میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 2 نومبر، 2020

گیدڑ سنگھی

  گیڈر سنگھی جس کو انگلش میں Deer Musk بھی کہتے ہیں یہ دو طرح کی ہوتی ہے ایک جوہرن سے نکلتی ہے اس ہرن سے جس کی ناف سے کستوری نکلتی ہے اور ہر کستوری والے ہرن میں نہیں ہوتی بہت کم کسی ہرن سے مل جاے تو مل جاے اس لئے کے بہت نایاب ہے اور مہنگے ترین عطریات میں استعمال ہوتی ہے جس کو بادشاہ یا امیر ترین لوگ ہی خرید سکتے ہیں ۔
دوسری قسم جو گیڈر کے سر پر ایک دانہ پھوڑا نکلتا ہے جو ایک خاص وقت کے بعد گر جاتا ہے ۔یہ گرنے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے ۔🌹

اس کی پہچان یہ ہے کہ اس کو سگریٹ کی کلی یا کاغذ میں لپیٹ کر پانی میں ڈالیں تو چھلانگ لگا کر باہر آ جاتا ہے
اس کو ہاتھ کی ہتھلی میں رکھ کر بند کریں تو ہاتھ میں گرمی کا احساس ہوتا ہے جیسے کوئی سانس لے رہا ہے 🌹
اس کو سیندور میں رکھا جاتا ہے جو اسکی غذا ہے!
دو تین چھوٹی الائچی دو تین لونگ رکھے جاتے ہیں
ہر نئے  چاند میں اس کے بال بڑھ جاتے ہیں جو کاٹ دیے جاتے ہیں ۔
فوائد ۔عملیات میں خاص کر کسی کو دیوانہ بنانے میں استعمال ہوتی ہے ۔
نو چندی  اتوار یا جمعرات یا پیر کو کسی ایسی ڈبیا میں بند کریں ۔جس کے ڈھکن پر شیشہ لگا ہو اس شیشہ کو دھوپ پر کر کے مطلوب پر عکس ڈالیں وہ آپ کے قدموں میں ہو گا -

جس کو اپنا دیوانہ کرنا ہو اس سیندور میں معشوق کے پاؤں کی مٹی ڈال دیں- بس وہ سب کام چھوڑ کرآپ کا طواف کر رہا ہو گا ۔
جس گھر میں ہو اس گھر میں روپے پیسہ ایسابرسے گا جیسے بارش ۔
جس کی جاب نہ لگتی ہو وہ اپنے پاس رکھے دس جگہ اپلائی کرے تو دس جگہ ہی جاب لگے- جو جاب پسند آئے ہاں کردیں -
جس لڑکی کی شادی نہ ہوتی ہو، اُس کے  رشتوں کی لائن لگ جاتی ہے ۔  ماں باپ کو سمجھ نہیں آتا کسے ہاں کریں اور  کسے نا ! 
رانا اکمل کی وال سے -
آخر میں اتنا کہوں گا یہ سب بکواس ہے!
اور ہاں جن کے پاس گیڈر سنگھی ہوتی ہے- وہ خود کندھے پر تھیلا لٹکائے ،  دَر دَر جا کر روٹی مانگ رہے ہوتے ہیں-

 لہٰذا بس اس کا استعمال صرف عطریات میں ہوتا ہے ۔وہ بھی ہرن والی ۔

گیڈر والی گیڈر ہی استعمال کرتے ہیں جاہل بابے اور جاہل لوگ!

 سوری آپ کو سسپنس میں رکھا

٭٭٭٭٭٭

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔