Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 14 نومبر، 2015

14 نومبر 2015 کی ڈائری- برفی اور سر کی مالش

چم چم نے ویک اینڈ منایا اور پھر بوڑھا اور چم چم رات کو ساڑھے تین بجے سو گئے ۔
بوڑھا پہلے سویا لہذا صبح ساڑھے پانچ بجے اُٹھا اور آدھے گھنٹے بعد پھر سو گیا ۔
" آئی ، آئی ، پپا ، پپا ، آپیا ، اپیا ، آوا آوا " کی آواز نے بوڑھے کو سات بجے بیدار کیا ۔
بوڑھا اُٹھا دیکھا برفی دروازے پر کھڑی شور مچا رہی ہے ، کمرے کے اندر نہیں آئی کیوں کہ برفی اندھیرے سے ڈرتی ہے ، بوڑھے نے ٹیبل لیمپ جلایا ۔
بڑھیا کے پلنگ کی طرف دیکھا ۔ وہ اور چم چم ، اپنے کمرے میں چلی  گئیں تھیں ۔
برفی نے پہلے چم چم کی فروٹ اور ویجیٹیبل شاپ کے سارے فروٹ، انڈے اور ڈبل روٹی زمین کر پھینکنا شروع کیں ۔ ٹپ ٹپ کر کے پلاسٹک کی چیزیں کمرے میں بکھرنا شروع ہو گئیں ۔
پھر برفی ، کھلونوں کے طرف آئی ، اُنہیں بُک شیلف سے کھینچ کر اتارا ۔
جب اپنی یہ ڈیوٹی بھی بہ حسن خیر و خوبی انجام دے دی ۔ تو بوڑھے کا موبائل ، اُٹھایا ۔ جس کی سکرین وہ پہلے ہی توڑ چکی ہے ۔ وہ بند تھا ۔ آن کرنے والے بٹن کو دبانے کی کوشش  کی مگر چونک موبائل رات کو بوڑھا چارجر پر لگانا بھول گیا تھا ، لہذا آن نہ ہوا ، 

"نمنا ، اوں اوں " چارجر پن کی طرف اشارہ کیا ۔
بوڑھے نے چارجر کی تار ھاتن میں دی اور موبائل مانگا۔
" نمنا خود "
برفی نے چارجر کی تار لے کر موبائل میں لگانے کی کوشش کی مگر وہ نہ لگی ۔
بوڑھا ، روزانہ کی طرح برفی کی حرکات کو دیکھ رہا تھا -
برفی نے بوڑھے سے پوچھا ،
" دادا بابا، آئی ؟ "
" دادی ماں، کے روم میں ہے " بوڑھے نے جواب دیا ۔
" دادی ماں" برفی بولی اور ٹمک ٹمک دوڑتی ہوئی ، بوڑھے کے کمرے سے نکل گئی ۔
" آئی ، آئی ، آئی " برفی کی زور دار آواز آئی ۔
" ارے مت اُٹھاؤ ۔ سونے دو انابیہ " دادی کی آواز آئی ۔
" انابیہ ، پلیز مجھے سونے دو ! " چم چم کی منماتی آواز آئی ۔
بوڑھا ، اُٹھا اور واش روم چلا گیا ۔

مگر برفی کہاں باز آنے والی تھی ۔ چم چم کو اُٹھا کر دم لیا ۔واش روم سے نکلا تو دیکھا ، چم چم صوفے پر پاؤں کے نیچے ، موڑھا رکھ کر بیٹھی ہے اور برفی بھی اُس کی نقل میں بڑے آرام سے بیٹھی ہے اور دونوں کارٹون دیکھ رہی ہیں ۔

" یہ چم چم کیسے اُٹھ گئی ؟" بوڑھے نے بڑھیا سے پوچھا ۔
" بچنے کی بہت کوشش کی مگر ، انابیہ نے زبردستی اُٹھا دیا ہے "
بڑھیا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔
بوڑھا بھی اپنی ، مخصوص جگہ پر جا کر بیٹھ گیا ، تاکہ ناشتہ کرسکے ۔ 
تھوڑی دیر بعد برفی کی ماں نے برفی کے سر پر تیل کی مالش شروع کی ۔ برفی نے پہلے تو شور مچایا ۔ 
  
پھر وہ ماما کے قابو میں آ گئی ۔ 


ماما تیل کی مالش کر کے واش روم میں برفی و نہلانے کا اتنظام کرنے گئیں ۔
برفی نے ، خود اپنی مالش کا سوچا ۔ اور میز سے سرسوں کے تیل کی بوتل اُٹائی ۔
بوتل کا ڈھکن کھولا ۔ اور ۔ ۔ ۔ ۔ اور
'
معلوم ہے کیا ہوا ؟
'
برفی نے ایک زور دار چینخ ماری ۔
بوڑھے نے دیکھا ۔
بڑھیا نے دیکھا ۔
بابا نے دیکھا ۔۔
بڑی پھوپی نے دیکھا ۔
چھوٹی پھوپی نے دیکھا ۔
چم چم  نے دیکھا ۔ ۔ ۔ ۔
'
تیل برفی کے سر اور چہرے کو بھگوتا ۔
نیچے کارپٹ تک پہنچ چکا تھا ۔

 بچو : پتا ہے پھر کیا ہوا ؟

بوڑھا، برفی کی طرف اُٹھ کر دوڑا ۔
بڑھیا ، برفی کی طرف اُٹھ کر دوڑی ۔
بابا، برفی کی طرف اُٹھ کر دوڑا ۔
بڑی پھوپی، برفی کی طرف اُٹھ کر دوڑی ۔
چھوٹی پھوپی، برفی کی طرف اُٹھ کر دوڑی ۔
چم چم ، ، برفی کی طرف اُٹھ کر دوڑی-

مگر سب سے پہلے دادی بازی جیت گئی اور
دادی نے اپنی چادر سے برفی کو فوراً صاف کیا ۔
 
ماما واش روم سے دوڑی آئی ۔

برفی کو برفی کی دادی سے لیا ۔
بڑے آرام سے بولی ۔
" آنٹی کوئی بات نہیں یہ پہلے بھی دو دفعہ خود مالش کر چکی ہے "
اور برفی کو واش روم میں لے گئی ۔




٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭








پیر، 9 نومبر، 2015

سنا ہے کل رات مر گیا وہ

⁠⁠⁠⁠⁠گئے دنوں کا سراغ لیکر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ

بس اگ ہلکی سی جھلک دکھا کر بس ایک میٹھی سی دھن سنا کر
ستارہ شب بن کے آیا برنگ خواب سحر گیا وہ

نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرستوں کی اداس برکھا
یونھی ذرا سی کسک ہے دل میں زخم جو گہرا تھا بھر گیا وہ

شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دنوں کو بلا رہا ہوں
جو قافلہ میرا ہمسفر تھا مثال گرد سفر گیا وہ

ہوس کی بنیاد پر نہ ٹھہرا کسی بھی امید کا گھروندا
چلی ذرا سی ہوا مخالف غبار بن کے بکھر گیا وہ

وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا
سدا رہے اس کا نام پیارا سنا ہے کل رات مر گیا وہ

میرا تو خون ہو گیا ہے پانی ستمگروں کی پلک نہ بھیگی
جو نالہ اٹھا تھا رات دل سے نہ جانے کیوں بے اثر گیا وہ

وہ جس کے شانے پرہاتھ رکھ کرسفر کیا تو نے منزلوں کا
تیری گلی سے نہ جانے کیوں آج سر جھکائےنکل گیا وہ

وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصر
تیری گلی تک تو ہم نے دیکھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ



اتوار، 8 نومبر، 2015

A VETERANS' DE-BAIT against BAIT

Since media's exploitation of the current situation or to see the pulse, a disputed opinion was launched since past 6 or 7 months, which really stirred hurricane in the cup saucer and the two winds stately & westerly have disturbed the politico-military horizon of various think tanks.
" Should RS be extended his terms like Kiyani or not" ?

How come this had not left a note of concerned among "The 54th The Prides", who claim to be well known intimates of a gentleman Cadet , GC-14583 Raheel Sharief , Babar Platoon !
************************************************************

RBM: Any unbiased comments please.
MAK: Apple can't be compared with an orange. Two cannot be compared.
RBM:It is not a comparison . Unfortunately our History is full with such National  disappointments or is it that we expect too much. 

I frankly cannot opine at this stage but one thing for sure that I will archive this cutting and form and opinion exactly a year from today.
MAK: If he hangs his gloves at the end of his 3 year term on a high note he shall be remembered with reverence.
If he succumbs to the juicy lollipop, like his predesessor he is likely to get in deep shit. The Army chief is expected to fight enemies, external and internal. He shouldn't be running after criminals

RBM:The irony is that these criminals are our true enemies under the garb of politics or bureacracy or so called businessmen.
MAK: Well if that be the case then he should do what his brother's friend did.
MS: Yes we are expecting too much from RS. Accountability of civ looters is not part of his job requirements. Why should he even meddle in the doings of civ government and bureaucracy, things that have happened way before him. His hands are full as it is, with wars internally and externally. It is my humble opinion that he is treading the right path.
I am all for accountability within the army, purges should be carried out against the past and present rank and file.
The people who are clamoring about his lack of action against the usurpers of national wealth will be his greatest detractors. They will accuse him of meddling in affairs beyond his call of duty. We must realize that if such purges are carried out without any leniency, 80% of this nation will be behind bars .
HSB: Current state of affairs indicates that He might be praying that instead of ONE YEAR the time must past in one day to give him much desired relief from tension after tension and no out come. ....AYAAN ALI COULD NOT BE MANAGED AND SO IS DR.ASIM AND ABOVE ALL. .WHAT IS AXACT CASE MYTH to Govt? ??
RBM: A quality hearing.

Grilling the  US Secretary of State Carry and a General before US Sanat Committee on Syria.
AM: (from hospital bed). Blaming RS for non action is a bit unfair. He has no such mandate. The main problem is that our whole nation is corrupt and that is why they don't stand against corruption and injustice.
We deserve this until whole nation seeks forgiveness from Allah for their sins.
No one can help this nation, may it be RS of many RSs.
We have earned Allah's wrath through our deeds as a nation.
Until we all turns towards Allah and seek forgiveness, nothing will change, mark my words.
STA: Dear RBM, RS is doing best to save the country i think he has done 80per left over percent Inshallah before his retirement but these politicians & bureaucrats are thankless they come out with many critics after his retirement so we must respect his efforts.

MJ: AM cent percent in agreement with you.
STA: I think we make our friend RBM understand.
FKK: AM I agree to your view point.
The only thing is that in drowning situation RS  came as ray of hope ..he is doing good..
But our nation raids ex ghir expectation too high..
Overall he has streamed line main things given a good track to coming in to follow..
Criminals are part of internal threat to be dealt ..
Rest financial recovery may not be his mandate ... but our nation is expecting every thing from him....
That's the main issue. ..
Please RBM do not compare him with that evil ch.ifti . . .

Nation raised expectations too high.
RBM:My dear sirs
Please learn to digest facts .I am not critical about RS. I am simply talking about the discussions going around in the streets. Please grow up and widen your horizon of acceptability of facts.Come out of Cantonments and see and hear the masses. I agree that majority of them May be wrong but you should also admit that some of them mean sense.

When you talk about enemy you only mean the Indians or those who fire at you but once the Street Guy says enemy he means all anti state elements he means corrupt politicians and bureaucrats he means ruthless doctors selfish teachers mean businessmen arrogant intelegentia .If you have waged a war against enemies of Pakistan then go ahead and eliminate all these enemies. You have a different mandate for Sindh Rangers and completely a different policy for Punjab Rangers. You have a different plan for FC Balochistan and totally a different strategy for FC KPK.
 It is a fact that the Commanders in Karachi and Quetta call the shots and the entire civil Administration is obedient to them but the Comd in Lahore have nothing to MEDDLE in Lahore. Isn't it the same bureaucracy like that of Quetta or Karachi.

I am not trying to justify the lawlessness in Quetta or Karachi what I mean is if you think bringing the Rule of law is your concern then do it judiciously. How many hangings have taken place since establishment of Military Courts. My request is please do not disappointed the Nation which has great expectations.
MMA: RS is from among us, how many of us have stood up against our corrupt and rotten system, some amongst us have remained and still are at important positions, never heard of sparks being flown from any quarter, lets first question ourselves only then we can question others.
HSB: Exactly. ...Why discrimination between Punjab terrorist and SINDH. .why corruption only in SINDH and Punjab clear. .
Why DR.ASIM only and why no one else in entire country  being questioned?
RS certainly doesn't have the mandate on above but than WHAT IS REMAINING DEFINITION OF ZARB E AZAM as was said on 6th Sep speech? ????
He wanted to put things right but with passage of time he too must be saying it is TOO MUCH OF RUBBISH AROUND AND I CAN'T MANAGE AND BETTER JUST LEAVE REMAINING FOR NEW ....SIPAH SALAR because till the germs and cock roaches of PPP N PML N are existing you cannot wash hands in basin. ..

JIB: MMA ..Being COAS ..the course glory is down the ladder and not up the ladder. .
National interest is more than saying amongst us. ...
We also had some other types and do you claim you are part of them as well? ?

***********************************************************
NUK: According to my opinion, No one is indispensable, it is the only, "Cane & its Pride" which a Military Leader holds. 
***********************************************************


ہفتہ، 7 نومبر، 2015

اقبال ، شبلی اور عطیہ فیضی !


اقبال اور شبلی گوشت پوست کے انسان تھے یعنی زندہ دل بھی تھے اور رومائنٹک بھی۔۔۔۔۔عطیہ بیگم کون تھیں اور ان میں ایسا کیا تھا کہ شبلی نعمانی سے علامہ اقبال تک کئی جینئس ان کی زلف کے اسیر تھے۔ حسب نسب، دولت ، ذہانت اور حسن سےاپنے عہد کے باذوق اشرافیہ کو مبہوت کرنے والی اس کوئین کو مصوری، شاعری، مذہب، علم الکلام اور موسیقی کا شستہ ذوق تھا۔۔۔۔۔۔ اقبال نے اظہار عشق کیا مگر چونکہ شاعر تھے، سو رہ گئے۔ شبلی بازی لے گئے۔ شہزاد ناصر نے تفصیلاٌ شئیر کیا ہے کہ حسین کوئین کا شباب سیر سے واپس آیا تو اتنا سوگوار کیوں تھا۔ ایک ساحرہ کا سوگوار انجام پڑھنے سیکھنے سے تعلق رکھتا ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




جمعہ، 6 نومبر، 2015

پراٹھا اور لال مرچ

تربیتی نشست کے دوران ٹھیک ایک بجے لنچ بریک ہوتی ہے ۔وہ اِسی سال کی اُنتیس جولائی تھی ۔ایک بجے بریک کے بعد جائزہ لیا تو ابھی لنچ شروع ہونے میں پانچ دس منٹ باقی تھے ۔
عجیب قدموں کا ساتھ ہے کہ اکثر خواہ مخواہ کسی سِمت میں چل پڑتے ہیں ۔وقت اور ماحول کے تقاضوں سے انجان قدم !! اُس دِن بھی خواہ مخواہ چُپکے سے ایک سمت چل پڑے۔زیادہ نہیں چلنا پڑا۔ محض چند قدم دُور ہی دیوار کے سائے میں ایک پُراسرار سایہ بیٹھا دِکھائی دیا ۔تھوڑا قریب گیا تو پتا چلا کہ ایک مزدور ہے اور اُس کی بھی لنچ بریک چل رہی ہے ۔وہ ننگی زمین پر بیٹھا تھا ۔ اُس کے دائیں پاؤں کے ساتھ ایک شاپنگ بیگ بچھا ہوا تھا اور اُس شاپر پر اُس دِن کے مینو کے مطابق کھانا دھرا تھا۔
اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں دیسی بدیسی شاید ہی کوئی ڈِش ہو گی جو نظر سے نہ گُزری ہو ۔ نیلے کالر سے سفید کالر تک کے سفر میں مُلین سے مُرغن تک ہر بھوجن پر ہاتھ صاف کیا ۔
لیکن وہ ڈِش میرے لیے امتحان بن گئی ۔
چار و نا چار اُس غیر اہم پُرزے کو بھی سلام کرنا پڑا۔
السلام علیکم !!
وعلیکم السلام !!
(عجیب بد تمیز آدمی تھا ۔سلام کا جواب دیتے ہوئے سر بھی نہیں اُٹھایا)
کیا حال ہے بھائی !!
کرم ہے اللہ کا !!
اُس نے لقمہ سلیقے سے توڑتے ہوئے جواب دیا ۔
کیا کھا رہے ہو ؟؟
کھانا کھا رہا ہوں !!
بھائی وہ تو میں بھی دیکھ رہا ہوں کہ کھانا ہی کھا رہے ہو ۔بجری تو بہت دُور پڑی ہے !!
میرا مطلب ہے کہ کھانے میں کیا ہے ؟؟
اُس نے پہلی بار سر اُٹھایا۔ اُس کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی لیکن چہرے پر بشاشت ، تازگی اور اعتماد کا راج تھا ۔
پراٹھا ہے اور اُس پر لال مِرچیں ہیں !!
میں پنجوں کے بَل اُس کے پہلو میں بیٹھ گیا ۔
صرف ایک پراٹھا اور اُس پر مِرچیں !!
کیا اِس غذا سے تمھیں اتنی طاقت مِل جاتی ہے جو اِتنی سخت مزدوری کر رہے ہو ؟؟
صاحب یہ خوراک تو بس ایک بہانہ ہے طاقت اور ہمت تو کہیں اور سے آتی ہے ۔
اُف اس قوم کا کیا بنے گا جہاں دیکھو فلسفہ اُبل رہا ہے ۔میں نے دِل ہی دِل میں سوچا اور ڈائننگ ہال کا رُخ کیا کہ صبح گھر سے ناشتہ کیے بغیر نکلا تھا اور مزید تاخیر سے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے تھے ۔
لنچ باکس میں پانچ کے قریب آئٹم تھے اور تمام ہی میرے من پسند ۔شاید وہ پہلا لمحہ ہی تھا جب مُجھے اُس کا خیال آیا کہ لنچ باکس لے کر اُس کے پاس چلا جاتا ہوں اور اکھٹے لنچ کر لیتے ہیں ۔اگلے ہی لمحے خیال آیا کہ کون سے میرے فیس بُک فین یہ سب دیکھ رہے ہیں اور ویسے بھی کہانی تو مُجھے مِل ہی چُکی ہے ۔
لیکن وہ جو اُسے ایک روٹی پر لگی نِری مرچوں سے طاقت اور ہمت دیتا ہے ،اُس کے ہاں ابھی کہانی ادھوری تھی ۔
شام چار بجے چھٹی کے بعد سوچا ایک “تاہ ” اور کرتا چلوں ۔
وہ اپنے اوزار سمیٹ رہا تھا۔
ایک کونے میں پوزیشن لیتے ہوئے میں نے پُوچھا چُھٹی کر رہے ہو ؟؟
نہیں !! اگلے دِن کی چال بنا رہا ہوں ۔
پاس ہی دیوار کے ایک کھانچے پر اُس کے دِن کے لنچ سے بچا ایک پراٹھے کا ٹکڑا پڑا تھا جس پر درمیانی جسامت والے کالے چیونٹوں نے دھاوا بول رکھا تھا ۔
بے اختیار میرے چہرے پر مُسکراہٹ پھیل گئی ۔ بڑا فلسفہ بگھار رہا تھا ۔ آخر ہمت جواب دے گئی ہو گی ۔نری مرچیں اور وہ بھی لال !! بھلا کوئی انسان کھا سکتا ہے ؟؟
ناراض نہ ہونا ایک بات کہوں ؟؟
جی صاحب اُس نے دوستانہ انداز میں مُسکراتے ہوئے جواب دیا ۔
وہ بھلے نری مرچ ہی کیوں نہ ہو یا سادہ کچا پکا پراٹھا !!
بہرحال رزق ہے اور رزق کی بے حرمتی اللہ کو سخت نا پسند ہے ۔تمھیں پُورا کھانا چاہیے تھا۔
جی صاحب پُورے سے بھی زیادہ کی بُھوک تھی لیکن یہ کالے چیونٹے آپ دیکھ رہے ہیں نا !! اِن میں سے دو پراٹھے پر چڑھ آئے تھے۔ میں نے دو لقمے اِن کے لیے دیوار کے ساتھ ڈال دیے ۔سُنا ہے رِزق بانٹنے سے بڑھتا ہے ۔ اور جو رزق اللہ نے میرے نصیب میں لکھ رکھا ہے وہ میں آپ کو تو پیش کر نہیں سکتا تھا لہذا اللہ نے اِن چیونٹوں کو بھیج دیا ۔سو وہ اپنا حصہ کھا رہے ہیں ۔
میرے معدے میں موجود پانچوں فاسٹ فوڈ آئٹم ہنسنے لگے !!
اور اُن کے بے مہار قہقہوں سے میرے پیٹ میں شدید مروڑ اُٹھنے لگے۔
یہ کوئی افسانہ نہیں اور نہ ہی گھڑی ہوئی کہانی ہے ۔محض پانچ دِن پُرانا واقعہ ہے ۔جن گلیوں سے گزر کر میں روزانہ آتا جاتا ہوں وہاں موجود گھروں کے باہر موجود کیاریوں میں بعض ایسے پودے بھی ہیں جن کی قیمت کا آغاز ہی دو لاکھ سے ہوتا ہے ۔ وہاں گلیوں میں ایسے کُتے ٹہلائے جا رہے ہوتے ہیں کہ جن کی غذا ولایت سے درآمد ہوتی ہے ۔
میں نے اُس کا شکریہ ادا کیا ۔ جاہل آدمی تھا ہونقوں کی طرح تکے جا رہا تھا کہ کس بات کا شکریہ ۔اُسے کیا پتا تھا کہ میں اپنی زندگی میں آنے والے امیر ترین آدمی سے مِل کر جا رہا تھا کہ جس نے میری نظر میں امیر غریب کی تعریف ہی بدل دی تھی ۔جی ہاں عمل کی دُنیا میں پہلی بار دیکھا تھا کہ بانٹنے والے امیر ہوتے ہیں اور جمع کر کر کے گاڑنے والے مُفلس ، غریب اور بے چارے !!

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مزدوروں کے عالمی دن پر لکھی گئی ایک تحریر 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ: بوڑھے نے مزدور سے یک جہتی میں ظہرانہ پر ، 
لال مرچیں اور پراٹھا کھایا ۔
بچپن یاد آگیا!

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔