آج ایک دلچسپ مضمون پڑھنے کو ملا ، آپ بھی پڑھئیے ، لیکن اِ س پرایک ہیڈنگ
ہم نے بھی لگائی ہے ۔
جس کے لئے ہم محمد امجد
چوہدری سے معذرت خواہ ہیں:

یہ مضمون لگانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم ، کالم نگار کی رائے سے متفق نہیں اور اِس کے لئے ہمارے پاس ٹھوس دلائل ہیں ،
ہمارے خیال میں تعلیم کا تعلق ، ڈگری سے نہیں ہوتا ۔اگر ایسا ہوتا تو انسان کبھی ڈگری کے بغیر ترقی نہ کرتا اور نہ ہی ہم ، اپنی گاڑیاں ، بجلی کی گھریلو اَشیاء لے کر اَن پڑھ مستریوں کے پاس نہ جاتے ، معذرت ہمارے نزدیک مستری اَن پڑھ نہیں ہوتا وہ ہم سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ ہوتا ہے ، بلکہ اُستاد ہوتا ہے اور کئی شاگرد اُس سے تعلیم حاصل کرکے اپنا رزق کما رہے ہوتے ہیں ۔
میری ماں پانچویں کلاس
پاس تھی لیکن وہ ہم سے آٹھویں کلاس کے معاشرتی علوم ، دینیات ، اردو اور دیگر مضامین
کا امتحان لیتی ، کیوں کہ بڑی بہن سبق سنتے سنتے ، انہیں یہ سبق یاد ہوگئے تھے
۔
میٹرک کے بعد ہم تلاشِ روزگار کے ابن بطوطہ بن کر روزگار نوردی کے لئے نکل پڑے تھے ، پھر ہمیں معلوم ہوا ، کہ تعلیم تو آگے بڑھنے کے لئے نہایت ضروری ہےتو ہم نے روزگار کے ساتھ تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی- ایک دفعہ چھٹیوں پر گھر آئے تو والدہ محترمہ ، چھوٹی بہن سے اس کے ایف ایس سی کے اردو کے مضامین کا زبانیی امتحان لے رہی تھیں اور درمیان میں ٹوک بھی دیتیں ،
ہم نے حیران ہو کر پوچھا ، " امی ، آپ اگر زبانی امتحان دیں تو بہتری نمبر لیں "
وہ بولیں، " ہاں اگر سارا امتحان اردو میں ہو ،تم سب کی پڑھائی سن سن کر میں بھی تعلیم یافتہ ہو چکی ہوں "
اور قارئین یہ حقیقت ہے ، ہمارے کتنے ہم عصروں کی والدائیں ، کم تعلیم یافتہ یا اَن پڑھ تھیں ، لیکن جن ماؤں نے اَپنے بچوں کے ساتھ تعلیم ، امتحان کے دنوں میں اُن سے سن سن کر کی ، اُن کے سب بچے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوئے ، اور وہ مائیں ڈگریوں کے بغیر تھیں ، مگر تعلیم یافتہ تھیں ، اگر بچے کے ذہن کو وسیع کرنا ہو تو اُس سے اُس کا سبق سنیں ، تو بچے کے ذہن کا "میموری ماڈیول " Expend ہوگا ، اُ س دماغ میں Ram Dive جنریٹ ہو گی ۔
محمد امجد
چوہدری: بھائییہ سزا نہیں اُس بچی کے لئے ایک تربیتی کلاس ہے ، مجھے امید ہے کہ یہ
بچی اب خود میٹرک پاس کرے گی ۔ کیوں کہ جزا،سزا اور انعام دونوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔
اب
رہی بات ، سیاست دانوں کی ، آپ اَن پڑھوں سے ووٹوں کا حق لے لیں ، کیوں کہ اَن پڑھوں
کے لیڈر بھی اَن پڑھ ہی ہوتے ہیں ۔
پاکستان میں تعلیم کی رفتار اگر تیز کرنی ہے تو قومی زبان میں تعلیم دیں انگریزی ختم کر دیں ، صرف تین سالوں میں آپ کے میٹرک کا ڈراپ آؤٹ ختم ہوجائے گا ۔سو فیصد بچے، 40 فیصد سے اوپر نمبر لے کر بورڈ کا امتحان پاس کریں گے - پھر آپ کے آئیندہ کے سیاسد دانوں کو جعلی سند کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ۔