Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 27 دسمبر، 2014

اقوامِ انسانی


قوم:   کسی انفرادی عمل(اچھا یا بُرا)  یا اعمال کے کرنے والی انفرادی ہستی کو اجتماعیت میں تبدیل کر کے اُنہیں ایک متحداِکائی۔"قَوم"میں تبدیل کرتی ہے۔اور اِس عمل (یا اعمال)سے پیدا ہونے والے نتائج سے اس قوم کو گزرنا پڑتا ہے جو پہلے ہی سے اِس کائنات میں موجود اور قائم  ہیں ۔ جو آفاقی سچ ہے ۔

لسانی بنیاد پر بنائی ہوئی انسانی  قومیں بھی وجود میں آتی ہیں    اور زبان  کے ترکِ استعمال  یا دوسری زبانوں میں شامل ہونے کے بعد  نئی قومیں وجود میں آجاتی ہیں ۔
 اِسی طرح  انسانی  نسل (برادری)  کی بنیاد پر بھی انسانی قومیں وجود میں آتی ہیں  ۔ پھر برادریوں کی تقسیم در تقسیم   یا  ایک برادری کے دوسری برادری میں پیوند  لگنے کے باعث  نئی برادریاں وجود میں آتی ہیں ۔ 

روح القدّس نے محمدﷺ  کو بتایا کہ اللہ کے  احکامات پر انسانی  ردِ عمل کے مطابق،  انسانی  امت ِ واحدہ  میں جو اقوام وجود میں آئیں اور آتی رہیں گی ۔
 وہ یہ ہیں :-




 اوپر لکھی ہوئی، ” قوم“ کے بارے میں وضاحت صحیح نہیں تو میری راہنمائی فرمائیے۔ شکریہ

منگل، 23 دسمبر، 2014

روح کھِچ

کل شام کو میرے چھوٹے بیٹے کے ساس اور سسر  کرنل مشتاق ملنے آئے ۔ میں فوجی جیکٹ میں استر لگا کر " فلی لوڈڈ " حالت میں بیٹھا تھا ۔ صوفے پر بیگم رضائی اوڑھے لاونج میں ٹی وی دیکھ رہی تھیں ۔ گیس کا ہیٹر میرے پیروں کے پاس پڑا ، دھڑک رہا تھا ۔وہ بیٹھتے ہی کہنے لگے ،
"گیس اتنی کم آرہی ہے ؟     ، ہارے ہاں تو پریشر ٹھیک ہے  "
" سردیوں میں سب ہیٹر  جلاتے ہیں ، اس وجہ سے  کم ہے "  ہم نے جواب دیا ۔
" ایک تو ہم پائپ لائن کے آخر میں ہیں دوسرے  لوگوں نے ، گیس جنریٹر  بھی لگوائے ہوئے ہیں  ۔ "
" مین پائپ لائن  ، تو ہمارے  پاس سے گذر رہی ہے " کرنل صاحب نے جواب دیا ۔
" لاہور میں ایک آلہ ملتا ہے جو گیس لائن پر لگانے سے  گیس کا پریشر تیز ہو جاتا ہے " انہوں نے معلومات دی ۔
" لیکن یار ، یہ تو غیر قانونی ہے  !" ہم نے  جواب دیا ۔
" سر جی ! غیر قانونی تو گیس جنریٹر بھی ہیں ۔ لیکن وہ بھی لگے ہوئے ہیں اور  گیس کے محکمے کے علم میں ہے "  انہوں نے جواب دیا ۔
میں نے ہنس کر کہا ، " کرنل صاحب ،  سردی لگ رہی ہو تو گرم کپڑے پہن لو اور گرمی لگ رہی ہے تو  کپڑے اتار دو  ، موسم ٹھیک ہوجاتا ہے ۔"

" کشمیریوں کا یاد ہے ، کہ ایک چھوٹے سے ڈبے میں لکڑیاں جلا کر    اپنے  ، کوٹ کے اندر رکھ کر گرمی کا مزہ لیتے ہیں ۔ اُسی طرح یہ دھڑکتا ہوا ہیٹر  پیروں پر لگنے والی گرمی پو پورے جسم میں پھیلا رہا ہے "

پھر موضوع تبدیل ہوگیا ۔ پشاور کا سانحہ اور حکومتی رِٹ  گھریلو اور بین الاقومی معاملات پر سیر حاصل بحث  رہی ۔ دونوں سمدھنوں کا دلچسپ موضوع ،  اولاد کی اولاد تھا  یا کھانا پکانے کی ترکیبیں ۔

آج  " بزرگوارانِ  اردو  بلاگر ز" میں سے ایک  ، یعنی  محترم نجیب عالم   کی پوسٹ  ، "
ماں پلوانوں کی بدمعاشیاں "  پڑھا  ،  انہوں نے بھی اُسی آلے کا تعارف کروایا   جو پائپ میں سے گیس کھینچ کر  گھر والوں کو   خوش رکھتا ہے ۔ یہ پڑھتے ہی دماغ نے ماضی میں چھلانگ لگا دی ۔

  اور میری آج کی ایک پوسٹ کا  رابطہ آپس میں جُڑ گیا ۔

فیس بک کی ونڈو میسج پر گذشتہ رات  ، کوئی سترپیغامات پر تھے ۔  جن میں سے پندرہ پیغامات  ، جواب دینے کے قابل تھے اور باقی  45  لاہور کے شاہی قلعے ،  کراچی کی نپئیر روڈ ،  کوئٹہ کا سوج گنج بازار ،  راولپنڈی کی لالکرتی ، بھاولپور کا حمائیتیاں ، اور پشاور کا ڈب گری   سے منسلک  محلوں میں رہنے والوں کی اولاد اور اُن کی اولاد جو ضیاء الحق  کی مہربانیوں سے شرفاء کی گیوں میں پھیل چکی  ہے اور اب وہ سیاسی اور مذھبی جماعتوں میں شامل ہونے والوں کے تھے ۔ جو میری کل کی طالبان کے اور عمران خان کے خلاف کے جواب میں تھے ۔میں نے پڑھنے کے بعد ڈیلیٹ کر دیئے ۔   

ایک پیغام ،  نوجوان منصور احمد کا تھا ، جس نے پوچھا ،
" قرآن سُود کے متعلق کیا فرماتا ہے ۔ کیوں کہ میں ایک کمپنی میں کیشیئر ہوں "
میں نے جواب دیا ، " پریشان نہ ہوں اور اپنا کام جاری رکھیں ۔" اور یہ پوسٹ فیس بک پر ڈال دی ۔

اوپر سے مضمون ، " ماں پلوانوں کی بدمعاشیاں "  کا یہ پیرا ۔
دوکانداروں سے جب یہ سوال کیا گیا کہ ایسا آلہ لگانا ممنوع اور جرم نہیں ہے کیا ؟ اور کیا آپ لوگوں نے اس کے فروخت کی سوئی ناردن گیس والوں سے اجازت لی ہوئی ہے تو ایک حاجی صاحب شیطانی سی ہنسی ہنستے ہوئے کہنے لگے۔۔۔او باؤ جی کیہڑیاں گلاں کردے او ۔۔سارے نال ہی ہوندے نے ( باؤ جی کونسی باتیں کرتے ہو ۔۔سارے ساتھ ہی ہوتے ہیں ) ۔

اِس آلے کی ایجاد بالکل ویسی ہے ہے ۔ جیسی پانی کی" روح کھِچ " موٹروں کی تھی ۔
غریب محلے والے گھر گھر میں موٹریں لگ جانے سے ، کمیٹی کے میٹھے پانی سے محروم ہوگئے تھے ۔   1978 کی بات ہے چھٹی سے واپس گھر آئے ،  سامان وغیرہ رکھ کر غسل کیا ، پانی نہ میں گیا تو کھارا سا لگا  حیران ہوئے کہ ، کمیٹی والوں نے سمندر کا پانی سپلائی کرنا شروع کر دیا ہے ۔ نہا  کر نکلے والدہ  محترمہ سے پوچھا ،

" امی کیا اب واٹر سپلائی والوں نے کھارا پانی سپلائی کرنا شروع کر دیا ہے  ؟"
" نہیں  نمّو ،  واٹر سپلائی کا پانی بہت کم آتا ہے یا نہیں آتا ، تمھارے والد نے   زمین میں بور کروا کر   پانی کا بندو بست کیا ہے "  والدہ (اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں اونچا مقام دے )  نے بتایا ۔
" تو پینے کا پانی کہاں سے آتا ہے  ؟ "   ہم نے پوچھا ۔
" بھائی ، وہ    آپ کا دوست ہے نا ،  فقیرا  اُس کا بھائی گدھاگاڑی پر  ٹینکی کا پانی دے جاتا ہے "  سب سے چھوٹی بہن نے معلومات دیں  -
یہ سول علاقے میں " منرل واٹر" سپلائی کرنے کی کئی کمپنیوں میں سے ایک تھی ، ماشکی بھی اِنہی " خدمات " کے موجد تھے ۔
خیر ہم نے حیران ہو کر پوچھا ،  " امی آپ  تو کونسلر ہیں اور آپ کے ہاں  پینے کے پانی کی قلّت  ؟"
" ارے بیٹے ، جب لوگوں نے پانی کی پائپوں میں موٹریں لگا لی ہوں ، تو کونسلر کیا کرسکتا ہے ؟ " انہوں نے جواب دیا  
" بھائی ، امین بھائی نے  ابّا کو بھی موٹر لگوانے کا کہا تھا مگر ابّا نے دانٹ کر منع کر دیا " چھوٹی بہن نے گلہ کیا  
" کیوں ؟ " ہم نے سوال کیا ۔
" چپ کر  " امی نے  چھوٹی کو ڈانٹا   ، " تمھیں پینے کو میٹھا پانی مل رہا ہے نا  ، تو شکایت کیسی ؟ "
" امی پانی صرف پینے کو چاھئیے کیا ؟ ، کپڑے دھوتی ہوں تو صابن  کے جھاگ نہیں بنتے، نہاؤ تو صابن نہیں اترتا "  چھوٹی نے دل کا غبار انڈیلا ۔
" سو بار کہا ہے کہ پانی ابال لیا کر ، مگر سستی کاکیا علاج  ؟ " والدہ نے اپنی تجویز  ایک سو ایک بار دھرائی  ۔
" لیکن امی ، موٹر لگانے میں کیا حرج ہے ؟ " ہم نے پوچھا ۔
" توبہ توبہ ، اب کیا ہم حرام کھائیں گے  ؟ " امی نے  جواب دیا 
" امی حرام کیسا ؟ کیا دوسروں نے موٹریں نہیں لگوئی ہوئی ہیں ، وہ سب حرام کھا رہے ہیں ؟ " چھوٹی نے غصے میں کہا ۔
" تو دوسروں کی قبر میں جائے گی کیا ؟ "  امی نے  چلاتے ہوئے کہا ، " روز کپڑے مت دھو ، ماسی آتی ہے وہ دھو دیا کرے گی اور برقعے میں کون کپڑے دیکھتا ہے ؟"
چھوٹی کالج میں پڑھتی تھی  اور نیشنل کیڈٹ کور بھی جائن کر رکھی تھی ، اُس کا غصہ بجا تھا ۔  ہم نے امی کی گود میں سر رکھ کر لیٹتے ہوئے  پوچھا، " امی  یہ حرام کھانے کا کیا معاملہ ہے ؟ "
" نمّوں ، وہ معلوم ہے نا ، کہ سب بیٹھ کر کھا رہے ہوں ، تمھارے سامنے والی بوٹی اچھی نہ ہو اور دوسرے کے سامنے والی بوٹی اچھی ہو اور وہ تم کھینچ کر کھا لو  تو   اِس بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ حرام ہوجاتا ہے "  والدہ نے  نرم اور میٹھی آواز میں یاد دلایا ۔
" لیکن امی ، وہ تو کھانے کے بارے میں ہے ، پانی کے بارے میں نہیں " ہم نے جواب دیا ۔
" بیٹے ، نبی پاک ﷺ کا یہ حکم ہر ایسی چیز  پر لگے گا جس پر تمھارا حق نہیں اور تم اُس سے پوچھے بغیر لے لو اور استعمال کرو ۔ دیکھ یہ میٹھا پانی سب کے لئے آتا ہے ، تالاب میں پانی زیادہ ہوگا ، تو وہ زیادہ سپلائی کریں گے اور اگر کم ہو گا تو کم سپلائی کریں گے ،  اگر وہ ہمارے لئے  ایک بالٹی  پانی سپلائی کریں اور ہم موٹر لگا کر ایک اور بالٹی نکال لیں ، تو ہم نے دوسرے انسانوں کا حق مارا  ، اُس دوسری بالٹی نے   نہ صرف  پہلی بالٹی کو بلکہ ہماری ساری چیزیں جن میں وہ پانی لگے گا حرا م کرتا جائے گا "  
شکریہ نجیب عالم بھائی  شکریہ   


'

پیر، 22 دسمبر، 2014

دسبمر 16 کا تاریک دن

مسلمانوں کی طرف سے پشاور میں  ایک سکول پر   16  دسمبر  کے  تاریک  دن  کئے جانے والے حملے  نے پوری انسانی دنیا  کو ششدر کرکے رنج و الم کی ایسی وادی میں دھکیل دیا ، جہاں  صرف تاریکیوں کا راج ہے اور ظلم و ستم  کی  آماجگاہ ہے  ۔
  141 بچے  ، اس دنیا سے اُس دنیا چلے گئے ، ماؤں کی گود میں سونے والے  قبر کی ٹھنڈی زمین پر اُس وقت تک ابدی نیند سونے کے لئے چلے گئے ۔ جب خالقِ کائینات سورج کو ڈھانپ کر اس زمین کو سرد ترین بنا دے گا ۔
غیر اسلامی دنیا  ،  اِس تاریک دن کی سیاہی ماضی کی کالک میں ملا کر  ، مسلمانوں کے منہ پر مل رہی ہے ۔
اسلامی دنیا ، اِس سیاہی کو پختہ ہونے سے بچانے کے لئے ،  قرآن کی وہ آیات لا رہے ہیں جس میں امن پسندی اور بھائی چارے کے فروغ  کا درس ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ۚ
جس نے ایک انسان کو بچایا اُس ے پوری انسایت کو بچایا
متشدد اسلامی دنیا انسانی قتل پر اپنی کامیابی   کا جشن منا رہی ہے  اور مرنے والوں کے لواحقین کو حوروں کی سبھا میں راجہ اندر بننے کی نوید سنا رہی ہے  ۔  
سوشل میڈیا پر ، سب اپنے  اپنے پائینچے  اوپر چڑھائے ،اِس تالاب کی تہہ سے مختلف  وڈیو ، پوسٹ ، بیانات اور فضولیات   نکال کر بھیج رہے  ہیں ۔ قتل ہونے والے بھی شہید اور پھانسی لگنے والے بھی شہید ۔  یقیناً شہیدوں کی اِن وافر درآمد و برآمد پر کاتبانِ کتاب بھی پریشان ہیں  اور محتسب کا وہی حال ہے  کہ
کس نے پی ،کس نے نہ پی ،کس کس کے ہاتھ میں جام تھا -
جس طرح امریکہ نے   9 ستمبر کو  کہا تھا ، " کون ہمارے ساتھ ہے ؟" تو سب نے ہاتھ کھڑے کر دیئے تھے ۔
اِسی طرح پاکستانی سپہ سالار کی للکار پر" کون ہمارے ساتھ ہے ؟"  پر منافقین کی گھگھیاہٹ صاف سنائی دینے لگی ،
" طالبان ہمارا اثاثہ ہیں "
" طالبان ہماری جان ہیں "
" طالبان ہمارے بچے ہیں "
" طالبان ہمارا دل ہیں ، جگر ہیں ، پھیپھڑا ہیں  "
کہنے والے ، بھی کالے کپڑے اتار کر ، سبز پیرہن پہنے پھر رہے ہیں، جن پر پشاور کے معصوموں کے خون کے سرخ چھینٹے چمک رہے ہیں  ۔  

جمعرات، 18 دسمبر، 2014

معصوم دھشت گرد

ٰ   روسو افغان جنگ  کی دوسری نسل آج سے 34 سال کے عرصے یعنی 1980میں جوانی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے، کلاشنکوف سے راکٹ لانچر کا وزن اٹھانے اور ان کے مہلک خیز اسلحے کو نشانے پر مارنے کے قابل ہو چکی تھی۔اور خاص طور پر جب اُن کے دل و دماغ میں انتقام کا جذبہ کافر، غاصبوں کو اپنے ملک سے نکالنے کے لئے مسجدوں اور ہجروں میں کوٹ کوٹ کر بھرا گیا ہو  پھر انہوں نے اپنی ماؤں کو  افغان جنگ میں باپ کے مارے جانے کے بعد کسمپرسی کے عالم میں زمانے کے حالات سے نبر و آزما دیکھا ہو۔ یہ دوسری نسل پہلی نسل سے زیادہ جذبہ ء جنگ والی تھی، پہلی نسل نے اپنے مقصد کو پانے کے لئے لوگوں کو خریدنا شروع کیا۔ ہر امریکی نقصان پر امریکی ڈالروں کی تقسیم اور بے تحاشا تقسیم، جس نے قلعہ الموت کے بے شمار حسن بن سباؤں کو جنم لیا۔
اِن حسن بن سباؤں کے پیروکاروں نے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے، ملک میں موجود مدرسوں کا رخ کرنا شروع کیا اور ڈالر کے بدلے فدایوں کی خرید شروع ہوگئی، جیب سے ڈالر جاتے سب کو برے لگتے ہیں، جب اُن بے وقوف لوگوں کی جیبوں میں جائیں جنہیں استعمال کرنے کا سلیقہ نہ آتا ہو۔ چنانچہ، ملک میں گھروں سے بھاگ کر پھرنے والے بے تحاشہ تعداد میں دستیاب مال سے فائدہ اُٹھانے کا سلسلہ شروع ہوا، پیار، محبت۔ دھونس و دھمکی اور لالچ سے دوسری نسل کے ساتھی تلاش کئے گئے۔ جب یہ لوگ تربیت گاہوں میں پہنچے تو انہیں، تربیت نے دوآتشہ کر دیا اور انہیں ظالم معاشرے سے انتقام لینے کی تربیت دی گئی، یہ انتقام اور جذبہ شہادت سے لبریز لڑکپن سے جوانی کی طرف جانے والے، اپنے جسموں پر بارود باندھے، انسانی ہجوم میں چیتھڑوں کی صورت میں بکھر گئے اور اُن کی روحوں کو اُن کے ”استادوں“ کے مطابق حوریں اٹھا کر سیدھا جنت میں لے گئیں۔ تربیت گاہ سے اُن کے ساتھ نکلنے والے مگر آدھے راستے سے لوٹ آنے والے، پہلی یا دوسری رات سو کر اُٹھنے کے بعد، خوابوں میں ُ ان زمین پر بکھرنے والوں کو آسمان میں حوروں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھتے، بالکل ایسے ہی جیسے 1965کی جنگ میں لوگوں نے، ہرے لباس میں گھوڑوں پر سوار، سرزمین ِ حجاز سے چل کر لاہور پہنچنے والوں کو، لاہوریوں سے واہگہ یا سیالکوٹ کی سمت پوچھتے دیکھا، شاید لاہور پہنچ کر اُن کی سمت بتانے کی قوت جواب دے جاتی یا اُن کا مقناطیسی کمپاس جواب دے جاتا۔

    امریکی شایدیہ بھول گئے کہ غلطیاں بانجھ نہیں ہوتی وہ بچے جنتی چلے جاتی ہیں۔ روس کے خلاف، امریکیوں کا پاکستانیوں اور خاص طور پر مغربی پہاڑوں میں رہنے والے باسیوں کو جہاد کا سبق دینا اِن کی ایسی غلطی تھی کہ جس کے بچے چنتے چنتے نہ صرف پاکستان بلکہ امریکہ بھی تھک چکا ہے۔ امریکیوں نے اپنے عظیم پلان کو کامیاب کرنے کے لئے 9/11سے بہت پہلے  ایک اور پلان شروع کیا تھا۔
1990 کا ذکر ہے۔شہید صلاح الدین مدیر تکبیر نے ایک مضمون شائع کیا جس میں
”مستقبل کی اسماعیلی ریاست“  کے مکمل پلان کے متعلق تفصیلاً اعداد و شمار کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔۔ 1993 میں سیاچین جانا ہوا تو معلوم ہوا کہ مدیر تکبیر کا اندازا کچھ غلط نہ تھا۔گلگت اور بلتستان صوبے میں اسماعیلیوں نے  ہر آبادی  میں ہسپتال اور سکول تعمیر کر دیئے۔ اُن علاقوں میں رہنے والے مذہب کے اتنے نزدیک تھے جتنا سورج اُن سے گرمیوں میں چند دن کے لئے نزدیک ہوتا ہے۔ اسماعیلیوں نے سب سے پہلے وہاں فری ہسپتال کھولے، انگریز مشنریوں نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا۔ پھر سکول کھول کر وہاں ایسی تعلیم کا آغاز کیا جو پاکستان میں اعلیٰ درجے کے مقابلے میں تھی، جس کے لئے بے تحاشا انگریز بوڑھے اُن علاقوں میں آنے لگے۔ اس کے علاوہ، اپنے علاقوں میں پاکستانیوں کو زمین خریدنے پر پابندی لگانے والوں نے شاہرہ ریشم کے ساتھ ساتھ آباد علاقوں میں زمین خرید کر گھر بنانے شروع کر دئے۔ اُس کے بعد اِن لوگوں نے اپنے پاؤں اسلام آباد میں پھیلانے شروع کر دئیے  تھے ، مستقبل میں آنے والے سیلاب کا پانی  ٹخنوں  سے گذر کر کمر تک پہنچ گیا  ہے، جب یہ گردن تک پہنچے گا تو پھر،ہمارے پلاننگ کرنے والوں کو ہوش آئے گا، لیکن اُس وقت اِن کی تیسری نسل دشت گردی کے تیسرے سفر کے لئے تیار ہورہی ہے ۔ کیوں کےافغان جنگ کی وجہ سے پاکستان میں آنے والے  بے خانماں برباد لوگوں کی دوسری نسل پاکستانی شناختی کارڈ بنا کر، پاکستانیوں کے ہجوم میں کھو چکی ہے ۔ 
لیکن جب اِس قوم کو کوئی خطرہ ہو تو یہ ایک دم کھمبیوں کی طرح اچھل کر اُگتے ہیں اور مخالفوں کے خلاف صف آرا ء ہوجاتے ہیں۔
اور افغانستان سے آنے والے دھشت گردوں کی پوری مدد کرتے ہیں -
جنگی تاریخ میں سب سے مشکل اور ناقابلِ فیصلہ جنگ ، شہری علاقوں  کی جنگ ہوتی ہے جس میں دشمن کی پہچان ناممکن تو نہیں مشکل ضرور ہوتی ہے ۔  اس تصویر میں دکھائے ہوئے  معصوم بچے  اگر کوڑے کے تھیلے میں بارود چھپا کر نکلیں تو  کون انہیں دشت گرد وں کا سامان  لے جانے والا کہے گا  ؟

پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی

  مارچ 1948 میں ڈھاکا ہوٹل کے ایک اجلاس میں جب بنگالی لیڈر نے انگلش میں سپاس نامہ پیش کیا تو کہا جاتا ہے کہ (مجیب الرحمان) سٹوڈنٹ لیڈر  نے نگالی بنگالی کا شور مچایا تو ۔ قائد اعظم نے کھڑے ہو کر کہا " پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی  " اِس جملے کو پاکستان مخالف قوتوں نے اچھالا ۔
یوں مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں زبان کے مسئلے نے مشرقی پاکستان میں علیحدگی کا بیج بو دیا ۔
 بنگال جہاں ،ہندو لیگ (کانگریس ) کے مقابلے میں مسلم لیگ نے30دسمبر  1906 میں  ڈھاکہ میں  نوابوں کی گود میں نواب خواجہ سر سلیم اللہ خان کے محل میں  جنم لیا ،کیوں کہ اُنہوں نے ، 1905 میں بنگال کی تقسیم کے لئے اہم کردار ادا کیا تھا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے بانی ،  نواب وقار المک   ، آغا خان سوئم  ،اور نواب سلیم اللہ خاں سمیت بہت سے اہم مسلم اكابرین     سید امیر علی ،سید نبی اللہ  مولانامحمد علی جوہر٬ مولانا ظفر علی خاں٬ حكیم اجمل خاں٬   اجلاس میں موجود تھے۔ مسلم لیگ كا پہلا صدر انگلش بولنے والے  سر آغا خان كو چنا گیا۔مرکزی دفتر کے لئے ، مشرقی  بنگال  کے شہر ڈھاکہ کے بجائے   علی گڑھ کو چنا گیا  اور دوسرا دفتر لندن میں بنایا گیا۔
کیوں کہ اُس وقت مشرقی بنگال تعلیمی طور پر اتنا ترقی یافتہ نہ تھا ۔
کہا جاتا ہے کہ  جمہوریت  کا پودا ، انسانی ووٹوں  کی آبیاری سے پروان چڑھتا ہے ، جس ملک کے عوام اپنے ووٹوں کا استعمال نہ کریں  تو اُن کے ووٹ رات کی تاریکی میں نکلنے والی چڑیلیں لے اُڑتی ہیں  ۔  اور پاکستان قائد اعظم کی وفات اور لیاقت علی خان کی شہادت  کے بعد  پاکستان پر اقتدار کی چڑیلیں منڈلاتی رہیں  اور زمین پر  لمبے دانتوں والے مگر مچھ  -
٭-   وزیر اعظم   لیاقت علی خان    ( 14 اگست 1947  تا 16  اکتوبر 1951 ) کی شہادت  کے بعد  ،سر خواجہ ناظم الدین   (17 اکتوبر  1951 تا    17 اپریل  1953) پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہوئے ۔
٭-   1954 میں جب   بنگالی وزیر اعظم صاحبزادہ محمد علی بوگرا   ( 17 اپریل 1953 تا 12 اگست 1955 ) نے گورنر جنرل ملک  غلام محمدکی دعوت پر نئی وزارت تشکیل دی تو اس میں اسکندر مرزا اور جنرل ایوب خان کو بھی شامل کیا گیا۔ یوں جنرل ایوب خان پاکستان کے وزیر دفاع بن گئے۔
٭- وزیر اعظم   چوہدری محمد علی  (12 اگست  1955 تا 12 ستمبر  1956 )  کے بعد حسین شہید سُہروردی ( 12 ستمبر  1956  تا 17 اکتوبر 1957 ) وزیر اعظم رہے ۔ پھر ابراھیم اسماعیل چندریگر ( 17 اکتوبر 1957  تا   16 دسمبر 1957 ) وزیر اعظم رہے ۔ پھر سر فیروز خان نون (  16 دسمبر 1957 تا 7 اکتوبر 1958 )  پاکستان کے وزیر اعظم رہے ۔
اُس کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان سے وزراءِ  اعظم کی بساط لپیٹ دی جو ایک دلچسپ کہانی ہے ، اور مزے کی بات یہ وزیر اعظم سنا ہے   کہ سلیکٹ تو بذریعہ ووٹ ، ممبر اسمبلی ہوئے تھے ، لیکن  بطور وزیر اعظم نامزد ( گورنرجنرل   یعنی صدر ) نے کئے ۔
حسین شہید سُہروردی ( 12 ستمبر  1956  تا 17 اکتوبر 1957 )  کو ہٹانے کے بعد ۔ مشرقی بنگال میں ، سٹوڈنٹ لیڈرز نے اِس زیادتی پر خوب احتجاج کیا ۔ اور بالآخر اگرتلہ سازش کیس میں سٹوڈنٹ لیڈرز گرفتار کر لئے گئے شیخ مجیب الرحمان علیحدگی پسندوں کا لیڈر بنا اور وہ جملہ ۔   "پاکستان کا قومی زبان اردو ہوگی  "، نے مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں زبان کا مسئلے بنایا اور  مشرقی پاکستان میں علیحدگی کا بیج بویا ۔ وہ  اگرتلہ سازش کیس   تناور درخت بننا شروع ہو چکا تھا ۔ حامد میر نے اُس وقت جنم نہیں لیا تھا لیکن اُس کے والدوارث میر  نے ایوبی و پاکستان مخالف قوتوں کا ساتھ دیا ۔ جس پر حسینہ واجد نے  2013 میں اُسے بعد از مرگ  بنگلہ دیشی ایوارڈ دیا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

٭-کیا پاکستان انگریز نے بنایا تھا ؟ 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔