Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 10 جون، 2014

ربو، ربا، الربا اور ربوۃ

   الکتاب  میں " ر ب و " مادے سے بننے والے الفاظ   یہ ہیں -

 رَ‌بَتْ(2)، يَرْ‌بُو(2)، رَ‌بَّيَانِي، نُرَ‌بِّكَ، يُرْ‌بِي، رَّ‌ابِيًا، رَّ‌ابِيَةً، أَرْ‌بَىٰ، الرِّ‌بَا(7)، رِّ‌بًا، رَ‌بْوَةٍ اور بِرَ‌بْوَةٍ
 یہ 20 الفاظ درج ذیل 15آیات کا حصہ ہیں- 

اللہ کی رضا کے لئے اموال کی تقسیم، کا فائدہ، مَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبْوَةٍ :
 1. وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّـهِ وَتَثْبِيتًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبْوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَآتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِن لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ﴿البقرة: 265﴾

الرِّبَا اللہ نے حرام قرار دے دیا   اور  الْبَيْعُ کو حلال ۔
 2. الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّـهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَن جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّـهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿البقرة: 275﴾

الرِّبَا  کو  اللہ  ختم کرتا ہے اور صدقات کو رْبِي کرتا رہتا ہے ۔
 3. يَمْحَقُ اللَّـهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّـهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ ﴿البقرة: 276﴾

الرِّبَا کا بقایا ، اللہ سے متقی ہوتے ہوئے چھوڑ دو !
 4. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿البقرة: 278﴾ 

الرِّبَا دو گُنا اور چار گنا نہیں کھانا۔
 5. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّـهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿آل عمران: 130﴾

ھادو انسانوں سےالرِّبَا  لیتے ہیں اورانسانوں کے اموال جھوٹ (بول کے) کھاتے ہیں ، جبکہ اُنہیں منع ہے ۔
6. وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ﴿النساء: 161﴾

 سیلاب سے بننے والا زَبَدًا رَّابِيًا  متاع ہے ۔
 7. أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًا وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْيَةٍ أَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهُ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ اللَّـهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ اللَّـهُ الْأَمْثَالَ ﴿الرعد: 17﴾
 
 قسموں کی بنیاد پر ایک امت دوسری سے أَرْبَىٰ  نہ ہو !
 8. وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِن بَعْدِ قُوَّةٍ أَنكَاثًا تَتَّخِذُونَ أَيْمَانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ أَن تَكُونَ أُمَّةٌ هِيَ أَرْبَىٰ مِنْ أُمَّةٍ إِنَّمَا يَبْلُوكُمُ اللَّـهُ بِهِ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ ﴿النحل: 92﴾

 تیرے والدین نے جیسے تجھے کمسنی میں رَبَّيَا  کیا -
 9. وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا ﴿الإسراء: 24﴾

 بارش کے پانی سے زمین رَبَتْ  ہوتی ہے  اور ہر شئے نبات ہوتی ہے ۔
 10. يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِن مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنبَتَتْ مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ﴿الحج: 5﴾ 

اللہ نے ابن مریم اور اُس کی ماں کورَبْوَةٍ میں رہائش دی ۔
 11. وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ آيَةً وَآوَيْنَاهُمَا إِلَىٰ رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ ﴿المؤمنون: 50﴾

 کیا ہم نے تمھیں اپنے درمیان رَبِّ نہیں کیا ؟
 12. قَالَ أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدًا وَلَبِثْتَ فِينَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ ﴿الشعراء: 18﴾

رِّبًاسے انسانوں کے اموال رَبُوَ  کرنے پر اللہ کے نزدیک وہ  رَبُوَ نہیں ہوتے بلکہ اللہ کی خوشنودی کے لیے زکاۃ دینے والے انہیں دو گنا کرنے والے ہیں ۔
 13. وَمَا آتَيْتُم مِّن رِّبًا لِّيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُو عِندَ اللَّـهِ وَمَا آتَيْتُم مِّن زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ ﴿الروم: 39﴾ 

بارش کے پانی سے زمین رَبَتْ  ہوتی ہے اور موت کو حیات ملتی ہے  ۔
 14. وَمِنْ آيَاتِهِ أَنَّكَ تَرَى الْأَرْضَ خَاشِعَةً فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴿فصلت: 39﴾

 انہوں اپنے ربّ کے رسول سے نافرمانی کی رَّابِيَةً نے انہیں پکڑا لیا۔
 15. فَعَصَوْا رَسُولَ رَبِّهِمْ فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةً رَّابِيَةً ﴿الحاقة: 10﴾

 امید ہے کہ ہمیں اِس بات میں ذرا بھی اختلاف نہیں ہوگا کہ " ر ب و " مادے سے بننے والے الفاظ کا مفہوم دوگنا اور چار گنا بڑھانا  ہے - 
لیکن ایک بات واضح ہے۔
 3. يَمْحَقُ اللَّـهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّـهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ ﴿البقرة: 276﴾ 

 13. وَمَا آتَيْتُم مِّن رِّبًا لِّيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُو عِندَ اللَّـهِ وَمَا آتَيْتُم مِّن زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ ﴿الروم: 39﴾

 5. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّـهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿آل عمران: 130﴾

 4. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿البقرة: 278﴾

 فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْ‌بٍ مِّنَ اللَّـهِ وَرَ‌سُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُ‌ءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ ﴿279﴾ البقرة 

فَلَكُمْ رُ‌ءُوسُ أَمْوَالِكُمْ -  
پس تمھارے لئے  رُ‌ءُوسُ أَمْوَالِكُمْ یعنی اگر آپ رُ‌ءُوسُ أَمْوَالِكُمْ  لیتے ہیں تو وہ الرِّ‌بَا نہیں اور نہ ہی تم فَأْذَنُوا بِحَرْ‌بٍ مِّنَ اللَّـهِ وَرَ‌سُولِهِ ۖ میں پھنسو گے ۔ یعنی ، اس آذان حرب جو اللہ اور رسول کے ساتھ شروع ہوگی ، سےبچت ہو جائے گی ۔
رُ‌ءُوسُ أَمْوَالِكُمْ ۔ رُ‌ءُوسُ ( سر   کی جمع ہے )  أَمْوَالِكُمْ تمھارے اموال ۔
 یہاں  رُ‌ءُوسُ أَمْوَالِكُمْ کا ترجمہ اصل زر لیا جاتا ہے ۔
 اب ہم اس کے ان دونوں معنوں کو اس آیت سے دیکھتے ہیں:
 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّ‌بَا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّـهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿آل عمران: ١٣٠﴾
نوجوان : میں اِس سال  درج ذیل میں سے کوئی ، اصل زر دے رہا ہوں ، اگلے سال میں  منافع   لوں گا ! کیوں کہ آپ میرے دیئے ہوئے اصل زر سے بزنس کریں گے !

 ۔ ۔ ۔  ۔ إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّـهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۔ ۔ ۔  ۔   ﴿البقرة: 275﴾

آپ اگلے سال مجھے کتنا    الْبَيْعَ  دینا چاھیں گے  ،کہ وہ   الرِّبَا   میں نہ تبدیل ہوجائے  ؟ 
  ٭٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭  
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَأْكُلُواْ أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ 
إِلاَّ أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ 
وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ إِنَّ اللّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا [4:29]
  ٭٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭

قرض ، سود ، منافع اور الرِّبَا - قسط 1

غذا سے علاج


گاجر ، چنے شلغم ، پپیتا، آملہ ، انناس ، سونف ، ادرک ، دودھ ، نمک ، ملتانی مصری ، ہلدی ، سرسوں کا تیل ،  دکھنی مرچ ، گنا ، مچھلی ، انڈا  یہ وہ اشیاء ہیں ۔  یہ وہ اشیائے خوراک ہیں جن سے آپ اپنا علاج کر سکتے ہیں ۔ آزمائش شرط ہے ۔

1938 میں لکھی گئی یہ نظم ،   میں نے  1994میں   پہلی بار پڑھی  تھی  ، واقعی اللہ نے اپنی  تخلیق کی گئی۔ انسان کے لئے حلال کی گئی  تمام انسانی خوراک میں مختلف امراض کے لئے شفاء رکھی ہے ۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ
تُلسی (  ریحان، تخمِ مالنگا  ہ ، تخمِ بالنگاہ  یا نیاز بو   ) مچھروں کو بھگانے کے کام آتی ہے ، گملے میں لگا کر کمروں میں رکھ دیں اور تین دن بعد ایک دفعہ دھوپ لگائیں ۔  اِس کے بیج،  تاثیر میں ٹھنڈے ہوتے ہیں جو شربت یا فالودہ میں ملا کر کھائے جاتے ہیں ! یہ پودینے کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے ، اِس  کے مکمل پودے میں شفاء کا خزانہ پوشیدہ ہے ۔(مہاجرزادہ)


٭٭٭مزید مضامین پڑھنے کے لئے کلک کریں   ٭واپس٭٭٭٭

چاچا گوگل نے بتایا کہ یہ نظم راندھیر کے حکیم کی نہیں بلکہ اپنے  ملتان کے 
شاعر محمد اسد خان، اسد ملتانی 13 دسمبر 1902 کی ہے ۔





 

سوکھی چھڑی

 یہ سوکھی چھڑی تو میں اپنے بچپن سے دیکھ رہا ہوں ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ، کہ شام کے وقت وہ تمام بوڑھے   جو ہمارے محلے میں رہتے تھے  ، عصر کی نماز پڑھنے نکلتے ، تو ایک دوسرے کو اپنے پوتے یا نواسوں کے ذریعے  بلاتے اور مسجد کی طرف   روانہ ہوتے ، کچھ  سوکھی چھڑی کا سہارا لیتے اور کچھ اپنے اعضاء کی جاتی ہوئی توانائی کو روک کر چھڑی کے بغیر  چلتے ، ہم بچے اُن کے پیچھے  اپنی اپنی گپ لگاتے ہوئے چلتے  ۔ ہم بڑھتے گئے  اور اِن چھڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا  یہ اُن دنوں کی بات ہے جب سعادت مند اولاد مغرب   سے پہلے گھر آجایا کرتی تھی  اور مغرب کے بعد چھڑیوں کے سہارے چلنے والے والدین کو اطلاع دے کر گھر سےباہر جایا کرتی تھی ۔

پھر ہم نے اپنے والد کا دور دیکھا ، اُس میں واحد یہ تبدیلی آئی کہ ، بہتر روزگار کی وجہ سے   اولاد مختلف شہروں میں  بس گئی ، والدین  مہینہ دو مہینہ میں مختلف اولادوں کے پاس چکر لگا کر اَپنے گھر واپس آتے جہاں اُن کے ساتھ رہنے والا بیٹا اور اُس کے بچے دادا اور دادی   کاخیال رکھتے ، لیکن اِس کے باوجود انہوں نے سوکھی چھڑی نہ چھوڑی ۔ کیوں کہ یہ سوکھی چھڑی نجانے کب سے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہوتی رہی ۔

 سوکھی چھڑی، دائیں ہاتھ میں بزرگوں کے ہاتھ میں دیکھتا ہوں ، لیکن اُن کے ساتھ چلنے والے بچے اَب بھی دادا کے ساتھ اِس طرح چلتے ہیں کہ جیسے وہ دادا کو سہارا دے رہے ہیں۔

کچھ دیر کی بات ہے ۔ "شاید" یہ سوکھی چھڑی  بھی میرے ہاتھ میں ہو اگر زندگی رہی ۔اِس لئے نہیں کہ بڑھاپے میں میری اولاد میرا ساتھ چھوڑ دے گی بلکہ اِس لئے کہ   اِس سوکھی چھڑی کا اور انسان کا ساتھ صدیوں سے جاری ہے ۔

اِس" سوکھی چھڑی "کے خلاف ایسے مضمون نہ لکھو ، آج بھی اولاد اپنے والدین کے لئے ، ایک سر سبز وشاداب سہارا ہے ، اُن والدین کے لئے ، جنہوں نے اپنے والدین کو سہارا دیا اور اپنی اولاد کو اِس کا نمونہ دکھایا   ۔
 

پیر، 9 جون، 2014

سکول کی فیس



یہ 2004 جون کی بات ہے میں راولپنڈی سے اپنے آفس کی طرف آرہا تھا ، کوئی ایک بجے کا وقت تھا ۔ اسلام آباد ہائی وے پر  ، آئی 8 کے چوک پر سرخ بتی کی وجہ سے رک گیا ، ایک دس گیارہ سال کا  معصوم سا بچہ ، سکول کی یونیفارم پہنے ، گاڑی کے پاس آیا اور پوچھا کہ کیا میں اُسے بلیو ایریا میں ، سٹی بنک کے پاس  لے جا سکتا ہوں  ، میری ٹریول ایجنسی بھی وہیں تھی میں نے بٹھا لیا – میں سمجھا کہ شاید وہیں اُس کے والد کام کرتے ہوں ۔ اُن کے پاس جارہا ہو ۔

میں نے اُس کا نام پوچھا ،  اُس نے عرفان بتایا
کلاس پوچھی  ، معلوم ہوا کہ وہ  چوتھی جماعت میں پڑھتا ہے  ۔
پوچھا کہ وہ کس کے پاس جارہا ہے ؟ تو کہنے لگا وہاں کام ہے ۔
کیا آپ کے والد وہاں کام کرتے ہیں ؟
"نہیں " اُس نے جواب دیا ۔ وہ مختصر بات کر رہا تھا ۔
"کہاں رہتے ہو ؟" میں نے پوچھا
  "پیر ودھائی کے پاس " اُس نے جواب دیا
آفس کے  پاس ، میں نے گاڑی روکی ، تو اُ س نے اترنے سے پہلے پوچھا  ، " سر پانی مل جائے گا "
" ہاں ہاں کیوں نہیں " میں اُسے آفس میں لے آیا اور اپنے ملاز م جاوید سے کہا اِس پانی پلاؤ اور اِیک جوس لاؤ ۔
جاوید نے ڈسپنسر سے پانی پلایا اور جوس لینے چلا گیا ۔
"ہاں منے میاں اَب بتاؤ کہاں جانا ہے ، یہ بلو ایریا ہے  ؟" میں نے پوچھا ، " میرا ملازم تمھیں چھوڑ آئے  گا "
اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، " کہیں نہیں جانا "
میں حیران ہوا ، سوچا کہیں یہ بچہ گھر سے بھاگ کر تو نہیں آیا ؟
" کیا بات ہے بیٹے پوری بات بتاؤ  " میں نے پچکارا 
" سر ، پرنسپل نے مجھے سکول سے نکال دیا ہے ، اور کہتا ہے کہ فیس لاؤ تو سکول میں بیٹھنے دوں گا " اُس نے جواب دیا ۔ اُس نے باتوں میں بتایا کہ وہ یتیم ہے سب سے بڑا ہے باقی تین بہنیں ہیں ، ماں لوگوں کے گھروں میں برتن دھوتی ہے ، لیکن اُسے صاف اور اچھے کپڑے پہنا کر سکول بھجواتی ہے ۔
" اچھا یہ بتاؤ کھانا کھایا ہے ؟ " میں نے پوچھا
"   نہیں ۔ " اُ س نے جواب دیا ۔
میں اپنا کھانا  ، گھر سے لے کر آتا تھا ، میرے چند بے تکلف ،" مفتے" دوستوں کو میری عادت معلوم تھی کہ میں دو بجے کے وقت کھانا کھاتا ہوں ، وہ نہ صرف دھونس جماتے ہوئے کھانا بھی کھاتے اور چائے بھی پیتے ،  جو بھی مجھ سے ملنے کے لئے آتا اُس کے لئے یہی وقت مناسب ہوتا ۔ لیکن شکایت بھی کرتے ، کہ یار ، تم ہر وقت دال کیوں کھاتے ہو اور دال کو بھی ڈھونڈھ کے نکالنا پڑتا ہے ، فوج کی عادت نہیں گئی ، آج دال کی کتنی تاریخ ہے  یا تمھارے دالوں کے کھیت ہیں ۔لیکن بھابی دال اچھی بناتی ہیں ، کبھی اُن کے ہاتھ کا مرغی اور گوشت بھی کھلاؤ ؟
جواباً میں کہتا ، کہ اتوار کو فیملی کے ساتھ گھر آؤ ، تو سب چیزیں کھلاؤں گا ۔
اب مجھے کیا معلوم کہ ، دوپہر کو کون کون میرے ساتھ کھانا کھائے گا ۔شروع میں بڑی کوفت ہوتی تھی دوستوں کے لئے ہوٹل سے کھانا منگوانا پڑتا تھا اور اچھا خاصا خرچ ہوجاتا ، کیوں کہ تین یا چار سالن منگوانا پڑتے ، بیگم سے  پوچھا ، انہوں نے کہا کہ کیا میں اب الگ ہانڈی آپ کے دوستوں کی بناؤں، ہم نے کہا نہیں تم ایسا کرو  ، آدھا پاؤ دال کو ایسا پکاؤ کہ وہ تین ٹفن کے ڈبوں میں آجائے ، اُنہیں نے کہا ، مذاق اڑواؤ گے ، خیر ہمارے اصرار پر انہوں نے دال بنائی ۔ اُس شام ہمارے بچوں اور ہم نے وہ دال  ندیدوں کی طرح کھائی ، بلکہ آخر میں چمچوں سے پی بھی ، صبح آفس بھی لے گئے ، دوستوں کی تعریف بھی مفت میں سمیٹی کیوں کہ ، گرم گرم بلبلے والے نان نے لطف دوبالا کر دیا  اور پھر روزانہ  دال آنے لگی ۔

جاوید نے کھانا لگایا تو بچے نے دال دیکھ کر کہا ، " مجھے بھوک نہیں ہے " ۔
میں نے جاوید کو کہا اِس کے لئے چکن لے آئے ۔ وہ ہمارے پڑوس کے ہوٹل سے چکن کا سالن لے آیا ، بچے نے پیٹ بھر کر کھایا ۔دوست کھانا کھا کر چلے گئے ، تو میں نے بچے سے پوچھا ،"کتنی فیس ہے "
"ساڑھے تین سو روپے "اُس نے جواب دیا ۔
میں نے بچے کے اسکول کا ایڈریس معلوم کیا ، اُس کے پرنسپل کا ، اور بچے کو کہا کہ وہ اب سیدھا گھر جائے ، میں کل سکول آکر فیس دے دوں گا ۔ بچے کو جانے کا ویگن کا کرایا دیا اور جاوید کو کہا کہ اِس آفس کے سامنے سے گذرنے والی ، پیر ودھائی کی ویگن میں بٹھا دے ۔
جاوید نے واپس آکر پوچھا ، " سر یہ کون تھا ؟"
" تھا ایک غریب بچہ" میں نے جواب دیا ۔
دوسرے دن میں آفس آنے کے بجائے ، پیر ودھائی  بچے کے بتائے ہوئے سکول ٹھیک بتائے ہوئے وقت پر  پہنچا ۔ کہ اگر وقت پر نہیں پہنچا کہ اُس بچے کو مایوسی نہ ہو کہ میں نے اُسے ٹرخا دیا ۔
وہ سکو ل  پانچویں کلاس کی  پانچ لڑکیوں کا  دوکمروں  پر مشتمل تھا ، اُس کی پرنسپل ایک خاتون تھی اور ا"س کا شوہر کہیں ملازم تھا ، اُس نے  بتایا کہ اُس کے پاس لڑکے نہیں پڑھتے اور نہ ہی وہ کسی عرفان نامی ، گیارہ سالہ بچے کو جانتی ہے ، مزید معلومات دیں ، کہ آپ جیسے یہاں بہت  لوگ آتے ہیں اور مختلف بچوں کا نام لے کر پوچھتے ہیں کہ وہ کیا آپ کے پاس پڑھتا ہے ؟
میں نے اُس سے لڑکوں کے سکول کے بارے میں پوچھا ، اُس نے ایک پرائیویٹ سکول کا بتا یا وہاں گیا ، وہاں بھی یہی صورت حال تھی ، پرنسپل کا نام وہ نہیں تھا جو بچے نے بتایا ، عرفان نامی چھ بچے اُس سکول میں تھے  لیکن ، وہ عرفان نہیں تھا  ۔ پرنسپل نے میرے اصرار پر گیارہ  سال تک کےسارے بچوں کو جمع کیا ۔ لیکن وہ بچہ اُن میں بھی نہیں تھا اور سارے بچے سکول آئے تھے ۔
 پرنسپل نے کہا  ، " سر یہاں بہت سے بچے فیس نہیں دے سکتے  لیکن ہم اُنہیں نکالتے نہیں " ۔
میں نے  پانچ سو روپے ، پرنسپل کو دئے اور اُس سے رسید لے کر واپس آگیا ۔ آفس میں میرے  اَسسٹنٹ مینیجر نے دیر سے آنے کی وجہ پوچھی تو میں نے سارا واقع بتایا ۔ وہ ہنسا اور کہنے لگا ، " سر کل جاوید نے مجھے کہا تھا کہ یہ لڑکا فراڈ لگتا ہے " ۔
میں نے کہا ، " نہیں بھئی وہ چھوٹا بچہ تھا شاید پہلی دفعہ اِس طرح گھر سے نکلا ہو ، غلط ایڈریس بتا دیا ہو، اگر وہ دوبارہ آئے ، تو اُس کے ساتھ سکول چلے جانا اور پرنسپل کو فیس دے دینا "۔ لیکن وہ بچہ نہیں آیا ۔
یہ تصویر دیکھ کر   مجھے یہ وقعہ یاد آگیا ۔
 
 

خاموش سوال ؟



اِن میں سے کون سا پھیپھڑا ہے آپ کا ؟
 
میرا مضمون اِس تصویر  کے گلابی پھیپھٹر ے سے  شروع ہو کر سیاہی مائل پھیپڑے پر ختم ہو جاتا ہے ۔
کیوں کہ شاید میرے 1000 الفاظ وہ سوچ پیدا نہ کر سکیں ،
جو یہ تصویر آپ کے ذہن میں تصور  بنائے  اور شاید وہ ،
آج ہی اور ابھی کا ہو !

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔