قانون، وقار اور اعتماد کی ایک لازوال مثالیہ منفرد اور تاریخی تصویر 1948ء کے ایک ایسے واقعے کی یادگار ہے جو قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کے قانون کی بالادستی، عسکری نظم و ضبط اور اخلاقی عظمت کو بے مثال انداز میں اجاگر کرتا ہے۔
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب شہر میں کرفیو نافذ تھا۔ قائدِاعظم کا قافلہ ایک لنک روڈ کے ذریعے سفر کر رہا تھا جو کینٹونمنٹ کے علاقے سے گزرتی تھی۔ یہ راستہ عام طور پر قائدِاعظم استعمال نہیں کیا کرتے تھے، مگر کرفیو کی وجہ سے اسی سڑک سے گزرنا ضروری ہو گیا۔
راستے میں ایک پاک فوج کے سنتری نے قافلے کو روک لیا اور بیرئیر کھولنے سے انکار کر دیا۔ سنتری کو علم تھا کہ گاڑی میں خود بانیٔ پاکستان موجود ہیں، مگر قائد سے بے پناہ محبت اور احترام کے باوجود اس نے ڈیوٹی اور قانون کو فوقیت دی۔
سنتری نے قائدِاعظم کو سلیوٹ کیا اور نہایت ادب سے سوال کیا:۔
"سر! کیا آپ کے پاس کرفیو کے دوران سفر کی اجازت ہے؟"
یہ سوال سن کر قائدِاعظم لمحہ بھر کے لیے حیران ہوئے، پھر ایک شفیق باپ کی طرح مسکراتے ہوئے فرمایا:۔
"نہیں بیٹے، میرے پاس اجازت نہیں ہے۔"
یہ جواب سنتے ہی سنتری نے خوش دلی سے قائدِاعظم کو ایک معاہدہ پیش کیا کہ اگر وہ ان کی یونٹ کا دورہ کرنے پر آمادہ ہو جائیں تو انہیں راستہ دے دیا جائے گا۔
قائدِاعظم نے اس پیشکش کو فوراً قبول کر لیا۔
وہ یونٹ 5 ہیوی اینٹی ایئر کرافٹ رجمنٹ تھی، جو آج 5 لائٹ (سام) رجمنٹ کے نام سے جانی جاتی ہے۔
فوجی قیادت کی آمد اور قائد کا اصولی فیصلہ
کینٹونمنٹ میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ اعلیٰ فوجی افسران فوراً 5 ہیوی اے ڈی رجمنٹ پہنچے تاکہ قائدِاعظم کو اس "صورتِ حال" سے نکالا جا سکے۔
جب پریشان حال بریگیڈیئر کمانڈر (بریگیڈیئر اکبر) وہاں پہنچے تو انہوں نے مؤدبانہ درخواست کی کہ قائدِاعظم اپنا سفر جاری رکھیں۔
قائدِاعظم نے مسکراتے ہوئے سنتری کی طرف دیکھا اور فرمایا:۔
"نہیں، ہمارا معاہدہ ہو چکا ہے۔"
یہ الفاظ دراصل اس بات کا اعلان تھے کہ:۔
پاکستان میں کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں—حتیٰ کہ بانیٔ پاکستان بھی نہیں۔
تاریخی دورہ: ۔ یوں 21 فروری 1948ء کو قائدِاعظم نے 5 ہیوی اینٹی ایئر کرافٹ رجمنٹ کا دورہ کیا۔ اسی موقع پر وہ تاریخی تصویر لی گئی جس میں:۔
دائیں جانب بریگیڈیئر اکبر کھڑے ہیں۔محترمہ فاطمہ جناحؒ بھی موجود ہیں۔رجمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر قائدِاعظم کو اینٹی ایئر کرافٹ گن کے بارے میں بریفنگ دے رہے ہیں۔یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا فوجی یونٹ تھا جسے قائدِاعظم نے باضابطہ طور پر وزٹ کیا۔
ایک منفرد اعزاز اسی منفرد اعزاز کی بنا پر 5 لائٹ SAM رجمنٹ پاکستان آرمی کی وہ واحد یونٹ ہےجس کا ریویو سلام فنگ (Salaam Fung) پوزیشن میں لیا جاتا ہےنہ کہ بازو فنگ (Bazu Fung) میں، جیسا کہ آرمی، نیوی اور ایئر فورس کی دیگر تمام یونٹس میں ہوتا ہےیہ روایت آج بھی اس یونٹ کے لیے قائدِاعظم کی یاد اور اعتماد کی علامت ہے۔
---
ایک زندہ گواہ
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ:
وہ نوجوان کیپٹن (جو بعد میں کرنل بنے)
جنہوں نے ملیر بیس پر قائدِاعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا
اور پریڈ کی قیادت کی
وہ آج بھی حیات ہیں، تقریباً سو برس کی عمر میں، مکمل ہوش و حواس، پورے دانت اور سر پر بالوں کے ساتھ—گویا تاریخ خود سانس لے رہی ہو۔
(بشکریہ: لیفٹیننٹ کرنل (ر) عبدالباسط)
قائد اور فوج: محبت اور اعتماد کا رشتہ
یہ واقعہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ قائدِاعظم ۔پاکستان کے کمانڈر ان چیف تھے۔مگر خود کو ایک قانون پسند شہری سمجھتے تھےاور پاک فوج:۔
نظم و ضبط
آئین کی پاسداری
اور فرض شناسی
کی عملی مثال تھی۔
یہ رشتہ خوف کا نہیں، اعتماد کا تھا
یہ اطاعت اندھی نہیں، اصولی تھی
اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک مضبوط ریاست کھڑی ہوتی ہے۔
---
اختتامی کلمات
یہ محض ایک تصویر نہیں،
یہ ایک نظریہ ہے
یہ ایک ریاستی اصول ہے
اور یہ ایک سبق ہے:
> قانون اگر سنتری کے ہاتھ میں بھی ہو
اور سربراہِ مملکت بھی اس کے سامنے سر جھکا دے
تو وہ قوم کبھی تباہ نہیں ہوتی
یہی قائدِاعظم کا پاکستان تھا—
اور یہی وہ پاکستان ہے جس کی ہمیں آج بھی ضرورت ہے۔٭٭٭٭٭٭٭
