Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 15 جون، 2019

سورت بنا کر لاؤ ۔ اللہ کا چیلنج


روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کا حکم قطعی بتایا :

وَإِنْ كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُواْ بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُواْ شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ [2:23]


روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کے دو حکم قطعی بتائے : 

وَمَن يَهْدِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِن مُّضِلٍّ أَلَيْسَ اللَّهُ بِعَزِيزٍ ذِي انتِقَامٍ [39:37

مَن يُضْلِلِ اللّهُ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَيَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ [7:186

معلوم نہیں کِن خبیث مشرکوں نے اللہ کا چیلنج قبول کیا
 اور انسانوں کو بھٹکانے کے لئے اللہ کی دو آیات میں قطع و بُرید کر کے ، اپنی سور ملا کر اللہ کے حکم کے مواضع تبدیل کرنے کے بعد اِن منکرین الکتاب نے محمدﷺ پر تھوپ دیئے:
 إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہُ وَ نَسْتَعِیْنُہُ
 مَنْ یَّھْدِہِ اللہُ فَلاَ مُضِلَّ لَہُ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلاَ ھَادِيَ لَہُ، 
وَ أَشْھَدُ أَن لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَ  أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ، 
کیا اِن مشرکوں کو، الذین آمنوا اپنا امام بنا سکتے ہیں ؟

 ذرا سوچیں !!!
جن کا دعویٰ ہے کہ : 
رسول اللہ ﷺ سے درج ذیل خطبہ مطلقاً ثابت ہے:
 ((إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہُ وَ نَسْتَعِیْنُہُ، 
مَنْ یَّھْدِہِ اللہُ فَلاَ مُضِلَّ لَہُ 
وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلاَ ھَادِيَ لَہُ، 
 وَ أَشْھَدُ أَن لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ 
وَ [أَشْھَدُ] أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ، أَمَّا بَعْدُ:)) 
(صحیح مسلم: 868، سنن النسائی 6/ 89۔ 90 ح 3280 وسندہ صحیح والزیادۃ منہ) 

((فَإِنَّ خَیْرَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللہِ، وَ خَیْرَ الْھَدْيِ ھَدْيُ مُحَمَّدٍ (ﷺ) وَ شَرَّ الْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُھَا وَ کُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلاَلَۃٌ)) 
(صحیح مسلم: 867)
   اگر آپ غور سے پڑھیں تو بالا خطبے میں اللہ کے الفاظ  چُن کر کسی فاسق نے  اپنے الفاظ میں ڈھال کر  بالا خطبہ بنایا اور محمدﷺ پر ایک نہ ختم ہونے والے بہتان کی طرح چسپاں کردیا ۔
اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے  صراط المستقیم  (الکتاب) میں ڈٹ کر بیٹھا ہے۔ جس کے بارے میں روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کی طرف سے آگاہ کردیا :

قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ  [7:16]
   اور لوگوں کے ذہنوں میں یہ تاثر پختہ کر دیا ہے کہ جب ہم اُردو میں اللہ سے دعائیں مانگ سکتے ہیں تو کیا عرب کے رہنے والے  ، عربی میں دُعائیں نہیں مانگ سکتے ؟؟؟
جاہل تو کہتے ہیں  ،
"واہ ، کیا بہترین جواب ہے ، ہم تو عربوں کی عربی میں مانگی ہوئی دعائیں دھرا رہے ہیں۔" 
 اللہ کو یہ بات انسانی تخلیق سے پہلے معلوم تھی اور اُس نے انسان   کے نفس کو مکمل کرنے کے بعد اُس  میں تقویٰ کے ساتھ فجور بھی الھام کیا ۔ 
وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ﴿7 فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ﴿8 قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ﴿9 وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ﴿10  الشمس
٭- جو متقی ہیں وہ اللہ کی آیات کو اُسے طرح لیتے ہیں جس طرح الکتاب میں درج ہیں۔
٭-  جو فاجر ہیں وہ اللہ کی آیات کو گڈمڈ کرکے اپنی الکتاب اپنی روزی کمانے کے لئے ترتیب دیتے ہیں۔

 اور اُسے   محمدﷺ سے منسوب کرتے ہیں ، کہ یہ بہترین ہدایت ہے اگر ایسی ہدایت ملے تو اُسے لے لو ۔ یہ لکھتے وقت یا کہتے وقت وہ سخت فاجرانہ عقیدہ رکھتے ہوئے اللہ کی آیت کو جزوں میں تبدیل کر کے  الذین آمنو کو صدیوں سے دھوکا دے رہے ہیں :
روح القدّس نے ۔ محمدﷺ کو اللہ کا حکم برائے   أَفَاءَ اللَّهُ سنایا، جس کی تقسیم کی کُلّی ذمہ داری کسی انسان کو نہیں  بلکہالرَّسُولُ    کو  سونپی  تاکہ   گردشِ زر  مالداروں کے درمیان نہ پھنسی رہے :
مَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
[59:7]

 روح القدّس  نے  محمدﷺ کو اللہ کی طرف سے اللہ کے لفظ    فيأ سے بنے والے  ایک لفظ     أَفَاءَ اللَّهُ  کی تفسیر اِس آیت میں بتائی :

إِن تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ ۖ 
وَإِن تَنتَهُوا فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ 
وَإِن تَعُودُوا نَعُدْ
وَلَن تُغْنِيَ عَنكُمْ فِئَتُكُمْ شَيْئًا وَلَوْ كَثُرَتْ 
وَأَنَّ اللَّـهَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿8:19
 روح القدّس  نے  محمدﷺ کو اللہ کی طرف سے اللہ کے لفظ    فيأ سے بنے والے  ایک اور لفظ      يَتَفَيَّأُ کی تفسیر اِس آیت میں بتائی :
أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا خَلَقَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ يَتَفَيَّأُ 
ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِّلَّـهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ ﴿16:48  

٭٭٭٭٭٭
 روح القدّس نے الذین آمنو کو اللہ کے حکم ، وَمَن يَهْدِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّضِلٍّ ۗ کے مکمل مواضع بتائے :

أَلَيْسَ اللَّـهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ۖ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِن دُونِهِ ۚ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ﴿39:36﴾

وَمَن يَهْدِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّضِلٍّ ۗ أَلَيْسَ اللَّـهُ بِعَزِيزٍ ذِي انتِقَامٍ ﴿39:37﴾

وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ ۚ قُلْ أَفَرَأَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ إِنْ أَرَادَنِيَ اللَّـهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنِي بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكَاتُ رَحْمَتِهِ ۚ قُلْ حَسْبِيَ اللَّـهُ ۖ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ ﴿39:38﴾

روح القدّس نے الذین آمنو کو اللہ کے حکم ، مَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ ۚ کے مکمل مواضع بتائے :

وَمِمَّنْ خَلَقْنَا أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ ﴿7:181﴾


وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ ﴿7:182﴾

وَأُمْلِي لَهُمْ ۚ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ ﴿7:183﴾

أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا ۗ مَا بِصَاحِبِهِم مِّن جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ ﴿7:184﴾

أَوَلَمْ يَنظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ وَأَنْ عَسَىٰ أَن يَكُونَ قَدِ اقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ ﴿7:185﴾

مَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ ۚ وَيَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ ﴿7:186﴾

٭٭٭٭٭٭

شگفتگو کی دسویں محفل مناثرہ

روداد ماہانہ بزم مناثرین کی دسویں نشست
مورخہ؛ پندرہ جون 2019
بمقام؛ نسٹ لائبریری، اسلام آباد

جون کی قیامت خیز گرمی اور ایکوی نوکس کی غیر ممکنہ قیامت اٹھانے والے مومنین کے درمیان، بزم مناثرین نے اپنا سلسلہ باقاعدہ جاری رکھا اور گرمی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس سلسلے کی دسویں نشست نسٹ کے پروقار، شاندار بلکہ ٹھنڈے ٹھار ماحول میں منعقد ہوئی۔۔۔گرمی کا ایسا کامیاب توڑ کرنے کا سہرا عاطف مرزا صاحب کے سر جاتا ہے کیوں نہ ہو کہ حضرات کو اپنے سر پر ایک کے بعد پھر سے سہرا دیکھنے کا ارمان ہی بہت ہوتا ہے۔ اس سہرا بندی پر خاص تہنیت ۔۔۔
بزم مناثرین کی یہ محفل اس لحاظ سے بے حد کامیاب رہی کہ مستقل اراکین کے علاوہ غیر مستقل اراکین بھی تشریف لائے بلکہ مزید مہمانان گرامی نے بھی رونق میں چار چاند لگائے۔۔
زاعفرانی نثر پیش کرنے والے احباب کا نام اور ترتیب وار تسلسل حسب ذیل رہا
عاطف مرزا صاحب (میزبان)
عزیز فیصل صاحب
حبیبہ طلعت
آصف اکبر صاحب
محمد عارف صاحب
فردوس عالم صاحب
بیگم فردوس عالم صاحب
شہریار خان صاحب
رحمت اللہ عامر صاحب
امجد قیصرانی صاحب
بیگم امجد قیصرانی صاحب

گیٹ نمبر 1 ریسپشن پر عاطف مرزا اپنی کار کے ہمراہ مہمانوں کے استقبال کے لیے بذات خود موجود رہے۔۔۔ اور مہمانوں کو اپنے جلو میں لے کر بزم گاہ لے گئے۔بزم اپنے اعلانیہ وقت پر شروع ہوئی۔۔
ماہر سماجیات کا کہنا ہے کہ مسکراہٹ کسی شخص کی عمر میں اضافہ کرسکتی ہے۔ بزم مناثرین کے تمام شرکائے کرام اس بات کا خاص اہتمام کیے ہوئے تھے کہ کسی شخص کی بھی مسکراہٹ اسکے لبوں سے جدا نہ ہونے پائے کہ یوں عمر کا بھی بھرم باقی رہ سکے گا۔ چنانچہ قہقہہ بار نکتہ وری اور چست فقروں سے مسکراہٹ کا بازار گرم کیے رکھا
گزر رہا ہے ادھر سے تو مسکراتا جا
چراغ مجلس روحانیاں جلاتا جا
جوشؔ ملیح آبادی

تمام معزز اہل قلم و مسکراہٹ نے بالترتیب اپنی تحاریر پیش کیں ۔۔چنیدہ اقتباسات پیش خدمت ہیں۔

عاطف مرزا صاحب نے محفل کے آغاز میں اپنے دانش کدے کی پٹاری سے چست فقرہ عنایت کیا لکھتے ہیں کہ؛
"پاکستان میں دینی فتوی، سیاسی تجزیہ،قانونی مشورہ اور طبی نسخہ۔۔۔ ہر شخص سے ہر وقت، ہر جگہ دستیاب ہے۔"



اب باری تھی ڈاکٹر عزیز فیصل صاحب کی جنہوں نے تقی اللہ خان ہنس مکھ رنگساز پر رنگیلا خاکہ کیا پڑھا کہ اسکے بعد حسب محاورہ مسکراہٹ ایک متعدی مرض کی طرح ایک سے دوسرے کو لاحق ہوتی گئی۔ لکھتے ہیں کہ؛
"عجیب بندہ ہے کہ جس کی گهنیری داڑهی اور اکہری جسامت کو نظر انداز کر دیاجائے تو باقی کچه بچتا ہی نہیں. اس کی ہمہ وقتی دیده زیب مسکراہٹ "مردانہ" مونا لیزائی تاثر پیداکرتی رہتی ہے. "

اب باری تھی ناچیز کی جسے بزم کی غیر اعلانیہ سرکاری روداد نویس ہونے کا اعزاز حاصل ہے ہم نے "کس قیامت کے یہ بدنامے میرے نام آتے ہیں۔" کے عنوان سے فارورڈنگ میسیجز پر شگفتگی کے جوہر دکھانے کی ناکام سی کوشش کی کہ؛
"دجال نے خوب ہمیں اپنے دجالی میڈیا پر مشغول کر دیا ہے ۔۔۔ آپ سوچیں ذرا کہ وہ خود تو علم کے میدان میں آگے ہی آگے بڑھتے جا رہے ہیں ہمیں کہاں پھنسا دیا گیا ہے۔ ان کو پتا ہے کہ ہماری قوم والے بغیر سوچے سمجھے چیزیں آگے بڑھانے کے دس ہزار سال پرانے مرض میں مبتلا ہیں۔ "


اب قلمدان آصف اکبر صاحب کے ہاتھ میں تھا۔ " بھولے بادشاہ کے عنوان تلے خوب ہنسایا۔۔۔ ادبیات اور تاریخ کے پر لطف تذکرے کے بعد اردگرد کے بھولے اور بھولے بادشاہوں کے خوب عکس منعکس کیے۔ کہتے ہیں کہ؛
"اب جہاں تک بھوُلے بادشاہوں کو تعلق ہے تو ہمارے ضیا الحق بھُولے بادشاہوں کے بادشاہ ۔ نوے دن کی بات تو ایسے بھولے کہ پھر ملک الموت بھی یاد نہ دلا سکے۔ جبکہ مشرف وردی اتارنی بھول گئے۔ ان کو یار لوگوں نے بہلا پھسلا کر رام کرنا چاہا مگر انہوں نے تو وردی دشمنوں کی نیندیں حرام کر دیں۔ پھر کہا کہ آنکھوں میں تو دم ہے۔ مگر جب ان کو مثل آدم ان کی جنت سے نکالا گیا تو وہ بہت دل گرفتہ تھے کہ قوم نے میری خدمات بھلا دیں۔"


محمد عارف نے "کابلی" پر کیا ہی خوب خاکہ پیش کیا کہ ان کے الفاظ اور تراکیب نے مسلسل قہقہے لگاتے رہنے پر مجبور کیا لکھتے ہیں کہ؛
" اسکی شخصیت اور کردار کے ساتھ اسکی چال میں بھی لچک ہے۔ سگریٹ چائے اور پانی ہر قسم کا پسند ہے۔ بے ایمان ہوکر بھی بے ایمانی نہیں کرتا۔ کھلنڈرا پن اس کے انگ انگ سے چھلکتا ہے ہر کام سیکھنے اور ہر پنگا لینے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔ کسی بات کو زیادہ دیر دماغ پر سوار نہیں کرتا۔ اسے سیاستدان ہونا چاہئے تھا ہوتا تو شیخ رشید کی قبیل سے ہوتا۔ آدھا شاعر، پونا انسان اور پورا دوست ہے۔ آدھا پاکستان اسکی بے غیرتیوں کی وجہ سے اسے جانتا ہے اور باقی آدھا پاکستان اس وجہ سے جانتا ہے"۔


فردوس عالم صاحب نے بزم مناثرین کے شرکاء کو اپنی تحریر کی گرفت سے باہر بالکل نہ نکلنے دیا ان کے انشائیے کا عنوان تھا
چائے پینا عذاب ہے یا رب
کہتے ہیں کہ چائے ہماری گھٹی میں پڑی ہے بلکہ حقیقت پسندی سے کام لیا جائے تو کہنا چاہیے کہ گھٹی ہماری چائے میں پڑی ہے۔مثلا ہمارے دوست بتا رہے تھے کہ ایک دفعہ وہ بہ نصیب ڈاکٹراں بیمار ہوگیے۔ تو وہ ڈاکٹر کے پاس گئے اوہ ڈاکٹر صاحب ہمارے ان دوست ہی کی بدولت میدان طب میں بڑے بڑے تجربات کرچکے ہیں۔بالکل اسی طرح جیسے کوئی سائنسدان جب کوئی نئی تحقیق پیش کرتا ہے تو وہ پہلے اس نئی تحقیق کو کسی دوسری مخلوق پر آزماتا ہے اور قدرت نے دونوں کا ساتھ دیا۔"


شہریار خان نے آمریت کی ایک حساس قسم سے متعارف کرایا 'جب مردوں کا عالمی دن گزر گیا' جی ہاں یہی عنوان تھا ان کے قلم سے نکلے ظریفانہ مضمون کا اپنے ہی جیسے بیوی کے ڈسے مظلوم مرد کا غم بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ؛
"ایک مرتبہ تو خاتون نے حد ہی کر دی کہنے لگیں کہ آپ کی سالگرہ کے لیے نیا سوٹ لیا ہے۔میری آنکھوں میں آنسو آگئے میں نے کہا اچھا دکھاو کہنے لگی ابھی پہن کر آتی ہوں۔پہلے آنسو خوشی کے تھے پھر اب صدمے کے آنسو بہہ نکلے بتائیے سالگرہ میری اور تحفہ میرے لیے کیا لائیں محترمہ اپنے لیے نیا سوٹ۔۔
یہ کیسا پیار ہے؟ یہ آمریت ہی ہے ناں"


اب باری تھی نئے شگفتہ نثار رحمت اللہ عامر صاحب کی جن کے پاس شگفتہ 'نمک پارے' دستیاب تھے لکھتے ہیں کہ؛
کتنے دنوں کے ترلے منتوں کے بعد ابا جی اماں کے بے حد اصرار پر آخر کار لڑکی والوں کے گھر پہنچ گئے ہمارے من میں لڈو پھوٹ رہے تھے اور بار بار اماں جی کو فرشی سلام کرتے رہے آخر کار لڑکی والوں کی طرف سے دامادی کا شرف حاصل ہوگیا اباجی کا"


 زعفرانی بزم مناثرین نے نئے مہمانوں شہریار خان، رحمت اللہ عامر اور امجد قیصرانی صاحبان کو بے حد خوش دلی سے خوش آمدید کہا جس کا ثبوت بھرپور داد کے ہمراہ دیا گیا۔
حسب سابق میزبان کی جانب سے پرلطف عصرانہ دیا گیا جس کو قریب عشاء کے وقت تناول کیا گیا۔۔۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بزم تاخیر سے اختتام پذیر ہوئی بلکہ ہوا ہوں کہ جب عاطف مرزا صاحب مہمانوں کو فردا فردا با رضاو رغبت اغوا کر رہے تھے تو لائبریری کے باہر بزم کی شوخ تحریروں کی وجہ سے موسم نے بھی انگڑائی لی اور سنہری شام کی بھرپور خوشگوار ہواوں نے مہمانوں کو عکس بندی کی طرف توجہ دلائی اور یہ یادگار محفل خوب صورت تصاویر کی صورت محفوظ ہوگئی ۔۔بعد ازاں عاطف صاحب پھر گھیر گھار کر مہمانوں کو جانب منزل لے گئے جہاں لوازمات کا بھرپور اہتمام کیا گیا تھا۔ ۔
(مبصّر -  حبیبہ طلعت )
٭٭٭٭٭٭واپس جائیں٭٭٭٭٭٭

شگفتگو - کس قیامت کے یہ 'بدنامے' میرے نام آتے ہیں - حبیبہ طلعت

مورخہ 15 جون نسٹ لائبریری میں زعفرانی بزم مناثرین کی منعقدہ دسویں نشست میں پڑھا گیا ہمارا انشائیہ
شگفتہ نثر؛
** کس قیامت کے یہ 'بدنامے' میرے نام آتے ہیں **

اگر ہم یہ کہیں کہ ہم سب لوگ جنہوں نے سلسلہء سوشل میڈیا کی فیس بک یا وہاٹس ایپ یا چہچہے یعنی ٹویٹر جیسے قطبانِ دوراں کے دستِھائےحق و ناحق شناس پر انٹرنیٹ کے توسط سے بیعت کی ہوئی ہے اپنی نیکدلی کے سبب ایک واہیات در واہیات جنون کے وکٹم ہیں تو ہرگز حیران ہونے کی کوشش نہ کیجیے گا کہ اردو تحریر میں انگریزی لفظ کیوں؟
اب اگر ہم اس بحث میں پڑ گئے کہ اردو میں انگریزی کے الفاظ حرام ہیں، مکروہِ تحریمی یا مکروہِ تنزیہی ہیں یا غیر مستحب تو پھر بھینس درمیان میں آجائے گی کیونکہ اس میدان میں ایک عرصے سے جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول کارفرما ہے اس لیے بھینس کو گوالوں کے حوالے کرتے ہوئے ہم صرف یہ بتانا چاہیں گے کہ ہم سب کس چیز کے وکٹم ہیں۔

تفصیل اس اجمال کا یہ ہے کہ دجالی میڈیا جس کے خوفناک جال کا ذکر تو ہم سب بچپن سے ہی بہت سنتے آئے ہیں کہ ہمارے تمام امراض کہنہ و بوسیدہ یعنی عاقبت نااندیشی، سنی سنائی، ایمان بالجہل اور روایت پرستی کا ذمہ دار یہی میڈیا ہے جو کبھی صحافت کے نام پر اور کبھی ثقافت کے نام پر بہشتی زیوروں سے آراستہ بہو بیٹیوں اور جہادی ہتھیاروں سے پیوستہ داماد بیٹوں کو گمراہ کر رہا ہے اور جس کی سازشوں مکر و فریب کا ہم سب ہی شکار ہیں، اسی دجالی میڈیا پرایک نیا فرقہ جنم لے چکا ہےجس نے ففتھ جنریشن وار کا علم از خود اٹھا کر ہم کو اپنا وکٹم بنا لیا ہے۔۔
سوچیے ذرا! ہم نے صبح صبح منہہ ہاتھ دھونے سے پہلے اپنے موبائل پر وہاٹس ایپ میں آئے ہوئے ان میسیجز پر نظر ڈالنے کی کوشش کی، جن کی آمد کی اطلاعات رات بھر ٹوں ٹوں کی شکل میں کانوں میں بِس گھولتی رہی ہیں تو جانے اور ان جانے دوستوں کی طرف سے آئے ہوئے میسیجز میں کیا پایا؟
٭اس درود کو شئیر کیجیے خبردار سلسلہ رکنے نہ پائے۔۔۔۔ ورنہ ۔۔۔۔
اب کون کافر ہے جو اسے آگے بڑھانے میں کمزوری دکھائے۔
٭٭اس آیت کریمہ کو پانچ سو افراد تک شئیر کریں تو شام تک خوشخبری مل جائے گی۔
چلیے مانا مقدس سلسلے جاری رہنا چاہیں مگر کیا ایسے؟؟؟
آگے چلیے
آپ کو بھی واٹس ایپ پر یا فیس بک پر پوسٹ ملی ہوگی کہ
"آنے والے دنوں میں ایکوی نوکس نامی طوفان کے, ملک کے بیشترعلاقوں میں شدید اثرات کا باعث ہوں گے۔
درجہ حرارت 40 سینٹی گریڈ ڈگری کے آس پاس ہوگا۔۔
برائے مہربانی اپنے آپ اور اپنے متعلقین کو پانی کی کمی سے بچائیں۔۔۔
کم از کم 3 لٹر پانی پئیں۔۔۔۔
بے شمار ہدایات درج ہوتی ہیں جن کو دہرانے سے کچھ فائدہ نہیں ہے کہ یہ سب باتیں کم و بیش ہم سب کے علم میں ہیں۔۔۔
اور حوالہ ریڈ کراس سوسائٹی کا۔"

اب اگر آپ کے جیسے پڑھے لکھے لوگ جو اس سماج کی کریم ہیں وہ بھی بغیر سوچے سمجھے یہ میسیجز فارورڈ کردیتے ہیں تو عام آدمی سے کیا گلہ کیا جائے؟ کسی کو توفیق نہ ہوسکی کہ ایکوی نوکس نامی جس خوفناک بلا سے ڈرایا جارہا ہے اسکے معنی لغت میں دیکھ لے کہ یہ ہے کیا؟
اب جو لوگ انگلش میڈیم ہیں اور او لیول وغیرہ کرتے ہیں، ان میں سے کسی کو مذاق سوجھا تو انہوں نے جغرافیہ کی ایک عام سی اصطلاح ایکوی نوکس کو جس کے معنی 'دن رات برابر' کے ہوتے ہیں، یہ سوچ کر کہ اردو میڈیم والوں کی تفریح لی جائے، سال کے سب سے لمبے دن کے طور پر متعارف کروا کر دہشت کا ایک سماں پیدا کر دیا۔ اور ہم سادہ لوح
بس جیسے بغیر سوچے سمجھے ٹوتھ پیسٹ ویسے کاپی پیسٹ
۔۔۔۔۔۔
دجال نے خوب ہمیں اپنے دجالی میڈیا پر مشغول کر دیا ہے ۔۔۔ آپ سوچیں ذرا کہ وہ خود تو علم کے میدان میں آگے ہی آگے بڑھتے جا رہے ہیں ہمیں کہاں پھنسا دیا گیا ہے۔ ان کو پتا ہے کہ ہماری قوم والے بغیر سوچے سمجھے چیزیں آگے بڑھانے کے دس ہزار سال پرانے مرض میں مبتلا ہیں۔ مگر مذاق صرف ہماری قوم سے نہیں کیا جاتا۔ شاید آپ نے البرٹ آئن اسٹائن کو سوئٹزرلینڈ کی ایک یونیورسٹی کی جانب سے لکھا گیا ایک خط بھی اسی میڈیا پر دیکھا ہو جو اسی جعل سازی کا شاہکار تھا۔
وہ تو بھلا ہو استاد محترم آصف اکبر کا جنہوں نے بتا دیا کہ یہ خط جعلی ہے۔ اور وہ بھی مستند حوالوں کے ساتھ۔ اب وہ ٹھہرے صاحب علم و دانش۔ اس قسم کی پوسٹیں کسی اور تو کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، بس یہی ہوتا کہ گھر والوں کو اکثر رات کے سناٹے میں سر پیٹنے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ مگر غلطی میڈیا والوں کی نہیں۔ یہ تو ہماری روایات ہیں جو ہمیں نگل رہی ہیں۔ بغیر سوچے بغیر جانے بات کو آگے بڑھا دینا وہ بھی اپنی طرف سے گرہ در گرہ اضافے کے ساتھ جیسا کہ میر انیس کہہ گئے ہیں کہ

گل دستۂ معنی کو نئے ڈھنگ سے باندھوں
اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں

قوم کے خزانہء جہل میں دن رات بیش بہا اضافے کرتا ہے۔
ہفتے دو ہفتے پہلے ہی کی تو بات ہے پاکستان کے سمندر میں تیل کی تلاش کے لیے کھودا جانے والا ایک کنواں ناکام ہو گیا۔ بس جناب اس سلسلے میں ایک میل نے تو دھوم مچا دی جس کے مصنف نے اپنے دل کے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ سمندر میں ٹھیک اسی مقام پر تیل کے اتنے بڑے ذخائر ہیں کہ اگر ان سے تیل نکالا جائے تو آئی ایم ایف پاکستان سے قرض لیتا پایا جائے گا۔ میڈیا کی قدرت سے ہمیں بھی میل بار بار موصول ہوئی اور ہم بھی اس پر بھرپور ایمان لے آئے۔
مگر اس ایمان کا حاصل کیا؟
یہ کوئی بے ضرر مذاق نہیں۔ اس سے عام آدمی کے دل میں شک پیدا ہوتا ہے۔ اپنے ماہرین کی قابلیت کے بارے میں۔ اپنے حکمرانوں کے خلوص کے بارے میں۔ اور اپنے ملکی نظام کے فعال ہونے کے بارے میں۔مگر ہم کاپی پیسٹ کے دیوانوں کو اس سے کیا مزے کی بات یہ کہ 'سب کو بھیج دو' کے عمل کے ذریعے آپ کو یہ بھی نہیں پتہ چلتا کہ یہ خرافات کہاں کہاں جا رہی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

چلیے اسے بھی ایک طرف رکھ دیں۔ آگے چلتے ہیں ۔۔یہ کیا میسیج ٹون بجی ہے ۔۔۔ ہماری عزیز دوست کا جہادی میسیج تھا وہ بھی خوب بلند آہنگ کے ساتھ بتا رہی تھیں کہ جب سے سندھ طاس معاہدہ ہوا ہے تب سے انڈیا ہم سے کھیوڑہ کے مقام سے نکالا گیا نمک پینتیس پیسے کلو کے حساب سے حاصل کرتا ہے۔ آگے وہ اسے کرش کر کے اچھی پیکنگ میں یورپ کو بر آمد کرتا ہے اور وہ یوں اربوں ڈالر سالانہ کماتا ہے۔۔
اب اتنا سوچنے کی فرصت کس کے پاس کہ اگر ایک پیکٹ نمک یورپ یا امریکہ میں دس ڈالر کا بکے، تو اس پر انڈیا کے تاجر کا منافع کتنا ہوگا، زیادہ سے زیادہ ایک ڈالر۔ تو اربوں ڈالر کمانے کے لیے اربوں پیکٹ بھی بیچنے ہوں گے اور اربوں پیکٹ بیچنے کے لیے کتنی آبادی چاہیے جو یہ خاص نمک استعمال کرتی ہو؟
یہودی کوشر کا لیبل اور یہ اعداد و شمار دیکھ کر قوم کی نبض دھڑادھڑ ڈوبنے بھی لگتی ہے۔ اور دوست کے جہادی پیغام کی لے پر دل دھڑ دھڑ دھڑکنے بھی لگتا ہے۔۔۔ کیوں آخر کیوں۔؟
سندھ طاس معاہدہ۔۔کیوں۔۔۔ہمارا نمک کیوں۔۔؟ یہ کیوں وہ کیوں؟
پھر سوچنے والا دماغ اور بغاوت پر آمادہ دل دونوں برسرپیکار ہوجاتے ہیں۔۔۔ کہ سندھ طاس کا معاہدہ کرتے ہوئے ہمارے حکمران نمک نہ دینے پر کیوں نہیں اڑے کہ نہ نہ نہ لالہ جی، پانی تو تم ہمیں دو گے ہی دو گے، ورنہ ہم مسجدوں میں ایسی دعائیں مانگیں گے کہ تمہارے ہوش اڑ جائیں گے، مگر ہم اپنا سونے جیسا قیمتی نمک تم کو کسی قیمت پر نہیں دیں گے۔ چلیے اس دور کے لوگوں کوتو اندازہ نہیں ہوا تھا آپ خود قدم آگے بڑھائیں اورانڈیا سے معاہدہ توڑ لیں۔ اسے کیا فرق پڑنا ہے جہاں کھربوں ڈالر کی کامیاب تجارت ہوتی ہو وہاں چند ملین ڈالرنہ ملیں تو؟
مگر معاہدہ توڑنے کی ضرورت نہیں۔ کامیاب کاروباری کاروبار کے گر جانتا ہے۔ مدینے میں جن صحابی نے پینے کے پانی کے کنویں کی آدھی ملکیت حاصل کی تھی، انہوں نے کاروباری گر استعمال کرتے ہوئے ہی تو اس کے آدھے حصے کے مالک کو اپنا بقیہ حصہ فروخت کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔
تو ہم بھی بجائے پوسٹیں لگانے کے کیوں آج تک کھیوڑہ مائنز سے اپنا نمک کرش کرکے کارآمد بنا کر اسے کسی خوب صورت نہ سہی بد صورت پیکنگ میں ہی پیک کرکے کوشر، حلال اور پوتر کے لیبل لگا کر برآمد نہ کرسکے ۔۔ اگر ہندوستان کا تاجر 10 ڈالر کا پیکٹ بیچے تو آپ 8 میں بیچنا شروع کر دیجیے۔ اربوں ڈالر کا منافع آپ کا۔
تو بس آپ بھی اپنا نمک لیجیے۔۔بوتل میں ڈالئے پھر ڈٹ کر انڈیا کو للکارئیے۔
کوئی حکومت پاکستان نے منع کیا ہے؟ یا مفتیان کرام نے؟
ایسے تمام امور تو ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہیں۔۔۔۔کجا کہ وہ اس پر کچھ سوچنے کی زحمت بھی گوارا کریں۔۔۔

لیجیے ایک اور فارورڈنگ میسیج آیا ہے۔۔۔فرماتے ہیں کہ
ایک بزرگ سے روایت ہے کہ کتّے میں دس خصلتیں ایسی ہیں کہ ہر مومن کو اپنے اندر پیدا کرنی چاہیں وغیرہ۔
لیجیے آپ مومن کو کتا بنانے پر تلے ہوئے ہیں جبکہ ڈارون غریب نے ماضی بعید بعید بعید میں آپ کا کروڑوں سال پہلے تعلق بندر سے ظاہر کر دیا تو غیرت کے ایوانوں میں زلزلہ آ گیا جو ابھی تک آ رہا ہے۔ اکبر الہ آبادی نے جو فکر ہر کس بقدر ہمت اوست کہہ کر مصرع طرح دیا تھا اس پر مشاعرہ آج بھی جاری ہے۔
٭٭٭
بہرحال کتے کی صفات پڑھتے پڑھتے دل میں گداز پیدا ہوجاتا ہے اور آنکھیں نم ناک نہیں بلکہ لہو رنگ ہو جاتی ہیں اور دل گلہ کرتا ہے کہ پروردگار تو نے ہمیں انسان کیوں بنایا کتا کیوں نہیں بنایا۔
دیکھ ترے سنسار کی حالت کیا ہو گئی بھگوان
اب جب کسمپرسی کے سبب سن دوہزار انیس میں کتے کے اجزائے ترکیبی خاشعین مساکین راضعین ہمیں اپنے اندر ہی نظر آتے ہیں جب مہنگائی کے سبب ہم ون ڈش پر قناعت کرتے ہیں، مکان بنانا تو دور کی بات رات خواب بھی نہیں بن پاتے اور لوڈ شیڈنگ مچھروں کی یلغار اور ساتھ ڈینگی کا خوف آنسو بہانے پر مجبور کردیتا ہے تو یگانہ چنگیزی یاد آتے ہیں کہ
یا مجھے افسرِ بیس گریڈانہ بنایا ہوتا
یا مرا وجود مہنگا والا سگایانہ بنایا ہوتا
-----
چلیے اب آپ کی چھٹی۔ ہم ذرا دس بیس میسیج بغیر پڑھے فارورڈ کر دیں۔۔۔۔ آخر ہمیں بھی تو اپنی عاقبت سنوارنی ہے۔۔۔۔

  از قلم: حبیبہ طلعت
٭٭٭٭٭واپس  ٭٭٭٭٭

احسن الحدیث بمقابلہ لھو الحدیث !


جمعہ، 14 جون، 2019

پیر کی دُعا ۔

پیر   کی شادی تھی:
جب لاگ لینے نائی آیا تو پیر بولا:" او بتا شکور، پیسے لینے یا دعا ؟؟"
نائی بولا: " مرشد میں تو دعا ہی لوں گا. پیسے آپ سے لے کہ کیا کرنے؟؟"


کمہار آیا، پیر بولا،" اؤے بتا اشرف تو نے بھی دعا لینی ہے یا پیسے؟؟"
کمہار:"  باوا جی میں نے بھی دعا ہی لینی ہے "

مراثی کی باری آئی تو پیر بولا:   
" او ئے ڈوم بتا اوئے پیسے چاہیئے   یا دعا ؟؟"
مراثی : " باوا جی 50 روپے  دعا دے دیں  اور   500 نقد دے دیں  " 
ہوں ں ں ں ں ں  ں  " ۔  پير نے لمبی سے ہوں بھری !

اور دعا دى اور تھوڑى دير بعد بولا،
 " مجھے سے غلطی ہوگئی, ميں 500 کی  دعا دے دی ,تو ایسا کر اپنے 50 روپے کاٹ کر باقی 450 روپے مجھے واپس کر دے ۔""
بجٹ 2019
سرکاری ملازمین کیلیے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔