Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 6 فروری، 2026

ڈگریوں کا قبرستان

ذہانت کا جلاوطن: سر کین رابنسن کے افکار اور ہماری تعلیمی فیکٹریاں 
​سر کین رابنسن (Sir Ken Robinson) کی شہرہ آفاق گفتگو صرف ایک تقریر نہیں بلکہ ہمارے بوسیدہ تعلیمی ڈھانچے کے تابوت میں آخری کیل ہے۔ پچھلی گفتگو کے تسلسل میں، ہم (بطور اساتذہ اور والدین) اس دیسی پوسٹ مارٹم کو مزید آگے بڑھاتے ہیں، کیونکہ مرض صرف پرانا نہیں، اب یہ ناسور بن چکا ہے۔
1. مضامین کی "ذات پات" کا نظام اور "سائنسی بھوت"
​رابنسن بڑی خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں کہ دنیا کے ہر تعلیمی نظام میں مضامین کی ایک ہی درجہ بندی یعنی "ہائیرارکی آف سبجیکٹس" (Hierarchy of Subjects) پائی جاتی ہے۔ سب سے اوپر ریاضی اور زبانیں، اس کے بعد انسانیات یعنی "ہیومینٹیز" (Humanities) اور سب سے نچلے درجے پر فنونِ لطیفہ۔
​ہمارے دیسی سیاق و سباق میں یہ درجہ بندی ذات پات کے نظام سے زیادہ سخت ہے۔ اگر کوئی بچہ ریاضی میں کمزور ہے تو ہم اسے "کند ذہن" کا لیبل لگا کر کسی کونے میں بٹھا دیتے ہیں۔ ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ رقص، ڈرامہ یا مصوری بھی اتنی ہی اہم ہو سکتی ہے جتنی کہ ریاضی۔ ہمارے ہاں آرٹس پڑھنے والے کو ایسے دیکھا جاتا ہے جیسے وہ کسی سنگین جرم کا ارتکاب کر رہا ہو یا مستقبل میں بے روزگاری کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کر رہا ہو۔ ہم میں سے اکثر اساتذہ جانتے ہیں کہ ہم بچوں کے ادھورے وجود کو پروان چڑھا رہے ہیں؛ ہم انہیں ریاضی کے سوال حل کرنا تو سکھاتے ہیں، مگر زندگی کی پہیلیوں کو حل کرنے کے لیے جس "ڈائیورجنٹ تھنکنگ" (Divergent Thinking) کی ضرورت ہے، اسے نصاب سے خارج کر چکے ہیں۔
2. شیکسپیئر، غالب اور ریاضی کی کلاس کا المیہ
​رابنسن ایک بڑا دلچسپ سوال اٹھاتے ہیں: "کیا آپ کو لگتا ہے کہ شیکسپیئر کبھی بچہ تھا؟" ظاہر ہے وہ تھا، اور شاید کسی انگریزی کی کلاس میں بیٹھا بور بھی ہو رہا ہوگا۔
​ذرا تصور کریں، ہمارے کلاس روم میں ایک ننھا "غالب" بیٹھا ہو اور استاد صاحب اسے الجبرا کے فارمولے رٹا رہے ہوں۔ اگر وہ بچہ کھڑکی سے باہر دیکھ کر کوئی شعر گنگنانے لگے تو اس کی وہ درگت بنے گی کہ شاعری تو دور، وہ عام بات کرنے سے بھی جائے گا۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر بچہ پیدائشی فنکار ہوتا ہے؛ مشکل یہ ہے کہ بڑا ہو کر فنکار کیسے رہا جائے۔ جیسا کہ پکاسو نے کہا تھا، ہم بڑے ہو کر تخلیق کار نہیں بنتے، بلکہ ہم "تخلیق سے باہر" (Grow out of creativity) ہو جاتے ہیں—یا زیادہ درست الفاظ میں، ہمیں تعلیم کے ذریعے تخلیق سے باہر کر دیا جاتا ہے۔
4. تین طرح کی ذہانت اور ہمارا "یک دِماغی" نظام
​سر کین رابنسن کے مطابق انسانی ذہانت تین طرح کی ہوتی ہے، اور بدقسمتی سے ہمارا نظام ان تینوں کا منکر ہے:
​ذہانت متنوع ہے (Diverse): ہم دنیا کا تجربہ اپنی تمام حسیات سے کرتے ہیں، صرف نصابی کتابوں سے نہیں۔ لیکن اسکولوں میں ہم بچوں کو ایسے سدھاتے ہیں جیسے وہ صرف "منطقی تجزیے" (Logical Reasoning) کی مشینیں ہوں۔
​ذہانت متحرک ہے (Dynamic): انسانی دماغ خانوں میں بٹا ہوا نہیں ہے۔ تخلیقی عمل اکثر غیر متوقع رابطوں سے جنم لیتا ہے۔ لیکن ہمارا نظام مضامین کو الگ الگ "سیلوز" (Silos) میں پڑھاتا ہے، جہاں طبیعات کا کیمیا سے اور کیمیا کا زندگی سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔
​ذہانت منفرد ہے (Distinct): ہر بچے کا ٹیلنٹ الگ ہے۔ جب ہم سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں اور ایک ہی پیمانے (گریڈز) پر پرکھتے ہیں، تو ہم بہت سے ہونہار بچوں کو یہ یقین دلا دیتے ہیں کہ وہ نالائق ہیں، صرف اس لیے کہ وہ ہمارے بنائے ہوئے تنگ سانچے میں فٹ نہیں آتے۔
5. تعلیمی افراطِ زر (Academic Inflation) اور ڈگریوں کا سراب
​رابنسن کا ایک اور اہم نکتہ "اکیڈمک انفلیشن" (Academic Inflation) ہے۔ گزشتہ صدی میں جو نوکری بی اے (BA) کی بنیاد پر مل جاتی تھی، آج اس کے لیے ایم اے (MA) یا پی ایچ ڈی (PhD) مانگا جا رہا ہے۔
​ہم نے تعلیم کو ایک بازار بنا دیا ہے جہاں ڈگری کی قدر کرنسی کی طرح گر رہی ہے۔ نتیجہ؟ ہم ایسے نوجوانوں کی فوج تیار کر رہے ہیں جو 30 سال کی عمر تک یونیورسٹیوں کی خاک چھانتے ہیں، ڈگریوں کے انبار لگاتے ہیں، اور پھر جب عملی زندگی میں آتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا وہ "کاغذی علم" حقیقی دنیا کے مسائل حل کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ ہم میں سے جو لوگ یونیورسٹیوں میں پڑھاتے ہیں، یہ دیکھ کر کڑھتے ہیں کہ طالب علم علم کی پیاس بجھانے نہیں، بلکہ صرف اس کاغذ کے ٹکڑے (ڈگری) کو حاصل کرنے آتے ہیں جسے وہ "مستقبل کی ضمانت" سمجھتے ہیں۔
6. حتمی نکتہ: میکانکی نہیں، نامیاتی نظام کی ضرورت
​آخر میں، رابنسن تعلیم کو "مینوفیکچرنگ ماڈل"
(Manufacturing Model) سے نکال کر "ایگریکلچرل ماڈل" (Agricultural Model) پر لانے کی بات کرتے ہیں۔ فیکٹری میں چیزیں یکساں بنتی ہیں، لیکن کھیتی باڑی میں آپ پودے کو زبردستی بڑا نہیں کر سکتے؛ آپ کو صرف سازگار ماحول فراہم کرنا ہوتا ہے، پودا خود اپنی جڑیں مضبوط کرتا ہے۔
​ہمیں اپنے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو فیکٹریوں کی بجائے باغوں میں بدلنا ہوگا۔ جہاں ہر بچے کو ایک الگ قسم کا پھول سمجھا جائے، نہ کہ اینٹ جو کسی دیوار میں چن دی جائے۔ "ہم" (بطور معاشرہ) اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتے جب تک ہم اپنی "انسانی وسائل" (Human Resources) کی کان کنی بند کر کے ان کی آبیاری شروع نہیں کرتے۔
​مستقبل ان کا ہے جو لکیر کے فقیر نہیں، بلکہ نئی راہیں تراشنے والے ہیں۔ اور یہ راہیں تبھی نکلیں گی جب ہم اپنی "تخلیقی صلاحیتوں" (Creative Capacities) کو اپنی امیدوں کی طرح وسیع کریں گے۔
٭٭٭٭٭٭٭

اتوار، 18 جنوری، 2026

آرٹیمس -2 ناسا کا خلائی مشن

  آرٹیمس II مشن NASA کے خلائی لانچ سسٹم (SLS) اور اورین خلائی جہاز کی پہلی عملہ پرواز کے طور پر ایک اہم لمحے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ستمبر 2025 کے لیے طے شدہ، آرٹیمس II تقریباً 10 دن کے مشن پر خلابازوں کو بھیجنے کے لیے تیار ہے، جو چاند کے سب سے دور انسانی سفر کا ریکارڈ قائم کر کے تاریخ رقم کرے گا۔ Artemis I مشن کی کامیابی اور جانچ کے لیے وقف کردہ ہزاروں گھنٹے کی بنیاد پر، Artemis II SLS راکٹ کے بلاک 1 کنفیگریشن پر کینیڈی اسپیس سینٹر سے چار خلابازوں کا عملہ شروع کرے گا۔ یہ پرواز ایک ہائبرڈ فری ریٹرن ٹریکٹری کا استعمال کرے گی، جس سے اورین خلائی جہاز کو زمین کے گرد اپنے مدار کو بڑھانے کے لیے متعدد تدبیریں کرنے کی اجازت دی جائے گی اور آخر کار عملے کو قمری مفت واپسی کی رفتار پر رکھا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ زمین کی کشش ثقل قدرتی طور پر چاند کے گرد پرواز کرنے کے بعد اورین کو گھر واپس لے جائے گی۔ 
آرٹیمیس II کی اہم جھلکیاں:
٭۔ 1. تاریخی مشن: خلابازوں کے ساتھ پہلی SLS اور اورین پرواز کے طور پر، یہ مشن NASA کے آرٹیمس پروگرام میں ایک اہم سنگ میل کی نمائندگی کرتا ہے۔
٭۔ 2. ریکارڈ توڑ سفر: یہ مشن خلائی تحقیق کی حدود کو آگے بڑھاتے ہوئے، چاند سے آگے انسانوں کے سب سے زیادہ فاصلے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کرے گا۔  

٭3. جدید پرواز کا راستہ: ہائبرڈ مفت واپسی کا راستہ حفاظت اور کارکردگی کو بڑھاتا ہے، جو قمری پرواز کے بعد زمین پر قدرتی واپسی کی اجازت دیتا ہے۔ Artemis II صرف ایک مشن نہیں ہے؛ یہ چاند پر پائیدار انسانی موجودگی کو قائم کرنے اور مستقبل کے مریخ کی تلاش کی تیاری کی طرف ایک بڑی چھلانگ ہے۔ جب ہم خلائی ہفتہ منا رہے ہیں، آئیے اس اہم مشن اور خلاء میں انسانیت کے مستقبل کے لیے جو دلچسپ امکانات لاتے ہیں ان پر نظر رکھیں۔



٭٭٭٭٭٭٭

پیر، 12 جنوری، 2026

سائبر سیکیورٹی - آپ کی 11 غلطیاں

    آج کی ڈیجیٹل دنیا میں، آپ کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ آپ کی سوچ سے زیادہ قیمتی ہے۔ یہ صرف تصاویر، پسند، یا فالورز نہیں ہے۔بلکہ :۔ 
آپ کا اکاؤنٹ نمائندگی کرتا ہے: ۔

    آپ کی شناخت۔آپ کی ساکھ۔آپ کا ذاتی ڈیٹا  ۔آپ کے رابطے ۔آپ کی مالی رسائی ۔
 روزانہ لاکھوں سوشل میڈیا اکاؤنٹس  کمپرومائز ہوجاتے ہیں ۔اکاونٹ ہیک کرنے والے ،  ہائی جیک کرتے ہیں ۔اپنے پاس ڈاؤن لوڈ  کر لیتے ہیں  یا خاموشی سے آپ کے اکاؤنٹ کی  نگرانی کرتے ہیں    اوراکاؤنٹ ہولڈر کو معلوم ہی نہیں ہوتا ۔ یہ ایک     چونکا دینے والا سچ ہے ؟
  زیادہ تر ہیک اس لیے نہیں ہوتے کیونکہ لوگ لاپرواہ ہوتے ہیں۔   یہ اس لیے ہوتے ہیں کیونکہ لوگ بے خبر ہوتے ہیں۔ یہ پوسٹ آپ کی آنکھیں کھولنے، آپ کی حفاظت کرنے اور ان 11 سب سے عام حفاظتی غلطیوں سے بچنے میں آپ کی مدد کرنے کے لیے بنائی گئی ہے جن کا حملہ آور روزانہ استحصال کرتے ہیں۔ اگر آپ فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، واٹس ایپ، ایکس (ٹوئٹر) یا کوئی آن لائن پلیٹ فارم استعمال کرتے ہیں تو اسے غور سے پڑھیں۔ ایک غلطی یہ سب کرتے ہیں 

  غلطی #1: کمزور یا دوبارہ استعمال شدہ پاس ورڈ آسان پاس ورڈ استعمال کرنا: ۔

 جیسے  123456 پاس ورڈ123 • آپ کا نام یا سالگرہ • متعدد پلیٹ فارمز پر ایک ہی پاس ورڈ اکاؤنٹس کے ہیک ہونے کی یہ #1 وجہ ہے۔ حملہ آور کریڈینشل اسٹفنگ کا استعمال کرتے ہیں، جہاں ایک سائٹ سے لیک ہونے والے پاس ورڈز کو خود بخود کئی پلیٹ فارمز پر جانچا جاتا ہے۔ 

  درست کریں: ۔
  ہر اکاؤنٹ کے لیے ایک منفرد پاس ورڈ استعمال کریں۔
کم از کم 12-16 حروف   بڑے، چھوٹے، نمبر اور علامتیں مکس کریں۔جیسے

     P@A#k%i-S1T0a&n 

 ایک معروف پاس ورڈ مینیجر استعمال کریں۔

غلطی #2: ٹو فیکٹر توثیق کو فعال نہیں کرنا:۔
 (2FA) 2FA کے بغیر، آپ کا اکاؤنٹ تحفظ کی ایک پرت پر انحصار کرتا ہے — آپ کے پاس ورڈ۔ ایک بار جب اس پاس ورڈ سے سمجھوتہ ہو جاتا ہے، حملہ آور فوراً اندر چلا جاتا ہے۔   درست کریں    تمام پلیٹ فارمز پر 2FA کو فعال کریں۔   جہاں ممکن ہو SMS کے بجائے توثیق کار ایپس کا استعمال کریں۔   بیک اپ ریکوری کوڈز آف لائن محفوظ کریں۔ 

 غلطی #3: پیغامات یا ای میلز میں فشنگ لنکس پر کلک کرنا حملہ آور اکثر نقل کرتے ہیں:۔

  • فیس بک سپورٹ • Instagram کی توثیق • کاپی رائٹ یا پالیسی وارننگز • برانڈ پارٹنرشپس • "کسی نے آپ کے اکاؤنٹ میں لاگ ان کیا ہے" الرٹس وہ ایسے لنک بھیجتے ہیں جو حقیقی نظر آتے ہیں - لیکن آپ کے لاگ ان کی تفصیلات چوری کرتے ہیں۔ ✅ درست کریں: ✔ پیغامات یا ای میلز کے لاگ ان لنکس پر کبھی کلک نہ کریں۔ ✔ ہمیشہ براہ راست آفیشل ایپ یا ویب سائٹ کے ذریعے لاگ ان کریں۔ ✔ بھیجنے والے کے صارف نام کو احتیاط سے چیک کریں۔ ✔ گرامر کی غلطیاں اور فوری حکمت عملی تلاش کریں۔ 

 غلطی #4: جعلی تصدیق اور بلیو بیج آفرز پر بھروسہ کرنا

"کوئی بھی آپ کو مفت میں نیلے رنگ کا بیج نہیں دے گا۔" جعلی ایجنٹوں کا وعدہ: • تصدیقی بیجز • اکاؤنٹ کی بازیابی۔ • منیٹائزیشن تک رسائی ان کا مقصد آسان ہے: اپنا اکاؤنٹ چوری کریں۔ ✅ درست کریں: ✔ صرف آفیشل پلیٹ فارم کی تصدیق کے عمل کا استعمال کریں۔ ✔ لاگ ان کوڈز کا کبھی اشتراک نہ کریں۔ ✔ اسناد مانگنے والے DMs پر کبھی بھروسہ نہ کریں۔ 

 غلطی #5: ذاتی معلومات کو اوور شیئر کرنا آپ کی پوسٹس ظاہر کر سکتی ہیں:۔

 • سالگرہ فون نمبرز • مقامات • پالتو جانوروں کے نام • خاندانی تفصیلات حملہ آور اس ڈیٹا کو پاس ورڈ کی بازیابی کے حملوں اور سوشل انجینئرنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ✅ درست کریں: ✔ عوامی ذاتی ڈیٹا کو محدود کریں۔ ✔ سالگرہ اور فون نمبرز کو پرائیویٹ پر سیٹ کریں۔ ✔ "مجھے جانیں" کے رجحانات سے محتاط رہیں 

 غلطی #6: پبلک وائی فائی نیٹ ورکس پر لاگ ان کرنا:۔

 پبلک وائی فائی (کیفے، ہوائی اڈے، ہوٹل) کی نگرانی کی جا سکتی ہے۔ حملہ آور کر سکتے ہیں: لاگ ان کی اسناد کو روکیں۔ • ہائی جیک سیشنز • بدنیتی پر مبنی ری ڈائریکٹ انجیکشن کریں۔ ✅ درست کریں: ✔ عوامی Wi-Fi پر اکاؤنٹس میں لاگ ان کرنے سے گریز کریں۔ ✔ ایک قابل اعتماد VPN استعمال کریں۔ ✔ استعمال کے بعد لاگ آؤٹ کریں۔ 

غلطی #7: تھرڈ پارٹی ایپ کو اندھا دھند اجازت دینا بہت سی ایپس رسائی کی درخواست کرتی ہیں: ۔

• آپ کے پیغامات • آپ کا پروفائل • آپ کی پوسٹس • آپ کا اکاؤنٹ کنٹرول کرتا ہے۔ کچھ نقصان دہ یا ناقص طور پر محفوظ ہیں۔ ✅ درست کریں: ✔ منسلک ایپس کا باقاعدگی سے جائزہ لیں۔ ✔ غیر استعمال شدہ یا مشکوک ایپس کو ہٹا دیں۔ ✔ صرف بھروسہ مند خدمات کی اجازت دیں۔

 غلطی #8: سیکیورٹی الرٹس اور لاگ ان وارننگز کو نظر انداز کرنا پلیٹ فارم اکثر صارفین کو مطلع کرتے ہیں:۔

 • نیا آلہ لاگ ان • مقام کی تبدیلیاں • پاس ورڈ کی تبدیلیاں ان انتباہات کو نظر انداز کرنا حملہ آوروں کو چھپے رہنے کی اجازت دیتا ہے۔ ✅ درست کریں: ✔ سیکورٹی الرٹس پر فوری عمل کریں۔ ✔ مشتبہ سرگرمی ظاہر ہونے پر پاس ورڈ فوری طور پر تبدیل کریں۔ ✔ لاگ ان سرگرمی کا کثرت سے جائزہ لیں۔ 

 غلطی #9: پرانی ایپس یا ڈیوائسز کا استعمال پرانے سافٹ ویئر میں معلوم کمزوریاں شامل ہیں۔ حملہ آوروں کا استحصال: ۔

• بغیر پیچ والے آپریٹنگ سسٹم • پرانے براؤزرز • ایپ کے پرانے ورژن ✅ درست کریں: ✔ ایپس اور آلات کو اپ ڈیٹ رکھیں ✔ خودکار اپ ڈیٹس کو فعال کریں۔ ✔ غیر تعاون یافتہ آلات استعمال کرنے سے گریز کریں۔ 

 غلطی #10: کسی کے ساتھ لاگ ان کوڈز کا اشتراک کرنا کوئی بھی جائز سپورٹ ایجنٹ کبھی نہیں مانگے گا:ـ

 لاگ ان کوڈز • ریکوری کوڈز • تصدیقی ٹوکن ایک بار اشتراک کرنے کے بعد، آپ کا اکاؤنٹ ختم ہوجاتا ہے۔ ✅ درست کریں: ✔ کبھی بھی کسی کے ساتھ کوڈز کا اشتراک نہ کریں۔ ✔ پلیٹ فارم سپورٹ کبھی بھی صارفین سے DMs کے ذریعے رابطہ نہیں کرتا ہے۔ ✔ کوڈز کو اپنے ATM پن کی طرح سمجھیں۔ 

 غلطی #11: یہ فرض کرنا کہ "یہ میرے ساتھ نہیں ہوگا" یہ ذہنیت سب سے خطرناک ہے۔ حملہ آور صرف مشہور شخصیات کو نشانہ نہیں بناتے - وہ نشانہ بناتے ہیں: ۔

• چھوٹے تخلیق کار • کاروبار • روزمرہ استعمال کرنے والے • نئے اکاؤنٹس آٹومیشن ہر ایک کو ہدف بناتی ہے۔ ✅ درست کریں: ✔ سیکیورٹی کو سنجیدگی سے لیں۔ ✔ تعلیم یافتہ رہیں ✔ قابل اعتماد سائبر سیکیورٹی ذرائع کی پیروی کریں۔ 🔐 یہ پہلے سے کہیں زیادہ کیوں اہم ہے۔ ایک بار جب آپ کے اکاؤنٹ سے سمجھوتہ ہو جائے: • آپ مستقل طور پر رسائی سے محروم ہو سکتے ہیں۔ • آپ کے پیروکاروں کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔ • آپ کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ • بازیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ روک تھام ہمیشہ بحالی سے آسان ہے۔ 

  علم = طاقت | آگاہی = تحفظ سائبر سیکیورٹی خوف کے بارے میں نہیں ہے  

 خود  کو سائبر خطرات سے ایک قدم آگے رکھیں ۔

 ٭٭٭٭٭٭٭٭ 

منگل، 6 جنوری، 2026

قائدِاعظم اور ایک سنتری


قانون، وقار اور اعتماد کی ایک لازوال مثال

یہ منفرد اور تاریخی تصویر 1948ء کے ایک ایسے واقعے کی یادگار ہے جو قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کے قانون کی بالادستی، عسکری نظم و ضبط اور اخلاقی عظمت کو بے مثال انداز میں اجاگر کرتا ہے۔
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب شہر میں کرفیو نافذ تھا۔ قائدِاعظم کا قافلہ ایک لنک روڈ کے ذریعے سفر کر رہا تھا جو کینٹونمنٹ کے علاقے سے گزرتی تھی۔ یہ راستہ عام طور پر قائدِاعظم استعمال نہیں کیا کرتے تھے، مگر کرفیو کی وجہ سے اسی سڑک سے گزرنا ضروری ہو گیا۔
راستے میں ایک پاک فوج کے سنتری نے قافلے کو روک لیا اور بیرئیر کھولنے سے انکار کر دیا۔ سنتری کو علم تھا کہ گاڑی میں خود بانیٔ پاکستان موجود ہیں، مگر قائد سے بے پناہ محبت اور احترام کے باوجود اس نے ڈیوٹی اور قانون کو فوقیت دی۔
سنتری نے قائدِاعظم کو سلیوٹ کیا اور نہایت ادب سے سوال کیا:۔
  "سر! کیا آپ کے پاس کرفیو کے دوران سفر کی اجازت ہے؟"
یہ سوال سن کر قائدِاعظم لمحہ بھر کے لیے حیران ہوئے، پھر ایک شفیق باپ کی طرح مسکراتے ہوئے فرمایا:۔
 "نہیں بیٹے، میرے پاس اجازت نہیں ہے۔"
یہ جواب سنتے ہی سنتری نے خوش دلی سے قائدِاعظم کو ایک معاہدہ  پیش کیا کہ اگر وہ ان کی یونٹ کا دورہ کرنے پر آمادہ ہو جائیں تو انہیں راستہ دے دیا جائے گا۔
قائدِاعظم نے اس پیشکش کو فوراً قبول کر لیا۔
وہ یونٹ 5 ہیوی اینٹی ایئر کرافٹ رجمنٹ تھی، جو آج 5 لائٹ   (سام) رجمنٹ کے نام سے جانی جاتی ہے۔
فوجی قیادت کی آمد اور قائد کا اصولی فیصلہ

کینٹونمنٹ میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ اعلیٰ فوجی افسران فوراً 5 ہیوی اے ڈی رجمنٹ پہنچے تاکہ قائدِاعظم کو اس "صورتِ حال" سے نکالا جا سکے۔
جب پریشان حال بریگیڈیئر کمانڈر (بریگیڈیئر اکبر) وہاں پہنچے تو انہوں نے مؤدبانہ درخواست کی کہ قائدِاعظم اپنا سفر جاری رکھیں۔
قائدِاعظم نے مسکراتے ہوئے سنتری کی طرف دیکھا اور فرمایا:۔
 "نہیں، ہمارا معاہدہ ہو چکا ہے۔"
یہ الفاظ دراصل اس بات کا اعلان تھے کہ:۔
 پاکستان میں کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں—حتیٰ کہ بانیٔ پاکستان بھی نہیں۔
تاریخی دورہ: ۔ یوں 21 فروری 1948ء کو قائدِاعظم نے 5 ہیوی اینٹی ایئر کرافٹ رجمنٹ کا دورہ کیا۔ اسی موقع پر وہ تاریخی تصویر لی گئی جس میں:۔
دائیں جانب بریگیڈیئر اکبر کھڑے ہیں۔محترمہ فاطمہ جناحؒ بھی موجود ہیں۔رجمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر قائدِاعظم کو اینٹی ایئر کرافٹ گن کے بارے میں بریفنگ دے رہے ہیں۔یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا فوجی یونٹ تھا جسے قائدِاعظم نے باضابطہ طور پر وزٹ کیا۔

ایک منفرد اعزاز اسی منفرد اعزاز کی بنا پر 5 لائٹ SAM رجمنٹ پاکستان آرمی کی وہ واحد یونٹ ہےجس کا ریویو سلام فنگ (Salaam Fung) پوزیشن میں لیا جاتا ہےنہ کہ بازو فنگ (Bazu Fung) میں، جیسا کہ آرمی، نیوی اور ایئر فورس کی دیگر تمام یونٹس میں ہوتا ہےیہ روایت آج بھی اس یونٹ کے لیے قائدِاعظم کی یاد اور اعتماد کی علامت ہے۔


---

ایک زندہ گواہ

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ:

وہ نوجوان کیپٹن (جو بعد میں کرنل بنے)

جنہوں نے ملیر بیس پر قائدِاعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا

اور پریڈ کی قیادت کی

وہ آج بھی حیات ہیں، تقریباً سو برس کی عمر میں، مکمل ہوش و حواس، پورے دانت اور سر پر بالوں کے ساتھ—گویا تاریخ خود سانس لے رہی ہو۔


(بشکریہ: لیفٹیننٹ کرنل (ر) عبدالباسط)

قائد اور فوج: محبت اور اعتماد کا رشتہ

یہ واقعہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ قائدِاعظم ۔پاکستان کے کمانڈر ان چیف تھے۔مگر خود کو ایک قانون پسند شہری سمجھتے تھےاور پاک فوج:۔
نظم و ضبط
آئین کی پاسداری
اور فرض شناسی
کی عملی مثال تھی۔
یہ رشتہ خوف کا نہیں، اعتماد کا تھا
یہ اطاعت اندھی نہیں، اصولی تھی
اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک مضبوط ریاست کھڑی ہوتی ہے۔

---

اختتامی کلمات

یہ محض ایک تصویر نہیں،
یہ ایک نظریہ ہے
یہ ایک ریاستی اصول ہے
اور یہ ایک سبق ہے:

> قانون اگر سنتری کے ہاتھ میں بھی ہو
اور سربراہِ مملکت بھی اس کے سامنے سر جھکا دے
تو وہ قوم کبھی تباہ نہیں ہوتی

یہی قائدِاعظم کا پاکستان تھا—
اور یہی وہ پاکستان ہے جس کی ہمیں آج بھی ضرورت ہے۔٭٭٭٭٭٭٭

سائبر وار فیئر اور موبائل ہولڈر ۔

اُفق کے پار بسنے والے پیارے دوستو !۔ 
کل مؤرخہ 6 جنوری  2026 دن  1100 بجے سگنل کالج میں  سائبر وار فیئر پر راولپنڈی کے سارے ریٹائرڈ آفیسرز کے لئے لیکچر ہوا ۔ جس کی بنیاد باتوں میں سب سے اہم باتیں: ۔
٭۔ آپ کے مائکرو فنانس بنک ،(یعنی ایزی پیشہ ، جاز کیش اور  یو پیسہ اکاونٹ )سے دھوکے کے ذریعے پیسہ ایسے نکلوانا کہ ایف آئی اے سائبر کرائم سیل کے ڈیجیٹل کھوجی بھی کُھرا ڈھونڈنے میں  بےبس ہوجائیں  یا کر دیئے جائیں ۔ پاکستان کے ایک دو نہیں ہزاروں  سے زیادہ واقعات  رپورٹ ہوئے ہیں ۔جن میں راقم بھی شامل ہے 
٭۔بنکوں سے  سمارٹ کارڈ (  ویزہ کارڈ  اور یونیئن پے کارڈ )سے    بھی   فراڈ ہوئے ہیں ۔کیوں کہ آپ کا پن کوڈ کسی دوسرے  کے علم میں آجائے ، یا آپ   خود دے دیں  اوروہ  جدید ٹیکنالوجی آپ کا  سمارٹ کارڈ کاپی کر لے ۔ 
٭-بنکوں سے آن لائن ٹرانزیکشن  کے ذریعے   آپ سے دھوکے سے پیسے منگوائے جائیں ۔ 

جیسے زیر دستخطی کو  لندن کے ایک دوست سے موبائل کال آئی ۔ کہ سر  بریگیڈئر ۔۔۔۔۔ کا موبائل فون چوری ہو گیا ہے  کوئی  میسج دے رہا ہے کہ  ۔ برادر مجھے 5 لاکھ روپوں کو سخت ضرورت ہے ۔میں آپ کو ہفتے تک لوٹا دوں گا۔ایسے میسج  ہر اُس  شخص کو آئے جن کا موبائل فون چوری ہوا   اور  اُس موبائل والے کے دوستوں   نے بھجوائے بھی لیکن یہ سب  غیرملکی مگر  پاکستانی یا پاکستان میں پڑھنے والے غیر ملکی تھے ۔جنھوں نے باقائدہ اپنے بنک اکاونٹ  نمبر بھی دیئے ۔
٭۔ آپ کو یقیناً ڈمب فون یا سمارٹ   فون پر  یہ میسج  ضرورآیا ہوگا  ۔ 
- یہ میسج    ضرور آیا ہو گا کہ ، مبارک ہو آپ کی جدید ماڈل کی کار، آپ کے موبائل نمبر کی سلیکشن کی وجہ سے انعام میں نکل آئی ۔ آپ جواباً اِس نمبر پر کال کریں ۔
۔ آپ کا   ایزی پیسہ کارڈ ۔ ویزہ کارڈ  بلاک ہو گیا ہے میں ۔ آپ کے بنک سے بول رہا ہوں ۔اگر آپ پریشانی  سے بچنا چاہتے ہیں  تو ہمارا  آپریشن مینیجر آپ کو  اپنے موبائل سے فون کرے گا ۔ اگر آپ تیار ہیں  تو   ایک د بایئے  ورنہ  دو ۔   آپ ایک دبائیں یا دو ، آپ کو موبائل فون سے کال آجائے گی ۔ 
یہ وہ فراڈ  ہیں جو رقوم کے فراڈ تھے!۔
لیکن سب سے گھناؤنا فراڈ ِ انہی فراڈ کے ذریعے اکٹھا  کیا گیاڈیٹا۔ یعنی  موبائل نمبروں سے کئے گئے ، فوجیوں کے آپس میں کئے گئے ایس ایم ایس ،  وڈیوز  ، وائس ریکارڈ یہ سب آپ کے انجانے میں دشمن بن کر دشمنوں کو معلومات  پہنچاتے ہیں ۔مشرقی بارڈر پر ایک سے پانچ کلومیٹر تک ڈمب فون سے سے  کی گئی گفتگو  انڈین  اپنے آلات سے سنتے ہیں ، جو نہایت ہی خطرناک ہے 
 لہذا احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ موبائل  کے استعمال  کو کم سے کم اور ضرورت کے وقت  کیا جائے ۔ 

اور اپنے بچوں بھی بتایا جائے کہ وہ موبائل پر فیملی فوٹو ایک دوسرے کو نہ بھجوائیں ۔اگر آپ  یہ سمجھتے ہیں 

کہ موبائل سے فوٹو ڈیلیٹ کرنے سے ڈیلیٹ ہو جاتی ہے ،ہر گز  نہیں  ، وہ موبائل سے آپ کے سامنے سے ہٹ جاتی ہے لیکن موبائل کمپنی اور وٹس ایپ کے سرور (ڈیٹا بنک) میں موجودرہتی  ہے ۔ 

سائبر سیکیورٹی   کلاس پر ہمارے بچوں  کے وائس میسج سنیں اور اپنے بچوں کو بھی سنائیں  ، تاکہ وہ ایک ذمہ دار شہری بن کر ملک کو بیرونی طاقتوں سے محفوظ رکھیں ۔ شکریہ 
٭٭٭٭٭٭

 

بدھ، 31 دسمبر، 2025

اساتذہ کے لیے بہترین AI ٹولز

  آج کے کلاس روم میں مصنوعی ذہانت کا درست اور ذمہ دارانہ استعمال تدریسی عمل کو مؤثر بنانے کا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے۔ یہ نہ صرف استاد کی تیاری کا وقت کم کرتا ہے بلکہ طلبہ کی سمجھ، مشق اور دلچسپی کو بھی بہتر بناتا ہے۔ بنیادی اصول یہی ہے کہ AI کو استاد کا متبادل نہیں بلکہ معاون سمجھا جائے، تاکہ تدریسی اختیار اور حتمی رہنمائی ہمیشہ استاد کے ہاتھ میں رہے۔ میجک اسکول اے آئی (MagicSchool AI) یہ ٹول خاص طور پر اساتذہ کی روزمرہ ضروریات کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ لیسن پلان، سرگرمیاں، ورک شیٹس، روبریک اور کلاس اسائنمنٹس چند لمحوں میں تیار کی جا سکتی ہیں۔ مفت ورژن میں محدود مگر عملی حد تک مفید سہولیات دستیاب ہیں، جن سے ایک استاد باقاعدہ تدریسی تیاری کر سکتا ہے۔ زیادہ گہرے اور ایڈوانس استعمال کے لیے پیڈ پلان موجود ہے، لیکن عام کلاس روم کے لیے فری ورژن کافی رہتا ہے۔ کینوا (Canva) یہ پلیٹ فارم ڈیزائننگ کو سادہ اور قابلِ رسائی بناتا ہے۔ مفت اکاؤنٹ میں AI کی مدد سے پریزنٹیشنز، کلاس پوسٹرز، اسائنمنٹ شیٹس اور بصری مواد تیار کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ پرو ورژن میں زیادہ ٹیمپلیٹس اور فیچرز شامل ہیں ۔
مگر فری ورژن بھی اساتذہ کے لیے عملی اور مؤثر ثابت ہوتا ہے، خاص طور پر ان کے لیے جو ڈیزائننگ کا پس منظر نہیں رکھتے۔ ڈفٹ (Diffit) یہ ٹول ایک ہی تعلیمی مواد کو مختلف مشکل سطحوں میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سلو لرنرز اور تیز سیکھنے والے طلبہ کے لیے الگ الگ سطح کا مواد تیار کرنا اس کی خاصیت ہے۔ مفت ورژن میں محدود مقدار میں مواد تیار کیا جا سکتا ہے، جو عام کلاس روم کے لیے مناسب ہوتا ہے، جبکہ زیادہ استعمال کے لیے پیڈ سہولت دستیاب ہے۔ برسک ٹیچنگ (Brisk Teaching) یہ ٹول تحریری کام پر فوری فیڈ بیک، گریڈنگ اسسٹ اور بہتری کے نکات فراہم کرتا ہے۔ مفت ورژن میں بنیادی فیڈ بیک اور تبصرے ممکن ہوتے ہیں، جو خاص طور پر بڑی کلاسز میں استاد کا بوجھ کم کرتے ہیں۔ مزید خودکار اور تفصیلی فیچرز پیڈ پلان میں شامل ہیں، مگر ابتدائی استعمال کے لیے فری ورژن فائدہ مند رہتا ہے۔ خانمیگو (Khanmigo) یہ خان اکیڈمی کی جانب سے تیار کردہ محفوظ AI ٹیوٹر ہے، جو طلبہ کی پریکٹس اور استاد کی معاونت میں استعمال ہو سکتا ہے۔ محدود فری رسائی میں بنیادی مدد دستیاب ہوتی ہے، جبکہ مکمل استعمال کے لیے پیڈ آپشن موجود ہے۔ تعلیمی اصول یہی ہونا چاہیے کہ اس ٹول کو نگرانی اور رہنمائی کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ نوٹ بک ایل ایم (NotebookLM) یہ ٹول تحقیق، خلاصہ سازی اور طویل تعلیمی مواد کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس میں اپلوڈ کی گئی فائلوں کی بنیاد پر خلاصے، سوال جواب اور اسٹڈی گائیڈ تیار کی جا سکتی ہے۔ مفت ورژن میں مناسب حد تک فائلز اور نوٹس کے ساتھ کام کیا جا سکتا ہے، جو اساتذہ اور طلبہ دونوں کے لیے مفید ہے۔ کو پائلٹ (Copilot) اور جیمنی (Gemini) یہ دونوں ٹولز آفس اور کلاس روم ورک فلو میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ مائیکروسافٹ ماحول میں کو پائلٹ ای میلز، رپورٹس اور پریزنٹیشن ڈرافٹس میں معاون بنتا ہے، جبکہ گوگل کے ماحول میں جیمنی تحقیق، خلاصہ سازی اور تدریسی مواد کی تیاری میں مدد دیتا ہے۔ دونوں میں محدود مگر عملی فری سہولیات موجود ہیں، جبکہ مکمل فیچرز کے لیے پیڈ ورژن دستیاب ہیں۔ کہوٹ (Kahoot) یہ پلیٹ فارم گیم بیسڈ لرننگ کے لیے استعمال ہوتا ہے اور AI فیچرز کے ذریعے سوالات اور کوئزز تیار کرنے میں مدد دیتا ہے۔ مفت ورژن میں بنیادی کوئزز بنائے جا سکتے ہیں، جو کلاس کے آخر میں فوری ریویژن اور طلبہ کی دلچسپی بڑھانے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ آخر میں یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت تعلیم کو آسان بنانے کا ذریعہ ہے، مگر اصل طاقت استاد کی فہم، تجربے اور رہنمائی میں ہی موجود ہے۔ جو اساتذہ ان ٹولز کو متوازن اور سمجھ داری سے اپنائیں گے، وہ تدریسی معیار کو بہتر بنانے میں نمایاں کامیابی حاصل کر سکیں گے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 

الگورتم Algorithm کا تعارف

  بنیادی طور پر ہدایات یا قواعد کا  مجموعہ   الگورتھم  کہلاتا  ہے، جسے ایک خاص مسئلہ کو حل کرنے کے لیے مرحلہ وار ترتیب میں لکھا جاتا ہے۔ یہ ہدایات یا قواعد کمپیوٹر یا کسی مشین کو بتاتی ہیں کہ ایک مسئلے کو کیسے حل کیا جائے یا کسی کام کو کیسے انجام دیا جائے۔

جب آئی بی ایم نے سسٹم کمپیوٹر بنائے۔ الگورتھم کی ابتدا تو کمپیوٹر کی ایجاد کے ساتھ  ڈاس کمانڈ کے ہمراہ  ہوگئی۔ سرچ ۔فائینڈ ۔کمپئیر  اور سالو وکی کمانڈ اگر آپ کو یاد ہوں تو یہ ڈیسک ٹاپ میں موجود ہوتیں اور آپ اپنی فلاپی ڈسک میں  استعمال کرتے۔ جب انٹر نیٹ کا زمانہ شروع ہوا تو ویب سائیٹ  کی کمانڈ ونڈو میں ، کسی بھی ویب سائیٹ کا لنک ڈھونڈنا بہت مشکل ہوتا ۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے اپنی ویب سائیٹ بنائی تو اُس کے انڈیکس پیج کے بعد سوشل ویب پیج بنایا اور اُس میں آئی کون کے ساتھ  ویب پیج کے مختصر نام لکھ کر 2001 میں اپنے لئے  آسانی پیدا کر دی ۔ پھر اپنے مضامین لکھ کر انٹر نیٹ پر ڈالنے شروع کر دیئے ۔یوں میرا کمپیوٹر  تو کیا ہر پرسنل کمپیوٹر سے   ڈیٹا انٹر نیٹ پر پھیلنا شروع ہو گیا اور وکی پیڈیا نے الگورتھم بنانا شروع کردیا ۔جس کی بنیادی اہمیت سرچ اور فائینڈ کی بدولت  الگورتھم کی مدد سےآپ کی سکرین   پر نظر آنے لگی ۔

اور  اب یہ  الگورتھم مصنوعی ذہانت  (اے آئی ) میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ مشینیں انہی الگورتھمز کی مدد سے ڈیٹا کو پروسیس کرتی ہیں اور فیصلے کرتی ہیں۔جیسے ہمیں بڑھاپے میں سی ایم ایچ سے پہلے جو دوائیاںملتی تھیں تو میری بیوی اپنے موبائیل کو دوائیو ں کے نام سنا کر، اُن کے اجزاء  اور اُس سے ٹھیک ہونے والی بیماری کا سن کر استعمال کرتی اور میں  بھئی جو میڈیکل سپیشلسٹ نے دوا دے دی وہ چپ کرکے کھا لو ، مسئلہ جب پیدا ہوا جب جو دوائیاں پہلے ملتی تھیں اب ان کے متماثل دوائیاں ملنا شروع ہوگئیں۔ تو میں  بھی پریشان ہوگیا ۔ بیوی سے پوچھتا تو وہ موبائل سے زبانی پوچھ کر مجھے سنواتی کہ یہ بلڈ پریشر کی ہے ، یہ کولیسٹرول ختم کرنے کی ، یہ خون پتلا کرنے کی ، یہ جسم کے درد کی ، یہ سکون کے لئے ہے اور یہ دوائیاں کھانے سے پیٹ میں پڑنے والے زخم کو ٹھیک کرنے کے لئے ۔ آہ بوڑھا  پہلے تو حیران ہوا  پھر  پریشان ہوا۔یہ مکمل سیٹ ہے جو بوڑھا پچھلے 15 سال سے روانہ بلا ترّد پورا کر رہا ہے تو پیارے بچو اپنے دادا بابا اور نانا بابا کا خیال اپنی دادی ماں اور نانی ماں کے ساتھ رکھو۔

 الگورتھم کی وضاحت:۔
  ایک الگورتھم کو عام طور پر ایک سیٹ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
  ان پٹ  : وہ ڈیٹا یا معلومات جو آپ الگورتھم کو دیتے ہیں۔
  پروسیسنگ  : وہ حساب کتاب یا فیصلے جو الگورتھم ان پٹ پر عمل کر کے کرتا ہے۔ 

آؤٹ پٹ  : وہ نتیجہ جو پروسیسنگ کے بعد حاصل ہوتا ہے۔
 مثال: فرض کریں آپ ایک ریاضی کے مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں، جیسے کہ دو نمبروں کا مجموعہ معلوم کرنا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ہم ایک سادہ الگورتھم بنا سکتے ہیں:۔
 ان پٹ: دو نمبر (مثال کے طور پر: 5 اور 3)  


  پروسیسنگ: دونوں نمبروں کو آپس میں جمع کریں (5 + 3) 
 آؤٹ پٹ: نتیجہ (  یہ ایک سادہ الگورتھم ہے جو دو نمبروں کو جمع کر کے نتیجہ دیتا ہے۔

 مصنوعی ذہانت میں الگورتھمز کی اہمیت

 اے آئی میں، الگورتھمز بنیادی طور پر مشینوں کو "سکھاتے" ہیں کہ وہ کیسے سیکھیں، کیسے ڈیٹا کو سمجھیں، اور کیسے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کریں۔ الگورتھمز کا استعمال مختلف مسائل کو حل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، جیسے کہ:۔

  ٭-پہچان  : تصویریں یا آواز پہچاننے کے الگورتھمز 
٭۔پیش گوئی  : کسی خاص ڈیٹا کی بنیاد پر مستقبل کی پیش گوئی کرنا، جیسے کہ موسم کا حال بتانا۔   

٭۔ فیصلہ سازی  :خودکار سسٹمز کو فیصلے کرنے میں مدد دینا، جیسے خودکار گاڑیاں چلانے کے لیے راستہ منتخب کرنا۔ 
مشہور الگورتھم کی مثالیں: ۔

 لینیئر ریگریشن : یہ الگورتھم ڈیٹا پوائنٹس کے درمیان نسبت کو سمجھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور مستقبل کے نتائج کی پیش گوئی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کی کمپنی کے سیلز کا ڈیٹا ہے اور آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اگلے مہینے کتنی سیلز ہوں گی، تو آپ لینیئر ریگریشن الگورتھم کا استعمال کر سکتے ہیں۔

٭۔نیریسٹ نیبر(کے این این) : یہ الگورتھم ایک خاص ڈیٹا پوائنٹ کی درجہ بندی کرتا

ہے۔ یعنی یہ نئے ڈیٹا پوائنٹس کو پرانے ڈیٹا کے قریب ترین "پڑوسیوں" کے حساب سے گروپس میں تقسیم کرتا ہے۔ مثلاً، اگر آپ کے پاس مختلف اقسام کے پھلوں کی معلومات ہے اور آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایک نیا پھل کس قسم کا ہے، تو یہ الگورتھم اس کے قریبی پھلوں کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا۔  
٭۔  ڈیسیژن ٹری (فیصلہ ساز درخت)  : یہ الگورتھم ایک درخت نما ڈھانچے کی صورت میں فیصلے

کرتا ہے، جہاں ہر نوڈ ایک سوال یا فیصلہ ہوتا ہے اور ہر شاخ ایک ممکنہ جواب یا نتیجہ۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کو کسی صارف کو قرض دینا ہے، تو آپ مختلف سوالات (جیسے آمدنی، عمر، کریڈٹ ہسٹری) کی بنیاد پر فیصلہ کر سکتے ہیں۔

٭۔نیورل نیٹ ورک  : یہ الگورتھم دماغ کی طرح کام کرتا ہے اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ تصویری پہچان، آواز کی شناخت، اور قدرتی زبان کی پروسیسنگ جیسے کاموں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔

یوں سمجھیں کہ  الگورتھم دراصل وہ "ریسیپی" یا "ترکیب" ہے جسے کمپیوٹر یا مشین ایک خاص کام انجام دینے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ مصنوعی ذہانت میں الگورتھمز کا استعمال بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ ڈیٹا کے ساتھ کام کرنے اور درست نتائج فراہم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
 
٭٭٭٭٭٭٭٭ 

اتوار، 28 دسمبر، 2025

فہرست ۔ انٹیلیجنس ۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور تبدیلیاں

 آٹھ دسمبر 2025 کو اے آر وائی ٹی وی پر ایک  پروگرام چلا جس میں   عمار جعفری صاحب ایف آئی اے  ،اپنے بارے میں بتا رہے تھے اورمحمد علی جناح صاحب ہوسٹ تھے ۔ اور پاکستان کے مستقبل کے لئے اپنا فہم بتا رہے تھے ۔  میں وٹس ایپ پر اپنا تعارف کروایا اور بات کرنے کی اجازت چاہی ۔ مجھے 2 بجے اُن کی کال آئی ، یوں 2002 کو ایف 10 کی بیسمنٹ میں اُن کے ادارے  کی یادیں سمٹ آئیں  ۔ حکم دیا کہ میں  سی آئی ٹی کا لنک بھیج رہا ہوں ۔ رجسٹر ہوجاؤ اور عسکری 14 میں ، آن  لائن ٹریننگ ، سائبر سیکیورٹی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے بارے میں ، پاکستان  کے مستقبل  کے ماہرین کو تیار کرو ۔  میں وٹس ایپ لنک بھی بھیج رہا ہوں ۔ شام کو     سی آئی ٹی سینٹر عسکری 14 راولپنڈی   کے لئے 1000 روپے جمع کرواکے رجسٹر ہو گیا ۔ 9 تاریخ کوصبح ساڑھے سات بجے ، زوم کے لنک کے ذریعے   میٹنگ میں شام ہوگیا ۔  

٭۔سنٹر آف انفارمیشن ٹیکنالوجی ۔

 اب تک تو یہ بوڑھا اپنی بڑھیا کے ساتھ ،  اُفق کے پار بسنے والے اپنے بچوں اوراُن کے بچوں سے   بات کرتا۔  لیکن اب یہ  زوم لنک دوبارہ   بوڑھے کو تعلیمی میدان میں گھسیٹ لایا ۔25 نوجوان ، ادر جوان  اور بزرگ ، اپنے اپنے مائک اور کیمرہ آف کئے لیکچر سن رہے تھے ۔ موضوع تھا ۔ سائبر سکیورٹی  (انٹرنیٹ ، موبائل ، وٹس ایپ  اور ھیکر ) کے بارے بتایا جا رہا تھا ۔ بوڑھے نے پہلا انٹر نیٹ فراڈ ، جعفری صاحب کے ادارے کے ساتھیوں کی مدد سے   پکڑ وایا تھا ۔

گمشدہ دفینوں کی سر زمین افریقہ۔نومبر 2004

تو اُفق کے پار بسنے والے میری دوستو ۔ اُن کے بچو اوربچوں کے بچو (لوئی معشومان)  ۔ انسانی ذھانت   ، کمپیوٹر کی دنیا میں داخل ہو کر ،  مصنوعی ذھانت  کے  سحاب   (کلاؤڈ) میں داخل ہو چکی ہے اور غیر محسوس طریقے   سے ہماری مددد کر رہی ہے ۔ ہے نا حیرت کی بات ۔مجھے معلوم ہے کہ   ہمارے دماغ  (اردو میڈیم) میں ، پاکستانی  الفاظوں   کے ساتھ انگلش کے الفاظوں کی ڈکشنری ہے جو دماغ کے تحت الشعور میں چھپے ہیں ۔جو اُس وقت  ذھن کے شعور (میموری)میں آتے ہیں ، جب ہمارے گرینڈ چلڈرن آپس میں کوئی انگلش کا لفظ یا جملہ آپس میں بولتے ہیں  ۔جو بڑی مشکل   دوبارہ سننے پر سمجھ میں آتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم انگلش بولنے والوں  کی دنیا میں اپنی جھجھک  کی وجہ سے نہیں داخل ہو سکتے ۔ لیکن یہ مشکل نہیں  ۔ پاکستان کے ہمدردلوگ  الفاظوں کی اِس میراتھن میں ہمیں ساتھ لے کر  آرٹیفیشل  انٹیلیجنس  (مصنوعی ذھانت) کے اِس سحاب (کلاؤڈ) میں داخل کروانا چاھتے ہیں ، جو ہمارے پاس ، ہمارے   سمارٹ فون میں موجود ہیں ۔

بس آپ نےیہ کرنا ہے کہ   اِس لنک کو دبائیں اور خود کورجسٹر کرکے مُفت    آرٹیفیشل انٹیلیجنس   (اے آئی) کے ٹیچر سے  معلومات حاصل کرنا شروع کردیں ۔ اگر آپکو جملہ سمجھ نہیں آتا تو دائیں لکھے ہوئے پچھلے جملے پر کلک کریں ، ت؎ٹیچر آپ کو دو بار۔ تین بار۔ چار  بار  یا اُس سے زیادہ بتانے پر بھی نہیں تھکے گا ۔ اور آپ  گرینڈ چلڈرن کے ساتھ اے آئی کی دنیا میں داخل ہو جائیں گے ۔ لنک یہ ہے :۔
٭- اقراء سٹی ۔آرٹیفیشل انٹیلیجنس 
٭۔سنٹر آف انفارمیشن ٹیکنالوجی ۔

٭-ZOOM میٹنگ  روزانہ 7:30 صبح و شام  

 

٭٭٭٭مضامین ٭٭٭٭

 ٭۔ذھانت  سےمصنوعی ذھانت اور تبدیلی  

٭ـآرٹیفیشل انٹیلیجنس  (اے آئی)

٭۔اے آئی  کے انسانی زندگی پر فوائد 


  

 

بدھ، 24 دسمبر، 2025

آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے انسانی زندگی پر فوائد

میٹا اے آئی  نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے انسانی زندگی پر فوائد:۔

٭1. کارکردگی میں اضافہ: آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے، کاموں کو خودکار طور پر انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
٭2. صحت کی دیکھ بھال: آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے، بیماریوں کی تشخیص اور علاج میں مدد ملتی ہے، جس سے صحت کی دیکھ بھال میں اضافہ ہوتا ہے۔
٭3. تعلیم: آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے، تعلیم کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، جس سے طلباء کو بہتر طریقے سے سیکھنے میں مدد ملتی ہے۔
٭4. کاروبار: آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے، کاروبار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، جس سے کاروباریوں کو بہتر طریقے سے فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے۔
٭5. سیکورٹی: آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے، سیکورٹی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، جس سے جرائم کی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے انسانی زندگی پر نقصانات:۔
٭1. اشتغال: آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے، انسانوں کی ملازمتوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔

٭2. انحصار: آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے، انسانوں کو مشینوں پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے انسانوں کی خود مختاری کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
٭3. سیکورٹی کے خدشات: آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے، سیکورٹی کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں، جس سے جرائم کی روک تھام میں مشکل ہوتی ہے۔
٭4. اخلاقیات: آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے، اخلاقیات کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں، جس سے انسانوں کی حقوق کی حفاظت میں مشکل ہوتی ہے۔
٭5. انسانی تعلقات: آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے، انسانی تعلقات کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، جس سے انسانوں کے درمیان تعلقات میں مشکل ہوتی ہے۔
یہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے انسانی زندگی پر فوائد اور نقصانات کی ایک مختصر فہرست ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے، انسانوں کی زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی کچھ خدشات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ 

آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے خدشات:۔
٭1. *اشتغال 

اے آئی  کی (مشغولیت کی ) وجہ سے انسانی ملازمتوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔ بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

٭ 2. *انسانی تعلقات کا نقصان
اے آئی  کی وجہ سے انسانی تعلقات کا نقصان ہو سکتا ہے۔ سماجی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔
٭3. *سیکورٹی کے خدشات

اے آئی  کی وجہ سے سیکورٹی کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔
- ہیکرز  اے آئی  کا استعمال کرکے  سائبرحملے کر سکتے ہیں۔
٭4. *اخلاقیات کے خدشات
اے آئی   کی وجہ سے اخلاقیات کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔
اے آئی   کا استعمال غیر اخلاقی مقاصد کے لئے کیا جا سکتا ہے۔
٭5. *انحصار
اے آئی کی وجہ سے انسانوں کا انحصار اے آئی  پر بڑھ سکتا ہے۔
- انسانوں کی خود مختاری کا نقصان ہو سکتا ہے۔
٭6. *ڈیٹا کی حفاظت
اے آئی  کی وجہ سے ڈیٹا کی حفاظت کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔
- ڈیٹا کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔
٭7. *تعلیم اور تربیت
اے آئی کی وجہ سے تعلیم اور تربیت کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔
- انسانوں کو نئی ملازمتوں کے لئے تعلیم اور تربیت فراہم کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
٭8. *سماجی تبدیلیاں
اے آئی  کی وجہ سے سماجی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔
- سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مضبوط بنانا مشکل ہو سکتا ہے۔
٭9. *اقتصادی تبدیلیاں
اے آئی کی وجہ سے اقتصادی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔
- اقتصادی ترقی کے پروگراموں کو فروغ دینا مشکل ہو سکتا ہے۔
٭10. *انسانی حقوق
اے آئی کی وجہ سے انسانی حقوق کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔
- انسانوں کے حقوق کا تحفظ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے خدشات کے حل میں شامل ہیں:۔
٭1. تعلیم اور تربیت
٭2. سماجی تحفظ
٭3. اقتصادی ترقی
٭4. انسانی حقوق کا تحفظ
٭5. سیکورٹی کے اقدامات
٭6. اخلاقیات کے اصول
٭7. انحصار کا حل
٭8. ڈیٹا کی حفاظت
٭9. تعلیم اور تربیت کے پروگرام
٭10. سماجی تبدیلیوں کا حل

آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سماجی تبدیلیاں

آرٹیفیشل انٹیلیجنس   (
اے آئی ) نے سماجی تبدیلیوں کا حل نکالنے کے لئے کئی طریقے اپنائے ہیں۔  
اے آئی  کی مدد سے، سماجی تبدیلیوں کا حل نکالنے کے لئے کئی منصوبے اور پروگرام بنائے گئے ہیں۔جن میں سے کچھ یہ ہیں:۔
٭1. سماجی مسائل کا حل
  اے آئی   کی مدد سے سماجی مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے، جیسے کہ غربت، بے روزگاری، اور تعلیم کی کمی۔
٭2. صحت کی دیکھ بھال
  اے آئی  کی مدد سے صحت کی دیکھ بھال میں بہتری آئی ہے، جیسے کہ بیماریوں کی تشخیص اور علاج۔
٭3. تعلیم اور تربیت
  اے آئی   کی مدد سے تعلیم اور تربیت میں بہتری آئی ہے، جیسے کہ آن لائن کورسز اور تعلیمی منصوبے۔
٭4. سماجی تحفظ
  اے آئی   کی مدد سے سماجی تحفظ میں بہتری آئی ہے، جیسے کہ جرائم کی روک تھام اور تحفظ کے منصوبے۔
  اے آئی   کی مدد سے سماجی تبدیلیوں کا حل: ۔
  اے آئی   کی مدد سے سماجی تبدیلیوں کا حل نکالنے کے لئے کئی منصوبے بنائے گئے ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں:۔
٭1. پاکستان میں   اے آئی    کی مدد سے سماجی تبدیلیاں
- پاکستان میں 
  اے آئی   کی مدد سے سماجی تبدیلیوں کا حل نکالنے کے لئے کئی منصوبے بنائے گئے ہیں، جیسے کہ غربت کی روک تھام اور تعلیم کی بہتری۔
٭2. دنیا بھر میں   اے آئی   کی مدد سے سماجی تبدیلیاں
- دنیا بھر میں 
  اے آئی   کی مدد سے سماجی تبدیلیوں کا حل نکالنے کے لئے کئی منصوبے بنائے گئے ہیں، جیسے کہ صحت کی دیکھ بھال میں بہتری اور سماجی تحفظ کے منصوبے۔
  اے آئی   کی مدد سے سماجی تبدیلیوں کا حل  چیلنجز
  اے آئی   کی مدد سے سماجی تبدیلیوں کا حل نکالنے کے لئے کئی چیلنجز ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں:۔
٭1. ڈیٹا کی کمی
  اے آئی  کی مدد سے سماجی تبدیلیوں کا حل نکالنے کے لئے ڈیٹا کی کمی ایک بڑا چیلنج ہے۔
٭2. تکنیکی مسائل
  اے آئی  کی مدد سے سماجی تبدیلیوں کا حل نکالنے کے لئے تکنیکی مسائل بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔
  اے آئی   کی مدد سے سماجی تبدیلیوں کا حل: مستقبل
  اے آئی   کی مدد سے سماجی تبدیلیوں کا حل نکالنے کے لئے مستقبل میں کئی منصوبے بنائے جائیں گے، جن میں سے کچھ یہ ہیں:۔
٭1.   اے آئی   کی مدد سے سماجی تبدیلیوں کا حل
  اے آئی  کی مدد سے سماجی تبدیلیوں کا حل نکالنے کے لئے کئی منصوبے بنائے جائیں گے۔
٭2. سماجی تحفظ کے منصوبے 
- سماجی تحفظ کے منصوبے بنائے جائیں گے جو 
  اے آئی   کی مدد سے سماجی تبدیلیوں کا حل نکالنے میں مدد کریں گے۔

 ٭٭٭٭٭٭مصنوعی ذھانت  بمقابلہ  انسانی ذھانت ٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔