Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 6 جنوری، 2026

قائدِاعظم اور ایک سنتری


قانون، وقار اور اعتماد کی ایک لازوال مثال

یہ منفرد اور تاریخی تصویر 1948ء کے ایک ایسے واقعے کی یادگار ہے جو قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کے قانون کی بالادستی، عسکری نظم و ضبط اور اخلاقی عظمت کو بے مثال انداز میں اجاگر کرتا ہے۔
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب شہر میں کرفیو نافذ تھا۔ قائدِاعظم کا قافلہ ایک لنک روڈ کے ذریعے سفر کر رہا تھا جو کینٹونمنٹ کے علاقے سے گزرتی تھی۔ یہ راستہ عام طور پر قائدِاعظم استعمال نہیں کیا کرتے تھے، مگر کرفیو کی وجہ سے اسی سڑک سے گزرنا ضروری ہو گیا۔
راستے میں ایک پاک فوج کے سنتری نے قافلے کو روک لیا اور بیرئیر کھولنے سے انکار کر دیا۔ سنتری کو علم تھا کہ گاڑی میں خود بانیٔ پاکستان موجود ہیں، مگر قائد سے بے پناہ محبت اور احترام کے باوجود اس نے ڈیوٹی اور قانون کو فوقیت دی۔
سنتری نے قائدِاعظم کو سلیوٹ کیا اور نہایت ادب سے سوال کیا:۔
  "سر! کیا آپ کے پاس کرفیو کے دوران سفر کی اجازت ہے؟"
یہ سوال سن کر قائدِاعظم لمحہ بھر کے لیے حیران ہوئے، پھر ایک شفیق باپ کی طرح مسکراتے ہوئے فرمایا:۔
 "نہیں بیٹے، میرے پاس اجازت نہیں ہے۔"
یہ جواب سنتے ہی سنتری نے خوش دلی سے قائدِاعظم کو ایک معاہدہ  پیش کیا کہ اگر وہ ان کی یونٹ کا دورہ کرنے پر آمادہ ہو جائیں تو انہیں راستہ دے دیا جائے گا۔
قائدِاعظم نے اس پیشکش کو فوراً قبول کر لیا۔
وہ یونٹ 5 ہیوی اینٹی ایئر کرافٹ رجمنٹ تھی، جو آج 5 لائٹ   (سام) رجمنٹ کے نام سے جانی جاتی ہے۔
فوجی قیادت کی آمد اور قائد کا اصولی فیصلہ

کینٹونمنٹ میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ اعلیٰ فوجی افسران فوراً 5 ہیوی اے ڈی رجمنٹ پہنچے تاکہ قائدِاعظم کو اس "صورتِ حال" سے نکالا جا سکے۔
جب پریشان حال بریگیڈیئر کمانڈر (بریگیڈیئر اکبر) وہاں پہنچے تو انہوں نے مؤدبانہ درخواست کی کہ قائدِاعظم اپنا سفر جاری رکھیں۔
قائدِاعظم نے مسکراتے ہوئے سنتری کی طرف دیکھا اور فرمایا:۔
 "نہیں، ہمارا معاہدہ ہو چکا ہے۔"
یہ الفاظ دراصل اس بات کا اعلان تھے کہ:۔
 پاکستان میں کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں—حتیٰ کہ بانیٔ پاکستان بھی نہیں۔
تاریخی دورہ: ۔ یوں 21 فروری 1948ء کو قائدِاعظم نے 5 ہیوی اینٹی ایئر کرافٹ رجمنٹ کا دورہ کیا۔ اسی موقع پر وہ تاریخی تصویر لی گئی جس میں:۔
دائیں جانب بریگیڈیئر اکبر کھڑے ہیں۔محترمہ فاطمہ جناحؒ بھی موجود ہیں۔رجمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر قائدِاعظم کو اینٹی ایئر کرافٹ گن کے بارے میں بریفنگ دے رہے ہیں۔یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا فوجی یونٹ تھا جسے قائدِاعظم نے باضابطہ طور پر وزٹ کیا۔

ایک منفرد اعزاز اسی منفرد اعزاز کی بنا پر 5 لائٹ SAM رجمنٹ پاکستان آرمی کی وہ واحد یونٹ ہےجس کا ریویو سلام فنگ (Salaam Fung) پوزیشن میں لیا جاتا ہےنہ کہ بازو فنگ (Bazu Fung) میں، جیسا کہ آرمی، نیوی اور ایئر فورس کی دیگر تمام یونٹس میں ہوتا ہےیہ روایت آج بھی اس یونٹ کے لیے قائدِاعظم کی یاد اور اعتماد کی علامت ہے۔


---

ایک زندہ گواہ

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ:

وہ نوجوان کیپٹن (جو بعد میں کرنل بنے)

جنہوں نے ملیر بیس پر قائدِاعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا

اور پریڈ کی قیادت کی

وہ آج بھی حیات ہیں، تقریباً سو برس کی عمر میں، مکمل ہوش و حواس، پورے دانت اور سر پر بالوں کے ساتھ—گویا تاریخ خود سانس لے رہی ہو۔


(بشکریہ: لیفٹیننٹ کرنل (ر) عبدالباسط)

قائد اور فوج: محبت اور اعتماد کا رشتہ

یہ واقعہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ قائدِاعظم ۔پاکستان کے کمانڈر ان چیف تھے۔مگر خود کو ایک قانون پسند شہری سمجھتے تھےاور پاک فوج:۔
نظم و ضبط
آئین کی پاسداری
اور فرض شناسی
کی عملی مثال تھی۔
یہ رشتہ خوف کا نہیں، اعتماد کا تھا
یہ اطاعت اندھی نہیں، اصولی تھی
اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک مضبوط ریاست کھڑی ہوتی ہے۔

---

اختتامی کلمات

یہ محض ایک تصویر نہیں،
یہ ایک نظریہ ہے
یہ ایک ریاستی اصول ہے
اور یہ ایک سبق ہے:

> قانون اگر سنتری کے ہاتھ میں بھی ہو
اور سربراہِ مملکت بھی اس کے سامنے سر جھکا دے
تو وہ قوم کبھی تباہ نہیں ہوتی

یہی قائدِاعظم کا پاکستان تھا—
اور یہی وہ پاکستان ہے جس کی ہمیں آج بھی ضرورت ہے۔٭٭٭٭٭٭٭

سائبر وار فیئر اور موبائل ہولڈر ۔

اُفق کے پار بسنے والے پیارے دوستو !۔ 
کل مؤرخہ 6 جنوری  2026 دن  1100 بجے سگنل کالج میں  سائبر وار فیئر پر راولپنڈی کے سارے ریٹائرڈ آفیسرز کے لئے لیکچر ہوا ۔ جس کی بنیاد باتوں میں سب سے اہم باتیں: ۔
٭۔ آپ کے مائکرو فنانس بنک ،(یعنی ایزی پیشہ ، جاز کیش اور  یو پیسہ اکاونٹ )سے دھوکے کے ذریعے پیسہ ایسے نکلوانا کہ ایف آئی اے سائبر کرائم سیل کے ڈیجیٹل کھوجی بھی کُھرا ڈھونڈنے میں  بےبس ہوجائیں  یا کر دیئے جائیں ۔ پاکستان کے ایک دو نہیں ہزاروں  سے زیادہ واقعات  رپورٹ ہوئے ہیں ۔جن میں راقم بھی شامل ہے 
٭۔بنکوں سے  سمارٹ کارڈ (  ویزہ کارڈ  اور یونیئن پے کارڈ )سے    بھی   فراڈ ہوئے ہیں ۔کیوں کہ آپ کا پن کوڈ کسی دوسرے  کے علم میں آجائے ، یا آپ   خود دے دیں  اوروہ  جدید ٹیکنالوجی آپ کا  سمارٹ کارڈ کاپی کر لے ۔ 
٭-بنکوں سے آن لائن ٹرانزیکشن  کے ذریعے   آپ سے دھوکے سے پیسے منگوائے جائیں ۔ 

جیسے زیر دستخطی کو  لندن کے ایک دوست سے موبائل کال آئی ۔ کہ سر  بریگیڈئر ۔۔۔۔۔ کا موبائل فون چوری ہو گیا ہے  کوئی  میسج دے رہا ہے کہ  ۔ برادر مجھے 5 لاکھ روپوں کو سخت ضرورت ہے ۔میں آپ کو ہفتے تک لوٹا دوں گا۔ایسے میسج  ہر اُس  شخص کو آئے جن کا موبائل فون چوری ہوا   اور  اُس موبائل والے کے دوستوں   نے بھجوائے بھی لیکن یہ سب  غیرملکی مگر  پاکستانی یا پاکستان میں پڑھنے والے غیر ملکی تھے ۔جنھوں نے باقائدہ اپنے بنک اکاونٹ  نمبر بھی دیئے ۔
٭۔ آپ کو یقیناً ڈمب فون یا سمارٹ   فون پر  یہ میسج  ضرورآیا ہوگا  ۔ 
- یہ میسج    ضرور آیا ہو گا کہ ، مبارک ہو آپ کی جدید ماڈل کی کار، آپ کے موبائل نمبر کی سلیکشن کی وجہ سے انعام میں نکل آئی ۔ آپ جواباً اِس نمبر پر کال کریں ۔
۔ آپ کا   ایزی پیسہ کارڈ ۔ ویزہ کارڈ  بلاک ہو گیا ہے میں ۔ آپ کے بنک سے بول رہا ہوں ۔اگر آپ پریشانی  سے بچنا چاہتے ہیں  تو ہمارا  آپریشن مینیجر آپ کو  اپنے موبائل سے فون کرے گا ۔ اگر آپ تیار ہیں  تو   ایک د بایئے  ورنہ  دو ۔   آپ ایک دبائیں یا دو ، آپ کو موبائل فون سے کال آجائے گی ۔ 
یہ وہ فراڈ  ہیں جو رقوم کے فراڈ تھے!۔
لیکن سب سے گھناؤنا فراڈ ِ انہی فراڈ کے ذریعے اکٹھا  کیا گیاڈیٹا۔ یعنی  موبائل نمبروں سے کئے گئے ، فوجیوں کے آپس میں کئے گئے ایس ایم ایس ،  وڈیوز  ، وائس ریکارڈ یہ سب آپ کے انجانے میں دشمن بن کر دشمنوں کو معلومات  پہنچاتے ہیں ۔مشرقی بارڈر پر ایک سے پانچ کلومیٹر تک ڈمب فون سے سے  کی گئی گفتگو  انڈین  اپنے آلات سے سنتے ہیں ، جو نہایت ہی خطرناک ہے 
 لہذا احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ موبائل  کے استعمال  کو کم سے کم اور ضرورت کے وقت  کیا جائے ۔ 

اور اپنے بچوں بھی بتایا جائے کہ وہ موبائل پر فیملی فوٹو ایک دوسرے کو نہ بھجوائیں ۔اگر آپ  یہ سمجھتے ہیں 

کہ موبائل سے فوٹو ڈیلیٹ کرنے سے ڈیلیٹ ہو جاتی ہے ،ہر گز  نہیں  ، وہ موبائل سے آپ کے سامنے سے ہٹ جاتی ہے لیکن موبائل کمپنی اور وٹس ایپ کے سرور (ڈیٹا بنک) میں موجودرہتی  ہے ۔ 

سائبر سیکیورٹی   کلاس پر ہمارے بچوں  کے وائس میسج سنیں اور اپنے بچوں کو بھی سنائیں  ، تاکہ وہ ایک ذمہ دار شہری بن کر ملک کو بیرونی طاقتوں سے محفوظ رکھیں ۔ شکریہ 
٭٭٭٭٭٭

 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔