Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 9 جنوری، 2015

اسوہءِ حسنہ سے محمدﷺ کے 100 احکامات

  روح القدّس (جبریل)نے مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ کو اللہ کے نا قابلِ  تبدیل احکامات بطور وحی خفّی بتائے  ، رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ   نے  بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  سے   مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ  تک  وہ سب انسانوں کے لئے تلاوت  کر دئیے  ۔
اب یہ تمام احکامات   ، اُسوہءِ الرسول   (رسول اللہ کا عمل)    اور سنت اللہ  ( ایمان والوں کے لئے عمل)     ہیں۔
اُفق کے پار  رھنے والے دوستو ، یہ سوچو کہ !   اِن میں سے کس پر عمل کرنا مشکل ہے ؟  

1۔سچ کو جھوٹ کا لبادہ مت پہناؤ    -     (الکتاب :سورۃ 2 آیت 42)  
2۔ اچھے اعمال کی ذاتی مثال(سیلف ڈسپلن)  پہلے قائم کرو     -     (الکتاب :سورۃ 2 آیت 44)   
3۔مساجدمیں خرابیاں پیدا مت کرو-     (الکتاب :سورۃ 2 آیت 114) 
4۔کسی کی اندھی تقلید مت کرو-     (الکتاب :سورۃ 2 آیت 170)   
5۔ رشوت  لینے کے طریقے مت ڈھونڈھو -        (الکتاب :سورۃ 2 آیت 188)   
6۔ صرف اُن سےلڑوجوتم سے لڑیں  -        (الکتاب :سورۃ 2 آیت 190)   
7۔ جنگ کے آداب کا خیال رکھو   -        (الکتاب :سورۃ 2 آیت 191)
8۔اللہ کی قسم کھا کر جھوٹ مت بولو  ۔    (الکتاب :سورۃ 2 آیت 204)  
9۔ یتیموں کا خیال رکھو   -        (الکتاب :سورۃ 2 آیت 220)
10۔ مطلقہ   کو دیا گیا مہرواپس( زبردستی ) لینا حلال نہیں   -        (الکتاب :سورۃ 2 آیت 229)
11۔مطلقہ کومعروف کے مطابق   متاع  (عدت  تک ) دینا لازم ہے    -        (الکتاب :سورۃ 2 آیت 241)
12۔ کیا اللہ کو قرض حسنہ دے سکتے ہو ؟     -        (الکتاب :سورۃ 2 آیت 245)
13۔ اللہ کی راہ میں رزق دو اِس سے پہلے کہ  تم رزق دینے کے قابل نہ رہو  -        (الکتاب :سورۃ 2 آیت 254) 
14۔ اپنی خیرات لوگوں کو دکھا نے کے لیئے اور احسان جتا کر ضائع مت کرو  -        (الکتاب :سورۃ 2 آیت 264)  
15۔ ضرورتمندوں کو تلاش کر کے اُن کی مدد کرو   -        (الکتاب :سورۃ 2 آیت 273)  
16۔ ربا کو بیع کا نام دے کر حلال نہ بناؤ، پریشانی والے کو سہولت دو ،حلال بنانے کے لئے فتوے  نہ ڈھونڈو  اور  مت کھاؤ -        (الکتاب :سورۃ 2 آیت 275) 
17۔ آپس میں قرض کے معاملات  لازماً   ، مکمل ایمانداری سے تحریرکرو-       (الکتاب :سورۃ 2 آیت 282)  
 18۔  قرض  کی تحریر لکھتے یا لکھواتے وقت چالاکی مت کرو، گواہوں کی تعداد پوری کرو   -       (الکتاب :سورۃ 2 آیت 282)  
19۔دورانِ سفر ادھار کی صورت میں ، رھن رکھواؤ تاکہ تم پر اعتماد قائم رہے،اِس سلسلے میں گواہی مت چھپاؤ    -       (الکتاب :سورۃ 2 آیت 283)  
20۔ تمام  رسولوں اور نبیوں  پر ایمان لاؤ     -       (الکتاب :سورۃ 2 آیت 285) 
21۔ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ مت ڈالو -       (الکتاب :سورۃ 2 آیت 286) 
22۔ آپس میں تفرقہ مت ڈالو -  (الکتاب :سورۃ 3 آیت 103)
23۔ غصے کو پی جاؤ -  (الکتاب :سورۃ 3 آیت 134)
24۔ بدزبانی سے بچو -     (الکتاب :سورۃ 3 آیت 159)
25۔ کائنات کی تخلیق اور عجائبات پر گہری غوروفکر کرو -     (الکتاب :سورۃ 3 آیت 191)
26۔ مرد اور عورت کو اعمال کا صلہ برابر ملے گا -     (الکتاب :سورۃ 3 آیت 195)
27۔ والدین کے ترکے میں   سے بیٹے اور بیٹیوں کا حصہ دو -     (الکتاب :سورۃ 4آیت 7)
28۔ اپنی ذرّیت ( اولاد ) کو  لاوارث مت چھوڑو  -     (الکتاب :سورۃ 4آیت 9)
29۔ یتیموں کا مال کھا کر اپنے  پیٹ کو آگ سے مت بھرو   -     (الکتاب :سورۃ 4آیت 10)
30  ۔ عورتوں کے زبردستی  وراث مت بنو -     (الکتاب :سورۃ 4آیت 19)
31۔ایک بیوی کو چھوڑ کر دوسری بیوی لاتے وقت پہلی بیوی کو دیا گیا مال، بہتان لگا کر واپس مت لو   -     (الکتاب :سورۃ 4آیت 20)
32 ۔ تجارت کے علاوہ ، ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت کھاؤ -     (الکتاب :سورۃ 4آیت 29)
33۔ مرد خاندان کا حکمران ہے-     (الکتاب :سورۃ 4آیت 34)
34۔ بخیلی و کنجوسی مت کرو ۔   نہ خود بخیل بنو  اور نہ دوسروں کو سبق پڑھاؤ  -     (الکتاب :سورۃ 4آیت 37)

35۔ لوگوں  کا حق ، تمھارے پاس اُن کی امانت  ہے اُنہیں واپس کر دو ! -     (الکتاب :سورۃ 4 آیت 58)  
36۔ القرآن  (اطاعت اللہ اور اطاعت الرسول ) کے مقابلے میں اولی الامر کا حکم  جو بالعدل نہ ہو ،ردّی کی ٹوکری میں ڈالو ۔     (الکتاب :سورۃ 4 آیت 59)
 37۔ ایک انسان کو دوسرے انسان کا حق اُس کی امانت ہے  وہ امانت  کے اہل انسان کو ، انصاف کے تمام تقاضے پوری کرتے ہوئے دو  ! -     (الکتاب :سورۃ 4 آیت 58)
  38۔ کسی مؤمن کو عمداً قتل مت کرو ، ورنہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہوگے  -     (الکتاب :سورۃ 4آیت 93)
39۔ الکتاب سے ،اللہ کے احکام پر عمل کرواتے وقت، خیانت مت  کرو  -     (الکتاب :سورۃ 4آیت 105)
40- عدل و انصاف پر مضبوطی سے جم جاؤ، یہاں تک اپنے خلاف بھی فیصلہ  دو -     (الکتاب :سورۃ 4 آیت 135)
  41۔گناہ اور ظلم وزیادتی میں تعاون مت کرو-     (الکتاب :سورۃ 5آیت 2)
42۔نیکی اور بھلائی میں تعاون کرو -     (الکتاب :سورۃ 5آیت 2)
43۔ اللہ  کے حُکم کے مطابق ،  مردہ جانور،خون،خنزیرکا گوشت مت کھاؤ  ممنوع ہیں  -     (الکتاب :سورۃ 5آیت 3)
44۔ دشمنی کے باوجود ، عدل و انصاف پر قائم رہو -     (الکتاب :سورۃ 5آیت 8)
45۔ جرائم کی سزا ، جرم کا کفارۃ ہے اور اللہ کے حکم کے مطابق صدقہ دے کر توبہ ہے  ، دوبارہ جرم نہ کرو  -     (الکتاب سے توبہ کا میعار   )
46۔یہود و نصاریٰ کو اولیاء مت بناؤ ورنہ اُن جیسے ہوجاؤ گے -     (الکتاب :سورۃ 5آیت 51)
47۔ شراب ،  منشیات  اور آسان کمائی سے بچو  -     (الکتاب :سورۃ 5آیت 90)
48۔ خبیث اور طیب برابر نہیں ، خبیث کی کثرت سے مرعوب مت ہونا-     (الکتاب :سورۃ 5آیت 100)
49۔من دون اللہ کے مانے والوں  کو بُرا مت کہو،  وہ دشمنی میں  اللہ کو بُرا کہیں گے  -     (الکتاب :سورۃ 6آیت 108) 
50۔ اقوالِ زریں ، کو حتمی سچائی مت سمجھو   -     (الکتاب :سورۃ 6آیت 116)
51۔اکثریت میں ہونا سچائی کا جواز نہیں  (زبانِ خلق نقارہءِ خدا نہیں) -     (الکتاب :سورۃ 6آیت 116)
  52۔غیر  طیّب رزق کھا کر اپنے اوپر اللہ کے غضب کوحلال  مت کرو  -     (الکتاب :سورۃ 20 آیت 81)
53۔لوگوں کو دھوکہ دینے کی خاطر ناپ تول میں کمی مت کرو -     (الکتاب :سورۃ 6آیت 152) 
54۔  زمین پر فساد مت پھیلاؤ-  (الکتاب :سورۃ 7 آیت  56)  
55۔ دوسروں کی غلطیاں معاف کرو، جاہلوں سے دور رہو   -  (الکتاب :سورۃ 7 آیت 199)  
56۔ ضعیف لوگوں کی طیّب رزق سے مدد کرو -  (الکتاب :سورۃ 8 آیت 26)
57۔ عہد کرو تو ، مسلمان  کیا مشرکوں سے بھی عہد نبھاؤ   -     (الکتاب :سورۃ 9 آیت 4)   
58۔ اگر مشرک بھی تم سے حفاظتی پناہ مانگے اُسے دو  اور حفاظت کرو، لیکن اُسے  یہ کلام اللہ ضرو سناؤ     ، کہ اللہ کے حکم کے مطابق میں یہ پناہ دے رہا ہوں -     (الکتاب :سورۃ 9 آیت 6)
59۔ توبہ مانگنے سے پہلے اللہ کی راہ میں صدقہ دو۔ اللہ صدقہ لئے بغیر توبہ قبول نہیں کرتا   -     (الکتاب :سورۃ 9 آیت 104)
60۔  حکمت اور بہترین وعظ سے لوگوں کو ربّ کے راستے میں دعوت دو اور احسن طریقے سے مجادلہ کرو -   (الکتاب :سورۃ 16 آیت 126)
61۔   جلد بازو! کسی دوسرے کے لئے   برائی ایسے مت مانگو جیسی اپنے لئے اچھائی مانگتے ہو  -   (الکتاب :سورۃ 17 آیت 11)
62۔والدین کا احترام اور ان کی فرمانبراداری کرو اور والدین کی بے ادبی سے بچو اور اُن کے سامنے اُف تک نہ کہو-   (الکتاب :سورۃ 17 آیت 23)
63۔رشتہ دار ، مسکین اور مسافر کا حق، اُن کو دے دو -   (الکتاب :سورۃ 17 آیت 26)
64۔ کنجوسی اور فضول خرچی سے اجتناب کرو -   (الکتاب :سورۃ 17 آیت 29)
65۔مفلسی و غربت کے خوف سے اولاد کا قتل مت کرو -   (الکتاب :سورۃ 17 آیت 31)
66۔خبردار زنا کے قریب کسی  بھی صورت  میں نہیں جانا -   (الکتاب :سورۃ 17 آیت 32)
67۔ زمین پر اترا کر مت چلو ، نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو نہ پہاڑوں  کی اونچائی کو چھو سکتے ہو-   (الکتاب :سورۃ 17 آیت 37)
68۔متکبر لوگوں سے نرمی سے بات کرو -   (الکتاب :سورۃ 20 آیت 44)
69۔لوگوں کی عبادت گاہوں کو مسمار مت کرو -  (الکتاب :سورۃ 22 آیت 40)
70۔ دوسروں کے گھروں میں بلا اجازت مت داخل ہو -  (الکتاب :سورۃ 24 آیت 27) 
71۔ اجازت کے بغیر کسی کی خواب گاہ   میں  مت داخل  ہو  -  (الکتاب :سورۃ 24 آیت 58)
72۔عباد الرحمٰن بن کر، زمین پر عاجزی و انکساری سے چلو  -  (الکتاب :سورۃ 25 آیت 63)  
73۔ عباد الرحمٰن بن کر،رزق تقسیم کرو تو اسراف اور کنجوسی کے درمیان رہو  -  (الکتاب :سورۃ 25 آیت 68) 
74۔  قتل    اور زنا کو اپنے اوپر معلق مت کرواؤ -  (الکتاب :سورۃ 25 آیت 68) 
75۔ بیہودہ گوئی میں شامل مت ہو وہاں سے ہٹ جاؤ  -  (الکتاب :سورۃ 25 آیت 72)  
76۔قومِ لوط کی طرح لونڈے بازی  مت کرو   -  (الکتاب :سورۃ 29 آیت 29) 
77۔ اپنے  والدین ، خصوصاً والدہ کا احسان مت بھولو -  (الکتاب :سورۃ 31 آیت 14)  

78۔انسانوں میں رہو ،  تکبّر مت کرو  -  (الکتاب :سورۃ 31 آیت 18)
79۔ گدھے کی طرح آواز نکالنے کے بجائے اپنی آواز پست رکھو  -  (الکتاب :سورۃ 31 آیت 19)
 80۔اھل البیت ، النساء  کے  میکپ زدہ چہرے، الرجس اور  جہالت کا اعلان ہیں ۔  (الکتاب :سورۃ 33 آیت 33)
80۔ محمدﷺ کو اپنا  آباء  (دادا  یا نانا  ) مت بناؤ  ، رسول اللہ اور خاتم النبیین سمجھو -  (الکتاب :سورۃ 33 آیت 40)
81۔ کزن میرج  کی اجازت صرف  النبی کو ہے-  (الکتاب :سورۃ 33 آیت 50)
82۔ ازواج ، بنات النبی اور نساء المومنین  ، اذیت سے بچنے کے لئے ،اپنے آپ کو ڈھانپ کر گھر سے باہر نکلیں   -  (الکتاب :سورۃ 33 آیت 59)
 83۔ لوگوں سے ٹھوس بات کرو     -  (الکتاب :سورۃ 33 آیت 70)
  84۔تمھارے گناہوں  کا سارا ریکارڈ ، تمھاری سماعت ، بصارت اور جلد میں محفوظ ہو رہا ہے ۔ (یہاں تک کہ زانی اور زانیہ کی جلد پر پڑنے والے  فی زنا 100 کوڑوں کی ضرب)      -  (الکتاب :سورۃ 41 آیت 20)
85۔اپنے تمام کام  مشورے سے سرانجام دو      -  (الکتاب :سورۃ 42آیت 38)
  86۔ اپنے حسد  میں اللہ کا کلام بدلنے کی کوشش مت کرو  ۔    (الکتاب :سورۃ 48آیت 15) 
87۔ کسی جھگڑے کی صورت میں لوگوں کے درمیان صلح کراؤ -  (الکتاب :سورۃ 49آیت 9)
88۔لوگوں کو بُرے القاب مت دو  اور نہ  دوسروں کا مذاق  اڑاؤ -  (الکتاب :سورۃ 49آیت 11)
89۔ گمان مت کرو ،ایک دوسرے کے بھید نہ ٹٹولا کرو اور کسی کی غیبت مت کرو  -  (الکتاب :سورۃ 49آیت 12)
90۔ اپنے  قبیلے اور علاقے کو اپنا افتخار مت بناؤ  -  (الکتاب :سورۃ 49آیت 13)
91۔منہ سے نکلنے والی ہر بات  ریکارڈ ہو جاتی ہے  -  (الکتاب :سورۃ 50آیت 18) 
92۔ امام الناس ابراہیمﷺ  کی طرح مہمانوں کا احترام کرو  -  (الکتاب :سورۃ 51آیت 24) 
93۔اللہ کی آیت کو نہ جھٹلاؤ اور نہ کفر کرو ۔ پنے مال میں سے خیرات کرو   -  (الکتاب :سورۃ 57آیت 19)
94۔   رہبانیت مت اختیار کرو     -  (الکتاب :سورۃ 57آیت 27)
95۔ مجالس میں ، مجلس کے آداب  رکھو       -  (الکتاب :سورۃ 58آیت 11)
 96۔مؤمنات النبی سے کی گئی بیعت پر قائم رہیں  -  (الکتاب :سورۃ 60 آیت  12)
97۔وہ بات  مت کہو جس پر خود فعل  نہیں کرسکتے ، یہ نہایت برا ہے   -  (الکتاب :سورۃ 61 آیت  2)  
 98۔ مسیح عیسیٰ ابنِ مریم کے حوارین کی طرح، انصار اللہ بن جاؤ  -  (الکتاب :سورۃ 61 آیت  14)   
99۔ اپنے آپ کولالچ سے پاک رکھو  -  (الکتاب :سورۃ 64 آیت  16)  
100۔ رسول اللہ ، کی اسوہءِ حسنہ  ، اختیار  کرو-  (الکتاب :سورۃ 60آیت 6)
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
  اللہ کے احکامات جن کا فہم 100  نکات میں لکھا ہے اُن کی آیات کا حوالہ سامنے دیا ہے ، شائد آپ کا فہم وہ نہ  ہو لیکن کیا:
٭- اِن آیات پر محمدﷺ  نے 100 فیصد عمل نہیں   کیا     (الکتاب :سورۃ 9آیت  33)؟
٭-    محمدﷺ کے اعمال  پر صحابہؓ  کرام، مختلف الرائے ،  گواہ کہلائے جاتے ہیں۔
٭- اللہ محمدﷺ کے اعمال  پر 100 فیصد  گواہ ہے   (الکتاب :سورۃ 6آیت  19)؟؟
اگر ہاں تو یقین مانیں، کہ محمدﷺ اللہ کے الدین پراللہ کی ہدایت پر  اظہار کرتے ہوئے خود کو   انسانوں اور   ایمان والوں کے سامنے  اب بھی مکمل ظاہر کرتے  ہیں ، کیوں کہ ہم یہی کہتے ہیں کہ محمدﷺ  اپنے قول و فعل  کا مکمل نمونہ ہیں  !
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا[48:28]
وہ ، جس نے اپنے رسول کو ارسال کیا الْهُدَى  اور دِينِ الْحَقِّ کے ساتھ ، تاکہ وہ    الدِّينِ پر اُس کے لئے کُل ظاہر ہوتا ہے  ، اور   اللہ کے ساتھ  شہادت کافی ہے  ۔



لیکن کیا   ہمیں  بالا 100 نکات کو سمجھنے کے لئے 100 ملائی  قول من دون اللہ سے بھرپور ،کتابوں کی ضرورت پڑے گی ! 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پیر، 5 جنوری، 2015

ہونہار بروا-5

ہم مری سے باڑیاں گئے ایک رات میس میں ٹہرے ۔وہاں نعیم کے چار پانچ کورس میٹ آئے ہوئے تھے۔میجر وقار ان کے PMAمیں روم میٹ تھے اور بہترین میوزک بجانا جانتے تھے، رات کو انہوں نے محفل گرم رکھی کافی غزلیں سنائیں، بچوں نے بھی چھوٹے موٹے گانے سنائے۔ عروضہ نے پیانو، سوہنی دھرتی اور جیوے جیوے پاکستان سنایا، وقار کافی حیران ہوا کہ اور بولا،
”نعیم! تمھیں دو سال میں میرے ساتھ رہنے کے باوجود ایک سر بجانا نہیں آیا۔ بھئی حیرت ہے“۔ نعیم نے پیانو اپنی طرف کھسکا کر یہی دونوں نغمے سنا کر سب کو حیران کر دیا۔
مئی 1991کا ذکر ہے نعیم کی پوسٹنگ کوئیٹہ ہوگئی، ہم 8مئی کو میرپورخاص،سب سے ملنے حیدرآباد سے جارہے تھے۔ کار میں، نعیم، میں، چاروں بچے، میرے امی، ابا اور لقمان بھائی کا بیٹا جواد تھے۔ جو کراچی سے 5مئی کو نعیم کے ساتھ حیدرآباد آئے تھے۔  ڈیتھا سے گذرنے کے بعد نعیم نے گاڑی میں پیٹرول ڈلوایا۔ اور میں روڈ پر آگئے تھوڑی دور جانے کے بعد، سامنے سے ایک ٹرک آتادکھائی دیا، جو سڑک کے بیچوں بییچ آرہا تھا، نعیم کے مطابق انہوں نے اُسے لائیٹ دکھائی۔ جس کا مطلب تھا کہ اپنی سائیڈ پر ہو جاؤ۔ ٹرک ڈرائیور، ٹرک کو مزید ہماری طرف لے آیا نعیم نے کار کو بچایا مگر بچاتے بچاتے کا ر ٹرک کے پچھلے ٹائر کو لگی، پہلے تو سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا ہوا ہوش آیا تو، سارے لوگ کار کے گرد جمع تھے۔نعیم بری طرح پھنسے ہوئے تھے، اُن کا سر شیشے پر لگنے سے زخمی ہو گیا۔نعیم کو سیٹ پیچھے لٹا کر کھینچ کر نکالا۔ کار سیدھی طرف سے بری طرح تباہ ہو چکی تھی۔ میرے چہرے پر چوٹیں آئیں، بڑے بیٹا ارسلان جو نعیم کے پیچھے امی کو گود میں بیٹھا تھا اُس کی بائیں آنکھ میں شیشے اُڑ کر لگے اور الٹا پاؤں نعیم کی سیٹھ میں پھنس کر پیچھے سے کٹ گیا۔ ابو کی کالر بون ٹوٹ گئی   اتنے میں رینجر کے کرنل نور آگئے۔ یہ نعیم کی یونٹ میں رہے تھے انہوں نے ہم سب کو CMHحیدر آباد پہنچایا۔کار کو دوسرے ٹرک میں لاد کر یونٹ پہنچوایا اور جس ٹرک نے مارا تھا اُسے۔ گھسیٹ کر رینجر کے احاطے ٹنڈوآدم میں کھڑا کر دیا۔ 
ایمر جنسی وارڈ میں، معلوم ہو ا کہ نعیم سے سر میں شدید چوٹیں آئی ہیں ان کی یاداشت تھوڑی تھوڑی دیر بعد کھو جاتی ہے۔یہ تین دن تک اِسی حالت میں رہے۔ میرپورخاص سے سارے رشتہ دار، دوست اور جاننے والے ملنے آئے۔اِن کے ہمزاد دوست، سلیم آزاد آئے تو اِن کی یاداشت واپس آئی جو ڈاکٹروں سمیت ہمارے لئے بھی باعث حیرانگی تھی ایسا صرف فلموں ہی میں دیکھا تھا کہ کوئی پرانا گانا گایا جائے یا کوئی پرانی بات یاد دلائی جائے  تو انسان کی یاداشت لوٹ آتی ہے۔ ارسلان کے بائیں پاؤں کااور آنکھ کا آپریشن ہوا، اس کی بائیں پاؤں کی رگ جو چلنے میں مدد دیتی ہے۔ کٹ گئی اور اُس کے ٹھیک ہونے کے بعد چلنے میں نقص آگیا۔میرا بھی ڈیش بورڈ پر لگنے سے سر ہل گیا اور منہ پر نیل پڑگیا۔ نعیم ہسپتال میں مہینہ ایڈمٹ رہے۔ ہسپتال سے نکلنے کے بعد  نعیم کو مہینے کی چھٹی ملی۔
ایک دن یہ تلک چاڑی میں اپنے دوست عباس  سے ملنے اُس کی بیکری کیک لینڈ پر گئے۔ وہاں ایک پیانو پڑا تھا۔ عروضہ پانچ سال پانچ ماہ کی تھی اُس نے پیانو لینے کی ضد کر دی۔ عباس بھائی نے پیانو اُٹھا کر اُسے دے دیا۔نعیم نے کافی منع کیا لیکن وہ نہ مانی۔ خیر وہ پیانو لے کر گھر لے آئی جب تک اِس کے سیلوں کی جان نہ ختم ہوئی ہاری جان نہ چھوٹی۔ عروضہ نے بے ہنگم سر بجا کر اودم مچایا ہوا تھا اور باقی بچے بھی اُس کے ساتھ شامل ہو گئے۔  
فوجی یونٹوں میں ہر ہفتے کوئی نہ کوئی ہلہ گلہ رہتا ہے اگر یہ نہ ہو تو، زندگی بہت بوجھل ہو کر گذرتی ہے، کھیلوں کے مقابلے، مینا بازار، سینما، میسوں میں تمبولا، میوزک شو وغیرہ۔ چنانچہ حیدر آبا میں بھی ہر مہینے کے پہلے اور تیسرے ویک اینڈ پر میس میں میوزک شو یا تمبولا ہوتا تھا۔ ہم سب گئے وہاں نعیم کی یونٹ کے ایک آفیسرمیجر اعجاز جو نئے آئے تھے، انہوں نے آرمی سکول آف میوزک سے کورس بھی کیا تھا۔انہوں نے بھی پروگرام پیش کیا۔عروضہ کو اللہ تعالیٰ نے بہت اچھی آواز دی ہے، وہ قرء ت، نعتیں، ملی نغمے  اور اقبالیات نغمگی میں پڑھتی ہے، اُس وقت چو نکہ چھوٹی تھی تو، سوہنی دھرتی اور تیرا کونہ کونہ گھوموں اِس کو یاد کرایا تھا۔ جو اِس نے سٹیج پر پڑھا۔
دوسرے دن یونٹ میں میجر اعجاز نے نعیم کو کہا کہ، سر عروضہ کو، میوزک کے ساتھ پڑھنا سکھائیں۔ نعیم یونٹ میں سیکنڈ اِن کمانڈ تھے اُنہوں نے میجر اعجاز کو کہا کہ تم اُسے پیانو بجانا سکھا دو۔ میجر اعجاز نے وہی پرانی راگنی چھیڑی کی سر یہ بہت مشکل کام ہے۔ اِس کے سیکھنے میں عمر گذر جاتی ہے۔ انسان یہ آسانی سے نہی سیکھ سکتا۔ میں نے خود  یہ پندرہ سال میں سیکھا ہے،
نعیم نے کہا  مذاقاً کہا،‘’اعجاز اگر تم نالائق ہو تو سب کو اپنا جیسا مت سمجھو، میں اِسے پندرہ دن میں سکھا سکتا ہوں“۔
میجر اعجاز نے چیلنج کر دیا۔  نعیم، شام کو ہم سب کو ساتھ بٹھا کر کار میں حیدرآباد کی تما م دکانیں کھنگال ماریں۔ مگر انہیں میوزک کے سروں  بارے کوئی کتاب نہیں ملی۔ یہ واپسی پر لطیف آباد نمبر دو میں، وڈیو کی دکان پر رکے،ہنگاموں میں نعیم کی ڈیوٹی لطیف آبادمیں لگی تھی نعیم نے اتفاقا ً اِس کی دکان لٹنے سے بچائی تھی، تب سے اُ سے دوستی ہوئی وہ نعیم سے صرف یہ رعایت کرتا تھا کہ دو تین فلمیں دے دیتا  نعیم پیسے دے دیتے وہ کینٹ کی طرف آتا تو ہمارے ہاں آکر اپنی کیسٹ لے جاتا  نعیم نے کچھ کیسٹ لیں اور باتوں باتوں میں وڈیو والے سے پوچھا،
”کسی کے پاس سے میوزک سکھانے والی کتاب مل سکے گی“۔
اس نے پوچھا " کیوں سر جی خیریت تو ہے ؟ "
نعیم نے ماجرا بتایا۔ تو رکنے کا کہہ کر موٹر سائیکل پر غائب ہو گیا۔ پندرہ منٹ بعد واپس آیا، اور ایک کتاب نعیم کو دی  اور بولا،
”سر میں نے یہ کتاب کراچی سے خریدی تھی۔ میں تو اِس سے میوزک نہ سیکھ سکا آپ کو شش کر لیں، یہ میری طرف سے تحفہ ہے مرے پاس اور بھی کتابیں پڑی ہیں میں وہ بھی ڈھونڈ کر آپ کو دے دوں گا“
۔ نعیم  نے شکریہ کے ساتھ وہ کتاب لے لی۔ گھر آکر، پیانو نکالا، وہ تو بچوں کا پیانو تھا۔ نعیم وہ پیانو اور بچوں کو لے کر عباس کے پاس جا پہنچے۔عباس بس دکان بند کرنے والا تھا۔  نعیم نے کہا کہ اُس سے اچھا پیانو دکھاؤ۔اُس نے کہا کہ میرے پاس تو نہیں میرے بھائی کی دکان پر ہے جو آپ کے گھر کے پاس ہے وہیں چلتے ہیں اور اُس سے لیتے ہیں۔ عباس اپنی سکوٹر پر اور نعیم کار پر بھائی کی دکان پر پہنچے وہاں سے، بچوں کا ہی بڑا پیانو لیا، وہاں اتفاق سے ایک اور صاحب آئے تھے انہوں نے پیانو پر دو تین سر بجا کر اُسے، پاس کیا نعیم وہ لے کر بچوں کے ساتھ گھر آگئے۔
چاروں بچے اورنعیم پیانو پر کتاب کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق سیکھنے کی کوشش کریں، مگر وہ سرہی نہ پیدا ہوں۔ تین دن گذر گئے۔اچانک نعیم کو ترکیب سوجھی۔ نعیم نے، پیانو کی ”کی“ پر تین قسم کے رنگین سٹکرز  سے ساتوں ” سُر۔ سا۔ رے۔ گا۔ ما۔ پا۔ دھا۔ اور نی“لکھ دیئے اور کتاب میں دیئے ہوئے ”جیوے جیوے پاکستان“  کا مکمل نغمہ اپنی کاپی میں لکھا ور پیانو پر لکھے ہوئے سروں کے مطابق اسے آہستہ آہستہ  بجانے کو کوشش کی میں کچن میں کھاناپکار رہی تھی میرے کانوں میں جیوے جیوے پاکستان کے سر سنائی دئیے میں سمجھی ٹیپ پر چل رہے ہیں اور شائد ٹیپ کے سیل کمزور ہیں اس لئے تھوڑا سا بے ربط ہو جاتے ہیں۔
 اتنے میں نعیم نے زور سے آوازلگائی،”گل۔ے۔ے“
میں کمرے میں آئی تو کہنے لگے سنو اور پھر آہستہ آہستہ،”جیوے، جیوے، جیوے پاکستان، پاکستان، پاکستان، جیوے پاکستان“ ردھم میں سنا دیا۔ شام کو چاروں بچوں نے اِس لائن پر مہارت حاصل کر لی اور دوسرے دن رات تک پانچوں، ماہر ہو گئے، اُس کے بعد ”سوہنی دھرتی  اور یہ وطن ہمارا ہے ہم ہیں پاسباں اس کے“ پر پندرہ دنوں میں، چاروں بچوں نے مہارت حاصل کر لی۔
آفیسر میس میں ہفتے کی شام کو تمبولا ہوا، نعیم بھی تمبولا کھلاتے تھے بلکہ تما م جونئیر آفیسروں کو بھی موقع دیتے تا کہ اُن میں خوداعتمادی پیدا ہو ا اور بچوں کو بھی موقع دیتے۔ لوگ مختلف جوک بھی سناتے۔ لطیفے بھی چلتے۔غرض اچھا خاصا ہلا گلا رہتا۔دوہاؤس کے بعد نعیم نے اعلان کیا کہ میں آپ سب کو حیران کرنا کرنا چاہتا ہو ں اور میجر اعجاز سے کی ہوئی گفتگو دھرائی اور میجر اعجاز سے تصدیق کرائی۔ میجر اعجاز اپنی بات پر قائم رہے کہ میوزک سیکھنا، پھر وڈیو والے ریحان نے اپنی دکان میں ہونے والی گفتگو کا ذکر کیا اور بتا یا کہ اُس نے تین کتابیں میجر نعیم کو تحفے میں اِ س لیے دیں کیوں کہ وہ خود میوزک سیکھنے میں ناکام ہو گیا۔اور وہ سمجھتا ہے کہ استاد کے بغیر کوئی بھی کام سیکھنا مشکل ہے۔
نعیم نے عروضہ کو بلایا۔  عروضہ نے پیانو پر سوہنی دھرتی سنایا۔سامعین نے بے تحاشا تالیاں بجائیں۔
پھر ارمغان کو بلایا وہ تھوڑا سا گڑبڑا گیا۔
ارسلان اور سائرہ نے بہت اچھے لگاتار ردھم کے ساتھ بجایا۔ آخر میں نعیم نے بتایا کہ دو سال پیانو بجانے والے کے ساتھ PMAمیں ایک کمرے میں رہنے کے باوجود مجھے نہیں معلوم تھا سُر کیا ہوتے ہیں اور اُنہیں کیسے ترتیب میں رکھا جاتا ہے۔ لیکن میجر اعجاز کے چیلنج نے مجھے یہ بھی سکھا دیا۔ میجر اعجاز آپ شرط ہار چکے ہیں۔ یہ کہہ کر نعیم نے سوہنی دھرتی پیانو پر بجایا۔ سب نے تالیاں بجائیں۔ نعیم اور بچوں کو گفٹ دئے۔ اُس کے بعد نعیم نے تو کبھی پیانو نہیں بجایا البتہ بچوں نے خود کتاب سے مختلف نغموں اور گانوں کے سر سیکھے۔ اُ ن سب میں مہارت ارسلان نے حاصل کی۔ لیکن کیوں کہ یہ اُن کا شوق نہیں تھا لہذا  یہ شوق نہیں بنا،
اپریل میں،نے نعیم کے ایک پرانے بکس میں پڑی ہوئے وردیوں کو دھوپ لگانے کے لئے کھولا تو میری نواسی جو دو سال کی ہے نعیم کے میڈلز کی کھڑنگ کھڑنگ سے بہت خوش ہوئی وہ انہیں روپے سمجھ رہی تھی، نعیم کی میس کٹ کی جیکٹ اور ٹراوزر۔ جس کو پہنانے کے لئے نعیم کو آدھا چھیلنا پڑے۔اُسی بکس میں سے اٹک کے بعدشفٹنگ کے وقت ڈالا ہوا، پیانو بھی برآمد ہوا۔ جس کو اب ہماری نواسی جب ہمارے گھر آتی ہے تو شوق سے اُس کی ”کی“ پر انگلیاں مار کر  ”ٹاں ٹاں“کی آواز نکلنے پر خوش ہوتی ہے۔مجھے عروضہ کا بچپن یاد آجاتا ہے۔

دوسرے دن سب مل کر نتھیا گلی گئے وہاں خوب گھومے پھرے۔ باقی بسب باڑیاں کے لئے واپس ہوئے اور ہم۔ ایبٹ آباد  کے لئے روانہ ہوگئے رات آٹھ بجے ہم بلوچ میس کے گیسٹ روم پہنچے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭
 پچھلا مضمون ۔ ۔ہونہار برِوا -4 ٭٭ ٭٭  اگلا مضمون ۔ ۔  ہونہار برِوا -6
 
٭٭٭٭٭٭٭٭

ہفتہ، 27 دسمبر، 2014

لیموں اور اجوائن صحت کے بے شمار فوائد



لیموں اور اجوائن کو ہم عموماً مختصر مقدار میں کھانوں کا ذائقہ بڑھانے کیلئے استعمال کرتے ہیں لیکن ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر ہم ان کی مقدار بڑھا دیں اور ان دونوں چیزوں کو ملا کر استعمال کریں تو کولیسٹرول میں کمی اور دیگر حیرت انگیز فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔
بھنے ہو ئے چنےکے انسانی صحت پر حیران کن اثرات جانئے
اجوائن میں وٹامن سی اے اور کے پائے جاتے ہیں اور اسی طرح لیموں میں بھی وٹامن سی کثرت سے پایا جاتا ہے۔ لیموں کے غذائی اجزاءجب اجوائن کے ساتھ ملتے ہیں تو نہ صرف جسم کو توانائی ملتی ہے بلکہ مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے، بیماریوں سے تحفظ ملتا ہے اور خاص طور پر خون میں کولیسٹرول کا لیول کم ہوجاتا ہے۔
انہیں ملا کر استعمال کرنے کیلئے پہلے لیموں کو صاف کرکے اس پر میٹھا سوڈا اچھی طرح ملیں اور اسے اچھی طرح دوبارہ صاف کرلیں اور چھلکے سمیت چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ پانی ابال کر اسے ٹھنڈا کرلیں اور اجوائن کے پتوں کو بھی باریک کاٹ لیں یا بلینڈر میں ڈال کر باریک کریں۔ اب اسے لیموں کے ساتھ ملالیں اور اس میں ٹھنڈا کیا ہوا پانی بھی ڈال دیں۔ اس آمیزے کو اچھی طرح مکس کرکے شیشے کے برتن میں محفوظ کرلیں اور ہر کھانے سے 30 منٹ پہلے 100 ملی لیٹر (ایک لیٹر کا دسواں حصہ) استعمال کریں اور صحت کے بے شمار فوائد پائیں۔

میرا بھائی - محمد علی جناح

فاطمہ جناح بیان کرتی ہیں کہ نومبر 1940ء کو قائد بذریعہ ریل گاڑی بمبئی سے دہلی جارہے تھے۔ اُنہوں نے مرکزی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔ ان دنوں قائد کو دائیں چھاتی میں شدید درد محسوس ہو ا۔ دہلی پہنچ کر ڈاکٹر کو طلب کِیا جس نے پیلوریسی تشخیص کی اور ادویات کے ساتھ دو ہفتے آرام تجویز کِیا۔ فاطمہ جناح بتاتی ہیں کہ حملہ بڑا شدید تھا یہی ابتدائی بیماری تھی جس نے انتہا پر پہنچ کر بھائی کو ہم سے جدا کر دیا۔ پیلوریسی پھیپھڑوں میں پانی پڑ جانے کو کہتے ہیں۔ اس کا علاج بھی اینٹی ٹیوبر کلوسز(ٹی بی)  کی بِنا پر کِیا جاتا ہے۔ قائد نے صرف دو دن آرام کِیا، پھر کام میں مصروف ہو آگئے۔
فاطمہ جناح بتاتی ہیں اس کے بعد اُن کو زکام، نزلہ، الرجی قسم کی شکایات رہتی تھیں۔ اسی طرح اس حملہ کے بعد اپریل 1941ء میں بمبئی سے مدراس بذریعہ ٹرین سفر کر رہے تھے۔ چلتی ٹرین میں وہ ٹائلٹ جانے لگے تو کمزوری کی بِنا پرفرش پر گِر گئے۔ ڈاکٹر کو بلایا گیا ۔ اُس نے نروس بریک ڈائون تشخیص کِیا اور آرام تجویز کِیا، لیکن اب آزادی کی منزل قریب آ رہی تھی اور انہیں ہندوستان کے طول و عرض میں جلسوں سے خطاب کرنا تھا۔ ڈاکٹر البرٹ بیٹی(دہلی) سے آپ نے 1942ء میں چیک اَپ کرایا۔ مئی 1944ء میں کچھ دنوں کے لیے آرام کی خاطر سرینگر گئے۔ تاہم وہاں بھی سیاسی سرگرمیاں جاری رہیں۔

 
جب انسان کے سامنے ایک مشن ہو، کام کرنے کی لگن ہو اور محنت کرنے کی عادت ہو تو وہ آرام سے رہ ہی نہیں سکتا۔ وہ جولائی 1944ء میں لاہور آگئے۔ مصروفیت کچھ زیادہ ہی تھی۔ جسم نے جواب دیا تو آپ نے تین ہفتے ڈاکٹر جال پٹیل کے علاج کو قبول کِیا۔ علاج سے افاقہ ہوا اور اکتوبر میں وہ فٹ ہو گئے۔ پھر کام، کام اور کام تھا۔ لہٰذا 1945ء میں ان کی لگاتار کمزوری سے صِحّت کے گرنے کی خبریں آنے لگیں اور اُن کے چاہنے والوں کو خدشہ ہونے لگا۔ ڈاکٹر کے مشورے پر اپریل 1945ء میں قائداعظمؒ بمبئی کے قریب پہاڑی مقام پتھرائن تشریف لے گئے۔ آرام کے بعد کچھ افاقہ ہوا۔ ہندوستان ٹائمز نے 12 اپریل 1945ء کو خبر لگائی کہ جناح صِحّت یاب ہیں اوراُن کے فزیشن ڈاکٹر رحمن نے بمبئی تک سفر کرنے کی اجازت دے دی ہے اگرچہ وہ ڈاکٹر البرٹ بیٹی کے زیرِ علاج تھے۔ قائد ڈنشا اے مہتہ کے زیرِ علاج اس وقت رہے جب وہ سرینگر(کشمیر) سے 1944ء میں واپس آئے۔ ڈاکٹر ڈنشا نے طویل علاج تجویز کِیا جوان کی طبیعت کے خلاف تھا۔
نیشنل آرکائیوز کے ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ قائدِاعظم مختلف وقتوں میں مختلف ڈاکٹروں سے رجوع کرتے رہے۔ مختلف قسم کی ای سی جی رپورٹس اور ایکسرے موجود ہیں۔ اس ریکارڈ کی رپورٹ از ڈاکٹر ایف ڈبلیومرگر بمبئی (10 اگست 1940ء) میں جگر کے متاثر ہونے کا ذکر ہے۔ ایکسرے رپورٹ میں چھاتی کے اوپر والے حصہ کے لوب (Lobe) میں مرض کے کچھ نشانات ہیں جن کی بدولت ان کو کھانسی و بلغم کی شکایت تھی۔ تاہم ڈاکٹر مرگر نے "کرانک برونکائٹس" کا خدشہ ظاہر کِیا اور کہا کہ دل بالکل ٹھیک ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر ایس سی سن نے 9 اپریل 1945ء کو رپورٹ میں لکھا کہ پھیپھڑوں کی نچلی سطح میں سوزش اور نشانات ہیں۔ انہوں نے یعنی پھیپھڑوں کی بگڑتی ہوئی سوزش قرار دیا۔ اسی طرح ڈاکٹر موڈی نے ایکسرے رپورٹ میں پھیپھڑوں پر نشانات اور پیلوریسی کا ذکر کِیا۔ ہر ایک ڈاکٹر نے ایکسرے اور سکریننگ سے خدشہ ظاہر کِیا کہ قائد کو پھیپھڑوں کی سوزش ہے اور بیماری کے حملہ کے نشانات موجود ہیں۔ کسی رپورٹ میں لفظ تپِ دق استعمال نہیں کِیا گیا، حال آںکہ کمزوری،بھوک کا نہ لگنا، بخار، جسم کاٹوٹنا ایسی علامات سے ظاہر ہوتا ہے پھیپھڑوں کا مرض تپِ دق ہے۔
مادرِملّت ’’میرابھائی‘‘ کے صفحہ 90 پر لکھتی ہیں: جب ہم 21 اپریل 1948ء کو پشاور سے کراچی پہنچے تو بھائی کو سردی کے ساتھ زکام اور بخار ہو گیا۔ ڈاکٹر بلوا نے پرراضی نہ تھے۔ ڈاکٹر نے معائنہ کِیا تو پتا چلا ان کو برونکائیٹس (پھیپھڑوں کا ورم)ہو گیا ہے۔ ان کو آرام اور علاج کی ضرورت ہے۔ قائدِ اعظمؒ دو روز تک بستر پر رہے۔ تاہم فائلوں کا کام کرتے رہے۔ کچھ عرصہ وہ اس آرام سے اچھے ہو گئے۔کمزوری کافی تھی۔ مَیں انہیں مسلسل مشورہ دیتی رہتی تھی کہ کراچی سے باہر پاکستان میں کہِیں اور چلیں، ڈاکٹر رحمن فزیشن نے بھی یہی مشورہ دیا۔انہوں نے کہا کم ازکم دو ماہ تک کوئی کام نہ کریں۔ مکمل آرام کریں ورنہ صِحّت ٹھیک نہیں ہو گی۔
چنانچہ قائداعظمؒ جون ء 1948 میں کوئٹہ روانہ ہو گئے۔ کوئٹہ پہنچ کر ان کی صِحّت چند روز میں اچھی ہونے لگی۔ کھانا پینا شروع کردیا۔ ساتھ فائلوں کا کام بھی کرنے لگے اور تقریبات میں جانے لگے۔ 15جون 1948ء کو کوئٹہ میونسپلٹی کے استقبالیہ میں شرکت کی۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح یکم جولائی 1948ء کو کراچی میں ہو رہا تھا۔ اس میں شرکت کے لیے تیار ہو گئے۔ مادرِملّت نے مشورہ دیا کہ کوئٹہ سے کراچی پھر واپس کوئٹہ،اس سفر سے تکلیف زیادہ ہو سکتی ہے۔آپ کو آرام چاہیے، مگر وہ لازماً سٹیٹ بینک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب میں شمولیت کرنا چاہتے تھے۔ اس تقریب میں ہرشخص نے ان کی گرتی ہوئی صِحّت کو محسوس کِیا۔ کراچی میں 5 روز قیام کِیا۔ مصروف رہے۔ فائلیں دیکھیں ۔ واپس کوئٹہ تشریف لائے۔
قائدِاعظمؒ واپسی پر بڑے کمزور تھے۔ان کا کل وزن شاید 75 پاؤنڈ رہ گیا تھا۔ بقول مادرِ ملّت جب واپس آئے تو کوئٹہ کے لوگ انہیں دیکھنے کے منتظر تھے۔ مختلف اداروں سے دعوت نامے موصول ہو چکے تھے۔ ہم ان کی گرتی ہوئی صِحّت کی وجہ سے دعوت ناموں کا احترام نہیں کرسکتے تھے۔ لہٰذا ایک روز انہوں نے (قائداعظمؒ) نے فیصلہ کِیا کہ ہم کوئٹہ سے زیارت چلے جائیں جو قریب ہی واقع ہے اورجہاں کا موسم کوئٹہ سے زیادہ ٹھنڈا اور یقینا زیادہ آرام دہ ہوگا۔

قائدِاعظمؒ کوئٹہ سے زیارت شفٹ ہوئے ۔ قائدِاعظم کا اصلی مسئلہ بے آرامی،کام میں زیادتی تھا۔ شروع ہی سے وہ کام کرنے کے عادی تھے۔ بے آرامی اوربیماری نے تیزی سے ان کا 1945ء سے پیچھا کرنا شروع کیا۔ تاہم ڈاکٹر کی نصیحت کے مُطابِق اپریل 1945ء میں وہ بمبئی کے پاس ایک پہاڑی مقام پر آرام کرنے کے لیے گئے، لیکن علاج نامکمل اور آرام کوچھوڑ کر آ گئے اورشملہ کانفرنس میں شرکت کے لیے 25 جون تا 14 جولائی 1945ء چلے گئے۔ اس سے قبل ڈاکٹروں نے مشورہ دے رکھا تھا کہ آپ خشک اورمعتدل مقام پر چلے جائیں اورکوئٹہ کی انہوں نے سفارش کی تھی۔ قائدِاعظمؒ نے کوئٹہ قلات جانے کے لیے خان آف قلات سے رابطہ کِیا۔ ڈاکٹر ڈنشا کا مشورہ تھا، لیکن کوئٹہ جانے کے بجائے انہوں نے اگست کا مہینہ بمبئی میں تقریروں میں گزارا۔ پھر کراچی چلے گئے۔ کمزوری مزید بڑھتی گئی۔
مرزاابوالحسن اصفہانی تحریر کرتے ہیں کہ میں نے بہُت کوشش کی کہ معلوم ہو جائے میرے قائد، رہنما اور دوست کو بیماری کیاہے؟ لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ کرنل الہٰی بخش جو میڈیکل ٹیم کے نگران تھے، مجھے بتانا نہیں چاہتے تھے کہ قائد کو بیماری کیا ہے۔ مجھے تپ دق کا ڈر نہ تھا۔ میرے اندازے کے مُطابِق تھکن، زیادہ کام، محنت اور مجبور لوگوں کا خیال ہی ان کی صِحّت کو متاثر کر سکتا تھا۔میں نے ایسی کیفیت پر ڈاکٹروں اور مِس جناح سے تبادلہ خیالات کِیا کہ اگر امریکہ سے کسی ماہر ڈاکٹر کی ضرورت پڑے تو میں کوشش کرون گا۔ مرزا اصفہانی واشنگٹن پہنچے تو ان کو 20 گھنٹے بعد قائداعظمؒکی رحلت کی خبر بذریعہ تار پہنچی۔ سفارت خانہ میں تین روزتک متواتر فاتحہ خوانی ہوتی رہی۔یوں 1936ء کی دوستی کی زنجیر 11ستمبر 1948ء کو ٹوٹ گئی۔
 
  12ستمبر 1948ء کو سفارتخانہ سے بیان نشر ہوا ’’قائداعظم محمد علی جناحؒ بانی پاکستان اوراس کے پہلے گورنر جنرل 11ستمبر 1948ء کو رات دس بج کر 25 منٹ پر کراچی شہر میں انتقال فرما گئے۔ ‘‘وہ اسی روزکوئٹہ سے کراچی پہنچے تھے-

-

(پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی کی تصنیف ’’رہبرِ ملت: قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ‘‘ سے اقتباس)
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔