Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 10 ستمبر، 2019

یوتھیا نیوز نیٹ ورک ایجنسی

آج وٹس ایپ پر ، یوتھیا نیوز نیٹ ورک ایجنسی  کی طرف سے ،  نیازی کارناموں کی ایک  29 خبروں پر مشتمل  بریکنگ نیوز کی فہرست پھیلائی  گئی ۔ جس پر مہاجر زادہ  نے چاچا گوگل سے پوچھا ۔   تو حیرت نہ ہوئی  کیوں؟
کہ   نیازی  کا سلیکشن اُس کے جھوٹ پر ہوا  اور جھوٹ ، خلائی خلوق کا پسندیدہ ٹاپک ہے ۔
جو وہ  ہم وطنوں  سے 1958 سے بول رہی ہے ۔ آپ بھی پڑھئیے  اور  سر دھنئیے ۔
٭٭٭٭٭٭٭
UTHEAN NEWS NETWORK AGENCY(UNNA)
While we are so busy debating on 370 etc,  we miss to notice what's happening to India  !!!
Recent data & Situation of India. 31st Aug 2019.
1 - Jet Airways closed (Apr 17, 2019 )
2 - Air India in Rs 7600 crore loss (Jul 21, 2019 )
3 - BSNL 54,000 jobs in danger. (Apr 4, 2019 )
4 - No money to pay salary for HAL employees (Jan 5, 2019 )
5 - Postal department loss of Rs 15000 crores. (Apr 15, 2019 )
6 - 1 million to be laid off in Auto Industry.(Aug 15, 2019 )
7 - 12.76 lakhs houses unsold in 30 major cities. (Jun 12, 2019 )
8 - Aircel is dead. (Feb 25, 2018 )
9 - JP Group finished. (Apr 19, 2019 )
10 - Most profitable company in India - ONGC is now making losses. (Jun 3, 2018 )
11 - 36 largest debtors missing from country.(Mar 15, 2018 )
12 - Rs 2.4 lakh crores loan waive off to a few corporate. (Apr 4, 2018 )
13 - PNB continuous losses. (May 28, 2019 )
14 - All banks incurring huge losses. (Jan 2, 2019 )
15 - External debt on country 500+ Billion Dollars. (Jun 28, 2019 )
16 - Railways on sale. (Jul 11, 2019 )
17 - Rent Heritages including Red Fort. (Apr 28, 2018 )
18 - Largest car maker Maruti cuts production. (Jul 8, 2019 )
19 - Rs 55000 crores car inventory lying at factories, with no buyers. (Jun 19, 2019 )
20 - Builders all over stressed. Some committing Suicide, no buyers Construction Stopped due Mat cost rise (GST at 18% to 28%) (Jan 4, 2018 )
21 - OFB under corporatization affecting over 1.5 lac employee & families.( Jul 30, 2019 )
22 - Millions unemployed due to Demonetization. (Apr 17, 2019 )
23 - Highest unemployment in 45 years. (May 31, 2019 )
24 - 5 airports sold to Adani. (Feb 25, 2019 )
25 - Highest domestic stagflation.(12 Jun, 2019 )
26 - Record HNI individuals leaving India. (May 12, 2019 )
27 - Videocon bankrupt. (Jan 24, 2019 )
28 - Tata Docomo perished. (Jul 10, 2019 )
29 - CCD founder VG Siddhartha Suicide due to huge debt.(Jul 31, 2019 )

یوتھئے اپنے گھٹی میں پلائے گئے جھوٹ پر شرمندہ نہ ہوں ، بلکہ بغلیں بجائیں ۔کیوں کہ اُن کے یوتھیا اعظم کا قول ہے :

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


جمعہ، 6 ستمبر، 2019

غذا اور غذائیت

اللہ نے انسانی جسم کی نشونما کے لئے ، بطورِ خوراک  اَن گنت خوردنی اشیاء پیدا کی ہیں ، جن کو کھا کر وہ اپنی جسمانی غذائی ضرورت پوری کرتا ہے ۔مناسب اور متوازن غذا ہی انسان کی نشونما اور صحت   میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ انسانی غذا میں  خالقِ کائینات کی تخلیق کردہ  چھ اشیا ء  انسانی غذائی ضروریات کے لئے نہایت اہم ہیں ۔ پانی ، کاروہائیڈریٹس ، پروٹین، چربی ، وٹامن اور نمکیات ۔ 
ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ خوراک کے بغیر صرف پانی پر انسان تقریباً چالیس دن یا اِس سے زیادزندہ رہ سکتا ہے ۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ بالغ  انسان کا معدہ،   ایک کلوگرام /لٹر سے 4 کلوگرام /لٹر تک غذائی اشیاء  یا مائع  ، اپنے اندر رکھ سکتا ہے ۔  لیکن شاید  کئی لوگوں کو یہ نہ معلوم ہو کہ ، صرف 750 گرام معدے میں جانے والی غذا ، انسانی جسمانی ضرورت  کے لئے کافی ہے ۔ اُس سے زیادہ  خوراک  جسم کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان پہنچاتی ہے ۔ 
لیکن اگر زیادہ غذا کھانے والا ، مشقت کے کام کرتا ہو  ، تو معدے میں جانے والی غذا تونائی کی صورت میں استعمال ہو جاتی ہے ۔ 
ہمیں اِس بات پر لازمی توجہ دینا چاھئیے  کہ ہمارے معدے میں پہنچنے والی غذا    ، ہمارے جسم کا حصہ بنتی ہے ، ضائع ہو جاتی ہے یا جسم میں ذخیرہ ہوجاتی ہے ۔
بچپن سے لے کر بڑھاپے تک انسانی غذائی ضروریات ایک سی نہیں رہتی ،ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ایک متوازن غذا ،  نہ صرف انسانی جسم کو توانائی مہیا کرتی ہے بلکہ  بیماریوں سے بھی دور رکھتی ہے  ۔ 
ایک اوسط کام کرنے والی خاتون کو روزانہ  2000 اور مرد کو 2500 کیلوریز  کی ضرورت ہوتی ہے ۔  جبکہ ایک کلوگرام    سادہ خوراک میں 3500 کیلوریز ہوتی ہیں ۔ 
اب یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ روزانہ آپ نے کتنی خوراک لینا ہے اور اُس میں غذائیت کتنی ہو ؟   پھر جتنی کیلوریز آپ  اپنے جسم کو مہیا کرتے ہیں کم و بیش اُتنی ہی کیلوریز آپ کو  استعمال کرنا ہوتی ہیں ۔  
یاد رہے ، کہ خوراک کا انتخاب ، آپ کے علاقے اور وسائل پر ہے ۔   لیکن آپ کی خوراک میں ،    کاروہائیڈریٹس ، پروٹین ، وٹامن ، چربی اور نمکیات  لازمی شامل ہوں ، بیماری کی صورت  یعنی  بلڈ پریشر  یا ذیابیطس میں  آپ کو  اِن میں سے کچھ اجزاء اپنے ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق کم کرنا ہوں گے ۔
ڈاکٹر عائشہ بنتِ مشتاق
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

جمعرات، 5 ستمبر، 2019

بوڑھا کوئیٹہ میں ۔ ایتھوپیا کے لئے

تنہائی سے گھبرا کر 31 اگست 2019کو بوڑھے اور بڑھیا  نے اپنے گھر کا سارا سامان  تقسیم کردیا  اور اپنی اگلی زندگی سفر میں رہنے کا فیصلہ کیا ۔ کیوں کہ چاروں بچے   شادیوں کے بعد پُھر سے اُڑ گئے تھے ۔ لیکن ہر 15 دن بعد چم چم اپنی دادو کے گھر سے آکر بوڑھے اور بڑھیا کے پاس ویک اینڈ گذارتی  اور بوڑھے اور بڑھیا میں نئی توانائیاں پھونک دیتی ۔ 
بیٹی کو ایتھوپیا میں جاب ملی تو وہ چم چم کو لے کر 11 اگست 2019کو ایتھوپیا آگئی ۔ بوڑھے اور بڑھیا نے  چالیس سال میں پہلی مرتبہ اکیلے عید گذاری ۔ 
 بلاآخر فیصلہ کیا اور دو سوٹ کیس چھوٹ بیٹی کے گھر رکھوائے اور    دو سات کلو گرام اور دو بکس 20 کلو گرا م بمع بوڑھے کا لیپ ٹاپ ، بس یہی کل کائینات ، لے کر برفی سے ملنے کوئٹہ پہنچ گئے ۔  
یکم ستمبر سے 9 اکتوبر تک برفی کی پیاری باتوں کے مزے لئے اُس کی ننھی شرارتوں سے لطف اُٹھایا  ۔ پھر ایتھوپیا جانے کے لئے  اسلام آباد بیٹی کے گھر آگئے ۔ 
11 اکتوبر2019 کو بوڑھا اور بڑھیا  ، اسلام آباد سے ایتھوپیا پہنچ گئے ۔
 ٭٭٭٭واپس ٭٭٭

پیر، 2 ستمبر، 2019

شعلہ شاپ سے بولان مال اور شاپنگ بیگز


بوڑھا جب چم چم کے ساتھ ایسٹ تِمور گیا تو وہاں اُس نے ماحول دوست شاپر دیکھے ۔ 
جن پر لکھا تھا ، " میں پلاسٹک نہیں "
لہذا چم چم نے ایک  مضمون لکھا ،
PLANET or Plastic
بوڑھے نے ریسرچ کی اور مضمون لکھا !
میں پلاسٹک نہیں ۔
 ٭٭٭٭٭٭
بوڑھا اور بڑھیا برفی کے پاس آئے ، برفی نے بوڑھے اور بڑھیا کو  اپنے علاقے میں، داخل ہوتے وقت ، یہاں  رہنے کی ممنوعات بتائیں :
1- گاڑی میں بیٹھنے کے بعد سیٹ بیلٹ باندھنا ہے ۔

2- گاڑی کی رفتار 30 سے زیادہ نہ ہو !
3- گھر سے باہر ، گند نہیں پھیلانا ہے ۔

4- شاپر میں سامان نہیں لانا ، اگر کسی نے دیکھ لیا تو جرمانہ کرے گا ۔ 
کل شام  برفی اُس کی ماما  ، بوڑھا اور بڑھیا  نزدیک شاپنگ سنٹر گئے ، جس کی ابتداء ایک چھوٹی سی سبزی کی دُکان  شعلہ ڈویژن  ویجیٹیبل اور فروٹ  ویلفیئر شاپ    ،   6 کمروں کی ہٹ کے ایک کمرے سے ہوئی  یہ ایک گراونڈ تھا جس کے تین طرف بڑی بڑی  ، چھ چھ کمروں کی ہٹس تھیں
  1991 میں بوڑھے کو، جو اُس وقت شعلہ ڈویژنل آرٹلری کا  جی ایس او ٹو تھا   ۔
  انتظامی امور اورویجیٹیبل اور فروٹ  ویلفیئر شاپ کو  بہترین بنانے کے لئے دی گئی۔
  بوڑھے نے اپنے مددگاروں کی مدد سے  سبزی شاپ کے پہلے دو حصے بنائے ، ایک برائے جوانان اور فیملی اور دوسرا برائے آفیسران اور فیملی ، پھر اُس میں چکن شاپ کا اضافہ کیا  اور پھر مزید پیر پھیلائے  تو مٹن اور بیف شاپ کا اضافہ ہوا ۔  جِس نے کینٹ میں موجود دوسری ویلفئیر شاپ سے گاہک چھیننے شروع کئے ۔ یوں  لاگ ایریا ویلفیئر شاپ  ویران ہونے لگی ، بڑوں کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا   ۔ 
تو جناب  ہماری شاپ سنٹر کے سامنے ،عین گراونڈ میں ایک دائرہ نما شاپنگ سنٹر کی تعمیر شروع ہو گئی ۔  تاکہ زمزم میں  مزید پانی ملا کر بہت لوگوں کو فیضیاب کروایا جاسکے ۔ 
لیکن اِس سے پہلے کہ وہ تعمیر ہوتا اور ہماری شاپ بند ہوتی بوڑھا ، سیاچین چلا گیا ۔ 

بوڑھا سیاچین سے واپس آیا ، تو اُس نے ایک خوبصورت پلازہ دیکھا ، اور   بوڑھے کی پھیلائی ہوئی شاپس بھی وہیں دیکھیں ۔ لیکن وہ بولان ویلفیئر شاپنگ کمپلیکس کا حصہ بن چکی تھیں ۔ چکن اور میٹ و بیف مہیا کرنے والا ٹھیکیداران وہیں تھے ۔   شعلہ ڈویژن  ویجیٹیبل اور فروٹ  ویلفیئر شاپ ، جو اپنی ترقی کا سفر کرتے کرتے  "  بولان مال" کے درجے پر پہنچ چکا ہے ، جہاں سے تمام گھریلو اشیاء کے علاوہ ، خواتین کی پسند کی تمام اشیاء ملتی ہیں ، جس کی وجہ سے  شہر کا رُخ نہیں کرنا پڑتا۔ 
لیکن   ہمارے بچپن کا  کینٹ ،  اب فصیل میں گھِر چکا  ہے ۔
دوستو ، بڑھیا اور برفی کی ماما تو اپنی خریداری میں مصروف ہوگئیں ، چنانچہ برفی کا ، "دادا بابا " اُسے لے کر اُس اُس کی پسندیدہ چیزوں کی شاپنگ کروانے سپر سٹور میں داخل ہوا ۔ برفی نے لُٹ تو مچانا تھی ، لہذا اُسے شاپنگ کروا کر بوڑھا جب بل کی ادائیگی کے لئے  ، کاونٹر پر پہنچا تو بہت سارے شاپر   پڑے منہ چڑا رہے تھے  ، بوڑھے کو بھی شاپر میں جب کاونٹر بوائے نے چیزیں دی تو بوڑھے نے سوال کیا ،
" کیا شاپرز پر حکومت نے بین نہیں لگایا ؟؟"
" سر ! وہ شہر میں  کچھ جگہ پر ہے ، یہاں نہیں " 
کاونٹر بوائے نے جواب دیا ۔
آج صبح بوڑھے نے ایک حکومتی دعووں کے جواب میں ایک وڈیو دیکھی ، آپ بھی دیکھیں ۔


تو بوڑھے کو ۔ میں پلاسٹک نہیں،  والا مضمون یاد آگیا ۔ 
پاکستان آنے کے بعد بوڑھے نے ، بائیو کیساوا بیگز پر کام کیا تو یہ جواب آیا ۔

سوائے ، سفری اخراجات کے تمام امپورٹ کی لاگت کے مطابق، اِس  کلّی انسان دوست, بائیو کیساوا بیگ  کی لاگت  ، بھی نکالی :
بوڑھے نے وہاں سے لانے والے ، کیساوا شابنگ بیگز  کے تمام نمونے ، مختلف سُپر سٹورز  میں اِس لیٹرز کے ساتھ بھیجے کہ شاید وہ انسان دوست ماحول بنانے میں بوڑھے کا ساتھ دیں ۔
لیکن ۔ ۔ ۔  ۔ ۔!

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔