Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 9 دسمبر، 2014

ممات و حیات


 حیات  کو آپ کسی معنوں ، مفہوم یا تصور میں لیں ، "موت" اس کا مخالف عمل ہے ۔ 

انسان کو جب حیات ملتی ہے ، تو اُس کی موت بھی ہوتی ہے ۔

انسان کو اپنے اچھے عمل کی وجہ سے جو حیات ملتی ہے اور برے اعمال سے اُسی حیات کی موت ہوتی ہے۔

قوموں کو آفاقی سچائیوں پر عمل اور افعال کرنے سے جو حیات ملتی ہے ۔ انہیں آفاقی سچائیوں پر عمل اور افعال نہ کرنے سے اُن کی موت واقع ہوجاتی ہے ۔

اسے کائینات کے خالق نے اِس طرح سمجھایا ہے

ایک بیج کو جب زمین میں ڈالا جاتا ہے ، تو وہ حیات کے عمل سے گذرتا ہوا ایک پودے کی شکل اختیار کرتا ہے اور جب وہ اپنی اجل مسمیٰ پوری کرتا ہے تو وہ پودا یا درخت موت کی طرف سفر کرتا ہے ، اور وادیء موت میں چلا جاتا ہے ، لیکن اُس کے بیج حالت نوم میں ہوتے ہیں ، جن بیجوں کو اللہ نے واپس بھیجنے کا ارادہ کیا ہوتا ہے وہ واپس ، نوم سے حیات میں آتے ہیں ۔

اور جن بیجوں کو دوبارہ حیات نہیں ملنی ، وہ انسان اور جانوروں ، حشرات الارض ، پرندوں ، جل کر حیات و ممات کے چکر سے نکل جاتا ہے  
بشر کی حیات اور ممات ، بشری زندگی سے منسلک ہے ، اور بشر کے خالق کے مطابق ، اُس ممات کے بعد بھی اُس کے دوبارہ حیات کا 
پروگرام ملیامیٹ نہیں ہوتا ، خواہ وہ آگ میں جل جائے یا فضا میں پھٹ کر بکھر جائے ۔

پیر، 8 دسمبر، 2014

مہمان اور قادری میزبان

بار بار فرماتے ہیں ،کہ "نہیں میں واپس جانے کا فیصلہ کر چکا ہوں ۔ ۔۔ ۔ ، مجھے  بڑا دکھ دیا ہے ، اِنہیں نے "

یہ اصرار کے ساتھ فرما رہے ہیں ،
اور میں روتا جارہا ہوں ، روتا جا رہا ہوں ، قدم میں نے پکڑے ہوئے ہیں ۔
کہتا ہوں حضور نہیں جانے دیں گے ۔
حضور نہیں جانے دیں گے ۔
حضور آپ کرم فرمائیں ، نظر ثانی فرمائیں
بڑی دیر رونے اور التجا کرنے کے بعد
آقا کی طبیعت مقدسہ میں کچھ قرار آتاہے ، شفقت آتی ہے ،   غصہ مبارک تھوڑا ٹھنڈا ہو جاتا ہے

اور فرماتے ہیں ۔

" طاہر !  اگر مزید پاکستان میں تم مجھے ٹہرانا چاہتے ہو تو  صرف ایک شرط ،
" مجھے پاکستان میں مزید ٹہرانا چاہتے ہو،  ۔ ۔ ۔   تو   ،  ۔ ۔ ۔ ۔  تو  صرف ایک شرط !"
" تم اُس شرط کے پورا کرنے کا وعدہ کر لو ،  ۔ ۔  میں وعدہ کرتا ہوں  !

میں نے عرض کیا حضور ۔۔ وہ شرط کیا ہے؟   ۔۔۔۔  وہ شرط کیا ہے ؟
جو کچھ ہو سکا " ہم" کریں گے ۔ 

آپ فرماتے ہیں ،

" طاہر اگر چاہتے ہوووو۔۔ کہ میں ۔ پاکستان میں رُک جاؤں ۔
تو شرط صرف یہ ہے ، کہ میرے  میزبان تم بن جاؤ ،
۔ ۔ ۔  میرے  میزبان تم بن جاؤ ۔۔ "

رُکتا ہوں یہاں ،  ۔ ۔ ۔  بیان کرتا ہوں ۔  مجھے انکار نہیں ،  بڑی سعادت ہے ۔ ۔  مگر میں اِس قابل کہاں ؟
میں تو بڑا کمزور اور ناتواں آدمی ہوں ،،   حضور میں آپ کی میز بانی کیسے کر سکوں گا ؟
مجھ سے کیسے میزبانی ہو گی ؟ 

فرماتے ہیں ۔
"بس شرط ایک ہے ،  تم مجھ سے وعدہ کر لو ۔۔ ۔ مجھ سے وعدہ کر لو ۔ میری میزبانی کا ۔  تم وعدہ کر لو ۔  پھر میں رُکنے کا وعدہ   کر لیتا ہوں "

میں رو رو کر ہاتھ جوڑتا ہوں ۔ ۔ ۔ ،   ہاتھ جوڑتا ہوں۔ ۔ ۔  ،  حضور میں نے آپ سے وعدہ کر لیا ۔ ۔ ۔ ۔ ، میں میزبان بنتا ہوں حضور کا ،  فرماتے ہیں ،
" طاہر تونے وعدہ کیا ،   تو میں بھی وعدہ کرتا ہوں کہ رُک جاتا ہوں ۔۔۔۔ "

اور فرمایا  
"میں مزید ،  سات دن اپنا قیام   ، پاکستان میں تمھارے کہنے پر  کر لیتا ہوں ، ۔ ۔ ۔ ۔  سات دن مزید رہوں گا ۔ ۔ ۔ "

کتنا  ؟۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔   فرمایا ، 
" مزید سات دن یہاں رہنے کا وعدہ کر لیتا ہوں ،"

اب میں کچھ نہیں کہہ سکتا ،  سات دن سے مراد کیا ہے ؟
یہ کتنی مدت ہے ؟ ۔ ۔ ۔   یہ وہی جانتے ہیں ، اِس کی تفصیل  مجھے معلوم نہیں  ۔
سات دنوں سے مراد کتنی مدت ہے ؟ فرمایا ،
"سات دن میں رُکتا ہوں ،  تمھاری میزبانی ۔ ۔ ۔ "
میں نے کہا مجھے منظور ، اب یہ کیسے ہوگا سب کچھ ، فرمایا ،
" تم عہد کر لو ،  سب یہ انتظام ہوجائے گا ،  ۔ ۔ ۔ ۔۔  سب انتظام ہو جائے گا " ۔ ۔ ۔ ۔

پھر مجھ سے فرماتے ہیں کہ ، 
" ایک وعدہ اور مجھ سے کرو  ،  ۔ ۔ ۔ ۔ میرا ٹہرنے کا انتظام بھی تم نے کرنا ہوگا ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔   میرے کھانے پینے کا انتظام بھی تمھارے سپرد ہوگا ۔ ۔  پاکستان میں کہیں آؤں گا،  جاؤں گا ، ۔۔۔۔۔۔وہ  ٹکٹ اور انتظام اور آمد و رفت بھی تمھارے ذمے ، سپرد ہو گی ، ۔ ۔ ۔ ۔  اور  واپس جب مدینہ جانا ہوگا تو  مدینے تک کا ٹکٹ تم لے کر دو گے ،   ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سارا انتظام تمھارے سپرد ہو گا ۔۔ ۔ ۔ ۔  یہ وعدہ کر لو  ۔ ۔ ۔۔ ۔  ، "
میں نے
(ہاتھ جوڑتے ہوئے ) عرض کیا حضور یہ سارا وعدہ ہو گیا  ۔

  فرماتے ہیں ،
: پھر میرا وعدہ ہے کہ میں سات دن یہاں رک جاتا ہوں ، "
اور پھر آقا نے فرمایا ،
" تم اپنا ادارہ ، منہاج القرآن بناؤ ۔۔۔۔۔میں تم  سے وعدہ کرتا ہوں میں تمھارے ادارے میں آؤں گا ۔ "

( آہ و بکا کا شور بلند ہوتا ہے اور کافی دیر رہتا ہے )

حاضرین ، اب آپ خود ہی فیصلہ کر سکتے ہیں ، کہ جو شخص اِس طرح کا وعدہ کر چکا ہو ، اُسے سفر تنہائی  کیوں نہ کرنا پڑے وہ کیسے کر سکتا ہے ؟ میرا تو ایمان جاتا ہے ، ۔ ۔  ایمان کا مسئلہ ہے ،  اور یہ جو کچھ پاکستان میں ہو گیا ہے دین کے ساتھ ، یہ کیا ؟ ۔ ۔ ۔ ۔
 سب  اس اَمر کی طرف اشارہ نہیں سمجھتے ؟ سب اہل پاکستان ۔ ۔ ۔ ۔  سب کچھ آقا نے فرمایا ۔ ۔ ۔ اللہ نے مجھے موقع دیا ہے ۔

دوستو ! مبارک ہو آپ کو ،  (خیر مبارک کی آواز بلند ہوتی ہے )

کہ اِن سب کے اِس   کے بعد، میزبانی حضور نے آپ کے سپرد کی تھی ،
منہاج القرآن کے سپرد کی ہے
 میزبانی اور وعدہ لیا ہے آپ کی طرف سے وعدہ لیا ہے ، کہ میزبانی ، ۔ ۔ ۔ ۔ایام آگئے میزبانی ۔ ۔ ۔کیا اسلام کا نفاذ ، مراد نہیں ہے ؟ ۔۔۔ یا اِس  سے مراد اسلام کا نفاذ نہیں ہے ؟ اسلامی انقلاب نہیں ہے ؟ 

یا اِس کے علاوہ کچھ ،۔۔۔۔ اس لئے دوستو  ، ہم اپنا تن من دھن اسلامی انقلاب کے لئے نہیں لُٹاتے تو ہمارا ایمان جاتا ہے  ،
 (رونا مچتا ہے )
سب کچھ لُٹا دینا ہے ۔   میں تو آقا سے وعدہ کر چکا ہوں آپ وعدہ کرتے ہیں ؟
(رونا مچتا ہے )
دوستو ! یہ سات دن کا اشارہ ،  اِس کا مفہوم واضح طور پر تو ، ۔ ۔ ۔ ۔  میں نہیں کہ سکتا کہ اس سے مراد کتنی مدت ہے ؟

مگر یہ قیام مشروط ہے ۔  یہ قیام مشروط فرمایا ہے سات دنوں سے ،  چاہیں تو بڑھا دیں چاھیں گھٹا دیں ۔  کیا معلوم میزبانی بھی پسند آئے نہ آئے ۔
ڈر لگتا ہے کہ  اتنا اونچا مہمان ہے کہیں ناراض نہ ہو جائے ۔

یہ مشروط وعدہ ہے ،  اِس لئے ہم طویل وقت  (رقم آنے  ) کے انتظار کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔  

کہیں ایسا نہ ہو کہ اِس کرم سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں ۔ - - - -کرم سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں ،
 پھر منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے ۔ اب ہمیں اُٹھ کھڑا ہونا چاھئیے ۔ اُٹھ کھڑا ہونا چاھئیے ۔   اسلامی انقلاب لانے کے لئے ۔  باطل ، طاغوتی اور مفاد پرست منافق قوتوں کے خلاف ، سینہ سپر ہو جانے کے لئے ۔ سیاسی انقلاب کےلئے اُٹھ کھڑا ہونا چاھئیے ۔  


اس کے بعد ، عورتوں نے میزبانی میں فرق نہ آئے ، اپنے زیورات اتار کر دئے مردوں نے پرس سے نوٹوں کی بارش اور چیکوں کی بارش کر دی ۔
اور قادری صاحب، اس دولت کی یاد پر کینڈا کی شہرت لینے کے قابل ہو گئے ۔
 

اللہ کے پانی کے خزانے



جب جنوری  2010 میں  ایک بڑی لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے  ، دریائے ہنزہ  کا راستہ  بند ہوگیا تو  ، شاہراہِ ریشم ڈوب جانے سے  پوری حکومت پریشان گئی ، رائے دی گئی کہ  کھدائی کر کے پانی کا راستہ بنایا جائے ۔
فوج نے  انجنئیر فورس کے ذہین آفیسروں  کو  ٹاسک دیا کہ راستہ بنایا جائے ، اِس کم عقل مہاجر زادہ نے رائے دی ،
" پاکستانیوں پر اللہ کا بہت بڑا احسان کیا ہے کہ اُس نے ایک بہت بڑا پیالہ (السقایہ ) ، جھیل کی صورت میں عطا کیا ہے ، ناشکری نہ کی جائے اور سڑک کو دوبارہ اوپر کرکے بنالیا جائے ؟، اللہ ایسا احسان ناشکرگذار  قوموں پر کرتا ہے تاکہ وہ شکرگذار بنیں " 
لیکن فوج نے کوششیں جاری رکھیں اور دومہینے کی مدت کے بعد  ، بلاسٹ لگا کر قوم کو خوشخبری سنائی ، کی دریا کا راستہ کھل جائے گا اور پانی سڑک سے نیچے ، آجائے گا ۔
لیکن ایسا نہ ہوا  ، شاہرہ ریشم یاسی  ای پی  سی دوبارہ بنانا پڑی  !
اب عطا آباد کی خوبصورت جھیل   نہ صرف پانی کا ذخیرہ  بلکہ ایک خوبصورت تفریحی مقام بن چکا ہے ۔

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تحریک - فوراً انصاف دیا جائے ۔

غالباً بہت دنوں  پہلے کا قصہ ہے  ، ایک بادشاہ تھا یا راجہ لیکن تھا بہت انصاف پسند ، اُس نے بھی ایک ایسی  تحریک کی بنیاد ڈالی تھی اور 
اُس کا قول تھا،"انصاف فوراً "

تو جناب ایک نوجوان ، جس کا کام ہی آوارہ گردی تھا ، وہ گردی کرتا کرتا ، اس ریاست میں جا پہنچا،  اُس نے   گاؤں کے باہر ایک  دھرنا دیکھا  ، بہت سارے مرد و خواتین و بچے اور بچیاں  بیٹھے تھے ، ایک اونچی جگہ پر ایک شخص  کھڑا ، بادشاہ کے انصاف  کا بیان کر رہا تھا ۔ اُس کے منہ سے جھاگ اُڑ رہی تھی ، آدھے گھنٹےکے بعد   ، ایک بڑھیا چلائی ،
" لیکن کوتوال صاحب ہمارا کیا ہوگا ؟"
" ہمارا ہونے والا داماد،  تو شادی کے منڈپ سے بھاگ گیا " ایک بوڑھا چلایا ۔
"انصاف ضرور ہو گا ، "کوتوال چلایا
تمام دھرنے والوں نے نعرہ لگایا ،

 " انصاف ضرور ہو گا ، "
کوتوال کی نظر ، آوارہ گرد نوجوان پر پڑی ، وہ چلایا ، " اس نوجوان کو میرے پاس لاؤ"
لوگ آوارہ گرد  نوجوان کو پکڑ کر کوتوال کے پاس لے گئے ۔
کوتوال نے  ، آوارہ گرد نوجوان کو گدّی  پکڑا اور چلایا ،

 " یہ ہے تمھارا داماد ، انصاف ضرور ہو گا ، "
اور جناب ،  اُس آوارہ گرد نوجوان کی بھاگنے سے پہلے ہی شادی کر دی گئی ،  نوجوان بڑا خوش ، خوبصورت بیوی ، مالدار سسر ، نوجوان کے پاؤں تیل کے ڈبے میں اور سر کڑھائی میں ۔

کوئی چار پانچ ماہ  بعد اُسے  اپنی ماں اور  وطن کی یاد آئی ، اُس نے سسر  اور بیوی سے وطن جانے کی اجازت مانگی، بیوی نے اپنی ماں یعنی ملکہ کو بتا دیا تھا  ، کہ وہ اُمید سے ہے ، ملکہ نے یہ بات بادشاہ کو بتادی  چنانچہ نوجوان کو اپنی ماں سے ملنے کے لئے وطن جانے کی اجازت مل گئی اور  وہ نوجوان ِ آوارہ گرد  ، زادِ راہ لے کر   ، جانبِ وطن عازمِ سفر ہوا۔
 آوارہ گرد نوجوان،  جب وطن پہنچا ماں باپ اور رشتہ داروں نے بلائیں لیں  اور اپنے استاد سے ملنے  اُس کے ٹھکانے پر  پہنچا ۔

استاد بیٹھا  اپنے کھانے کا انتظام کر رہا تھا ،    شاگر کو اپنے استاد پر بڑا ترس آیا ۔اُس نے استادکی  ہانڈی پکانے میں مدد کی ، انگیٹھی میں پھونک مار مار کر اُس کی آنکھوں سے پانی نکلنے لگا ، خیر اپنے ریشمی رومال  انکھیں صاف کیں ،  کھانے کے بعد قیلولہ کرنے بیٹھے ۔تو استاد نے   شاگرد سے اُس کا حال پوچھا ،
شاگرد  گویا ہوا !
استاد جی..یہاں سے مشرق میں دس دن کی مسافت پر دریا کے کنارے ایک دیس ہے ، میں اسی دیس سے آرہا ہوں. وہاں ہر چیز صرف ایک  پیسے  میں ملتی ہے ۔ 

بلکہ وہاں کسی نوجوان کو کنوارانہیں رہے دیا جاتا ،  جوں ہی بالغ ہوا ، جس لڑکی کو دیکھ کر سیٹی ماری اُسی سے اُس کی شادی کر دی جاتی ہے ۔ وہاں کی لڑکیاں بہت خوبصورت ہوتی ہیں ، ہمارے ہاں کی طرح نہیں ، بلکہ  نہانے کے بعد بھی ویسی کی ویسی ہی رہتی ہیں ،
 بادشاہ کے حکم سے وہاں  ہر مال   دکانداروں  ایک پیسے   میں بیچتے ہیں ۔روٹی ایک پیسے  میں، ہر قسم  قسم کی سبزی ایک پیسہ کلو ، ہر قسم کا پھل ایک پیسے کا کلو ،گوشت ایک پیسے  میں، کپڑا  ایک پیسے گز میں۔اور انصاف  تو  وہاں ہاتھ کے ہاتھ کھلے عام مل جاتا ہے ۔
   استاد  کا دل لچایا لیکن ، پھر شاگرد سے بولا ،

" چلو کھنا تو شاید سستا ملتا ہو  لیکن ، یہ ممکن ہی نہیں ، ایسا ہو نہیں سکتا ، یہ کیسی ریاست ہے جہاں ،  انصاف اتنا سستا ہو ؟ "
خیر سے چونکہ شاگرد  اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ، بلکہ بھگت کر آرہا تھا ۔   لہذا  شاگرد کے اصرار   پر وہ دونوں اس دیس کے لئے روانہ ہوئے ، منزلوں پر منزلیں مارتے وہ دس دن بعد   ریاست میں پہنچے او ر بازار سے گذرے  ، 
ہر جگہ سے آواز آرہی  تھی ایک ایک پیسہ ، ایک ایک پیسہ ، ہر مال ایک ایک  پیسہ میں لے لو ۔
دونوں ایک سرائے میں داخل ہوئے..خادم سے پوچها کہ کچھ کهانے کو مل سکتا ہے؟؟
خادم نے کہا،"حضرت جو چاہیں ملے گا..پلاؤ، بریانی کوفتہ ، قیمہ ، سبزی ، دال ، مرغ ایک پیسے میں"۔
تو حضرات ، استاد نے وہیں ڈیرے ڈال دیئے ، کہاں اپنا وطن اور کہاں یہ دیس   !
  شاگرد اجازت لے کر اپنی بیوی  کے ہاں چلا گیا اور استاد صاحب ، نے ایک ایک پیسے  میں  موجیں اڑانا شروع کر دیں ۔

 دیکھتے ہی دیکھتے ، مرنجان مرنج استاد کی توند نکلنا شروع ہوگئی ، وہ حیران تھا ، کہ اس دیس کے لوگ اتنے دبلے پتلے کیوں ہیں؟
اُس نے سوچا کہ شاگرد آئے گا تو اُس سے ضرور پوچھے گا ۔ 
ایک دن کی بات ہے کہ استاد ، ایک پیسے میں حلق تک ٹھونس کر قیلولہ کر رہا تھا ، کہ شور مچا ، اُس نے گردن گھما کر دیکھا تو ، تو کوتوال  کےسرکاری گماشتے   ہر کمرے کی تلاشی لے رہا تھا ، پھر انہوں نے استاد کا رُخ کیا  ،
ایک سپاہی   جو عمر والا تھا چلایا ، " اسے دیکھو " ، سپاہی لپکے او راستاد  کو پکڑ کر لے گئے ۔
کوتوال نے دیکھا اور نعرہ مارا  " انصاف ضرور ہو گا ، " اسے لے چلو-
استاد کو کوتوال کے حضور پیش کیا گیا ۔  
کوتوال نے پوچها؟ "کیا یہی مجرم ہے؟"
سپاهی نے کہا ، " جناب  کوتوال صاحب یہی مجرم ہے "
کوتوال نے کہا، " تمھیں  کیسے پتہ کہ یہ مجرم ہے؟"
سپاہی نے کہا، " حضور ایک تو  یہ یہاں  کا نہیں  اور پهر اس کی گردن بهی موٹی  ہے "
کوتوال نے کہا، "شاباش!لے چلو،  انصاف ضرور ہو گا ، "
استاد حیران تها کہ ماجرا کیا  ہے ، پوچھنے کی کوشش کی لیکن کسی نے بولنے نہیں دیا، صرف کوتوال نے کہا،  فکر نہ کرو"۔ انصاف ضرور ہو گا ، "
استاد کو کال کوٹھڑی  میں بند کر دیا گیا، استاد حیران بهی تها اور پریشان بهی لیکن  کچھ سمجھ نہیں پا رہا  تها
دربان سے پوچها،  "میں  اِس شہر میں اجنبی ہوں ،مجهے کس جرم میں لایا گیا  ہے؟؟؟ "

دربان نے کہا، " ہمیں بات کرنے کی اجازت نہیں  ہے ، صرف اتنا جان لو کہ بادشاه سلامت کا حکم  ہے ، "انصاف ضرور ہو گا ، "
رات کو ایک بوڑها خادم کهانا دینے آیا۔
لیکن استاد کا جی بالکل کهانے کو نہیں چاه رہا تها،خادم استاد کی پریشانی سمجھ گیا، 
پوچها، " اجنبی ہو ؟  "استاد نے اثبات میں سر ہلا دیا
خادم نے کہا ،"کهانا کها لو، انصاف ضرور ہو گا ، بادشاه سلامت کا حکم ہے ، انصاف ضرور ہو گا ، "
استاد نے قدرے ترشی سے پوچها، "لیکن کس چیز کا انصاف؟"
خادم نے آس پاس دیکھ  کر کھسکتا ہوا ۔  استاد کے قریب  ہوا اور بولا ،
" پچهلے مہینے ایک دیوار گر گئی جس سے ایک راه چلتا مسافر مر گیا،تمہیں اسی جرم میں پکڑ کے لائے ہیں،چونکہ بادشاه سلامت کا حکم ہے کہ انصاف ضرور ہو گا ، "..
استاد نے پوچها، 
"لیکن میرا دیوار کے گرنے سے کیا تعلق ہے؟ میں تو اجنبی ہوں اور جب سے آیا ہوں سرائے سے باہر نہیں نکلا "۔
خادم نے کہا ،
"تعلق ہے ،میں بتاتا ہوں، چونکہ دیوار گرنے سے مسافر ہلاک ہوا تها، تو کوتوال نے گهر کے مالک کو پکڑ لیا کہ انصاف کا تقاضا یہی تها۔لیکن مالک نے الزام دیوار بنانے والے پہ لگا دیا،چونکہ بادشاه سلامت کا حکم ہے کہ انصاف ضرور ہو گا ،    اس لیے دیوار بنانے والے کو حاضر کیا گیا  -
دیوار بنانے والے نے الزام مزدور پہ لگا دیا کہ اس نے مٹی میں پانی زیادہ ملایا تها اور جس کی وجہ سے مٹی پک نہ سکی اور دیوار گر گئی-

چونکہ بادشاه سلامت کا حکم هے کہ انصاف ضرور ہو گا ،  اور جلد ہو گا کہ دیر سے انصاف ملنا بهی نا انصافی ہے،اس لیے مزدور کو فورا حاضر کیا گیا-
مزدور نے الزام ہاتهی والے پہ لگا دیا، کہ اگر اس کا بدکتا ہوا ہاتهی نہ آتا تو میں کام چهوڑ کر نہ بهاگتا اور مٹی میں پانی زیاده نہ گرتا ۔

چونکہ بادشاه سلامت کا حکم ہے کہ انصاف ضرور ہو گا اور جلد ہو گا
چنانچہ ہاتهی والے کو حاضر کیا گیا
ہاتهی والے نے الزام وزیر پر لگا دیااور کہا کہ اگر وزیر کی بیٹی  پائل پہن کر بازار نہ نکلتی تو پائل کی جھنکار  سے  میرا ہاتهی نہ  بدکتا ۔
چونکہ بادشاه سلامت کا حکم ہے کہ انصاف ضرور ہو گا ،  اور جلد ہو گا۔
وزیر نے الزام سنار پر لگا دیا،کہ میں نے تو  اُسے پائل میں  گھنگرو ڈالے کا کہا تھا  گھنٹیاں نہیں ۔

چونکہ بادشاه سلامت کا حکم هے کہ انصاف ضرور ہو گا ،اور جلد هو گا
سنار کو حاضر کیا گیا،سنار گونگا  بھی تھا اور بہرا بھی ۔اس لیے سنار کو تختہ دار پر لٹکانے کا حکم صادر ہو گیا   ۔
استاد حیران تها کہ یہ کیسا انصاف هے؟
لیکن اپنی جان بخشی پر تهوڑا خوش بهی تها ،اس لیے خادم سے کہا،
" کہ چلو مجرم تو مل گیا.اب مجهے کیوں یہاں لایا گیا  ہے؟ "

خادم مسکرایا اور کہا ، " دراصل  ایک دن  بہت موٹاآدمی   اپنی چھت پر بیٹھا تھا ، نیچے سے کوئی آواز آئی اُس نے جھانکا اور اپنا وزن نہ سنبھال سکا اور نیچے آگرا ، جس کے وزن تلے دب کر ایک آدمی مر گیا ،
بادشا ہ نے  فوراً انصاف دینے کے لئے ،
  پھانسی کی سزا کے لئے جو پھندہ بنوایا وہ اب بھی موجود ہے۔اُسے سے پھانسی دے کر لوگوں کو فوری انصاف دیا جاتا ہے ۔
اُس سے میرا کیا تعلق  ہے ،  مجرم تو مل گیا ہے نا ؟؟
 "  جی ہاں مجرم تو مل گیا لیکن اس کی گردن چهوٹی ہے " 
استاد نے پوچها، " کیا مطلب؟ "

خادم نے کہا؛" چونکہ بادشاه سلامت کا حکم ہے کہ انصاف ضرور ہو گا ،  اور جلد ہو گا، بلکہ آج ہی ہو گا ورنہ کوتوال کو لٹکایا جائے گا ۔ سنار کی گردن پهندے میں نہیں آ رہی تهی اس لیے کوتوال کو موٹی گردن کی تلاش تهی -" 


ہر مال ایک ایک پیسہ ، ایک ایک پیسہ  ۔  اب کِس نے موجیں اُڑانی ہیں  ؟
ایک ایک پیسے  کا مال کھا کر ۔

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں


نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے
وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے

جس دھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی وہ دھوپ اسی کے ساتھ گئی 
ان جلتی بلتی گلیوں میں اب خاک اڑاؤں کس کے لیے

وہ شہر میں تھا تو اس کے لیے اوروں سے بھی ملنا پڑتا تھا 
اب ایسے ویسے لوگوں کے میں ناز اٹھاؤں کس کے لیے

اب شہر میں اُس کا بدل ہی نہیں کوئی ویسا جانِ غزل ہی نہیں 
ایوانِ غزل میں لفظوں کے گلدان سجاؤں کس کے لیے

مدت سے کوئی آیا نہ گیا سنسان پڑی ہے گھر کی فضا 
ان خالی کمروں میں ناصر اب شمع جلاؤں کس کے لیے
(ناصر کاظمی)

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔