Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 2 جون، 2014

اپنا بلاگ بنائیےاور بلاگر بنئیے ۔

کیوں کہ،
"  علم حاصل کرو اور علم پھیلاؤ یہی بنیادی مقصد ہونا چاھیئے "
بلاگنگ،  گوگل والوں کی ایک مفت سروس ہے جس کے لئے  جی میل کا اکاؤنٹ ہونا ضروری ہے ۔اگر آپ کے پاس جی میل کا اکاؤنٹ بنا ہوا ہے تب تو صحیح ہے اگر نہیں تو سب سے پہلے آپ  جی میل (gmail) کا اکاؤنٹ بنا لیں ۔  جی میل (gmail) کا اکاؤنٹ بنانے سے آپ کو گوگل کی تمام" پراڈکٹ/  سروس"  تک رسائی ہو جائے گی  ۔  جی میل (gmail) اکاؤنٹ بنانے کے لئے آپ نیچے دئے لنک پر کلک کر کے  ایڈریس پر جائیں۔
جی میل کا اکاؤنٹ بنانے کے بعد آپ نیچے دئے گئے لنک  پر کلک کر کے  بلاگرپر جائیں

اگر آپ جی میل سے" لاگ اِن "  نہیں تو آپ کے پاس یہ صفحہ کھلے گا ۔۔ دیکھیں تصویر ۔Pic-01۔۔ تصویر کو کلک کر کے بڑا کر لیں


اور اگر آپ  گوگل میں"  لاگ اِن " ہیں تو آپ کے پاس یہ پیج کھلے گا ۔۔ دیکھیں تصویر ۔ ۔Pic-02۔۔۔۔ تصویر پرکلک کر کے بڑا کر لیں

بلاگر پروفائل پر کلک کریں تو یہ صفحہ کھلے گا ۔ ۔Pic-03۔۔ اس میں اپنے بلاگ کا نام انگلش میں یا   رومن اردو میں لکھیں ۔


  ‘‘Continue to Blogger‘ کو کلک کرنے سے آپ کے پاس یہ  صفحہ کھلے گا ۔ ۔Pic-04۔۔ 

   ‘‘ نیو بلاگ ‘‘ کو کلک کرنے سے آپ کے پاس یہ  صفحہ کھلے گا ۔ ۔Pic-05۔۔ جس پر آپ نے اپنے بلاگ کا نام اور ایڈریس لکھنا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ جو ایڈریس آپ دیں وہ پہلے سے کسی نے منتخب کیا ہو
لہذا جب یہ لکھا آئے کہ This address is avaiable   ، تو آگے چلیں اور  Create Blog    پر کلک کریں ۔


Create Blogیہ ونڈو آئے  گی۔ ۔Pic-06۔۔ ۔ اب     Create posting ۔   پر کلک کریں 

 یہ ونڈو آئے گی ۔ ۔Pic-07۔۔اس میں آپ اپنے مضمون کی ہیڈنگ دیں گے اور مضمون لکھیں گے ۔
یا فی الحال  تصویر میں دکھائے گئے چاروں  پر ترتیب وار عمل کریں ۔
1- ھیڈنگ لکھیں  - 2 - مضمون لکھیں یا  " ایم ۔ایس۔ ورڈ"  سے کاپی کر کے پیسٹ کریں 3- Save کریں  اور  4 ۔ Close کریں 


آپ نے اپنیDraft  یعنی "  رف "  پوسٹ تیار کر لی ہے ،۔ ۔Pic-08۔۔
اب ہم اردو  کی سیٹنگ کریں گے ، تاکہ ، ہمارا بنیادی ٹائپ اردو ہو ۔سب سے نیچے بائیں طرف  Setting پر کلک کریں ۔
ہم باقی کام اسی ونڈو میں کریں گے ۔
اس  ونڈو  ۔ ۔Pic-09۔۔میں  سب سے نیچے بائیں طرف    Language & Formatting  پر کلک کریں ۔
 یہ ونڈو ۔ ۔Pic-10۔۔آئے گی اس میں اردو آپش لائیں اور محفوظ کریں ۔  

اس  ونڈو ۔ ۔Pic-11۔۔کے مطابق آپ اپنے بلاگ کی ونڈو میں مختلف فارمیٹ استعمال کر سکتے ہیں ۔ لیکن نئے بلاگر ابھی اسے رہنے دیں اور آگے چلیں پہلے اپنے بلاگ پر پہلا مضمون پبلش(شائع)  کر لیں ۔ تاکہ کچھ حوصلہ بڑھے ۔ 


    اب آپ اسی   ونڈو میں     Post   پر  کلک کریں گے تو  ۔ ۔Pic-12۔۔آئے گی ، اگر      TEST   پر  ماؤس لے جائیں گے تو اس کے نیچے تین آپشن روشن ہو جائیں گے  

آپ  Edit   پر کلک کریں گے تو ۔ ۔Pic-05۔۔ والی ونڈو کھل جائے گی ۔

  آب آپ       TEST   ھیڈنگ تبدیل کر دیں اور اپنے مضمون کے مطابق ھیڈنگ دیں ۔   جیسے میں نے یہ  دی ہے ، نیچے مضمون لکھیں ۔ اور  بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ    پڑھ کر اسے پبلش ( شائع ) کر دیں ۔
 
آپ کو مبارک ہو آپ کا پہلا ، مضمون بلاگ پر شائع ہو گیا اور آپ بلاگرز کی دنیا میں قدم رکھ چکے ہیں ۔ آپ کو خوش آمدید -
اب ہے ، معاملہ اسے خوبصورت بنانے کا اور اس کی مشہوری ، بلاگ شائع ہونے کے بعد اب آپ " فیس بک " پر اپنی وال پر اس کا  لنک ڈالیں اور   ENTER  دبا دیں ۔
اب آپ اس گروپ کے ممبر بنئیے اور اس پر اپنا پہلا مضمون ڈالیں ۔  



اپنے بلاگ کو بہتر بنانے کے لئے دوسری قسط کے منتظر رہیں ۔ جب کم از کم 25 افراد ، نئے بلاگر بن کر ، اس مضمون کے کمنٹس میں اپنا لنک دیں گے تو میں ، انشاء اللہ ، بلاگ کو مزید بہتر بنانے کے لئے راہنمائی کروں گا ،
 


 

اتوار، 1 جون، 2014

نو آموز اردو بلاگر

اردو بلاگنگ میں  ہم بہت نئے ہیں ،

"ہماری ویب" پر ہماری بندش کے بعد ہمارے داماد " محمود لودھی " نے مشورہ دیا کہ گوگل بلاگنگ میں اپنا پیج بنا لیں اس نے ہماری مدد کی تو ہم نے 2 اگست 2013 کو اپنا پہلا مضمون ، بلاگ پر   ڈالا ۔

  بھائی مصطفی ملک  کا پیغام ہماری  فیس بک  کی ، " چیٹنگ  ونڈو "  پر  آیا ، میرا بلاگ لائیک کریں-

فوج   میں ہماری  عادت تھی کہ، ہر لیٹی چیز کو چونا کردینے کا حکم دیتے  ، ہر کھڑی چیز کو لازمی  سلیوٹ کرتے  اور  جو بھی خط لکھ رہا ہو ، اپناسلام  لازماً لکھواتے  ۔
چنانچہ  ہم نے نہ صرف  لائیک کیا بلکہ بہت لائیک کیا  ۔ بلکہ ان سے سوال کیا کہ اتنا  خوبصورت بلاگ کیسے بنایا ، انہوں نے کہا کہ ایک دوست کی مہربانی ہے ۔ 

ہم نے اپنے پرانے مضمون ڈالنے شروع کئے ، لیکن ہر  قسم کے لئے مختلف بلاگ بنا لئے ، جن میں  ،

"افق کے پار"
"اردو لٹریچر" 
 کتاب اللہ اور آفاقی سچائیاں"
 مستند اسلامی قصص "
 رنگروٹ سے آفیسر  "
 " يَسَّرْ‌نَا الْقُرْ‌آنَ "

   لیکن ان کا فونٹ  ،     اس طرح     ہوتا تھا ، پھر ایک مہربان  " امین اکبر  (مظفر گڑھ ) "نے بتایا کہ ، اپنا مضمون"   ورڈ" جمیل نوری نستعلیق میں لکھیں ، اور پھر اسے بلاگ میں کاپی پیسٹ کر لیں  ۔ 

چنانچہ ہم نے ان کی تجویز پر عمل کیا اور  یار لوگوں  کا ذہنی دباؤ کم ہوا ، لہذا ہمارے پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہوا  ۔

پھر ، ریاض شاہد   بھائی  سے  ہماری گفتگو ہوئی  ، پہلے فوجیانہ گفتگو ہوئی پھر بلاگانہ ، ان کا بلاگ بھی بہت خوبصورت ہے ، ان سے بھی درخواست کی کہ کسی ،  خضرِ بلاگ کا پتہ دیں کہ جس کی خدمات سے ہم بھی استفادہ کر سکیں ۔ 

ریاض شاہد  نے معلومات دیں ، کہ بلاگرز کا آئیندہ اجتماع ہوگا تو آپ کو بھی مدعو کریں گے ۔ انہوں نے ایک لنک دیا کہ اس میں شامل ہوجائیں ، اور یوں ہم اردو بلاگرز کی دنیا میں داخل ہوگئے  ۔ یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ ساتھ ہماری زندگی کی ہم سفر ہماری رفیقہ ء حیات نہ ہوتیں ، انہیں بھی بلاگ بنا کر دیا ، بلکہ ان کی تمام پرانی تحریریں ،" ہماری ویب" سے ان کے بلاگ  ، " گل نامہ " پر منتقل کیں ۔

پھر خود ہی گوگل بلاگ ، کو خوبصورت بنانا شروع کیا ، فوج کے بچپن میں ، کچھ کمپیوٹر کی زبان سیکھی تھی ، اسے ، تحت الشعور  سے جھاڑ پونچھ کر نکالا ، اور   HTML  خود ہی تبدیلیاں کرنا شروع  کیں۔ جو آپ کےسامنے ہے ۔

19 مارچ 2014  کو ریاض شاہد صاحب نے مشورہ دیا ، کہ آپ اپنی ساری تحریریں اور بیگم کی تحریریں ایک جگہ جمع کردیں ، اس سے آپ کی ریٹنگ بھی اچھی ہو جائے گی اور پڑھنے والوں کی تعداد بھی بڑھ جائے گی ، انہیں استاد محترم مانے ہوئے ان کے مشورے پر عمل کیا ،  بیگم کی تحریں تو شامل نہیں کیں۔

اور یوں ہمارے قارئین  کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ اردو زبان میں ، کمپیوٹر پر ٹائیپنگ کریں اور اپنی تحریروں کو چمکائیں -
 اگلا مضمون : 
 ٭- رومن اردو سے اردو کی طرف ۔ قدم اٹھائیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
  اپنے خیالات دوسروں تک پہنچانے کے لئے اپنا بلاگ بنائیں ۔ 




٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭











انسان کی پہچان !






شناختی کارڈ ہے ۔

بچہ ، ہمیشہ اپنے پاس رکھ ، پولیس والے تنگ نہیں کریں گے -








جمعرات، 29 مئی، 2014

بدنصیب شخص


تیسرا وہ شخص 
جس کے پاس صحت ہو اور پیسہ ہو اور اس کے باوجود     وہ 

" ایک بیوی پر گذارا کر رہا ہو "

'

بدھ، 28 مئی، 2014

ضرورت - چالیس سالہ یا بیس بیس سالہ دو


گذشتہ منگل کی بات ہے کہ  ہماری دواؤں کا سٹاک ختم ہو چکا تھا، ہم   اور بیگم ،محلے کے میڈیکل سٹور سے  دوا لے کر کام چلا رہے تھے ، پنڈی جانے کی ہمت نہ تھی ، کیوں کہ  آپ جانتے ہیں کہ اسلام آباد  میں میٹرو  بس سسٹم ،کے آنے کا غلغلہ ، ہمیں تعمیراتی کام پر کبھی اعتراض نہیں رہا  ، لیکن  سڑکوں کے بند ہونے پر خیال آتا ہے کہ  میڈیا کے اس دور میں کیا ہمارے پلانر  ، عوام کو مطلع نہیں کر سکتے کہ کون سی سڑک کب بند رہے گی  ؟ خیر  جانے دیں ۔

پروگرام بنا کہ پی اے ایف شاہین ، جاتے ہیں وہاں ڈاکٹر سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ سی ایم ایچ  والی  دوائیاں   ہی دے  ۔ کیوں کہ بیگم  کو یہاں کے ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوائیاں سوٹ نہیں کرتیں ۔ خیر ہم وہاں پہنچے  ، ڈاکٹر نے سب سنا اور پنڈی کی دوائیاں دیکھیں ، ان پر اعتراض کیا اور اپنی چھ ماہ پہلے تجویز کردہ دوائیاں ، اگلے تین مہینے کے لئے دہراتے ہوئے ، وٹامن ڈی کا ٹیکہ تجویز کر دیا ۔ جسے پیا بھی جا سکتا ہے اور بازو میں لگایا بھی جاسکتا ہے  ، لیکن ڈاکٹر نے  زور دیا کہ اچھے اثر کے لئے اسے بازو میں لگوائیں ۔ دوائیاں لیں ، بیگم نے ٹیکہ لگوایا اور گھر آگئے ۔

شام کو بیگم سو کر اٹھیں تو حالات نارمل تھے ۔دوسرے دن بدھ کو صبح طبیعت کی خرابی کا ذکرکیا ہم نے کہا ، شاید وٹامن ڈی کےٹیکہ کا اثر ہے اور بخار بھی تھا ، جمعرات کو دیر سے سو کر اٹھیں   کچھ زیادہ ہم پر مہربان ہو گئیں ۔

" میں آپ کو اجازت دیتی ہوں دوسری شادی کر لیں " بیگم نے کہا


" نہیں بھئ ہمارا پروگرام  تیسری اور چوتھی کا بھی ہے  ، کم از کم پاکستان میں  تین ماں باپ کے کندھوں سے لڑکیوں کا بوجھ اترے گا " ۔  ہم نے   جواب دیا ۔

اور سمجھ گئے کہ ہماری  ۔ " فیس بک "  پر بے جا مصروفیت نے انہیں مشکوک کر دیا ہے ۔

" نہیں میں سیریس  ہوں  " انہوں نے کہا ۔

" تو ایسا کرتے ہیں کل جمعہ کا مبارک دن ہے ، کچہری جاتے ہیں  اور سٹامپ پیپر پر اجازت نامہ لکھے دینا " ہم نے بھی  اسی طرح جواب دیا  ،

" میں آپ کو سادہ کاغذ پر لکھ دیتی ہوں " انہوں نے جواب دیا
"    نہ بابا ، آپ نے اپنے اس فیصلے سے رجوع کر لیا تو ہم مارے جائیں گے "  ہم نے جواب دیا ،
اس وقت ، غالبا ہماری جنگ آخری لمحوں پر تھی گھمسان کا رن پڑھ رہا تھا ، بس دو تین کمنٹس کے بعد ، حریف یا تو ہمیں  چت کر دیتا ، یا ہمیں "ان فرینڈ " کر دیتا ۔  بیوی کی اتنی اچھی تجویز سننے کے بعد  لیپ ٹاپ کو ایک طرف کر دیا ، حریف سے یہ طعنہ سننا قبول کر لیا  کہ ہم بھاگ گئے ، اور بیگم سے ان کی حتمی رائے سننے کے لئے ان کی طرف مکمل متوجہ ہوگئے ۔
" جی اب بتائیے ، کہ جال کس لئے پھینکا جا رہا ہے ؟ " ہم نے بیگم سے پوچھا ۔
" آپ صبح سے شام تک  ، لیپ ٹاپ پر دنیا بھر سے رابطہ رکھتے ہیں ، ہنستےہیں ،مسکراتے ہیں، آپ کے چہرے پر ایک رنگ آتا ہے دوسرا جاتا ہے ۔ یہ سب کیا ہے ؟ " بیوی نے ایک ماہر نباض کی طرح پوچھا ۔
"اچھا پھر "   ہم نے پوچھا
" آپ کی اس عادت نے ، کہ آگے چل کر دیکھتے ہیں  ،  ہمیں مروا دیا ۔ نہ یہ عادت ہوتی اور نہ آپ چار گلیاں چھوڑ کے ہماری گلی میں رشتہ ڈالتے  " انہوں نے   ہر ماہ کی طرح ادا کیا جانے والا جملہ ہمیں سنایا  ۔
"بھئی ہماری اس عادت کی وجہ یہ یہ سانحہ نہیں ہوا  ، بلکہ ہماری امی جان مرحومہ کی نگاہ انتخاب نے یہ  ناگا ساکی والا دھماکہ کروایا "۔ہم نے جواب دیا ، اس  پر غضب یہ کہ ہماری ساس ، ہمارے سالے اور سالیوں کے جملہ قرار دادی ووٹ بھی ہمارے حق میں اور آپ کے خلاف پڑے تو اس میں ہمارا کیا قصور ؟  ، ویسی ہم تو راضی نہ تھے " ۔ہمیں معلوم تھا کہ آخری جملے کے بعد  صورت حال کیا ہوگی ۔

قارئین ، اس کے بعد ، فیس بک سے زیادہ گھمسان کا رن پڑا ،   جو ایک سال سے  ہر ماہ پڑ رہا ہے ، یوں کہیں کہ ،بچوں کی شادیوں کے چھ مہینے بعد سے ،شروع ہوا اس سے پہلے تو ہم فالتو آدمی تھی ، کمرے کے ایک کونے میں بے ضرر سے پڑے رہتے تھے ، یہاں تک ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ  گھر میں کون سی چیز کہاں پڑی ہے  ، یہ بیگم کا شعبہ تھا لہذا انہی کا رہنے دیا ، بس ایک حکم ہم نے سختی سے نافذ کیا تھا کہ  ہمارے  گوشہ ء عافیت  کی کوئی چیز نہ ہلائی جائے ، یہاں تک کہ رائیٹنگ ٹیبل ، کتابوں کی الماری اور کمپیوٹر ٹیبل پر پڑی ہوئی کسی چیز کو نہ ہلایا جائے ورنہ  ۔ ۔ ۔ ۔  !

تو جناب ہوا یہ کہ  منگل کی شام ،   ایک کراس چیک  لکھ کر ہم نے اپنی میز پر اچھی خاصے وزن کے نیچے رکھا ، وہ بدھ کی صبح  قریبا گیارہ بجے نہیں ملا تلاش کیا غائب ، گو کہ وہ کراس تھا اس پر  نام بھی لکھا تھا   کوئی اسے نکلوا بھی نہیں سکتا تھا ، ایک تو وہ چیک بک کا آخری چیک تھا اور دوسرا  جن کو ہم نے دینا تھا گذشتہ چار سالوں میں ان کے بینک نے  ہمارے چار چیک ،  جن میں معمولی نہیں بلکہ ، بھیانک غلطیاں تھی وہ ہمارے بینک کو ادائیگی کے لئے بھجوادئیے ، چیکوں کو نہ وصول کرنے والے نے دیکھا اور نہ بینک کے ماہر افراد میں ، اور ہمارے بنک نے " چیک پر دستخط نہیں " کے ریمارکس کے ساتھ واپس بھجوادئیے  اور ہمارا یہ چیک اسی بنک کا تھا ، جن سے یہ چار کوتاہیاں سرزد ہوئیں ، ہمیں خطرہ تھا کہ کہیں بنک   کو اگر یہ چیک کسی اور نے پیش کیا تو بنک نے  چیک ادا کر دیا تو  یوں ہمیں اچھا خاصا نقصان  پہنچنے کا اندیشہ تھا  ۔

ہمارے گھر میں ایک ماسی  صفائی کرنے والی اور ایک ملازم تھا جو اتوار کو آیا تھا  اور ابھی ایمانداری کی پرکھ کے لئے ٹریننگ پر تھا  ۔ ہمارے اٹھنے سے پہلے ، ہماری میز " چمکا " چکا تھا  اور ہم سے ایک نہایت ، فوجیانہ لیکچر سن چکا تھا ۔
خیر ہم نے بنک فون کرکے اس چیک کی سٹاپ پے منٹ کروائی  اور مینیجر کو خصوصی ہدایت کی کہ جو بھی چیک پیش کرے اسے اپنے پاس روک لے اور ہمیں اس نمبر پر فون کرے ،  چونکہ ہمارا خون کافی ابل چکا تھا لہذا ہم ذرا دیر کو بستر پر لیٹے اور آنکھ  لگ گئی  ۔گھنٹے بعد سو کر اٹھے تو بیگم کرسی پر بیٹھی قرآن پڑھ رہی تھیں۔

 ہمیں اٹھتا دیکھ کر بولیں ، "اپنے اور میرے لئے چائے بنوا لیں "۔
ہم نے ملازم کو تلاش کیا وہ گھر میں نہ ملا ، ہم سمجھے کہ شاید نزدیک بازاری میں کچھ لینے گیا ہے  ، واش روم چلے گئے وہاں سے آدھے گھنٹے بعد نکلے تو ،
بیگم نے پوچھا  ،  " چائے کا بتا دیا تھا ؟"
"نہیں ، لڑکا غالباً بازار گیا ہے " ۔ ہم نے جواب دیا
" میں نے تو نہیں بھیجا ، شاید آگیا ہو ، دیکھیں باہر بیٹھا ہو " ۔انہوں نے کہا
ہم نے تمام کمرے دیکھے شاید صفائی کر رہا ہو ، باہر دیکھا وہاں بھی نہیں تھا ،  گھر واپس  داخل ہوتے ہوئے ،ہم نے ممٹی کی سیڑھیوں کی طرف بے ارادہ دیکھا وہاں اس کا ایک پوٹلہ تھا وہ نظر نہیں آیا ۔ بیگم کو رپورٹ دی انہوں نے کہا میں دیکھتی ہوں ، تھوڑی دیر بعدوہ کمرے میں داخل ہوئیں ۔
"میں آپ سے تنگ آچکی ہوں " انہوں نے غصے میں کہا
" کیا ہوا ؟  " ہم نے پوچھا
"ملازم کو ڈانٹنے  کی کیا ضرورت تھی ؟ اپنی چیزیں خود سنبھال کر رکھیں ، ایک تو ملازم نہیں ملتے  ، اگر ملتے بھی ہیں تو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ، یہ بھی  بھاگ گیا ہے ۔ " بیگم نے جواب دیا
" لیکن یہ تو ایماندار تھا ، اس نے پانچ وقت نماز کے وقت مسجد میں نماز پڑھنے کی چھٹی مانگی تھی ، اور پھر سنا ہے کہ اس نے  ، اخلاقیات کے تمام اصول برائے ملازمین تمھیں بتائے تھے اور انٹرویو بھی تمہی نے لیا تھا " ہم نے انہیں یاد کرایا ۔
"اب میں کیا کروں ؟  اس نے تو یہی کہا تھا  " بیگم نے بے بسی سے جواب دیا ۔
"کوئی بات نہیں کوئی اور دیکھ لیتے ہیں " ہم نے جواب دیا ۔
دوسرے دن یعنی جمعرات کو ہم نے بنک فون کیا ، تو معلوم ہوا کہ   بدھ کو ایک بجے کسی نے چیک پیش کیا ، کیشیئر نے اس سے سوالات کئے اور اسے بیٹھنے کے لئے کہا ، اور خود مینیجر کے پاس گیا واپس آیا چیک پیش کرنے والے کوڈھونڈا  تو وہ  ندارد ، بنک والوں نے چیک منسوخ کر کے اپنے پاس رکھ لیا ۔
بیگم سے ان کی گذشتہ پینتیس سالوں کی دکھ بھری داستان سننے کے بعد ، جب وہ پر سکون ہوئیں ، تو ہم نے بتایا ، کہ کسی نے کل میز پر سے غائب ہونے والا چیک کیش کرانے کی کوشش کی ،تو ان کا منہ کھل گیا ،

  " لوگ اتنا دھوکہ دیتے ہیں " بولیں
"  کیا اس کا آپ کوتجربہ نہیں  اور خصوصا ًشادی کے معاملے میں آپ سے کتنا بڑا  دھوکا ہم نے کیا کہ ڈھائی سال منگنی  رہنے کے باوجود ہم نے کس ضبط سے خود کو آپ سے چھپائے رکھا " ہم بولے
ایک چھوٹی سے پانی پت کی جنگ دوبار ہ شروع ہوئی جو بیگم کے آنسوؤں کی وجہ سے ہمارے ہتھیار ڈالنے پر ختم ہوئی ۔ دوپہر کا کھاناکھا کر وہ سو گئیں  اس کے بعد تو انھوں نے اٹھنے سے انکار کر دیا ، شام کو بیٹیاں آئیں تو انہوں نے ماں کی بپتا سننے کے بعد ہمیں آڑھے ہاتھوں لیا ، دوسرے دن  یعنی جمعہ کو بھی ان کی طبیعت خراب ہوئی ، غالباً انہوں نے ، ملازم کی اس حرکت کو زیادہ ہی دل پر لگا لیا ، خیر اس دن ہم نے فریج میں چھوٹے چھوٹے پیالوں میں رکھے ہوئے بچے ہوئے سالن خود بھی ڈبل روٹی سے کھائے اور بیگم کو بھی دوائیوں کے ساتھ دئیے ، شام کو بیٹی نے انہیں کھانا کھلایا
  ہفتے کو صبح ساڑھے آٹھ بجے ہم سوئے تھے کہ ہمیں ، "نعیم ،نعیم " کی آوزیں آئیں اٹھ کر چاروں طرف دیکھا ، کوئی نہیں  بستر سے اٹھے تو دیکھا کہ ، پائینی کے پاس نیچے بیگم لیٹی ہوئی تھیں ، پریشان ہو کر انہیں اٹھایا ،
پوچھا ، "کیا ہوا  "۔
کہنے لگیں ، "  چکر آیا اور  گر گئی ہوں " 
ہم نے  انہیں  بستر پر بٹھایا اور کہا، "  یہاں بیٹھی رہو ، میں ابھی  منہ دھو کر آتا ہوں ، ہم فوراً ہسپتال جاتے ہیں  "

  تھوڑی دیر میں چھوٹی بیٹی آگئی ، اس نے بلڈ پریشر اور شوگر چیک کرنے کا کہا ، دونوں چیک کئے نارمل تھے ، سیڑھیوں سے اترے تو ، ایبٹ آباد سے بیٹا ارمغان ،اس کی بیوی  عائشہ اور ہماری  تین ماہ کی پوتی انابیہ ، بھی پہنچ گئے ، ماں کا سن کر وہ بھی پریشان ہوگیا ، خیر بیٹی اور بہو کو کہا کہ وہ گھر میں انتظار کرے ، ہم ہسپتال جاتے  ہیں اور انہیں صورت حال سے باخبر رکھتے ہیں ، میں اور بیٹا انہیں لے کر شاہین کمپلیکس گئے ،وہاں ڈاکٹر نے معائینہ کیا اور گلوکوز لگا دیا ،  بیٹے کے ساس اور سسر ( کرنل مشتاق )بھی آگئے ۔ شام کو ہم بیگم کو واپس گھر لے آئے اب صورتِ حال یہ کہ ان کی یاداشت  سے جمعرات سے آج یعنی بدھ تک کا ڈاٹا ، واش ہو گیا ۔
 
آج عشاء  کے بعد ہم واک کرنے نکلے تو  پوچھنے لگیں ، "  مجھےعائشہ ( بہو )نے اور عروضہ (بیٹی) نے  دوپہر کو جو باتیں بتائیں مجھے  بالکل یاد نہیں ، کہ کون آیا کون گیا ، کیا کھایا ؟"
 میں نے کہا ،"تمھیں یہ بھی یاد نہیں کہ تم نے کچہری جا کر ، مجھے سٹامپ پیپر پر اجازت دی ہے ، کہ میں تین شادیاں کر سکتا ہوں ، "
یہ سننا تھا  ۔ کہ وہ پریشان ہوگئیں ، "نہیں آپ مذاق کر رہے ہیں"
" میں نے کہا یاد کرو ، ذہن پر زور ڈالو ، میں گھر جاکر تمھیں اجازت نامے کی فوٹو کاپی دکھا دوں گا"
"اصلی کہاں ہے "، انہوں نے  یک دم پوچھا ،

 میں نے کہا ،"وہ محفوظ ہے اس کی فکر نہ کرو "

خیر جناب ان کی یاداشت کا کچھ حصہ واک کے دوران گھر ، پہنچے پہنچتے یاد آگیا ،

بولیں ، " مجھے یاد آگیا، کہ بدھ کے دن ملازم پر آپ کے ناراض ہونے کی وجہ سے ، میں نے جمعرات کو  غصے میں کہا تھا ، اب مجھ سے گھر کا کام نہیں ہوتا "

دل تو ہمار ا بہت چاہاکہ چٹکلہ چھوڑیں  کہ ،

بیگم  ملازم تو ملازم ہوتا ہے ، کوئی  چالیس افغانی  خاتون تمھاری مدد گار لے آتا ہوں ، اگر چالیس سالہ دستیاب نہ ہوئی تو بیس بیس کی دو سے بھی کام چل جائے گا ،  

لیکن یہ چٹکلہ کبھی کے لئے ہم نے چھپا دیا اور ہنس کر چپ ہوگئے ،
 

 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔