Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 28 جنوری، 2021

اسلام آباد کے گاؤں جو ختم ہوگئے۔

 اسلام آباد میں 85 دیہات شامل تھا جو اسلام آباد کی تعمیر سے متاثر ہوئے۔ 

جن میں تقریباً 50 ہزار افراد آباد تھے۔ شکر پڑیاں بھی ان میں سے ایک گاؤں تھا یہاں دو سو سے زائد گھر تھے جو بالکل اس جگہ پر تھے جہاں آج لوک ورثہ موجود ہے۔ لوک ورثہ کے پیچھے پہاڑی پر اس گاؤں کے آثار آج بھی جنگل میں بکھرے پڑے ہیں۔

 85 دیہات کی 45 ہزار ایکٹر زمین جب سی ڈی اے نے حاصل کی تو متاثرین میں اس وقت 16 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے جبکہ انہیں ملتان، ساہیوال، وہاڑی، جھنگ اور سندھ کے گدو بیراج میں کاشت کے لیے 90 ہزار ایکڑ زمین بھی الاٹ کی گئی جس کے لیے 36 ہزار پرمٹ جاری کیے گئے۔
ان میں جو بڑے گاؤں تھے ان میں کٹاریاں بھی شامل تھا جو موجودہ شاہراہ ِ دستور اور وزارت خارجہ کی جگہ آباد تھا۔
 شکر پڑیاں لوک ورثہ کی جگہ،
 بیسٹ ویسٹرن ہوٹل کے عقب میں سنبل کورک
مری روڈ پر سی ڈی اے فارم ہاؤسز کی جگہ گھج ریوٹ،
 جی سکس میں بیچو
ای سیون میں ڈھوک جیون
 ایف سکس میں بانیاں
 جناح سپر میں روپڑاں
جی 10 میں ٹھٹھہ گوجراں
آئی ایٹ میں سنبل جاوہ نڑالہ  اور نڑالہ کلاں
  ایچ ایٹ میں جابو
زیرو پوائنٹ میں پتن  
میریٹ ہوٹل کی جگہ پہالاں
 ایچ ٹین میں بھیگا سیداں
 کنونشن سینٹر کی جگہ بھانگڑی
 آبپارہ کی جگہ باغ کلاں
اسی طرح راول ڈیم کی جگہ راول، پھگڑیل، شکراہ، کماگری، کھڑ پن اور مچھریالاں  نامی گاؤں بستے تھے۔
فیصل مسجد کی جگہ ٹیمبا  اور اس کے پیچھے پہاڑی پر کلنجر  نام کی بستی تھی۔
شکر پڑیاں میں گکھڑوں کی بگیال شاخ کے لوگ آباد تھے جنہیں ملک بوگا کی اولاد بتایا جاتا ہے۔ گکھڑوں نے پوٹھوہار پر ساڑھے سات سو سال حکمرانی کی ہے۔

 راولپنڈی کے گزٹیئر 1884 کے مطابق ضلع راولپنڈی کے 109 دیہات کے مالک گوجر اور 62 گکھڑوں کی ملکیت تھے-


 

٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔