Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 5 جولائی، 2019

بھیم۔اللہ کا لفظ ب ھ م

الکتاب میں روح القدّ س کے ذریعے محمدﷺ کو سمجھایا گیا ایک لفظ  ، جس کا فہم اِن تینوں آیات میں مفصّل بیئن ہوا ۔ 

 کیا ایمان والے ،  بھم  سے بننے والے اِس لفظ سے کوئی اور فہم بھی لے سکتے ہیں ؟

اگر ہاں ، تو یادر ہے کہ وہ اللہ  کی آیات کے مواضع ، ایسی ہی تبدیل کر دیتے ہیں کہ جیسے اپنے تئیں ، بہت زیادہ ہدایت یافتہ سمجھنے والے لوگ (ھادو)  :

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لاَ يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِينَ قَالُواْ آمَنَّا بِأَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِن قُلُوبُهُمْ وَمِنَ الَّذِينَ هَادُواْ سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِينَ لَمْ يَأْتُوكَ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ مِن بَعْدِ مَوَاضِعِهِ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَـذَا فَخُذُوهُ وَإِن لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُواْ وَمَن يُرِدِ اللّهُ فِتْنَتَهُ فَلَن تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللّهِ شَيْئًا أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ لَمْ يُرِدِ اللّهُ أَن يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ [5:41]
بلکہ وہ عقل رکھنے کے باوجود بھی  اپنی ادبی اور لَغوی مو شگافیوں سے ، کلام اللہ میں  ترجماتی یا تفسیراتی تحریف کرتے  رہتے ہیں !
أَفَتَطْمَعُونَ أَنْ يُّؤْمِنُواْ لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلاَمَ اللّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ [2:75]
جس کو روکنے کے لئے اللہ نے   ایک عمدہ فلٹر لگا دیا ہے ۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ فلٹر کیا ہے ؟؟؟
 اُس فلٹر سے صرف کلام اللہ گذر سکتا ہے!
 حم ﴿1 تَنزِيلٌ مِّنَ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ﴿2 كِتَابٌ فُصِّلَتْ آيَاتُهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﴿3 بَشِيرًا وَنَذِيرًا فَأَعْرَضَ أَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ ﴿4 سورة فصلت
 
کلام من دون اللہ نہیں !
 وَقَالُوا قُلُوبُنَا فِي أَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ وَفِي آذَانِنَا وَقْرٌ وَمِن بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ إِنَّنَا عَامِلُونَ ﴿41:5
٭٭٭٭٭٭

عفت کی حفاظت عورت پر لازم

 عریبہ بانو  عرف زلیخہ سندس ایک  ، عقل و دانش ،   فہم و فکر ، شعور اور تدبّر رکھنے والی خاتون ، جس نے  کسی کی پوسٹ اپنی  فیس بک پر پوسٹ کی:


 اچھی بچی ، مجھے نہیں معلوم کہ یہ نوجوان کون ہے جس نے یہ اقتباس لکھا ۔

 میری ماں برقع پہنتی تھی ، لیکن میری بہنیں ڈاکٹر اور پروفیسر بنیں ۔ یہ صحیح ہے کہ اُس زمانے کا کالجوں اور یونیورسٹیوں کا ماحول وہ نہ تھا جو اب ہے ۔
صرف  ہم مسلمان  ہی اپنی بیٹیوں اور بیویوں  کے معاملے میں قدامت پسند نہیں ،
زمانہ جاہلیت کے لوگ بھی قدامت پرست تھے۔ اُنہوں نے بھی اپنی  بیویوں کی عصمت کی حفاظت کے لئے عجیب و غریب طریقے اختیا ر کئے جو ، اِس گوگل لنک پر دیکھے جاسکتے ہیں ۔

برقع یا چادر ابھی کی نہیں بہت پرانی رسم ہے ۔
  یہ نہ صرف عیسائیوں میں مقبول تھی بلکہ یہودیوں میں بھی بیویوں کو دوسروں کی نگاہوں سے چھپا کر رکھنے   دستور تھا :

عورت کی عصمت ،حرامیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ۔اللہ کا قانون تو روز اوّل سے موجود ہے لیکن اُس پر عمل  حکومت کی ذمہ داری ہے ۔


 جو عورت اپنی عصمت محفوظ رکھتی ہے وہ اسوہءِ مریم بنتِ عمران پر ہے ، جس کو صرف اپنی عصمت کی حفاظت کی وجہ سے اللہ نے تمام عالمین کی عورتوں پر مصطفیٰ اور مطاہرہ    کیا۔

 جس کی  روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کے ناقابلِ تردید الفاظ میں اِس طرح نباء دی:

وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ [3:42]
 اور  مریم بنتِ عمران مصطفیٰ اور مطاہرہ    کی وجہ بتائی :


وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ [66:12]

اور مریم بنتِ عمران ، اُس عورت نے اپنی   فَرْجَ (پرائیویٹ پارٹ ) کو    حْصَنَ (چاردیواری میں رکھا )  ، پس ہم نے اُس   (فَرْجَ)میں اپنی رُّوحِ  سے  نَفَخْ کیا ، اور وہ  اُس کے ربّ کے کلمات اور اُس کی کتابوں  کے ساتھ    صَدَّقَ ہوئی  اور وہ   الْقَانِتِينَ میں  سے ہے ۔
 تو کیا ہر وہ عورت جو اپنی عصمت کی حفاظت کرے العالمین  کی عورتوں پر مصطفیٰ اور مطاہرہ    ہو سکتی ہے ؟
یا    
الْقَانِتِينَ میں شامل ہو سکتی ہے ؟
٭- سب سے پہلے  ازواج النبی: ۔ 
  وَمَن يَقْنُتْ مِنكُنَّ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَا أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ وَأَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِيْمًا [33:31]

٭-   ایمان والے اور ایمان والیاں :


إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا ﴿33:35﴾
  اب یہ کُلّی شوہروں (مردوں) کا اختیار ہے کہ وہ  اپنی بیویوں کو کِس طرح محفوظ بناتے ہیں ، اگر وہ فحاشی پر کمر بستہ ہے !

٭٭٭٭٭٭

جمعرات، 4 جولائی، 2019

اللہ کے تین الفاظ انس، نسو اور نسی کا فہم سمجھنا



 دوستو ! آپ نے اللہ کے تین الفاظ انس، نسو اور نسی  کا فہم سمجھنا ہے ۔ جن سے  اللہ کے کئی الفاظ   صفات اور افعال کی وجہ سے بنے ہیں ۔    

جب ان تینوں کا فہم آپ وہی لیں گے او ر ہر آیت میں وہی فہم رکھیں گے نہ کہ اپنے لَغوی  مترادفات تو پھر اللہ کی یہ آیت آپ پر بیئن ہوجائے گی !

٭٭٭٭

جنسی بے راہ روی کے پھیلاؤ کو ذمہ دار کون؟

 عریبہ بانو  عرف زلیخہ سندس ایک  صاحبہ ، عقل و دانش ،   فہم و فکر ، شعور اور تدبّر نے بالا پوسٹ اپنی  فیس بک پر پوسٹ کی ، لیپ ٹاپ کھولا تو پہلی  پوسٹ  یہی نظر آئی ، لائک کا بٹن دبایا  اور کمنٹ پڑھے ۔ 

ایک نوجوان کے کمنٹ :


جس نے جواب لکھنے پر مجبور کیا ، ہوسکتا ہے کہ بہت سے دوست میرے جواب سے متفق نہ ہوں ، لیکن،
 67 سالہ بوڑھا   ایک وسیع تجربے کے ساتھ ، اللہ کی آیات ( الکتاب کی آیات اور کتاب اللہ کی آیات  )  کو اپنے سامنے  رکھا کر اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے فہم سے جواب لکھتا ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

  جب ، ہالی وُڈنہیں تھا ، بالی وُڈ نہیں تھا یا لالی وُڈ نہیں تھا ۔ 
سلیم عالم خان :
جنسی بے راہ روّی عام تھی ، نوجوان ، ادھیڑ عمر اور ہماری عمر کے لوگ اپنی جنسی بے راہ روّی کو سکون پہنچانے کے لئے ، شہر کے کونے میں  بنے ہوئے ، آفاقی کموڈ کی طرف جاتے تھے جسے ضیاع الحق نے اسلام کے نام پر ختم کرکے 1978 میں گلی محلّوں میں پھیلا کر اللہ کی ایک آیت کو ،مِن دون اللہ آیت بنادی ۔ اور ایمان والوں نے بھی ، مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ بن کر يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ ہو گئے ، اور مفتیان الوقت نے فتاوے دینا شروع کر دیئے کہ،
 انسانی سنڈاس خانے میں داخل ہونے والا ایجاب و قبول بھی کرتا ہے اور متاع بطور اجازتِ داخلہ بھی دیتا ہے -
 سلیم عالم خان : یہ شاید آپ کے لڑکپن کا قصص ہے ۔ کہ :
 جنسی بے راہ روّی کے کموڈ کی صفائی کے لئے جو عورتیں مامور من الشیطان کی جاتیں اب وہ گلی محلٗوں میں نقاب پوش بن کر ، نقاب پوش پاکباز عورتوں کے لئے تہمت بن  چکی ہیں ۔
  یہی وجہ ہے ، کہ:
 برقعہ ، پرویزیوں اور ملحدوں کے لئے انسانی سنڈاس کا نشان بن گیا ،
جو پاک باز عورتوں کو اپنی حیلہ جوازوں اور شیطانی چالوں سے مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ بنانے کی کوششوں پر کمر بستہ ہیں ۔
 1- عورت ترقی نہیں کر سکتی ۔
 2- عورت تعلیم حاصل نہیں کر سکتی -
3-عورت محصور ہو جاتی ہے ۔
 4- عورت مرد کی جنسی غلام ہی رہتی ہے ۔
بالآخر عورت عضو ناقص بن کر بچوں کی پیدائش کے لئے ہی رہ جاتی ہے ۔


یہ پکچر مجھے کل وٹس ایپ ہوئی میں نے پکچر میں جو کمنٹ لکھا ہے،
کہ زارا وسیم (ایک مسلمان لڑکی) نے ایمان بچانے کے لئے برقہ پہنا ، نہیں میری رائے میں ایک مسلمان لڑکی ، کفر میں گئی اب واپس ایمان میں آئی ، فلم انڈسٹری چھوڑی اور خود کو ایک مسلمان ظاہر کرنے کے لئے حجاب لیا تاکہ حرامیانِ جنس اِسے واپس   مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ  بنانے یا ہراساں کرنے کے لئے نہ اکسائیں اور یہ پاگل کُتوں سے بچنے کے لئے ، واپس اُسی خول میں کچھوے کی طرح چلی گئی ۔ اور،آپ متفق ہوں یا نہ ہوں !
 میرے خیال میں ہر اُس عورت کو اُسی خول کی پناہ لینا چاھئیے ، اگر اُس کے ارد گرد حرامیانِ جنس بستے ہوں ۔ 
یا پھر حکومت ایسے حرامیانِ جنس کے گلّے میں کانٹوں والا پٹہ ڈالے ، تاکہ معمولی سا کھنچاؤ اُس کی جنسی بے راہ روّی کو ،خوف کے سیلاب میں بہا لے جائے ۔یہ خوف ہی ہے جو انسان کو شرافت کا لبادہ اوڑھائے رکھتا ہے ۔ مغربی ممالک میں یہ خوف  طاقِ آزادی ءِ نسواں ہو چکا ہے - 
اللہ کے حکم  کے مطابق، نکاح،   مرد اور عورت کا جنسی فعل اللہ کی آیت ہے ۔ [7:189]
جس کی وجہ سے میں اور آپ  اِس دنیا میں موجود ہیں ۔ 
اللہ کی ہی آیت کے مطابق،
  زنا   ،  أَخْدَ اور سَافِحَ  ، مرد اور عورت کا جنسی فعل  شیطان کا اکسانا ہے اللہ کی آیت ہے ۔( 17:32)

اور مفتیانِ شیعانِ علی نے مرد اور عورت کے ، بلا ایجاب و قبول، جنسی فعل کو  متع کا نام دے کر حدود و قیود میں رکھ کر ،متبرک بنا دیا ہے ۔

پیر، 1 جولائی، 2019

قنوتیوں کی دعا

٭- جس پر ختم النبوۃ نہیں  ۔لہذا یہ الکتاب کا حصہ نہیں !
یہ غیر شیعوں پر لعن طعن کرنے کے لئے شیعوں کی صنعت گری ہے ۔

  ٭
 روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کا حکم بتایا:
 أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُواْ بِسُورَةٍ مِّثْلِهِ وَادْعُواْ مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ [10:38] 
شیعوں نے گھڑ کرالَّذِينَ آمَنُواْمیں پھیلا دی ، اب اِس کے پڑھنے والے الَّذِينَ شِيَعًا میں شامل ہوگئے !
 اللہ کا مکمل حکم :
وَمَا كَانَ هَـٰذَا الْقُرْآنُ أَن يُفْتَرَىٰ مِن دُونِ اللَّـهِ وَلَـٰكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِينَ ﴿10:37 

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿10:38 

بَلْ كَذَّبُوا بِمَا لَمْ يُحِيطُوا بِعِلْمِهِ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۖ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظَّالِمِينَ ﴿10:39 

وَمِنْهُم مَّن يُؤْمِنُ بِهِ وَمِنْهُم مَّن لَّا يُؤْمِنُ بِهِ ۚ وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِينَ ﴿10:40  

وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۖ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ ﴿10:41 

وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ ۚ أَفَأَنتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْ كَانُوا لَا يَعْقِلُونَ ﴿10:42

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پڑھیں :

الَّذِينَ آمَنُواْ   اور   الَّذِينَ شِيَعًا

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔