Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 9 دسمبر، 2015

نوراں کنجری


دسمبر کے اوائل کی بات ہے جب محکمہ اوقاف نے زبردستی میری تعیناتی شیخو پورہ کے امیر محلے کی جامعہ مسجد سے ہیرا منڈی لاہور کی ایک پرانی مسجد میں کر دی۔

 وجہ یہ تھی کے میں نے قریبی علاقے کے ایک کونسلر کی مسجد کے لاوڈ سپیکر پر تعریف کرنے سے انکار کر دیا تھا. شومئی قسمت کے وہ کونسلر محکمہ اوقاف کے ایک بڑے افسرکا بھتیجا تھا. نتیجتاً میں لاہور شہر کے بدنام ترین علاقے میں تعینات ہو چکا تھا. بیشک کہنے کو میں مسجد کا امام جا رہا تھا مگر علاقے کا بدنام ہونا اپنی جگہ، جو سنتا تھا ہنستا تھا یا پھر اظہار افسوس کرتا تھا-

محکمے کے ایک کلرک نے تو حد ہی کر دی. تنخواہ کا ایک معاملہ حل کرانے اس کے پاس گیا تو میری پوسٹنگ کا سن کے ایک آنکھ دبا کر بولا.
"قبلہ مولوی صاحب، آپ کی تو گویا پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں."
میں تو گویا زمین میں چھ فٹ نیچے گڑ گیا، پھر الله بھلا کرے میری بیوی کا جس نے مجھے تسلی دی اور سمجھایا
" کہ امامت ہی توہے، کسی بھی مسجد میں سہی. اور میرا کیا ہے؟ میں تو ویسے بھی گھر سے نکلنا پسند نہیں کرتی. پردے کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا. اور پھر ہمارے کون سے بچے ہیں کے ان کے بگڑنے کا ڈر ہو"
بیوی کی بات سن کر تھوڑا دل کو اطمینان ہوا اور ہم نے سامان باندھنا شروع کیا. بچوں کا ذکر چھڑ ہی گیا تو یہ بتاتا چلوں کے شادی کے بائیس سال گزرنے کے باوجود الله نے ہمیں اولاد جیسی نعمت سے محروم ہی رکھنا مناسب سمجھا تھا. خیر اب تو شکوہ شکایت بھی چھوڑ چکے تھے دونوں میاں بیوی.
جب کسی کا بچہ دیکھ کر دل دکھتا تھا تو میں یاد الہی میں دل لگا لیتا اور وہ بھلی مانس کسی کونے کھدرے میں منہ دے کر کچھ آنسو بہا لیتی

سامان باندھ کر ہم دونوں میاں بیوی نے الله کا نام لیا اور لاہورجانے کے لئے ایک پرائیویٹ بس میں سوار ہوگئے. بادامی باغ اڈے پے اترے اور ہیرا منڈی جانے کے لئے سواری کی تلاش شروع کی. ایک تانگے والے نے مجھے پتا بتانے پر اوپر سے نیچے تلک دیکھا اور پھر برقع میں ملبوس عورت ساتھ دیکھ کر چالیس روپے کے عوض لے جانے کی حامی بھری. تانگہ چلا تو کوچبان نے میری ناقص معلومات میں اضافہ یہ کہہ کر کیا کے،
"میاں جی، جہاں آپ کو جانا ہے، اسے ہیرا منڈی نہیں، ٹبی گلی کہتے ہیں "
پندرہ بیس منٹ میں ہم پہنچ گئے

دوپہر کا وقت تھا. شاید بازار کھلنے کا وقت نہیں تھا. دیکھنے میں تو عام سا محلہ تھا. وہ ہی ٹوٹی پھوٹی گلیاں، میلے  کرتوں کٗےغلیظ دامن سے ناک پونچھتے ننگ دھڑنگ بچے، نالیوں میں کالا پانی اور کوڑے کے ڈھیروں پر منڈلاتی بےحساب مکھیاں. سبزیوں پھلوں کے ٹھیلے والے اور ان سے بحث کرتی کھڑکیوں سے آدھی باہرلٹکتی عورتیں. فرق تھا تو صرف اتنا کے پان سگریٹ اور پھول والوں کی دکانیں کچھ زیادہ تھیں. دوکانیں تو بند تھیں مگر ان کے نئے  اور
پرانے بورڈ اصل کاروبار کی خبر دے رہے تھے

مسجد کے سامنے تانگہ کیا رکا، مانو محلے والوں کی عید ہوگئی. پتہ نہیں کن کن کونے کھدروں سے بچے اور عورتیں نکل کر جمع ہونے لگیں. ملی جلی آوازوں نے آسمان سر پے اٹھا لیا‘
"ابے نیا مولوی ہے"
"بیوی بھی ساتھ ہے. پچھلے والے سے تو بہتر ہی ہوگا"
"کیا پتہ لگتا ہے بہن، مرد کا کیا اعتبار؟’
"ہاں ہاں سہی کہتی ہے تو. داڑھی والا مرد تو اور بھی خطرناک "
عجیب طوفان بدتمیز تھا. مکالموں اور فقروں سے یہ معلوم پڑتا تھا کے جیسے طوائفوں کے محلے میں مولوی نہیں، شرفاء کے محلے میں کوئی طوائف وارد ہوئی ہو!

اس سے پہلے کے میرے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوتا، خدا خوش رکھے
غلام شبّیر کو جو ،
"مولوی صاحب ، مولوی صاحب"
کرتا دوڑا آیا اور ہجوم کو وہاں سے بھگا دیا.
پتہ چلا کے مسجد کا خادم ہے اور عرصہ پچیس سال سے اپنے فرائض منصبی نہایت محنت اور دیانت داری سے ادا کر رہا تھا. بھائی طبیعت خوش ہوگئی  اس سے مل کے. دبلا پتلا پکّی عمر کا مرد. لمبی سفید داڑھی. صاف ستھرا سفید پاجامہ کرتا، کندھے پے چار خانے والا سرخ و سفید انگوچھا. پیشانی پر محراب کا کالا نشان، سر پہ سفید ٹوپی اور نیچی نگاہیں. سادہ اور نیک آدمی اور منہ پر شکایت کا ایک لفظ نہیں. بوڑھا آدمی تھا مگر کمال کا حوصلہ و ہمّت رکھتا تھا
سامان سنبھالتے اور گھر کو ٹھیک کرتے ہفتہ دس دن لگ گئے. گھر کیا تھا. دو کمروں کا کوارٹر تھا مسجد سے متصل. ایک چھوٹا سا باورچی خانہ، ایک اس سے بھی چھوٹا غسل خانہ اور بیت الخلا اور ایک ننھا منا سا صحن،
بہرحال ہم میاں بیوی کو بڑا گھر کس لئے چاہیے تھا. بہت تھا ہمارے لئے. بس ارد گرد کی عمارتیں اونچی ہونے کی وجہ سے تاریکی بہت تھی. دن بارہ بجے بھی شام کا سا دھندلکا چھایا رہتا تھا.
گھر ٹھیک کرنے میں
غلام شبّیرنے بہت ہاتھ بٹایا. صفائی کرنے سے دیواریں چونا کرنے تک. تھوڑا کریدنے پر پتا چلا کے یہاں آنے والے ہر امام مسجد کے ساتھ غلام شبّیرگھر کا کام بھی کرتا تھا. بس تنخواہ کے نام پر غریب دو وقت کا کھانا مانگتا تھا اور رات کو مسجد ہی میں سوتا تھا. یوں اس کو رہنے کی جگہ مل جاتی تھی اور مسجد کی حفاظت بھی ہوجاتی تھی

ایک بات جب سے میں آیا تھا، دماغ میں کھٹک رہی تھی. سو ایک دن
غلام شبّیرسے پوچھ ہی لیا،
"میاں یہ بتاؤ کے پچھلے امام مسجد کے ساتھ کیا ماجرا گزرا؟"

وہ تھوڑا ہچکچایا اور پھر ایک طرف لے گیا کے بیگم کے کان میں آواز نہ پڑے،
"میاں جی اب کیا بتاؤں آپ کو؟ جوان آدمی تھے اور غیر شادی شدہ بھی. محلے میں بھلا حُسن کی کیا کمی ہے. بس دل آ گیا ایک لڑکی پہ. لڑکی کے دلال بھلا کہاں جانے دیتے تھے سونے کی چڑیا کو. پہلے تو انہوں نے مولانا کو سمجھنے بجھانے کی کوشش کی. پھر ڈرایا دھمکایا. لیکن مولانا نہیں مانے. ایک رات لڑکی کو بھگا لے جانے کی کوشش کی. بادامی باغ اڈے پر ہی پکڑے گئے. ظالموں نے اتنا مارا پیٹا کے مولانا جان سے گئے"
غلام شبّیر نے نہایت افسوس کے ساتھ ساری کہانی سنائی
"پولیس وغیرہ؟ قاتل پکڑے نہیں گئے؟"

میں نے گھبرا کر پوچھا،غلام شبّیر ہنسنے لگا.
"کمال کرتے ہیں آپ بھی میاں جی. پولیس بھلا ان لوگوں کے چکروں میں کہاں پڑتی ہے. بس اپنا بھتہ وصول کیا اور غائب. اور ویسے بھی کوتوال صاحب خود اس لڑکی کے عاشقوں میں شامل تھے"
لاحول ولا قوّت الا باللہ…..کہاں اس جہنم میں پھنس گئے
میں یہ سب سن کر سخت پریشان ہوا
" آپ کیوں فکر کرتے ہیں میاں جی؟ بس چپ کر کے نماز پڑھیں اور پڑھائیں. دن کے وقت کچھ بچے آ جایا کریں گے. ان کو قران پڑھا دیں. باقی بس اپنے کام سے کام رکھیں گے تو کوئی تنگ نہیں کرتا یہاں. بلکہ مسجد کا امام اچھا ہو تو گناہوں کی اس بستی میں لوگ صرف عزت کرتے ہیں."
غلام شبّیر نے میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوے بتایا تو میری جان میں جان آئی

انہی شروع کے ایام میں ایک واقعہ ہوا. پہلے دن ہی دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا تو دروازے پے کسی نے دستک دی. غلام شبّیر نے جا کے دروازہ کھولا اور پھر ایک کھانے کی ڈھکی طشتری لے کے اندر آ گیا. میری سوالیہ نگاہوں کے جواب میں کہنے لگا،
"نوراں نے کھانا بھجوایا ہے. پڑوس میں رہتی ہے"
میں کچھ نا بولا اور نا ہی مجھے کوئی شک گزرا. سوچا ہوگی کوئی الله کی بندی. اور پھر امام مسجد کے گھر کا چولھا تو ویسے بھی کم ہی جلتا ہے. بہرحال جب اگلے دو دن بھی یہ ہی معمول رہا تومیں نے سوچا کے یہ کون ہے جو بغیر کوئی احسان جتائے احسان کیے جا رہی ہے۔

عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں ہی تھا جب غلام شبّیر کو آواز دے کے بلایا اور پوچھا،
"میاں غلام شبّیر یہ نوراں کہاں رہتی ہے؟ میں چاہتا ہوں میری گھر والی جا کر اس کا شکریہ ادا کرآئے"
غلام شبّیر کے تو اوسان خطا ہو گئے یہ سن کر،
" میاں جی ، بی بی نہیں جا سکتی جی وہاں "
میں نے حیرانی سے مزید استفسار کیا تو گویا غلام شبّیر نے پہاڑ ہی توڑ دیا میرے سر پر،
"میاں جی ، اس کا پورا نام تو پتا نہیں کیا ہے مگر سب اس کو نوراں کنجری کے نام سے جانتے ہیں. پیشہ کرتی ہے جی"

"پیشہ کرتی ہے؟ یعنی طوائف ہے؟ اور تم ہمیں اس کے ہاتھ کا کھلاتے رہے ہو؟ استغفراللہ! استغفراللہ"
غلام شبّیر کچھ شرمسار ہوا میرا غصّہ دیکھ کر. تھوڑی دیر بعد ہمّت کر کے بولا،
"میاں جی یہاں تو سب ایسے ہی لوگ رہتے ہیں. ان کے ہاتھ کا نہیں کھائیں گے تو مستقل چولھا جلانا پڑے گا جو آپ کی تنخواہ میں ممکن نہیں"
یہ سن کر میرا غصّہ اور تیز ہوگیا.
"ہم شریف لوگ ہیں غلام شبّیر، بھوکے مر جایئں گے مگر طوائف کے گھر کا نہیں کھائیں گے"
میرے تیور دیکھ کر غلام شبّیر کچھ نہ بولا مگر اس دن کے بعد سےنوراں کنجری کے گھر سے کھانا کبھی نا آیا۔

جس مسجد کا میں امام تھا، عجیب بات یہ تھی کے اس کا کوئی نام نہیں تھا. بس ٹّبی مسجد کے نام سے مشہور تھی. ایک دن میں نے غلام شبّیر سے پوچھا :
"میاں نام کیا ہے اس مسجد کا؟"
وہ ہنس کر بولا،
"میاں جی الله کے گھر کا کیا نام رکھنا؟"
پھر بھی؟ کوئی تو نام ہوگا. سب مسجدوں کا ہوتا ہے." میں کچھ کھسیانا ہو کے بولا
"بس میاں جی بہت نام رکھے. جس فرقے کا مولوی آتاہے، پچھلا نام تبدیل کر کے نیا رکھ دیتا ہے.آپ ہی کوئی اچھا سا رکھ دیں.” وہ سر کھجاتا ہوا بولا.
میں سوچ میں پڑ گیا.
گناہوں کی اس بستی میں اس واحد مسجد کا کیا نام رکھا جائے؟ 
کیا نام رکھا جائے مسجد کا؟
ہاں موتی مسجد ٹھیک رہے گا. گناہوں کے کیچڑ میں چمکتا پاک صاف موتی.
دل ہی دل میں میں نے مسجد کے نام کا فیصلہ کیا اور اپنی پسند کو داد دیتا اندر کی جانب بڑھ گیا جہاں بیوی کھانا لگائے میری منتظر تھی

اب بات ہوجائے قرآن پڑھنے والے بچوں کی. تعداد میں گیارہ تھے اور سب کے سب لڑکے. ملی جلی عمروں کے پانچ سے گیارہ بارہ سال کی عمر کے. تھوڑے شرارتی ضرور تھے مگر اچھے بچے تھے.نہا دھو کے اور صاف ستھرے کپڑے پہن کے آتے تھے. دو گھنٹے سپارہ پڑھتے تھے اور پھر باہر گلی میں کھیلنے نکل جاتے.
کون تھے کس کی اولاد تھے؟
نہ میں نے کبھی پوچھا نا کسی نے بتایا.
لیکن پھر ایک دن غضب ہوگیا. قرآن پڑھنے والے بچوں میں ایک بچہ نبیل نام کا تھا. یوں تو اس میں کوئی خاص بات نا تھی. لیکن بس تھوڑا شرارتی تھا. تلاوت میں دل نہیں لگتا تھا. بس آگے پیچھے ہلتا رہتا اور کھیلنے کے انتظار میں لگا رہتا. میں بھی درگزر سے کام لیتا کے چلو بچہ ہے.
لیکن ایک دن ضبط کا دامن میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا. اس دن صبح ہی سے میرے سر میں ایک عجیب درد تھا. غلام شبّیر سے مالش کرائی، پیناڈول کی دو گولیاں بھی کھائین مگر درد زور آور بیل کی مانند سر میں چنگھاڑتا رہا. درد کے باوجود اور غلام شبّیر کے بہت منع کرنے پر بھی میں نے بچوں کا ناغہ نہیں کیا.
نبیل بھی اس دن معمول سے کچھ زیادہ ہی شرارتیں کر رہا تھا. کبھی ایک کو چھیڑ کبھی دوسرے کو. جب اس کی حرکتیں حد سے بڑھ گئیں تو یکایک میرے دماغ پر غصّے کا بھوت سوار ہوگیا اور میں نے پاس رکھی لکڑی کی رحل اٹھا کر نبیل کے دے ماری. میں نے نشانہ تو کمر کا لیا تھا مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کے رحل بچے کی پیشانی پر جا لگی خون بہتا دیکھ کر مجھے میرے سر کا درد بھول گیا اور میں نے گھبرا کر غلام شببر کو آواز دی. وہ غریب بھاگتا ہوا آیا اور بچے کو اٹھا کے پاس والے ڈاکٹر کے کلینک پر لے گیا. خدا کا شکر ہوا کے چوٹ گہری نہیں لگی تھی. مرہم پٹی سے کام چل گیا اور ٹانکے نہیں لگے۔

خیر باقی بچوں کو فارغ کر کے مسجد کے دروازےپرپہنچا ہی تھا کہ چادر میں لپٹی ایک عورت نے مجھے آواز دے کر روک لیا. میں نے دیکھا کے وہ عورت دہلیزپر کھڑی مسجد کے دروازے سے لپٹی رو رہی تھی
چالیس پینتالیس کا سن ہوگا. معمولی شکل و صورت. سانولا رنگ اور چہرے پر پرانی چیچک کے گہرے داغ. آنسوؤں میں ڈوبی آنکھیں اور گالوں پر بہتا کالا سرمہ. زیور کے نام پر کانوں میں لٹکتی سونے کی ہلکی سی بالیاں اور ناک میں چمکتا سستا سرخ نگ کا لونگ. چادر بھی سستی مگر صاف ستھری اور پاؤں میں ہوائی چپل .
"کیا بات ہے بی بی؟ کون ہو تم؟” میں نے حیرانگی سے اس سے پوچھا
"میں نوراں ہوں مولوی صاحب.” اس نے چادر کے پلو سے ناک پونچھتے ہوئے کہا
"نوراں؟ نوراں کنجری؟”
میرے تو گویا پاؤں تلے زمین ہی نکل گئی . میں نے ادھر ادھر غلام شبّیر کی تلاش میں نظریں دوڑائیں مگر وہ تو نبیل کی مرہم پٹی کرا کے اور اس کو اس کے گھر چھوڑنے کے بہانے نجانے کہاں غائب تھا
"جی. نوراں کنجری!” اس نے نظریں جھکائے اپنے نام کا اقرار کیا.
مجھے کچھ دیر کے لئے اپنے منہ سے نکلنے والی اس کے گالی جیسی عرفیت پر شرمندگی ہوئی مگر پھر خیال آیا کے وہ طوائف تھی اور اپنی بری شہرت کی ذمہ دار.
شرمندگی اس کو ہونی چاہیے تھی، مجھے نہیں. پھر اچانک مجھے احساس ہوا کے میری موتی جیسی مسجد میں اس طوائف کا نا پاک وجود کسی غلاظت سے کم نہیں تھا،
"باہر نکل کے کھڑی ہو. مسجد کو گندا نہ کر بی بی"
 میں نے نفرت سے باہر گلی کی جانب اشارہ کیا.اس نے کچھ اس حیرانگی سے آنکھ اٹھا کے میری طرف دیکھا کے جیسے اسے مجھ سے اس رویئےکی امید نا ہو. ڈبڈبائی آنکھوں میں ایک لمحے کے لئے کسی ان کہی فریاد کی لو بھڑکی. لیکن پھر کچھ سوچ کر اس نے آنسوؤں کے پانی میں احتجاج کے ارادے کو غرق کیا اور بغیر کوئی اور بات کئے بغیر چلی گی. میں نے بھی نہیں روکا کے پتانہیں کس ارادے سے آئی تھی؟

اتنی دیر میں غلام شبّیر بھی پہنچ گیا.
"کون تھی میاں جی؟ کیا چاہتی تھی؟”
غالباً اس نے عورت کو تو دیکھا تھا مگر دور سے شکل نہیں پہچان پایا۔
"نوراں کنجری تھی. پتا نہیں کیوں آئی تھی؟ مگر میں نے بھی وہ ڈانٹ پلائی کے آیندہ اس پاک جگہ کا رخ نہیں کرے گی."

میں نے داد طلب نظروں سے غلام شبّیر کی طرف دیکھا مگر اس کے چہرے پر ستائش کی جگہ افسوس نے ڈیرے ڈال رکھے تھے
"وہ بیچاری دکھوں کی ماری اپنے بچے کا گلہ کرنے آئی تھی میاں جی.
نبیل کی ماں ہے . بچے کی چوٹ برداشت نہیں کر سکی. اور آپ نے اس غریب کو ڈانٹ دیا."
غلام شبّیر نے نوراں کی وکالت کرتے ہوئے کہا
"تو نبیل نوراں کا بیٹا ہے.ایسی حرکتیں کرے گا تو سزا تو ملے گی. جیسی ماں ویسا بیٹا”. میں نے اپنی شرمندگی کو بیہودگی سے چھپانے کی کوشش کی.
ایک لمحے کو خیال بھی آیا کے بچہ تو معصوم ہے اور پھر میں نے زیادتی بھی کی تھی. مگر پھر اپنے استاد ہونےکا خیال آیا تو سوچا کے بچے کی بھلائی کے لئے ہی تو مارا ہے. کیا ہوا. اور پھر ایک طوائف کو کیا حق حاصل کے مسجد کے امام سے شکایت کر سکے،
"کتنے بچے ہیں نوراں کے؟” میں نے بات کا رخ بدلنے کی کوشش کی
"مسجد میں پڑھنے والے سب بچے نوراں کے ہیں میاں جی. اس کے علاوہ ایک گود کا بچہ بھی ہے. بس اس محلے میں صرف نوراں اپنے بچوں کو مسجد بھیجتی ہے. باقی سب لوگوں کے بچے تو آوارہ پھرتے ہیں ۔"
غلام شبّیر کی آواز میں پھر نوراں کی وکالت گونج رہی تھی

میں نے بھنا کر جواب دینے کا ارادہ کیا ہی تھا کے کوتوال صاحب کی گاڑی سامنے آ کر رکی. خود تو پتا نہیں کیسا آدمی تھا مگر بیوی بہت نیک تھی. ہر دوسرے تیسرے روز ختم کے نام پر کچھ نہ کچھ میٹھا بھجوا دیتی تھی. اس دن بھی کوتوال کا اردلی جلیبیاں دینے آیا تھا. گرما گرم جلیبیوں کی اشتہا انگیز مہک نے میرا سارا غصہ ٹھنڈا کر دیا اور نوراں کنجری کی بات آئی گئی ہوگئی۔

یہ نبیل کو مار پڑنے کے کچھ دنوں بعد کا ذکر ہے. عشاء پڑھا کے میں غلام شبّیر سے ایک شرعی معاملے پر بحث میں الجھ گیا تو گھر جاتے کافی دیر ہوگئی. مسجد سے باہر نکلے تو بازار کی رونق شروع تھی. بالکونیوں پر جھلملاتے پردے لہرا رہے تھے اور کوٹھوں سے ہارمونیم کے سر اور طبلوں کی تھاپ کی آواز ہر سو گونج رہی تھی. پان سگریٹ اور پھولوں کی دکانوں پر بھی دھیرے دھیرے رش بڑھ رہا تھا.
اچانک میری نظر نوراں کے گھر کے دروازے پرجا پڑی. وہ باہر ہی کھڑی تھی اور ہر آتے جاتے مرد سے ٹھٹھے مار مار کر گپپیں لگا رہی تھی. آج تو اس کا روپ ہی دوسرا تھا. گلابی رنگ کا چست سوٹ، پاؤں میں سرخ گرگابی، ننگے سر پے اونچا جوڑا، جوڑے میں پرو
ۓ موتیے کے پھول، میک اپ سے لدا چہرہ، گہری شوخ لپ سٹک، آنکھوں میں مسکارا اور مسکارے کی اوٹ سے جھانکتی ننگی دعوت ۔
"لاحول ولا قوت اللہ باللہ” میں نے طنزیہ نگاہوں سے غلام شبّیر کی جانب دیکھا.
آخر وہ نوراں کا وکیل جو تھا
"چھوڑئیے میاں جی. عورت غریب ہے اور دنیا بڑی ظالم." اس نے گویا بات کو ٹالنے کی کوشش کی. مگر میں اتنی آسانی سے جان چھوڑنے والا نہیں تھا
"یہ بتاؤ میاں، جب اس کے گاہک آتے ہیں تو کیا بچوں کے سامنے ہی…………………….؟”
میں نے معنی خیز انداز میں اپنا سوال ادھورا ہی چھوڑ دیا
"میاں جی، ایک تو اس کے بچے صبح اسکول جاتے ہیں اور اس لئے رات کو جلدی سو جاتے ہیں. دوسرا، مہمانوں کے لئے باہر صحن میں کمرہ الگ رکھا ہے."
غلام شبّیر نے ناگوار سے لہجے میں جواب دیا
"استغفراللہ! استغفراللہ!”. میں نے گفتگو کا سلسلہ وہیں ختم کرنا مناسب سمجھا کیوں کے مجھے احساس ہو چکا تھا کے غلام شبّیر کے لہجے سے جھانکتی ناگواری کا رخ نوراں کی جانب نہیں تھا۔

اس کے بعد نوراں کا ذکر میرے سامنے تب ہوا جن دنوں میں اپنے اور زوجہ کے لئے حج بیت الله کی غرض سے کاغذات بنوا رہا تھا. اس غریب کی بڑی خواہش تھی کے وہ اور میں الله اور اس کے نبی پاک کی خدمت میں پیش ہوں اور اولاد کی دعا کریں. میرا بھی من تھا کے کسی بہانے سے مکّے مدینے کی زیارت ہوجائے. نام کے ساتھ حاجی لگا ہو تو شاید محکمے والے کسی اچھی جگہ تبدیلی کر دیں. زوجہ کا ایک بھانجا انہیں دنوں وزارت مذہبی امور میں کلرک تھا. اس کی وساطت سے درخواست کی قبولی کی کامل امید تھی. کاغذات فائل میں اکٹھے کیئے ہی تھے کے غلام شبّیر ہاتھ میں کچھ اور کاغذات اٹھاے پہنچ گیا.
"میاں جی………ایک کام تھا آپ سے. اجازت دیں تو عرض کروں.” اس نے ہچکچاتے کہا
"ہاں ہاں میاں، کیوں نہیں. کیا بات ہے؟”
میں نے داڑھی کے بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کرتے ہوئے اس کو بیٹھنے کا اشارہ کیا
"میاں جی، آپ کی تو وزارت میں واقفیت ہے. ایک اور حج کی درخواست بھی جمع کرا دیں." اس نے ہاتھ میں پکڑے کاغذات میری جانب بڑھاے
"دیکھو میاں غلام شبّیر، تم اچھی طرح جانتے ہو کے میں گھر بار تمہارے ذمے چھوڑ کر جا رہا ہوں. اور پھر تمہارے پاس حج کے لئے پیسے کہاں سے آئے؟”
میں نے کچھ برہمی سے پوچھا.
"نہیں نہیں میاں جی. آپ غلط سمجھے. یہ میری درخواست نہیں ہے. نوراں کی ہے.” اس نے سہم کر کہا
"کیا؟ میاں ہوش میں تو ہو؟ نوراں کنجری اب مکّے مدینے جائے گی؟ اور وہ بھی اپنے ناپاک پیشے کی رقم سے؟ توبہ توبہ.”
میرے تو جیسے تن بدن میں آگ لگ گئی یہ واہیات بات سن کر،
"میاں جی. طوائف ہے پر مسلمان بھی تو ہے. اور وہ تو الله کا گھر ہے. وہ جس کو بلانا چاہے بلا لے. اس کے لئے سب ایک برابر"
اپنی طرف سے غلام شبّیر نے بڑی گہری بات کی،
" اچھا؟ الله جس کو بلانا چاہے بلا لے؟ واہ میاں واہ. تو پھر میں درخواست کیوں جمع کراؤں؟ نوراں سے کہو سیدھا الله تعالیٰ کو ہی بھیج دے”.
میں نے غصّے سے کہا اور اندر کمرے میں چلا گیا۔

زوجہ کا بھانجا بر خوردار نکلا اور الله کے فضل و کرم سے میری اور زوجہ کی درخواست قبول ہو گئی . ٹکٹ کے پیسے کم پڑے تو اسی بھلی لوک کے جہیز کے زیور کام آ گئے.

الله کا نام لے کر ہم روانہ ہوگئے. احرام باندھا تو گویا عمر بھر کے گناہ اتار کے ایک طرف رکھ دیئے. الله کا گھر دیکھا اور نظر بھر کے دیکھا. فرائض پورے کرتے کرتے رمی کا دن آ گیا. بہت رش تھا. ہزاروں لاکھوں لوگ. ایک ٹھاٹھیں مارتا سفید رنگ کا سمندر. گرمی بھی بہت تھی. میرا تو دم گھٹنا شروع ہوگیا. زوجہ بیچاری کی حالت بھی غیر ہوتی جا رہی تھی. اوپر سے غضب کچھ یہ ہوا کے میرے ہاتھ سے اس غریب کا ہاتھ چھوٹ گیا. ہاتھ کیا چھوٹا، لوگوں کا ایک ریلا مجھے رگیدتا ہوا پتا نہیں کہاں سے کہاں لے گیا. عجب حالات تھے. کسی کو دوسرے کا خیال نہیں تھا. ہر کوئی بس اپنی جان بچانے کے چکّر میں تھا. میں نے بھی لاکھ اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر پیر رپٹ ہی گیا. میں نیچے کیا گرا، ایک عذاب نازل ہوگیا. ایک نے میرے پیٹ پر پیر رکھا تو دوسرے نے میرے سر کو پتھر سمجھ کر ٹھوکر ماری. موت میری آنکھوں کے سامنے ناچنے لگی-

میں نے کلمہ پڑھا اور آنکھیں بند ہی کیں  تھیں کے کسی الله کے بندے نے میرا دایاں ہاتھ پکڑ کے کھینچا اور مجھے سہارا دے کر کھڑا کر دیامیں نے سانس درست کی اور اپنے محسن کا شکریہ ادا کرنے کے لئے اس کی طرف نگاہ کی.
مانو ایک لمحے کے لئے تو بجلی ہی گر پڑی. کیا دیکھتا ہوں کے میرا ہاتھ مضبوطی سے تھامے نوراں کنجری کھڑی مسکرا رہی تھی.
"یہ ناپاک عورت یہاں کیسے آ گئی؟ اس کی حج کی درخواست کس نے اور کب منظور کی؟’ میں نے ہاتھ چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر کہاں صاحب. ایک آہنی گرفت تھی. میں نہیں چھڑا سکا. وہ مجھے اپنے پیچھے کھینچتی ہوئی ایک طرف لے گئی۔

اس طرف کچھ عورتیں اکٹھی تھی. اچانک میری نظر زوجہ پر پڑی جس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ بیتاب نگاہوں سے مجمع ٹٹول رہی تھی. ہماری نظریں ملیں تو سب کُلفت بھول گئی. میں دوڑ کر اس تک پہنچا اور آنسو پونچھے.
"کہاں چلے گئے تھے آپ؟ کچھ ہوجاتا تو؟" پریشانی سے الفاظ اس کے گلے میں اٹک رہے تھے
"بس کیا بتاؤں آج مرتے مرتے بچا ہوں. جانے کون سی نیکی کام آ گئی. میں تو پاؤں تلے روندا جا چکا ہوتا اگر نوراں نہیں بچاتی" میں نے اس کو تسلی دیتے ہوئے کہا
"نوراں؟ ہماری پڑوسن نوراں؟ وہ یہاں کہاں آ گی؟ آپ نے کسی اور کو دیکھا ہوگا" اس نے حیرانگی سے کہا
"ارے نہیں. نوراں ہی تھی"
میں نے ادھر ادھر نوراں کی تلاش میں نظریں دوڑا ئیں  مگر وہ تو نجانے کب کی جا چکی تھی. بعد میں بھی اس کو بہت ڈھونڈا مگر اتنے جمِ غفیر میں کہاں کوئی ملتا ہےخدا خدا کر کے حج پورا ہوا اور ہم دونوں میاں بیوی وطن واپس روانہ ہوئے

لاہور ائرپورٹ پر غلام شبیر پھولوں کے ہاروں سمیت استقبال کو آیا ہوا تھا
"بہت مبارک باجی. بہت مبارک میاں جی. بلکہ اب تو میں آپ کو حاجی صاحب کہوں گا."
اس نے مسکراتے ہوئے ہم دونوں کو مبارک دی تو میری گردن حاجی صاحب کا لقب سن کراکڑ گئی. میں نے خوشی سے سرشار ہوتے ہوے اس کے کندھے پر تھپکی دی اور سامان اٹھانے کا اشارہ کیاٹیکسی میں بیٹھے. میں نے مسجد اور گھر کی خیریت دریافت کی تو نوراں کا خیال آ گیا

"میاں غلام شبیر، نوراں کی سناؤ".
میرا اشارہ اس کی حج کی درخواست کے بارے میں تھا۔
"اس بیچاری کی کیا سناؤں میاں جی؟ لیکن آپ کو کیسے پتا چلا؟" اس نے حیرانگی سے میری جانب دیکھا
"بس ملاقات ہوئی تھی مکّے شریف میں."
میں نے اس کے لہجے میں چھپی اداسی کو اپنی غلط فہمی سمجھا۔
"مکّے شریف میں ملاقات ہوئی تھی؟ مذاق نا کریں میاں جی. نوراں تو آپ کے جانے کے اگلے ہی دن قتل ہوگئی تھی."
اس نے گویا میرے سر پر بم پھوڑا
"قتل ہوگئی تھی؟"میں نے حیرت کئے شدید جھٹکے سے سنبھلتے ہوئے  پوچھا
"جی میاں جی. بیچاری نے حج کے لئے پیسے جوڑ رکھے تھے. اس رات کوئی گاہک آیا اور پیسوں کے پیچھے قتل کر دیا غریب کو. ہمیں توصبح کو پتا چلا جب اس کے بچوں نے اس کی لاش دیکھی. شور مچایا تو سب اکٹھے ہوئے. پولیس والے بھی پہنچ گئے اور اس کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے لے گئے. ابھی کل ہی میں مردہ خانے سے میّت لے کے آیا ہوں. آج صبح ہی تدفین کی اس کی"  غلام شببر کی آواز آنسوں میں بھیگ رہی تھی.
" قاتل کا کچھ پتا چلا؟" میں ابھی بھی حیرانگی کی گرفت میں تھا.
"پولیس کے پاس اتنا وقت کہاں میاں جی کے طوائفوں کے قاتلوں کو ڈھونڈہے. اس بیچاری کی تو نمازجنازہ میں بھی بس تین افراد تھے: میں اور دو گورکن." اس نے افسوس سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا.
" اور اس کے بچے؟ ان کا کیا بنا؟"

میں نے اپنی آنکھوں میں امڈ تی نمی پونچھتے ہوئے دریافت کیا
"نوراں کے بچے نہیں ہیں میاں جی." غلام شببر نے میرے کان میں سرگوشی کی.
"طوائفوں کے محلے میں جب کوئی لڑکا پیدا ہوتا ہے تو زیادہ تر اسے راتوں رات اٹھا کر کوڑے کے ڈھیرپر پھینک دیا جاتا ہے. وہ سب ایسے ہی بچے تھے. نوراں سب جانتی تھی کے کس کے ہاں بچہ ہونے والا ہے. بس لڑکا ہوتا تو اٹھا کر اپنے گھر لے آ تی "
وہ سانس لینے کو رکا اور بولا
" کہنے کو تو طوائف تھی میاں جی مگر میں گواہ ہوں. غریب جتنا بھی کماتی بچوں پر خرچ کر دیتی. بس تھوڑے بہت الگ کر کے حج پر جانے کے لئے جمع کر رکھے تھے. وہ بھی اس کا قاتل لوٹ کر لے گیا"
"یہ بتاؤ
غلام شبّیر، جب میں نے اس کی درخواست جمع کرانے سے انکار کیا تو اس نے کیا کہا؟"
مجھ پے حقیقتوں کے در کھلنا شروع ہو چکے تھے۔
" بس میاں جی، کیا کہتی بیچاری. آنکھوں میں آنسو آ گئے. آسمان کی جانب ہاتھ اٹھائے اور کہنے لگی کہ بس تو ہی اس کنجری کو بلالے،  تو بلا لے"
 مجھ پر تو پوچھو گھڑوں پانی پڑ گیا.
تاسف کی ایک آندھی چل رہی تھی.
ہوا کے دوش میری خطائیں اُڑرہی تھیں.
گناہوں کی مٹی چل رہی تھی اور میری آنکھیں اندھیائی جا رہی تھیں
"آپ کیوں روتے ہیں میاں جی؟ آپ تو ناپاک کہتے تھے اس کو" غلام شبّیر نے حیرانگی سے میری آنسوں سے تر داڑھی دیکھتے ہوئے کہا

" کیا کہوں
غلام شبّیرکہ کیوں روتا ہوں.
وہ ناپاک نہیں تھی.
ناپاک تو ہم ہیں جو دوسروں کی ناپاکی کا فیصلہ کرتے پھرتے ہیں.
نوراں تو الله کی بندی تھی.
الله نے اپنے گھر بلا لیا"
میری ندامت بھری ہچکیاں بند ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں اور
غلام شبّیر نا سمجھتے ہوئے مجھے تسّلی دیتا رہا

ٹیکسی محلے میں داخل ہوئی اور مسجد کے سامنے کھڑی ہوگئی . اترا ہی تھا کے نوراں کے دروازے پر نظر پڑی. ایک ہجوم اکٹھا تھا ۔
"وہاں‘کیا بات ہے
غلام شبّیر؟ لوگ اب کیوں اکٹھے ہیں؟

"میاں جی میرے خیال میں پولیس والے ایدھی سنٹر والوں کو لے کے آئے ہیں. وہ ہی لوگ بچوں کو لے جائیں گے. ان غریبوں کی کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں ہے." 
غلام شبّیر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا

میں نے زوجہ کا ہاتھ پکڑا اور
غلام شبّیر کو پیچھے آنے کا اشارہ کرتے ہوئے نوراں کے دروازے کی جانب بڑھ گیا.
" کہاں چلے میاں جی؟
" غلام شبّیرنے حیرانگی سے پوچھا
"نوراں کے بچوں کو لینے جا رہا ہوں.
آج سے وہ میرے بچے ہیں.
اور ہاں مسجد کا نام میں نے سوچ لیا ہے.
آج سے اس کا نام نور مسجد ہوگا"

تحریر: شہریار خاور


ڈاکٹر رابعہ- ...مکافات عمل ...

نہیں نہیں ڈاکٹر صاحب ایسا کیسے ہو سکتا ہے .. ہماری بیٹی نے تو کبھی آسمان تک نہیں دیکھا آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں
اس کا تو چہرہ کبھی سورج نے بھی نہیں دیکھا. . کجا اتنی بڑی بات .. مسز انوار نے تیز سانسوں اور اونچی آواز میں غصے سے کہا..
ڈاکٹر مومنہ نے گہری سانس لی اور حواس باختہ بیگم انوار اور انکی بیاہی بیٹی نازیہ کو سمجھانے کے لئے موزوں الفاظ جوڑنے لگی
دیکھیں بیگم انوار آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں ایسا ہی ہو گا جیسا آپ کہہ رہی ہیں .. مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی چهوٹی بیٹی پردہ دار ہے اور آفتاب و ماہتاب تک سے پردہ کرتی ہے
لیکن میرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے آپ کو حقیقت سے آگاہی دینی ہے ..
ڈاکٹر مومنہ خود بھی سمجھ رہی تھیں کہ یہ کس قدر ناقابل یقین صورتحال ہے خصوصاً اتنے وضع دار خاندانی لوگوں کے لئے تو کسی کی بھی کوئی ایسی ویسی بات سننا موت ہے چہ جائیکہ بات بهی اپنی ہی پردے کی پابند بیٹی کے لئے ہو ..
ڈاکٹر مومنہ نے الٹرا ساونڈ اور یورین کی رپورٹ پریشان حال ماں کے سامنے رکھ دی ..
اب اس مسئلے کی تشخیص میں کوئی کلام نہ تھا
.. 14 سالہ بیٹی ساتھ ہی معائنہ والے کمرے میں بیٹھی انگلیاں مروڑ رہی تھی ..اور بے آواز رو رہی تھی. .. ڈاکٹر نے اندرونی دروازہ کھول کر اندر جھانکا اور پھر والدہ کو اشارہ کیا کہ وہ اپنی بیٹی سے مل لے ..
ڈاکٹر مومنہ اپنے آفس میں واپس آ ئیں اور کرسی پر ڈهے سی گئیں. . افسوس اور رنج .. پریشان حال والدہ کے لئے ہمدردی اور کیا ہوا ہو گا کی تجسس آمیز الجھن لئے.. وہ اپنی کرسی کی پشت سے سر ٹکائے ہولے ہولے کرسی جهلائے گئیں .. پیروں کی خفیف سی حرکت ان کے اندرونی اضطراب کا پتا دیتی تھی ..
تھوڑی دیر گزری تو اندرونی دروازے پر دستک ہوئی .. ڈاکٹر صاحبہ نے آنکھیں کھو لیں .. جھولتی کرسی کو روکا اور باوقار انداز میں کہا ..
یس.. کم ان
بے آواز دروازہ کھلا .. دوسرے کمرے سے ہلکی سی سسکیوں کی آواز آئی اور پھر دروازہ بند ہو گیا .. مریضہ لڑکی کی والدہ اور بہن کمرے میں داخل ہوئیں ..
سر جھکائے شرمسار سی .. سہارا لے کر چلتی ماں .. جو عمر رسیدہ تو نہ تھی لیکن کچھ ہی پل میں بوڑھی دکھنے لگی تھی ...
دونوں ماں بیٹی نے اپنے دوپٹے اور بھی سختی سے لپیٹ لئے تھے جیسے نادانستگی میں وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہوں اور دنیا کی نظروں سے اوجھل ہو جانا چاہتی ہوں ..
کچھ بوجھل پل خاموشی کی نظر ہوئے .. ڈاکٹر نے ایسے بہت سے کیس اپنی روز مرہ پریکٹس میں دیکھ رکهے تھے .. پھر بھی کم عمر مریضہ کو دیکھ کر وہ بھی ابتدائی صدمے کا شکار ہوئی تھی . اب وہ صدمہ ہلکا ہو چکا تھا .. ڈاکٹر کے اندر کی حساس عورت پر اس کے پروفیشنل ازم نے غلبہ پا لیا تھا ..
ایک پروفیشنل کا یہ کام نہیں کہ وہ مریضوں کے ساتھ رونے دھونے لگے .. بلکہ اس کا کام ان کو صدمے سے نکلنے میں مدد فراہم کرنا ہوتا ہے ..
آخر کار لڑکی کی والدہ نے حوصلہ کیا اور بھرائی ہوئی لیکن مضبوط آواز میں گویا ہوئی
ڈاکٹر صاحب میرے شوہر اور سسر کا معاشرے میں نہایت اعلی مقام ہے ... آپ جانتی ہیں میرے سسر اکرام بیگ صاحب کونسلر رہے ہیں اور میرے شوہر انوار بیگ صاحب اس دفعہ پارٹی ٹکٹ پر الیکشن میں کھڑے ہو رہے ہیں ..ہمارے خاندان کا معاشرے میں ایک مقام ہے ہم سب خصوصاً ہمارے خاندان کے مرد یہ ذلت برداشت نہیں کر پائیں گے . یا تو وہ اپنے ہاتھوں اپنی اس بیٹی کا گلا دبا دیں گے یا خود اپنے آپ کو ختم کر لیں گے ...
یہ کہتے کہتے مسز انوار کا سانس پھول گیا .. انہوں نے متلاشی نظروں سے ادھر ادھر دیکھا .. ڈاکٹر نے ان خاموش نظروں کا مطلب سمجھ لیا .. وہ اٹهیں. روم فریج کا دروازہ کھولا ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس بهرا اور مسز انوار کے سامنے رکھا .. سوالیہ نظروں سے مسز انوار کی بڑی بیٹی نازیہ کی طرف دیکھا .. مبادا اسے بھی پیاس لگی ہو .. لیکن اس نے نفی میں سر ہلا دیا .... مسز انوار نے کانپتے ہاتھوں سے گلاس اٹھایا ,ہاتهوں کی کپکپاہٹ اتنی واضح تهی کہ پانی بلوریں گلاس میں ہلکورے کهاتا نظر اتا تها . لبوں تک کے سفر میں کچه پانی چهلکا اور بیگم انوار کا دامن آنسووں کے ساته ساته پانی سے بهی تر ہو گیا .. بیگم انوار نے اپنے گلے میں اٹکے آنسوؤں کے گولے کو پانی کے دو تین بڑے گھونٹ بهر کر نیچے اتارا اور دوبارہ سے سلسلہء تکلم جوڑا..
میں نے شازیہ سے پوچھا ہے کہ یہ سب کیسے ہوا .. تم تو کبھی گھر سے باہر نہیں نکلی .. سکول تک تو تمہیں میں لے کر آتی اور جاتی ہوں .. پھر یہ سب کب ہوا .. کیسے ہوا ..
بیٹی نے بتایا ہے کہ جب جب آپ بازار جاتی تھیں تو ساتھ والے ماموں زاد بھائی آ جاتے تھے ..
آہ .. مسز انوار کے آنسو بے قابو ہو کر رخساروں پر لڑهکنے لگے .. میرے ماں جائے کے گھر سے میرے گھر میں نقب لگ گئی .. میں اپنی بھابی کو کہہ کر جاتی تھی کہ میری بیٹی اکیلی ہے .. پڑھ رہی ہے .. زرا خیال رکھنا .. اور میری بهابی اپنے بیٹے کو بھیج دیتی تھیں کہ جاو بہن کا خیال رکھنا .. ساتھ ساتھ پل کر بڑے ہوئے ہیں بلکہ بڑے بھی کیا 14 سال کی میری بیٹی اور 16 سال کا بھانجا ... ہم تو انہیں بہن بھائی ہی سمجهتے اور مانتے رہے . ..
میرے بهتیجے فہد نے شازیہ کو چهیڑا تو اس نے مزاحمت کی .. اس وقت مزاحمت کرنے پر فہد نے کہا کہ وہ شازیہ سے محبت کرتا ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے ....
ڈاکٹر نے فورا اثبات میں سر ہلایا کہ جیسے کسی مسئلے کا بہترین حل سوجھ گیا ہو..اور بولیں . یہی بہتر حل ہے بیگم انوار بچوں کی فوری شادی ہی اس مسئلہ کا بہترین حل ہے .
بیگم انوار نے اپنا سر نفی میں بہت بےقرار ہو کر جهٹکا.. نہیں یہ ممکن نہیں فہد اور شازیہ ابھی بہت کم عمر ہیں اور خاندانی مسائل ایسے ہیں کہ میرے شوہر کبھی بھی ہماری بیٹی کا رشتہ میرے بھائی کو نہیں دیں گے ..
. آخر میں کیسے اپنی اتنی کم عمر بیٹی کی شادی کروا سکتی ہوں .. انوار صاحب کو کیا کہہ کر راضی کروں گی .. سسر کو کیا جواز دوں گی .. معاشرے کی اٹهی انگلیوں کو کیسے روک پاوں گی .. نہیں نہیں بالکل نہیں .. یہ نا ممکن ہے بالکل ناممکن ..
بے بس ماں یکدم اٹهی اور ڈاکٹر کے قدموں میں بیٹھ گئی..
...وہ ماں مانگنے والی کے درجے پر جا کھڑی ہوئی تھی اس کا قیمتی لباس چیتھڑوں کی صورت اختیار کر گیا تھا اور نفیس جیولری ..بدنما منکے محسوس ہوتی تهی وہ بے اواز آنسووں کے ساته ایک مسیحا سے اپنی بیٹی کی زندگی اور خاندان کی عزت کا سوال کر رہی تھی .
ڈاکٹر مومنہ یکدم ایک ماں بن گئیں جو دوسری ماں کے جذبات سے بهی واقف ہوتی ہے اور عورت کے کرب سے بهی..انہوں نے اس لاچار ماں کو کندھوں سے تهام کر سہارا دیا اور صوفے پر بیٹھنے میں مدد دی ..
.. پلیز ڈاکٹر صاحبہ آپ بھی تو ایک ماں ہیں . اولاد نافرمان اور گناہگار ہی کیوں نہ ہو , ماں تو اسے بچانے ہی کی کوشش کرتی ہے نا.. میں اپنی اس بچی کو کیسے مر جانے دوں .. اس باعزت خاندان کو تباہی سے بچا لیں خدارا کچھ کریں ..
ڈاکٹرمومنہ جانتی تھیں کہ جلد یا بدیر انہیں اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا . ہر دفعہ ایک سی کہانی ہوتی تھی ..
روتی دھوتی پردے ڈالتی ماں اور شکار ہوئی لڑکی ..
ڈاکٹر مومنہ نے ضمیر کی آواز پر لبیک کہا اور پردہ رکھنے کا فیصلہ کیا .. ضروری ادویات اور ہدایات کے ساتھ انہوں نے بلکتی ماں اور سہمی ہوئی مریضہ کو تسلی و تشفی دے کر رخصت کیا .. ..
مریضہ کو رخصت کر کے ڈاکٹر مومنہ اپنی سیٹ میں بیٹھ گئیں .. باوجود اس کے کہ وہ ایک پروفیشنل تھیں ان کے سینےمیں ایک حساس دل دهڑکتا تها ... وہ افسردہ تھیں اور قدرت کے انصاف پر حیران بهی ..
وہ جانتی تھیں کہ یہ سب کچھ محض ایک واقعہ نہ تھا یہ واقعات کا ایک تسلسل تھا.. ان کے ذہن میں گزرے سال کے واقعات کی ریل چلنے لگی
... پچھلے سال اسی لڑکی کے والد نامور وکیل اور سیاستدان انوار بیگ ایک برقعہ پوش خاتون کے ہمراہ ڈاکٹر مومنہ کے پاس آئے تهے .. انوار بیگ صاحب نے اس خاتون کا تعارف اپنی ایک دور پار کی عزیزہ کی حیثیت سے کروایا تھا اور کہا تھا کہ خاتون کے ہزبینڈ باہر ہوتے ہیں اور ان سے ایک سنگین بھول ہو گئی ہے .. اب بہت پریشان ہیں اور شرمندہ بهی .. ڈاکٹر مومنہ نے محترم وکیل صاحب کو آفس میں ہی انتظار میں کرنے کو کہا اور مریضہ کو کمرہ معائنہ میں لے آئیں .. وہاں خاتون زرا سی ہمدردی پا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی.. پھر اس نے بتایا کہ میرے خاوند کو باہر بھجوانے کے تمام اخراجات ان وکیل صاحب نے ادا کئے ہیں .. میرا شوہر اسے ان کی نیکی اور خلوص سمجھتا ہے لیکن یہ سب اس سودے کی وجہ سے ہے جو ان معزز وکیل صاحب نے مجھ سے کیا تھا .میرے سامنے میرے شوہر کا ویزہ تھا اور دوسری جانب بیڈ روم کا وہ دروازہ جس سے گزر کر ہی وہ ویزہ میرے بچوں کے مستقبل میں روشنی لا سکتا تھا . میرے اندر کی ماں نے اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے اپنا آپ قربان کیا اور وکیل صاحب کا تجویز کردہ سودا منظور کر لیا .. اگر اب بهی کسی وقت میں وکیل صاحب کو انکار کرتی ہوں تو وہ مجھے دھمکی دیتے ہیں کہ تمہارا شوہر واپس آ جائے گا ..
ڈاکٹر مومنہ قدرت کے انصاف کو دیکھ رہی تھیں .. ....مکافات عمل ... یہی تو ہے
... باپ کا پرانا قرض آج بیٹی چکا کر گئی تھی ...

 رعنائی خیال
رابعہ خرم درانی



 

منگل، 8 دسمبر، 2015

عوام کے ووٹ کا احترام کریں

 
وٹس ایپ پر 41 سالہ رفیق کا پیغام تھا ۔
کراچی آپریشن بند کر کے رینجرز کو ہٹا دیا جائے ۔۔۔ پھر ایم کیو ایم جتنی مرضی قتل و غارت فساد و اودھم مچائے کوئی بھی کراچی کے لئے ایک لفظ نہ بولے کیونکہ وہ چاہتے ہی نہیں کہ ان کی زندگی میں تبدیلی آئے ۔ آج کے بعد کراچی میں ہونے والی بلدیہ فیکٹری جیسی قتل و غارت پہ مجھے کوئی افسوس نہیں ہوگا اور صولت مرزا جیسے ٹارگٹ کلرز کے کسی کوقتل کرنے پر نہ موبائل فون چھننے پر اور نہ بھتہ لینے پر کیونکہ تم سب نے آج ووٹ کے ذریعے بتا دیا کہ تمہاری خود کی مرضی اس میں شامل ہے! مزے کرو

Saud Khan: To my dear CM  NUK
⁠⁠⁠⁠٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


عوام کے ووٹ کا احترام کریں ،
 تبدیلی کے لئے اپنی مرضی ٹھونکنے والوں کے انجام سے عبرت حاصل کریں ۔

انصاف کو قابلِ حصول بنائیں ، مجرموں کو شہادتوں کی بنیاد پر سزائیں دیں۔

کراچی کے  لوکل عوام کے لئے روزگار کے دروازے بند نہ کریں ۔

جتنے کراچی میں ، قومی زبانی بولنے والے ، سرکاری ملازمتیں کر رہے ہیں ، اتنی ہی ملازمتیں کراچی والوں کو اُن کے علاقوں کے سرکاری محکموں میں دی جائیں ۔

سب سے پہلے ، سرکاری ملازمتیں ، لوکل آبادی کو دی جائیں ۔
لوکل آبادی کا علاج مُفت ہو اور نان لوکل سے مارکیٹ ریٹ کے مطابق پیسے لئے جائیں ، کیوں کہ اُن کی صحت کا بجٹ اُن کے آبائی علاقے کو دیا جاتا ہے ۔

تمام رعایتیں صرف اور صرف ۔ لوکل آبادی کو دی جائیں ، دیکر شہروں سے آئے ہوئے ، صرف اپنے آبائی علاقوں میں رعایت حاصل کر سکتے ہوں ، اور اگر رعایت حاصل کرنا چاہیں تو ، 3 سال رہائش کے بعد اپنا آبائی علاقہ تبدیل کروا لیں ۔

جتنے پلاٹ  قومی زبانی بولنے والوں نے کراچی میں لئے ہیں ، اتنے ہی پلاٹ  کراچی والوں کو اُن کے علاقوں  میں دیئے جائیں ۔

کسی بھی ، علاقے کا باشندہ ، اپنے آبائی علاقے کے علاوہ دوسرے صوبے کے  میں ایک رہائشی / کمرشل پلاٹ خریدنے کا حقدار ہو ۔ اولاد کے لئے پلاٹ/کمرشل جائداد لینے کی صورت میں اولاد کا آبائی علاقہ ، والد کا آبائی علاقہ نہیں رہ سکتا ۔

انصاف کے لئے مساجد کمیٹیاں بنائی جائیں ، جس میں یونیئن کونسل کے لوکل رہائشی افراد ہوں ۔ ہر کیس کے لئے ، چار افراد کا پینل بنے ۔ تمام دیوانی اور فوج داری شکایات یہاں لائی جائیں اگر فریقین مطمئن نہ ہوں تو پھر لوکل کورٹس میں حتمی فیصلہ ہو ، اس سے اوپر کی تمام کورٹس کا ایک نمائندہ تحصیل ، ڈسٹرکٹ تک ہو ، جس کی تنخواہ ۔ اُس کے پاس آنے والے مقدمات کی فیس سے دی جائے ۔ انصاف کے لئے اپنے ڈسٹرکٹ کی حدود سے باہر نہ جانا ہو
۔
حوالات ، جیل وغیرہ ختم کی جائیں ، تمام ملزموں کو اپنے گھروں یا ہاسٹل میں رہنے دیا جائے ، مجرموں کے گلے میں اور پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر اُنہیں ، بحیثیت مزدور سزا کا 1/4 رفاعہ عامہ کے کاموں پر لگایا جائے ۔ تمام مجرموں کو ایک جیسا لباس پہنایا جائے ۔ جو اپنی سزا کی قیمت دے سکتا ہو ، اُس کی مشقت معاف کی جائے ، لیکن وہ اپنی سزا کے  خاتمے تک مجرموں کا لباس پہنے گا۔

مذھب انسان کا انفرادی معاملہ ہو ، اجتماعی ہم مسلک کا ہو ۔  جس کا امیر اُس کا امام ہو ۔ جو آس مسلک کے فیصلوں کا امین ہو !

لبرلز کے لئے ، ملکی قونین لاگو ہوں ۔

ملک میں صرف تین قوانین ہوں، جن کے لئے تین شناختی نمبر ہوں ۔ جو شناختی کارڈ پر درج ہوں ۔
1۔ مسلم قوانین ۔ ماننے والے
2۔ غیر مسلم قوانین ۔
ماننے والے
3۔ لبرلز قوانین ۔ ماننے والے
وفاقی قوانین ، ان تینوں پر لاگو ہوں ۔
سعود خان ۔ امید ہے کہ ملک اصلاح کے طرف جائے گا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آپ کی کیا رائے ہے ؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اتوار، 29 نومبر، 2015

میرا رازق رعایت کر نمازاں رات دیاں کردے




فِکر دا سِجھ ابھردا اے ، سُچیندے شام تھی ویندی
خیالا  وچ سُکوں اے  کل، گولیندے شام تھی ویندی
 
اُنہاں دے بَا ل ساری رات روندے ہِن،بُھک تو سُمدے نئیں
جنہاں دے کہیندے بالاں کوں،  کھڈیندے  شام تھی ویندی

غریباں دی دُعا یارب ، خبر نئیں کِنج کریندا ایں
سدا ہنجواں دی تسبیح کوں، پھریندے شام تھی ویندی
 
کدہیں تاں دُکھ وی ٹَل ویسن ، کدہیں تا ںسکھ دے ساں ولسن
پُلا خالی خیالاں دے ، پکیندے شام تھی ویندی

میرا رازق رعایت کر، نمازاں رات دیاں کردے
جو روٹی رات دی پوری ،کریندے شام تھی ویندی

میں شاکر بُھک دا مارا آں ، مگر حاتم تو گھٹ کو نئیں
قلم خیرات ہے میری ، چلیندے شام تھی ویندی
شاکر شجاع ابادی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : اچھی بھانجی ، رابعہ خرم درانی کا شکریہ ، جنہوں نے املا درست کروائی ، کل رات ، شاکر شجاع آبادی ، خود سناتے ہوئے وڈیو ، فیس بک پر ملی ، مجھے، اِس شعر نے بہت متاثر کیا
میرا رازق رعایت کر، نمازاں رات دیاں کردے
جو روٹی رات دی پوری ،کریندے شام تھی ویندی
 کیوں کہ ایک پوسٹ پر میں یہ کمنٹ کر چکا تھا ،
مسلمانوں کو پلِ صراط سے گذرنے کے لئے ، اِس دنیا میں رسے پر چلنے کی تربیت لازمی لینا چاہئیے ۔
 
 

پیر، 23 نومبر، 2015

گاندھی جی کا آشرم ، بکری اور داسیاں


صبح تڑکے  سروجنی نائیڈو نے مجھے اٹھایا کہ جھٹ پٹ منہ ہاتھ دھو کر باہر چلو، بعد میں ناشتا کرنے چلیں گے۔ باہر آکر تماشا دیکھا کہ ہر طرف اِدھر اُدھر لوگ جھاڑو لگا رہے ہیں، کچھ خواتین بھی ۔ پیچھے کی طرف لڑکے لڑکیاں تھیں جو بڑی پھرتی سے جھاڑو لگانے، گوبر اُٹھانے میں مصروف تھیں۔ بتایا یہ لڑکے لڑکیاں یہاں ( گاندھی ) کے آشرم ہی میں رہتے ہیں۔یہ کہہ کر نیچے اتریں، برآمدے کے نیچے رکھی جھاڑو اٹھا کر گز دو گز ادھر ادھر دو چار ہاتھ مارکر ہنستی ہوئی اوپر پھر برآمدے میں آگئیں۔ دور کی طرف اشارہ کیا۔وہ دیکھو، سیٹھ برلا جھاڑو لگا رہے ہیں۔​
’’توبہ توبہ ،یہ سب کیا ڈھونگ ہے؟‘‘میں نے کہا۔ 
سروجنی نائیڈو  بولی ،’’ تم یہ کیوں نہیں سمجھتیں کہ یہ برابری کا درس ہے۔ دیکھو میں تمہیں باپو کے پاس ایک شرط پر لے جاؤں گی کہ ہر گز ایسی اوٹ پٹانگ باتیں نہیں کروگی۔ دوسرے یہ کہ ان کو گاندھی جی نہیں بلکہ باپو جی کہو گی‘‘۔
’’ بہت بہتر‘‘۔ میں نے کہا
ناشتے میں ایک اسٹیل کے گلاس میں دودھ اور ایک پھلکا ملا۔ وہ تو نہانے چلی گئیں۔میں کھڑکی سے لگ کر باہر کا تماشا دیکھنے لگی۔ کچھ لڑکیاں لڑکے بالٹی اور گگریاں لیے پانی بھرنے کنوئیں پر جا رہے تھے، کچھ پانی بھر کر لوٹ رہے تھے۔ کسی نے ایک بالٹی پانی کی ہمارے برآمدے میں بھی بھر کر رکھ دی۔
مسز نائیڈو تیار ہو کر باہر آئیں تو کہا ،"پانی کی بالٹی غسل خانے میں لے جاؤاور تیار ہو کر آؤ۔ میں اِتنے میں ذرا اخبار پڑھ لوں۔
​ "
میں نکلی تو وہ مجھے لے کر جو بیچ میں ہٹ بنی ہوئی ہے،اس طرف کو چلیں۔اپنا سر پلوّ سے ڈھانک کر کہا۔ ’’تم بھی سر ڈھا نپ لو‘‘۔
 باہر برآمدے میں ’اینی بینیسنٹ ‘ ایک انگریز خاتون کھڑی ملیں۔ بے بلاؤز کی ساری کا پلوّ کس کر سرپر سے ہوتا ہوا کمر پر کھونس رکھا تھا۔ ذرا سا پلوّ سر پر سے کھسکا تو نظر آیا کہ سر منڈا ہوا ہے۔ یہ عرصے سے گاندھی جی کی چیلی بنی ہوئی ان کی سیوا اور ٹہل خدمت کے کام انجام دے رہی تھیں۔ ان کے ہاتھ میں ایک تھال تھا جس میں ایک کٹوری میں کدو کش کی ہوئی گاجر، ایک میں چقندر تھا اور ایک طرف کچھ پتے مولی کے۔ سروجنی نائیڈو نے ان سے اندر جانے کی اجازت لی اور مجھے لے کر اندر آئیں اور جھک کر نمسکار کرکے گاندھی جی کے پائوں ہاتھ لگا کر چھوئے اور انکا آشیرباد لے کر مجھے بھی اشارہ کیا کہ میں بھی ایسا کچھ کروں۔ میں نے تو صرف جھک کر آداب کیا۔مجھے ملایا ،
" یہ حمیدہ، اختر حسین رائے پوری کی بیوی ہیں۔ آپ کا شکریہ ادا کرنے یہاں آئی ہیں۔"
’’ بیٹھیے بیٹھیے آپ دونوں۔‘‘ کمرے کے لِپے پُتے فرش پر ایک بڑی سی چٹا ئی بچھی ہوئی تھی، پیچھے گاؤ تکیہ اور سامنے ایک منّے سے ڈیسک نما نیچی سی میز پر قلم اور کاغذ رکھے تھے۔

اب میں نے ان کی طرف ہمت کرکے دیکھا۔ موٹے کھدر کی دھوتی اس انداز سے بندھی ہوئی تھی کہ پتلی سوکھی ٹانگیں ران تک ننگی۔ نہ بنیان نہ کرتا۔ ایک ایک پسلی یوں نمایاں کہ بڑی آسانی سے ہڈیاں گن لو۔ لمبا سا جینیئو گلے میں پڑا ہوا۔ ماتھے پر تلک، سر کے بال برائے نام، اُبھرتا ہوا بے حد چوڑا ماتھا، پتلے پتلے ہونٹ ایک دوسرے سے بھنچے ہوئے، ناک موٹی سی اور موٹی موٹی بھنویں، عجیب قسم کی آنکھیں، نہ تو بہت بڑی نہ چھوٹی، مگر ان میں برقی روشنی سی، جیسے مقابل والے کا ایکسرے لے رہی ہوں۔ دھنسے ہوئے کلے، جبڑے کی ہڈیاں اُبھار لیے ہوئے، گندمی رنگ اور سامنے کے چار
 دانت غائب،مٹھی بھر وزن، مگر جانے ان میں کون سی طاقت تھی۔ مجھے یوں لگا کہ اُنھوں نے مجھے اندر تک پڑھ لیا ہے۔ ان کے آگے یا تو انسان کی آنکھیں جھکی کی جھکی ر ہ جائیں یا اگر ان کی طرف دیکھ لے تو نگاہیں ٹکی کی ٹکی رہ جائیں۔
سروجنی نائیڈو سر ڈھانکے بڑی مؤدب بیٹھی تھیں، نظریں نیچی کیے ہوئے اور میں گاندھی جی کی طرف دیکھے ہی جارہی تھی۔ مسکرا کر بولے
’’آپ کو ہم یہ کہے ہے کہ بڑا ۔’کسمت ‘ والی ہے کہ پتی اکتر حسین رائے پوری ملا ہے۔ اگر ایسا لوگ اور بھی ذرا ہو تو کھوب اچھا ہو۔ وہ کابل بہت سا ہے اور بہت سا نڈر، بے باک ہے۔ ناگپور کانفرنس میں زبان کے بارے میں بولا تو ہم سمجھ لیا کہ اس کو ہلا سکتا نہیں۔ ہندوستان کو ایسا ہی لوگ کا ضرورت ہے جو ہندی اردو ایک موافق سا جانے۔ جب یہاں آیا تو اس وکت پاسپورٹ کا بات کچھ کسی سے نہیں بولا۔‘‘
میں نے کہا ’’ وہ بہت خوددار ہیں۔ اپنے لیے کسی سے کچھ نہیں کہتے۔ میں آپ کی شکر گزار ہوں کہ وائسرائے کو تار بھیجا۔‘‘ 

گاندھی جی بولے ، ’’نہیں ،شکریہ کا بات نہیں بی بی۔ سوچو اگر آپ بھی ان کے ساتھ جاتا ہے، پڑھائی آدھی نہ ہوجائے۔ ایسا بھی تو آپ کرسکتا ۔ یہاں آشرم میں رہ کر کچھ سیکھے۔ کوئی بڑا آدمی جو ملک کا سیوا کرے، اس کا پتنی میں بھی حوصلہ، ہمت اوردیس کی سیوا دکا سوک اگر ہوگا تو پھر پتی دل لگا کر دیس کی سیوا کرتا ہے۔ بولے آپ کہ اس آشرم میں اگر رہ جائے تو کیسا لگے؟‘‘
’’ باپو جی مجھے اپنے شوہر سے دُور رہنا ذرا اچھا نہ لگے ا ور پھر یہاں کی بہت سی باتیں پسند نہیں۔‘‘
سروجنی نائیڈو نے گھبرا کر میری طرف دیکھا۔ 
’’کون سا بات؟‘‘​ 
’’جی یہ بات ٹھیک ہے، مگر یہ سب بچے تو نہیں ہیں۔ بڑے لوگ تو عقل سمجھ والے ہوتے ہیں۔ ان کو توآپ کی بات فوراً مان لینا چاہیے۔ ‘‘
اینی بینسینٹ نے آکر کہا ’’ فلاں صاحب کی ملاقات کا وقت ہو گیا‘‘
تو گاندھی جی نے کہا ’’کہہ دیں ابھی ان کے پاس ملاقات کا وکت نہیں۔‘‘

سروجنی نائیڈو تو اٹھ کر کھڑی ہوگئیں۔ میں نے اٹھنا چاہا تو حکماً کہا۔
’’ ابھی آپ بیٹھیے۔‘‘ میں پھر بیٹھ گئی ۔
آپ بولے ’’ جب ہم سارا ہندو ستانی لوگ ایکم ہی دھرتی ماتا کا رہنے والا ہے، پھر ہندو اور مسلمان الگ الگ کیسا ہو سکتاہے۔ مل جل کر کیوں نہیں رہنے سکتا؟ ملک کی آزادی کے لیے ایک موافق کام کیوں نہیں کرنے سکتا؟‘‘
​
’’ میں خود آپ سے یہ بات پوچھنے کو تھی کہ اگر آپ یہ بات دل سے چا ہتے ہیں تو اگر ایک مسلمان کسی ہندو لڑکی سے شادی کرلے تو اس میں ہرج ہی کیا ہے؟ آپ کی نظر میں جب ہندو اور مسلمان ایک ہے تو آپ کو سب سے بڑھ کر اعتراض کیوں ہو؟ بیچاری لکشمی پنڈت نے جب سید حسین صاحب سے شادی کرلی توآپ ہی نے بہانے سے سید صاحب کو ولایت بھیج کر لکشمی جی کو کئی ماہ نظر بند رکھا، جب تک کہ ان کے پھیرے نہ ڈلوا لیے۔ میں ٹھیک بات کہہ رہی ہوں نا؟ اس کا کیا جواب ہے آپ کے پاس؟‘ ( واضح رہے کہ نہرو کی بہن وجے لکشمی پنڈت نے مذکورہ مسلمان سید حسین سے پسند کی شادی کی تھی جسے گاندھی جی نے بعد میں زبردستی ختم کرایا تھا بلکہ تاریخی حقیقت تویہ ہے کہ پورا نہرو خاندان ہی، انگریزاور مسلمان مردوں اور عورتوں کے ساتھ رومانی پینگوں میں مبتلارہا کرتا تھا۔ پھر
​یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جواہر لال نہرو پر موہن چند گاندھی جی کا بہت گہرا اثر تھا) ۔
ذراعینک کو اور نیچا ناک پر کرکے ذرا تھم کر بولے ۔
’’بات یہ ہے کہ مسلمان اور ہندو بہن بھائی تو پھر بہن بھائی کی شادی کیسے ہونا؟‘‘
اس جواب پر مجھے ہنسی تو بڑے زور سے آئی۔ مشکل سے ضبط کر کے کہا
’’ ہندو بھی تو آپس میں بہن بھائی ہوتے ہیں ۔پھر تو کوئی شادی مت ہو نے دیں۔ کتنی اچھی طرح بڑھتی ہوئی آبادی کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔‘‘
یہ سن کر وہ ہنسے تو سامنے کے
۲ دانت نمایاں ہو گئے۔مجھے کھڑکی کا خیال آیا۔ اب اُنھوں نے بات کا رُخ بڑی ہوشیاری سے یوں موڑا ’’آپ سامنے وہ بکسے کو دیکھتا ہے، اس پر کیا لکھا ہے؟‘‘
ہندی میں’ کانگریس فنڈ ‘ لکھا ہوا تھا۔ تھوڑی ہندی شادی سے پہلے شدبد تک جان گئی تھی۔ میرے بتانے پر کہ فنڈ لکھا ہوا ہے، خوش ہوکر بولے
’’خوب خوب، آپ ہندی پڑھ لیتا ہے۔ یہاں جو بھی عورت آتی ہے وہ اپنا زیور اتار کر اس میں ڈال دیتی ہے۔ مرد لوگ جیب کا روپیہ ڈال دیتا ہے۔ تب کانگریس کا کام چلتا ہے۔ آب
۱۲ سونے کا چوڑیاں پہنے ہیں۔ ان کو ڈبے میں ڈال دیں۔جس ملک میں آدمی لوگ کے پاس بدن ڈھانپنے کو کپڑا نہ ہو، پیٹ بھرنے کو کھانا نہ مل سکے، وہاں پر سونا پہننا شرم کی بات ہے نا؟‘‘​
’’بات توآپ ٹھیک فرمارہے ہیں مگریہ چوڑیاں میری اماں نے مجھے تحفے میں دی تھیں اور میرے ہاتھوں میں پہناتے وقت یہ کہہ کر دی تھیں ، خدا تمھارے سہاگ کو ہمیشہ قائم رکھے۔ ایک تو یہ ماں کا تحفہ اور سب سے بڑی دعا، جو کسی بیٹی کے لیے ہو سکتی ہے وہ ان چوڑیوں کے ساتھ شامل ہے۔ پھر آپ ہی بتائیں کہ کیا میں ایسا تحفہ اُتار سکتی ہوں؟ ہاں جب ان شاء اﷲ اختر کی کمائی والی چوڑیاں پہن کر آپ کے درشن کرنے آؤ ں گی تو اندر قدم رکھتے ہی پہلا کام یہ کروںگی کہ ان کو پہلے فنڈ کے ڈبے میں ڈال دوںگی۔ ‘‘
​
’’آپ تو ہماری کوئی بات بھی نہیں مانتا۔ اچھا ایسا ہونا چاہیے کہ جانے سے پہلے سروجنی جی کو یہ بتاکر جانا کہ آشرم میں رہے گا اور مولانا عبدالحق صاحب کو میرا سلام دینا۔ وہ تو ہم سے بہت بگڑ گیا ہے۔ اردو اور ہندی دونوں زبان ان کا بھی ہمارا بھی۔ پھروہ بس اُردو اُردو کیوں کہتا ہیں؟‘‘
​
اِتنے میں’ اینی بیسینٹ‘ ایک بکری کو رسی کے ٹکڑے سے پکڑے ہوئے چٹائی پر آئیں تو میں اچھل کر کھڑی ہوگئی۔ وہ بڑی پھرتی سے بکری کے تھنوں کو اس طرح دبارہی تھیں کہ گاندھی جی کے کھلے ہوئے منہ میں دودھ کی دھاریں سیدھی جاتیں اور وہ غٹ غٹ کرکے پی رہے ہیں۔ جھک کر آداب کیا اور وہاں سے نکل کر برآمدے میں آئی تو دیکھا کہ سروجنی جی کھڑی میرا انتظار کر رہی تھیں۔ بڑے روکھے انداز سے بولیں
” حمیدہ تم بھی خوب ہو۔ بھلا کبھی باپو جی سے کسی نے ایسی باتیں کی ہوں گی ؟”
” تو وہ مجھ سے آخر یہ کیوں کہہ رہے تھے کہ میں آشرم میں رہ جاؤں اور اختر چلے جائیں ولایت؟یہ تو میں نے ان سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اگر وہ آشرم میں رہنے کو خود کہیں گے تو شاید تم مان لوگی تاکہ اختر کی پڑھائی مکمل ہوسکے۔ یوں میں مدراس میں جو ’’بِرلا ٹرسٹ ‘‘ ہے، اسکالر شپ دلانے کی پوری کوشش کروں گی۔‘‘
​
’’ اگر مل جائے تو کیا ہی کہنے ۔ اور نہ ملے تو آپ ذرا فکر نہ کریں۔ اللہ اختر کے قلم کو سلامت رکھے ۔ہم دونوں آسانی سے گزر کرلیں گے۔ اور پھر میری پاکٹ منی بھی تو ہے۔‘‘
وہ میرے چہرے کو غور سے دیکھ کر چپ ہوگئیں۔
۹ بجے رات کو حیدرآباد کے لیے روانہ ہوئی ۔اس خیال سے بے حد مگن کہ اسٹیشن پر مولوی صاحب اور اختر کھڑے ملیں گے۔ گاڑی رکی تو دیکھا کہ صرف مولوی (عبدالحق۔سید)صاحب ہیں۔ جب میں نے اِنھیں گاندھی جی سے ملاقات کی ساری باتیں بتائیں۔
خوش ہو کر بولے ‘‘ تم نے اچھا کیا سید حسین اور لکشمی پنڈت والی بات کا ذکر کیا۔ دیکھو بڈھا کیسا چالاک ہے، بالکل لومڑی جیسا۔ بکری کے تھن سے تازہ دودھ پینے کے طریقے کو سن کر کہا میں تمھاری جگہ ہوتا تو اپنا منہ بھی کھول کر بیٹھ جاتا اور یوں شاید اپنے حصے میں بھی کچھ آجاتا"۔
​ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
"موہن داس کم چند گاندھی"   کے کردار کی یہ نقشہ گری ایک ایسی خاتون کے قلم سے ہے، جن کے شوہر اختر حسین رائے پوری کوئی بہت زیادہ مذہبی نہیں تھے کہ ہم کہہ سکیں کہ خاتون نے مذہبی جوش میں ان کے خلاف باتیں لکھ دی ہیں۔ بلکہ در حقیقت گاندھی جی کے ساتھ ان کی یہ ایک دوبدو ملاقات تھی اور اُنھوں نے گاندھی جی کو جیسا دیکھا ویسا ہی بیان کیا۔چنانچہ ان کے اس بیانیے کا پسِ پردہ مطلب یہی نکلتاہے کہ ،
گاندھی اپنے طرزِ عمل سے قوم کو بیوقوف بنارہے تھے۔ جس آشرم میں بھلا لا تعداد نوجوان لڑکیاں اور عورتیں اَن گنت مردوں کے ساتھ گھر بار چھوڑ کردن رات گاندھی جی کی خدمت کے لیے رہتی ہوں، وہاں بہت سے ’’ غیر معمولی واقعات ‘‘ کے ہوجانے کا تصور کوئی بھی فرد کرسکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 
۔محترمہ حمیدہ اختر حسین  ’’ہم سفر‘‘ (شوہر کی سوانح حیات ) شائع شدہ مکتبۂ دانیال سے انتخاب!
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

"موہن داس کم چند گاندھی"  2 اکتوبر 1860 پور بندر انڈیا میں پیدا ہوا۔  1883 میں  کستوری بائی مکھن جی سے شادی کی ، ساوتھ افریقہ میں 1914 تک رہنے کے بعد ہندوستان واپس آیا  ۔ تاریخِ وفات  30 جنوری 1948 ۔
دیکھیں :   شجرہ نسب ۔ 

http://listverse.com/2014/10/31/10-curious-controversies-about-mahatma-gandhi/ 
کستوری بائی مکھن جی اپنے تین بیٹوں اور ایک بیٹی کے ساتھ 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔