Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 6 جنوری، 2026

قائدِاعظم اور ایک سنتری


قانون، وقار اور اعتماد کی ایک لازوال مثال

یہ منفرد اور تاریخی تصویر 1948ء کے ایک ایسے واقعے کی یادگار ہے جو قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کے قانون کی بالادستی، عسکری نظم و ضبط اور اخلاقی عظمت کو بے مثال انداز میں اجاگر کرتا ہے۔
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب شہر میں کرفیو نافذ تھا۔ قائدِاعظم کا قافلہ ایک لنک روڈ کے ذریعے سفر کر رہا تھا جو کینٹونمنٹ کے علاقے سے گزرتی تھی۔ یہ راستہ عام طور پر قائدِاعظم استعمال نہیں کیا کرتے تھے، مگر کرفیو کی وجہ سے اسی سڑک سے گزرنا ضروری ہو گیا۔
راستے میں ایک پاک فوج کے سنتری نے قافلے کو روک لیا اور بیرئیر کھولنے سے انکار کر دیا۔ سنتری کو علم تھا کہ گاڑی میں خود بانیٔ پاکستان موجود ہیں، مگر قائد سے بے پناہ محبت اور احترام کے باوجود اس نے ڈیوٹی اور قانون کو فوقیت دی۔
سنتری نے قائدِاعظم کو سلیوٹ کیا اور نہایت ادب سے سوال کیا:۔
  "سر! کیا آپ کے پاس کرفیو کے دوران سفر کی اجازت ہے؟"
یہ سوال سن کر قائدِاعظم لمحہ بھر کے لیے حیران ہوئے، پھر ایک شفیق باپ کی طرح مسکراتے ہوئے فرمایا:۔
 "نہیں بیٹے، میرے پاس اجازت نہیں ہے۔"
یہ جواب سنتے ہی سنتری نے خوش دلی سے قائدِاعظم کو ایک معاہدہ  پیش کیا کہ اگر وہ ان کی یونٹ کا دورہ کرنے پر آمادہ ہو جائیں تو انہیں راستہ دے دیا جائے گا۔
قائدِاعظم نے اس پیشکش کو فوراً قبول کر لیا۔
وہ یونٹ 5 ہیوی اینٹی ایئر کرافٹ رجمنٹ تھی، جو آج 5 لائٹ   (سام) رجمنٹ کے نام سے جانی جاتی ہے۔
فوجی قیادت کی آمد اور قائد کا اصولی فیصلہ

کینٹونمنٹ میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ اعلیٰ فوجی افسران فوراً 5 ہیوی اے ڈی رجمنٹ پہنچے تاکہ قائدِاعظم کو اس "صورتِ حال" سے نکالا جا سکے۔
جب پریشان حال بریگیڈیئر کمانڈر (بریگیڈیئر اکبر) وہاں پہنچے تو انہوں نے مؤدبانہ درخواست کی کہ قائدِاعظم اپنا سفر جاری رکھیں۔
قائدِاعظم نے مسکراتے ہوئے سنتری کی طرف دیکھا اور فرمایا:۔
 "نہیں، ہمارا معاہدہ ہو چکا ہے۔"
یہ الفاظ دراصل اس بات کا اعلان تھے کہ:۔
 پاکستان میں کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں—حتیٰ کہ بانیٔ پاکستان بھی نہیں۔
تاریخی دورہ: ۔ یوں 21 فروری 1948ء کو قائدِاعظم نے 5 ہیوی اینٹی ایئر کرافٹ رجمنٹ کا دورہ کیا۔ اسی موقع پر وہ تاریخی تصویر لی گئی جس میں:۔
دائیں جانب بریگیڈیئر اکبر کھڑے ہیں۔محترمہ فاطمہ جناحؒ بھی موجود ہیں۔رجمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر قائدِاعظم کو اینٹی ایئر کرافٹ گن کے بارے میں بریفنگ دے رہے ہیں۔یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا فوجی یونٹ تھا جسے قائدِاعظم نے باضابطہ طور پر وزٹ کیا۔

ایک منفرد اعزاز اسی منفرد اعزاز کی بنا پر 5 لائٹ SAM رجمنٹ پاکستان آرمی کی وہ واحد یونٹ ہےجس کا ریویو سلام فنگ (Salaam Fung) پوزیشن میں لیا جاتا ہےنہ کہ بازو فنگ (Bazu Fung) میں، جیسا کہ آرمی، نیوی اور ایئر فورس کی دیگر تمام یونٹس میں ہوتا ہےیہ روایت آج بھی اس یونٹ کے لیے قائدِاعظم کی یاد اور اعتماد کی علامت ہے۔


---

ایک زندہ گواہ

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ:

وہ نوجوان کیپٹن (جو بعد میں کرنل بنے)

جنہوں نے ملیر بیس پر قائدِاعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا

اور پریڈ کی قیادت کی

وہ آج بھی حیات ہیں، تقریباً سو برس کی عمر میں، مکمل ہوش و حواس، پورے دانت اور سر پر بالوں کے ساتھ—گویا تاریخ خود سانس لے رہی ہو۔


(بشکریہ: لیفٹیننٹ کرنل (ر) عبدالباسط)

قائد اور فوج: محبت اور اعتماد کا رشتہ

یہ واقعہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ قائدِاعظم ۔پاکستان کے کمانڈر ان چیف تھے۔مگر خود کو ایک قانون پسند شہری سمجھتے تھےاور پاک فوج:۔
نظم و ضبط
آئین کی پاسداری
اور فرض شناسی
کی عملی مثال تھی۔
یہ رشتہ خوف کا نہیں، اعتماد کا تھا
یہ اطاعت اندھی نہیں، اصولی تھی
اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک مضبوط ریاست کھڑی ہوتی ہے۔

---

اختتامی کلمات

یہ محض ایک تصویر نہیں،
یہ ایک نظریہ ہے
یہ ایک ریاستی اصول ہے
اور یہ ایک سبق ہے:

> قانون اگر سنتری کے ہاتھ میں بھی ہو
اور سربراہِ مملکت بھی اس کے سامنے سر جھکا دے
تو وہ قوم کبھی تباہ نہیں ہوتی

یہی قائدِاعظم کا پاکستان تھا—
اور یہی وہ پاکستان ہے جس کی ہمیں آج بھی ضرورت ہے۔٭٭٭٭٭٭٭

سائبر وار فیئر اور موبائل ہولڈر ۔

اُفق کے پار بسنے والے پیارے دوستو !۔ 
کل مؤرخہ 6 جنوری  2026 دن  1100 بجے سگنل کالج میں  سائبر وار فیئر پر راولپنڈی کے سارے ریٹائرڈ آفیسرز کے لئے لیکچر ہوا ۔ جس کی بنیاد باتوں میں سب سے اہم باتیں: ۔
٭۔ آپ کے مائکرو فنانس بنک ،(یعنی ایزی پیشہ ، جاز کیش اور  یو پیسہ اکاونٹ )سے دھوکے کے ذریعے پیسہ ایسے نکلوانا کہ ایف آئی اے سائبر کرائم سیل کے ڈیجیٹل کھوجی بھی کُھرا ڈھونڈنے میں  بےبس ہوجائیں  یا کر دیئے جائیں ۔ پاکستان کے ایک دو نہیں ہزاروں  سے زیادہ واقعات  رپورٹ ہوئے ہیں ۔جن میں راقم بھی شامل ہے 
٭۔بنکوں سے  سمارٹ کارڈ (  ویزہ کارڈ  اور یونیئن پے کارڈ )سے    بھی   فراڈ ہوئے ہیں ۔کیوں کہ آپ کا پن کوڈ کسی دوسرے  کے علم میں آجائے ، یا آپ   خود دے دیں  اوروہ  جدید ٹیکنالوجی آپ کا  سمارٹ کارڈ کاپی کر لے ۔ 
٭-بنکوں سے آن لائن ٹرانزیکشن  کے ذریعے   آپ سے دھوکے سے پیسے منگوائے جائیں ۔ 

جیسے زیر دستخطی کو  لندن کے ایک دوست سے موبائل کال آئی ۔ کہ سر  بریگیڈئر ۔۔۔۔۔ کا موبائل فون چوری ہو گیا ہے  کوئی  میسج دے رہا ہے کہ  ۔ برادر مجھے 5 لاکھ روپوں کو سخت ضرورت ہے ۔میں آپ کو ہفتے تک لوٹا دوں گا۔ایسے میسج  ہر اُس  شخص کو آئے جن کا موبائل فون چوری ہوا   اور  اُس موبائل والے کے دوستوں   نے بھجوائے بھی لیکن یہ سب  غیرملکی مگر  پاکستانی یا پاکستان میں پڑھنے والے غیر ملکی تھے ۔جنھوں نے باقائدہ اپنے بنک اکاونٹ  نمبر بھی دیئے ۔
٭۔ آپ کو یقیناً ڈمب فون یا سمارٹ   فون پر  یہ میسج  ضرورآیا ہوگا  ۔ 
- یہ میسج    ضرور آیا ہو گا کہ ، مبارک ہو آپ کی جدید ماڈل کی کار، آپ کے موبائل نمبر کی سلیکشن کی وجہ سے انعام میں نکل آئی ۔ آپ جواباً اِس نمبر پر کال کریں ۔
۔ آپ کا   ایزی پیسہ کارڈ ۔ ویزہ کارڈ  بلاک ہو گیا ہے میں ۔ آپ کے بنک سے بول رہا ہوں ۔اگر آپ پریشانی  سے بچنا چاہتے ہیں  تو ہمارا  آپریشن مینیجر آپ کو  اپنے موبائل سے فون کرے گا ۔ اگر آپ تیار ہیں  تو   ایک د بایئے  ورنہ  دو ۔   آپ ایک دبائیں یا دو ، آپ کو موبائل فون سے کال آجائے گی ۔ 
یہ وہ فراڈ  ہیں جو رقوم کے فراڈ تھے!۔
لیکن سب سے گھناؤنا فراڈ ِ انہی فراڈ کے ذریعے اکٹھا  کیا گیاڈیٹا۔ یعنی  موبائل نمبروں سے کئے گئے ، فوجیوں کے آپس میں کئے گئے ایس ایم ایس ،  وڈیوز  ، وائس ریکارڈ یہ سب آپ کے انجانے میں دشمن بن کر دشمنوں کو معلومات  پہنچاتے ہیں ۔مشرقی بارڈر پر ایک سے پانچ کلومیٹر تک ڈمب فون سے سے  کی گئی گفتگو  انڈین  اپنے آلات سے سنتے ہیں ، جو نہایت ہی خطرناک ہے 
 لہذا احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ موبائل  کے استعمال  کو کم سے کم اور ضرورت کے وقت  کیا جائے ۔ 

اور اپنے بچوں بھی بتایا جائے کہ وہ موبائل پر فیملی فوٹو ایک دوسرے کو نہ بھجوائیں ۔اگر آپ  یہ سمجھتے ہیں 

کہ موبائل سے فوٹو ڈیلیٹ کرنے سے ڈیلیٹ ہو جاتی ہے ،ہر گز  نہیں  ، وہ موبائل سے آپ کے سامنے سے ہٹ جاتی ہے لیکن موبائل کمپنی اور وٹس ایپ کے سرور (ڈیٹا بنک) میں موجودرہتی  ہے ۔ 

سائبر سیکیورٹی   کلاس پر ہمارے بچوں  کے وائس میسج سنیں اور اپنے بچوں کو بھی سنائیں  ، تاکہ وہ ایک ذمہ دار شہری بن کر ملک کو بیرونی طاقتوں سے محفوظ رکھیں ۔ شکریہ 
٭٭٭٭٭٭

 

بدھ، 31 دسمبر، 2025

اساتذہ کے لیے بہترین AI ٹولز

  آج کے کلاس روم میں مصنوعی ذہانت کا درست اور ذمہ دارانہ استعمال تدریسی عمل کو مؤثر بنانے کا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے۔ یہ نہ صرف استاد کی تیاری کا وقت کم کرتا ہے بلکہ طلبہ کی سمجھ، مشق اور دلچسپی کو بھی بہتر بناتا ہے۔ بنیادی اصول یہی ہے کہ AI کو استاد کا متبادل نہیں بلکہ معاون سمجھا جائے، تاکہ تدریسی اختیار اور حتمی رہنمائی ہمیشہ استاد کے ہاتھ میں رہے۔ میجک اسکول اے آئی (MagicSchool AI) یہ ٹول خاص طور پر اساتذہ کی روزمرہ ضروریات کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ لیسن پلان، سرگرمیاں، ورک شیٹس، روبریک اور کلاس اسائنمنٹس چند لمحوں میں تیار کی جا سکتی ہیں۔ مفت ورژن میں محدود مگر عملی حد تک مفید سہولیات دستیاب ہیں، جن سے ایک استاد باقاعدہ تدریسی تیاری کر سکتا ہے۔ زیادہ گہرے اور ایڈوانس استعمال کے لیے پیڈ پلان موجود ہے، لیکن عام کلاس روم کے لیے فری ورژن کافی رہتا ہے۔ کینوا (Canva) یہ پلیٹ فارم ڈیزائننگ کو سادہ اور قابلِ رسائی بناتا ہے۔ مفت اکاؤنٹ میں AI کی مدد سے پریزنٹیشنز، کلاس پوسٹرز، اسائنمنٹ شیٹس اور بصری مواد تیار کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ پرو ورژن میں زیادہ ٹیمپلیٹس اور فیچرز شامل ہیں ۔
مگر فری ورژن بھی اساتذہ کے لیے عملی اور مؤثر ثابت ہوتا ہے، خاص طور پر ان کے لیے جو ڈیزائننگ کا پس منظر نہیں رکھتے۔ ڈفٹ (Diffit) یہ ٹول ایک ہی تعلیمی مواد کو مختلف مشکل سطحوں میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سلو لرنرز اور تیز سیکھنے والے طلبہ کے لیے الگ الگ سطح کا مواد تیار کرنا اس کی خاصیت ہے۔ مفت ورژن میں محدود مقدار میں مواد تیار کیا جا سکتا ہے، جو عام کلاس روم کے لیے مناسب ہوتا ہے، جبکہ زیادہ استعمال کے لیے پیڈ سہولت دستیاب ہے۔ برسک ٹیچنگ (Brisk Teaching) یہ ٹول تحریری کام پر فوری فیڈ بیک، گریڈنگ اسسٹ اور بہتری کے نکات فراہم کرتا ہے۔ مفت ورژن میں بنیادی فیڈ بیک اور تبصرے ممکن ہوتے ہیں، جو خاص طور پر بڑی کلاسز میں استاد کا بوجھ کم کرتے ہیں۔ مزید خودکار اور تفصیلی فیچرز پیڈ پلان میں شامل ہیں، مگر ابتدائی استعمال کے لیے فری ورژن فائدہ مند رہتا ہے۔ خانمیگو (Khanmigo) یہ خان اکیڈمی کی جانب سے تیار کردہ محفوظ AI ٹیوٹر ہے، جو طلبہ کی پریکٹس اور استاد کی معاونت میں استعمال ہو سکتا ہے۔ محدود فری رسائی میں بنیادی مدد دستیاب ہوتی ہے، جبکہ مکمل استعمال کے لیے پیڈ آپشن موجود ہے۔ تعلیمی اصول یہی ہونا چاہیے کہ اس ٹول کو نگرانی اور رہنمائی کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ نوٹ بک ایل ایم (NotebookLM) یہ ٹول تحقیق، خلاصہ سازی اور طویل تعلیمی مواد کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس میں اپلوڈ کی گئی فائلوں کی بنیاد پر خلاصے، سوال جواب اور اسٹڈی گائیڈ تیار کی جا سکتی ہے۔ مفت ورژن میں مناسب حد تک فائلز اور نوٹس کے ساتھ کام کیا جا سکتا ہے، جو اساتذہ اور طلبہ دونوں کے لیے مفید ہے۔ کو پائلٹ (Copilot) اور جیمنی (Gemini) یہ دونوں ٹولز آفس اور کلاس روم ورک فلو میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ مائیکروسافٹ ماحول میں کو پائلٹ ای میلز، رپورٹس اور پریزنٹیشن ڈرافٹس میں معاون بنتا ہے، جبکہ گوگل کے ماحول میں جیمنی تحقیق، خلاصہ سازی اور تدریسی مواد کی تیاری میں مدد دیتا ہے۔ دونوں میں محدود مگر عملی فری سہولیات موجود ہیں، جبکہ مکمل فیچرز کے لیے پیڈ ورژن دستیاب ہیں۔ کہوٹ (Kahoot) یہ پلیٹ فارم گیم بیسڈ لرننگ کے لیے استعمال ہوتا ہے اور AI فیچرز کے ذریعے سوالات اور کوئزز تیار کرنے میں مدد دیتا ہے۔ مفت ورژن میں بنیادی کوئزز بنائے جا سکتے ہیں، جو کلاس کے آخر میں فوری ریویژن اور طلبہ کی دلچسپی بڑھانے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ آخر میں یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت تعلیم کو آسان بنانے کا ذریعہ ہے، مگر اصل طاقت استاد کی فہم، تجربے اور رہنمائی میں ہی موجود ہے۔ جو اساتذہ ان ٹولز کو متوازن اور سمجھ داری سے اپنائیں گے، وہ تدریسی معیار کو بہتر بنانے میں نمایاں کامیابی حاصل کر سکیں گے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 

الگورتم Algorithm کا تعارف

  بنیادی طور پر ہدایات یا قواعد کا  مجموعہ   الگورتھم  کہلاتا  ہے، جسے ایک خاص مسئلہ کو حل کرنے کے لیے مرحلہ وار ترتیب میں لکھا جاتا ہے۔ یہ ہدایات یا قواعد کمپیوٹر یا کسی مشین کو بتاتی ہیں کہ ایک مسئلے کو کیسے حل کیا جائے یا کسی کام کو کیسے انجام دیا جائے۔

جب آئی بی ایم نے سسٹم کمپیوٹر بنائے۔ الگورتھم کی ابتدا تو کمپیوٹر کی ایجاد کے ساتھ  ڈاس کمانڈ کے ہمراہ  ہوگئی۔ سرچ ۔فائینڈ ۔کمپئیر  اور سالو وکی کمانڈ اگر آپ کو یاد ہوں تو یہ ڈیسک ٹاپ میں موجود ہوتیں اور آپ اپنی فلاپی ڈسک میں  استعمال کرتے۔ جب انٹر نیٹ کا زمانہ شروع ہوا تو ویب سائیٹ  کی کمانڈ ونڈو میں ، کسی بھی ویب سائیٹ کا لنک ڈھونڈنا بہت مشکل ہوتا ۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے اپنی ویب سائیٹ بنائی تو اُس کے انڈیکس پیج کے بعد سوشل ویب پیج بنایا اور اُس میں آئی کون کے ساتھ  ویب پیج کے مختصر نام لکھ کر 2001 میں اپنے لئے  آسانی پیدا کر دی ۔ پھر اپنے مضامین لکھ کر انٹر نیٹ پر ڈالنے شروع کر دیئے ۔یوں میرا کمپیوٹر  تو کیا ہر پرسنل کمپیوٹر سے   ڈیٹا انٹر نیٹ پر پھیلنا شروع ہو گیا اور وکی پیڈیا نے الگورتھم بنانا شروع کردیا ۔جس کی بنیادی اہمیت سرچ اور فائینڈ کی بدولت  الگورتھم کی مدد سےآپ کی سکرین   پر نظر آنے لگی ۔

اور  اب یہ  الگورتھم مصنوعی ذہانت  (اے آئی ) میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ مشینیں انہی الگورتھمز کی مدد سے ڈیٹا کو پروسیس کرتی ہیں اور فیصلے کرتی ہیں۔جیسے ہمیں بڑھاپے میں سی ایم ایچ سے پہلے جو دوائیاںملتی تھیں تو میری بیوی اپنے موبائیل کو دوائیو ں کے نام سنا کر، اُن کے اجزاء  اور اُس سے ٹھیک ہونے والی بیماری کا سن کر استعمال کرتی اور میں  بھئی جو میڈیکل سپیشلسٹ نے دوا دے دی وہ چپ کرکے کھا لو ، مسئلہ جب پیدا ہوا جب جو دوائیاں پہلے ملتی تھیں اب ان کے متماثل دوائیاں ملنا شروع ہوگئیں۔ تو میں  بھی پریشان ہوگیا ۔ بیوی سے پوچھتا تو وہ موبائل سے زبانی پوچھ کر مجھے سنواتی کہ یہ بلڈ پریشر کی ہے ، یہ کولیسٹرول ختم کرنے کی ، یہ خون پتلا کرنے کی ، یہ جسم کے درد کی ، یہ سکون کے لئے ہے اور یہ دوائیاں کھانے سے پیٹ میں پڑنے والے زخم کو ٹھیک کرنے کے لئے ۔ آہ بوڑھا  پہلے تو حیران ہوا  پھر  پریشان ہوا۔یہ مکمل سیٹ ہے جو بوڑھا پچھلے 15 سال سے روانہ بلا ترّد پورا کر رہا ہے تو پیارے بچو اپنے دادا بابا اور نانا بابا کا خیال اپنی دادی ماں اور نانی ماں کے ساتھ رکھو۔

 الگورتھم کی وضاحت:۔
  ایک الگورتھم کو عام طور پر ایک سیٹ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
  ان پٹ  : وہ ڈیٹا یا معلومات جو آپ الگورتھم کو دیتے ہیں۔
  پروسیسنگ  : وہ حساب کتاب یا فیصلے جو الگورتھم ان پٹ پر عمل کر کے کرتا ہے۔ 

آؤٹ پٹ  : وہ نتیجہ جو پروسیسنگ کے بعد حاصل ہوتا ہے۔
 مثال: فرض کریں آپ ایک ریاضی کے مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں، جیسے کہ دو نمبروں کا مجموعہ معلوم کرنا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ہم ایک سادہ الگورتھم بنا سکتے ہیں:۔
 ان پٹ: دو نمبر (مثال کے طور پر: 5 اور 3)  


  پروسیسنگ: دونوں نمبروں کو آپس میں جمع کریں (5 + 3) 
 آؤٹ پٹ: نتیجہ (  یہ ایک سادہ الگورتھم ہے جو دو نمبروں کو جمع کر کے نتیجہ دیتا ہے۔

 مصنوعی ذہانت میں الگورتھمز کی اہمیت

 اے آئی میں، الگورتھمز بنیادی طور پر مشینوں کو "سکھاتے" ہیں کہ وہ کیسے سیکھیں، کیسے ڈیٹا کو سمجھیں، اور کیسے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کریں۔ الگورتھمز کا استعمال مختلف مسائل کو حل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، جیسے کہ:۔

  ٭-پہچان  : تصویریں یا آواز پہچاننے کے الگورتھمز 
٭۔پیش گوئی  : کسی خاص ڈیٹا کی بنیاد پر مستقبل کی پیش گوئی کرنا، جیسے کہ موسم کا حال بتانا۔   

٭۔ فیصلہ سازی  :خودکار سسٹمز کو فیصلے کرنے میں مدد دینا، جیسے خودکار گاڑیاں چلانے کے لیے راستہ منتخب کرنا۔ 
مشہور الگورتھم کی مثالیں: ۔

 لینیئر ریگریشن : یہ الگورتھم ڈیٹا پوائنٹس کے درمیان نسبت کو سمجھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور مستقبل کے نتائج کی پیش گوئی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کی کمپنی کے سیلز کا ڈیٹا ہے اور آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اگلے مہینے کتنی سیلز ہوں گی، تو آپ لینیئر ریگریشن الگورتھم کا استعمال کر سکتے ہیں۔

٭۔نیریسٹ نیبر(کے این این) : یہ الگورتھم ایک خاص ڈیٹا پوائنٹ کی درجہ بندی کرتا

ہے۔ یعنی یہ نئے ڈیٹا پوائنٹس کو پرانے ڈیٹا کے قریب ترین "پڑوسیوں" کے حساب سے گروپس میں تقسیم کرتا ہے۔ مثلاً، اگر آپ کے پاس مختلف اقسام کے پھلوں کی معلومات ہے اور آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایک نیا پھل کس قسم کا ہے، تو یہ الگورتھم اس کے قریبی پھلوں کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا۔  
٭۔  ڈیسیژن ٹری (فیصلہ ساز درخت)  : یہ الگورتھم ایک درخت نما ڈھانچے کی صورت میں فیصلے

کرتا ہے، جہاں ہر نوڈ ایک سوال یا فیصلہ ہوتا ہے اور ہر شاخ ایک ممکنہ جواب یا نتیجہ۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کو کسی صارف کو قرض دینا ہے، تو آپ مختلف سوالات (جیسے آمدنی، عمر، کریڈٹ ہسٹری) کی بنیاد پر فیصلہ کر سکتے ہیں۔

٭۔نیورل نیٹ ورک  : یہ الگورتھم دماغ کی طرح کام کرتا ہے اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ تصویری پہچان، آواز کی شناخت، اور قدرتی زبان کی پروسیسنگ جیسے کاموں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔

یوں سمجھیں کہ  الگورتھم دراصل وہ "ریسیپی" یا "ترکیب" ہے جسے کمپیوٹر یا مشین ایک خاص کام انجام دینے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ مصنوعی ذہانت میں الگورتھمز کا استعمال بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ ڈیٹا کے ساتھ کام کرنے اور درست نتائج فراہم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
 
٭٭٭٭٭٭٭٭ 

اتوار، 28 دسمبر، 2025

فہرست ۔ انٹیلیجنس ۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور تبدیلیاں

 آٹھ دسمبر 2025 کو اے آر وائی ٹی وی پر ایک  پروگرام چلا جس میں   عمار جعفری صاحب ایف آئی اے  ،اپنے بارے میں بتا رہے تھے اورمحمد علی جناح صاحب ہوسٹ تھے ۔ اور پاکستان کے مستقبل کے لئے اپنا فہم بتا رہے تھے ۔  میں وٹس ایپ پر اپنا تعارف کروایا اور بات کرنے کی اجازت چاہی ۔ مجھے 2 بجے اُن کی کال آئی ، یوں 2002 کو ایف 10 کی بیسمنٹ میں اُن کے ادارے  کی یادیں سمٹ آئیں  ۔ حکم دیا کہ میں  سی آئی ٹی کا لنک بھیج رہا ہوں ۔ رجسٹر ہوجاؤ اور عسکری 14 میں ، آن  لائن ٹریننگ ، سائبر سیکیورٹی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے بارے میں ، پاکستان  کے مستقبل  کے ماہرین کو تیار کرو ۔  میں وٹس ایپ لنک بھی بھیج رہا ہوں ۔ شام کو     سی آئی ٹی سینٹر عسکری 14 راولپنڈی   کے لئے 1000 روپے جمع کرواکے رجسٹر ہو گیا ۔ 9 تاریخ کوصبح ساڑھے سات بجے ، زوم کے لنک کے ذریعے   میٹنگ میں شام ہوگیا ۔  

٭۔سنٹر آف انفارمیشن ٹیکنالوجی ۔

 اب تک تو یہ بوڑھا اپنی بڑھیا کے ساتھ ،  اُفق کے پار بسنے والے اپنے بچوں اوراُن کے بچوں سے   بات کرتا۔  لیکن اب یہ  زوم لنک دوبارہ   بوڑھے کو تعلیمی میدان میں گھسیٹ لایا ۔25 نوجوان ، ادر جوان  اور بزرگ ، اپنے اپنے مائک اور کیمرہ آف کئے لیکچر سن رہے تھے ۔ موضوع تھا ۔ سائبر سکیورٹی  (انٹرنیٹ ، موبائل ، وٹس ایپ  اور ھیکر ) کے بارے بتایا جا رہا تھا ۔ بوڑھے نے پہلا انٹر نیٹ فراڈ ، جعفری صاحب کے ادارے کے ساتھیوں کی مدد سے   پکڑ وایا تھا ۔

گمشدہ دفینوں کی سر زمین افریقہ۔نومبر 2004

تو اُفق کے پار بسنے والے میری دوستو ۔ اُن کے بچو اوربچوں کے بچو (لوئی معشومان)  ۔ انسانی ذھانت   ، کمپیوٹر کی دنیا میں داخل ہو کر ،  مصنوعی ذھانت  کے  سحاب   (کلاؤڈ) میں داخل ہو چکی ہے اور غیر محسوس طریقے   سے ہماری مددد کر رہی ہے ۔ ہے نا حیرت کی بات ۔مجھے معلوم ہے کہ   ہمارے دماغ  (اردو میڈیم) میں ، پاکستانی  الفاظوں   کے ساتھ انگلش کے الفاظوں کی ڈکشنری ہے جو دماغ کے تحت الشعور میں چھپے ہیں ۔جو اُس وقت  ذھن کے شعور (میموری)میں آتے ہیں ، جب ہمارے گرینڈ چلڈرن آپس میں کوئی انگلش کا لفظ یا جملہ آپس میں بولتے ہیں  ۔جو بڑی مشکل   دوبارہ سننے پر سمجھ میں آتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم انگلش بولنے والوں  کی دنیا میں اپنی جھجھک  کی وجہ سے نہیں داخل ہو سکتے ۔ لیکن یہ مشکل نہیں  ۔ پاکستان کے ہمدردلوگ  الفاظوں کی اِس میراتھن میں ہمیں ساتھ لے کر  آرٹیفیشل  انٹیلیجنس  (مصنوعی ذھانت) کے اِس سحاب (کلاؤڈ) میں داخل کروانا چاھتے ہیں ، جو ہمارے پاس ، ہمارے   سمارٹ فون میں موجود ہیں ۔

بس آپ نےیہ کرنا ہے کہ   اِس لنک کو دبائیں اور خود کورجسٹر کرکے مُفت    آرٹیفیشل انٹیلیجنس   (اے آئی) کے ٹیچر سے  معلومات حاصل کرنا شروع کردیں ۔ اگر آپکو جملہ سمجھ نہیں آتا تو دائیں لکھے ہوئے پچھلے جملے پر کلک کریں ، ت؎ٹیچر آپ کو دو بار۔ تین بار۔ چار  بار  یا اُس سے زیادہ بتانے پر بھی نہیں تھکے گا ۔ اور آپ  گرینڈ چلڈرن کے ساتھ اے آئی کی دنیا میں داخل ہو جائیں گے ۔ لنک یہ ہے :۔
٭- اقراء سٹی ۔آرٹیفیشل انٹیلیجنس 
٭۔سنٹر آف انفارمیشن ٹیکنالوجی ۔

٭-ZOOM میٹنگ  روزانہ 7:30 صبح و شام  

 

٭٭٭٭مضامین ٭٭٭٭

 ٭۔ذھانت  سےمصنوعی ذھانت اور تبدیلی  

٭ـآرٹیفیشل انٹیلیجنس  (اے آئی)

٭۔اے آئی  کے انسانی زندگی پر فوائد 


  

 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔