Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 5 مئی، 2023

کورنگی مہاجروں کی ایک بستی

کورنگی کی مختصر تعریف سب سے پہلے کچھ ذکر کورنگی کے نام کا۔۔ کورنگی کے معنی ہندی زبان میں الائچی کے ہیں۔ اس نام کی مناسبت سے دو مفروضے قائم کیے جاسکتے ہیں. ایک تو یہ کہ کورنگی کی بندرگاہ سے کسی زمانے میں الائچی کا کاروبار ہوتا ہوگا یا پھر یہاں الائچی کی کاشت ہوتی ہوگی۔ مگر یہ دونوں باتیں یہاں کے طبعی حالات کے پیش نظر ناممکن ہیں ۔
تیسری بات یہ ہو سکتی ہے کہ یہ کسی لفظ کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ ’کارنجا‘ یا ’کرنجا‘ نام کی برصغیر میں 9 بستیوں کا ذکر ملتا ہے ’کارنجا‘ کے معنی تالاب یا پانی کی نالی یا کھاڑی کے دہانے کے ہیں۔ اس کے علاوہ کورنگی ’کارنج‘ کی ایک بگڑی ہوئی شکل بھی ہو سکتی ہے.
 ’کارنج‘ کے نام سے برصغیر میں 6 بستیاں آباد ہیں۔ جبکہ ’کارنگ‘ کے نام سے برصغیر میں 5 بستیوں کا ذکر ملتا ہے۔ اسی طرح سے ’کارنگا‘ کے نام سے بھی برصغیر میں 3 بستیوں کا ذکر ملتا ہے. جبکہ ’کورنگ‘ کے نام سے بھی 2 بستیاں موجود ہیں۔ 
’کورنگ‘ فارسی زبان کا لفظ ہے، جس سے مراد لال رنگ کا گھوڑا اور افواج کی مشق کا میدان ہے۔ اسی طرح سے ’کورنگا‘ بھی فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی گھوڑوں کی خلیج یا گھوڑوں کا میدان ہے۔ کورنگی ’رنگھوں‘ کی بگڑی ہوئی شکل بھی ہوسکتی ہے، جس کے معنی زمینی راستہ یا خرگوش کے رہنے کی جگہ کے ہیں۔
 ان سب کے علاوہ کورنگی "کورگی” سے بھی بہت قریب ترین معلوم ہوتا ہے جبکہ ’کورگی‘ نام کی ایک قوم پرانے زمانے میں کراچی اور اس کے گرد و نواح میں آباد تھی اور اس قوم کا پیشہ سمندری قزاقی تھا۔ 
یہ حقیقت ہے کہ سندھ میں گھوڑوں کو پال کر ان کا کاروبار کیا جاتا تھا۔ کراچی کے ساحل سمندر سے گزرنے والے جہازوں کو لوٹا جاتا تھا۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے۔ ملیر گڈاپ سے تعلق رکھنے والے شاعر اور ادیب پروفیسر امر گل کے نزدیک بلوچی میں ندی کو ’کور‘ کہتے ہیں اور ’ونگی‘ کا مطلب ہے ندی کے پانی کے بہاؤ کے ایک حصے کو زمین کی طرف موڑنا، تاکہ وہ آس پاس کی زمینوں کو سیراب کر سکے۔ چونکہ ندی کا پانی زرخیزی کے لیے بہترین ہے، اس لیے ماضی میں ایسی ’ونگیاں‘ بنائی جاتی تھیں۔ کور ونگی، ندی کا وہ حصہ تھا، جہاں یہ ونگی بنائی گئی تھی، اس لیے یہ علاقہ کور ونگی کہلاتا تھا، جو اختصاراً کورنگی بن گیا۔
 کورنگی ملیر ندی کے دوسرے کنارے پر آباد ہے اس لحاظ سے خلیج کورنگی فوجی لحاظ سے بھی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران یہاں ایک ہوائی اڈہ بھی تعمیر کیا گیا تھا، جو برطانوی افواج کے لیے نہایت موزوں ثابت ہوا تھا۔ یہ ہوائی اڈا اب کورنگی کریک کا ہوائی اڈا کہلاتا ہے۔
قیامِ پاکستان سے قبل کورنگی کا علاقہ کئی گوٹھوں پر مشتمل تھا، مگر یہ ایک دوسرے سے بہت دور دور تھے اور آبادی انتہائی کم تھی۔ 
موجودہ کورنگی کی تعمیر قیامِ پاکستان کے بعد 1956ع میں مہاجرین کو کورنگی K ایریا میں سب سے پہلے لا کر آباد کیا گیا۔ یوں کورنگی میں مہاجرین کی سب سے پہلی آبادی K ایریا میں قائم ہوئی۔ 
 
1958 میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد فوجی حکومت نے تقسیم کے وقت ہندوستان سے آنے والے مہاجرین پر خصوصی توجہ دی۔ اس مقصد کے لئے لیفٹیننٹ جنرل اعظم خان کو آباد کاری کے مرکزی وزیر کی ذمہ داریاں سونپی گئیں، جو پہلے ہی سے مہاجرین کی آبادکاری پر کام کر رہے تھے. انہیں ہنگامی بنیادوں پر مہاجرین کی مزید آباد کاری کی ذمہ داریاں دی گئیں۔ اعظم خان صاحب نے اس چیلنج کو قبول کیا اور اس سلسلے میں ایک بڑا کارنامہ انجام دیا، جو تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ آپ نے کورنگی کے مقام پر آٹھ ماہ کے اندر 15 ہزار مکانات تعمیر کرائے۔
 5 دسمبر 1958ء کو صدر پاکستان ایوب خان نے اس کا سنگِ بنیاد رکھا تھا اور یکم اگست 1959ء کو ٹھیک 8 مہینے بعد اس بستی کا افتتاح کیا۔ آپ نے افتتاح کے وقت کورنگی کی اس نئی آبادی کے پہلے مکین جناب حاجی عظمت اللہ کو ان کے مکان کا الاٹمنٹ آرڈر اور راشن کارڈ عطا کیا۔
 کورنگی کا علاقہ 3000 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا تھا۔ اس کی تعمیر میں اُس وقت بارہ کروڑ روپے خرچ ہوئے جبکہ اس کا نقشہ یونان کے مشہور ماہرِ تعمیر نے تیار کیا تھا. یہ وہی ماہرِ تعمیر تھا، جس نے نارتھ ناظم آباد کا نقشہ بنایا تھا۔ اس ماہرِ تعمیر نے اپنے تمام تر تجربے کو بروئے کار لا کر کورنگی کا نقشہ بنایا تھا اور بڑی پلاننگ سے آبادکاری کی گئی تھی۔ ہر سیکٹر میں مارکیٹ، اسکول، پارک، کھیلوں کے میدان، لائبریریز اور کمیونٹی سینٹر کے لیے باقاعدہ جگہ مختص کی گئی تھی. اس کے علاوہ کشادہ ڈبل روڈز اور ان کے ساتھ ساتھ سروس روڈز بھی موجود تھیں۔
 کورنگی میں 80، 120 اور 128 گز کے کوارٹرز بنائے گئے تھے۔ 128 گز کے کوارٹرز کی لین میں گندی گلیاں نہیں تھیں، جب کہ کواٹرز بھی دو طرح سے بنائے گئے تھے۔ ایک 1/2 روم جس میں ایک کمرہ اور ایک برآمدہ شامل تھا، جبکہ دوسرا ڈبل روم کا تھا جس میں 2 کمرے اور ایک برآمدہ شامل تھا۔
 120 گز کے کوارٹر کی لائن میں گندی گلیاں دی گئی تھیں۔ ہر مکان میں ایک کمرہ اور ایک برآمدہ دیا گیا تھا. 80 گز میں سنگل کمرہ ہوا کرتا تھا یعنی برآمدہ بھی نہیں ہوتا تھا. تینوں قسم کے کوارٹرز میں ایک باورچی خانہ، ایک غسل خانہ اور ایک واش روم شامل تھا۔ باورچی خانے میں ایک چمنی بھی دی گئی تھی تاکہ دھواں اوپر کی جانب نکل جائے جو کہ چھت پر باقاعدہ اونچا کر کے بنائی گئی تھی جیسے ٹھنڈے علاقوں میں گھروں پر بنتی ہے۔
 کورنگی کہ رہائشی علاقے کو 6 بڑے حصوں میں بانٹا گیا جسے 1 نمبر سے 6 نمبر تک کا نام دیا گیا۔ پھر اس کو مزید بلاکس میں تقسیم کیا گیا، جو A ایریا سے شروع ہو کر Y ایریا تک ہیں۔ اس میں کچھ جگہ پر ایکسٹینشن بھی ہوا، جیسے J ایریا کا ایکسٹینشن ہوا تو اسے جے ون ایریا کا نام دیا۔
 کراچی شہر کا سب سے بڑا صنعتی علاقہ کورنگی میں ہی ہے، جہاں سیکڑوں کی تعداد میں چھوٹی اور بڑی فیکٹریاں موجود ہیں۔
 صنعتی علاقے کی وجہ سے مختص کیے گئے رفاعی پلاٹس پر کچی آبادیاں وجود میں آنا شروع ہو گئیں، جن میں وقت کے ساتھ ساتھ اب پکے مکانات بن گئے ہیں۔
 کورنگی بحیثیت ایک ضلع کورنگی ہمیشہ سے ضلع شرقی کا حصہ تھا مگر اگست 2000ء میں بلدیاتی نظام کے تحت جب کراچی کے اضلاع کا خاتمہ کر کے کراچی کو 18 ٹاؤن میں تقسیم کر دیا گیا تو کورنگی کو بھی ایک ٹاؤن بنا دیا گیا۔ 
جب سندھ حکومت نے دوبارہ ضلعی نظام کو بحال کیا تو نومبر 2013ء میں کورنگی کو کراچی کا چھٹا ضلع بنانے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا. یوں اب کورنگی ایک باقاعدہ ضلع ہے اور اس کی چار تحصیلوں میں کورنگی، لانڈھی، شاہ فیصل اور ماڈل کالونی (اربن ملیر) شامل ہیں۔ ضلع کورنگی میں موجود خود کورنگی کا علاقہ جو کہ کورنگی ٹاؤن کہلاتا ہے، اس کی آبادی اتنی زیادہ ہے کہ یہ خود اپنے آپ میں ایک شہر کے برابر ہے۔ ہمارے ملک کے بہت سے شہروں سے زیادہ اس کورنگی ٹاؤن کی آبادی ہے۔
 کورنگی میں مہاجرین کی آباد کاری قیامِ پاکستان کے بعد ہندوستان سے آنے والے مہاجرین زیادہ تر تین راستوں سے پاکستان میں داخل ہوتے تھے۔ ایک راستہ لاہور کا تھا، دوسرا راستہ کھوکھراپار، میرپور خاص کا تھا اور تیسرا راستہ بہ ذریعہ سمندر بحری جہاز کا تھا۔ 
کیونکہ سب بغیر کسی آسرے و سہارے  کے پاکستان آگئے تھے۔ تو جو لوگ لاہور اور میر پور خاص کی سرحد سے ٹرین کے ذریعے آتے تھے۔ ہفتوں اسٹیشن پر ہی بیٹھے رہے  کیونکہ اسٹیشن کے سوا ،ان کے پاس کوئی رہائش کی جگہ نہیں تھی۔
 اسی طرح سے جو لوگ بحری جہاز وں سے کراچی کی بندرگاہ کیماڑی پر آئے ،  وہ بھی رہائش نہ ہونے کی وجہ سے کیماڑی کے آس پاس ہی نہایت تکلیف دہ حالت میں رہنے پر مجبور تھے۔ بس ان حالات میں حکومت کی طرف سے روزانہ پاؤ بھر ڈبہ چاول اور دال کا ملتا۔

 مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوتا کیونکہ نہ تو پکانے کے لیے آگ میسر تھی اور نہ ہی برتن۔ آگ جلانے کے لیے پورٹ کے قریبی علاقے سے لکڑیوں کو چن چن کر جمع کیا جاتا اور پھر آگ لگا کر کھانا بنایا جاتا۔ 
جیسے جیسے سرکار کو جگہ ملتی جاتی ان لوگوں کو خیمہ بستیوں میں منتقل کر دیا جاتا۔ کراچی میں موجود بڑی خیمہ بستیوں میں سے ایک قائدآباد کی خیمہ بستی بھی تھی، جہاں اب قائد اعظم کا مزار ہے۔ 
1959ء میں جب کورنگی آباد ہونے لگا تو جھونپڑیوں میں قیام پذیر مہاجرین کو محض صرف راشنکارڈ اور جاری کردہ رسید، جس کی قیمت 47 روپے ہوتی تھی۔ دیکھ کر کوارٹرز کی الاٹمنٹ شروع ہو گئی، جبکہ بقیہ رقم ماہانہ 27 روپے کے حساب سے ادا کرنی تھی۔ 
روز قائد آباد اور دیگر خیمہ بستیوں میں ٹرک آتے اور ایک ٹرک میں چار خاندانوں کو ان کے سامان سمیت سوار کیا جاتا اور ان کی جھونپڑیوں کو مسمار کر دیا جاتا اور ان لوگوں کو کورنگی کے مختلف علاقوں میں بنائے گئے کوارٹرز میں منتقل کر دیا جاتا۔
 چونکہ یہ لوگ کافی عرصے سے مختلف خیمہ بستیوں میں رہائش پذیر تھے اس لئے خاص شہر اور برادری کے لوگ ایک ساتھ پوری پوری گلیوں میں آباد ہو گئے۔ جن میں خاص طور پر الہ آباد، آگرہ، جونپور، امروہہ، سہارن پور، مظفر نگر، دہلی اور لکھنو وغیرہ کے لوگ شامل تھے۔
 1958ء میں جنرل اعظم خان کے کورنگی میں بڑے پیمانے پر کواٹرز تعمیر کرانے سے پہلے ہی پورے کورنگی میں K ایریا ہی واحد علاقہ تھا، جس میں پہلے ہی مہاجرین کو چھوٹے پیمانے پر لا کر بسایا جا چکا تھا۔ K ایریا کے کچھ کوارٹرز، پارک اور مارکیٹ کی تعمیر لانڈھی کے ساتھ ہی شروع ہوئی تھی اور 57 -1956 میں رہائش بھی ہو گئی تھی، تاہم 1960ء کے لگ بھگ K ایریا میں مزید بڑے پیمانے پر کوارٹرز بنے جو 120 اور 128 گز کے تھے اور ان میں مہاجرین کو لا کر آباد کیا جانے لگا۔ 
زیادہ تر لوگ لیاقت بستی اور فارور لائن کی خیمہ بستیوں سے تھے۔جبکہ شروع کے لوگوں کا تعلق مزارِ قائد پر موجود خیمہ بستیوں سے تھا۔ کے K ایریا میں ہی پاکستان کا نابینا بچوں کا پہلا اسکول قائم کیا گیا تھا۔ اسی طرح جب پاکستان ٹیلی ویژن نے اپنی نشریات کو شروع کیا تھا تو کورنگی میں K ایریا کے پارک میں پہلی مرتبہ ٹی وی لگا کر نشریات دکھائی گئی تھی اور بہت بڑی تعداد میں لوگ اسے دیکھنے آئے تھے۔ اس کے علاوہ K ایریا کی ایک عظمت یہ بھی ہے کے صہبا اختر جیسے عظیم شاعر کا تعلق بھی K ایریا سے تھا۔
 
 بشکریہ جناب سید علی عمران صاحب٭

ہفتہ، 15 اپریل، 2023

پیسا کا ٹیڑھا مینار اور چم چم



The Leaning Tower of Pisa

It is a cathedral bell tower in the Italian city of Pisa, built in the Field of Miracles.
Let's get acquainted with the Leaning Tower of Pisa from a structural point of view:
Its construction began in 1173 AD and they began to establish the bases and then the walls, and after the building reached the third floor, it was noticed that there was a slope.
Can you imagine that a tower weighing 14,500 tons is built on foundations 3 m deep and installed on sand and silt?!!
After discovering the slope, the engineers built the rest of the floors (external walls) so that the height of the floor in the inclined direction is greater than its height in the other direction.
Which increased the inclination of the tower due to the sinking of the foundations in a greater proportion in the soil, due to the increase in the weight of the floors.
Among the reasons why the tower did not collapse:
The construction continued for 199 years, and the construction halt in it for a long time is one of the reasons that allowed the soil to compact, which reduced the rate of inclination, and thus the tower did not collapse completely.
The clay soil helped and the main reason for the tower's tendency not to collapse and its resilience in front of 4 earthquakes.
The engineers calculated the center of gravity of the tower, and it was concluded from the calculations that the tower collapsed completely upon reaching a slope of 5.44 degrees. The tower was closed in 1990 at a tilt of 5.5 degrees, yet the tower did not collapse.
Attempts made to stop the tilt of the tower and not collapse:
Digging deep holes in the ground at a depth of 40 m, and installing the tower with iron cables through the holes. Liquid nitrogen was pumped, which led to the freezing of water in the soil and its expansion and contraction again, which led to the subsidence of the soil and the subsidence of the foundations, and consequently the slope of the tower at the rate of its inclination throughout these years.
They dug 361 holes and injected the soil with 90 tons of cement, which led to the tower's tilt strongly.
And finally, Soil Extraction was used in 1990:
The soil was removed from the non-slanted side so that the tower tilts in that direction, then iron cables were used to fix the tower bases in the ground and the slope was reduced to 4 bikes, and this was what it was at the beginning.
The engineers could have made it vertical, but they didn't want to lose its fame and tourist value because of its tilt.
And after that was completed, the tower was opened.
And it was confirmed that the tower could endure without any collapse for 300 years.

Credit: Engineering Infinity


 

ہفتہ، 8 اپریل، 2023

نئی قسم ۔ برفی نیوزی ڈوارف

 

ایک ربیتانو ، اڈریان ڈی کُک نے اپنے بڑے سائز کی وجہ سے اِس کا قد چھوٹا کرنے کا بیڑا اٹھایا ۔

تو اُس نے نیدر لینڈ ڈوارف (500 گرام) اور فرنچ لاپ  (4500 گرام)کی مدد1949 میں   لی ۔ اور یوں ھالینڈ لاپ وجود میں آیا۔

جارج سکاٹ نے 1964-1975 کے دوران ۔1500 گرام ۔ھالینڈ لاپ تخلیق کرنے میں کامیاب ہو گیا اور دنیا کو،  ریبٹ بریڈر ایسوسی ایشن میں رجسٹر کرواکر ، یونائیٹڈ کنگڈم   اور امریکن  پلیٹ فارم سے متعارف کروایا ۔

گھومتا گھماتا ، پھرتا پھراتا نیدر لینڈ ؤارف کے بچوں کا  ایک جوڑا بوڑھے کے پاس پہنچا ۔ نیدر لینڈ ڈوارف میل جس کا نام بوڑھے نے شیرو رکھا جوان ہوا تو اُس کی کھانا کھلاتے وقت بدتمیزیوں سے بوڑھا پریشان ہو گیا اور اُسے آوارہ گردی کےلئے ، برفی لیبارٹری کے لان میں چھوڑ دیا جہاں تین دیسی میلز کا راج تھا ۔ پہلے تو جیرو نے سب کو آگے لگایا ۔دیسی میل کا سربراہ شیرو پہلے تو یرقا ۔ لیکن پھر خم ٹھونک کر میدان میں آیا ۔ جیرو کی شیرو کے اوپر چھلانگوں نے عجب سماں بندھا۔ شیروبھی حیران ہو کر اُس کی آنی جانیاں دیکھتا رہا پھر موقع پا کر جیرو کی کمر میں دانت گاڑھ دئیے۔جمناسٹ جیرو کی چینخیں گونجنے لگیں ۔ ایمپائر کو آواز دی ، بوڑھے نے جیرو کو چھڑایا ۔ اب جیرو آگے اور شیرو پیچھے ۔ دوڑ بھاگ کے بعد ، جیرو کیکر کے گول ٹکڑوں کے پیچھے چھپ گیا تو بوڑھے نے پکڑ کر  واپس پنجرے میں ڈالا۔کوئی ہفتے بعد ، یعنی 7 فروری2023  کو کھانا ڈالتے وقت ، جیرو نے پھر بوڑھے کے ہاتھوں پر پنجے مارے ۔ بوڑھے نے ایک اتھری نیوزی لینڈ وہائٹ جیرو کے پنجرے میں ڈال دی  اور خود  اور کام کرنے چلا گیا ۔ 

گھنٹے بعد بوڑھے نے نیوزی لینڈ وھائیٹ مادہ کو واپس اُس کے پنجرے میں ڈالا ۔ہفتے بعد یعنی 21 فروری 2023  کو بوڑھے نے نیوزی لینڈ وھائیٹ ، نیوزی لینڈ ریڑ سے بار آور کروانے کے لئے ، حافظ حمزہ ریاض کو دے کر ،حسین خان کے پاس بھجوائی تین دن بعد حسین خان نے کامیابی کی نوید کے بعد بوڑھے کو واپس بھجوادی ۔

ہفتے  بعد     حافظ حمزہ نے بتایا کہ3 نمبر فیمیل نیسٹنگ کر رہی ہے ۔ بوڑھا حیران ہوا کہ ابھی تو اُس کے صرف 7 یا 8 دن ہوئےہیں ، اُس جلدی کیا ہے ؟
خیر اگر 3 نمبر نیوزی لینڈ ھائیٹ نیسٹنگ کی پریکٹس کر رہی ہے تو کوئی بات نہیں ۔ 9 مارچ کو صبح جب بوڑھا اپنے خرگوش کی دیکھ بھال کے لئے گیا اور پانی چلا دیا تاکہ نیچے صفائی ہوجائے کہ بوڑھے پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے نیچے 6 رنگ برنگے بچے پڑے کلبلا رہے تھے ، جلدی سے اٹھایا ۔ خشک کےا ڈرائر سے اُنہیں سکھایا۔

یہ بچے کس کے ہیں؟

دو فیمیل نیدر لینڈ  ڈوارف اور دیسی چیکرڈ کے نیسٹنگ بکس پڑے تھے۔ اگلا نمبر 3 نمبر نیوزی لینڈ وھائیٹ کا تھا ، یہ تو اِس کے ہو نہیں سکتے ۔خیر بچوں کوچوزوں کے بروڈر میں ڈالا کہ اُن کے اوسان بحال ہوجائیں۔ 9 بجے حافظ حمزہ آیا ۔ اُس نے بتایا کہ 3 نمبر کے خون لگا ہوا ہے ۔چیک کیا جلدی سے اُسے ، گائینی روم    میں شفٹ کیا          ۔ جو 3 نمبر کے ہی  4 بچے  دسمبر میں سردی کی وجہ سے کوچ کر گئے ۔

تمام زچہ و بچہ کے لئے بنایا تھا ۔جہاں 1 نمبر نیوزی لینڈ وھائیٹ ، اپنے 8 کیلیفورنئین بچوں کے ساتھ  2 نمبر بیڈ پر قیام پذیر تھی۔

 بیڈ نمبر تین پر نیسٹنگ بکس  میں روئی رکھ  کر چھ بچوں کو شفٹ کیا اور بعد میں اُن کی ماں کو بھی ڈال دیا ۔کمرے کا درجہ حرارت 100 واٹ کے بلبوں سے باہر کے مقابلے میں 10 ڈگری کر دیا ۔ 

حسین خان سے پوچھا : نوجوان ، ریڈ نیوزی لینڈ کے بچے رنگ برنگے کیوں پیدا ہوئے ؟
سر ربّ کی مرضی ۔ایسا ہو جاتا ہے ۔
حسین خان نے جواب دیا ۔ 

تین دن بعد پہلا بچہ دار فانی سے کوچ کر گیا اُسے نکالا ۔ دیکھا وڈیو بنائی ۔

تو معاملہ سمجھ آیا ، جیرو  یعنی نیدر لینڈ ڈوارف اپنے چھوٹے قد کی وجہ سے  7 فروری2023  کو کام دکھا گیا ۔

یوں یک نئی نسل وجود میں آئی ۔

اب ریبیتانوز کہیں گے دیکھو ،  بوڑھے کا پاگل پن، کہ یوکے والے جارج سکاٹ نے کوشش کرکے ڈوارف کو لاپ میں تبدیل کرکے وزن کو 500 گرام کیا اب بوڑھا ڈوارف کو نیوزی لینڈ ڈوارف میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور نتیجے میں یہ دو پیارے پیارے برفی نیوزی  ڈوارف نے جنم لیا ۔ 

بوڑھے کے پاس نیدر لینڈ ڈوارف کا جوڑا  اور ھالینڈ لاپ کا میل ۔ ایک نیک دل ربیتانو  ، حسین خان کےتحفے  ہیں  ۔

اعلانِ خصوصی:۔

بوڑھے کی معلومات کے مطابق اب تک کسی نے پاکستان میں ، نیدر لینڈ ڈوارف اور نیوزی لینڈ وھائیٹ کے ملاپ سے نئی نسل یعنی نیوزی ڈوارف ، تحلیق نہیں کی جو احسن الخالقین کا تحفہ ہے ۔   

لہذا بوڑھے نے بروقت ، پاکستان ایسوسی ایشن آف ریبٹ انڈسٹری (پی اے آر اے ) کے عمائدین کو بذریعہ وٹس ایپ گروپ   اطلا ع دے دی ہے اور درخواست کی ہے ۔ کہ:۔،
 پاکستان   ریبٹ بریڈرایسوسی ایشن (پی آر بی اے) میں" برفی
نیوزی ڈوارف" نسل کو رجسٹر کروانے کی ضروری کاروائی کے متعلق آگاہ  اور مشتہر بذریع وٹس ایپ کیا جائے"۔

ملازم برفی ریبٹری ۔ میجر (ر) محمد نعیم الدین خالد ۔

        ٭٭٭٭٭٭٭جاری ٭٭٭٭٭٭

   مزید مضامین پڑھنے کے لئے جائیں ۔

 فہرست ۔ خرگوشیات  

 

 

جمعرات، 6 اپریل، 2023

عام آدمی کب انسان بنے گا ؟

 کوئی مانے یا نہ مانے‘ اس ملک میں سب سے بڑا جھوٹا‘ سب سے بڑا چور‘ عام آدمی ہے! یہ جو عام آدمی ہے‘ جمع جس کی عوام ہے اور واحد جس کی عام آدمی ہے‘ یہ عام آدمی انتہائی بے شرم‘ بے حیا‘ ڈھیٹ اور بد دیانت ہے! یہ عام آدمی سیاست میں ہے نہ اسٹیبلشمنٹ میں! یہ نہ بیورو کریٹ ہے‘ نہ جرنیل! مگر یہ سب سے بڑا فرعون ہے! یہ اپنے جیسے دوسرے عام لوگوں کا سب سے بڑا دشمن ہے!

یہ پھل بیچتا ہے تو جان بوجھ کر گندے پھل تھیلے میں ڈالتا ہے۔ یہ موٹر سائیکل چلاتا ہے تو پیدل چلنے والوں اور گاڑیاں چلانے والوں کے لیے خدا کا عذاب بنتا ہے۔ یہ ویگن اور بس چلاتا ہے تو ہلاکت کا پیامی بن کر چلاتا ہے‘ لوگ دور بھاگتے ہیں! یہ ٹریکٹر ٹرالی اور ڈمپر چلاتا ہے تو موت کا فرشتہ بن جاتا ہے۔ ٹریکٹر ٹرالیاں اور ڈمپر‘ بلامبالغہ سینکڑوں گاڑیوں اور ہزاروں انسانوں کو کچل چکے ہیں۔

یہ سرکاری دفتر میں کلرک بن کر بیٹھتا ہے تو سانپ کی طرح پھنکارتا ہے اور بچھو کی طرح ڈستا ہے۔ یہ دفتر سے نماز کے لیے جاتا ہے تو واپس نہیں آتا۔ سائل انتظار کر کر کے نامراد ہو کر واپس چلے جاتے ہیں۔ آپ ڈاکخانے جائیے‘ بورڈ لگا ہو گا ''ڈیڑھ بجے نماز کا وقفہ ہے‘‘۔ یہ وقفہ کب ختم ہو گا؟ کچھ معلوم نہیں!

یہ عام آدمی دکاندار ہے تو گاہکوں کو اپنا غلام اور خود کو ہامان سمجھتا ہے۔ صبح جوتے خرید کر شام کو واپس کرنے جائیے، نہیں لے گا۔ واپس کرنا تو دور کی بات ہے‘ تبدیل تک نہیں کرے گا! اس کا گاہک بھی عام آدمی ہے۔ وہ دکاندار سے بھی زیادہ فریبی ہے۔ چیز اچھی خاصی استعمال کرکے واپس یا تبدیل کرنے آئے گا۔

ہر شخص جانتا ہے کہ امریکہ وغیرہ میں یہ عام آدمی‘ جو ہم نے یہاں سے بر آمد کیا ہے‘ دھوکا دیتا ہے۔ مہمان آئیں تو وال مارٹ (وہاں کے سپر سٹور) سے نئے گدے (میٹریس) خریدتا ہے۔ مہمان چلے جائیں تو جا کر واپس کر آتا ہے (یہ شہادت ثقہ افراد نے دی ہے)۔ یہ عام آدمی انگلستان میں‘ گھر سے باہر نکلے تو وِیل چیئر پر ہوتا ہے۔ گھر کے اندر ہو تو چھلانگیں لگاتا ہے (اس کی بھی مضبوط شہادت ہے)۔

یہ عام آدمی گھر کا کوڑا گلی میں پھینکتا ہے۔ یہ دو کروڑ مکان کی تعمیر پر لگا دیتا ہے مگر پانچ ہزار کی بجری‘ گھر کے سامنے ٹوٹی ہوئی سڑک پر نہیں ڈلوا سکتا۔ یہ عام آدمی گھر بناتا ہے تو گلی کا کچھ حصہ گھر میں شامل کر لیتا ہے۔ دکان ڈالتا ہے تو نہ صرف فٹ پاتھ بلکہ آدھی سڑک پر اپنا سامان رکھتا ہے۔ یہ عام آدمی ناجائز تجاوزات کی شکل میں جو فائدہ اٹھا رہا ہے اس کا حساب لگائیے تو شریفوں اور زرداریوں کی مبینہ چوری سے ہزار گنا بڑی چوری ثابت ہو گی!

یہ عام آدمی گیس کے محکمے میں ملازم لگتا ہے تو رشوت لے کر ناجائز‘ چوری چھپے‘ گیس کنکشن دیتا ہے۔ بجلی کے محکمے میں جائے تو گھر بیٹھ کر میٹر ریڈنگ کرتا ہے۔ ٹیلی فون آپریٹر لگے تو فون ہی نہیں اٹھاتا۔ آزما لیجیے۔ آپ کے گردے فیل ہو جائیں گے مگر آپریٹر آپ کی کال نہیں اٹھائے گا۔

یہ عام آدمی ہی ہے جس نے سیاست دانوں کی عادتیں بگاڑی ہیں۔ یہ خوشی سے ان سیاست دانوں کی‘ ان کے بچوں کی‘ ان کے خاندانوں کی غلامی کرتا ہے۔ یہ ساری زندگی ان کے جلسوں میں دریاں بچھاتا ہے۔ نعرے لگاتا ہے۔ ان کی گاڑیوں کے ساتھ دوڑتا ہے۔ ان کی حمایت میں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے جھگڑتا ہے یہاں تک کہ تعلقات توڑ دیتا ہے مگر اپنی اور اپنے کنبے کی حالتِ زار پر رحم کرتا ہے نہ سیاست دانوں سے اپنے حقوق مانگتا ہے۔ آپ علی بلال عرف ظلِ شاہ کے عمر رسیدہ‘ بے بس ماں باپ کی حالت پر غور کیجیے۔ تصور کیجیے ان کی راتیں کیسے گزرتی ہوں گی! ان کی باقی ماندہ زندگی ان کے لیے سزا سے کم نہیں۔

ا یہ عام آدمی اپنے پسندیدہ سیاست کے جلسوں میں   دریاں بچھائے گا۔ اور اُن کے ساتھ تصور کھنچوا کر فخر محسوس کرے گا ۔

غربت نسل در نسل اس کے خاندان میں راج کرے گی مگر یہ فخر سے کہتا رہے گا کہ ہم اتنی نسلوں سےسیاست  کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہی عام آدمی ہے جو سیاست دانوں کے کبیرہ گناہوں کا جواز تراشتا ہے اور ان کی غلطیوں پر غضبناک ہونے کے بجائے ان کا دفاع کرتا ہے۔

یہ عام آدمی اپنے جیسے عام آدمیوں کو اذیت پہنچاتا ہے۔ بیٹے کی شادی کرے تو لڑکی والوں سے جہیز مانگتا ہے۔ بیٹی کی شادی کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ نندوں اور ساس کو چلتا کرے یا ان کے اختیارات چھین لے۔

مسجد میں نماز پڑھنا شروع کرتا ہے تو مولوی صاحب کو اپنا ملازم سمجھتا ہے۔ تجارت کرتا ہے تو کم تولتا ہے۔کسی کے گھرمیں ملازم ہو تو مالک کے ساتھ مخلص نہیں۔ کسی کو اپنا ملازم رکھے تو اس کے کھانے پینے اور لباس کا خیال نہیں رکھتا۔ پیروں‘ فقیروں کے پیچھے بھاگ کر خوار و زبوں ہوتا ہے مگر گھر میں بیٹھے ماں باپ کی خدمت نہیں کرتا۔

یہ ہے وہ عام آدمی جو چاہتا ہے کہ مخالفین کے لیڈر‘ سب کے سب راتوں رات عمر بن عبد العزیزؒ بن جائیں ۔ رات دن ان پر تنقید کرتا ہے۔ اسے پورا یقین ہے کہ اس ملک میں اگر کوئی راہِ راست پر ہے تو صرف وہی ہے اور باقی سب کو اصلاح کی ضرورت ہے۔ اسے یہ بھی یقین ہے کہ سیاست پر‘ مذہب پر‘ ملکی نظام پر‘ امریکہ پر اس کا کہا حرفِ آخر ہے۔ وہی بلند ترین اتھارٹی ہے۔ وہ بہت خلوص سے کہتا اور سمجھتا ہے کہ اگر ملک کو اس کی تجاویز کے مطابق چلایا جائے تو دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی! 

وہ صدر پاکستان کی صدارت پر اعتراض کرتا ہے کہ اُسے صدارت کرنا نہیں آتی ۔ جبکہ وہ محلہ کیا گلی کی کمیٹی کا صدر بھی نہ رہا ہو ۔ 

جس دن یہ عام آدمی‘ آدمی سے انسان بن گیا تو اہلِ سیاست سے لے کر مقتدرہ تک‘ سب ٹھیک ہو جائیں گے۔ اور اس کے انسان بننے کی امید نہ ہونے کے برابر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔


 
ایک دانشور کی "عام آدمی" پر سچی اور کھری تحریر ۔۔۔۔
(منقول)

منگل، 4 اپریل، 2023

بے ربط خیالات ۔ المیہ

 اصل میں دو طرح کی فوج ہے
ایک وہ جسے آپ نے ایلفا ‘براؤ‘ چارلی، یلغار یا عہد وفا میں دیکھ رکھا ہے۔
اور دوسری وہ جس میں ہم ہوتے  تھے ۔ 
افسری کی نوکری پیدل شروع کرتے ہیں۔

 چار چھ مہینے بعد سی ایس ڈی سے قسطوں پر موٹر سائیکل نکلواتے ہیں، چار پانچ سال نوکری کے بعد ابو کوئی پرانی کار دلوادیں تو ٹھیک ورنہ شادی فقط اس لیے لیٹ کرتے ہیں کہ کار کے لیے مال و متاع اکٹھا کر لیا جائے۔

یا آنے والی کے ابو بیٹی کو سُکھ پہنچانے کے لئے بے کار کو کار دے دیں ۔ 
آدھی جوانی کورسسز، پوسٹنگز اور غلطیوں پر ٹی بریک کراتے گزرتی ہے، ہر مہینے کی بیس تاریخ سے پہلے تنخواہ ختم اور ہر سال کے آخر میں رپورٹ ملنے پر نوکری میں دلچسپی اور شوق ختم۔
جب سے دنیا گلوبل ولیج ہوئی، انفارمیشن ایج آئی اور اسکرین شاٹس کا دور چلا ہے دل پشوری بھی ختم ہے۔

جس سے بات ہو، پہلے کورس، یونٹ اور پوسٹنگ پوچھتی ہے۔ باقی مارکیٹ فیس بک نے خراب کی ہوئی ہے
"گرل فرینڈ" تو دور کی بات ہے عمر کے جس حصے میں شادی ہوتی ہے اس میں بیوی بھی "گرل " نہیں عورت ملتی ہے۔
آدھی سے زیادہ نفری کی نوکری، کشمیر اور قبائلی علاقوں کے پہاڑوں پر گزررہی ہوتی ۔ نا اولاد کا بچپن ملتا ہے نا بیوی کی جوانی۔
پتا ہی نہیں چلتا کہ "جینٹل مین" کی بسم اللہ، سبحان اللہ اور الحمداللہ کب ہوئی۔
ایم ای ایس کے بنے ہوئے گھر، بغیر اے سی کے آفس، میس کا بل، بیوی کے روب نما دھکڑے اور سیکنڈ ان کمانڈ کے دئے ہوئے غم ختم نہیں ہوتے کہ ہر دو چار سال بعد پروموشن ایگزام اور بورڈ کی تلوار لٹک جاتی ہے۔
ملک کے طول و عرض پہ پھیلے اپنے اور بیوی کے رشتہ داروں، اپنے دوست اور بیوی کی سہیلیوں کے بچوں کے اے پی ایس میں داخلے،اور اگر بد قسمتی سے آپ علاقے کے واحد فوجی آفیسر ہیں تو رشتے داروں کی نوکریوں کے لئے فون  ،واپڈہ، تھانہ، کچہری کے کام کے ساتھ ساتھ  گاؤں کے فیصلے اور دوست احباب کے لیے مختلف اسٹیشنز پہ گیسٹ رومز کی بکنگ کا غم الگ۔

کر لو فوج میں آنے کی موجاں ۔


 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔