Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 8 دسمبر، 2014

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں


نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے
وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے

جس دھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی وہ دھوپ اسی کے ساتھ گئی 
ان جلتی بلتی گلیوں میں اب خاک اڑاؤں کس کے لیے

وہ شہر میں تھا تو اس کے لیے اوروں سے بھی ملنا پڑتا تھا 
اب ایسے ویسے لوگوں کے میں ناز اٹھاؤں کس کے لیے

اب شہر میں اُس کا بدل ہی نہیں کوئی ویسا جانِ غزل ہی نہیں 
ایوانِ غزل میں لفظوں کے گلدان سجاؤں کس کے لیے

مدت سے کوئی آیا نہ گیا سنسان پڑی ہے گھر کی فضا 
ان خالی کمروں میں ناصر اب شمع جلاؤں کس کے لیے

اتوار، 7 دسمبر، 2014

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

 ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے، جو لوحِ ازل پہ لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں، روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے، جب دھرتی دھڑ دھڑ ڈھڑکے گی
اور اہلِ حکم کے سر اوپر ،جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی

ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
جب ارضِ خدا کے کعبے سے، سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہلِ صفا، مردودِ حرم ،مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے، سب تخت گرائے جائیں گے

ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے 

بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی، جو ناظر بھی ہے منظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ، جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا ،جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

 ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے، جو لوحِ ازل پہ لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں، روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے، جب دھرتی دھڑ دھڑ ڈھڑکے گی
اور اہلِ حکم کے سر اوپر ،جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی

ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے 

جب ارضِ خدا کے کعبے سے، سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہلِ صفا، مردودِ حرم ،مسند پہ بٹھائے جائیں گے
 سب تاج اچھالے جائیں گے، سب تخت گرائے جائیں گے

ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے 
بس نام رہے گا اللہ کا ،
جو غائب بھی ہے حاضر بھی، جو ناظر بھی ہے منظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ، جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا ،جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

ہفتہ، 22 نومبر، 2014

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

  ہجر کی شب نالۂ دل وہ صدا دینے لگے
سننے والے رات کٹنے کی دعا دینے لگے
کس نظر سے آپ نے دیکھا دلِ مجروح کو
زخم جو کچھ بھر چلے تھے پھر ہوا دینے لگے
جُز زمینِ کوئے جاناں کچھ نہیں پیشِ نگاہ
جس کا دروازہ نظر آیا صدا دینے لگے
باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقتِ دفن
زندگی بھر کی محبت کا صلہ دینے لگے
آئینہ ہوجائے میرا عشق ان کے حسن کا
کیا مزا ہو درد اگر خود ہی دوا دینے لگے
(ثاقب لکھنوی)


٭٭٭٭٭٭

جمعرات، 20 نومبر، 2014

گلاس آدھا بھرا ہوا ہے !

وہ اداس تھا  ، کیوں کے سارا دن بوریت میں گذرا ، برآمدے میں صبح سے بیٹھا ، وہ آتی جاتی گاڑیوں، پیدل چلنے والے لوگوں ، شور مچاتے بچوں  اور بازار جاتی اور واپس آتی عمر رسیدہ خواتین کو  روزمرہ کی طرح  دیکھتا  رہا ۔ یہ نئے سال کا پہلا دن تھا – وہ اٹھا اور کمرے میں آیا  اور اپنے مطالعے کے کمرےمیں رائٹنگ ٹیبل پر بیٹھ گیا ۔  کیا کیا جائے  ؟ اُس نے سوچا اور بے دھیانی میں اُس نے   قلم اٹھایا اور ایک کاغذ پر لکھا ۔

٭
- گزشتہ سال میں، میرا آپریشن ہوا اور پتا نکال دیا گیا، بڑھاپے میں ہونے والے اس آپریشن کی وجہ سے مجھے کئی ہفتے تک بستر کا ہو کر رہنا پڑا۔

٭
- گزشتہ سال ، میری عمر ساٹھ سال ہوئی اور مجھے اپنی پسندیدہ اور اہم ترین ملازمت سے سبکدوش ہونا پرا۔ میں نے نشرو اشاعت کے اس ادارے میں اپنی زندگی کے تیس قیمتی سال گزارے تھے۔

٭
- گزشتہ سال ہی،  مجھے اپنے والد صاحب کی وفات کا صدمہ اٹھانا پڑا۔

٭
- گزشتہ سال ہی، میرا بیٹا اپنے میڈیکل کے امتحان میں فیل ہو گیا، وجہ اس کی کار کا حادثہ تھا جس میں زخمی ہو کر اُسے کئی ماہ تک پلستر کرا کر گھر میں رہنا پڑا، کار کا تباہ ہوجانا علیحدہ سے نقصان تھا۔

صفحے کے  نیچے اس نے لکھا؛
 آہ، کیا ہی برا سال تھا یہ !
- - - -  - - - - - -
مصنف کی بیوی کمرے میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ، اُس کاشوہر غمزدہ چہرے کے ساتھ خاموش بیٹھا خلاؤں کو گُھور رہا تھا۔ اُس نے شوہرکی پشت کے پیچھے کھڑے کھڑے میز پر رکھے کاغذ کو پڑھا ۔ وہ واپس مڑی اور  خاموشی سے کمرے سے  باہر نکل گئی۔ کچھ دیر کے بعد واپس آئی ، اُس نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ایک کاغذ خاموشی سے  شوہرکے لکھے کاغذ کے برابر میں رکھ دیا۔ شوہرنے کاغذ کو دیکھا تو اس پر لکھا تھا۔

٭- آخر کار مجھے اپنے پتے کے درد سے ، پچھلے سال نجات مل گئی جس سے میں سالوں کرب میں مبتلا رہا تھا۔
 
٭-  میں اپنی بہترین  صحت مند زندگی   ساتھ ،ساٹھ کا ہندسہ  سلامتی کے ساتھ عبو رکر چکا ہوں۔ کئی سالوں کی ان تھک محنت اور ریاضت کے بعد میں  ملازمت سے ریٹائرمنٹ ہوا ،اب میں  مکمل یکسوئی اور راحت کے ساتھ اپنے وقت کو بہتر لکھنے کیلئے استعمال کر سکوں گا۔گارڈننگ کروں گا اور صبح کے پرسکون ماحول میں ، باغ میں اپنی بیوی کے ساتھ ،چہل قدمی کروں گا ۔ 
 
٭-  میری ریٹائرمنٹ سے چندہ ماہ پہلے ، میرے والد پچاسی سال کی عمر میں  ، خدمتِ خلق کرتے ہوئے ، بغیر کسی پر بوجھ بنے اور کسی بڑی تکلیف اور درد کے  کے بغیر ،آرام کے ساتھ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ قبرستان میں لوگ اُن کی انسان دوست خدمت کے گُن گا رہے تھے اور مجھ سے توقع کر رہے تھے ، کہ میں  ریٹائرمنٹ کے بعد اُن کے نقش قدم پر چلوں۔
 
٭-  اسی سال ، اللہ تعالیٰ نے میرے بیٹے کو ایک نئی زندگی عطا فرما ئی  اور ایسے حادثے میں جس میں فولادی کار  بُری طرح تباہ ہو گئی ، لیکن میرا بیٹا  معجزانہ طور پر کسی  معذوری سے بچ کر زندہ و سلامت رہا ۔
 
یقیناً پچھلا سال ،  خدا نے رحمت بنا کر بھیجا اور  وہ باقی  سالوں کی طرح بخیرو خوبی گزرا۔

-       - - - - - - - --  -

وہی حواداث اور بالکل وہی احوال مگر نقطہء نظر  مختلف ،

سکھ اور دکھ ،  راحت او رغم ،  کی قدیں  ایک ہیں لیکن اُن کو محسوس کرنے کے انداز مختلف ۔  

مثبت زاویے سے دیکھیں تو ہمیں جو کچھ عطا ہوا وہ بہتر نظر آنا شروع ہو جائے گا۔

(ماخوذ)

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔