Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 3 فروری، 2018

قندھاری ، برف اور کوئٹہ

کوئٹہ میں سردیاں شروع ہوتے ہی ذہن میں وہ مناظر ایک جھماکے کی مانند در آتے ہیں۔ گرمیوں میں ایسے تیسے گزارہ ہو جاتا تھا، پر سردیاں، جو بہت طویل ہوتی تھیں ان کے تصور سی کانپ اُٹھتا ہوں۔ اپنے کمرہ نما گھر کا ذکر تو کر بیٹھا ہوں، جو ایک عام گزرگاہ تھی۔ کھڑکیاں عرصہ دراز سے شیشوں اور جالیوں سے محروم ہو چکی تھیں۔ آنے جانے کے لئے تین دروازے تھے۔سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی، بھائی صاحب شکستہ کھڑکیوں پر گتے کے پیوند لگا کر ٹھٹھرا دینے والی ہوا کا راستہ روکنے کا تکلف کرتے۔ تکلف اس لئی کہا کہ ایک سوراخ ہوتا تو بند کرتے، وہ تو مکمل ہوادان بنی ہوئی تھیں۔
اچھے گھرانوں میں پتھر کا کوئلہ استعمال ہوتا تھا، جو ہمارے بس کی بات نہ تھی۔ حالانکہ اس زمانے میں ایک بوری کوئلہ کی قیمت صرف دو روپیہ تھی۔ نانی ساری گرمیوں میں کھانا پکانے کے لئے جو لکڑیاں جلاتی تھیں، بعد میں انکے انگاروں کو بجھا کر کوئلہ بنا لیتیں اور بوریوں میں جمع کر لیتیں اور ہم سردیوں میں یہ کوئلہ انگیٹھیوں میں دھکا کر سردیوں سے بچاؤ کا بندوبست کرتے۔
 یہ  1967 کی بات ہے ،  کہ ان دنوں کوئٹہ میں سوختی لکڑیاں ایندھن کے طور پر گھروں میں کام آتی تھیں۔ بعد میں مٹی کے تیل کے چولھے مستمل ہوئے۔ ہم شاوکشاہ روڈ کے کواری روڈ کی طرف کے موڑ پر واقع ٹال سے دو تین من کے حساب سے لکڑیاں لایا کرتے تھے۔ کلہاڑی سے کٹی لکڑی مہنگی اور اَن کٹی سستی ملتی تھی۔ وہ اللہ کا بندہ کافی خدا ترس تھا ہم سے رعایت کرتا اور ریڑھی کا کرایہ بھی وصول نہ کرتا، پر شرط یہ تھی ریڑھی ہم خود لے جائیں اور واپس بھی کریں۔
پھر ان لکڑیوں کو چھینی ہتھوڑی یا کلہاڑی سے چیرنے کا مرحلہ آتا۔ میں اپنی بساط بھر بھائی کا ساتھ دیتا۔ یہ لکڑیاں گھر سے ملحق گودام میں رکھ دی جاتیں۔ اکثر لکڑیاں گیلی ہوتیں تو انکو جلانے کے لئے کافی جتن کرنے پڑتے۔ نانی اور بہن پھونکنی سے پھونک پھونک کر آگ دھکاتیں۔ گھر دھوئیں سے بھر جاتا۔ ہر کھانے کے بعد نانی انگارے بجھا لیتیں تاکہ سردیوں میں کام آئیں۔
ہر طرف سے کھلے گھر کو گرم رکھنا مشکل تھا، اس کے لئے دو اقدامات کرنے پڑتے۔ ایک "صندلی" کا، یعنی ایک سٹول وغیرہ پر لحاف یا کمبل ڈال دیا جاتا اور اسکے نیچے کوئلہ کے انگیٹھی رکھ دی جاتی۔ سردیوں میں سب اسکے گرد بیٹھے رہتے۔ بچوں کی عام طور پر لڑائی اس وقت ہوتی جب اسے اٹھ کر کسی کام کرنے کو کہا جاتا۔
رات کو نانی چارپائیوں کے نیچے کوئلہ کی انگیٹھیاں رکھ دیتیں تاکہ بستر گرم رہیں۔ اس عمل سے ہر سال چار پائیوں کے بان جل جاتے اور سردیاں ختم ہونے تک وہ جھولا بن جاتیں۔ لحاف اور گدے بھی اکثر جل جاتے۔ سردیاں اس شدت کی پڑتیں کہ ہر جتن کرنے پر بھی سارا جسم کانپتا رہتا۔
اکتوبر کے دوسرے ہفتہ سے سردیوں کا آغاز ہوتا اور مارچ تک چھتوں سے برف کی قلفیاں لٹکتی رہتیں۔ بارشیں کوئٹہ میں ہمیشہ سردیوں ہی میں ہوتی ہیں۔ صرف فرق یہ ہے کہ اب بارشیں اس تواتر سے نہیں ہوتیں اور کوئٹہ کی ساری کاریزیں خشک ہو گئیں ہیں۔ اس زمانہ میں دسمبر، جنوری اور فروری برف کے مہینے ہوا کرتے تھے۔
برف اتنی پڑتی تھی کہ ہر گھر کی چھت سے کئی کئی مرتبہ بیلچہ سے اتارنی پڑتی۔ اس زمانہ میں تمام گھر سیون ٹائپ تھے، یعنی چھتیں چادروں کی اور آدھی دیواریں کچی ہوتی تھیں۔ ایسا 1935کے زلزلہ کے بعد کیا گیا۔جب سارا شہر تباہ ہو گیا تھا ۔


ہمارے سکول دسمبر میں تین ماہ کے لئے بند ہوتے تھے۔ صبح سردیوں میں سکول جانا ایک بہت بڑا مرحلہ ہوتا تھا۔
نانی سردیوں کے آغاز میں کباڑی سے، جی ہاں اس وقت تک کوئٹہ میں لنڈا بازار کا نام مستمل نہ تھا، ایک عدد سوئٹر اور ایک عدد کوٹ خرید لاتیں۔ سوئٹر اور کوٹ کا سائز درست ہونا شرط نہ تھی، صرف گرم ہونا شرط تھی۔ یہ سوئٹر اور کوٹ چوبیس گھنٹے ہمارے جسم کا حصہ بنے رہتے۔

انگریز نے پندرہ دسمبر سے پہلے کلاسوں میں ایندھن کے استعمال کی ممانعت کر رکھی تھی. اس لئے بچے ٹھٹھرتے رہتے۔ مجھے تو نانی دو قمیضوں، ایک سوئٹر اور کوٹ سے ڈھانپ دیتیں۔ سر پر اونی منکی کیپ چڑھادیتیں۔ ہاتھوں کے لئے دستانے اور پیروں میں پھٹے بوٹوں کے نیچے پہننے کو جرابیں نہ ہوتی تھیں۔ اس لئے ہاتھوں کی الٹی طرف انگلیوں کے جوڑوں میں سے ٹھنڈ کی زیادتی کی وجہ سے خون رسنے لگتا۔ یہی حال پیروں کی ایڑیوں کا تھا۔ اس عذاب سے اپریل میں نجات ملتی۔


 چونکہ امتحانات بھی دسمبر میں ہوتے، اس لئے بچوں کو دھوپ میں میدان میں بٹھا کر امتحان لیا جاتا۔ اکثر و بیشتر بچے یخ بستہ ہواؤں سے اپنا آپ بچاتے رہتے۔ انگلیاں شل ہو جاتیں اور قلم پکڑنے کے قابل نہ رہتیں۔ اس طرح بچے دو امتحانات سے گزرتے۔ 
کا فی عرصہ بعد چودھری نذیر نے مہربانی فرمائی اور انہوں نے ہر سال ہمارے گھر چند بوری کوئلہ بھیجنا شروع کردیا۔ اب سٹوپ بنانا یا لانا تھا۔ پیسے تھے نہیں۔ بھائی کی ہمہ صفت شخصیت نے اسکا حل ڈھونڈ لیا۔ کباڑی سے سٹوپ کے چادر لے آئے اور ڈالڈا کے ڈبوں سے پائپوں کا بندوبست کرلیا۔ خود ہی لوہار بن بیٹھے۔--
دسمبر آیا اور پرانے زخم ہرے ہو گئے۔
 
اب جب بھی ٹھنڈ آتی ہے یا کسی نادار کو ٹھنڈ سے لڑتے دیکھتا ہوں تو اپنی زندگی کے اس دسمبر کی یاد سے لرز اُٹھتا ہوں۔
  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نوٹ: اپنی آپ بیتی لکھنے والا یہ بچہ ، سول سروسزز  کے امتحان میں کامیاب ہوا اور ایک اعلیٰ عہدے پر پہنچ کر ریٹائر ہو ا!

طوائفوں سے میری وہ ایک ملاقات

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ماس کمیونی کیشن ریسرچ سینٹر میں اپنی تعلیم کے دوران مجھے طوائفوں کی زندگی پر ایک پروگرام تیار کرنے کا خیال آیا۔ اپنے پروفیسر سے مشورہ کیا تو انہوں نے بھی تائید کی۔ میرے ذہن میں پروگرام کا جو خاکہ تھا اس کے مطابق مجھے کچھ طوائفوں کے انٹرویو کرنے تھے۔ بس مسئلہ یہیں آکر پھنس گیا۔ ہمیں پتہ تھا کہ دہلی میں جی بی روڈ ریڈ لائٹ ایریا ہے ۔

لیکن وہاں کے بارے میں سنا تھا کہ جو صحافی وہاں انٹرویو کرنے گیا اس سے یا تو کسی نے بات نہیں کی یا پھر اس کی پٹائی کرکے پیسے اور کیمرہ بھی چھین لیا گیا۔ ظاہر ہے ان حکایتوں کو سننے کے بعد اس علاقہ میں انٹرویو کے لئے جانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ ادھر ادھر فون دوڑائے تو پتہ چلا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ہی ایک فارغ طالبہ ایک این جی او میں کام کرتی ہے اور اس این جی او کا مقصد طوائفوں کی آباد کاری ہے۔
انٹرویو کے سلسلہ میں میں مایوس ہو گیا تھا لیکن اس خبر سے امید کی کرن دکھائی دی اور میں نے اس لڑکی سے رابطہ کیا۔ لڑکی نے وعدہ کیا کہ وہ اپنے دفتر میں کچھ طوائفوں کو انٹرویو کے لئے راضی کرنے کی کوشش کرے گی۔ خیر دو تین دن بعد اطلاع آئی کہ فلاں دن این جی او کے دفتر میں انٹرویو ہونا طے پایا ہے۔ دہلی کی دہکتی گرمی میں ، میں اور میرا کلاس فیلو دہلی ایئرپورٹ کے سامنے واقع کالونی مہی پال پور پہنچے۔
این جی او کے دفتر میں پہلے اسی لڑکی سے ملاقات ہوئی جس کی مدد سے انٹرویو ممکن ہوئے تھے۔ اس لڑکی نے بتایا کہ یہ خواتین ہفتے میں ایک دن ہمارے دفتر آتی ہیں تاکہ مختلف ہنر کی ٹریننگ لے کر اپنے موجودہ پیشے کو خیرباد کہہ سکیں۔ ذرا دیر بعد ایک دوسرے کمرے میں میں انٹرویو کے لئے درجن بھر خواتین کے سامنے بیٹھا تھا۔
میں نے اس سے پہلے طوائفوں کا نام کتابوں، پاکستانی ڈائجسٹوں اور کہانیوں میں ہی پڑھا تھا۔
ہندی سنیما میں جو طوائفیں میں نے پردے پر دیکھی تھیں وہ اپنے لباس اور انداز سے آسمانی مخلوق معلوم ہوا کرتی تھی۔ اس دن پہلی بار میں نے طوائفوں کو حقیقت میں اپنے سامنے دیکھا جو میں یہ دیکھ کر حیران ہو گیا کہ وہ تو بالکل عام عورتوں کی طرح تھیں۔ نہ نفیس اور چمکیلا لباس، نہ چاندی کی چوٹی نہ غازہ نہ جھومر۔ میرے سامنے تو کچھ ویران چہرے بیٹھے تھے۔ کچھ کی گود میں بچے تھے اور کچھ جو نوعمر تھیں ان کی آنکھوں اور باتوں میں شادی اور بچے پیدا کرنے کے خواب تھے۔
اس دن مجھے پتہ چلا کہ طوائف نہ تو کسی پیشے کا نام ہے اور نہ کسی مزاج کا بلکہ طوائف مجبوری کا نام ہے۔ میں گھنٹوں ان کی آپ بیتی سنتا رہا لیکن مجھے ان میں نہ تو کسی نواب یا رئیس کی منہ چڑھی محبوبہ نظر آئی اور نہ مردوں کو آنکھوں ہی آنکھوں میں بیچ دینے والی نائکہ۔ ان میں کوئی کسی کی چاہت میں گھر بار چھوڑ کر آئی تھی اور اس کا وہی عاشق اسے بہت معمولی پیسوں میں کوٹھے پر بیچ گیا۔ کسی کا شوہر بستر مرگ پر تھا جس کے علاج کی سبیل اور گھر چلانے کی خاطری نوکری ڈھونڈنے دہلی اسٹیشن پر اتری اور وہاں سے سیدھے جی بی روڈ پہنچا دی گئی۔
سب کی داستان میں ایک ہی مشترکہ چیز تھی اور وہ یہ کہ دو وقت کی روٹی اور حالات کے دھارے نے ان سب کو اس پیشے میں ڈال دیا تھا جس میں رہنے والی عورت طوائف کہلاتی ہے۔
ان سب نے یہی کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ اس زندگی سے نکل جائیں جہاں ہر ہر قدم پر انہیں گوشت کا لوتھڑا سمجھ کر بھنبھوڑا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ ان کو دھتکارتے ہیں، ان پر تھوکتے ہیں۔ ان سب کی باتوں سے لگتا تھا کہ انہیں ہر وقت یہ فکر کھائے جاتی ہے کہ ان کی زندگی تو جیسے بھی کٹی، ان کے بچوں کا کیا قصور ہے جو انہیں اس معاشرے میں ذلت کے ساتھ سر جھکا کر رہنا ہوگا کیونکہ ان کی ماں طوائف ہے۔ اس دن مجھے معاشرے کی منافقت اور بے شرمی کا خوب اندازہ ہوا۔ یہ معاشرہ جو ایک عورت کو اپنی اجتماعی کاوش سے ان حالات کی طرف دھکیلتا ہے جہاں اسے زندہ رہنے کے لئے طوائف بننا پڑتا ہے وہی معاشرہ اخلاقیات کی پہاڑی پر کھڑے ہوکر اس طوائف کو ذلت بھری زندگی کی وعید سناتا ہے، لوگوں کو اس طوائف کو ذلت کے تیروں سے ہلاک کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ یہ معاشرہ نہ اس عاشق سے گھن کھاتا ہے جو ایک عورت کو پیار کا وعدہ کرکے گھر سے بھگا کر لایا اور کوٹھے پر لے جا کر بیچ دیا۔ یہ منافق سماج اس بے غیرت نام نہاد مرد سے بازپرس نہیں کرتا جو اسٹیشن پر بھوکی اور بے سروسامان عورت کو دیکھ کر کھانا کھلانے اور نوکری کا وعدہ کرکے اس کو جسم فروشی کے دلدل میں لے جا ڈالتا ہے، اس سماج کی زبان پر اس وقت آبلے پڑ جاتے ہیں جب ریڈ لائٹ ایریا میں کوئی دلال مرد سڑک پر گھوم گھوم کر جسم بھببھوڑنے والے کسی بھوکے کو تلاش کرتا ہے تاکہ دلالی حاصل ہو سکے۔  
یہ اخلاق کی دھن پر ناچ ناچ کر ہلکان ہونے والا معاشرہ چین کی نیند سو رہا ہوتا ہے جب کہ اسی شہر میں طوائف نام کی مخلوق دو وقت کی روٹی کے لئے اپنا جسم بیچ رہی ہوتی ہے۔ اتنے بڑے معاشرے میں ساحر، منٹو اور گرو دت کے علاوہ کیا کسی اور کو ان پائمال جسموں کی سسکیاں نہیں سنائی دیتیں؟ شام ڈھلے تک ان طوائفوں سے انٹرویو کرنے کے بعد میں نے واپسی کا ارادہ کیا۔ وہ خواتین ڈھولک لئے بیٹھی تھیں۔ میں نے سوچا پروگرام میں ان کی آواز میں کوئی گیت شامل کروں۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ اگر چاہیں تو ڈھولک پر کوئی گیت گائیں تاکہ میں اسے ریکارڈ کر لوں۔ ان سب نے ڈھولک کی تھاپ پر گانا شروع کیا۔ 
گوری ہیں کلائیاں پہنا دے مجھے ہری ہری چوڑیاں اپنا بنا لے مجھے او بالما
اس سے زیادہ سننے کی مجھ میں طاقت نہیں بچی تھی۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا، ریکارڈر بیگ میں ڈالا اور اپنے ساتھی کے ساتھ این جی او کے دفتر سے نکل آیا۔ شام ڈھلنے کو تھی اور سورج نے آسمان پر شفق بکھیر دی تھی۔ پتہ نہیں کیوں مجھے ایسا لگا جیسے آسمان رو رہا ہے۔ 
 (مالک اشتر - دہلی ہندوستان)

اوئے ٹرمپا ۔۔۔۔ یہ تو کس قوم سے پنگا لے بیٹھا ہے!

ایک دفعہ کا ذکر ہے ،   ایک صبح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے گھر سے ایک سرکاری میٹنگ کے لیے روانہ ہوا ،تو اسے راستے میں ایک غریب ایفرو امریکین عورت ملی جو سلش SLUSH (بچوں کا مشروب) بیچ رہی تھی۔ ٹرمپ نے ایک ڈالر کا نوٹ اس کی طرف بڑھایا،
" مجھے ایک  گلاس دو " 
غریب نیگرو عورت نے جیسے ہی سلش کا گلاس آگے بڑھایا ،    شربت  ٹرمپ کی شرٹ کے اوپر  چھلک گیا اور سامنے کی طرف   چھینٹے پڑ گئے ، گو زیادہ نہیں تھے لیکن شرٹ  پر نمایاں تھے ۔ یہ دیکھ کر ٹرمپ آپے سے باہر ہو گیا اور اس نے نیگرو عورت کو بالوں سے پکڑ کر چلانا شروع کر دیا ۔
"نامراد  نیگرو عورت ، نان امریکن غلام ،  تمہاری وجہ سے میری اتنی مہنگی شرٹ کا ستیاناس ہو گیا ہے۔ پتہ ہے یہ کتنے کی شرٹ تھی ؟"
وہ بے چاری غریب عورت معافیاں مانگتی رہ گئی لیکن ٹرمپ ایک بات بار بار کہتا تھا ،
" مجھے اس شرٹ کی قیمت ادا کر دو تو میں تم کو جانے دوں گا ورنہ تب تک میں تمہاری جان نہیں چھوڑنے والا"
اس نیگرو عورت نے روتے ہوئے پوچھا کہ،
"آخر کتنے کی ہے تمہاری شرٹ ؟"
  "ایک ہزار ڈالر"
ٹرمپ نے جواب دیا
"کیا ؟ "یہ سن کر وہ عورت بھونچکا رہ گئی!
" میرے پاس اتنے پیسے تو نہیں ہیں، " وہ روہانسی ہو کر بولی ،
"میں کیسے ادا کروں گی اتنی بڑی قیمت؟"
یہ کہہ کر وہ غریب حبشی عورت رونے لگی۔
 ٹرمپ دولت اور طاقت کے نشے میں بدمست ہے، وہ دھاڑا
"مجھے نہیں پتہ، مجھے میرے کپڑوں کی قیمت ادا کرو، ورنہ تب تک تم میری غلام رہو گی"
ابھی بات یہیں تک پہنچی تھی کہ سامنے ایک ٹیکسی ڈرائیور یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا، وہ قریب آیا اور اس نے مزدور عورت سے پوچھا،
" کیا ہوا تم کیوں رو رہی ہو ؟"
غریب عورت نے  روتے ہوئے بولی،
"یہ ظالم شخص  میری  چھوٹی سی غلطی کے ہزار ڈالر مانگ رہا ہے، اتنا تو میرے گھر کا ماہانہ خرچہ بھی نہیں ہے تو میں اسے اتنی بڑی رقم کیسے ادا کروں گی"
 یہ سن کر ٹیکسی ڈرائیور نے اس مظلوم عورت کو دلاسہ دیا  بولا ،
" صبر کرو میں اِسے سمجھاتا ہوں شائد مان جائے "
اور ٹرمپ سے بولا ، "یہ غریب عورت ہے ، یہ کہاں سے دے گی؟
یہ تو دن کے سو ڈالر کماتی ہے  ؟ میں یہ داغ صاف کر دیتا ہوں، کہاں ہے داغ "
" تم کون ہو، براؤن کمّی،
  ہمارا کھانے والے  غیر ملکی ،
تم بھی  اِس کے ساتھی ہو !
ہم  امریکنوں  کی زمین پر  لعنت ہو !
نکل جاؤ یہاں سے ورنہ میں تمھیں گرفتار کروا دوں گا " ٹرم نفرت سے بولا
" دیکھو ، غصیلے امریکن اتنا شور مچانے کی ٖضرورت  ، کہیں تمھیں ہائپر ٹینشن سے فالج نہ ہوجائے ، اتنا غصہ صحت کے لئے ٹھیک نہیں ہوتا ۔"
ٹیکسی ڈرائیور بولا، " اِس غریب عورت کو معاف کر دو ! تمھارا جیزز کرزئسٹ  تمھارے گناہوں  کی بخشش کروائے گا "
یہ جھگڑا سن کر لوگ اکٹھے ہو گئے ،   سب ٹرمپ کی اچھل کود دیکھ رہے تھے ، اُنہیں معلوم تھا کہ ٹرمپ ڈالر لئے بغیر نہیں ٹلے گا ، اور یہ شربت اپنی قمیض پر چھلکوانے والی حرکت ٹرمپ نے ہی کی ہوگی ،اُس کا اِس راستے  میں سب غیر ملکیوں سے جھگڑا ہوتا تھا ،  سب خاموش تماشائی تھے ۔
 ٹرمپ دھاڑا ،" نہیں کروانی مجھے بخشش!
تم مذہبی بلیک میلر !
تم امریکی زمین کے کیڑے !
اگر تمہیں اِس بلیکی سے ہمدردری ہے تو تم پیسے دے دو !" 

ٹیکسی ڈرائیور نے اپنی جیب سے سو ڈالر کے نوٹ نکالے ، گن  کردس نوٹ ، ٹرمپ کے حوالے کئے 
 ٹرمپ نے خوشی خوشی وہ رقم لی ، ناظرین کی طرف فخریہ انداز میں دیکھتے، جیب سے پرس نکالا ، اُس میں رکھی  اور اپنے راستے پر جانے کے لئے مڑا اور چل پڑا ،افریقی عورت نے شکریہ کے طور پر ٹیکسی  ڈرائیور کو سَلش کا گلاس  دیا ،
" او غصیلے بڈھے ، جھگڑالو ٹرپ ٹہرو !" ٹیکسی ڈرائیور چلایا
" کیا بات ہے ؟ مجھے آفس دیر ہو رہی ہے ،کیوں بلاوجہ  میرا وقت ضائع کر رہے ہو ؟
میرا وقت بہت قیمتی ہے ، ایک ایک منٹ کی قیمت سو ڈالر ہے ، کیا ادا کر سکو گے ؟"ٹرمپ مسکراتے ہوئے بولا ۔
"ٹھیک ہے ، ٹرمپ میں ٹیکسی ڈرائیور ہوں میں مسافر سے انتظار کروانے کا  50 سینٹ فی منٹ لیتا ہوں ، پہلے ایک بات طے کر لیں کہ اگر میں
بلاوجہ  تمھارا وقت ضائع کروانے کی  غلطی پر ہوا تو میں وقت کی ادائیگی کروں گا ، ورنہ تم ادائیگی کرو گے "
ٹرمپ بولا ۔" مجھے منظور ہے "
"کیا آپ میں سے کوئی ٹائم کیپر بننے کے لئے تیار ہے"۔ ٹیکسی ڈرائیور  نے عوام سے پوچھا ، ایک بوڑھی عورت تیار ہوگئی ۔ 

" ٹھیک ہے پھر ٹائم شروع ہوتا  ہے !" ٹرمپ بولا
" مسٹر ٹرمپ یہ بتاؤ ، کہ تم نے مجھے سے ہزار ڈالر کس مد میں لئے ؟" ٹیکسی ڈرائیور نے پوچھا
"اس شرٹ کےلئے " ۔۔۔۔۔ ٹرمپ لے لہجے میں حیرت تھی "جو اِس عورت نے خراب کی "
" ناظرین ، گواہ رہیئے کہ ، میں نے اِس شرٹ کی قیمت ادا کر دی ہے " 
ٹیکسی ڈرائیور بولا ۔
" تم میرا وقت ضائع کر رہے ہو ، جب میں نے قبول کر لیا ہے کہ میں نے اِس شرٹ کے لئے تم سے ہزار ڈالر لئے ہیں ۔تو پھر ناظرین سے گواہی کیوں لے رہے ہو ؟ " ٹرمپ دھاڑا

" تو مائی ڈئر مسٹر ٹرمپ ، اگر تمھاری شرٹ کی قیمت کی ادائیگی ہوچکی ہے تو ، پھر شرٹ تو میرے حوالے کردو"
 ٹیکسی ڈرائیور نے سٹرا سے سَلش کا شڑوک لیتے ہوئے کہا !
" کیا ؟ ، کیا تم پاگل ہو گئے ہو ؟
تمھارا دماغ خراب ہے !
تمھیں اتنی سمجھ نہیں کہ اگر میں نے تمھیں شرٹ دے دی تو کیا میں ننگا ، سرکاری میٹنگ میں جاؤں گا ؟" ٹرمپ گلا پھاڑ کر بولا ۔
" تم لوگ سُن رہے ہو ، یہ کیا بکواس کر رہا ہے ۔" ٹرمپ ناظرین کو مخاطب کر کے بولا ۔
" مسٹر ٹرمپ" 
ٹیکسی ڈرائیور ،  سٹرا سے سَلش کا  دوسرا شڑوک لیتے ہوئے بولا۔
"تم ننگے جاؤ یا جیسے بھی جاؤ، یا واپس اپنے محل میں جاکر دوسری شرٹ پہن کر میٹنگ میں جاؤ ، مجھے پرواہ نہیں "
" براون غیر ملکی ، تم مجھ سے میری شرٹ کیسے مانگ سکتے ہو، میں ہرگز نہیں دوں گا " ٹرمپ بولا
یہ کہہ کر ٹرمپ اپنے آفس کے راستے کی طرف بڑھنے لگا
" مسٹر ٹرمپ ، کان  کھول کر سنو ! "
  ٹیکسی ڈرائیور ،اطمینان سے بولا ۔"  اگر تم نے  شرٹ نہ دی تو میں پولیس کو بلوا کر تمہیں میرے ایک ہزار ڈالر چوری کرنے کے الزام میں ہتھکڑی لگوا دوں گا ورنہ دوسری صورت میں مجھے میری شرٹ واپس کر دو کیونکہ میں اس کی قیمت ادا کر چکا ہوں"۔
ٹرمپ  ، جھٹکے سے واپس مُڑا ، اُس کا منہ کُھل گیا  ۔
" تَت ، تَت تم دیکھ رہے ہو امریکن شہریو ،
اِس گھٹیا آدمی کا الزام ،
اور اخلاق سے گری ہوئی حرکت ،
یہ میری قمیض اتروا کر مجھے بے عزت کرنا چاہتا ہے ،
امریکن عوام کو شرمندہ  کرنا چاہتا ہے ،
امریکن کیبنٹ کا مذاق اُڑوانا چاہتا ہے ، " ٹرمپ نے ایک گھنٹہ کی تقریر شروع کی تاکہ امریکن عوام جو وہاں موجود تھے ، ٹرمپ کاساتھ دیں !
" مسٹر ٹرمپ، آپ کو اِس شخص سے امریکن اصولوں کے مطابق ڈیل کرنا ہوگی " ایک  جھیل جیسی نیلی آنکھوں والی بوڑھی  امریکن عورت بولی۔
" اِس سے واپس خرید لو یہ شرٹ " ا
یک آواز آئی ۔
اب ٹرمپ کی جان پر بن آئی تھی ، وہ گھر اور میٹنگ کے درمیان میں تھا اور وہ بغیر شرٹ کے گھر جا سکتا تھا اور نہ آفس۔
"ٹھیک ہے ، یہ بہترہے " ٹرمپ بولا 
" براؤن دھوکے باز ٹیکسی ڈرائیور ، یہ بتاؤ تم اِس داغ دار شرٹ کا کیا لوگے ؟"

" مسٹر ٹرمپ" 
ٹیکسی ڈرائیور ،  سٹرا سے سَلش کا  تیسرا شڑوک لیتے ہوئے بولا۔
" پانچ  ہزار ڈالر  اور وقت ضائع کرنے کے پیسے الگ "

 " کیا ؟ تم نے مجھے اِس شرٹ کے ہزار ڈالر  نہیں دیئے تھے ! " ٹرمپ بے یقینی سے بولا
" وہ تم نے قیمت لگائی تھی ، میں نے ادا کر دی ،
مسٹر ٹرمپ"  ٹیکسی ڈرائیور ،  سٹرا سے سَلش کا  چوتھا شڑوک لیتے ہوئے بولا۔
" یہ قیمت میں نے لگائی ہے داغ دار شرٹ کی نہیں ۔ بلکہ امریکن صدر کی داغدار شرٹ کی ، جس کی نیلامی سے مجھے لاکھوں ڈالر ملیں  گے۔ لاؤ  میری شرٹ !"

یہ سن کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا سر پکڑ لیا کیونکہ اب وہ ایسا پھنس چکا تھا کہ اس کو جان بچانے کا اور کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا ٹرمپ نے چار و ناچار اس ٹیکسی ڈرائیور کو پانچ ہزار ڈالر دیے اور شرٹ  واپس خرید لی اور چلنے لگا ۔
" مسٹر ٹرمپ " ایک منحنی سی آواز آئی " آپ نے ٹیکسی ڈرائیور کے ایک گھنٹہ اُنیس منٹ اور پچپن سیکنڈ ضائع کئے ہیں ۔ آپ مزید   40 ڈالر ادا کریں "
 ٹرمپ نے مزید 40 ڈالر ادا کئے ۔
ٹیکسی ڈرائیور نےایک ہزار اور  40 ڈالر اپنی جیب میں ڈالے ،  بقایا چار ہزار ڈالر اس غریب ریڑھی والی حبشی عورت کو دیئے تا کہ وہ اپنا گزر اوقات بہتر طریقے سے کر سکے۔
ٹرمپ حیران ہوگیا ۔
یہ سب کچھ دیکھ کر وہ بوڑھی حبشی عورت فرطِ جذبات سے رونے لگی اور اس نے ٹیکسی ڈرائیور سے لپٹ کر پوچھا "اے اجنبی فرشتے تم کون ہو اور میری مدد کے لیے کہاں سے آئے ہو"
ٹرمپ بھی ساتھ کھڑا حیرت سے یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔
یہ سن کر ٹیکسی ڈرائیور بولا ،" اماں میں اس قوم کا باشندہ ہوں جس سے ٹرمپ نے 33 بلین ڈالر کا حساب مانگا ہے۔
اس کو بتا دو ابھی تو میں نے صرف ایک ہزار ڈالر کا حساب کیا ہے اور اس کو جیب سے پانچ ہزار ڈالر دینے پڑ گئے ہیں۔
ابھی تو بقایا 32 بلین 999 ملین 9 لاکھ اور 99 ہزار کا حساب کرنا باقی ہے۔ اگر آج کے بعد اس پرانے کنستر کے منہ والے نے کسی غریب اور غیرت مند ملک کے ساتھ زیادتی کی تو ایسا حساب چکتا کروں گا کہ پورا امریکہ بیچ کر  پیسے بھرنے پڑ جائیں گے"۔
یہ کہہ کر وہ ٹیکسی ڈرائیور وہاں سے چلا گیا اور وہ غریب حبشی عورت اور امریکی صدر حیرت سے وہیں کھڑے دیکھتے رہ گئے۔ وہ عورت ٹرمپ کو دیکھ کر حیرت ناک انداز میں بولی ، 
"اوئے ٹرمپُو!   یہ تو کس قوم سے پنگا لے بیٹھا ہے"
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

جمعرات، 1 فروری، 2018

مقروض پاکستان اور حکومتی خرچے

وفاقی حکومت نے اپنے دور میں پاکستان کو مقروض کیوں بنایا ۔؟
ایک تصویری نظر! 































انٹرنیٹ کا جہنم - ڈارک ویب

Deep web  انٹرنیٹ کا   96%  حصہ ہے ،  Surface web  یعنی  wwwاستعمال کرنے والے ہر شخص، ہر ادارے اور ہر حکومت کی ہر قسم کی معلومات جمع ہیں---!
  Deep web  میں دنیا کا ہر غیر قانونی و غیر انسانی کام ہوتا ہے----!
منشیات، اسلحہ اور عورت کی خرید و فروخت سے لے کر ایک انسان کو ذبح کر کے گوشت کھانے تک کا کاروبار ہوتا ہے ۔
Deep web عام براؤذر کے ذریعہ باآسانی کھل سکتی ہے۔ مگر اسے کوئی سرچ نہیں کر سکتا۔ اس کے کھلنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ جس نے ڈیپ ویب کی وہ سائٹ بنائی ہے اسکا لنک جو چند الٹے سیدھے کوڈ نما الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے اسے کسی بھی براؤزر میں میں ڈال دیا کر انٹر کردیا جائے تو سائٹ کھل جاتی ہے۔
جب کہ dark web کسی بھی عام براؤزر سے کبھی بھی نہیں کھلتی،  ماسوائے 
tor   پراجیکٹ نامی براؤزر کے جسکی سائٹس کی ایکسٹینشنز Onion  ہوتی ہیں جو صرف ٹور براؤزر پر ہی کھلتی ہے. اس کا بھی سائٹ لنک عجیب الٹے سیدھے کوڈ نما نمبرز پر مشتمل ہوتا ہے اور اسکا سائٹ کوڈ معلوم ہو تب ہی کھلتی ہے. مگر tor کے کچھ اپنے سرچ انجن ہیں جن پر مطلوبہ سائٹ یا مطلوبہ ویڈیوز یا مطلوبہ مواد کو گوگل کی طرح سرچ کرکے باآسانی تلاش کیا جاسکتا ہے ۔
اسی میں مزید ایک قدم آگے red rooms ہے۔ جہاں بند کمروں میں دنیا کا بدترین تشدد دکھایا جاتا ہے۔
وہاں تک رسائی بنا پیسوں کے نہیں ہوتی۔حقیقی زندگی میں اگر آپ اعتراف کرتے ہیں کہ آپ ریڈ رومز تک گئے ہو۔۔۔آپ کو صرف وہاں جانے کے اعتراف پر بھی جیل جانا پڑے گا۔
ایف بی آئی نے 2014  میں اس کے خلاف تحقیقات شروع کیں اور اس کا سرور ٹریس کر کے بند کر دیا۔۔مالکان آج تک فرار ہیں۔۔۔(ویب سائٹ چونکہ اب آپریٹ نہیں کرتی ا سلیے نام بتا دیا)۔
ڈارک ورلڈ یا ڈیپ ورلڈ میں کچھ ایسی گیمز بھی پائی جاتی ہیں جو عام دنیا میں شاید بین کر دی جائیں۔ایسی ہی ایک خوفناک گیم کا نام " سیڈ ستان(شیطان ) " ہے۔
اس گیم کے گرافکس اس قدر خوفناک ہیں کہ عام دنیا میں کوئی بھی گیم اسٹور اس گیم کی اجازت نہیں دے گا۔انسانی اسمگلنگ کا سب سے بڑا گڑھ ڈارک ویب ورلڈ کو کہا جاتا ہے۔۔یہاں خواتین کو بیچنے کا کام بھی کیا جاتا ہے۔
جوزف کاکس جو کہ ایک ریسرچر ہیں وہ 2015میں ڈیپ ویب ورلڈ پر ریسرچ کر رہے تھے۔ایسے میں اسی ورلڈ میں انھیں گروپ ٹکرایا جس کا نام "بلیک ڈیتھ " تھا اور انھوں نے جوزف کو ایک عورت بیچنے کی آفر کی جس کا نام نکول بتایا اور وہ گروپ اس عورت کی قیمت ڈیڑھ لاکھ ڈالرز مانگ رہا تھا۔
کینی بال یعنی آدم خوروں کا ایک فورم ہے جہاں کے اراکین ایک دوسرے کو اپنے جسم کے کسی حصے کا گوشت فروخت کرتے ہیں۔
پچھلے دنوں وہاں ایک پوسٹ لگی جس کے الفاظ یہ تھے " کیا کوئی میری ران کا آدھا پاونڈ گوشت کھانا چاہے گا؟ صرف پانچ ہزار ڈالرز میں۔۔۔اسے خود کاٹنے کی اجازت ہو گی۔۔"
جہاز تباہ ہونے کے بعد بلیک باکس (جہاز کا ایک آلہ) تلاش کیا جاتا ہے کیوں کہ وہ ایسے میٹریل سے بنا ہوتا ہے جو تباہ نہیں ہوتا۔
اس بلیک باکس میں پائلٹ اور کو پائلٹ کی آخری ریکاڈنگز ہوتی ہے۔۔اس سے پتا چل جاتا ہے کہ تباہ ہونے سے پہلے کیا ہو اتھا ۔۔ایک ویب سائٹ پر تباہ شدہ جہازوں کی آخری ریکاڈنگز موجود ہیں۔۔وہاں نائن الیون کے جہاز کی آڈیو فائل بھی موجود ہے۔
ایک ویب سائٹ جوتے، پرس، بیلٹ وغیرہ بیچتی ہے اور ان کا یہ دعوی ہے کہ یہ انسانی کھالوں سے بنے ہیں۔
لکھنے کو بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔

 بچوں کا قتل پاکستان میں کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن پاکستان میں سچ کو ہمیشہ مسخ کیا جاتا رہا۔اور پاکستان میں ہی کیوں دنیا کے بیشتر ممالک میں یہی سب ہو رہا ہے۔آج سے بائیس برس پہلے کا ایک کیس کچھ دوستوں کو یاد ہوگا جاوید اقبال مغل سو بچوں کو قتل کرنے والا درندہ جو بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کرتا تھا اُن کو قتل کرتا تھا اور اُن کی لاشوں کو تیزاب میں جلا دیتا تھا۔ جاوید اقبال مغل جسے جسٹس اللہ بخش رانجھا نے سو دفعہ پھانسی پر چڑھانے کا حُکم دیا تھا۔اُسے ایک نفسیاتی مریض کہا گیا تھا۔روزنامہ ڈان کی دو ہزار ایک میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطاق جاوید اقبال مغل نے ایک ویڈیو گیم سینٹر بنایا ہوا تھا جہاں وہ بچوں کو ٹریپ کرتا تھا اُن کے ساتھ جنسی تشدد کرتا تھا اُنھیں پیسے دیتا تھا اور ڈرا دھمکا کر چپ کروا دیتا تھا۔قتل کرنے کے لیے وہ گھر سے بھاگے بچوں اور فُٹ پاتھ پر رہنے والے غریب بچوں کا انتخاب کرتا تھا۔
تین دسمبر1999کو ایک اردو اخبار کے دفتر پہنچ کر اُس نے اعتراف کیا تھا۔ کہ میں جاوید اقبال ہوں سو بچوں کا قاتل میں نے سو بچوں کا قتل کیا ہے اور مجھے نفرت ہے اس دنیا سے مجھے بچوں کو قتل کرنے پر کوئی ندامت نہیں ہے۔ جاوید اقبال مغل اور اُس کی اعانت کرنے والوں کو موت کی سزا سنائی گئی اور بعد میں جاوید اقبال اور اُسکے ساتھی نے جیل میں زہر کھا کر خود کشی کر لی تھی۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کسی خفیہ ہاتھ نے اُن کو ختم کروا دیا تھا اور یہ کیس تھا ہیومین آرگنز کی اسمگلنگ کا۔یعنی بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کی ویڈیوز اور بعد میں اُن کو قتل کرکے اُن کے جسمانی اعضاء بیچے گئے تھے اور جاوید اقبال مغل کو خاموش کروا دیا گیا۔خفیہ ہاتھوں کے لیے کئی جاوید اقبال کام کرتے ہیں۔
2015کا ایک بڑا اسکینڈل جس میں 2006سے لیکر 2015 تک تین سو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کر کے اُن کی ویڈیوز بنائی گئیں اور اُس سارے معاملے میں پولیس اور ایم۔پی۔اے ملک احمد سعید کو ملوث بتایا گیا۔
ہم جس طرح سے ہر کیس کو جہالت اور نفسیاتی پیچیدگیوں کو وجہ بنا کر چُپ ہو جاتے ہیں ایسا نہیں ہے۔
یہ ایک ملٹی ٹریلین انڈسٹری ہے۔ابھی حال ہی میں قصور میں زینب بھی اسی جنسی تشدد کا شکار ہوئی اور بعد میں اُس کی لاش کچرے میں پائی گئی۔
یہ کاروبار ہے۔بہت بڑا کاروبار ہے مثال کے طور دنیا کے کچھ امیر لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ کر ڈارک ویب پر جاتے جہاں وہ کسی مخصوص ویب سائیٹ کے ممبر ہوتے وہاں باقاعدہ لائیو دیکھایا جاتا یہ سب وہ باقاعدہ اپنی ڈیمانڈ پر بچے کے ساتھ یا عورت کے ساتھ جنسی تشدد کرواتے اور بولی لگاتے کہ اس کے ساتھ یہ کرو تو اتنے پیسے لے لو اور وہ کرو تو اتنے پیسے۔
پرائیویٹ فائٹس میں کسی ایک فائٹر کے مرنے تک یہ لوگ بولیاں لگاتے رہتے ہم لوگ ایک ایسی شیطانی دنیا میں رہ رہے ہیں جس کی شیطانیت پوری طرح سے انسانیت پر غالب آچُکی ہے جس کی وجہ ہے اچھے لوگوں کی خاموشی۔نکلو جاگو اُٹھو ورنہ دنیا سے اُٹھ جاو گے۔یہاں کچھ بُرے لوگ اپنے تھوڑے سے فائدے کے لیے انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔
ہمارے ملک کی کیا حالت ہے۔ ہر ادارے  میں کرپشن ،بے ایمانی اور رشوت خوری  دیمک کی طرح گھس چکی ہے ۔ یہ دیمک کہاں سے آئیں ؟
ایک اہم سوال ہے !
ہمیں بچپن سے اخلاقی اور مذہبی تعلیم گھروں سے دی جاتی ہے ۔ جو ماؤں کی گود سے شروع ہوتی ہے ، یہاں تک کہ جسمانی مزدوری کرنے والی عورت بھی سر پر دوپٹہ رکھ کر اپنے بیٹے کو اللہ اور رسولﷺ کی باتیں سناتی ہے ۔
ہم چُپ ہیں یوں جیسے مر چُکے ہیں۔
ہمیں پورا یقین ہے ان آرگنائزڈ کرائم کے پیچھے سرحد پار سے بھی کچھ سرکاری اور غیر سرکاری لوگ ضرور شامل ہوں گے۔
ہمیں اُٹھنا پڑیگا ورنہ ایک عام انسان کی پہلے سے جہنم زندگی اور بھی جہنم بن جائے گی..!!   - - -  

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ڈارک ویب کیا ہے



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔