Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 15 اکتوبر، 2014

ارے، رے بابا، نہ بابا

میں تجھ کو سیکھاہوں پیار.... ارے رے بابا نہ بابا
کوشش ہے میری بیکار ...... ارے رے بابا نہ بابا
میں ایک کلی پیاری سی۔۔۔ میں گلشن کی ہریالی
تو ایک ہرجاہی بھنورا۔۔۔ پھرتا ہے ڈالی ڈالی
تیری رگ رگ میں عیاری --- میں لڑکی بھولی بھالی
میرا لہجہ خوشبو جیسا
--- تیری بات بات میں گالی
میں ساحل تو مجدھار ....ارے رے بابا نہ بابا
میں تجھ کو سیکھاہوں پیار.... ارے رے بابا نہ بابا
تیری ہر نہ انصافی
--- رہتی میری نظر میں
ماتھے پہ شکن ہو تیرے
--- تو درد ہو میرے سر میں
بدلے ہیں کتنے ساتھ تو نے
--- اس ایک سارے سفر میں
تو گھومے دنیا بھر میں
--- میں قید رہوں تیرے گھر میں
دوہرا ہے تیرا کردار .... ارے رے بابا نہ بابا
میں تجھ کو سیکھاہوں پیار.... ارے رے بابا نہ بابا
کیا ساتھ ہے تیرا میرا
--- تو شام ہے میں ہوں سویرا
میں گھر پہ راستہ دیکھوں
--- تیرا بستی بستی ڈیرہ
تو اک فیراہی پنچھی
--- ہر شاخ پہ تیرا بسیرا
اور مجھ پر یہ پابندی
--- میں نام جپوں بس تیرا
تو چاہے بیویاں چار ...ارے رے بابا نہ بابا
میں تجھ کو سیکھاہوں پیار.... ارے رے بابا نہ بابا
تو ایک شکاری چیتا
--- میں سیدھی سچی گاہے
تو عیب کرے دنیا کے
--- اور مجھ کو عیب لگاہے
میرے پاؤں میں ہے جو گنگرو
--- تو نے ہی مجھے پہناہے
وعدوں سے مجھے بہلاہے
--- تو جوٹھی قسمیں کھاھے
اک دن میں سو سو بار ...ارے رے بابا نہ بابا
میں تجھ کو سیکھاہوں پیار.... ارے رے بابا نہ بابا

ہفتہ، 11 اکتوبر، 2014

گوشت خور پرندے ،برادری ، مسلک اور ذاتیں

کہا کسی درد مند  نوجوان محقق نے :

یہ بہت ہی قابل تحسین بات ہے کہ

پرندوں کا کوئی مذہب مسلک اور ذات برادری نہیں ہوتی۔
'
لکھا ہم نے :

پرندوں کی ذاتیں بھی ہیں ، مسلک بھی ہے اور برادری بھی ۔ نوجوان !
پرندے خالقِ کائینات کی ایک وسیع ملکت کے باسی ہیں ۔

ان کی تین بڑی برادریاں ہیں ۔
٭ - گوشت خور برادری 
٭ - سبزہ و دانہ خور برادری
٭ - گوشت ، سبزہ و دانہ خور برادری ،
'
گوشت خور برادری کے دو بڑے مسلک ہیں :-
٭ - چیر پھاڑ کر کھانے والے ۔
٭ - سموچا کھانے والے ۔
'
چیر پھاڑ کر کھانے والوں کی دو ذاتیں ہیں ۔
٭ - تازہ گوشت کھانے والے ۔
٭ - مردار گوشت کھانے والے ۔


بس اب آپ کی اختلاف رائے کا انتظار ہے  ؟


برداشتہ مگرداشتہ

ہم وہ قوموں کا ریوڑ ہیں ، جسے ایک قوم کا نام دیا ہے  لیکن ،
جو دکھوں کی نگری میں رہتی ہے اور
دکھ بھری داستانیں شوق سے سنتی ہے ۔
ہر داستان کو ہم اپنے دکھ کے سمندر میں غوطہ دلوا کر،
اُسے یہ جتانا چاہتے ہیں کہ ہمارا دکھ عظیم ہے ،
اور تمھارا دکھ کم
دکھوں کی اِس چتا میں ہم سب کو جلانے کے لئے تیار ہیں
 سوائے اپنے دکھوں کے ۔
ہمیں خوشی کے لمحات صرف اُس وقت میسر آتے ہیں
جب ہم یہ سنتے ہیں
کہ واقعی آپ پر دکھ کے پہاڑ ٹوٹے ہیں ۔
نہ معلوم دکھوں کی اس عینک کو پہن کر ہم کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ؟
شاید خود کو عظیم دکھ برداشتہ  
لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ دنیا ہماری عینک پہننے کے لئے تیار نہیں
اور نہ ہی دنیا ہمارے دکھوں کو سننے کے لئے کان کھولے بیٹھی ہے ۔
کیوں کہ ہم خود ہی فریادی ہیں ۔
خود ہی منصف اور
خود ہی جلاد ۔
شاید یہ جلادی ذہنیت ہے جو ہم کو کسی کی خوشی میں شامل ہونے نہیں دیتی ،
یا شاید ہم خود ہی شامل نہیں ہوتا چاہتے
یا پھر ہم چاہتے ہیں کہ ہم مرکز ہوں اور ساری دنیا ہمارے ارد گرد ناچے ۔
جیسے دیوداسیاں کسی پتھر کی مورت کے گرد ناچتی ہیں
اور پتھر کو کسی قسم کا ارتعاش محسوس نہیں ہوتا ۔
نہ پاؤں کی دھمک سنائی دیتی ہے اور
نہ فضا میں پھیلی ہوئی خوشبو 
نہ ہی نوخیز جسموں کی مہک
جو باعث خطرہ ایمان ہے ۔
کیا کریں  ہم سب پڑھایا ہی یہی گیا ہے ۔
یہی بتایا گیا ہے ۔
کہ ہر بات میں اپنی رائے دو ۔
ھرٹانگ میں اپنی ٹانگ اڑاؤ
دادا کو سمجھاؤ کہ بچے کیسے بیدا ہوتے ہیں اور
محلہ کمیٹی کا صدر نشین بننا نصیب نہیں ہوتا ۔
ریاست کے صدر کو بتاؤ ، کہ ریاست کیسے چلائی جاتی ہے ۔
آہ،  نوبل  انعام دینے والی کمیٹی کتنی بے وقوف ہے ، 
انہیں انعام دینے کے طریقے نہیں معلوم ۔
انہیں یہ نہیں معلوم کہ ایک قوم ہے جس میں  اٹھارہ کروڑ  کے اٹھارہ کرو  دانش  ور ہیں ،
ایسے دانش ور  جو   برداشتہ ہیں مگر داشتہ کے طور پر ،

جمعرات، 9 اکتوبر، 2014

چے گویرا

آج پوری دنیا میں انقلابی نوجوان، حریت پسند اور محنت کش چے گویرا کی برسی منا رہے ہیں۔8اکتوبر1967ء کوCIAکی اطلاع پربولیویا کے 1800سے زائد سپاہیوں نے ’یورو روائن‘کے علاقے میں واقع چے گویرا کے گوریلا کیمپ کا محاصرہ کر لیا۔چے کے بہت سے ساتھی اس لڑائی میں مارے گئے اور وہ خود، دو گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوگیاجس کے بعد اسے گرفتار کر کے ’لا ہیگویرا‘ میں واقع عارضی فوجی چوکی میں لایا گیا۔گرفتاری کے بعد چے نے انٹیلی جنس افسروں کے کسی سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔اگلے دن 9اکتوبر کی دوپہر کو بولیویا کے صدر رین بیرینٹوس کے حکم پر، چے کو گولی مار کے قتل کر دیا گیا۔مرنے سے کچھ منٹ پہلے ایک بولیوین سپاہی نے چے سے پوچھا ’’کیا تم اپنی لافانی زندگی کے بارے میں سوچ رہے ہو؟‘‘،
چے نے جواب دیا ’’نہیں! میں انقلاب کی لا فانیت کے بارے میں سوچ رہا ہوں‘‘۔
چے گویرا کے آخری الفاظ کچھ یوں تھے ’’میں جانتا ہوں تم مجھے مارنے کے لئے آئے ہو۔ گولی چلاؤ بزدل! تم صرف ایک انسان کی جان لے رہے ہو!‘‘۔

ہر بڑے انقلابی کی طرح چے گویراکی شخصیت، کردار اور زندگی کو بھی مسخ کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔حکمران طبقات کے ساتھ ساتھ بائیں بازو کے اصلاح پسند ’’دانشور‘‘ بھی کردار کشی کی ان بھونڈی کوششوں میں برابر کے شریک ہیں۔چے کی برسی پر اس عظیم انقلابی کوخراجِ عقیدت پیش کرنےکا اس سے بہتر طریقہ کوئی نہیں ہو سکتا کہ ان نظریات کو سمجھا جائے جن کے لئے وہ جیا، لڑا اور اپنی جان قربان کر دی۔
 لینن نے ’’ریاست اور انقلاب‘‘ میں لکھاتھا
’’تاریخ کے اس سفر میں جو کچھ آج مارکسز م کے ساتھ ہو رہاہے،یہ ہرگز کوئی نئی بات نہیں ہے؛ہر دور کے انقلابی مفکروں کے نظریات اورعوام کی نجات کے آدرش کیلئے لڑنے والوں کے ساتھ یہی بار بار ہوتاچلاآرہاہے۔سبھی انقلابیوں کی زندگیوں میں استحصالی طبقات وحشی کتوں کی طرح ان پر ٹوٹ پڑنے کو دوڑتے ہیں،ان کے نظریات کو انتہائی غلاظت اور گندگی میں لتھاڑکر پیش کیا جاتا ہے،بدترین بہتانوں اورذلت آمیز دشنام طرازی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کردیاجاتاہے۔اور جب یہ مرجاتے ہیں تو کوششیں شروع کر دی جاتی ہیں کہ ان کو ایک بے ضررقسم کا انسان بنا کر پیش کیاجائے،ان کے بارے اور ان کے حوالے سے اس قسم کی داستانیں تخلیق کی جاتی ہیں اور ان کو کیا سے کیا بناکے پیش کیا جاتا ہے اور وہ بھی اس انداز میں کہ وہ انسان نہیں کچھ اور شے تھے،اور یوں اس طریقے سے ایسے لوگ سب کچھ قرار پاجاتے ہیں سوائے اس کے کہ انہوں نے اپنی زندگیاں محروم اور درماندہ انسانوں کی زندگیاں بدلنے کیلئے وقف کر دی ہوئی تھیں۔ مقصد اس قسم کی زیب داستان کا ایک ہی ہوتا ہے کہ استحصال زدگان کو دھوکے فریب اور سحر میں مبتلا کر دیا جائے،اور ان بڑے انسانوں کے انقلابی آدرشوں اور نظریات پر مٹی ڈال دی جائے،ان کے انقلابی تشخص کو بیہودہ طریقے سے بگاڑ دیاجاتا ہے۔‘‘
اپنی موت کے بعد چے گویرا سوشلسٹ انقلابی تحریکوں کے ہیرو اور جدید پاپ کلچر کے نمائندے کے طورپر ابھرا ،
البرٹو کورڈا کی بنائے ہوئے چے کے فوٹونے بہت شہرت پائی اور دنیا بھر میں ٹی شرٹوں،احتجاجی بینروں پر یہ فوٹو نمایاں ہوتاجارہاہے اور یوں چے گویرا ہمارے عہد کا معتبر و معروف انسان بن چکاہے۔لینن کی موت کے بعد سٹالن اور زینوویف کی قیادت میں لینن کا تشخص ابھارنا شروع کر دیاگیا۔کروپسکایا(لینن کی بیوی) کی خواہش کے برعکس لینن کی میت کو ریڈسکوائر میں سجاکر مرجع خلائق بنانے کیلئے رکھ دیاگیا تاکہ عوام اس کا آخری دیدار کر سکیں۔کروپسکایا نے بعد میں کہاتھا
’’ لینن جس شخصیت پرستی کے خلاف عمربھر لڑتا رہا،اسے مرنے کے بعد اسی شخصیت پرستی کی سولی پر لٹکادیاگیا۔‘‘

نومبر2005ء میں جرمنی کے جریدے
Der Spiegel میں یورپ کے ’’پرامن انقلابیوں ‘‘پر ایک مضمون شائع ہواتھا جس میں ایسے انقلابیوں کو ’’گاندھی‘‘اور ’’گویرا‘‘ کے وارث قراردیاگیا۔ یہ ایک شعوری بیہودگی ہے۔ہمیں چے گویراکوایسے لوگوں سے بچانے کیلئے ایک سوسائٹی تشکیل دینی ہو گی جن کا مارکسزم سے طبقاتی جدوجہد اور سوشلسٹ انقلاب سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔اور جو چے گویرا کی ایک انتہائی غلط تصویر کشی کر رہے ہیں اور اسے ایک انقلابی صوفی درویش ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔اسے ایک رومانس پسند مڈل کلاسیا،ایک انارکسسٹ،گاندھی کا ایک امن پسندپیروکار،اور اسی نوعیت کے دوسرے تشخص فراہم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ہمارا اس عظیم اور سچے انقلابی سے وہی رشتہ اور ناطہ ہے جو لینن کا روزالگزمبرگ کے ساتھ تھا۔لینن نے روزا کی مارکسزم بارے غلطیوں پرتنقید میں کبھی کوئی رعایت نہیں کی تھی اور لینن نے ہمیشہ روزا کو ایک سچی انقلابی اور انٹرنیشنلسٹ کے طورپر ہمیشہ عزت واحترام کا درجہ دیا۔ اصلاح پسندوں اور منشویکوں کی طرف سے کئے گئے حملوں کے جواب میں لینن نے روزا کو ان الفاظ میں یادکیا؛

’’ہم یہاں ان لوگوں کو روس کی ایک قدیم کہاوت کے حوالے سے جواب دینا پسند کریں گے جس میں کہاگیا ہے کہ یہ تو ہو سکتاہے کہ بعض اوقات شاہین نیچی پروازکرتے ہوئے مرغیوں کے برابرآجائیں لیکن ایسا نہیں ہوتا کہ مرغیاں پوری کوشش کر کے بھی شاہین کی بلندیوں کو پہنچنے کا تصور بھی کر سکیں۔ اپنی غلطیوں کے باوجود،روزا،ہمارے لئے شاہین کا درجہ رکھتی تھی،ہے اور رہے گی۔نہ صرف یہ کہ دنیا بھر کے کمیونسٹ ا س کی یاد وں سے اپنے آدرشوں کوہمیشہ منور رکھیں گے بلکہ اس کی سوانح عمری اور اس کا لکھا ہوا ہر لفظ دنیابھر میں کمیونسٹوں کی اگلی نسلوں کی بھرپور رہنمائی کرے گا۔4اگست1914سے جرمن سوشل ڈیموکریسی ایک تعفن زدہ لاش بن چکی ہے۔یہی ایک بیان بھی روزاکوعالمی محنت کش تحریک میں شہرت دینے کیلئے کافی ہوگا۔یقینی طورپر عالمی مزدور تحریک کے پچھواڑے میں واقع ڈربے میں سے پال لیوی،شیڈمین،کاٹسکی اور ان جیسے مرغی نما دانشور اس عظیم انقلابی کی غلطیوں پر کیچڑ اچھالتے رہیں گے۔‘‘

منگل، 7 اکتوبر، 2014

فہرست اردو شعراء

شعراء ِہندوستان و پاکستان
ابوالحسن یمین الدین  خسرو   ۔(1253 - 1325)
محمد قلی قطب شاہ ۔( 1565- 1611)
ولی محمد ولی دکنی ۔ (1667۔1707)
سراج الدین خان آرزو ۔ (1687۔1756)
مرزا مظہر جانِ جاناں ۔ (1699۔1781)
مرزا محمد رفیع الدین سودا۔ (1713-1780)
سراج اورنگ آبادی ۔ (1715۔1763)
خواجہ میر درد ۔ (1721-1785)
میر تقی میر ۔ ( 1723-1810)
نذیر اکبر آبادی ۔ ( 1740۔1830)
انشاء اللہ خان انشاء ۔ ( 1756-1817)
بہادر شاہ ظفر ۔ ( 1775۔1862)
امام بخش نسخ ۔ ( 1776-1838)
خواجہ حیدر علی آتش۔ (1778-1846)
محمد ابراہیم خان ذوق - (1789-1854)
مرزا اسد اللہ خان غالب - (1797-1869)
مومن خان مومن - (1801-1852)
مرزا سلامت علی دبیر - ( 1803-1875)
میر ببر علی انیس - (1803-1874)
دیا شنکر کاؤل نسیم ( 1811-1845)
امیر مینائی ۔ (1828-1900)
نواب مرزا خان داغ دہلوی - (1831-1905)
الطاف حسین حالی پانی پتی - (1837-1914)
سید اکبر حسین ، اکبر الہ آبادی - (1846-1921)
آغا عبدالکریم سروش کشمیری - (1917-1975)
نسیم ھاشمی - (1919-1976)
محمد عبدالحئی صدیقی بے خود بدایونی -( 1857-1912)
علامہ شبلی نعمانی - (1857-1914)
مضطر خیر آبادی - ( 1862-1927)
سید غلام بھیک نیرنگ - ( 1875-1952)
سید فضل الحسین ، حسرت موہانی - (1875-1951)
ضمیر حسین خان، دل شاہجہاں پوری ۔ (1875-1959)
علامہ محمد اقبال - ( 1877-1938)
شوکت علی خان ، فانی بدایونی - ( 1879-1941)
عاشق حسین ، سیماب اکبر آبادی - (1882-19519

برِج نارائن چَک بست - (1882-1926)
مولانا نیاز محمد خان نیاز فتح پوری - (1882-1966)
مرزا واجد حسین یاس یگانہ چنگیزی - 1883-1956)
لبھو رام جوش ملسیانی ۔ (1883-1976)
تل وک چند محروم - (1887-1966)
قمر جلالوی - (1887-1968)
علی سکندر جگر مراد آبادی - ( 1890-1960)
محمد صادق راز چاند پوری- (1892-1969)
حکیم احمد شجاع - (1893-1969)
صابر حسین خان جوش ملیح آبادی - (1894-1982)
محمد مصطفیٰ جوہر - (1895-1985)
رگھو پتی سہائے ، فراق گورکھ پوری -(1896-1982)
رام پرشاد بسمل - ( 1897-1927)
احمد بخش ابر احسانوی گناوری - (1897-1973)
پرشاد منور لکھنوی بشیش ور -(1897-1970)

بہزاد لکھنوی - (1900-1974)
محمد حفیظ جالندھری - ( 1900-1982)
منوہر لال کپور ، طالب چکوالی - (1900-1982)
پنڈت ہری چند اختر - (1901-1958)
محمد اسحاق، الم مظفر نگری-(1901-1969)
بِسمل سعیدی -(1901-1977)
ملا آنند نرائن ـ(1901-1997)
ذہین شاہ تاجی - (1902-1978)
سید ساجد ظہیر - (1904-1973)
محمد داؤد خان اختر شیرانی - (1905-1948)
ساغر نظامی - ( 1905-1984)
گوپال مٹل - (1906ـ1993)
لالہ رام رتن پندوراوی-(1907-1998)
مخدوم محی الدین -(1908-1969)
بل مکُنڈ عرش ملسیانی -(10908-1979)
اسرار الحق مجاز -(1909-1955)
سید احمد اللہ قادری ، لِسان الملک -(1909-1985)
نذر محمد راشد ، ن م راشد -(1910-1975)
فیض احمد فیض -(1911-1984)
سید فیض الحسن شاہ -(1911-1984)
اعجاز صدیقی - (1911-1978)
روش صدیقی  روش-(1911-1971)
نشور واحدی -(1911-1981)
میرا جی ـ (1912ـ1949)
شفاء گوالیوریـ(1912ـ1968)
شمیم کرہانی ـ(1913-1975)
مہر لعل سونی ضیاء فتح آبادی -( 1913-1986)
ڈاکٹر رفیق حسین -( 1913-1990)
ساحر ہوشیارپوری -(1913-1994)
علی سردار جعفری - ( 1913-2000)
میر گل خان نصیر -(1914-1983)
احسان دانش -(1914-1982)
جانثار اختر -(1914-1976)
مجید امجد - (1914-1974)

احسان دانش ۔ (1914-1984)
جانثار اختر ۔ (1914-1976)
مجید امجد ۔ ( 1914-1976)
سکندر علی واجد ۔ (1914۔1983)
اختر الاسلام۔ (1915-1996)
احمد ندیم قاسمی ۔(1915۔2006)
ضمیر جعفری ۔ (1916-1999)
شکیل بدایونی ۔ ( 1916-1970)
شان الحق حقی۔ (1917-2005)
رشی پٹیالوی ( بم دیو شرما) ۔ (1917-1999)

جگن ناتھ آزاد ۔ (1918-2004)
کیفی اعظمی ۔(1918۔2002)
مجروح سلطان پوری ۔ (1919-2000)
کمار بارہ بنکوی ۔(1919-1999)
قتیل شفائی ۔ (1919-2001)
مسعود حسن خان ۔ (1919۔2010)
ادا جعفری ( 1924- )
کنور مہندر سنگھ بیدی سحر ( 1920-)
سلام مچھلی شہری  -جون پو ر اتر پردیش ( 1921-1972)
ساحر لدھیانوی ( 1921-1980)
موہن لعل کرشن ( 1922-2004)
وزیر آغا ( 1922-2010)
نازش پرتاب گڑھی (1924-1981)
ناصر کاظمی ( 1925-1972)
جمیل الدین عالی ( 1926 )
حمایت علی شاعر ، اورنگ آباد  ( 1926 )
نارش کمار شاد ، ( 1927-1969)
ابنِ انشاء ( 1927-1978)
نسیم ھاشمی (1919-1976)
ساغر صدیقی (1928-1974)
شبنم رومانی (1928-2009)
راجہ مہدی علی خان (1928-1966)
منیر نیازی ( 1928-2006)
حبیب جالب (1928-1993)
دلاور فگار (1928-1998)
مظہر انعام ( 1928-2012)
واصف علی واصف (1929-1993)
مصطفیٰ زیدی (1930-1970)
ھربنس بھلّا (1930-1970)
احمد فراز (1931-2008)
جون ایلیاء (1931-2003)
ستیا پال آنند (1931)
سید امین اشرف (1931)
ظفر اقبال (1932)
شکیب جلالی (1932-1966)
سید آلِ احمد (1932-1999)
محسن بھوپالی( 1932-2007)
مظفر وارثی (1933-2011)
سید وحید اشرف (1933)
وحید اختر(1934-1996)
سو درشن فاخر (1934-2008)
مرتضیٰ برلاس (1934)
محسن زیدی (1935-2003)
انور مسعود(1935)
آفتاب اقبال شمیم (1936)
اخلاق محمد خان شہریار (1936-2012)
گلزار (سمپورن سنگھ کالرا) -( 1936)
افتخار الحق عنوان چشتی (1936-2012)
ندا فاضلی (1938)
ڈاکٹر نجم الھدیٰ (1938)
مخمور سعیدی (1938-2010)
سید محمود خندمیری (1938-2011)
عبید اللہ علیم (1939-1997)
علامہ طالب جوہری(1939)
محمود شام (1940)
کشور ناھید(1940)
جاذب قریشی (1940)
ریاض احمد گوھر شاھی (1941)
احفاظ الرحمٰن (1942)
اختر رضا خان(1943)
افتخار عارف (1943)
امجد اسلام امجد (1944)
غلام محمد قیصر (1944-1999)
بشیر بدر (1945)
جاوید اختر(1945)
انور زیدی (1946)
افضل احمد سید (1946)
شمیم ھاشمی (1947)
سلیم کوثر (1947)
سید علی اختر شعور (1948-2002)
محمد اظہار الحق (1948)
تنویر پھول (1948)
فہمیدہ ریاض (1948)
راحت اندوری (1950)
زاہد ابرول (1950)
جمال احسانی (1951-1998)
اشفاق حسین (1951)
احسان سہگل (1951)
حیدر قریشی (1952)
پروین شاکر (1952-1994)
کاظم جرالوی (1955)
پیغام آفاقی(1956)
نون مین دانش (1958)
ثمینہ راجہ ( 1961)
خورشید اقبال ( 1962)
رئیس وارثی (1963)
نوشی گیلانی ( 1964)
صبیح رحمانی (1965)
حارث خلیق(1966)
سعید خان (1966)
ادریس آزاد (1969)
فرید پرتابی (1961)
عبید اعظم اعظمی( 1970)
اختر رضا سلیمی (1974)
عرفان نصیر آبادی (1975)
سارم مومن(1978)
ارشاد کامل (1971)
فرھان اختر (1974)
عاصم احمد عباسی (1981)

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔