Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 20 جنوری، 2021

اِقراء۔ حکمِ واحد ھے ۔

  دنیا میں سب سے زیادہ ان پڑھ اس مذہب میں ہیں جس مذہب کا سب سے پہلا حکم ہے ۔ "پڑھ" ( جہانزیب خانزادہ)

 // اور وہ "اِقراء" بھی حکمِ واحد ھے ۔ کوئی اجتماعی حکم تو نہیں//

 Mohd Arifuddin

٭٭٭٭٭٭٭٭

الکتاب میں درج اللہ کا حکم -

 اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۔ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۔ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ۔ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ۔ (سورۃ 96 )

نوجوان محمد عارف الدین : واقعی یہ فرد واحد کو حکم ہے ، کوئی بھی عربی سے معمولی شدھ بدھ رکھنے والا یہی کہے گا جو آپ نے لکھا ہے ۔ 

اگر آپ کے فہم کے مطابق :۔

   ۔1۔ یہ عربوں میں سے کسی ایک (محمد) نے اپنے سامنے موجود کسی ایک فرد کے لئے کہا ہو ۔ تو درست۔

۔2۔  اُس ایک سننے والے نے آگے اپنے کسی ایک دوست کو بتایا ہو تب بھی درست ۔

۔ 3- یوں یہ الفاظ دوسرے سے تیسرے اور پھر چوتھے تک دھرائے جاتے رہے ہوں گے ۔ 

 ۔4۔  پھر آپ کی طرح کسی " عجمی " صاحبِ عقل و دانش ، فہم و فکر ، شعور و تدبّر ، دانش مند نے ضرور یہ سوال کئے ہوں گے ؟ ۔

 ٭ - بھائی میں تمھارے کسی ایسے ربّ کو نہیں مانتا ۔ جس نے میرے باپ کی جگہ میری پرورش کی ہو! ۔ 

٭ -   بھائی تمھاری یہ بات میں مان لیتا ہوں کہ مجھے میری ماں نے تخلیق کرنے کے بجائے کسی ربّ نے تخلیق کیا ، جو میری ماں کو عَلَقٍ کی صفت دیتا ہے!۔

٭- لیکن اُس ربّ نے مجھے نہ ہی قلم پکڑنا سکھایا  ہاں  میرے اُستاد نے مجھے قلم پکڑنا   سکھایا ۔ 

٭- اگر تم ربّ کو مدرّس ( ٹیچر) کہتے ہو تو یہ بتاؤ اُس کا مدرسّہ کہاں ہے ؟ جہاں میں جاکراقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ کروں۔

٭۔  کیوں کہ میں نے سنا ہے کہ یہ بیان کہنے والا 

 مُحَمَّدٌ ( تاریخ کے مطابق بن عبداللہ ) خود چٹا اُن پڑھ (  الْأُمِّيَّ  ) ہے

اور سب عرب بھی   أُمِّـيُّونَ (یعنی ماں سے پڑھے ہوئے) ہیں ۔
٭۔ کیا 
مُحَمَّدٌ (  الْأُمِّيَّ  ) کے ربّ نے اب مدرسّہ کھول کر دیا ہے ؟ -

 مجھے لے چلو اُس ربّ کے پاس جس سے میں کم از کم یہ تو پوچھوں ، کہ میں کہاں سے پڑھوں؟

٭۔  یہ اُمّی  مُحَمَّدٌ کے ساتھی عرب کیا مدرسّے پڑھے لکھے ہیں جو وہ اقْرَأْ ، اقْرَأْ ، اقْرَأْ کی رٹ ۔ لگا رہے ہیں ؟؟

 ۔7۔  توعارف الدین،  وہ بے چارہ عربی بوکھلا گیا ہوگا ۔ اب وہ دو میں سے ایک کام کرے گا ۔

 اوّل -  آپ کو بے نقط سنائے گا اور ایسے القاب سے نوازے گا جو آپ جیسے باعلم ، عجمی انسان کے لئے انوکھے ہوں گے ۔ 

دوئم ۔ آپ سے درخواست کرے گا ، دوست میں اُمّی ہوں ۔ آؤ ہم محمد ( امّی) کے پاس چلتے ہیں ۔ 

تو آپ دونوں ، عجمی عالم اور اُمّی عربّ ،  دونوں اِن الفاظ کے بیان کرنے والے کے پاس جاتے ہیں۔

 اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۔ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۔ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ۔ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ۔ (سورۃ 96 )96 

جن کے متعلق عموماً یہ غلط العام ہے کہ اِن الفاظ کی سب سے پہلے ادائیگی مُحَمَّدٌ (  الْأُمِّيَّ  )نے پہلے شخص کے سامنے کی !


 جب آپ یعنی  عجمی عالم اور اُمّی عربّ ، دونوں ، محمد ( امّی) کے پاس پہنچے ہوں گے تو آپ کی باڈی لینگوئج کو دیکھنے کے بعد ۔  مُحَمَّدٌ (  الْأُمِّيَّ  نے یہ  ضرور پوچھا ہو گا ۔ کہ

 فَإِن كُنتَ فِي شَكٍّ مِّمَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَؤُونَ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكَ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ [10:94] 

 عارف الدین  ،  مُحَمَّدٌ (  الْأُمِّيَّ  )  نے عربی میں کہا  ہے ،   اگر تجھے شک ہے کہ جو میری قرءت  تجھ تک پہنچا ئی گئی ہے تو پریشان مت ہو ۔

 اُن لوگوں میں بیٹھ کر پوچھ جو تجھ سے پہلے   الکتاب کی قرءت کر رہے ہیں ۔  

ہاں سنو عارف میاں ۔ حقیقت میں  یہ قرءت  جو  اِس عربی نے مجھ سے منسوب کرکے    تم تک پہنچا   ،  میرا  بیان نہیں ہے ،  تیرے ربّ  کا بیان ہے  جو  تیری طرف  الْكِتَابَ کی صورت میں  الحق ہے ۔ اِس قلم سے لکھے گئے  علم کو تسلیم کر لے ورنہ  تو کم ترین    ( جاہل )   رہ جائے گا   ۔

اِس بیان نے یقیناً آپ کو پریشان کر دیا ہوگا ، کہ آپ سمجھ رہے تھے کہ یہ عربی آپ کے پاس 20 الفاظ کا بیان لے کر آیا اور مُحَمَّدٌ (  الْأُمِّيَّ  ) نےاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ کے بجائے الَّذِينَ يَقْرَؤُونَ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكَ  کا مدرسّہ کھول دیا ۔

 تو اےصاحبِ عقل و دانش ، فہم و فکر ، شعور و تدبّر ، دانش مند نوجوان ۔

 آپالَّذِينَ يَقْرَؤُونَ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكَ  کو تسلیم کر لیں تو آپ ! فرد واحد ( محمدﷺ ) کے چشمے سے نکل کر ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ کی وسیع جھیل کے کنارے یک دم پہنچ جائیں گے ۔  (مہاجرزادہ)

٭٭٭٭


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔