Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 13 مارچ، 2015

اقوامِ ہندوستان

انسانوں میں ، انصار ( مستقل رہائشی) اورمہاجر ( عارضی رہائشی) دو قومیں ہیں ۔
 جیسے یومنون اور لا یومنون دو اقوام ہیں ۔
ایک حاکم کے احکام(معروف)  کو ماننے والی اور دوسرے انکار کرنے والی 
 بنیادی طور پرمہاجر، قومِ لا یومنون کا حصہ ہیں ۔ جو انصار سے نکلتی ہیں ۔ کیوں ؟ 
وہ اِس لئے کہ اللہ کا نظام ہے ، کہ وہ انسانوں میں ادوار بدلتا ہے ۔  اور طبقاتی نظام بننے لگتے ہیں ۔
٭- پہلا طبقہ وہ  باہمت لوگ  جو رزق کے وسائل کم ہونے پر ، یا آپس میں چپقلش بڑھ جانے پر ، اپنی مستقل رہائش چھوڑ کر عارضی رہائش کی تلاش میں ، اکیلے ، اپنی بیوی بچوں یا مکمل خاندان کے ساتھ نکل کھڑے ہوتے ہیں ۔ دورسری زمینوں میں جا کر   مہاجر کہلاتے ہیں ۔یوں مہاجروں نے اپنی نسلوں کو کرہءِ ارض پر بذریعہ ہجرت پھیلا دیا ہے ۔ 
ہجرت ہمیشہ ، رزق ، امن و سکون کی خاطر کی جاتی لیکن ایک بات راسخ ہے کہ اپنی جائے پیدائش چھوڑ کر کسی دوسرے علاقے میں آباد ہونا اور وہاں انصار بن کر اپنا مستقل ٹھکانہ بنانا اور وہاں کے ماحول کے مطابق بس جانا ، انسان تو کیا ہر ذی حیات کی حیات کا لازمی جزو ہے ۔ 
کرہ ارض پر جبر و استحصال، قتل و غارت کے بل بوتے پر انسانوں کو کرہ ارض پر پھیلانے والا ۔
٭- دوسرا بڑا طبقہ، افواجِ انسانی ہیں، جو انصار میں سے پیدا ہوا، جنہوں نے انسانی مال و دولت لوٹنے یا زرخیز زمینوں پر قبضہ کرنے کے لئے چڑھائی کی ۔ اُنہیں یہ معلومات اُن مہاجروں نے دی جو واپس اپنی آبائی جگہوں پر رابطے قائم رکھنے پر آتے جاتے اور اپنی عارضی رہائش پر اپنے حالات کے افسانے یا حقیقت بتاتے ۔
 بنی آدم کی جبلت میں شامل، چھین جھپٹ ، حسد اور ناشکرانہ جذبات کی وجہ سے ایک دوسرے کے خلاف جھگڑا اور قتل و غارت جیسے قبیح افعال وجود میں آئے ۔ اور انسانوں نے اپنی قوت و جبر کے استعمال سے اپنے اندر پانچ بڑے طبقات ، اقوام اور قبیلے بنا لئے ۔
 کرہ ارض پر پھیلنے والے انسانوں کے پانچ طبقات بنے ، جو قبائل میں تبدیل ہوئے اور اقوام کا حصہ بنے یہ پانچ طبقات ہر قوم میں پائے جاتے ہیں ۔ جو زبان کے لحاظ سے وجود میں آتی ہیں:
 1- کھشتری ۔ ( فوجی، راجہ ، بادشاہ)۔ طاقت کے بل بوتے پر کمانے والے ۔
2- ویش ۔ ( کسان ، مزدور ، گوالے ، ) محنت سے کمانے والے-

 3- برہمن ۔ ( مُلا ، پادری ، پروہت ، ربی ، گرو) چالاکی، منت سماجت اور خوف و ہراس پھیلا کر اپنا حصہ بٹورنے والے ۔
 4- شودر۔ ( مراثی) ۔ کم ہمت لوگ جو چالاکی، منت سماجت سے کھشتریوں اور ویش کی خدمت کر کے اپنا حصہ نکالتے ہیں۔
 5۔ ملیچھ ۔ ( بھنگی) ۔ کھشتریوں کے معتوب انسان ۔ جنہیں پابندِ جولاں کر کے غلامی میں ڈھال لیا ۔ اور اُن کی نسلوں کو غلام در غلام بنا لیا ۔
 یہ بات اہم ہے کہ ملیچھ انسانوں کا سب سے بڑا طبقہ کھشریوں میں سے بنایا گیا ہے اور کچھ حصہ باغی ویش کا بھی ہے ۔
 خاندانِ غلاماں مسلمانوں کے ملیچھ تھے اور اشوکا دی گریٹ  ہندوؤں کا  ملیچھ ۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ثنا خوانِ تقدیس مشرق کو لاؤ

مدد چاہتی ہے یہ حوّا کی بیٹی
یشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی
پیمبر کی امت، زلیخا کی بیٹی
ثنا خوانِ تقدیس مشرق کہاں ہیں؟

یہ کوچے یہ نیلام گھر دلکشی کے
یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے
کہاں ہیں کہاں ہیں محافظ خودی کے
ثنا خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں؟

یہ پر پیج گلیاں یہ بے خواب بازار
یہ گمنام راہی یہ سِکّوں کی جھنکار
یہ عصمت کے سودے یہ سودوں پہ تکرار
ثنا خوانِ تقدیس مشرق کہاں ہیں؟
تعفّن سے پر نیم روشن یہ گلیاں
یہ مسلی ہوئی ادھ کھلی زرد کلیاں
یہ بکتی ہوئی کھوکلی رنگ رلیاں
ثنا خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں؟

وہ اجلے دریچوں میں پائل کی چھن چھن
تنفس کی الجھن پہ طبلے کی دھن دھن
یہ بے روح کمروں میں کھانسی کی ٹھن ٹھن
ثنا خوان تقدیسِ مشرق کہاں ہیں؟
یہ گونجے ہوئے قہقہے راستوں پر
یہ چاروں طرف بھیڑ سی کھڑکیوں پر
یہ آواز کھنچتے ہوئے آنچلوں پر
ثنا خوانِ تقدیس مشرق کہاں ہیں؟

یہ پھولوں کے گجرے یہ پیکوں کے چھینٹے
یہ بے باک نظریں یہ گستاخ فقرے
یہ ڈھلکے بدن اور یہ مدقوق چہرے
ثنا خوانِ تقدیس مشرق کہاں ہیں؟
یہ بھوکی نگاہیں حسینوں کی جانب
یہ بڑھتے ہوئے ہاتھ سینوں کی جانب
لپکتے ہوئے پاؤں زینوں کی جانب
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں؟

یہاں پیر بھی آچکے ہیں جواں بھی
تنو مند بیٹے بھی، ابا میاں بھی
یہ بیوی بھی ہے اور بہن بھی ہے ماں بھی
ثنا خوان تقدیسِ مشرق کہاں ہیں؟
بلاؤ خدایانِ دین کو بلاؤ
یہ کوچے، یہ گلیاں، یہ منظر دکھاؤ
ثنا خوانِ تقدیس مشرق کو لاؤ
ثنا خوانِ تقدیس مشرق کہاں ہیں؟


ساحر لدھیانوی

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے
وہ اپنی خوبی قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے

دلوں کو فکر دوعالم سے کر دیا آزاد
ترے جنوں کا خدا سلسلہ دراز کرے

خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

ترے ستم سے میں خوش ہوں کہ غالباً یوں بھی
مجھے وہ شامل ارباب امتیاز کرے

غم جہاں سے جسے ہو فراغ کی خواہش
وہ ان کے درد محبت سے ساز باز کرے

امیدوار ہیں ہر سمت عاشقوں کے گروہ
تری نگاہ کو اللہ دل نواز کرے

ترے کرم کا سزاوار تو نہیں حسرتؔ
اب آگے تیری خوشی ہے جو سرفراز کرے

اس غیرتِ ناہید کی ہر تان ہے دیپک

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو
ہے بو الہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھو
اس بُت کے لئے میں ہوسِ حور سے گُذرا
اس عشقِ خوش انجام کا آغاز تو دیکھو
چشمک مری وحشت پہ ہے کیا حضرتِ ناصح
طرزِ نگہِ چشمِ فُسوں ساز تو دیکھو
اربابِ ہوس ہار کے بھی جان پہ کھیلے
کم طالعیِ عاشقِ جانباز تو دیکھو
مجلس میں مرے ذکر کے آتے ہی اُٹھے وہ
بد نامیءِ عشاق کا اعزاز تو دیکھو
محفل میں تُم اغیار کو دُزدیدہ نظر سے
منظور ہے پنہاں نہ رہے راز تو دیکھو
اس غیرتِ ناہید کی ہر تان ہے دیپک
شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو
دیں پاکئِ دامن کی گواہی مرے آنسو
اس یوسفِ بیدرد کا اعجاز تو دیکھو
جنت میں بھی مومن نہ ملا ہائے بُتوں سے
جورِ اجلِ تفرقہ پرداز تو دیکھو


اب عمر کی نقدی ختم ہوئی

ا ب عمر کی نقدی ختم ہوئی
ا ب ہم کو ادھار کی حاجت ہے
ہے کوئی جو ساہو کار بنے
ہے کوئی جو دیون ہار بنے
کچھ سال ،مہینے، دن لوگو
پر سود بیاج کے بن لوگو
ہاں ا پنی جاں کے خزانے سے
ہاں عمر کے توشہ خانے سے
کیا کوئی بھی ساہو کار نہیں
کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں
جب ناما دھر کا آیا کیوں
سب نے سر کو جھکایا ہے
کچھ کام ہمیں نپٹانے ہیں
جنہیں جاننے والے جانے ہیں
کچھ پیار دلار کے دھندے ہیں
کچھ جگ کے دوسرے پھندے ہیں
ہم مانگتے نہیں ہزار برس
دس پانچ برس دو چار برس
ہاں ،سود بیاج بھی دے لیں گے
ہاں اور خراج بھی دے لیں گے
آسان بنے، دشوار بنے
پر کوئی تو دیون ہار بنے
تم کون ہو تمہارا نام کیا ہے
کچھ ہم سے تم کو کام کیا ہے
کیوں اس مجمع میں آئی ہو
کچھ مانگتی ہو ؟ کچھ لاتی ہو
یہ کاروبار کی باتیں ہیں
یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں
ہم بیٹھے ہیں کشکول لیے
سب عمر کی نقدی ختم کیے
گر شعر کے رشتے آئی ہو
تب سمجھو جلد جدائی ہو
اب گیت گیاسنگیت گیا
ہاں شعر کا موسم بیت گیا
اب پت جھڑ آئی پات گریں

کچھ صبح گریں، کچھ را ت گریں
یہ ا پنے یار پرانے ہیں
اک عمر سے ہم کو جانے ہیں
ان سب کے پاس ہے مال بہت
ہاں عمر کے ماہ و سال بہت
ان سب کو ہم نے بلایا ہے
اور جھولی کو پھیلایا ہے
تم جاؤ ان سے بات کریں
ہم تم سے نا ملاقات کریں
کیا پانچ برس ؟
کیا عمر اپنی کے پانچ برس ؟
تم جا ن کی تھیلی لائی ہو ؟
کیا پاگل ہو ؟ سو دائی ہو ؟
جب عمر کا آخر آتا ہے
ہر دن صدیاں بن جاتا ہے
جینے کی ہوس ہی نرالی ہے
ہے کون جو اس سے خالی ہے
کیا موت سے پہلے مرنا ہے
تم کو تو بہت کچھ کرنا ہے
پھر تم ہو ہماری کون بھلا
ہاں تم سے ہمارا رشتہ ہے
کیاسود بیاج کا لالچ ہے ؟
کسی اور خراج کا لالچ ہے ؟
تم سوہنی ہو ، من موہنی ہو ؛
تم جا کر پوری عمر جیو
یہ پانچ برس، یہ چار برس
چھن جائیں تو لگیں ہزار برس
سب دوست گئے سب یار گئے
تھے جتنے ساہو کار ، گئے
بس ایک یہ ناری بیٹھی ہے
یہ کون ہے ؟ کیا ہے ؟ کیسی ہے ؟
ہاں عمر ہمیں درکار بھی ہے ؟
ہاں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے
جب مانگیں جیون کی گھڑیاں
گستاخ آنکھوں کت جا لڑیاں
ہم قرض تمہیں لوٹا دیں گے
کچھ اور بھی گھڑیاں لا دیں گے
جو ساعت و ماہ و سال نہیں
وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں
لو اپنے جی میں اتار لیا
لو ہم نے تم کو ادھار لیا

ابنِ انشا

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔