اوپر لکھی ہوئی، ” قوم“ کے بارے میں وضاحت صحیح نہیں تو میری راہنمائی فرمائیے۔ شکریہ
Pages
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)
ہفتہ، 27 دسمبر، 2014
اقوامِ انسانی
اوپر لکھی ہوئی، ” قوم“ کے بارے میں وضاحت صحیح نہیں تو میری راہنمائی فرمائیے۔ شکریہ
منگل، 23 دسمبر، 2014
روح کھِچ
" سردیوں میں سب ہیٹر جلاتے ہیں ، اس وجہ سے کم ہے " ہم نے جواب دیا ۔
" مین پائپ لائن ، تو ہمارے پاس سے گذر رہی ہے " کرنل صاحب نے جواب دیا ۔
" لاہور میں ایک آلہ ملتا ہے جو گیس لائن پر لگانے سے گیس کا پریشر تیز ہو جاتا ہے " انہوں نے معلومات دی ۔
میں نے ہنس کر کہا ، " کرنل صاحب ، سردی لگ رہی ہو تو گرم کپڑے پہن لو اور گرمی لگ رہی ہے تو کپڑے اتار دو ، موسم ٹھیک ہوجاتا ہے ۔"
" کشمیریوں کا یاد ہے ، کہ ایک چھوٹے سے
ڈبے میں لکڑیاں جلا کر اپنے ، کوٹ کے اندر رکھ کر گرمی کا مزہ لیتے ہیں ۔
اُسی طرح یہ دھڑکتا ہوا ہیٹر پیروں پر
لگنے والی گرمی پو پورے جسم میں پھیلا رہا ہے "
پھر موضوع تبدیل ہوگیا ۔ پشاور کا سانحہ اور حکومتی رِٹ گھریلو اور بین الاقومی معاملات پر سیر حاصل
بحث رہی ۔ دونوں سمدھنوں کا دلچسپ موضوع
، اولاد کی اولاد تھا یا کھانا پکانے کی ترکیبیں ۔
آج " بزرگوارانِ اردو
بلاگر ز" میں سے ایک ، یعنی محترم نجیب عالم کی پوسٹ
، " ماں پلوانوں کی بدمعاشیاں " پڑھا ، انہوں نے بھی اُسی آلے کا تعارف کروایا جو پائپ میں سے گیس کھینچ کر گھر والوں کو
خوش رکھتا ہے ۔ یہ پڑھتے ہی دماغ نے ماضی میں چھلانگ لگا دی ۔
اور میری آج کی ایک پوسٹ کا رابطہ آپس میں جُڑ گیا ۔
" قرآن سُود کے متعلق کیا فرماتا ہے ۔ کیوں کہ میں ایک کمپنی میں کیشیئر ہوں "
دوکانداروں سے جب یہ سوال کیا گیا کہ ایسا آلہ لگانا ممنوع اور جرم نہیں ہے کیا ؟ اور کیا آپ لوگوں نے اس کے فروخت کی سوئی ناردن گیس والوں سے اجازت لی ہوئی ہے تو ایک حاجی صاحب شیطانی سی ہنسی ہنستے ہوئے کہنے لگے۔۔۔او باؤ جی کیہڑیاں گلاں کردے او ۔۔سارے نال ہی ہوندے نے ( باؤ جی کونسی باتیں کرتے ہو ۔۔سارے ساتھ ہی ہوتے ہیں ) ۔
غریب محلے والے گھر گھر میں موٹریں لگ جانے سے ، کمیٹی کے میٹھے پانی سے محروم ہوگئے تھے ۔ 1978 کی بات ہے چھٹی سے واپس گھر آئے ، سامان وغیرہ رکھ کر غسل کیا ، پانی نہ میں گیا تو کھارا سا لگا حیران ہوئے کہ ، کمیٹی والوں نے سمندر کا پانی سپلائی کرنا شروع کر دیا ہے ۔ نہا کر نکلے والدہ محترمہ سے پوچھا ،
" امی کیا اب واٹر سپلائی والوں نے کھارا پانی سپلائی کرنا شروع کر دیا ہے ؟"
" نہیں نمّو ، واٹر سپلائی کا پانی بہت کم آتا ہے یا نہیں آتا ، تمھارے والد نے زمین میں بور کروا کر پانی کا بندو بست کیا ہے " والدہ (اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں اونچا مقام دے ) نے بتایا ۔
" تو پینے کا پانی کہاں سے آتا ہے ؟ " ہم نے پوچھا ۔
" ارے بیٹے ، جب لوگوں نے پانی کی پائپوں میں موٹریں لگا لی ہوں ، تو کونسلر کیا کرسکتا ہے ؟ " انہوں نے جواب دیا
" چپ کر " امی نے چھوٹی کو ڈانٹا ، " تمھیں پینے کو میٹھا پانی مل رہا ہے نا ، تو شکایت کیسی ؟ "
" امی پانی صرف پینے کو چاھئیے کیا ؟ ، کپڑے دھوتی ہوں تو صابن کے جھاگ نہیں بنتے، نہاؤ تو صابن نہیں اترتا " چھوٹی نے دل کا غبار انڈیلا ۔
" توبہ توبہ ، اب کیا ہم حرام کھائیں گے ؟ " امی نے جواب دیا
" امی حرام کیسا ؟ کیا دوسروں نے موٹریں نہیں لگوئی ہوئی ہیں ، وہ سب حرام کھا رہے ہیں ؟ " چھوٹی نے غصے میں کہا ۔
" تو دوسروں کی قبر میں جائے گی کیا ؟ " امی نے چلاتے ہوئے کہا ، " روز کپڑے مت دھو ، ماسی آتی ہے وہ دھو دیا کرے گی اور برقعے میں کون کپڑے دیکھتا ہے ؟"
" لیکن امی ، وہ تو کھانے کے بارے میں ہے ، پانی کے بارے میں نہیں " ہم نے جواب دیا ۔
پیر، 22 دسمبر، 2014
دسبمر 16 کا تاریک دن
141 بچے
، اس دنیا سے اُس دنیا چلے گئے ، ماؤں کی گود میں سونے والے قبر کی ٹھنڈی زمین پر اُس وقت تک ابدی نیند
سونے کے لئے چلے گئے ۔ جب خالقِ کائینات سورج کو ڈھانپ کر اس زمین کو سرد ترین بنا
دے گا ۔اسلامی دنیا ، اِس سیاہی کو پختہ ہونے سے بچانے کے لئے ، قرآن کی وہ آیات لا رہے ہیں جس میں امن پسندی اور بھائی چارے کے فروغ کا درس ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
" طالبان ہماری جان ہیں "
" طالبان ہمارے بچے ہیں "
" طالبان ہمارا دل ہیں ، جگر ہیں ، پھیپھڑا ہیں "
جمعرات، 18 دسمبر، 2014
معصوم دھشت گرد
اِن حسن بن سباؤں کے پیروکاروں نے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے، ملک میں موجود مدرسوں کا رخ کرنا شروع کیا اور ڈالر کے بدلے فدایوں کی خرید شروع ہوگئی، جیب سے ڈالر جاتے سب کو برے لگتے ہیں، جب اُن بے وقوف لوگوں کی جیبوں میں جائیں جنہیں استعمال کرنے کا سلیقہ نہ آتا ہو۔ چنانچہ، ملک میں گھروں سے بھاگ کر پھرنے والے بے تحاشہ تعداد میں دستیاب مال سے فائدہ اُٹھانے کا سلسلہ شروع ہوا، پیار، محبت۔ دھونس و دھمکی اور لالچ سے دوسری نسل کے ساتھی تلاش کئے گئے۔ جب یہ لوگ تربیت گاہوں میں پہنچے تو انہیں، تربیت نے دوآتشہ کر دیا اور انہیں ظالم معاشرے سے انتقام لینے کی تربیت دی گئی، یہ انتقام اور جذبہ شہادت سے لبریز لڑکپن سے جوانی کی طرف جانے والے، اپنے جسموں پر بارود باندھے، انسانی ہجوم میں چیتھڑوں کی صورت میں بکھر گئے اور اُن کی روحوں کو اُن کے ”استادوں“ کے مطابق حوریں اٹھا کر سیدھا جنت میں لے گئیں۔ تربیت گاہ سے اُن کے ساتھ نکلنے والے مگر آدھے راستے سے لوٹ آنے والے، پہلی یا دوسری رات سو کر اُٹھنے کے بعد، خوابوں میں ُ ان زمین پر بکھرنے والوں کو آسمان میں حوروں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھتے، بالکل ایسے ہی جیسے 1965کی جنگ میں لوگوں نے، ہرے لباس میں گھوڑوں پر سوار، سرزمین ِ حجاز سے چل کر لاہور پہنچنے والوں کو، لاہوریوں سے واہگہ یا سیالکوٹ کی سمت پوچھتے دیکھا، شاید لاہور پہنچ کر اُن کی سمت بتانے کی قوت جواب دے جاتی یا اُن کا مقناطیسی کمپاس جواب دے جاتا۔
امریکی شایدیہ بھول گئے کہ غلطیاں بانجھ نہیں ہوتی وہ بچے جنتی چلے جاتی ہیں۔ روس کے خلاف، امریکیوں کا پاکستانیوں اور خاص طور پر مغربی پہاڑوں میں رہنے والے باسیوں کو جہاد کا سبق دینا اِن کی ایسی غلطی تھی کہ جس کے بچے چنتے چنتے نہ صرف پاکستان بلکہ امریکہ بھی تھک چکا ہے۔ امریکیوں نے اپنے عظیم پلان کو کامیاب کرنے کے لئے 9/11سے بہت پہلے ایک اور پلان شروع کیا تھا۔
1990 کا ذکر ہے۔شہید صلاح الدین مدیر تکبیر نے ایک مضمون شائع کیا جس میں ”مستقبل کی اسماعیلی ریاست“ کے مکمل پلان کے متعلق تفصیلاً اعداد و شمار کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔۔ 1993 میں سیاچین جانا ہوا تو معلوم ہوا کہ مدیر تکبیر کا اندازا کچھ غلط نہ تھا۔گلگت اور بلتستان صوبے میں اسماعیلیوں نے ہر آبادی میں ہسپتال اور سکول تعمیر کر دیئے۔ اُن علاقوں میں رہنے والے مذہب کے اتنے نزدیک تھے جتنا سورج اُن سے گرمیوں میں چند دن کے لئے نزدیک ہوتا ہے۔ اسماعیلیوں نے سب سے پہلے وہاں فری ہسپتال کھولے، انگریز مشنریوں نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا۔ پھر سکول کھول کر وہاں ایسی تعلیم کا آغاز کیا جو پاکستان میں اعلیٰ درجے کے مقابلے میں تھی، جس کے لئے بے تحاشا انگریز بوڑھے اُن علاقوں میں آنے لگے۔ اس کے علاوہ، اپنے علاقوں میں پاکستانیوں کو زمین خریدنے پر پابندی لگانے والوں نے شاہرہ ریشم کے ساتھ ساتھ آباد علاقوں میں زمین خرید کر گھر بنانے شروع کر دئے۔ اُس کے بعد اِن لوگوں نے اپنے پاؤں اسلام آباد میں پھیلانے شروع کر دئیے تھے ، مستقبل میں آنے والے سیلاب کا پانی ٹخنوں سے گذر کر کمر تک پہنچ گیا ہے، جب یہ گردن تک پہنچے گا تو پھر،ہمارے پلاننگ کرنے والوں کو ہوش آئے گا، لیکن اُس وقت اِن کی تیسری نسل دشت گردی کے تیسرے سفر کے لئے تیار ہورہی ہے ۔ کیوں کےافغان جنگ کی وجہ سے پاکستان میں آنے والے بے خانماں برباد لوگوں کی دوسری نسل پاکستانی شناختی کارڈ بنا کر، پاکستانیوں کے ہجوم میں کھو چکی ہے ۔
اور افغانستان سے آنے والے دھشت گردوں کی پوری مدد کرتے ہیں -
جنگی تاریخ میں سب سے مشکل اور ناقابلِ فیصلہ جنگ ، شہری علاقوں کی جنگ ہوتی ہے جس میں دشمن کی پہچان ناممکن تو نہیں مشکل ضرور ہوتی ہے ۔ اس تصویر میں دکھائے ہوئے معصوم بچے اگر کوڑے کے تھیلے میں بارود چھپا کر نکلیں تو کون انہیں دشت گرد وں کا سامان لے جانے والا کہے گا ؟
پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی
مارچ 1948 میں ڈھاکا ہوٹل کے ایک اجلاس میں جب بنگالی لیڈر نے انگلش میں سپاس نامہ پیش کیا تو کہا جاتا ہے کہ (مجیب الرحمان) سٹوڈنٹ لیڈر نے نگالی بنگالی کا شور مچایا تو ۔ قائد اعظم نے کھڑے ہو کر کہا " پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی " اِس جملے کو پاکستان مخالف قوتوں نے اچھالا ۔
یوں مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں زبان کے مسئلے نے مشرقی پاکستان میں علیحدگی کا بیج بو دیا ۔
بنگال جہاں ،ہندو لیگ (کانگریس ) کے مقابلے میں مسلم لیگ نے30دسمبر 1906 میں ڈھاکہ میں نوابوں کی گود میں نواب خواجہ سر سلیم اللہ خان کے محل میں جنم لیا ،کیوں کہ اُنہوں نے ، 1905 میں بنگال کی تقسیم کے لئے اہم کردار ادا کیا تھا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے بانی ، نواب وقار المک ، آغا خان سوئم ،اور نواب سلیم اللہ خاں سمیت بہت سے اہم مسلم اكابرین سید امیر علی ،سید نبی اللہ مولانامحمد علی جوہر٬ مولانا ظفر علی خاں٬ حكیم اجمل خاں٬ اجلاس میں موجود تھے۔ مسلم لیگ كا پہلا صدر انگلش بولنے والے سر آغا خان كو چنا گیا۔مرکزی دفتر کے لئے ، مشرقی بنگال کے شہر ڈھاکہ کے بجائے علی گڑھ کو چنا گیا اور دوسرا دفتر لندن میں بنایا گیا۔
کیوں کہ اُس وقت مشرقی بنگال تعلیمی طور پر اتنا ترقی یافتہ نہ تھا ۔
کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کا پودا ، انسانی ووٹوں کی آبیاری سے پروان چڑھتا ہے ، جس ملک کے عوام اپنے ووٹوں کا استعمال نہ کریں تو اُن کے ووٹ رات کی تاریکی میں نکلنے والی چڑیلیں لے اُڑتی ہیں ۔ اور پاکستان قائد اعظم کی وفات اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد پاکستان پر اقتدار کی چڑیلیں منڈلاتی رہیں اور زمین پر لمبے دانتوں والے مگر مچھ -
٭- وزیر اعظم لیاقت علی خان ( 14 اگست 1947 تا 16 اکتوبر 1951 ) کی شہادت کے بعد ،سر خواجہ ناظم الدین (17 اکتوبر 1951 تا 17 اپریل 1953) پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہوئے ۔
٭- 1954 میں جب بنگالی وزیر اعظم صاحبزادہ محمد علی بوگرا ( 17 اپریل 1953 تا 12 اگست 1955 ) نے گورنر جنرل ملک غلام محمدکی دعوت پر نئی وزارت تشکیل دی تو اس میں اسکندر مرزا اور جنرل ایوب خان کو بھی شامل کیا گیا۔ یوں جنرل ایوب خان پاکستان کے وزیر دفاع بن گئے۔
٭- وزیر اعظم چوہدری محمد علی (12 اگست 1955 تا 12 ستمبر 1956 ) کے بعد حسین شہید سُہروردی ( 12 ستمبر 1956 تا 17 اکتوبر 1957 ) وزیر اعظم رہے ۔ پھر ابراھیم اسماعیل چندریگر ( 17 اکتوبر 1957 تا 16 دسمبر 1957 ) وزیر اعظم رہے ۔ پھر سر فیروز خان نون ( 16 دسمبر 1957 تا 7 اکتوبر 1958 ) پاکستان کے وزیر اعظم رہے ۔
اُس کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان سے وزراءِ اعظم کی بساط لپیٹ دی جو ایک دلچسپ کہانی ہے ، اور مزے کی بات یہ وزیر اعظم سنا ہے کہ سلیکٹ تو بذریعہ ووٹ ، ممبر اسمبلی ہوئے تھے ، لیکن بطور وزیر اعظم نامزد ( گورنرجنرل یعنی صدر ) نے کئے ۔
حسین شہید سُہروردی ( 12 ستمبر 1956 تا 17 اکتوبر 1957 ) کو ہٹانے کے بعد ۔ مشرقی بنگال میں ، سٹوڈنٹ لیڈرز نے اِس زیادتی پر خوب احتجاج کیا ۔ اور بالآخر اگرتلہ سازش کیس میں سٹوڈنٹ لیڈرز گرفتار کر لئے گئے شیخ مجیب الرحمان علیحدگی پسندوں کا لیڈر بنا اور وہ جملہ ۔ "پاکستان کا قومی زبان اردو ہوگی "، نے مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں زبان کا مسئلے بنایا اور مشرقی پاکستان میں علیحدگی کا بیج بویا ۔ وہ اگرتلہ سازش کیس تناور درخت بننا شروع ہو چکا تھا ۔ حامد میر نے اُس وقت جنم نہیں لیا تھا لیکن اُس کے والدوارث میر نے ایوبی و پاکستان مخالف قوتوں کا ساتھ دیا ۔ جس پر حسینہ واجد نے 2013 میں اُسے بعد از مرگ بنگلہ دیشی ایوارڈ دیا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔



