Pages
میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
ہفتہ، 26 اپریل، 2014
مرزا غالب کی چٹکیاں
مرزا غالب 27 دسمبر 1797ءکو آگرہ میں پیدا ہوئے تھے۔
آباء واجداد کا پیشہ تیغ زنی اور سپہ گری تھا۔ انہوں نے اپنا
پیشہ انشاءپردازی اور شعر و شاعری کو بنایا اور ساری عمر اسی شغل میں گزار دی۔

تیرہ برس کی عمر میں غالب کی دہلی کے ایک علم دوست گھرانے میں شادی ہوئی اور یوں غالب دلی چلے آئے جہاں انہوں نے اپنی ساری عمر بسر کردی۔ غالب نے اپنی زندگی بڑی تنگ دستی اور عسرت میں گزاری مگر کبھی کوئی کام اپنی غیرت اور خودداری کے خلاف نہ کیا۔ 1855ءمیں ذوق کے انتقال کے بعد بہادر شاہ ظفر کے استاد مقرر ہوئے جن کے دربار سے انہیں نجم الدولہ دبیر الملک اور نظام جنگ کے خطابات عطا ہوئے۔ جب 1857ءمیں بہادر شاہ ظفر قید کرکے رنگون بھیج دیئے گئے تو وہ نواب یوسف علی خاں والی ¿ رام پور کے دربار سے وابستہ ہوگئے جہاں سے انہیں آخر عمر تک وظیفہ ملتا رہا۔
غالب فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے عظیم شاعر تھے جتنی اچھی شاعری کرتے تھے اتنی ہی شاندار نثر لکھتے تھے۔ انہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ نثر نگاری میں بھی ایک نئے اسلوب کی بنیاد رکھی۔ غالب سے پہلے خطوط بڑے مقفع اور مسجع زبان میں لکھے جاتے تھے انہوں نے اسے ایک نئی زبان عطا کی اور بقول انہی کے ”مراسلے کو مکالمہ بنادیا“۔
مرزا غالب نے 15 فروری 1869ءکو دہلی میں وفات پائی اور وہیں آسودہ خاک ہوئے۔
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں __ اور
جب مرزا غالب قید سے چھوٹ کر آئے تو میاں
کالے صاحب کے مکان میں آ کر رہے تھے۔ ایک روز میاں صاحب کے پاس بیٹھے تھے کہ کسی
نے آ کر قید سے چھوٹنے کی مبارکباد دی۔
مرزا نے کہا: کون بھڑوا قید سے چھوٹا ہے۔ پہلے گورے کی قید میں تھا۔اب کالے کی قید میں ہوں۔
مرزا نے کہا: کون بھڑوا قید سے چھوٹا ہے۔ پہلے گورے کی قید میں تھا۔اب کالے کی قید میں ہوں۔
مشہورِ
زمانہ ٹی وی ڈرامہ ”مرزا غالب“ میں اسد اللہ خاں غالب کا ایک شخص سے دلچسپ مکالمہ۔
دیکھو میاں! شکایت ہم سے نہیں خود سے کرو۔ قومیں بادشاہوں سے نہیں عوام سے بنتی ہیں اور آپ اگر آج بھی کبوتر نہ اڑا رہے ہوتے تو یہ قوم کچھ اور ہوتی، یہ ملک کچھ اور ہوتا۔ جاؤ، کبوتر اڑاؤ۔
دیکھو میاں! شکایت ہم سے نہیں خود سے کرو۔ قومیں بادشاہوں سے نہیں عوام سے بنتی ہیں اور آپ اگر آج بھی کبوتر نہ اڑا رہے ہوتے تو یہ قوم کچھ اور ہوتی، یہ ملک کچھ اور ہوتا۔ جاؤ، کبوتر اڑاؤ۔
مرزا غالب رمضان کے مہینے میں دہلی کے محلے قاسم جان
کی ایک کوٹھری میں بیٹھے پچیسی کھیل رہے تھے. میرٹھ سے ان کے شاگرد مفتی شیفتہ دہلی
آئے، تو مرزا صاحب سے ملنے گلی قاسم جان آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ رمضان کے متبرک
مہینے میں مرزا پچیسی کھیل رہے تھے۔
انہوں نے اعتراض کیا : “مرزا صاحب ہم نے سنا ہے کہ رمضان میں شیطان بند کر دیا جاتا ہے۔“
مرزا غالب نے جواب دیا “مفتی صاحب آپ نے ٹھیک سنا ہے۔ شیطان جہاں قید کیا جاتا ہے، وہ کوٹھری یہی ہے۔“
انہوں نے اعتراض کیا : “مرزا صاحب ہم نے سنا ہے کہ رمضان میں شیطان بند کر دیا جاتا ہے۔“
مرزا غالب نے جواب دیا “مفتی صاحب آپ نے ٹھیک سنا ہے۔ شیطان جہاں قید کیا جاتا ہے، وہ کوٹھری یہی ہے۔“
ایک روز غالب نے اپنے شاگردوں کو ہدایت کی۔
جوں ہی میری روح جسدِ خاکی کو چھوڑے، تم بھاگ کر کہیں سے پرانا کفن لانا اور مجھے اس میں لپیٹ کر دفنا دینا۔
ایک شاگرد بولا، استادِ محترم، یہ تو بتائیے، اس سے آپ کو کیا فائدہ پہنچے گا۔
غالب نے کہا، کم بخت اتنی سی بات بھی نہیں سمجھے کہ منکر نکیر تشریف لائیں گے تو پرانے کفن کو دیکھتے ہی سوال جواب کیے بغیر ہی لوٹ جائیں گے، کیونکہ پرانا کفن دیکھ کر وہ سمجھیں گے کہ اس جگہ غلطی سے دوبارہ آ گئے ہیں۔
جوں ہی میری روح جسدِ خاکی کو چھوڑے، تم بھاگ کر کہیں سے پرانا کفن لانا اور مجھے اس میں لپیٹ کر دفنا دینا۔
ایک شاگرد بولا، استادِ محترم، یہ تو بتائیے، اس سے آپ کو کیا فائدہ پہنچے گا۔
غالب نے کہا، کم بخت اتنی سی بات بھی نہیں سمجھے کہ منکر نکیر تشریف لائیں گے تو پرانے کفن کو دیکھتے ہی سوال جواب کیے بغیر ہی لوٹ جائیں گے، کیونکہ پرانا کفن دیکھ کر وہ سمجھیں گے کہ اس جگہ غلطی سے دوبارہ آ گئے ہیں۔
ایک دفعہ مرزا غالب گلی میں بیٹھے آم کھا
رہے تھے ان کے پاس ان کا ایک دوست بھی بیٹھا تھا جو کہ آم نہیں کھاتا تھا اسی وقت
وہاں سے ایک گدھے کا گزر ہوا تو غالب نے آم کے چھلکے گدھے کے آگے پھینک دیے گدھے
نے چھلکوں کو سونگھا اور چلتا بنا تو
غالب کے دوست نے سینا پھلا کر کہا دیکھا مرزا گدھے بھی آم نہیں کھاتے
مرزا نے بڑے اطمینان سے کہا کہ جی ہاں دیکھ رہا ہوں گدھے آم نہیں کھاتے.
غالب کے دوست نے سینا پھلا کر کہا دیکھا مرزا گدھے بھی آم نہیں کھاتے
مرزا نے بڑے اطمینان سے کہا کہ جی ہاں دیکھ رہا ہوں گدھے آم نہیں کھاتے.
ریاست رام پور کے نواب کلب علی خان انگریز گورنر سے
ملاقات کیلئے بریلی گئے تو مرزا اسد اللہ خان غالب بھی انکے ہمراہ تھے، انہیں دلی
جانا تھا بوقت روانگی نواب صاحب نے مرزا سے کہا۔۔
مرزا صاحب الوداع خدا کے سپرد۔
مرزا غالب جھٹ بولے۔
حضرت خدا نے تو مجھے آپ کے سپرد کیا تھا، اب آپ الٹا مجھے خدا کے سپرد کر رہے ہیں۔
مرزا صاحب الوداع خدا کے سپرد۔
مرزا غالب جھٹ بولے۔
حضرت خدا نے تو مجھے آپ کے سپرد کیا تھا، اب آپ الٹا مجھے خدا کے سپرد کر رہے ہیں۔
ایک روز سید سردار میرزا کے ہاں تشریف
لائے جب تھوڑی دیر کے بعد جانے لگے تو مرزا شمع دان لے کر لب فرش تک آئے تاکہ وہ
روشنی میں جوتا دیکھ کر پہن لیں۔ انہوں نے کہا "۔۔۔ قبلہ و کعبہ آپ نے اس قدر
زحمت فرمائی میں اپنا جوتا پہن لیتا"
مرزا ہنس کر بولے ۔۔۔ بھئی میں آپ کا جوتا دکھانے کو شمع دان نہیں لایا بلکہ اس احتیاط سے لایا ہوں کہیں آپ میرا جوتا نہ پہن جائیں۔
مرزا ہنس کر بولے ۔۔۔ بھئی میں آپ کا جوتا دکھانے کو شمع دان نہیں لایا بلکہ اس احتیاط سے لایا ہوں کہیں آپ میرا جوتا نہ پہن جائیں۔
غدر کے بعد مرزا غالب بھی قید ہو گئے۔ ان کو جب وہاں کے
کمانڈنگ آفیسر کرنل براؤن کے سامنے پیش کیا گیا تو کرنل نے مرزا کی وضع قطع دیکھ
کر پوچھا۔
ویل، ٹم مسلمان ہے۔
مرزا نے کہا، جناب، آدھا مسلمان ہوں۔
کرنل بولا۔ کیا مطلب؟
مرزا نے کہا، جناب شراب پیتا ہوں، سؤر نہیں کھاتا۔
ویل، ٹم مسلمان ہے۔
مرزا نے کہا، جناب، آدھا مسلمان ہوں۔
کرنل بولا۔ کیا مطلب؟
مرزا نے کہا، جناب شراب پیتا ہوں، سؤر نہیں کھاتا۔
ایک مرتبہ جب ماہِ رمضان گزر چکا تو
بہادر شاہ ظفر نے مرزا صاحب سے پوچھا کہ: مرزا، تم نے کتنے روزے رکھے؟
غالب نے جواب دیا: پیر و مرشد ، ایک نہیں رکھا۔
غالب نے جواب دیا: پیر و مرشد ، ایک نہیں رکھا۔
غالب کی مفلسی کا زمانہ چل رہا تھا، پاس پھوٹی کوڑی تک
نہیں تھی اور قرض خواہ مزید قرض دینے سے انکاری۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک شام
انکے پاس پینے کیلیے بھی پیسے نہ تھے، مرزا نے سنِ شعور کے بعد شاید ہی کوئی شام
مے کے بغیر گزاری ہو، سو وہ شام ان کیلیے عجیب قیامت تھی۔
مغرب کی اذان کے ساتھ ہی مرزا اٹھے اور مسجد جا پہنچے کہ آج نماز ہی پڑھ لیتے ہیں۔ اتنی دیر میں انکے کے دوست کو خبر ہوگئی کہ مرزا آج "پیاسے" ہیں اس نے جھٹ بوتل کا انتظام کیا اور مسجد کے باہر پہنچ کر وہیں سے مرزا کو بوتل دکھا دی۔
مرزا، وضو کر چکے تھے، بوتل کا دیکھنا تھا کہ فورا جوتے پہن مسجد سے باہر نکلنے لگے۔ مسجد میں موجود ایک شناسا نے کہا، مرزا ابھی نماز پڑھی نہیں اور واپس جانے لگے ہو۔
مرزا نے کہا، قبلہ جس مقصد کیلیے نماز پڑھنے آیا تھا وہ تو نماز پڑھنے سے پہلے ہی پورا ہو گیا ہے اب نماز پڑھ کر کیا کروں گا۔
مغرب کی اذان کے ساتھ ہی مرزا اٹھے اور مسجد جا پہنچے کہ آج نماز ہی پڑھ لیتے ہیں۔ اتنی دیر میں انکے کے دوست کو خبر ہوگئی کہ مرزا آج "پیاسے" ہیں اس نے جھٹ بوتل کا انتظام کیا اور مسجد کے باہر پہنچ کر وہیں سے مرزا کو بوتل دکھا دی۔
مرزا، وضو کر چکے تھے، بوتل کا دیکھنا تھا کہ فورا جوتے پہن مسجد سے باہر نکلنے لگے۔ مسجد میں موجود ایک شناسا نے کہا، مرزا ابھی نماز پڑھی نہیں اور واپس جانے لگے ہو۔
مرزا نے کہا، قبلہ جس مقصد کیلیے نماز پڑھنے آیا تھا وہ تو نماز پڑھنے سے پہلے ہی پورا ہو گیا ہے اب نماز پڑھ کر کیا کروں گا۔
مرزا غالب شطرنج کے بڑے شوقین تھے۔
مولانا فیض الحسن سہارنپوری دلی میں نئے نئے آئے تھے۔ غالب کو پتا چلا کہ وہ بھی
شطرنج کے اچھے کھلاڑی ہیں تو انہیں دعوت دی اور کھانے کے بعد شطرنج کی بساط بچھا
دی۔ ادھر سے کچھ کوڑا کرکٹ ڈھونے والے گدھے گزرے تو
مولانا نے کہا “دلی میں گدھے بہت ہیں!“
مرزا غالب نے سر اٹھا کر دیکھا اور بولے “ہاں بھائی، باہر سے آ جاتے ہیں۔“
مولانا نے کہا “دلی میں گدھے بہت ہیں!“
مرزا غالب نے سر اٹھا کر دیکھا اور بولے “ہاں بھائی، باہر سے آ جاتے ہیں۔“
مرحوم کی یاد میں - پطرس بخاری
مرحوم کی یاد میں
پطرس بخاری
رات کو خواب میں دعائیں مانگتا رہا کہ خدایا مرزا بائیسکل دینے پر رضامند ہوجائے۔ صبح اٹھا تو اٹھنے کے ساتھ ہی نوکر نے یہ خوشخبری سنائی کے حضور وہ بائیسکل آگئی ہے۔
میں نے کہا۔ "اتنے سویرے؟"
نوکر نے کہا۔ "وہ تو رات ہی کو آگئی تھی، آپ سو گئے تھے میں نے جگانا مناسب نہ سمجھا اور ساتھ ہی مرزا صاحب کا آدمی یہ ڈھبریاں کسنے کا ایک اوزار بھی دے گیا ہے"۔
میں حیران تو ہوا کہ مرزا صاحب نے بائیسکل بھجوادینے میں اس قدر عجلت سے کیوں کام لیا لیکن اس نتیجے پر پہنچا کہ آدمی نہایت شریف اور دیانت دار ہیں۔ روپےلے ليے تھے تو بائیسکل کیوں روک رکھتے۔
نوکر سے کہا۔ "دیکھو یہ اوزار یہیں چھوڑ جاؤ اور دیکھو بائیسکل کو کسی کپڑے سے خوب اچھی طرح جھاڑو۔ اور یہ موڑ پر جو بائیسکلوں والا بیٹھتا ہے اس سے جا کر بائیسکل میں ڈالنے کا تیل لے آؤ اور دیکھو، اے بھاگا کہاں جارہا ہے ہم ضروری بات تم سے کہہ رہے ہیں، بائیسکل والے سے تیل کی ایک کپی بھی لے آنا ا ور جہاں جہاں تیل دینے کی جگہ ہے وہاں تیل دے دینا اور بائیسکلوں والے سے کہنا کہ کوئی گھٹیا سا تیل نہ دیدے۔ جس سے تمام پرزے ہی خراب ہوجائیں، بائیسکل کے پرزے بڑے نازک ہوتے ہیں اور بائیسکل باہر نکال رکھو، ہم ابھی کپڑے پہن کر آتے ہیں۔ ہم ذرا سیر کو جارہےہیں اور دیکھو صاف کردینا اور بہت زور زور سے کپڑا بھی مت رگڑنا، بائیسکل کا پالش گھس جاتا ہے"۔
جلدی جلدی چائے پی، غسل خانے میں بڑے جوش خروش کے ساتھ "چل چل چنبیلی باغ میں" گاتا رہا اس کے بعد کپڑے بدلے، اوزار کو جیب میں ڈالا اور کمرے سے باہر نکلا۔
برآمدے میں آیا تو برآمدے کے ساتھ ہی ایک عجیب وغریب مشین پر نظر پڑی۔ ٹھیک طرح پہچان نہ سکا کہ کیا چیز ہے، نوکر سے دریافت کیا۔ "کیوں بے یہ کیا چیز ہے؟"
نوکر بولا۔ "حضور یہ بائیسکل ہے"۔
میں نے کہا۔ "بائیسکل؟ کس کی بائیسکل؟"
کہنے لگا۔ "مرزا صاحب نے بھجوائی ہے آپ کے ليے"۔
میں نے کہا۔ "اور جو بائیسکل رات کو انہوں نے بھیجی تھی وہ کہاں گئی؟"
کہنے لگا۔ "یہی تو ہے"۔
میں نے کہا۔ "کیا بکتا ہے جو بائیسکل مرزا صاحب نے کل رات کو بھیجی تھی وہ بائیسکل یہی ہے؟"
کہنے لگا۔ "جی ہاں"۔
میں نے کہا۔ "اچھا" اور پھر اسے دیکھنے لگا۔ اس کو صاف کیوں نہیں کیا؟"
"اس کو دو تین دفعہ صاف کیا ہے؟"
"تو یہ میلی کیوں ہے؟"
نوکر نے اس کا جواب دینا شاید مناسب نہ سمجھا۔
"اور تیل لايا؟"
"ہاں حضور لایا ہوں"۔
"دیا"؟
"حضور وہ تیل دینے کے چھید ہوتے ہیں وہ نہیں ملتے"۔
"کیا وجہ ہے؟"
"حضور دُھروں پر میل اور زنگ جما ہے۔ وہ سوراخ کہیں بیچ ہی میں دب دبا گئے ہیں"۔
رفتہ رفتہ میں اس چیز کے قریب آیا۔ جس کو میرا نوکر بائیسکل بتا رہا تھا۔ اس کے مختلف پرزوں پر غور کیا تو اتنا تو ثابت ہوگیا کہ یہ بائیسکل ہے لیکن مجموعی ہیئت سے یہ صاف ظاہر تھا کہ بل اور رہٹ اور چرخہ اور اس طرح کی ایجادات سے پہلے کی بنی ہوئی ہے۔ پہیے کو گھما گھما کر وہ سوراخ تلاش کیا جہاں کسی زمانے میں تیل دیا جاتا تھا۔ لیکن اب اس سوراخ میں سے آمدورفت کا سلسلہ بند تھا۔ چنانچہ نوکر بولا۔ "حضور وہ تیل تو سب ادھر اُدھربہہ جاتا ہے۔ بیچ میں تو جاتا ہی نہیں۔"
میں نے کہا۔ "اچھا اوپر اوپر ہی ڈال دو یہ بھی مفید ہوتا ہے"۔
آخرکار بائیسکل پر سوار ہوا۔ پہلا ہی پاؤں چلایا تو ایسا معلوم ہوا جیسے کوئی مردہ اپنی ہڈیاں چٹخا چٹخا کر اپنی مرضی کے خلاف زندہ ہو رہا ہے۔ گھر سے نکلتے ہی کچھ تھوڑی سی اترائی تھی اس پر بائیسکل خودبخود چلنے لگی لیکن اس رفتار سے جیسے تارکول زمین پر بہتا ہے اور ساتھ ہی مختلف حصوں سے طرح طرح کی آوازیں برآمد ہونی شروع ہوئی۔ ان آوازوں کے مختلف گروہ تھے۔ چیں۔ چاں۔ چوں کی قسم آوازیں زیادہ تر گدی کے نیچے اور پچھلے پہیے سے نکلتی تھیں۔ کھٹ، کھڑکھڑ۔کھڑڑ کے قبیل کی آوازیں مڈگارڈوں سے آتی تھی۔ چر۔ چرخ۔ چر۔چرخ کی قسم کے سُر زنجیر اور پیڈل سے نکلتے تھے۔ زنجیر ڈھیلی ڈھیلی تھی۔ میں جب کبھی پیڈل پر زور ڈالتا تھا، زنجیر میں ایک انگڑائی سی پیدا ہوتی تھی جس سے وہ تن جاتی تھی اور چڑچڑ بولنے لگتی تھی اور پھر ڈھیلی ہوجاتی تھی۔ پچھلا پہیہ گھونے کے علاوہ جھومتا بھی تھا۔ یعنی ایک تو آگے کو چلتا تھا اور اس کے علاوہ دہنے سے بائیں اور بائیں سے دہنے کو بھی حرکت کرتا تھا۔ چنانچہ سڑک پر جو نشان پڑ جاتا تھا اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی مخمور سانپ لہرا کر نکل گیا ہے۔ مڈگارڈ تھے تو سہی لیکن پہیوں کے عین اوپر نہ تھے۔ ان کا فائدہ صرف یہ معلوم ہوتا تھا کہ انسان شمال کی سمت سیر کرنے کو نکلے اور آفتاب مغرب میں غروب ہورہا ہو تو مڈگارڈوں کی بدولت ٹائر دھوپ سے بچے رہیں گے۔
اگلے پہیے کے ٹائر میں ایک بڑا سا پیوند لگا تھا جس کی وجہ سے پہیہ ہر چکر میں ایک دفعہ لمحہ بھر کو زور سے اوپر اُٹھ جاتا تھا اور میرا سر پیچھے کو یوں جھٹکے کھا رہا تھا جیسے کوئی متواتر تھوڑی کے نیچے مکے مارے جا رہا ہو۔ پچھلے اور اگلے پہیے کو ملا کر چوں چوں پھٹ۔ چوں چوں پھٹ۔۔۔ کی صدا نکل رہی تھی۔ جب اتار پر بائیسکل ذراتیز ہوئی توفضاء میں ایک بھونچال سا آگیا۔ اور بائیسکل کے کئی اور پرزے جو اب تک سو رہےتھے۔ بیدار ہو کر گویا ہوئے۔ ادھر اُدھرکے لوگ چونکے۔ ماؤں نے اپنے بچوں کو اپنے سینوں سے لگا لیا۔ کھڑڑکھڑڑ کےبیچ میں پہیوں کی آواز جدا سنائی رہی تھی لیکن چونکہ بائیسکل اب پہلے سے تیز تھی اس ليے چوں چوں پھٹ، چوں چوں پھٹ کی آواز نے اب چچوں پھٹ، چچوں پھٹ، کی صورت اختیار کرلی تھی۔ تمام بائیسکل کسی ادق افریقی زبان کی گردانیں دہرا رہی تھی۔
اس قدر تیز رفتاری بائیسکل کی طبع نازک پر گراں گزری۔ چنانچہ اس میں یک لخت دو تبدیلیاں واقع ہوگئیں۔ ایک تو ہینڈل ایک طرف کو مڑ گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں جاتو سامنے کو رہا تھا لیکن میرا تمام جسم دائیں طرف کو مڑا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بائیسکل کی گدی دفعتہً چھ انچ کے قریب نیچے بیٹھ گئی۔ چنانچہ جب پیڈل چلانے کے ليے میں ٹانگیں اوپر نیچے کر رہا تھا تو میرے گھٹنے میری تھوڑی تک پہنچ جاتے تھے۔ کمردہری ہو کر باہر کو نکلی ہوئی تھی اور ساتھ ہی اگلے پہیے کی اٹھیکیلوں کی وجہ سے سر برابر جھٹکے کھا رہا تھا۔
گدی کا نیچا ہوجانا ازحد تکلیف دہ ثابت ہوا۔ اس ليے میں نے مناسب یہی سمجھا کہ اس کو ٹھیک کرلوں۔ چنانچہ میں نے بائیسکل کو ٹھہرا لیا اور نیچے اترا۔ بائیسکل کے ٹھہر جانے سے یک لخت جیسے دنیا میں ایک خاموشی سی چھا گئی۔ ایسا معلوم ہوا جیسے میں کسی ریل کے اسٹیشن سے نکل کر باہر آگیا ہوں۔ جیب سے میں نے اوزار نکالا، گدی کو اونچا کیا، کچھ ہینڈل کو ٹھیک کیا اور دوبارہ سوار ہوگیا۔
دس قدم بھی چلنے نہ پایا تھا کہ اب کے ہینڈل یک لخت نیچا ہوگیا۔ اتنا کہ گدی اب ہینڈل سے کوئی فٹ بھر اونچی تھی۔ میرا تمام جسم آگے کو جھکا ہوا تھا، تمام بوجھ دونوں ہاتھوں پر تھا جو ہینڈل پر رکھے تھے اور برابر جھٹکے کھا رہے تھے۔ آپ میری حالت کو تصور کریں تو آپ معلوم ہوگا کہ میں دور سے ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے کوئی عورت آٹا گوندھ رہی ہو۔ مجھے اس مشابہت کا احساس بہت تیز تھا جس کی وجہ سے میرے ماتھے پر پسینہ آگیا۔ میں دائیں بائیں لوگوں کو کنکھیوں سے دیکھتا جاتا تھا۔ یوں تو ہر شخص میل بھر پہلے ہی سے مڑ مڑ کر دیکھنے لگتا تھا لیکن ان میں کوئی بھی ایسا نہ تھا جس کے لیے میری مصیبت ضیافت طبع کا باعث نہ ہو۔
ہینڈل تو نیچا ہو ہی گیا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد گدی بھی پھر نیچی ہوگئی اور میں ہمہ تن زمین کے قریب پہنچ گیا۔ ایک لڑکے نے کہا۔ "دیکھو یہ آدمی کیا کر رہا ہے"۔ گویا اس بدتمیز کے نزدیک میں کوئی کرتب دکھا رہا تھا۔ میں نے اتر کر پھر ہینڈل اور گدی کو اونچا کیا۔
لیکن تھوڑی دیر کے بعد ان میں سے ایک نہ ایک پھر نیچا ہوجاتا۔ وہ لمحے جن کے دوران میں میرا ہاتھ اور میرا جسم دونوں ہی بلندی پر واقع ہوں بہت ہی کم تھے اور ان میں بھی میں یہی سوچتا رہتا تھا کہ اب کہ گدی پہلے بیٹھے گی یا ہینڈل؟ چنانچہ نڈر ہو کر نہ بیٹھتا بلکہ جسم کو گدی سے قدرے اوپر ہی رکھتا لیکن اس سے ہینڈل پر اتنا بوجھ پڑ جاتا کہ وہ نیچا ہوجاتا۔
جب دو میل گزر گئے اور بائیسکل کی اٹھک بیٹھک نے ایک مقرر باقاعدگی اختیار کرلی تو فیصلہ کیا کہ کسی مستری سے پیچ کسوا لینے چاہئیں چنانچہ بائیسکل کو ایک دکان پر لے گیا۔ بائیسکل کی کھڑکھڑ سے دوکان میں جتنے لوگ کام کر رہے تھے، سب کے سب سر اٹھا کر میری طرف دیکھنے لگے لیکن میں نے جی کڑا کرکے کہا۔
"ذرا اس کی مرمت کردیجئے"۔
ایک مستری آگے بڑھا لوہے کی ایک سلاخ اس کے ہاتھ میں تھی جس سے اس نے مختلف حصوں کو بڑی بےدردی سے ٹھوک بجا کر دیکھا۔ معلوم ہوتا تھا اس نے بڑی تیزی کے ساتھ سب حالات کا اندازہ لگا لیا ہے لیکن پھر بھی مجھ سے پوچھنے لگا۔
"کس کس پرزے کی مرمت کرائیے گا"؟
میں نے کہا۔ "بڑے گستاخ ہو تم دیکھتے نہیں کہ صرف ہینڈل اور گدی کو ذرا اونچا کروا کے کسوانا ہے بس اور کیا؟ ان کو مہربانی کرکے فوراً ٹھیک کرو اور بتاؤ کتنے پیسے ہوئے؟"
مستری نے کہا۔ "مڈگارڈ بھی ٹھیک نہ کردوں؟"
میں نے کہا۔ "ہاں، وہ بھی ٹھیک کردو"۔
کہنے لگا۔ " اگر آپ باقی چیزیں بھی ٹھیک کرالیں تو اچھا ہو"۔
میں نے کہا۔ "اچھا کردو"۔
بولا۔ "یوں تھوڑا ہوسکتا ہے۔ دس پندرہ دن کا کام ہے آپ اسے ہمارے پاس چھوڑ جائیے۔"
"اور پیسے کتنے لو گے؟"
کہنے لگا۔ "بس چالیس روپے لگیں گے"۔
ہم نے کہا۔ "بس جی جو کام تم سے کہا ہے کردو اور باقی ہمارے معاملات میں دخل مت دو۔"
تھوڑی دیر بعد ہینڈل اور گدی پھر اونچی کرکے کس دی گئی۔ میں چلنے لگا تو مستری نے کہا میں نے کس تو دیا ہے لیکن پیچ سب گھسے ہوئے ہیں، ابھی تھوڑی دیر میں پھر ڈھیلے ہو جائیں گے۔"
میں نے کہا۔ "بدتمیز کہیں کا،تو دو آنے پیسے مفت میں لے ليے؟"
بولا۔ "جناب آپ کو بائیسکل بھی مفت میں ملی ہوگی، یہ آپ کے دوست مرزا صاحب کی ہے نا؟ للّو یہ وہی بائیسکل ہے جو پچھلے سال مرزا صاحب یہاں بیچنے کو لائے تھے۔ پہچانی تم نے؟ بھئی صدیاں ہی گزر گئیں لیکن اس بائیسکل کی خطاء معاف ہونے میں نہیں آتی۔"
میں نے کہا۔ "واہ مرزا صاحب کے لڑکے اس پر کالج آیا جایا کرتے تھے اور ان کو ابھی کالج چھوڑے دو سال بھی نہیں ہوئے۔"
مستری نے کہا۔ "ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن مرزا صاحب خود جب کالج میں پڑھتے تھے تو ان کے پاس بھی تو یہی بائیسکل تھی۔"
میری طبیعت یہ سن کر کچھ مردہ سی ہوگئی۔ میں نے بائیسکل کو ساتھ ليے آہستہ آہستہ پیدل چل پڑا۔ لیکن پیدل چلنا بھی مشکل تھا۔ اس بائیسکل کے چلانے میں ایسے ایسے پٹھوں پر زور پڑتا تھا جو عام بائیسکلوں کو چلانے میں استعمال نہیں ہوتے۔ اس ليے ٹانگوں اور کندھوں اور کمر اور بازوؤں میں جابجا درد ہورہا تھا۔ مرزا کا خیال رہ رہ کر آتا تھا۔ لیکن میں ہر بار کوشش کرکے اسے دل سے ہٹا دیتا تھا، ورنہ میں پاگل ہوجاتا اور جنون کی حالت میں پہلے حرکت مجھ سے یہ سرزد ہوئی کہ مرزا کے مکان کے سامنے بازار میں ایک جلسہ منعقدکرتا جس میں مرزا کی مکاری، بےایمانی اور دغابازی پر ایک طویل تقریر کرتا۔ کل بنی نوع انسان اور آئندہ آنے والی نسلوں کی ناپاک فطرت سے آگاہ کردیتا اور اس کے بعد ایک چتا جلا کر اس میں زندہ جل کر مرجاتا۔
میں نے بہتر یہی سمجھا کہ جس طرح ہوسکے اب اس بائیسکل کو اونے پونے داموں میں بیچ کر جو وصول ہوااسی پر صبر شکر کروں۔ بلا سے دس پندرہ روپیہ کا خسارہ سہی۔ چالیس کے چالیس روپے تو ضائع نہ ہوں گے۔ راستے میں بائیسکلوں کی ایک اور دکان آئی وہاں ٹھہر گیا۔
دکاندار بڑھ کر میرے پاس آیا لیکن میری زبان کو جیسے قفل لگ گیا تھا۔ عمر بھر کسی چیز کے بیچنے کی نوبت نہ آئی تھی مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ ایسے موقع پر کیا کہتے ہیں آخر بڑے سوچ بچار اور بڑے تامل کے بعد منہ سے صرف اتنا نکلا کہ یہ "بائیسکل" ہے۔
دکاندار کہنے لگا۔ "پھر؟"
میں نے کہا۔ "لو گے"۔
کہنے لگا۔ "کیا مطلب؟"
میں نے کہا۔ "بیچتے ہیں ہم۔"
دکاندار نے مجھے ایسے نظر سے دیکھا کہ مجھے یہ محسوس ہوا مجھ پر چوری کا شبہ کر رہا ہے۔ پھر بائیسکل کو دیکھا۔ پھر مجھے دیکھا، پھر بائیسکل کو دیکھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ فیصلہ نہیں کرسکتا آدمی کون سا ہے اور بائیسکل کون سی ہے؟ آخرکار بولا۔ "کیا کریں گے آپ اس کو بیچ کر؟"
ایسے سوالوں کا خدا جانے کیا جواب ہوتا ہے۔ میں نے کہا۔ "کیا تم یہ پوچھنا چاہتے ہو کہ جو روپے مجھے وصول ہوں گے ان کا مصرف کیا ہوگا؟"
کہنے لگا۔ "وہ تو ٹھیک ہے مگر کوئی اس کو لے کر کرے گا کیا؟"
میں نے کہا۔ "اس پر چڑھے گا اور کیا کرے گا۔"
کہنے لگا۔ "اچھا چڑھ گیا۔ پھر؟"
میں نے کہا۔ "پھر کیا؟ پھر چلائے گا اور کیا؟"
دکاندار بولا۔ "اچھا؟ ہوں۔ خدا بخش ذرا یہاں آنا۔ یہ بائیسکل بکنے آئی ہے۔"
جن حضرت کا اسم گرامی خدا بخش تھا انہوں نے بائیسکل کو دور ہی سے یوں دیکھا جیسے بو سونگھ رہے ہوں۔ اس کے بعد دونوں نے آپس میں مشورہ کیا، آخر میں وہ جن کا نام خدا بخش نہیں تھا میرے پاس آئے اور کہنے لگے۔ "تو آپ سچ مچ بیچ رہے ہیں؟"
میں نے کہا۔ "تو اور کیا محض آپ سے ہم کلام ہونے کا فخر حاصل کرنے کے ليے میں گھر سے یہ بہانہ گھڑ کر لایا تھا؟"
کہنے لگا۔ "تو کیا لیں گے آپ؟"
میں نے کہا۔ "تم ہی بتاؤ۔"
کہنے لگا۔ "سچ مچ بتاؤں؟"
میں نے کہا۔ "اب بتاؤ گے بھی یا یوں ہی ترساتے رہو گے؟"
کہنے لگا۔ "تین روپے دوں گااس کے۔"
میرا خون کھول اٹھا اور میرے ہاتھ پاؤں اور ہونٹ غصے کے مارے کانپنے لگے۔ میں نے کہا۔"او صنعت وحرفت سے پیٹ پالنے والے نچلے طبقے کے انسان، مجھے اپنی توہین کی پروا نہیں لیکن تونے اپنی بیہودہ گفتاری سے اس بےزبان چیز کو جو صدمہ پہنچایا ہے اس کے ليے میں تجھے قیامت تک معاف نہیں کرسکتا۔"
یہ کہہ کر میں بائیسکل پر سوار ہوگیا اور اندھا دھند پاؤں چلانے لگا۔
مشکل سے بیس قدم گیا ہوں گاکہ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ جیسے زمین یک لخت اچھل کر مجھ سے آلگی ہے۔ آسمان میرے سر پر سے ہٹ کر میری ٹانگوں کے بیچ میں سے گزر گیا اور ادھر اُدھر کی عمارتوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اپنی اپنی جگہ بدل لی ہے۔ حواس بجا ہوئے تو معلوم ہوا میں زمین پر اس بےتکلفی سے بیٹھا ہوں، گویا بڑی مدت سے مجھے اس بات کا شوق تھا جو آج پورا ہوا۔ اردگرد کچھ لوگ جمع تھے جس میں سے اکثر ہنس رہے تھے۔ سامنے دکان تھی جہاں ابھی ابھی میں نے اپنی ناکام گفت وشنید کا سلسلہ منقطع کیا تھا۔ میں نے اپنے گردوپیش پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ میری بائیسکل کا اگلہ پہیہ بالکل ہو کر لڑھکتا ہوا سڑک کے اس پار جاپہنچا ہے اور باقی سائیکل میرے پاس پڑی ہے۔ میں نے فوراً اپنے آپ کو سنبھالا جو پہیہ الگ ہوگیا تھا اس کو ایک ہاتھ میں اٹھایا دوسرے ہاتھ میں باقی ماندہ بائیسکل کو تھاما اور چل کھڑا ہوا۔ یہ محض ایک اضطراری حرکت تھی ورنہ حاشادکلا وہ بائیسکل مجھے ہرگز اتنی عزیز نہ تھی کہ میں اس کو اس حالت میں ساتھ ساتھ لیے پھرتا۔
جب میں یہ سب کچھ اٹھا کر چل دیا تو میں نے اپنے آپ سے پوچھا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو، کہاں جارہے ہو؟ تمہارارادہ کیا ہے۔ یہ دو پہیے کاہے کو لے جارہے ہو؟
سب سوالوں کا جواب یہی ملا کہ دیکھا جائے گا۔ فی الحال تم یہاں سے چل دو۔ سب لوگ تمہیں دیکھ رہے ہیں۔ سر اونچا رکھو اور چلتے جاؤ۔ جو ہنس رہے ہیں، انہیں ہنسنے دو، اس قسم کے بیہودہ لوگ ہر قوم اور ہر ملک میں پائے جاتے ہیں۔ آخر ہوا کیا۔ محض ایک حادثہ۔ بس دائیں بائیں مت دیکھو۔ چلتے جاؤ۔
لوگوں کے ناشائستہ کلمات بھی سنائی دے رہے تھے۔ ایک آواز آئی۔ "بس حضرت غصہ تھوک ڈالیئے۔" ایک دوسرے صاحب بولے۔ "بےحیا بائیسکل گھر پہنچ کے تجھے مزا چکھاؤں گا۔" ایک والد اپنے لخت جگر کی انگلی پکڑے جارہے تھے۔ میری طرف اشارا کرکے کہنے لگے۔ "دیکھا بیٹا یہ سرکس کی بائیسکل ہے۔ اس کے دونوں پہیے الگ الگ ہوتے ہیں۔"
لیکن میں چلتا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں آبادی سے دور نکل گیا۔ اب میری رفتار میں ایک عزیمت پائی جاتی تھی۔ میرا دل جو کئی گھنٹوں سے کشمکش میں پیچ وتاب کھا رہا تھا اب بہت ہلکا ہوگیا تھا۔ میں چلتا گیا چلتا گیا حتیٰ کہ دریا پر جاپہنچا۔ پل کے اوپر کھڑے ہوکر میں نے دونوں پہیوں کو ایک ایک کرکے اس بےپروائی کے ساتھ دریا میں پھینک دیا جیسے کوئی لیٹر بکس میں خط ڈالتا ہے۔ اور واپس شہر کو روانہ ہوگیا۔
سب سے پہلے مرزا کے گھر گیا۔ دروازا کھٹکھٹایا۔ مرزا بولے۔ "اندر آجاؤ"۔
میں نے کہا۔ آپ ذرا باہر تشریف لائیے۔ میں آپ جیسے خدا رسیدہ بزرگ کے گھر وضو کيے بغیر کیسے داخل ہوسکتا ہوں۔"
باہر تشریف لائے تو میں نے وہ اوزار ان کی خدمت میں پیش کیا جو انہوں نے بائیسکل کے ساتھ مفت ہی مجھ کو عنایت فرمایا تھا اور کہا:
"مرزا صاحب آپ ہی اس اوزار سے شوق فرمایا کیجیے میں اب سے بےنیاز ہوچکا ہوں۔"
گھر پہنچ کر میں نے پھر علم کیمیا کی اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا جو میں نے ایف۔اے میں پڑھی تھی۔
میں نے کہا۔ "اتنے سویرے؟"
نوکر نے کہا۔ "وہ تو رات ہی کو آگئی تھی، آپ سو گئے تھے میں نے جگانا مناسب نہ سمجھا اور ساتھ ہی مرزا صاحب کا آدمی یہ ڈھبریاں کسنے کا ایک اوزار بھی دے گیا ہے"۔
میں حیران تو ہوا کہ مرزا صاحب نے بائیسکل بھجوادینے میں اس قدر عجلت سے کیوں کام لیا لیکن اس نتیجے پر پہنچا کہ آدمی نہایت شریف اور دیانت دار ہیں۔ روپےلے ليے تھے تو بائیسکل کیوں روک رکھتے۔
نوکر سے کہا۔ "دیکھو یہ اوزار یہیں چھوڑ جاؤ اور دیکھو بائیسکل کو کسی کپڑے سے خوب اچھی طرح جھاڑو۔ اور یہ موڑ پر جو بائیسکلوں والا بیٹھتا ہے اس سے جا کر بائیسکل میں ڈالنے کا تیل لے آؤ اور دیکھو، اے بھاگا کہاں جارہا ہے ہم ضروری بات تم سے کہہ رہے ہیں، بائیسکل والے سے تیل کی ایک کپی بھی لے آنا ا ور جہاں جہاں تیل دینے کی جگہ ہے وہاں تیل دے دینا اور بائیسکلوں والے سے کہنا کہ کوئی گھٹیا سا تیل نہ دیدے۔ جس سے تمام پرزے ہی خراب ہوجائیں، بائیسکل کے پرزے بڑے نازک ہوتے ہیں اور بائیسکل باہر نکال رکھو، ہم ابھی کپڑے پہن کر آتے ہیں۔ ہم ذرا سیر کو جارہےہیں اور دیکھو صاف کردینا اور بہت زور زور سے کپڑا بھی مت رگڑنا، بائیسکل کا پالش گھس جاتا ہے"۔
جلدی جلدی چائے پی، غسل خانے میں بڑے جوش خروش کے ساتھ "چل چل چنبیلی باغ میں" گاتا رہا اس کے بعد کپڑے بدلے، اوزار کو جیب میں ڈالا اور کمرے سے باہر نکلا۔
برآمدے میں آیا تو برآمدے کے ساتھ ہی ایک عجیب وغریب مشین پر نظر پڑی۔ ٹھیک طرح پہچان نہ سکا کہ کیا چیز ہے، نوکر سے دریافت کیا۔ "کیوں بے یہ کیا چیز ہے؟"
نوکر بولا۔ "حضور یہ بائیسکل ہے"۔
میں نے کہا۔ "بائیسکل؟ کس کی بائیسکل؟"
کہنے لگا۔ "مرزا صاحب نے بھجوائی ہے آپ کے ليے"۔
میں نے کہا۔ "اور جو بائیسکل رات کو انہوں نے بھیجی تھی وہ کہاں گئی؟"
کہنے لگا۔ "یہی تو ہے"۔
میں نے کہا۔ "کیا بکتا ہے جو بائیسکل مرزا صاحب نے کل رات کو بھیجی تھی وہ بائیسکل یہی ہے؟"
کہنے لگا۔ "جی ہاں"۔
میں نے کہا۔ "اچھا" اور پھر اسے دیکھنے لگا۔ اس کو صاف کیوں نہیں کیا؟"
"اس کو دو تین دفعہ صاف کیا ہے؟"
"تو یہ میلی کیوں ہے؟"
نوکر نے اس کا جواب دینا شاید مناسب نہ سمجھا۔
"اور تیل لايا؟"
"ہاں حضور لایا ہوں"۔
"دیا"؟
"حضور وہ تیل دینے کے چھید ہوتے ہیں وہ نہیں ملتے"۔
"کیا وجہ ہے؟"
"حضور دُھروں پر میل اور زنگ جما ہے۔ وہ سوراخ کہیں بیچ ہی میں دب دبا گئے ہیں"۔
رفتہ رفتہ میں اس چیز کے قریب آیا۔ جس کو میرا نوکر بائیسکل بتا رہا تھا۔ اس کے مختلف پرزوں پر غور کیا تو اتنا تو ثابت ہوگیا کہ یہ بائیسکل ہے لیکن مجموعی ہیئت سے یہ صاف ظاہر تھا کہ بل اور رہٹ اور چرخہ اور اس طرح کی ایجادات سے پہلے کی بنی ہوئی ہے۔ پہیے کو گھما گھما کر وہ سوراخ تلاش کیا جہاں کسی زمانے میں تیل دیا جاتا تھا۔ لیکن اب اس سوراخ میں سے آمدورفت کا سلسلہ بند تھا۔ چنانچہ نوکر بولا۔ "حضور وہ تیل تو سب ادھر اُدھربہہ جاتا ہے۔ بیچ میں تو جاتا ہی نہیں۔"
میں نے کہا۔ "اچھا اوپر اوپر ہی ڈال دو یہ بھی مفید ہوتا ہے"۔
آخرکار بائیسکل پر سوار ہوا۔ پہلا ہی پاؤں چلایا تو ایسا معلوم ہوا جیسے کوئی مردہ اپنی ہڈیاں چٹخا چٹخا کر اپنی مرضی کے خلاف زندہ ہو رہا ہے۔ گھر سے نکلتے ہی کچھ تھوڑی سی اترائی تھی اس پر بائیسکل خودبخود چلنے لگی لیکن اس رفتار سے جیسے تارکول زمین پر بہتا ہے اور ساتھ ہی مختلف حصوں سے طرح طرح کی آوازیں برآمد ہونی شروع ہوئی۔ ان آوازوں کے مختلف گروہ تھے۔ چیں۔ چاں۔ چوں کی قسم آوازیں زیادہ تر گدی کے نیچے اور پچھلے پہیے سے نکلتی تھیں۔ کھٹ، کھڑکھڑ۔کھڑڑ کے قبیل کی آوازیں مڈگارڈوں سے آتی تھی۔ چر۔ چرخ۔ چر۔چرخ کی قسم کے سُر زنجیر اور پیڈل سے نکلتے تھے۔ زنجیر ڈھیلی ڈھیلی تھی۔ میں جب کبھی پیڈل پر زور ڈالتا تھا، زنجیر میں ایک انگڑائی سی پیدا ہوتی تھی جس سے وہ تن جاتی تھی اور چڑچڑ بولنے لگتی تھی اور پھر ڈھیلی ہوجاتی تھی۔ پچھلا پہیہ گھونے کے علاوہ جھومتا بھی تھا۔ یعنی ایک تو آگے کو چلتا تھا اور اس کے علاوہ دہنے سے بائیں اور بائیں سے دہنے کو بھی حرکت کرتا تھا۔ چنانچہ سڑک پر جو نشان پڑ جاتا تھا اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی مخمور سانپ لہرا کر نکل گیا ہے۔ مڈگارڈ تھے تو سہی لیکن پہیوں کے عین اوپر نہ تھے۔ ان کا فائدہ صرف یہ معلوم ہوتا تھا کہ انسان شمال کی سمت سیر کرنے کو نکلے اور آفتاب مغرب میں غروب ہورہا ہو تو مڈگارڈوں کی بدولت ٹائر دھوپ سے بچے رہیں گے۔
اگلے پہیے کے ٹائر میں ایک بڑا سا پیوند لگا تھا جس کی وجہ سے پہیہ ہر چکر میں ایک دفعہ لمحہ بھر کو زور سے اوپر اُٹھ جاتا تھا اور میرا سر پیچھے کو یوں جھٹکے کھا رہا تھا جیسے کوئی متواتر تھوڑی کے نیچے مکے مارے جا رہا ہو۔ پچھلے اور اگلے پہیے کو ملا کر چوں چوں پھٹ۔ چوں چوں پھٹ۔۔۔ کی صدا نکل رہی تھی۔ جب اتار پر بائیسکل ذراتیز ہوئی توفضاء میں ایک بھونچال سا آگیا۔ اور بائیسکل کے کئی اور پرزے جو اب تک سو رہےتھے۔ بیدار ہو کر گویا ہوئے۔ ادھر اُدھرکے لوگ چونکے۔ ماؤں نے اپنے بچوں کو اپنے سینوں سے لگا لیا۔ کھڑڑکھڑڑ کےبیچ میں پہیوں کی آواز جدا سنائی رہی تھی لیکن چونکہ بائیسکل اب پہلے سے تیز تھی اس ليے چوں چوں پھٹ، چوں چوں پھٹ کی آواز نے اب چچوں پھٹ، چچوں پھٹ، کی صورت اختیار کرلی تھی۔ تمام بائیسکل کسی ادق افریقی زبان کی گردانیں دہرا رہی تھی۔
اس قدر تیز رفتاری بائیسکل کی طبع نازک پر گراں گزری۔ چنانچہ اس میں یک لخت دو تبدیلیاں واقع ہوگئیں۔ ایک تو ہینڈل ایک طرف کو مڑ گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں جاتو سامنے کو رہا تھا لیکن میرا تمام جسم دائیں طرف کو مڑا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بائیسکل کی گدی دفعتہً چھ انچ کے قریب نیچے بیٹھ گئی۔ چنانچہ جب پیڈل چلانے کے ليے میں ٹانگیں اوپر نیچے کر رہا تھا تو میرے گھٹنے میری تھوڑی تک پہنچ جاتے تھے۔ کمردہری ہو کر باہر کو نکلی ہوئی تھی اور ساتھ ہی اگلے پہیے کی اٹھیکیلوں کی وجہ سے سر برابر جھٹکے کھا رہا تھا۔
گدی کا نیچا ہوجانا ازحد تکلیف دہ ثابت ہوا۔ اس ليے میں نے مناسب یہی سمجھا کہ اس کو ٹھیک کرلوں۔ چنانچہ میں نے بائیسکل کو ٹھہرا لیا اور نیچے اترا۔ بائیسکل کے ٹھہر جانے سے یک لخت جیسے دنیا میں ایک خاموشی سی چھا گئی۔ ایسا معلوم ہوا جیسے میں کسی ریل کے اسٹیشن سے نکل کر باہر آگیا ہوں۔ جیب سے میں نے اوزار نکالا، گدی کو اونچا کیا، کچھ ہینڈل کو ٹھیک کیا اور دوبارہ سوار ہوگیا۔
دس قدم بھی چلنے نہ پایا تھا کہ اب کے ہینڈل یک لخت نیچا ہوگیا۔ اتنا کہ گدی اب ہینڈل سے کوئی فٹ بھر اونچی تھی۔ میرا تمام جسم آگے کو جھکا ہوا تھا، تمام بوجھ دونوں ہاتھوں پر تھا جو ہینڈل پر رکھے تھے اور برابر جھٹکے کھا رہے تھے۔ آپ میری حالت کو تصور کریں تو آپ معلوم ہوگا کہ میں دور سے ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے کوئی عورت آٹا گوندھ رہی ہو۔ مجھے اس مشابہت کا احساس بہت تیز تھا جس کی وجہ سے میرے ماتھے پر پسینہ آگیا۔ میں دائیں بائیں لوگوں کو کنکھیوں سے دیکھتا جاتا تھا۔ یوں تو ہر شخص میل بھر پہلے ہی سے مڑ مڑ کر دیکھنے لگتا تھا لیکن ان میں کوئی بھی ایسا نہ تھا جس کے لیے میری مصیبت ضیافت طبع کا باعث نہ ہو۔
ہینڈل تو نیچا ہو ہی گیا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد گدی بھی پھر نیچی ہوگئی اور میں ہمہ تن زمین کے قریب پہنچ گیا۔ ایک لڑکے نے کہا۔ "دیکھو یہ آدمی کیا کر رہا ہے"۔ گویا اس بدتمیز کے نزدیک میں کوئی کرتب دکھا رہا تھا۔ میں نے اتر کر پھر ہینڈل اور گدی کو اونچا کیا۔
لیکن تھوڑی دیر کے بعد ان میں سے ایک نہ ایک پھر نیچا ہوجاتا۔ وہ لمحے جن کے دوران میں میرا ہاتھ اور میرا جسم دونوں ہی بلندی پر واقع ہوں بہت ہی کم تھے اور ان میں بھی میں یہی سوچتا رہتا تھا کہ اب کہ گدی پہلے بیٹھے گی یا ہینڈل؟ چنانچہ نڈر ہو کر نہ بیٹھتا بلکہ جسم کو گدی سے قدرے اوپر ہی رکھتا لیکن اس سے ہینڈل پر اتنا بوجھ پڑ جاتا کہ وہ نیچا ہوجاتا۔
جب دو میل گزر گئے اور بائیسکل کی اٹھک بیٹھک نے ایک مقرر باقاعدگی اختیار کرلی تو فیصلہ کیا کہ کسی مستری سے پیچ کسوا لینے چاہئیں چنانچہ بائیسکل کو ایک دکان پر لے گیا۔ بائیسکل کی کھڑکھڑ سے دوکان میں جتنے لوگ کام کر رہے تھے، سب کے سب سر اٹھا کر میری طرف دیکھنے لگے لیکن میں نے جی کڑا کرکے کہا۔
"ذرا اس کی مرمت کردیجئے"۔
ایک مستری آگے بڑھا لوہے کی ایک سلاخ اس کے ہاتھ میں تھی جس سے اس نے مختلف حصوں کو بڑی بےدردی سے ٹھوک بجا کر دیکھا۔ معلوم ہوتا تھا اس نے بڑی تیزی کے ساتھ سب حالات کا اندازہ لگا لیا ہے لیکن پھر بھی مجھ سے پوچھنے لگا۔
"کس کس پرزے کی مرمت کرائیے گا"؟
میں نے کہا۔ "بڑے گستاخ ہو تم دیکھتے نہیں کہ صرف ہینڈل اور گدی کو ذرا اونچا کروا کے کسوانا ہے بس اور کیا؟ ان کو مہربانی کرکے فوراً ٹھیک کرو اور بتاؤ کتنے پیسے ہوئے؟"
مستری نے کہا۔ "مڈگارڈ بھی ٹھیک نہ کردوں؟"
میں نے کہا۔ "ہاں، وہ بھی ٹھیک کردو"۔
کہنے لگا۔ " اگر آپ باقی چیزیں بھی ٹھیک کرالیں تو اچھا ہو"۔
میں نے کہا۔ "اچھا کردو"۔
بولا۔ "یوں تھوڑا ہوسکتا ہے۔ دس پندرہ دن کا کام ہے آپ اسے ہمارے پاس چھوڑ جائیے۔"
"اور پیسے کتنے لو گے؟"
کہنے لگا۔ "بس چالیس روپے لگیں گے"۔
ہم نے کہا۔ "بس جی جو کام تم سے کہا ہے کردو اور باقی ہمارے معاملات میں دخل مت دو۔"
تھوڑی دیر بعد ہینڈل اور گدی پھر اونچی کرکے کس دی گئی۔ میں چلنے لگا تو مستری نے کہا میں نے کس تو دیا ہے لیکن پیچ سب گھسے ہوئے ہیں، ابھی تھوڑی دیر میں پھر ڈھیلے ہو جائیں گے۔"
میں نے کہا۔ "بدتمیز کہیں کا،تو دو آنے پیسے مفت میں لے ليے؟"
بولا۔ "جناب آپ کو بائیسکل بھی مفت میں ملی ہوگی، یہ آپ کے دوست مرزا صاحب کی ہے نا؟ للّو یہ وہی بائیسکل ہے جو پچھلے سال مرزا صاحب یہاں بیچنے کو لائے تھے۔ پہچانی تم نے؟ بھئی صدیاں ہی گزر گئیں لیکن اس بائیسکل کی خطاء معاف ہونے میں نہیں آتی۔"
میں نے کہا۔ "واہ مرزا صاحب کے لڑکے اس پر کالج آیا جایا کرتے تھے اور ان کو ابھی کالج چھوڑے دو سال بھی نہیں ہوئے۔"
مستری نے کہا۔ "ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن مرزا صاحب خود جب کالج میں پڑھتے تھے تو ان کے پاس بھی تو یہی بائیسکل تھی۔"
میری طبیعت یہ سن کر کچھ مردہ سی ہوگئی۔ میں نے بائیسکل کو ساتھ ليے آہستہ آہستہ پیدل چل پڑا۔ لیکن پیدل چلنا بھی مشکل تھا۔ اس بائیسکل کے چلانے میں ایسے ایسے پٹھوں پر زور پڑتا تھا جو عام بائیسکلوں کو چلانے میں استعمال نہیں ہوتے۔ اس ليے ٹانگوں اور کندھوں اور کمر اور بازوؤں میں جابجا درد ہورہا تھا۔ مرزا کا خیال رہ رہ کر آتا تھا۔ لیکن میں ہر بار کوشش کرکے اسے دل سے ہٹا دیتا تھا، ورنہ میں پاگل ہوجاتا اور جنون کی حالت میں پہلے حرکت مجھ سے یہ سرزد ہوئی کہ مرزا کے مکان کے سامنے بازار میں ایک جلسہ منعقدکرتا جس میں مرزا کی مکاری، بےایمانی اور دغابازی پر ایک طویل تقریر کرتا۔ کل بنی نوع انسان اور آئندہ آنے والی نسلوں کی ناپاک فطرت سے آگاہ کردیتا اور اس کے بعد ایک چتا جلا کر اس میں زندہ جل کر مرجاتا۔
میں نے بہتر یہی سمجھا کہ جس طرح ہوسکے اب اس بائیسکل کو اونے پونے داموں میں بیچ کر جو وصول ہوااسی پر صبر شکر کروں۔ بلا سے دس پندرہ روپیہ کا خسارہ سہی۔ چالیس کے چالیس روپے تو ضائع نہ ہوں گے۔ راستے میں بائیسکلوں کی ایک اور دکان آئی وہاں ٹھہر گیا۔
دکاندار بڑھ کر میرے پاس آیا لیکن میری زبان کو جیسے قفل لگ گیا تھا۔ عمر بھر کسی چیز کے بیچنے کی نوبت نہ آئی تھی مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ ایسے موقع پر کیا کہتے ہیں آخر بڑے سوچ بچار اور بڑے تامل کے بعد منہ سے صرف اتنا نکلا کہ یہ "بائیسکل" ہے۔
دکاندار کہنے لگا۔ "پھر؟"
میں نے کہا۔ "لو گے"۔
کہنے لگا۔ "کیا مطلب؟"
میں نے کہا۔ "بیچتے ہیں ہم۔"
دکاندار نے مجھے ایسے نظر سے دیکھا کہ مجھے یہ محسوس ہوا مجھ پر چوری کا شبہ کر رہا ہے۔ پھر بائیسکل کو دیکھا۔ پھر مجھے دیکھا، پھر بائیسکل کو دیکھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ فیصلہ نہیں کرسکتا آدمی کون سا ہے اور بائیسکل کون سی ہے؟ آخرکار بولا۔ "کیا کریں گے آپ اس کو بیچ کر؟"
ایسے سوالوں کا خدا جانے کیا جواب ہوتا ہے۔ میں نے کہا۔ "کیا تم یہ پوچھنا چاہتے ہو کہ جو روپے مجھے وصول ہوں گے ان کا مصرف کیا ہوگا؟"
کہنے لگا۔ "وہ تو ٹھیک ہے مگر کوئی اس کو لے کر کرے گا کیا؟"
میں نے کہا۔ "اس پر چڑھے گا اور کیا کرے گا۔"
کہنے لگا۔ "اچھا چڑھ گیا۔ پھر؟"
میں نے کہا۔ "پھر کیا؟ پھر چلائے گا اور کیا؟"
دکاندار بولا۔ "اچھا؟ ہوں۔ خدا بخش ذرا یہاں آنا۔ یہ بائیسکل بکنے آئی ہے۔"
جن حضرت کا اسم گرامی خدا بخش تھا انہوں نے بائیسکل کو دور ہی سے یوں دیکھا جیسے بو سونگھ رہے ہوں۔ اس کے بعد دونوں نے آپس میں مشورہ کیا، آخر میں وہ جن کا نام خدا بخش نہیں تھا میرے پاس آئے اور کہنے لگے۔ "تو آپ سچ مچ بیچ رہے ہیں؟"
میں نے کہا۔ "تو اور کیا محض آپ سے ہم کلام ہونے کا فخر حاصل کرنے کے ليے میں گھر سے یہ بہانہ گھڑ کر لایا تھا؟"
کہنے لگا۔ "تو کیا لیں گے آپ؟"
میں نے کہا۔ "تم ہی بتاؤ۔"
کہنے لگا۔ "سچ مچ بتاؤں؟"
میں نے کہا۔ "اب بتاؤ گے بھی یا یوں ہی ترساتے رہو گے؟"
کہنے لگا۔ "تین روپے دوں گااس کے۔"
میرا خون کھول اٹھا اور میرے ہاتھ پاؤں اور ہونٹ غصے کے مارے کانپنے لگے۔ میں نے کہا۔"او صنعت وحرفت سے پیٹ پالنے والے نچلے طبقے کے انسان، مجھے اپنی توہین کی پروا نہیں لیکن تونے اپنی بیہودہ گفتاری سے اس بےزبان چیز کو جو صدمہ پہنچایا ہے اس کے ليے میں تجھے قیامت تک معاف نہیں کرسکتا۔"
یہ کہہ کر میں بائیسکل پر سوار ہوگیا اور اندھا دھند پاؤں چلانے لگا۔
مشکل سے بیس قدم گیا ہوں گاکہ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ جیسے زمین یک لخت اچھل کر مجھ سے آلگی ہے۔ آسمان میرے سر پر سے ہٹ کر میری ٹانگوں کے بیچ میں سے گزر گیا اور ادھر اُدھر کی عمارتوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اپنی اپنی جگہ بدل لی ہے۔ حواس بجا ہوئے تو معلوم ہوا میں زمین پر اس بےتکلفی سے بیٹھا ہوں، گویا بڑی مدت سے مجھے اس بات کا شوق تھا جو آج پورا ہوا۔ اردگرد کچھ لوگ جمع تھے جس میں سے اکثر ہنس رہے تھے۔ سامنے دکان تھی جہاں ابھی ابھی میں نے اپنی ناکام گفت وشنید کا سلسلہ منقطع کیا تھا۔ میں نے اپنے گردوپیش پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ میری بائیسکل کا اگلہ پہیہ بالکل ہو کر لڑھکتا ہوا سڑک کے اس پار جاپہنچا ہے اور باقی سائیکل میرے پاس پڑی ہے۔ میں نے فوراً اپنے آپ کو سنبھالا جو پہیہ الگ ہوگیا تھا اس کو ایک ہاتھ میں اٹھایا دوسرے ہاتھ میں باقی ماندہ بائیسکل کو تھاما اور چل کھڑا ہوا۔ یہ محض ایک اضطراری حرکت تھی ورنہ حاشادکلا وہ بائیسکل مجھے ہرگز اتنی عزیز نہ تھی کہ میں اس کو اس حالت میں ساتھ ساتھ لیے پھرتا۔
جب میں یہ سب کچھ اٹھا کر چل دیا تو میں نے اپنے آپ سے پوچھا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو، کہاں جارہے ہو؟ تمہارارادہ کیا ہے۔ یہ دو پہیے کاہے کو لے جارہے ہو؟
سب سوالوں کا جواب یہی ملا کہ دیکھا جائے گا۔ فی الحال تم یہاں سے چل دو۔ سب لوگ تمہیں دیکھ رہے ہیں۔ سر اونچا رکھو اور چلتے جاؤ۔ جو ہنس رہے ہیں، انہیں ہنسنے دو، اس قسم کے بیہودہ لوگ ہر قوم اور ہر ملک میں پائے جاتے ہیں۔ آخر ہوا کیا۔ محض ایک حادثہ۔ بس دائیں بائیں مت دیکھو۔ چلتے جاؤ۔
لوگوں کے ناشائستہ کلمات بھی سنائی دے رہے تھے۔ ایک آواز آئی۔ "بس حضرت غصہ تھوک ڈالیئے۔" ایک دوسرے صاحب بولے۔ "بےحیا بائیسکل گھر پہنچ کے تجھے مزا چکھاؤں گا۔" ایک والد اپنے لخت جگر کی انگلی پکڑے جارہے تھے۔ میری طرف اشارا کرکے کہنے لگے۔ "دیکھا بیٹا یہ سرکس کی بائیسکل ہے۔ اس کے دونوں پہیے الگ الگ ہوتے ہیں۔"
لیکن میں چلتا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں آبادی سے دور نکل گیا۔ اب میری رفتار میں ایک عزیمت پائی جاتی تھی۔ میرا دل جو کئی گھنٹوں سے کشمکش میں پیچ وتاب کھا رہا تھا اب بہت ہلکا ہوگیا تھا۔ میں چلتا گیا چلتا گیا حتیٰ کہ دریا پر جاپہنچا۔ پل کے اوپر کھڑے ہوکر میں نے دونوں پہیوں کو ایک ایک کرکے اس بےپروائی کے ساتھ دریا میں پھینک دیا جیسے کوئی لیٹر بکس میں خط ڈالتا ہے۔ اور واپس شہر کو روانہ ہوگیا۔
سب سے پہلے مرزا کے گھر گیا۔ دروازا کھٹکھٹایا۔ مرزا بولے۔ "اندر آجاؤ"۔
میں نے کہا۔ آپ ذرا باہر تشریف لائیے۔ میں آپ جیسے خدا رسیدہ بزرگ کے گھر وضو کيے بغیر کیسے داخل ہوسکتا ہوں۔"
باہر تشریف لائے تو میں نے وہ اوزار ان کی خدمت میں پیش کیا جو انہوں نے بائیسکل کے ساتھ مفت ہی مجھ کو عنایت فرمایا تھا اور کہا:
"مرزا صاحب آپ ہی اس اوزار سے شوق فرمایا کیجیے میں اب سے بےنیاز ہوچکا ہوں۔"
گھر پہنچ کر میں نے پھر علم کیمیا کی اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا جو میں نے ایف۔اے میں پڑھی تھی۔
جمعرات، 24 اپریل، 2014
مرحوم کی یاد میں
مرحوم کی یاد میں
پطرس بخاری
رات کو خواب میں
دعائیں مانگتا رہا کہ خدایا مرزا بائیسکل دینے پر رضامند ہوجائے۔ صبح اٹھا تو
اٹھنے کے ساتھ ہی نوکر نے یہ خوشخبری سنائی کے حضور وہ بائیسکل آگئی ہے۔
میں نے کہا۔ "اتنے سویرے؟"
نوکر نے کہا۔ "وہ تو رات ہی کو آگئی تھی، آپ سو گئے تھے میں نے جگانا مناسب نہ سمجھا اور ساتھ ہی مرزا صاحب کا آدمی یہ ڈھبریاں کسنے کا ایک اوزار بھی دے گیا ہے"۔
میں حیران تو ہوا کہ مرزا صاحب نے بائیسکل بھجوادینے میں اس قدر عجلت سے کیوں کام لیا لیکن اس نتیجے پر پہنچا کہ آدمی نہایت شریف اور دیانت دار ہیں۔ روپےلے ليے تھے تو بائیسکل کیوں روک رکھتے۔
نوکر سے کہا۔ "دیکھو یہ اوزار یہیں چھوڑ جاؤ اور دیکھو بائیسکل کو کسی کپڑے سے خوب اچھی طرح جھاڑو۔ اور یہ موڑ پر جو بائیسکلوں والا بیٹھتا ہے اس سے جا کر بائیسکل میں ڈالنے کا تیل لے آؤ اور دیکھو، اے بھاگا کہاں جارہا ہے ہم ضروری بات تم سے کہہ رہے ہیں، بائیسکل والے سے تیل کی ایک کپی بھی لے آنا ا ور جہاں جہاں تیل دینے کی جگہ ہے وہاں تیل دے دینا اور بائیسکلوں والے سے کہنا کہ کوئی گھٹیا سا تیل نہ دیدے۔ جس سے تمام پرزے ہی خراب ہوجائیں، بائیسکل کے پرزے بڑے نازک ہوتے ہیں اور بائیسکل باہر نکال رکھو، ہم ابھی کپڑے پہن کر آتے ہیں۔ ہم ذرا سیر کو جارہےہیں اور دیکھو صاف کردینا اور بہت زور زور سے کپڑا بھی مت رگڑنا، بائیسکل کا پالش گھس جاتا ہے"۔
جلدی جلدی چائے پی، غسل خانے میں بڑے جوش خروش کے ساتھ "چل چل چنبیلی باغ میں" گاتا رہا اس کے بعد کپڑے بدلے، اوزار کو جیب میں ڈالا اور کمرے سے باہر نکلا۔
برآمدے میں آیا تو برآمدے کے ساتھ ہی ایک عجیب وغریب مشین پر نظر پڑی۔ ٹھیک طرح پہچان نہ سکا کہ کیا چیز ہے، نوکر سے دریافت کیا۔ "کیوں بے یہ کیا چیز ہے؟"
نوکر بولا۔ "حضور یہ بائیسکل ہے"۔
میں نے کہا۔ "بائیسکل؟ کس کی بائیسکل؟"
کہنے لگا۔ "مرزا صاحب نے بھجوائی ہے آپ کے ليے"۔
میں نے کہا۔ "اور جو بائیسکل رات کو انہوں نے بھیجی تھی وہ کہاں گئی؟"
کہنے لگا۔ "یہی تو ہے"۔
میں نے کہا۔ "کیا بکتا ہے جو بائیسکل مرزا صاحب نے کل رات کو بھیجی تھی وہ بائیسکل یہی ہے؟"
کہنے لگا۔ "جی ہاں"۔
میں نے کہا۔ "اچھا" اور پھر اسے دیکھنے لگا۔ اس کو صاف کیوں نہیں کیا؟"
"اس کو دو تین دفعہ صاف کیا ہے؟"
"تو یہ میلی کیوں ہے؟"
نوکر نے اس کا جواب دینا شاید مناسب نہ سمجھا۔
"اور تیل لايا؟"
"ہاں حضور لایا ہوں"۔
"دیا"؟
"حضور وہ تیل دینے کے چھید ہوتے ہیں وہ نہیں ملتے"۔
"کیا وجہ ہے؟"
"حضور دُھروں پر میل اور زنگ جما ہے۔ وہ سوراخ کہیں بیچ ہی میں دب دبا گئے ہیں"۔
رفتہ رفتہ میں اس چیز کے قریب آیا۔ جس کو میرا نوکر بائیسکل بتا رہا تھا۔ اس کے مختلف پرزوں پر غور کیا تو اتنا تو ثابت ہوگیا کہ یہ بائیسکل ہے لیکن مجموعی ہیئت سے یہ صاف ظاہر تھا کہ بل اور رہٹ اور چرخہ اور اس طرح کی ایجادات سے پہلے کی بنی ہوئی ہے۔ پہیے کو گھما گھما کر وہ سوراخ تلاش کیا جہاں کسی زمانے میں تیل دیا جاتا تھا۔ لیکن اب اس سوراخ میں سے آمدورفت کا سلسلہ بند تھا۔ چنانچہ نوکر بولا۔ "حضور وہ تیل تو سب ادھر اُدھربہہ جاتا ہے۔ بیچ میں تو جاتا ہی نہیں۔"
میں نے کہا۔ "اچھا اوپر اوپر ہی ڈال دو یہ بھی مفید ہوتا ہے"۔
آخرکار بائیسکل پر سوار ہوا۔ پہلا ہی پاؤں چلایا تو ایسا معلوم ہوا جیسے کوئی مردہ اپنی ہڈیاں چٹخا چٹخا کر اپنی مرضی کے خلاف زندہ ہو رہا ہے۔ گھر سے نکلتے ہی کچھ تھوڑی سی اترائی تھی اس پر بائیسکل خودبخود چلنے لگی لیکن اس رفتار سے جیسے تارکول زمین پر بہتا ہے اور ساتھ ہی مختلف حصوں سے طرح طرح کی آوازیں برآمد ہونی شروع ہوئی۔ ان آوازوں کے مختلف گروہ تھے۔ چیں۔ چاں۔ چوں کی قسم آوازیں زیادہ تر گدی کے نیچے اور پچھلے پہیے سے نکلتی تھیں۔ کھٹ، کھڑکھڑ۔کھڑڑ کے قبیل کی آوازیں مڈگارڈوں سے آتی تھی۔ چر۔ چرخ۔ چر۔چرخ کی قسم کے سُر زنجیر اور پیڈل سے نکلتے تھے۔ زنجیر ڈھیلی ڈھیلی تھی۔ میں جب کبھی پیڈل پر زور ڈالتا تھا، زنجیر میں ایک انگڑائی سی پیدا ہوتی تھی جس سے وہ تن جاتی تھی اور چڑچڑ بولنے لگتی تھی اور پھر ڈھیلی ہوجاتی تھی۔ پچھلا پہیہ گھونے کے علاوہ جھومتا بھی تھا۔ یعنی ایک تو آگے کو چلتا تھا اور اس کے علاوہ دہنے سے بائیں اور بائیں سے دہنے کو بھی حرکت کرتا تھا۔ چنانچہ سڑک پر جو نشان پڑ جاتا تھا اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی مخمور سانپ لہرا کر نکل گیا ہے۔ مڈگارڈ تھے تو سہی لیکن پہیوں کے عین اوپر نہ تھے۔ ان کا فائدہ صرف یہ معلوم ہوتا تھا کہ انسان شمال کی سمت سیر کرنے کو نکلے اور آفتاب مغرب میں غروب ہورہا ہو تو مڈگارڈوں کی بدولت ٹائر دھوپ سے بچے رہیں گے۔
اگلے پہیے کے ٹائر میں ایک بڑا سا پیوند لگا تھا جس کی وجہ سے پہیہ ہر چکر میں ایک دفعہ لمحہ بھر کو زور سے اوپر اُٹھ جاتا تھا اور میرا سر پیچھے کو یوں جھٹکے کھا رہا تھا جیسے کوئی متواتر تھوڑی کے نیچے مکے مارے جا رہا ہو۔ پچھلے اور اگلے پہیے کو ملا کر چوں چوں پھٹ۔ چوں چوں پھٹ۔۔۔ کی صدا نکل رہی تھی۔ جب اتار پر بائیسکل ذراتیز ہوئی توفضاء میں ایک بھونچال سا آگیا۔ اور بائیسکل کے کئی اور پرزے جو اب تک سو رہےتھے۔ بیدار ہو کر گویا ہوئے۔ ادھر اُدھرکے لوگ چونکے۔ ماؤں نے اپنے بچوں کو اپنے سینوں سے لگا لیا۔ کھڑڑکھڑڑ کےبیچ میں پہیوں کی آواز جدا سنائی رہی تھی لیکن چونکہ بائیسکل اب پہلے سے تیز تھی اس ليے چوں چوں پھٹ، چوں چوں پھٹ کی آواز نے اب چچوں پھٹ، چچوں پھٹ، کی صورت اختیار کرلی تھی۔ تمام بائیسکل کسی ادق افریقی زبان کی گردانیں دہرا رہی تھی۔
اس قدر تیز رفتاری بائیسکل کی طبع نازک پر گراں گزری۔ چنانچہ اس میں یک لخت دو تبدیلیاں واقع ہوگئیں۔ ایک تو ہینڈل ایک طرف کو مڑ گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں جاتو سامنے کو رہا تھا لیکن میرا تمام جسم دائیں طرف کو مڑا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بائیسکل کی گدی دفعتہً چھ انچ کے قریب نیچے بیٹھ گئی۔ چنانچہ جب پیڈل چلانے کے ليے میں ٹانگیں اوپر نیچے کر رہا تھا تو میرے گھٹنے میری تھوڑی تک پہنچ جاتے تھے۔ کمردہری ہو کر باہر کو نکلی ہوئی تھی اور ساتھ ہی اگلے پہیے کی اٹھیکیلوں کی وجہ سے سر برابر جھٹکے کھا رہا تھا۔
گدی کا نیچا ہوجانا ازحد تکلیف دہ ثابت ہوا۔ اس ليے میں نے مناسب یہی سمجھا کہ اس کو ٹھیک کرلوں۔ چنانچہ میں نے بائیسکل کو ٹھہرا لیا اور نیچے اترا۔ بائیسکل کے ٹھہر جانے سے یک لخت جیسے دنیا میں ایک خاموشی سی چھا گئی۔ ایسا معلوم ہوا جیسے میں کسی ریل کے اسٹیشن سے نکل کر باہر آگیا ہوں۔ جیب سے میں نے اوزار نکالا، گدی کو اونچا کیا، کچھ ہینڈل کو ٹھیک کیا اور دوبارہ سوار ہوگیا۔
دس قدم بھی چلنے نہ پایا تھا کہ اب کے ہینڈل یک لخت نیچا ہوگیا۔ اتنا کہ گدی اب ہینڈل سے کوئی فٹ بھر اونچی تھی۔ میرا تمام جسم آگے کو جھکا ہوا تھا، تمام بوجھ دونوں ہاتھوں پر تھا جو ہینڈل پر رکھے تھے اور برابر جھٹکے کھا رہے تھے۔ آپ میری حالت کو تصور کریں تو آپ معلوم ہوگا کہ میں دور سے ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے کوئی عورت آٹا گوندھ رہی ہو۔ مجھے اس مشابہت کا احساس بہت تیز تھا جس کی وجہ سے میرے ماتھے پر پسینہ آگیا۔ میں دائیں بائیں لوگوں کو کنکھیوں سے دیکھتا جاتا تھا۔ یوں تو ہر شخص میل بھر پہلے ہی سے مڑ مڑ کر دیکھنے لگتا تھا لیکن ان میں کوئی بھی ایسا نہ تھا جس کے لیے میری مصیبت ضیافت طبع کا باعث نہ ہو۔
ہینڈل تو نیچا ہو ہی گیا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد گدی بھی پھر نیچی ہوگئی اور میں ہمہ تن زمین کے قریب پہنچ گیا۔ ایک لڑکے نے کہا۔ "دیکھو یہ آدمی کیا کر رہا ہے"۔ گویا اس بدتمیز کے نزدیک میں کوئی کرتب دکھا رہا تھا۔ میں نے اتر کر پھر ہینڈل اور گدی کو اونچا کیا۔
لیکن تھوڑی دیر کے بعد ان میں سے ایک نہ ایک پھر نیچا ہوجاتا۔ وہ لمحے جن کے دوران میں میرا ہاتھ اور میرا جسم دونوں ہی بلندی پر واقع ہوں بہت ہی کم تھے اور ان میں بھی میں یہی سوچتا رہتا تھا کہ اب کہ گدی پہلے بیٹھے گی یا ہینڈل؟ چنانچہ نڈر ہو کر نہ بیٹھتا بلکہ جسم کو گدی سے قدرے اوپر ہی رکھتا لیکن اس سے ہینڈل پر اتنا بوجھ پڑ جاتا کہ وہ نیچا ہوجاتا۔
جب دو میل گزر گئے اور بائیسکل کی اٹھک بیٹھک نے ایک مقرر باقاعدگی اختیار کرلی تو فیصلہ کیا کہ کسی مستری سے پیچ کسوا لینے چاہئیں چنانچہ بائیسکل کو ایک دکان پر لے گیا۔ بائیسکل کی کھڑکھڑ سے دوکان میں جتنے لوگ کام کر رہے تھے، سب کے سب سر اٹھا کر میری طرف دیکھنے لگے لیکن میں نے جی کڑا کرکے کہا۔
"ذرا اس کی مرمت کردیجئے"۔
ایک مستری آگے بڑھا لوہے کی ایک سلاخ اس کے ہاتھ میں تھی جس سے اس نے مختلف حصوں کو بڑی بےدردی سے ٹھوک بجا کر دیکھا۔ معلوم ہوتا تھا اس نے بڑی تیزی کے ساتھ سب حالات کا اندازہ لگا لیا ہے لیکن پھر بھی مجھ سے پوچھنے لگا۔
"کس کس پرزے کی مرمت کرائیے گا"؟
میں نے کہا۔ "بڑے گستاخ ہو تم دیکھتے نہیں کہ صرف ہینڈل اور گدی کو ذرا اونچا کروا کے کسوانا ہے بس اور کیا؟ ان کو مہربانی کرکے فوراً ٹھیک کرو اور بتاؤ کتنے پیسے ہوئے؟"
مستری نے کہا۔ "مڈگارڈ بھی ٹھیک نہ کردوں؟"
میں نے کہا۔ "ہاں، وہ بھی ٹھیک کردو"۔
کہنے لگا۔ " اگر آپ باقی چیزیں بھی ٹھیک کرالیں تو اچھا ہو"۔
میں نے کہا۔ "اچھا کردو"۔
بولا۔ "یوں تھوڑا ہوسکتا ہے۔ دس پندرہ دن کا کام ہے آپ اسے ہمارے پاس چھوڑ جائیے۔"
"اور پیسے کتنے لو گے؟"
کہنے لگا۔ "بس چالیس روپے لگیں گے"۔
ہم نے کہا۔ "بس جی جو کام تم سے کہا ہے کردو اور باقی ہمارے معاملات میں دخل مت دو۔"
تھوڑی دیر بعد ہینڈل اور گدی پھر اونچی کرکے کس دی گئی۔ میں چلنے لگا تو مستری نے کہا میں نے کس تو دیا ہے لیکن پیچ سب گھسے ہوئے ہیں، ابھی تھوڑی دیر میں پھر ڈھیلے ہو جائیں گے۔"
میں نے کہا۔ "بدتمیز کہیں کا،تو دو آنے پیسے مفت میں لے ليے؟"
بولا۔ "جناب آپ کو بائیسکل بھی مفت میں ملی ہوگی، یہ آپ کے دوست مرزا صاحب کی ہے نا؟ للّو یہ وہی بائیسکل ہے جو پچھلے سال مرزا صاحب یہاں بیچنے کو لائے تھے۔ پہچانی تم نے؟ بھئی صدیاں ہی گزر گئیں لیکن اس بائیسکل کی خطاء معاف ہونے میں نہیں آتی۔"
میں نے کہا۔ "واہ مرزا صاحب کے لڑکے اس پر کالج آیا جایا کرتے تھے اور ان کو ابھی کالج چھوڑے دو سال بھی نہیں ہوئے۔"
مستری نے کہا۔ "ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن مرزا صاحب خود جب کالج میں پڑھتے تھے تو ان کے پاس بھی تو یہی بائیسکل تھی۔"
میری طبیعت یہ سن کر کچھ مردہ سی ہوگئی۔ میں نے بائیسکل کو ساتھ ليے آہستہ آہستہ پیدل چل پڑا۔ لیکن پیدل چلنا بھی مشکل تھا۔ اس بائیسکل کے چلانے میں ایسے ایسے پٹھوں پر زور پڑتا تھا جو عام بائیسکلوں کو چلانے میں استعمال نہیں ہوتے۔ اس ليے ٹانگوں اور کندھوں اور کمر اور بازوؤں میں جابجا درد ہورہا تھا۔ مرزا کا خیال رہ رہ کر آتا تھا۔ لیکن میں ہر بار کوشش کرکے اسے دل سے ہٹا دیتا تھا، ورنہ میں پاگل ہوجاتا اور جنون کی حالت میں پہلے حرکت مجھ سے یہ سرزد ہوئی کہ مرزا کے مکان کے سامنے بازار میں ایک جلسہ منعقدکرتا جس میں مرزا کی مکاری، بےایمانی اور دغابازی پر ایک طویل تقریر کرتا۔ کل بنی نوع انسان اور آئندہ آنے والی نسلوں کی ناپاک فطرت سے آگاہ کردیتا اور اس کے بعد ایک چتا جلا کر اس میں زندہ جل کر مرجاتا۔
میں نے بہتر یہی سمجھا کہ جس طرح ہوسکے اب اس بائیسکل کو اونے پونے داموں میں بیچ کر جو وصول ہوااسی پر صبر شکر کروں۔ بلا سے دس پندرہ روپیہ کا خسارہ سہی۔ چالیس کے چالیس روپے تو ضائع نہ ہوں گے۔ راستے میں بائیسکلوں کی ایک اور دکان آئی وہاں ٹھہر گیا۔
دکاندار بڑھ کر میرے پاس آیا لیکن میری زبان کو جیسے قفل لگ گیا تھا۔ عمر بھر کسی چیز کے بیچنے کی نوبت نہ آئی تھی مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ ایسے موقع پر کیا کہتے ہیں آخر بڑے سوچ بچار اور بڑے تامل کے بعد منہ سے صرف اتنا نکلا کہ یہ "بائیسکل" ہے۔
دکاندار کہنے لگا۔ "پھر؟"
میں نے کہا۔ "لو گے"۔
کہنے لگا۔ "کیا مطلب؟"
میں نے کہا۔ "بیچتے ہیں ہم۔"
دکاندار نے مجھے ایسے نظر سے دیکھا کہ مجھے یہ محسوس ہوا مجھ پر چوری کا شبہ کر رہا ہے۔ پھر بائیسکل کو دیکھا۔ پھر مجھے دیکھا، پھر بائیسکل کو دیکھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ فیصلہ نہیں کرسکتا آدمی کون سا ہے اور بائیسکل کون سی ہے؟ آخرکار بولا۔ "کیا کریں گے آپ اس کو بیچ کر؟"
ایسے سوالوں کا خدا جانے کیا جواب ہوتا ہے۔ میں نے کہا۔ "کیا تم یہ پوچھنا چاہتے ہو کہ جو روپے مجھے وصول ہوں گے ان کا مصرف کیا ہوگا؟"
کہنے لگا۔ "وہ تو ٹھیک ہے مگر کوئی اس کو لے کر کرے گا کیا؟"
میں نے کہا۔ "اس پر چڑھے گا اور کیا کرے گا۔"
کہنے لگا۔ "اچھا چڑھ گیا۔ پھر؟"
میں نے کہا۔ "پھر کیا؟ پھر چلائے گا اور کیا؟"
دکاندار بولا۔ "اچھا؟ ہوں۔ خدا بخش ذرا یہاں آنا۔ یہ بائیسکل بکنے آئی ہے۔"
جن حضرت کا اسم گرامی خدا بخش تھا انہوں نے بائیسکل کو دور ہی سے یوں دیکھا جیسے بو سونگھ رہے ہوں۔ اس کے بعد دونوں نے آپس میں مشورہ کیا، آخر میں وہ جن کا نام خدا بخش نہیں تھا میرے پاس آئے اور کہنے لگے۔ "تو آپ سچ مچ بیچ رہے ہیں؟"
میں نے کہا۔ "تو اور کیا محض آپ سے ہم کلام ہونے کا فخر حاصل کرنے کے ليے میں گھر سے یہ بہانہ گھڑ کر لایا تھا؟"
کہنے لگا۔ "تو کیا لیں گے آپ؟"
میں نے کہا۔ "تم ہی بتاؤ۔"
کہنے لگا۔ "سچ مچ بتاؤں؟"
میں نے کہا۔ "اب بتاؤ گے بھی یا یوں ہی ترساتے رہو گے؟"
کہنے لگا۔ "تین روپے دوں گااس کے۔"
میرا خون کھول اٹھا اور میرے ہاتھ پاؤں اور ہونٹ غصے کے مارے کانپنے لگے۔ میں نے کہا۔
"او صنعت وحرفت سے پیٹ پالنے والے نچلے طبقے کے انسان، مجھے اپنی توہین کی پروا نہیں لیکن تونے اپنی بیہودہ گفتاری سے اس بےزبان چیز کو جو صدمہ پہنچایا ہے اس کے ليے میں تجھے قیامت تک معاف نہیں کرسکتا۔"
یہ کہہ کر میں بائیسکل پر سوار ہوگیا اور اندھا دھند پاؤں چلانے لگا۔
مشکل سے بیس قدم گیا ہوں گاکہ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ جیسے زمین یک لخت اچھل کر مجھ سے آلگی ہے۔ آسمان میرے سر پر سے ہٹ کر میری ٹانگوں کے بیچ میں سے گزر گیا اور ادھر اُدھر کی عمارتوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اپنی اپنی جگہ بدل لی ہے۔ حواس بجا ہوئے تو معلوم ہوا میں زمین پر اس بےتکلفی سے بیٹھا ہوں، گویا بڑی مدت سے مجھے اس بات کا شوق تھا جو آج پورا ہوا۔ اردگرد کچھ لوگ جمع تھے جس میں سے اکثر ہنس رہے تھے۔ سامنے دکان تھی جہاں ابھی ابھی میں نے اپنی ناکام گفت وشنید کا سلسلہ منقطع کیا تھا۔ میں نے اپنے گردوپیش پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ میری بائیسکل کا اگلہ پہیہ بالکل ہو کر لڑھکتا ہوا سڑک کے اس پار جاپہنچا ہے اور باقی سائیکل میرے پاس پڑی ہے۔ میں نے فوراً اپنے آپ کو سنبھالا جو پہیہ الگ ہوگیا تھا اس کو ایک ہاتھ میں اٹھایا دوسرے ہاتھ میں باقی ماندہ بائیسکل کو تھاما اور چل کھڑا ہوا۔ یہ محض ایک اضطراری حرکت تھی ورنہ حاشادکلا وہ بائیسکل مجھے ہرگز اتنی عزیز نہ تھی کہ میں اس کو اس حالت میں ساتھ ساتھ لیے پھرتا۔
جب میں یہ سب کچھ اٹھا کر چل دیا تو میں نے اپنے آپ سے پوچھا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو، کہاں جارہے ہو؟ تمہارارادہ کیا ہے۔ یہ دو پہیے کاہے کو لے جارہے ہو؟
سب سوالوں کا جواب یہی ملا کہ دیکھا جائے گا۔ فی الحال تم یہاں سے چل دو۔ سب لوگ تمہیں دیکھ رہے ہیں۔ سر اونچا رکھو اور چلتے جاؤ۔ جو ہنس رہے ہیں، انہیں ہنسنے دو، اس قسم کے بیہودہ لوگ ہر قوم اور ہر ملک میں پائے جاتے ہیں۔ آخر ہوا کیا۔ محض ایک حادثہ۔ بس دائیں بائیں مت دیکھو۔ چلتے جاؤ۔
لوگوں کے ناشائستہ کلمات بھی سنائی دے رہے تھے۔ ایک آواز آئی۔ "بس حضرت غصہ تھوک ڈالیئے۔" ایک دوسرے صاحب بولے۔ "بےحیا بائیسکل گھر پہنچ کے تجھے مزا چکھاؤں گا۔" ایک والد اپنے لخت جگر کی انگلی پکڑے جارہے تھے۔ میری طرف اشارا کرکے کہنے لگے۔ "دیکھا بیٹا یہ سرکس کی بائیسکل ہے۔ اس کے دونوں پہیے الگ الگ ہوتے ہیں۔"
لیکن میں چلتا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں آبادی سے دور نکل گیا۔ اب میری رفتار میں ایک عزیمت پائی جاتی تھی۔ میرا دل جو کئی گھنٹوں سے کشمکش میں پیچ وتاب کھا رہا تھا اب بہت ہلکا ہوگیا تھا۔ میں چلتا گیا چلتا گیا حتیٰ کہ دریا پر جاپہنچا۔ پل کے اوپر کھڑے ہوکر میں نے دونوں پہیوں کو ایک ایک کرکے اس بےپروائی کے ساتھ دریا میں پھینک دیا جیسے کوئی لیٹر بکس میں خط ڈالتا ہے۔ اور واپس شہر کو روانہ ہوگیا۔
سب سے پہلے مرزا کے گھر گیا۔ دروازا کھٹکھٹایا۔ مرزا بولے۔ "اندر آجاؤ"۔
میں نے کہا۔ آپ ذرا باہر تشریف لائیے۔ میں آپ جیسے خدا رسیدہ بزرگ کے گھر وضو کيے بغیر کیسے داخل ہوسکتا ہوں۔"
باہر تشریف لائے تو میں نے وہ اوزار ان کی خدمت میں پیش کیا جو انہوں نے بائیسکل کے ساتھ مفت ہی مجھ کو عنایت فرمایا تھا اور کہا:
"مرزا صاحب آپ ہی اس اوزار سے شوق فرمایا کیجیے میں اب سے بےنیاز ہوچکا ہوں۔"
گھر پہنچ کر میں نے پھر علم کیمیا کی اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا جو میں نے ایف۔اے میں پڑھی تھی۔
میں نے کہا۔ "اتنے سویرے؟"
نوکر نے کہا۔ "وہ تو رات ہی کو آگئی تھی، آپ سو گئے تھے میں نے جگانا مناسب نہ سمجھا اور ساتھ ہی مرزا صاحب کا آدمی یہ ڈھبریاں کسنے کا ایک اوزار بھی دے گیا ہے"۔
میں حیران تو ہوا کہ مرزا صاحب نے بائیسکل بھجوادینے میں اس قدر عجلت سے کیوں کام لیا لیکن اس نتیجے پر پہنچا کہ آدمی نہایت شریف اور دیانت دار ہیں۔ روپےلے ليے تھے تو بائیسکل کیوں روک رکھتے۔
نوکر سے کہا۔ "دیکھو یہ اوزار یہیں چھوڑ جاؤ اور دیکھو بائیسکل کو کسی کپڑے سے خوب اچھی طرح جھاڑو۔ اور یہ موڑ پر جو بائیسکلوں والا بیٹھتا ہے اس سے جا کر بائیسکل میں ڈالنے کا تیل لے آؤ اور دیکھو، اے بھاگا کہاں جارہا ہے ہم ضروری بات تم سے کہہ رہے ہیں، بائیسکل والے سے تیل کی ایک کپی بھی لے آنا ا ور جہاں جہاں تیل دینے کی جگہ ہے وہاں تیل دے دینا اور بائیسکلوں والے سے کہنا کہ کوئی گھٹیا سا تیل نہ دیدے۔ جس سے تمام پرزے ہی خراب ہوجائیں، بائیسکل کے پرزے بڑے نازک ہوتے ہیں اور بائیسکل باہر نکال رکھو، ہم ابھی کپڑے پہن کر آتے ہیں۔ ہم ذرا سیر کو جارہےہیں اور دیکھو صاف کردینا اور بہت زور زور سے کپڑا بھی مت رگڑنا، بائیسکل کا پالش گھس جاتا ہے"۔
جلدی جلدی چائے پی، غسل خانے میں بڑے جوش خروش کے ساتھ "چل چل چنبیلی باغ میں" گاتا رہا اس کے بعد کپڑے بدلے، اوزار کو جیب میں ڈالا اور کمرے سے باہر نکلا۔
برآمدے میں آیا تو برآمدے کے ساتھ ہی ایک عجیب وغریب مشین پر نظر پڑی۔ ٹھیک طرح پہچان نہ سکا کہ کیا چیز ہے، نوکر سے دریافت کیا۔ "کیوں بے یہ کیا چیز ہے؟"
نوکر بولا۔ "حضور یہ بائیسکل ہے"۔
میں نے کہا۔ "بائیسکل؟ کس کی بائیسکل؟"
کہنے لگا۔ "مرزا صاحب نے بھجوائی ہے آپ کے ليے"۔
میں نے کہا۔ "اور جو بائیسکل رات کو انہوں نے بھیجی تھی وہ کہاں گئی؟"
کہنے لگا۔ "یہی تو ہے"۔
میں نے کہا۔ "کیا بکتا ہے جو بائیسکل مرزا صاحب نے کل رات کو بھیجی تھی وہ بائیسکل یہی ہے؟"
کہنے لگا۔ "جی ہاں"۔
میں نے کہا۔ "اچھا" اور پھر اسے دیکھنے لگا۔ اس کو صاف کیوں نہیں کیا؟"
"اس کو دو تین دفعہ صاف کیا ہے؟"
"تو یہ میلی کیوں ہے؟"
نوکر نے اس کا جواب دینا شاید مناسب نہ سمجھا۔
"اور تیل لايا؟"
"ہاں حضور لایا ہوں"۔
"دیا"؟
"حضور وہ تیل دینے کے چھید ہوتے ہیں وہ نہیں ملتے"۔
"کیا وجہ ہے؟"
"حضور دُھروں پر میل اور زنگ جما ہے۔ وہ سوراخ کہیں بیچ ہی میں دب دبا گئے ہیں"۔
رفتہ رفتہ میں اس چیز کے قریب آیا۔ جس کو میرا نوکر بائیسکل بتا رہا تھا۔ اس کے مختلف پرزوں پر غور کیا تو اتنا تو ثابت ہوگیا کہ یہ بائیسکل ہے لیکن مجموعی ہیئت سے یہ صاف ظاہر تھا کہ بل اور رہٹ اور چرخہ اور اس طرح کی ایجادات سے پہلے کی بنی ہوئی ہے۔ پہیے کو گھما گھما کر وہ سوراخ تلاش کیا جہاں کسی زمانے میں تیل دیا جاتا تھا۔ لیکن اب اس سوراخ میں سے آمدورفت کا سلسلہ بند تھا۔ چنانچہ نوکر بولا۔ "حضور وہ تیل تو سب ادھر اُدھربہہ جاتا ہے۔ بیچ میں تو جاتا ہی نہیں۔"
میں نے کہا۔ "اچھا اوپر اوپر ہی ڈال دو یہ بھی مفید ہوتا ہے"۔
آخرکار بائیسکل پر سوار ہوا۔ پہلا ہی پاؤں چلایا تو ایسا معلوم ہوا جیسے کوئی مردہ اپنی ہڈیاں چٹخا چٹخا کر اپنی مرضی کے خلاف زندہ ہو رہا ہے۔ گھر سے نکلتے ہی کچھ تھوڑی سی اترائی تھی اس پر بائیسکل خودبخود چلنے لگی لیکن اس رفتار سے جیسے تارکول زمین پر بہتا ہے اور ساتھ ہی مختلف حصوں سے طرح طرح کی آوازیں برآمد ہونی شروع ہوئی۔ ان آوازوں کے مختلف گروہ تھے۔ چیں۔ چاں۔ چوں کی قسم آوازیں زیادہ تر گدی کے نیچے اور پچھلے پہیے سے نکلتی تھیں۔ کھٹ، کھڑکھڑ۔کھڑڑ کے قبیل کی آوازیں مڈگارڈوں سے آتی تھی۔ چر۔ چرخ۔ چر۔چرخ کی قسم کے سُر زنجیر اور پیڈل سے نکلتے تھے۔ زنجیر ڈھیلی ڈھیلی تھی۔ میں جب کبھی پیڈل پر زور ڈالتا تھا، زنجیر میں ایک انگڑائی سی پیدا ہوتی تھی جس سے وہ تن جاتی تھی اور چڑچڑ بولنے لگتی تھی اور پھر ڈھیلی ہوجاتی تھی۔ پچھلا پہیہ گھونے کے علاوہ جھومتا بھی تھا۔ یعنی ایک تو آگے کو چلتا تھا اور اس کے علاوہ دہنے سے بائیں اور بائیں سے دہنے کو بھی حرکت کرتا تھا۔ چنانچہ سڑک پر جو نشان پڑ جاتا تھا اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی مخمور سانپ لہرا کر نکل گیا ہے۔ مڈگارڈ تھے تو سہی لیکن پہیوں کے عین اوپر نہ تھے۔ ان کا فائدہ صرف یہ معلوم ہوتا تھا کہ انسان شمال کی سمت سیر کرنے کو نکلے اور آفتاب مغرب میں غروب ہورہا ہو تو مڈگارڈوں کی بدولت ٹائر دھوپ سے بچے رہیں گے۔
اگلے پہیے کے ٹائر میں ایک بڑا سا پیوند لگا تھا جس کی وجہ سے پہیہ ہر چکر میں ایک دفعہ لمحہ بھر کو زور سے اوپر اُٹھ جاتا تھا اور میرا سر پیچھے کو یوں جھٹکے کھا رہا تھا جیسے کوئی متواتر تھوڑی کے نیچے مکے مارے جا رہا ہو۔ پچھلے اور اگلے پہیے کو ملا کر چوں چوں پھٹ۔ چوں چوں پھٹ۔۔۔ کی صدا نکل رہی تھی۔ جب اتار پر بائیسکل ذراتیز ہوئی توفضاء میں ایک بھونچال سا آگیا۔ اور بائیسکل کے کئی اور پرزے جو اب تک سو رہےتھے۔ بیدار ہو کر گویا ہوئے۔ ادھر اُدھرکے لوگ چونکے۔ ماؤں نے اپنے بچوں کو اپنے سینوں سے لگا لیا۔ کھڑڑکھڑڑ کےبیچ میں پہیوں کی آواز جدا سنائی رہی تھی لیکن چونکہ بائیسکل اب پہلے سے تیز تھی اس ليے چوں چوں پھٹ، چوں چوں پھٹ کی آواز نے اب چچوں پھٹ، چچوں پھٹ، کی صورت اختیار کرلی تھی۔ تمام بائیسکل کسی ادق افریقی زبان کی گردانیں دہرا رہی تھی۔
اس قدر تیز رفتاری بائیسکل کی طبع نازک پر گراں گزری۔ چنانچہ اس میں یک لخت دو تبدیلیاں واقع ہوگئیں۔ ایک تو ہینڈل ایک طرف کو مڑ گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں جاتو سامنے کو رہا تھا لیکن میرا تمام جسم دائیں طرف کو مڑا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بائیسکل کی گدی دفعتہً چھ انچ کے قریب نیچے بیٹھ گئی۔ چنانچہ جب پیڈل چلانے کے ليے میں ٹانگیں اوپر نیچے کر رہا تھا تو میرے گھٹنے میری تھوڑی تک پہنچ جاتے تھے۔ کمردہری ہو کر باہر کو نکلی ہوئی تھی اور ساتھ ہی اگلے پہیے کی اٹھیکیلوں کی وجہ سے سر برابر جھٹکے کھا رہا تھا۔
گدی کا نیچا ہوجانا ازحد تکلیف دہ ثابت ہوا۔ اس ليے میں نے مناسب یہی سمجھا کہ اس کو ٹھیک کرلوں۔ چنانچہ میں نے بائیسکل کو ٹھہرا لیا اور نیچے اترا۔ بائیسکل کے ٹھہر جانے سے یک لخت جیسے دنیا میں ایک خاموشی سی چھا گئی۔ ایسا معلوم ہوا جیسے میں کسی ریل کے اسٹیشن سے نکل کر باہر آگیا ہوں۔ جیب سے میں نے اوزار نکالا، گدی کو اونچا کیا، کچھ ہینڈل کو ٹھیک کیا اور دوبارہ سوار ہوگیا۔
دس قدم بھی چلنے نہ پایا تھا کہ اب کے ہینڈل یک لخت نیچا ہوگیا۔ اتنا کہ گدی اب ہینڈل سے کوئی فٹ بھر اونچی تھی۔ میرا تمام جسم آگے کو جھکا ہوا تھا، تمام بوجھ دونوں ہاتھوں پر تھا جو ہینڈل پر رکھے تھے اور برابر جھٹکے کھا رہے تھے۔ آپ میری حالت کو تصور کریں تو آپ معلوم ہوگا کہ میں دور سے ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے کوئی عورت آٹا گوندھ رہی ہو۔ مجھے اس مشابہت کا احساس بہت تیز تھا جس کی وجہ سے میرے ماتھے پر پسینہ آگیا۔ میں دائیں بائیں لوگوں کو کنکھیوں سے دیکھتا جاتا تھا۔ یوں تو ہر شخص میل بھر پہلے ہی سے مڑ مڑ کر دیکھنے لگتا تھا لیکن ان میں کوئی بھی ایسا نہ تھا جس کے لیے میری مصیبت ضیافت طبع کا باعث نہ ہو۔
ہینڈل تو نیچا ہو ہی گیا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد گدی بھی پھر نیچی ہوگئی اور میں ہمہ تن زمین کے قریب پہنچ گیا۔ ایک لڑکے نے کہا۔ "دیکھو یہ آدمی کیا کر رہا ہے"۔ گویا اس بدتمیز کے نزدیک میں کوئی کرتب دکھا رہا تھا۔ میں نے اتر کر پھر ہینڈل اور گدی کو اونچا کیا۔
لیکن تھوڑی دیر کے بعد ان میں سے ایک نہ ایک پھر نیچا ہوجاتا۔ وہ لمحے جن کے دوران میں میرا ہاتھ اور میرا جسم دونوں ہی بلندی پر واقع ہوں بہت ہی کم تھے اور ان میں بھی میں یہی سوچتا رہتا تھا کہ اب کہ گدی پہلے بیٹھے گی یا ہینڈل؟ چنانچہ نڈر ہو کر نہ بیٹھتا بلکہ جسم کو گدی سے قدرے اوپر ہی رکھتا لیکن اس سے ہینڈل پر اتنا بوجھ پڑ جاتا کہ وہ نیچا ہوجاتا۔
جب دو میل گزر گئے اور بائیسکل کی اٹھک بیٹھک نے ایک مقرر باقاعدگی اختیار کرلی تو فیصلہ کیا کہ کسی مستری سے پیچ کسوا لینے چاہئیں چنانچہ بائیسکل کو ایک دکان پر لے گیا۔ بائیسکل کی کھڑکھڑ سے دوکان میں جتنے لوگ کام کر رہے تھے، سب کے سب سر اٹھا کر میری طرف دیکھنے لگے لیکن میں نے جی کڑا کرکے کہا۔
"ذرا اس کی مرمت کردیجئے"۔
ایک مستری آگے بڑھا لوہے کی ایک سلاخ اس کے ہاتھ میں تھی جس سے اس نے مختلف حصوں کو بڑی بےدردی سے ٹھوک بجا کر دیکھا۔ معلوم ہوتا تھا اس نے بڑی تیزی کے ساتھ سب حالات کا اندازہ لگا لیا ہے لیکن پھر بھی مجھ سے پوچھنے لگا۔
"کس کس پرزے کی مرمت کرائیے گا"؟
میں نے کہا۔ "بڑے گستاخ ہو تم دیکھتے نہیں کہ صرف ہینڈل اور گدی کو ذرا اونچا کروا کے کسوانا ہے بس اور کیا؟ ان کو مہربانی کرکے فوراً ٹھیک کرو اور بتاؤ کتنے پیسے ہوئے؟"
مستری نے کہا۔ "مڈگارڈ بھی ٹھیک نہ کردوں؟"
میں نے کہا۔ "ہاں، وہ بھی ٹھیک کردو"۔
کہنے لگا۔ " اگر آپ باقی چیزیں بھی ٹھیک کرالیں تو اچھا ہو"۔
میں نے کہا۔ "اچھا کردو"۔
بولا۔ "یوں تھوڑا ہوسکتا ہے۔ دس پندرہ دن کا کام ہے آپ اسے ہمارے پاس چھوڑ جائیے۔"
"اور پیسے کتنے لو گے؟"
کہنے لگا۔ "بس چالیس روپے لگیں گے"۔
ہم نے کہا۔ "بس جی جو کام تم سے کہا ہے کردو اور باقی ہمارے معاملات میں دخل مت دو۔"
تھوڑی دیر بعد ہینڈل اور گدی پھر اونچی کرکے کس دی گئی۔ میں چلنے لگا تو مستری نے کہا میں نے کس تو دیا ہے لیکن پیچ سب گھسے ہوئے ہیں، ابھی تھوڑی دیر میں پھر ڈھیلے ہو جائیں گے۔"
میں نے کہا۔ "بدتمیز کہیں کا،تو دو آنے پیسے مفت میں لے ليے؟"
بولا۔ "جناب آپ کو بائیسکل بھی مفت میں ملی ہوگی، یہ آپ کے دوست مرزا صاحب کی ہے نا؟ للّو یہ وہی بائیسکل ہے جو پچھلے سال مرزا صاحب یہاں بیچنے کو لائے تھے۔ پہچانی تم نے؟ بھئی صدیاں ہی گزر گئیں لیکن اس بائیسکل کی خطاء معاف ہونے میں نہیں آتی۔"
میں نے کہا۔ "واہ مرزا صاحب کے لڑکے اس پر کالج آیا جایا کرتے تھے اور ان کو ابھی کالج چھوڑے دو سال بھی نہیں ہوئے۔"
مستری نے کہا۔ "ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن مرزا صاحب خود جب کالج میں پڑھتے تھے تو ان کے پاس بھی تو یہی بائیسکل تھی۔"
میری طبیعت یہ سن کر کچھ مردہ سی ہوگئی۔ میں نے بائیسکل کو ساتھ ليے آہستہ آہستہ پیدل چل پڑا۔ لیکن پیدل چلنا بھی مشکل تھا۔ اس بائیسکل کے چلانے میں ایسے ایسے پٹھوں پر زور پڑتا تھا جو عام بائیسکلوں کو چلانے میں استعمال نہیں ہوتے۔ اس ليے ٹانگوں اور کندھوں اور کمر اور بازوؤں میں جابجا درد ہورہا تھا۔ مرزا کا خیال رہ رہ کر آتا تھا۔ لیکن میں ہر بار کوشش کرکے اسے دل سے ہٹا دیتا تھا، ورنہ میں پاگل ہوجاتا اور جنون کی حالت میں پہلے حرکت مجھ سے یہ سرزد ہوئی کہ مرزا کے مکان کے سامنے بازار میں ایک جلسہ منعقدکرتا جس میں مرزا کی مکاری، بےایمانی اور دغابازی پر ایک طویل تقریر کرتا۔ کل بنی نوع انسان اور آئندہ آنے والی نسلوں کی ناپاک فطرت سے آگاہ کردیتا اور اس کے بعد ایک چتا جلا کر اس میں زندہ جل کر مرجاتا۔
میں نے بہتر یہی سمجھا کہ جس طرح ہوسکے اب اس بائیسکل کو اونے پونے داموں میں بیچ کر جو وصول ہوااسی پر صبر شکر کروں۔ بلا سے دس پندرہ روپیہ کا خسارہ سہی۔ چالیس کے چالیس روپے تو ضائع نہ ہوں گے۔ راستے میں بائیسکلوں کی ایک اور دکان آئی وہاں ٹھہر گیا۔
دکاندار بڑھ کر میرے پاس آیا لیکن میری زبان کو جیسے قفل لگ گیا تھا۔ عمر بھر کسی چیز کے بیچنے کی نوبت نہ آئی تھی مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ ایسے موقع پر کیا کہتے ہیں آخر بڑے سوچ بچار اور بڑے تامل کے بعد منہ سے صرف اتنا نکلا کہ یہ "بائیسکل" ہے۔
دکاندار کہنے لگا۔ "پھر؟"
میں نے کہا۔ "لو گے"۔
کہنے لگا۔ "کیا مطلب؟"
میں نے کہا۔ "بیچتے ہیں ہم۔"
دکاندار نے مجھے ایسے نظر سے دیکھا کہ مجھے یہ محسوس ہوا مجھ پر چوری کا شبہ کر رہا ہے۔ پھر بائیسکل کو دیکھا۔ پھر مجھے دیکھا، پھر بائیسکل کو دیکھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ فیصلہ نہیں کرسکتا آدمی کون سا ہے اور بائیسکل کون سی ہے؟ آخرکار بولا۔ "کیا کریں گے آپ اس کو بیچ کر؟"
ایسے سوالوں کا خدا جانے کیا جواب ہوتا ہے۔ میں نے کہا۔ "کیا تم یہ پوچھنا چاہتے ہو کہ جو روپے مجھے وصول ہوں گے ان کا مصرف کیا ہوگا؟"
کہنے لگا۔ "وہ تو ٹھیک ہے مگر کوئی اس کو لے کر کرے گا کیا؟"
میں نے کہا۔ "اس پر چڑھے گا اور کیا کرے گا۔"
کہنے لگا۔ "اچھا چڑھ گیا۔ پھر؟"
میں نے کہا۔ "پھر کیا؟ پھر چلائے گا اور کیا؟"
دکاندار بولا۔ "اچھا؟ ہوں۔ خدا بخش ذرا یہاں آنا۔ یہ بائیسکل بکنے آئی ہے۔"
جن حضرت کا اسم گرامی خدا بخش تھا انہوں نے بائیسکل کو دور ہی سے یوں دیکھا جیسے بو سونگھ رہے ہوں۔ اس کے بعد دونوں نے آپس میں مشورہ کیا، آخر میں وہ جن کا نام خدا بخش نہیں تھا میرے پاس آئے اور کہنے لگے۔ "تو آپ سچ مچ بیچ رہے ہیں؟"
میں نے کہا۔ "تو اور کیا محض آپ سے ہم کلام ہونے کا فخر حاصل کرنے کے ليے میں گھر سے یہ بہانہ گھڑ کر لایا تھا؟"
کہنے لگا۔ "تو کیا لیں گے آپ؟"
میں نے کہا۔ "تم ہی بتاؤ۔"
کہنے لگا۔ "سچ مچ بتاؤں؟"
میں نے کہا۔ "اب بتاؤ گے بھی یا یوں ہی ترساتے رہو گے؟"
کہنے لگا۔ "تین روپے دوں گااس کے۔"
میرا خون کھول اٹھا اور میرے ہاتھ پاؤں اور ہونٹ غصے کے مارے کانپنے لگے۔ میں نے کہا۔
"او صنعت وحرفت سے پیٹ پالنے والے نچلے طبقے کے انسان، مجھے اپنی توہین کی پروا نہیں لیکن تونے اپنی بیہودہ گفتاری سے اس بےزبان چیز کو جو صدمہ پہنچایا ہے اس کے ليے میں تجھے قیامت تک معاف نہیں کرسکتا۔"
یہ کہہ کر میں بائیسکل پر سوار ہوگیا اور اندھا دھند پاؤں چلانے لگا۔
مشکل سے بیس قدم گیا ہوں گاکہ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ جیسے زمین یک لخت اچھل کر مجھ سے آلگی ہے۔ آسمان میرے سر پر سے ہٹ کر میری ٹانگوں کے بیچ میں سے گزر گیا اور ادھر اُدھر کی عمارتوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اپنی اپنی جگہ بدل لی ہے۔ حواس بجا ہوئے تو معلوم ہوا میں زمین پر اس بےتکلفی سے بیٹھا ہوں، گویا بڑی مدت سے مجھے اس بات کا شوق تھا جو آج پورا ہوا۔ اردگرد کچھ لوگ جمع تھے جس میں سے اکثر ہنس رہے تھے۔ سامنے دکان تھی جہاں ابھی ابھی میں نے اپنی ناکام گفت وشنید کا سلسلہ منقطع کیا تھا۔ میں نے اپنے گردوپیش پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ میری بائیسکل کا اگلہ پہیہ بالکل ہو کر لڑھکتا ہوا سڑک کے اس پار جاپہنچا ہے اور باقی سائیکل میرے پاس پڑی ہے۔ میں نے فوراً اپنے آپ کو سنبھالا جو پہیہ الگ ہوگیا تھا اس کو ایک ہاتھ میں اٹھایا دوسرے ہاتھ میں باقی ماندہ بائیسکل کو تھاما اور چل کھڑا ہوا۔ یہ محض ایک اضطراری حرکت تھی ورنہ حاشادکلا وہ بائیسکل مجھے ہرگز اتنی عزیز نہ تھی کہ میں اس کو اس حالت میں ساتھ ساتھ لیے پھرتا۔
جب میں یہ سب کچھ اٹھا کر چل دیا تو میں نے اپنے آپ سے پوچھا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو، کہاں جارہے ہو؟ تمہارارادہ کیا ہے۔ یہ دو پہیے کاہے کو لے جارہے ہو؟
سب سوالوں کا جواب یہی ملا کہ دیکھا جائے گا۔ فی الحال تم یہاں سے چل دو۔ سب لوگ تمہیں دیکھ رہے ہیں۔ سر اونچا رکھو اور چلتے جاؤ۔ جو ہنس رہے ہیں، انہیں ہنسنے دو، اس قسم کے بیہودہ لوگ ہر قوم اور ہر ملک میں پائے جاتے ہیں۔ آخر ہوا کیا۔ محض ایک حادثہ۔ بس دائیں بائیں مت دیکھو۔ چلتے جاؤ۔
لوگوں کے ناشائستہ کلمات بھی سنائی دے رہے تھے۔ ایک آواز آئی۔ "بس حضرت غصہ تھوک ڈالیئے۔" ایک دوسرے صاحب بولے۔ "بےحیا بائیسکل گھر پہنچ کے تجھے مزا چکھاؤں گا۔" ایک والد اپنے لخت جگر کی انگلی پکڑے جارہے تھے۔ میری طرف اشارا کرکے کہنے لگے۔ "دیکھا بیٹا یہ سرکس کی بائیسکل ہے۔ اس کے دونوں پہیے الگ الگ ہوتے ہیں۔"
لیکن میں چلتا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں آبادی سے دور نکل گیا۔ اب میری رفتار میں ایک عزیمت پائی جاتی تھی۔ میرا دل جو کئی گھنٹوں سے کشمکش میں پیچ وتاب کھا رہا تھا اب بہت ہلکا ہوگیا تھا۔ میں چلتا گیا چلتا گیا حتیٰ کہ دریا پر جاپہنچا۔ پل کے اوپر کھڑے ہوکر میں نے دونوں پہیوں کو ایک ایک کرکے اس بےپروائی کے ساتھ دریا میں پھینک دیا جیسے کوئی لیٹر بکس میں خط ڈالتا ہے۔ اور واپس شہر کو روانہ ہوگیا۔
سب سے پہلے مرزا کے گھر گیا۔ دروازا کھٹکھٹایا۔ مرزا بولے۔ "اندر آجاؤ"۔
میں نے کہا۔ آپ ذرا باہر تشریف لائیے۔ میں آپ جیسے خدا رسیدہ بزرگ کے گھر وضو کيے بغیر کیسے داخل ہوسکتا ہوں۔"
باہر تشریف لائے تو میں نے وہ اوزار ان کی خدمت میں پیش کیا جو انہوں نے بائیسکل کے ساتھ مفت ہی مجھ کو عنایت فرمایا تھا اور کہا:
"مرزا صاحب آپ ہی اس اوزار سے شوق فرمایا کیجیے میں اب سے بےنیاز ہوچکا ہوں۔"
گھر پہنچ کر میں نے پھر علم کیمیا کی اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا جو میں نے ایف۔اے میں پڑھی تھی۔
اتوار، 13 اپریل، 2014
مچھلیوں کے ماہر شکاری
وہ بھی میری عمر کے بچے تھے ، یہ 1968 کی بات ہے ، میرا ماموں زاد بھائی
مجھے کیماڑی گھمانےلے گیا تھا ، لیاری ریلوے سٹیشن کے پاس وہ سب مچھلیاں لانچ سے نکالنے
پر لگے ہوئے تھے اس وقت لیاری سے لیاری ندی کے درمیان کراچی کاکوڑا سمندرمیں پھینکنا شروع ہوا تھا ،بعض لانچیں وہاں بھی لنگر اندازہوتیں،مچھلیوں
کی بوسے میرا برا حال تھا ، لیکن وہ بچے بڑے آرام سے ،مچھلیاں نکال کر انہیں ، کھجور
کی ٹوکریوں میں ڈال رہے تھے ، پانچ سال سے 14 سال کے بچے ، تھے اس سے بڑی عمر کے بچے
لانچوں میں مچھلی کے شکار کے لئے جاتے ۔ماموں کے دوست ،جن کا مچھلی کا کاروبار تھا ، انہوں نے ہمیں ایک تقریباً 35 فٹ لمبی بوٹ پر سوار کرا دیا ، ہم نے بھی لانچ میں پورا دن گذارا ، وہ بچے ہمارے لئے عجوبہ تھے اور ہم ان کے لئے ۔ سمندر سے پکڑی جانے والی ،مچھلی کے کھپڑے اتار کر پیٹ صاف کرنے کے بعد اسے ،سمندر کے پانی سے دھو کر سمندر کے پانی سے بھرے ہوئی ایک کالی سیاہ دیگچے میں ڈال کر ، چولہے پررکھ کر آگ جلادی ، کشتی کے ایک طرف جال پھیلا دیا تھا ، جال آدھا سمندر کے اندر تھا اور آدھا تیر رہا تھا اور کشتی آہستہ آہستہ آہستہ چل رہی تھے ، سامنے سے آنے والی مچھلیاں جال میں پھنسے جا رہی تھیں ،جب جال کا وزن زیادہ ہو گیا تو جال کو کھینچ لیا گیا ۔ جوبے تحاشہ مچھلیوںسے بھرا ہوا تھا ، یہ سمندر کا وہ علاقہ تھا ۔ جہاں صرف مچھلیاں ہوتی تھیں ، اکا دکا جھینگے بھی تھے ۔ جال کشتی میں خالی کرنے کے بعد دوبارہ پھینکا گیا ، وہ بچے جو لانچ میں تھے ، انہوں نے مچھلیوں کو علیحدہ کرنا شروع کیا ، بڑی مچھلیاں الگ ٹوکروں میں ، کچھ مچھلیاں ، واپس سمندر میں ، چھیگا ملتا تو بچے نعرہ لگاتے ، ہم بھی ان میں شامل تھے ، شام چار بجے تک پانی کی وجہ سے ہمارے ہاتھ سفید اور بوڑھے ہوگئے ، بلکہ بعض مچھلیوں کے پروں سے زخمی بھی ہوئے ، سمندر کا پانی زخم کا فوراً احساس دلاتا ، لیکن ویسلین لگانے سے ، زخم کی چرمراہٹ میں کمی ہوجاتی لیکن مچھلیاں ہاتھ سے پھسلنے لگتیں ۔
جب چولہے پر رکھی ہوئی ، مچھلیاں ابل کر تیار ہوگئیں تو کھانے کا وقفہ ہوا ، ایک چٹائی پرسب بیٹھے ، ایک تھال میں ابلے ہوئے چاول کے اوپر مچھلیاں الٹیں اور دوسرے تھال میں ، مچھلیاں اور ایک کپڑا بچھا کر اس پر بند ڈالے ، ہم اپنا کھانا پراٹھے اور اچار لائے تھے ، کیوں کہ ممانی نے مچھیروں کے ہاتھوں مچھلیاں پکانے کااتنے دلدوز انداز میں نقشہ کھینچا تھا ، کہ مچھلیوں کی طرف دیکھنے سے ہی ابکائی آنے لگتی ۔ اس پر ظلم یہ کہ انہوں نے ہمارے لئے چٹائی نما دسترخوان پر جگہ بھی بنا دی ۔ ہم مروت اور خلوص کا انکار نہ کرسکے ۔ ایک چالیس پینتالیس سال کی عمر کے مچھیرے نے ، ایک بڑی مچھلی پرات سے اٹھائی ، اسے اخبار سے صاف کیا ، اور ایک تام چینی کی پلیٹ میں ، درمیان سے کھول کر دیا ، کہ یہ کھاؤ ، ہم چاروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ، میں نے ہمت کر کے ، مچھلی کا سفید گوشت تھوڑا سا لیا اور چکھا ۔
ماموں زاد کو کہا ، "مزیدار ہے "۔
اس نے شک کے انداز یں کہا ، "اور کھاؤ "
میں نے ، ایک بڑا ٹکڑا اٹھایا ، اور کھانا شروع کر دیا ، باقی تینوں نے بھی ہماری تقلید کی ، اور یقین مانیئے ، کہ یہ تحریر لکھتے وقت اس مچھلی کی لذت اب بھی میں اپنے منہ میں محسوس کر رہا ہوں ۔
کھانے کے بعد دوسری دفعہ جال پھینکا گیا ، اس میں کم مچھلیاں ہاتھ لگیں ، پھر واپسی کا سفر شروع ہوا ، اب جال پھینکنا بچوں کی باری تھی ، کل چار جال پھینکے گئے ،جن میں سے دو میں ہم نے بھی مدد کی اور سمندر میں مچھیاں پکڑنے کی تعلیم برائے ، باعزت روزگار حاصل کی -
جال کابنانا، اس کی مرمت ،کشتی کا چلانا ، اسے روکنا،لنگر ڈالنا، اور سب سے اہم جیٹی پر لگانا ، یوں سمجھیں،کہ بحری ہنر کے امین ، باشندوں کی الگ دنیا ہے ۔ جس کا ادراک شہری بچے نہیں کر سکتے ۔ ان کے نزدیک یہ بہت مشکل پیشہ ہے ، انہیں نہیں معلوم ، ہمارے دستر خوانوں کی زینت بننے والی ، سمندری گوشت کی مختلف ڈشیں انہی سمندری تعلیم یافتہ ہنرمندوں کی مہارت سے میسر ہوتی ہیں ۔
ہاتھ تو ہر ہنر مند کے چھلتے ہیں اور زخمی بھی ہوتے ہیں ، لیکن اللہ تعالیٰ کا نظام انہیں اپنی حفاظتی طبی پرت میں رکھتا ہے ۔ یہ محنت کش لوگ ، بچپن سے اس کام کی تربیت حاصل کرتے ہیں ، میں اکثر سوچتا ہوں ، کہ یہ بچے اگر سکول جائیں اور لارڈ میکالے کا بنایا ہوا سلیبس اور نظام کے تحت تعلیم حاصل کریں ، تو کیا ان سب کو ملازمت مل جائے گی ؟
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !
افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔









