Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 5 نومبر، 2015

مغربی باپ اور بیٹا

مغربی دیس کا ایک بیٹا اپنے بوڑھے والد کو یتیم خانے میں چھوڑ کر واپس لوٹ رہا تھا- کہ اُس کی بیوی نے فون کیا ،
" دیکھو یہ خیال رکھنا کہ ڈیڈی تہواروغیرہ کی چھٹی میں گھر نہ آئیں ۔ ہم خود اُن سے ملنے جایاکریں گے "
" بہتر ہے میں انتظامیہ کو بتا دیتا ہوں "۔
بیٹے نے سوچا ،
" اُس کے باپ نے ، 15 سال پہلے ماں کے ایکسیڈنٹ میں مرنے کے بعد اُس کا کتنا خیال رکھا وہ جو بھی چیز مانگتا اُسے لا  کر دیتا ، اُسے کبھی سکول سے واپس آنے کے بعد اکیلا نہیں چھوڑا ، چھٹیوں میں دونوں باپ اور بیٹا جگہ جگہ کی سیر کرتے ۔ بہت سی عورتوں نے باپ کے قریب ہونے کی کوشش کی ۔ لیکن اُس کے باپ کو گوارا نہ تھا کہ اُس کا بیٹا اُس سے دور ہوسٹل کی زندگی گذارے ۔
وہ اپنے ماضی کو یاد کرتا ہوا آفس کی طرف بڑھا ۔
" لیکن اب ڈیڈی کو گھر میں اکیلا رکھنا ، مشکل ہو گیا ۔ جوڈی بھی تنگ آچکی ہے ۔ بچے بھی پریشان ہیں ۔ وہ لوگ ڈیڈی کی وجہ سے آؤٹنگ پر بھی نہیں جا سکتے۔ دراصل ایکسیڈنٹ کی وجہ سے ڈیڈی کی ایک کاٹنا پڑی تھی ۔ زخمی وہ بھی ہوا تھا مگر معمولی ، اُسے سیٹ بیلٹ باندھنے سے نفرت تھی اور  ڈیڈی نے اُس کے لئے اپنی اور ماما کی سیٹ کے پیچھے خصوصی فوم لگائے تھے ۔
اُس نے آفس کی طرف دیکھا ،ڈیڈی انچارج سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے ، شاید پرانے دوست تھے ، اُسے یاد آیا کہ ایک دفعہ ڈیڈی اُسے یہاں ماما کے ساتھ لائے تھے۔
وہ اور ماما کار میں بیٹھے رہے اور ڈیڈی اندر چلے گئے تھے ۔ شاید اُنہوں نے اپنے پاپا کو یہاں ، رکھا ہو ؟

انچارج نے اُسے آفس کی طرف دیکھا تو آفس سے باہر نکلا ،
" جی مسٹر ڈیوڈ جونیئر ، کوئی خاص بات ؟"
" مسٹر ہینڈرسن ، میں اور میری فیملی ڈیڈی کو ملنے یہاں تعطیلات پر آیا کریں گے " ڈیوڈ جو نیئر نے کہا ۔
" یقیناً ، یقیناً ، مسٹر ڈیوڈ کو خوشی ہو گی "
انچارج بولا ، وہ سفید بالوں والا ڈیڈی کا ہم عمر یا زیادہ رہا ہوگا ۔
" بہت بہت شکریہ " ڈیوڈ جو نیئر واپس مڑا دو قدم چلنے کے بعد اُس نے اپنے تجسس کے ھاتھوں مجبور ہو کر پوچھا ،

" مسٹر ہینڈرسن ، بُرا نہ مانئیے گا ، ایک ذاتی سوال کروں ! "
 "آپ میرے والد کو کب سے جانتے ہیں ؟ " ڈیوڈ آرتھر جونئیر، سیکنڈ آفیسر ، سٹی بنک نے پوچھا ۔

مسٹر ہینڈرسن نے مسکراتے ہوئے جواب دیا -
"گذشتہ تیس سال سے ...جب مسٹر ڈیوڈ آرنلڈ اور اُن کی مسز ہمارے پاس ایک بچے کو گود لینے آئے تھے !"

(ماخوذ )

الٹی بولی !

اردو زبان کی حیرت انگیزیاں ۔   یہ مضمون   مجھے وٹس ایپ ہوا ۔
 پڑھتے ہی 1964 کا زمانہ ذہن میں آگیا ۔ 
جب " فے " کی بولی ، ہم بچے بولا کرتے تھے پھر " چے " کی بولی اور " کاف " کی بولی ، بھی ایجاد ہو گئی ۔ 
تم کیا کر رہے ہو ؟
  تفم کفیا کفر رفہے ہفو ؟
 لہذا والدین سے بلا خوف ، ایک دوسرے کی شکایت لگانے کی " فے " کی بولی میں دھمکی دیتے ۔
 یہ بولیاں عام ہو جانے کے بعد ، میں نے اُلٹی بولی ایجاد کی جو ہم تینوں بہن بھائی آپس میں بولا کرتے تھے ۔ گو کہ یہ مکمل اُلٹی بولی نہیں تھی اِس کے ادب و آداب ہم نے بولتے بولتے بنائے تھے ۔
 تم کیا کر رہے ہو ؟ مُت ایک رک ہیر وہ ؟
  پانچویں کلاس سے دسویں کلاس تک بولتے بولتے ہم تینوں بلکہ چھوٹی بہن بھی اِس میں ماہر ہوگئے تھے ۔
ابّا کے فوج میں ہونے کی وجہ سے ہر دو سے تین سال بعد  نہ صرف محلّہ  ، بلکہ سکول اور شہر بھی تبدیل ہوتا  ۔ ہر شہر میں نئی نئی چیزیں  دیکھنے کو ملتے ۔ جن میں  مقامی زبانیں ، عمارات ، باغات  اور  دیگر تفریحی مقامات دیکھنے کو ملتے ۔ جن پر مضمون لکھنا میرے اور آپا کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ۔  جگہوں کے نام اِس لئے یاد رہتے  کہ ، کھیل  بوجھو تو جانیں   یعنی  کسوٹی  کھیلا کرتے تھے ۔ 
بعض دفعہ  اتنے اعتماد سے جھوٹ بولا  جاتا کہ سوال پوچھنے والے کو یقین کرنا ہی پڑتا ۔   لیکن پھر سچ بتا دیا جاتا کہ مذاق کیا تھا ۔
الٹی زبان بولنے کی وجہ سے محلّے   کے بچے پوچھتے کہ،
" یہ کون سی زُبان ہے؟"

 تو آپا جھٹ کہتی ،
" جرمن زبان ہے "

پہلے تو  دوست یقین کر لیتے ، لیکن پھر اُنہیں بھی گُر بتا دیا جاتا ۔
وہ بھی بولا کرتے ، لیکن ہماری گرائمر کی غلطیوں کے ساتھ مگر سمجھنا مشکل نہ ہوتا ، کیوں کہ وقتی راز کی بات ہوتی ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 اردو زبان کی حیرت انگیزیاں
ذیل میں اردو کے کچھ الفاظ دئیے جا رہے ہیں جن کو الٹا کر کے پڑھیں تو معانی تبدیل ہو جاتے ہیں !
  بارش = شراب
  مالک = کلام
  سیب = بیس
  سر = رس
  رانا = انار
  تاریخ = خیرات
  لاش = شال
  ایک = کیا
  انیس = سینا
  ماما = امام 

اویس = سیوا
بیج = جیب
راز = زار
نام = مان
انور = رونا
اناج = جانا
روز = زور
بات = تاب
بابر = رباب
مرچ = چرم
چین = نیچ
ناپ = پان
بابرا = ارباب
رات = تار
موچ = چوم
دال = لاد
ریما = امیر
ریت = تیر
شور = روش
ڈال = لاڈ
ریشم = مشیر
شوخ = خوش
شام = ماش
رش = شر
فرح = حرف
لوگ = گول
ناک = کان
شک = کش
لات = تال

شرط = طرش 

 کچھ الفاظ ایسے بھی ھیں جنھیں الٹا پڑھو تو تلفظ وہی رہتا ہے جیسے:
نادان۔  تبت۔ موم۔ ٹاٹ۔میم۔ لال۔ بلب۔ نان.....
لفظ درد کو الٹا جائے تو درد ہی بنتا ہے۔ اسی تعلق سے ایک شعر ہے۔

میں سراپا درد ہوں 
جس پہلو پے پلٹو درد ہوں۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

منگل، 3 نومبر، 2015

آفتاب اقبال بن علامہ اقبال

آفتاب اقبال علامہ اقبال کے بڑے بیٹے تھے جو 1899ء میں پنڈدادن خان ضلع شاہ پور میں پیدا ہوئے۔ ان کی ماں علامہ کی پہلی بیوی کریم بی بی تھیں جن سے علامہ کی شادی1893ء میں ہوئی ۔ کریم بی بی علامہ کے انتقال کے آٹھ سال بعد1946ء میں گجرات میں فوت ہوئیں اور وہیں مدفون ہیں۔

کریم بی بی کے بطن سے علامہ کو ایک لڑکی معراج بیگم بھی ہوئی ہیں جو19سال کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ اگرچہ بچپن ہی سے آفتاب اور ان کی بہن معراج اپنی ماں کے ساتھ نانا کے گھر گجرات میں رہتے تھے لیکن آفتاب، اقبال کے والد نور محمد کے نور نظر تھے اور نور محمد ہی نے ان کا نام آفتاب رکھا تھا۔

علامہ اقبال نے آفتاب اقبال کو سکاچ مشن ہائی سکول میں شریک کروایا جہاں انہوں نے1916ء میں میٹرک کا امتحان درجہ اوّل میں پاس کیا۔ پھر سینٹ اسٹیفن کالج دہلی سے بی اے کا امتحان بھی فلسفہ میں آنرز کے ساتھ پاس کیا اور1921ء میں ایم اے کی ڈگری فلسفہ میں حاصل کی۔ آفتاب کے ماموں کیپٹن غلام محمد اور نانا ڈاکٹر عطا محمد نے انہیں اعلیٰ تعلیم کیلئے انگلستان روانہ کیا جہاں آفتاب نے1922ء میں لندن یونیورسٹی سے فلسفہ میں بی اے درجہ اوّل میں کامیاب کیا۔1924ء میں اسی یونیورسٹی سے ایم اے کرکے دوسال کیلئے ہندوستان آئے اور پھر انگلستان جاکر تین سال تک وہاں سکول آف اورنٹئیل اسٹڈیزمیں ملازم ہوئے۔

اسی دوران لنکن انزمیں داخلہ لے کر بارایٹ لاء میں کامیابی حاصل کی لیکن مالی مشکلات کی بنا پر وکالت نہ کرسکے سراکبر حیدری نے عثمانیہ یونیورسٹی حیدر آباد میں ملازمت دینے کی کوشش کی لیکن کوئی مناسب جگہ ان کیلئے یونیورسٹی میں نکل نہ سکی۔ آفتاب نے کچھ عرصے کیلئے اسلامیہ کالج لاہور میں بحیثیت صدر شعبہ انگریزی ملازمت کی لیکن1942ء میں بحیثیت بیرسٹر پریکٹس شروع کی اور پاکستان کے قیام کے بعد وہ مستقل طور پر کراچی منتقل ہوگئے اور بیرسٹری پریکٹس میں آخری عمر تک مصروف رہے اور یہیں پر رشیدہ بیگم سے شادی کی۔ آفتاب اقبال کا81سال کی عمر میں14 اگست 1979ء کو لندن میں انتقال ہوا ان کے جنازے کو کراچی لاکر قبرستان سخی حسن میں دفن کیا گیا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ علامہ اقبال کی ازدواجی زندگی ہر گونہ مسائل سے دوچار تھی۔ علامہ اپنی پہلی شادی سے خوش نہیں تھے اور کریم بی بی کو طلاق دینا چاہتے تھے۔ لیکن کریم بی بی نے طلاق کے بدلے جدازندگی بسر کرنے کو ترجیح دی اور علامہ اقبال اپنی آخری عمر تک ان کے اخراجات برداشت کرتے رہے۔ اس شادی کے بارے میں9 اپریل 1909کو عطیہ فیضی کو لکھتے ہیں ’’میری تنہا آرزویہ ہے کہ اس شہر سے کہیں باہر نکل جاؤں لیکن تم جانتی ہو کہ اپنے بھائی کا احسان مند ہوں جو میرے اس شہر سے باہر جانے کے مخالف ہیں ۔میری زندگی سخت مصیبت زدہ ہے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں کسی طرح سے کریم بی بی کے ساتھ زندگی بسرکروں جو ممکن نہیں، میں پہلے ہی سے اس شادی سے خوش نہ تھا میں حاضر ہوں کہ اخراجات کفالت برداشت کروں لیکن اس کے ساتھ زندگی بسر نہ کروں۔‘‘

عطیہ فیضی نے اس شادی کی شکست کی وجہ دونوں کی فکری صلاحیتوں میں شدید فرق اور طبیعتوں میں اختلاف بتایا ہے۔ اس شادی کے اختلافات اور دوری کی وجہ سے آفتاب اقبال، علامہ کی محبت اور شفقت سے محروم ہوئے اور چونکہ وہ اپنی ماں کے ہم خیال تھے اور اس شادی کی شکست کے پورے ذمہ دار علامہ کو سمجھتے تھے۔ اس لئے روز بروز ان کے اور علامہ کے درمیان تعلقات خراب ہوتے گئے۔ نذیر نیازی ’’دانائے راز‘‘ میں اس شادی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس شادی کی شکست کی وجہ کریم بی بی کے اخلاق اور ان کی خشک طبیعت تھی اس کے علاوہ خود آفتاب کی رفتار وگفتار انہیں علامہ سے دور کھینچتی جاتی تھی۔

جاوید اقبال نے خود اپنی کتاب ’’زندہ رود‘‘ میں لکھا کہ میں ان مطالب کو بیان کرتے ہوئے کوئی جھجک محسوس نہیں کرتا کہ علامہ نے جوروش اختیار کی تھی اگرچہ وہ عمدہ نہ تھی لیکن روش معقول تھی۔ آفتاب ضدی تھے او رہمیشہ علامہ کے خلاف کھڑے ہوتے اور علامہ کے خلاف جو اتہامات لگائے جاتے وہ ان سے فائدہ اٹھاتے تھے۔

آفتاب اقبال اپنے انگلستان کے قیام کے دوران شدید مشکلات سے دوچار تھے چنانچہ جب انہیں معلوم ہوا کہ ریاست حیدر آباد کا وفد سراکبر حیدری کی قیادت میں انگلستان آیا ہوا ہے تو انہوں نے سراکبر حیدری سے مل کر اپنی مالی مشکلات کا ذکر کیا اور بتایا کہ امتحانی فیس نہ ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی نے انہیں سند نہیں دی ہے۔ چنانچہ اکبرحیدری نے انہیں 190پونڈ قرض دلوایا لیکن حیدر آباد میں مہاراجہ کشن پرشاد نے اس قرض کو عطیہ میں تبدیل کردیا۔

علامہ اقبال ہی کی نسبت سے اکبر حیدری نے یکم جنوری 1931ء کو فخر یار جنگ کو ایک سفارشی خط لکھا اور جامعہ عثمانیہ میں آفتاب کو ملازمت دلانے کا کہا لیکن اس وقت جامعہ میں کوئی مناسب جگہ خالی نہ تھی۔1931ء میں آفتاب انگلستان سے لاہور آئے اور29مارچ کو سراکبر حیدری کے خط میں اپنی مالی مشکلات علامہ کی عدم التفات اور جائیداد سے محرومی کا شکوہ کچھ اس انداز میں کیا کہ سراکبر حیدری نے11اپریل 1931میں علامہ کو لکھا ’’اگرچہ مجھے آفتاب پر آپ کی خفگی کی وجہ معلوم نہیں لیکن میں یہ کہنے کی جرأت کرتا ہوں کہ آپ اس کی بحالی پر غور کریں۔‘‘

علامہ اقبال نے2مئی 1931ء کو اکبر حیدری کو لکھا۔
’’
قصہ طولانی اور اس کا بیان اذیت ناک ہے۔ دراصل میں دہلی میں آپ سے ملاقات کرنے سے بھی اس لئے کترایا کہ میں نے سو چا وہ ہماری گفتگو کا موضوع بن سکتا ہے۔ اور اس سے کچھ دیر کیلئے میرا ذہنی سکون برباد ہوگا ۔میں پہلے ہی اپنی بساط سے زیادہ اس کی مدد کر چکا ہوں اس طرز عمل کے باوجود وہ میرے ساتھ اور خاندان کے دوسرے افراد کے ساتھ کرتا رہا ہے۔ کوئی باپ تحمل کے ساتھ وہ شرارت آمیز خطوط نہیں پڑھ سکتا جو اس نے مجھے لکھے ہیں۔ اب جو کچھ وہ کر رہا ہے وہ صرف بلیک میلنگ کے منصوبے کا ایک حصہ ہے جو وہ کچھ عرصے سے کرتا آرہا ہے۔ بہرحال یہ میرے لئے ممکن نہیں کہ میں اس کی مدد کرسکوں۔ میں ایک بوڑھا آدمی ہوں جس کی صحت بھی ڈانواں ڈول رہتی ہے کسی طرف سے کوئی امید نہیں، دو چھوٹے بچے ہیں ( جاوید اقبال  پیدائش 1924اور منیرہ اقبال  )  جن کی پرورش کرنا ہے۔

اگر میں کوئی مالدار آدمی ہوتا تو شاید اس کی کچھ اور مدد کردیتا اگرچہ وہ اس کا مستحق نہیں۔ میں سمجھتا ہوں میرے حالات کے بارے میں آپ کوکچھ علم نہیں۔ فطرت نے مجھ کو کچھ چیزیں دیں ہیں او رکچھ نہیں دیں میں پوری طرح قانع ہوں اور میرے لبوں پر کبھی حرف شکایت نہیں آیا۔ شاید آپ پہلے آدمی ہیں جسے میں نے یہ باتیں لکھی ہیں۔ میں جانتا ہوں آپ نے اس کی مدد کی ہے کچھ اس لئے کہ اس نے آپ کو خوب متاثر کیا ہے اور کچھ میرے تعلق سے ’’آپ کی فیاض فطرت اس کے سوا اور کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی مگر مجھے یقین ہے آپ کا اس پر اور مجھ پر بڑا کرم ہوتا اگر اس کو کوئی موزوں ملازمت جامعہ عثمانیہ میں دلاسکتے‘‘ ۔

اس خط کا جواب 11مئی1931ء کو سراکبر حیدری نے دیا اور علامہ کی مجبوری کو تسلیم کیا اور انہیں یقین دلایا کہ وہ عثمانیہ یونیورسٹی میں ان کو کوئی موزوں جگہ دلوانے کی اپنی کوشش جاری رکھیں گے۔ علامہ اقبال نے14مئی کو اس خط کے جواب میں لکھا’’ یہ نوجوان اب تک70ہزار روپے اپنے اوپر خرچ کرچکا ہے۔ اس میں سے خود اسکے بقول اس نے 50 ہزار روپے انگلستان میں قرض لئے ہیں۔ میں نے اسکی ماں کو دس ہزار روپے دئیے تھے جو اس نے سب کے سب اس پرخرچ کردئیے اور یہ رقم بھی اس کے علاوہ ہے جو اس کی ماں نے اوراسکے باپ نے اس لڑکے کو دئیے۔

اس کی انگلستان سے واپسی کے صرف ایک دو ماہ قبل مجھے ایک ہزار روپے دینے پر مجبور کیا گیا۔ اسکے باوجودہ اکثر وبیشتر بلیک میلنگ پر مبنی خطوط بھیجتا رہتا ہے۔ میں اس کے تازہ ترین خط کی نقل آپ کو ارسال کرنا چاہتا تھا مگر میں ایسا نہیں کرتا بالخصوص اس واسطے کے میں نے سوچا اس کے بعد آپ اس کے ساتھ ہمدردی کرنا ترک فرمادیں گے۔ فارسی کا شعر میری موجودہ کیفیت ذہنی کے مطابق ہے۔

آں جگر گوشہ ہماں شدکہ من اوّل گفتم
کہ چو شوید لبش از شیر جگر خوارہ شود

’’یعنی یہ جگر ٹکڑا وہی ہوا جو میں نے شروع میں کہا تھا کہ جب دودھ منہ سے پونچھے گا تو جگر خوار بن جائے گا‘‘

اگرچہ کچھ اطلاعات کے مطابق اکبر حیدری اور علامہ کے درمیان اس مسئلہ پر گفتگو جاری رہی۔ چنانچہ اکبرحیدری 12 فروری 1937ء کے خط میں لکھتے ہیں۔ ’’اگر مجھے پہلے ہی سے ان ناخوشگوار حالات کا علم ہوتا جس کی آپ نے نشاندہی کی ہے تو بلاشبہ میں اس اپیل کو نظر انداز کردیتا‘‘۔

آفتاب اقبال علامہ کے انتقال کے چالیس(40) سال بعد تک زندہ رہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منگل، 13 اکتوبر، 2015

صحبتِ ہم نشیناں

ایک صاحب تھے شادی کی تلاش میں کہیں لمبے نکل گئے اور شادی کی عمر نکل گئی-
ڈھلتی عمر میں ایک لڑکی پسند آ گئی تو رشتہ پرپوز کیا-
لڑکی نے دو شرطیں رکھیں اور شادی پر تیار ہو گئی-
ایک یہ کہ ھمیشہ جوانوں میں بیٹھو گے ،
دوسرا دیوار پھلانگ کے گھر آیا کرو گے !
جوان بزرگ مان گیا ۔ کہ بھلا یہ بھی کوئی شرط ہے ۔

شادی ہو گئی
جوان بزرگ جوانوں میں ہی بیٹھتااور گپیں لگاتا-
جوان ظاہر ہے لڑکیوں کی اور پیار محبت کی باتیں کرتے ہیں- منڈیوں کے بھاؤ یا ہسپتالوں سے انہیں دلچسپی نہیں اور نہ ہی مذہبی موضوعات سے کچھ لینا دینا-

جوان بزرگ کا موڈ ہر وقت رومانٹک رھتا جب آدھی رات کو گھر واپس ہوتا ، ایک جھٹکے سے دیوار پھلانگ کر صحن میں دھم سے کود جاتا !

آخر ایک دن
جوان بزرگ کے بُرے دن آئے اور ایک  پرانا کلاس فیلو مل گیا-
" ارے شکور، بھئی شادی کیا کی ملنے سے گئے ؟ چلو دوست تمھارا انتظار کر رہے ہیں اور ملنے پر بیتاب ہیں " کلاس فیلو نے گلہ کیا ۔

  وہ
جوان بزرگ کو گلے شکوے کر کے اور گھیر گھار کے اپنی پنڈال چوکڑی میں لے گیا۔
اب وہاں کیا باتیں ہونی تھیں ؟
ایک بولا ، " یار گھٹنوں کے درد سے مر گیا ہوں بیٹھ کر نماز پڑھتا ہوں" -
دوسرے نے گرہ لگائی ، "یار میرا تو وضو ھی نہیں رہتا پیشاب کا قطرہ نکل جاتا ھے"-
"میری تو ریڑھ کی ھڈی کا مہرہ کھل گیا ھے، ڈاکٹر کہتا ھے جھٹکا نہ لگے"- تیسرا بلبلایا
" یار مجھے تو نظر ھی کچھ نہیں آتا کل پانی کے بجائے مٹی کا تیل پی گیا تھا، ڈرپ لگی ھے تو جان بچی ھے" - چوتھے نے ہولکناک خبر سنائی ۔
جوان بزرگ  جوں جوں ان کی باتیں سنتا گیا، وہ جوانی کی سیڑھیاں نیچے اترتا گیا ۔ جب ٹھیک پاتال میں پہنچا تو مجلس برخواست ہو گئی اور جوان بزرگ گھسٹتے پاؤں کے ساتھ گھر کو روانہ ہوا !

گھر پہنچ کر دیوار کو دیکھا تو گھر کی وہی دیوار جسے وہ اسپِ تازی کی طرح چھلانگ مار کر پار کرتا تھا ، آج وہی دیوار،دیوارِ چین لگی -
ہمت نہ پڑی دیوار کودنے کی کہ کہیں بابے پھجے کی طرح چُک نہ نکل آئے - ویسے بھی پھجہ اُس سے پورے دو سال چھوٹا تھا ۔
جوان بزرگ نے کُنڈی  کھٹکھٹائی ۔
"کھٹ کھٹ "
"کون ہے ؟ " اندر سے بیوی کی آوازآئی ۔
" میں ہوں ۔ دروازہ کھولو "
جوان بزرگ بوڑھے نے کپکپاتی آواز میں کہا ۔

" اسی لئے بولا تھا جوانوں میں بیٹھا کر!
" بیوی کنڈی کھولتے ہی بولی -
"
لگتا ہے آج بوڑھوں کی مجلس اٹینڈ کر لی ھے،اسی لئے ہمت جواب دے گئی ہے !" 






نتیجہ ! انسان بوڑھا نہیں ہوتا مجلس بوڑھا کر دیتی ہے!

ہفتہ، 10 اکتوبر، 2015

مظلوم کون ابنِ عفّان یا ابنِ علی ؟؟

26-Dhu al-Hijjah-1436

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے حضرت حسینؓ کا پانی 10 دن بند رہا تب بھی ٹھیک اگر تاریخ کہے حضرت حسینؓ کا پانی 7 دن بند رہا تب بھی ٹھیک لیکن تاریخ کو چھیڑنے کی بجائے تاریخ کا مطالعہ کرتا ہوں تو مجھے نظر آتاہے کہ اسلام کی تاریخ میں صرف حضرت حسینؓ کی ہی شھادت مظلومانہ یا دردناک نہیں بلکہ اگر ہم 10 محرم کہ طرف جاتے ہوئے رستہ میں 18 ذی الحج کی تاریخ پڑھیں تو ایک ایسی شھادت دکھائی دیتی ہے جسمیں شھید ہونیوالے کا نام حضرت عثمانؓ ہے

جی ہاں__ وہی عثمانؓ جنہیں ہم ذالنورین کہتے ہیں
وہی عثمانؓ جسے ہم داماد مصطفیؐ کہتے ہیں
وہہ عثمان جسے ہم ناشر قرآن کہتے ہیں
وہی عثمانؓ جسے ہم خلیفہ سوئم کہتے ہیں
وہی عثمانؓ جو حضرت علیؓ کی شادی کا سارا خرچہ اٹھاتے ہیں
وہی عثمانؓ جسکی حفاظت کیلئے حضرت علیؓ اپنے بیٹے حضرت حسینؓ کو بھیجتے ہیں
وہی عثمانؓ جسے جناب محمد الرسول اللہؐ کا دوہرا داماد کہتے ہیں
خیر یہ باتیں تو آپکو طلبا خطبا حضرات بتاتے رہتے ہیں
کیونکہ حضرت عثمانؓ کی شان تو بیان کی جاتی
حضرت عثمانؓ کی سیرت تو بیان کیجاتی ہے
حضرت عثمانؓ کی شرم حیا کے تذکرے کئے جاتے ہیں انکے قبل از اسلام اور بعد از اسلام کے واقعات سنائے جاتے ہیں لیکن بد قسمتی ہے یہ کہ انکی مظلومیت کو بیان نہیں کیا جاتا انکی دردناک شھادت کے قصہ کو عوام کے سامنے نہیں لایاجاتا

تاریخ کی چیخیں نکل جائیں اگر عثمانؓ کی مظلومیت کا ذکر کیا جائے کوئی عالم یا خطیب نہیں لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ عثمان وہ مظلوم تھا
جسکا 40 دن پانی بند رکھا گیا آج وہ عثمان پانی کو ترس رہاہے جو کبھی امت کیلئے پانی کے کنویں خریدا کرتاتھا
حضرت عثمانؓ قید میں تھے تو پیاس کی شدت سے جب نڈھال ہوئے تو آواز لگائی ہے کو جو مجھے پانی پلائے ؟
حضرت علیؓ کو پتہ چلا تو مشکیزہ لیکر علیؓ عثمان ؓ کا ساقی بن کر پانی پلانے آرہے ہیں
ہائے ۔۔۔ آج کربلا میں علی اصغر پر برسنے والے تیروں کا ذکر تو ہوتا ہے لیکن حضرت علیؓ کے مشکیزہ پر برسنے والے تیروں کا ذکر نہیں ہوتا باغیوں نے حضرت علیؓ کے مشکیزہ پر تیر برسانے شروع کئے تو علیؓ نے اپنا عمامہ ہوا میں اچھالا تاکہ عثمانؓ کی نظر پڑے اور کل قیامت کے روز عثمانؓ اللہ کو شکایت نا لگاسکے کہ اللہ میرے ہونٹ جب پیاسے تھے تو تیری مخلوق سے مجھے کوئی پانی پلانے نا آیا
کربلا میں حسینؓ کا ساقی اگر عباس تھا
تو مدینہ میں عثمانؓ کا ساقی علیؓ تھے

اس عثمانؓ کو 40 دن ہوگئے ایک گھر میں بند کیئے ہوئے جو عثمانؓ مسجد نبوی کیلئے جگہ خریدا کرتاتھا

آج وہ عثمانؓ کسی سے ملاقات نہیں کرسکتا جسکی محفل میں بیٹھنے کیلئے صحابہ جوق درجوق آیاکرتے تھے

40 دن گزر گئے اس عثمانؓ کو کھانہ نہیں ملا جو اناج سے بھرے اونٹ نبیؐ کی خدمت میں پیش کردیا کرتاتھا

آج اس عثمان کی داڑھی کھینچی جارہی ہے جس عثمان سے آسمان کے فرشتے بھی حیاکرتے تھے
آج اس عثمانؓ پر ظلم کیا جارہا ہے جو کبھی غزوہ احد میں حضور نبی کریمؐ کا محافظ تھا
آج اس عثمانؓ۔کا ہاتھ کاٹ دیا گیا جس ہاتھ سے آپؐ کی بیعت کہ تھی
ہائے عثمان میں نقطہ دان نہیں میں عالم نہیں جو تیری شھادت کو بیان کروں اور دل پھٹ جائیں آنکھیں نم ہوجائیں
آج اس عثمانؓ کے جسم پر برچھی مار کر لہو لہان کردیا گیا جس عثمان نے بیماری کی حالت میں بھی بغیر کپڑوں کے کبھی غسل نہ کیا تھا
آج آپؐ کی 2 بیٹیوں کے شوہر کو ٹھوکریں ماری جارہی ہیں
18 ذی الحج 35 ھجری ہے جمعہ کا دن ہے حضرت عثمانؓ روزہ کی حالت میں ہیں باغی دیوار پھلانگ کر آتے ہیں اور حضرت عثمانؓ کی داڑھی کھنچتے ہیں برا بھلا کہتے ہیں ایک باغی پیٹھ پر برچھی مارتاہے ایک باغی لوہے کا آہنی ہتھیار سر پر مارتاہے ایک تلوار نکالتا ہے حضرت عثمانؓ کا ہاتھ کاٹ دیتاہے وہی ہاتھ جس ہاتھ سے آپ کی بیعت کی تھی قرآن سامنے پڑا تھا خون قرآن پر گرتا ہے تو قران بھی عثمانؓ کی شھادت کا گواہ بن گیا عثمانؓ زمین پر گر پڑے تو عثمانؓ کو ٹھوکریں مارنے لگے جس سے آپ ۔کی پسلیاں تک ٹوٹ گئیں حضرت عثمانؓ باغیوں کے ظلم سے شھید ہوگئے۔

اسلام وہ شجر نہیں جس نے پانی سے غذا پائی
دیا خون صحابہؓ نے پھر اس میں بہار آئی::

مدینہ منورہ جنت البقیع میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی کی قبر مبارک۔
💖💖💖💖💖

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔