا مجموعہ معلوم کرنا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ہم ایک سادہ الگورتھم بنا سکتے ہیں:۔
 ان پٹ: دو نمبر (مثال کے طور پر: 5 اور 3)  


  پروسیسنگ: دونوں نمبروں کو آپس میں جمع کریں (5 + 3) 
 آؤٹ پٹ: نتیجہ (  یہ ایک سادہ الگورتھم ہے جو دو نمبروں کو جمع کر کے نتیجہ دیتا ہے۔

 مصنوعی ذہانت میں الگورتھمز کی اہمیت

 اے آئی میں، الگورتھمز بنیادی طور پر مشینوں کو "سکھاتے" ہیں کہ وہ کیسے سیکھیں، کیسے ڈیٹا کو سمجھیں، اور کیسے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کریں۔ الگورتھمز کا استعمال مختلف مسائل کو حل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، جیسے کہ:۔

  ٭-پہچان  : تصویریں یا آواز پہچاننے کے الگورتھمز 
٭۔پیش گوئی  : کسی خاص ڈیٹا کی بنیاد پر مستقبل کی پیش گوئی کرنا، جیسے کہ موسم کا حال بتانا۔   

٭۔ فیصلہ سازی  :خودکار سسٹمز کو فیصلے کرنے میں مدد دینا، جیسے خودکار گاڑیاں چلانے کے لیے راستہ منتخب کرنا۔ 
مشہور الگورتھم کی مثالیں: ۔

 لینیئر ریگریشن : یہ الگورتھم ڈیٹا پوائنٹس کے درمیان نسبت کو سمجھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور مستقبل کے نتائج کی پیش گوئی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کی کمپنی کے سیلز کا ڈیٹا ہے اور آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اگلے مہینے کتنی سیلز ہوں گی، تو آپ لینیئر ریگریشن الگورتھم کا استعمال کر سکتے ہیں۔

٭۔نیریسٹ نیبر(کے این این) : یہ الگورتھم ایک خاص ڈیٹا پوائنٹ کی درجہ بندی کرتا

ہے۔ یعنی یہ نئے ڈیٹا پوائنٹس کو پرانے ڈیٹا کے قریب ترین "پڑوسیوں" کے حساب سے گروپس میں تقسیم کرتا ہے۔ مثلاً، اگر آپ کے پاس مختلف اقسام کے پھلوں کی معلومات ہے اور آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایک نیا پھل کس قسم کا ہے، تو یہ الگورتھم اس کے قریبی پھلوں کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا۔  
٭۔  ڈیسیژن ٹری (فیصلہ ساز درخت)  : یہ الگورتھم ایک درخت نما ڈھانچے کی صورت میں فیصلے

کرتا ہے، جہاں ہر نوڈ ایک سوال یا فیصلہ ہوتا ہے اور ہر شاخ ایک ممکنہ جواب یا نتیجہ۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کو کسی صارف کو قرض دینا ہے، تو آپ مختلف سوالات (جیسے آمدنی، عمر، کریڈٹ ہسٹری) کی بنیاد پر فیصلہ کر سکتے ہیں۔

٭۔نیورل نیٹ ورک  : یہ الگورتھم دماغ کی طرح کام کرتا ہے اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ تصویری پہچان، آواز کی شناخت، اور قدرتی زبان کی پروسیسنگ جیسے کاموں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔

یوں سمجھیں کہ  الگورتھم دراصل وہ "ریسیپی" یا "ترکیب" ہے جسے کمپیوٹر یا مشین ایک خاص کام انجام دینے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ مصنوعی ذہانت میں الگورتھمز کا استعمال بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ ڈیٹا کے ساتھ کام کرنے اور درست نتائج فراہم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
 
٭٭٭٭٭٭٭٭ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔