Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 25 فروری، 2020

ذیابیطس کو ختم نہیں بلکہ، کیسے کم کیا جائے ؟

٭٭٭٭٭٭٭
 کیا آپ جانتے ہیں کہ بہترین صحت کے ساتھ زندگی کیسے گذاری جا سکتی ہے ؟
 ٭-پرہیز علاج سے بہتر ہے ۔
٭-اپنے بلڈ پریشر کو کم کریں۔
٭-  ٹیشن کو ذہن پر سوار نہ ہونے دیں ۔
٭- اپنے وزن کو کنٹرول رکھیں۔
 ٭-اپنے بلڈ کولیسٹرول کو کم رکھیں ۔
٭-اپنی کھائی جانے والی مٹھاس کو کم کریں۔
٭- اپنے گردوں میں پتھری نہ ہونے دیں۔
٭- دل کی بیماری کو اپنے قریب نہ پھٹکنے دیں ۔

٭- مثانے ، سینے  اور دوسرے کینسر ہونے کا رسک کم کریں ۔
٭- اپنی نظر کا بڑی عمرکا خیال رکھیں ۔

٭-  اپنے جسم کی سرجری  سے پرہیز کریں۔
٭- لو لگنے سے خود کو بچائیں ۔

٭- اپنی ہڈیوں کو مضبوط رکھیں ۔
٭- قبض سے خود کو بچائیں ۔
٭- دوائیوں کو علاج  کے لئے کم سے کم استعمال کریں  -

٭- اپنے بچے کو ذیابیطس ٹائپ -1 سے بچائیں ۔
٭-ذیابیطس سے بچیں اگر خدا نخواستہ ہوجائے تو علاج کریں ۔
بالا احتیاط کے ذریعے آپ  یقیناً اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں ، لیکن ، اِس کے لئے آپ کو اپنی خوراک پر دھیان دینا پڑے گا ۔جس سے آپ کو بے شمار فوائد حاصل ہوں گے ۔
٭- ایک انسان کو اپنے  جسم کو صحت مند بنانے کے لئے ، کس قسم کی غذائیت (Nutrition) کی ضرورت ہوتی ہے ؟
کاربوہائیڈریٹ ، پروٹین ،چربی ، وٹامنز ، منرل، فائبر  اور پانی    یہ 7  اجزا    انسان کے جسم میں غذا کے ساتھ داخل ہونا  چاھئیے ۔

اب اگر ہم دھیان دیں تو   غذائیت کہ یہ سب اجزا قدرتی ہیں ، جو ہم کائینات میں موجود قدرتی غذاؤں سے حاصل کر سکتے ہیں ۔ 
1-کاربوہائیڈریٹ -
مٹھاس:جسم کے کیلوری کے اہم وسائل ہیں۔ آپ کا جسم ان کاربوہائیڈریٹ کو گلوکوز میں توڑ دیتا ہے۔ خون میں گلوکوز (جسے  بلڈ شوگر  کہا جاتا ہے) جسم کے لئے بنیادی توانائی کا ذریعہ ہے۔

شوگر :قدرتی طور پر کھانے کی اشیاء جیسے دودھ کی مصنوعات ، پھل اور سبزیوں میں پائے جاتے ہیں۔ شوگر کو کھانے اور مشروبات کو میٹھا  اور بہتر بنانے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ، اور اکثر اناج ، دودھ  ،مشروبات ، اور مٹھائی جیسے کھانے میں پائے جاتے ہیں۔ 
نشاستہ: پھلیوں اور مٹر  میں قدرتی طور پر پایا جاتا ہے  (جیسے  سیم ، لوبیا  ، دالیں اور مٹر) ، اناج (جیسے جو ، بھوری چاول ، مکئی ، جئ اور گندم) ، اور سبزیاں (جیسے گاجر اور آلو) ۔ جن کی تیاری کے دوران کھانوں میں بھی نشاستہ   شامل کیا جاتا ہے تاکہ ان کو گاڑھا  کیا جاسکے۔
غذائی ریشہ: ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے بہت سے شوگر مالیکیولوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ لیکن نشاستوں کے برعکس ، فائبر اس طرح ایک ساتھ جکڑا ہوا ہے کہ اسے آسانی سے ہضم نہیں کیا جاسکتا۔
 2- پروٹین -  گوشت ، مچھلی اور انڈے ،  امینو ایسڈ کا بہترین  ذریعہ ہیں -  پھلیوں ، سویا  بین ، گری دار میوے اور کچھ اناج سے بھی پروٹین حاصل کرسکتے ہیں۔
درحقیقت آپ کو روزانہ کتنا پروٹین درکار ہوتا ہے اس کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے،  جس میں  سب سے اہم یہ کہ آپ کی عمر کیا ہے اور پورا دن کتنی دوڑ بھاگ کرتے ہیں ۔ اگر آپ کار میں بیٹھ کر آفس جاتے ہیں وہاں جاکر بیٹھے رہتے ہیں اور شام کو گھر آکر ٹی وی یا لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ جاتے  ہیں اور شام کو دو کلوگرام کھانا کھا کر سو جاتے ہیں ، تو آپ پروٹین  نہیں بلکہ اپنے جسم سے زیادتی کر رہے ہیں۔
  3-چربی (Fats) -  چربی آپ کے جسم کے بہت سارے افعال کی مدد  کرتی ہے جیسے وٹامن اور معدنیات کو جذب کروانا ۔ خون کو  کلاٹنگ (جمنے) سے روکنا  ، خلیات کی تعمیر ، اور پٹھوں کی نقل و حرکت کو  برقرار رکھنا ۔ 

چربی میں کیلوری زیادہ ہوتی ہے ،30 سے 35 فیصد کیلوریز آپ کو چربی سے ملتی ہیں ، لیکن وہ کیلوری آپ کے جسم کے لئے توانائی کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ آپ کی غذا میں صحت مند چربی کو شامل کرنا آپ کو بلڈ شوگر میں توازن قائم کرنے ، دل کی بیماری اورذیابیطس- ٹائپ  2، کے خطرے کو کم کرنے اور دماغ کے کام کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتا ہے۔ چربی ، سوجن کے خلاف  بہت اہم ہے  اور آپ کے گنٹھیا  (arthritis)، کینسر اور الزائمر کے مرض کا خطرہ کم کرسکتے ہیں۔

 4-وٹامنز -
وٹامن بیماری سے بچنے اور صحت مند رہنے کے لئے بہت ضروری ہیں۔ جسم کو   اپنے تمام سسٹم کے لئے ان مہین غذاؤں کی بہت ضرورت ہے۔ کل  13   وٹامنز ہیں  جو جسم   کی حفاظت میں مدد دیتے ہیں ۔

یہ ہم مختلف غذاؤں سے حاصل کرتے ہیں  ۔  جن میں وٹامن اے ، سی ، ڈی  ، کے  اور بی   ۔وٹامن   بی کے جزو     یعنی  بی 1- 2-3-5-6-7-9، اور بی 12- شامل ہیں ۔   نظر ، جلد اور ہڈیوں کے لئے وٹامن ضروری ہیں۔
وٹامنز پھیپھڑوں اور پروسٹیٹ کینسر کا خطرہ کم کرسکتے ہیں ، اور وہ طاقتور اینٹی آکسیڈینٹ ہیں۔ جسم  کے زخموں یا بیماریوں کو ٹھیک کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ وٹامن سی  ڈیفنس سسٹم کو مضبوط بناتی ہے۔

 5-معدنیات-وٹامنز کی طرح ، معدنیات بھی  جسم کو مدد فراہم کرتی ہیں۔ یہ جسم کے بہت سارے کاموں کے لئے ضروری ہیں ، آپ کی ہڈیوں کو  مضبوط  اور دانتوں کی تعمیر ، آپ کے میٹابولزم کو منظم کرنا اور مناسب طریقے سے  جسم میں نمی برقرار رکھنا ۔   کیلشیم ، آئرن اور زنک   جیسی معدنیات انسانی جسم کا حصہ ہیں ۔
ہڈیوں کو مضبوط بنانے کے علاوہ ، کیلشیم اعصابی سگنل کی ترسیل ،  بلڈ پریشر کو برقرار رکھنے ، اور پٹھوں کے سکڑاؤ اور نرمی میں بھی مدد کرتا ہے۔ آئرن آپ کے سرخ خون کے خلیوں اور ہارمون کی تخلیق کی مدد کرتا ہے ، جبکہ زنک آپ کے ڈیفنس سسٹم  اور زخموں کے بھرنے میں مدد دیتا ہے ۔
یہ وہ  15 کھانے ہیں جن میں  آٹھ معدنیات (   تانبا ، کیلشیم ، آئرن ، میگنیشیم ،پوٹاشیم ،  زنک ، سیلینیم اور فاسفورس) شامل ہیں۔ سب سے زیادہ ہیں۔
  ان   میں گری دار میوے ، مچھلی ، بیج ، پھلیاں ، مشروم ، سارا اناج ، گہری پتی دار سبز اور خشک میوہ جات کے ساتھ ساتھ ایوکاڈوس ، توفو ، شیل فش ، پنیر ، بھیڑ ، کم چربی والی دودھ اور یہاں تک کہ گائے کا گوشت بھی شامل ہیں۔ 
6- غذائی ریشہ: غذائی ریشہ کی دو اقسام ہیں: گھلنے والی   اورنہ گھلنے والی- 
  غذائی ریشہ آنتوں کی مستقل مزاجی کو فروغ دیتا ہے اور قبض کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔ فائبر آپ کو مکمل محسوس کرنے ، عمل انہضام کو سست کرنے اور اس شرح کو جس سے کاربوہائیڈریٹ اور دیگر غذائی اجزاء خون کے دھارے میں پائے جاتے ہیں ، اور غذائی چربی اور کولیسٹرول کے جذب میں مداخلت کرسکتے ہیں۔
 پھلیاں اور مٹر ، پھل ، گری دار میوے اور بیج ، سبزیاں ، اور اناج کی پورے کھانوں میں پایا جاتا ہے (جیسے براؤن چاول اور سارے  اناج کی روٹی اور اناج  )۔
7- پانی   ۔ آپ بغیر کھائے ہفتوں تک رہ سکتے ہیں ، لیکن آپ پانی کے بغیر کچھ دن سے زیادہ  زندہ نہیں رہ سکتے ہیں۔ آپ کے جسم کے ہر نظام کے لئےپانی  نہایت ضروری ہے۔آپ کے جسم میں    62 فیصد پانی کا  وزن ہے۔  کائینات کی ہر  شئے کی حیات میں پانی شامل ہے ۔ آپ پانی ختم کردیں ، وہ خشک ہو کر مر جائے گی ۔ 
پانی آپ کے دماغ کے سسٹم  اور موڈ کو بہتر بناتا ہے۔ یہ جسم میں لگنے والے  جھٹکے برداشت کرنے والا   اور چکنا ئی فراہم کرنے والا ساتھی ہے۔ یہ  جسم سے زہریلے مادوں کو اپنے اندر حل کرکے نکالنے ، غذائی اجزاء کو خلیوں تک لے جانے ، جسم کونم کرنے ، اور قبض کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔ یہاں تک کہ ہلکی پانی کی کمی آپ کو تھکاوٹ کا احساس دلاتی ہے اور آپ کی توجہ  اور جسمانی کارکردگی کو متاثر کرسکتی ہے-
 ایک انسان کو اپنی قدرتی صحت برقرار رکھنے کے لئے    روازنہ ، جتنی غذاکھانا چاھئیے ، اُس کی مقدار  600 گرام   فی کھانا سے زیادہ نہیں ہونا چاہیئے ، یعنی پورے دن میں آپ کو  1800 گرام کھانے  سے زیادہ نہیں ہونا چاہئیے-
٭- کاربوہائیڈریٹ ، عام طور پر  خوراک میں مکمل مٹھاس کی مقدار کی عکاسی کرتا ہے- کہ روزانہ 24 گھنٹوں میں آپ نے کل کتنی مٹھاس کی مقدار کھانے میں لی ۔  کاربوہائیڈریٹ کی   یہ مقدار 300 گرام  ہو  ۔جو 2،000 کیلوری  کی توانائی مہیا کرتی ہے - آپ کی کیلوری کی ضروریات کے مطابق کاربوہائیڈ ریٹ کی  مقدار ، زیادہ یا کم ہوسکتی ہے۔
٭- انسانی  غذائی اجزا میں،    غذائی ریشے لازمی شامل ہونا چاھئیں، لہذا ایسے  کھانوں پر فوکس کریں، جن میں غذائی ریشہ ہوتا ہے اور  دیگر فائدہ مند غذائی اجزاء اور قدرتی طور پر پائے جانے والے شکر مل جاتے ہیں۔ اپنے روز مرہ کے کھانوں میں پھلیاں اور مٹر یا خشک  میوے اور بیج شامل کریں۔ یہ غذائی ریشہ اور پروٹین کے بھی عظیم ذرائع ہیں۔
 ٭- صاف شدہ اجناس کے بجائے قدرتی اجناس  (  روٹی ، اناج  اور چاول) استعمال کئے جائیں ۔ اور اپنی کل خوراک کا نصف حصہ   لازمی بنائیں ۔
٭-  قدرتی غذاؤں میں وہ   اجزاء ہوتے ہیں جو انسان کی صحت کے لئے ضروری ہیں ، لہذا اپنے کھانوں میں ،    چربی ، شکر ، یا سوڈیم شامل نہ کریں  ، بیکری کی میٹھی چیزوں کے بجائے سادہ روٹی (ڈبل روٹی ) کھائیں ، مکھن اور چینی سے لبریز  کے بجائے سادہ پاپ کارن کھائیں ۔٭- پھل  (تازہ ، منجمد ، خشک )     بطور  سنیکس سلاد یا         فروٹ  چاٹ   لیں ، جس میں کالی مرچ ، نمک  شامل کریں  ۔
٭- سلاد کے لئے کچی   سبزیاں جو رنگ برنگی ہوں کھائیں ، جیسے بروکلی ، سلاد پتہ، مولی ، گاجریں ، مٹر ، سرخ، پیلے اور  ہرے   رنگ کی مرچیں   کھائیں۔
٭-  پینے کے لئے سادہ پانی ،    ٪100   قدرتی جوس لیں ،  تازہ دودھ ،   مکھن نکلا ہوا دودھ لیں ۔ کسی قسم کے مشروبات ، کوک ، سیون اپ ، فانٹا، مصنوعی کیمیکلائزڈ جوس  مت لیں -

 ٭-  کمرشل  طور پر بنی  ہوئے نمکین چٹخارے دار غذائیں  اور مٹھائیاں (جیسے کیک ، کینڈی ، کوکیز ، آئس کریم ، پیسٹری اور پڈنگ)   بالکل استعمال نہ کریں ، پارٹیوں میں ان سے ایسے دور رہیں کہ یہ آپ کے لئے  نقصان دہ ہیں ۔ رکھیں۔
پارٹیوں میں وہ  کھانے کی چیزویں اور مشروبات جن کو مزے دار بنانے کے لئے زیادہ مٹھا س  اور گھی  شامل ہوں ، کم سے کم استعمال کریں۔
یاد رہے : کہ شوگر کے مریضوں کو  اپنے کھانوں سے تمام مٹھاس والی چیزوں سے پرہیز لازمی کرنا چاھئیے ۔
خلاصہ:
1- اپنے نومولود بچوں کو ذیابیطس-ٹائپ1 سے بچائیں ۔ یہ صرف ماؤں کے ہاتھ میں ہیں۔ سینہ ڈھلک جائے پروا نہیں ، بچے کو ڈھلکنا نہیں چاھئیے ، لہذا پورے دو سال اپنا دودھ پلائیں ۔


2- کسی بھی چیز میں اسراف ، انسان کی تباہی ہے ، ہماری جوانی  میں فوج کے سارے پہلوان ، باڈی بلڈر ، کبڈی کھیلنے والے  سب اب ،  ذیابیطس-ٹائپ2 کے مریض ہیں یا اللہ کو پیارے ہوگئے کیوں؟ کہ شوگر وہ توانائی کے لئے اتنی پیتے تھے   کہ الامان الحفیظ ۔
 جوانی کھا کر کاٹی ۔ بڑھاپا بیٹھ کر رویا 
3- اگر آپ  کی آپ کے خاندان سے جینیاتی وابستگی ہے  ، تو     آپ کی  ہر ایک بیماری کی اصل  میں جینیاتی ہے۔ ہمارے جین ہمارے جسم کی ہر  اچھی اور بُری چیز کا کوڈ ہیں  ۔ جین کے بغیر ، کینسر نہیں ہوگا۔ جین کے بغیر ، موٹاپا ، ذیابیطس یا دل کی بیماری نہیں ہوگی۔ اور جین کے بغیر ، زندگی بھی  نہیں ہوگی،
 لہذا   اپنے جین کے خلاف آپ لڑ نہیں سکتے  ۔
 لیکن  اُسے  اپنی نسل کے لئے ،تبدیل ہونے پر مجبور کر سکتے ہیں ۔ 
وہ کیسے ؟     
اپنی عقل   اور تدبیر سے -

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭  
اگلا مضمون : شوگر کے مریضوں کے لئے  عقل کا استعمال-
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭  
٭٭٭صحت  پر  مضامین پڑھنے کے لئے کلک کریں   ٭واپس٭٭٭٭  

پیر، 24 فروری، 2020

ذیابیطس ٹائپ 2- انسان کو کیسے لگتی ہے ؟

  ٭- پہلا مضمون:ذیابیطس کیسے جسم کے ڈیفنس سسٹم کو ناکارہ بناتی ہے

٭٭٭٭٭٭
اوپر دیئے گئے مضمون میں آپ یہ تو پڑھ  چکے ہیں ، کہ  ذیابیطس جیسا موذی مرض شیر خوار بچوں کو کیسے لگتا ہے اور اُنہیں باقی زندگی ذیابیطس سے جنگ لڑنا پڑتی ہے ۔
اِس مضمون میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ، وہ جنھیں بچپن میں
ذیابیطس ٹائپ-1،    نہیں ہوتا  وہ     ذیابیطس ٹائپ-2،کا شکار کیسے ہو جاتے ہیں ؟
ذیابیطس   ایک دائمی بیماری ہے  جس کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں   - یہ  پیدائش سے لے کر  50 سال کی عمر تک کبھی بھی نمودار ہو سکتی ہے ۔   
اِس کی درج ذیل وجوہات ہیں :
1- آپ کا لبلبہ ، انسولین بنانے سے قاصر ہے ۔
2-آپ کا لبلبہ نا ہونے کے برابر انسولین بنا رہا ہے ۔
3-آپ کا جسم انسولین  کا ساتھ نہیں دے رہا جیسے اِسے دینا چاھئیے ۔ 
یہ تو آپ کے علم میں ہے ،  جب خون  میں   شوگر بڑھ جائے  ، تو کہتے ہیں کہ آپ کو شوگر ہو گئی ہے ۔  وجہ یہ ہے  کہ اب آپ کاجسم ہار چکا ہے اور وہ    بطور غذا کھائی جانے والی  شوگر کو   آپ کے جسم کے لئے صحیح طریقے سے استعمال کرنے سے قاصر ہے۔لہذا آپ اپنے جسم کو پریشانی سے بچانے  کے لئے جو سب سے پہلا قدم اٹھائیں گے وہ یہ کہ آپ چینی (مٹھاس ) سے لبریز  اشیاء کھانا فوراً ترک کردیں کیوں کہ آپ اپنے حصے کی چینی کھا چکے ہیں!


آپ کا لبلبہ جو اب تک آپ کی مٹھائی عیاشی میں آپ کا ساتھ دے رہا  تھا  اور آپ کے لئے   ، اِس چینی  کو آپ کے جسم کے لئے قوت  بنانے  کے لئے انسولین بنا رہا تھا ، یہ انسولین آپ  کی چھوٹی آنت میں   معدے سے  خوراک کے ملغوبے میں لپٹ  آئی ہوئی    چینی   کو   گلوکوز میں تبدیل کرتی ہے  اور چھوٹی آنت  سے یہ خون کی نالیوں میں چلی جاتی ہے  اوراگرانسولین   شوگر  کو قبول نہ کرے ،  تو وہ  شوگر ہی رہتی ہے ، جو جسم کے لئے خطرناک ہے ۔اور خون ہی میں گھومتی رہتی ہے ۔     لہذا گلوکوز (انسولین اور شوگر)    آپ کے جسم کے ہر  خلیے میں جاتی   اور آپ کا خلیہ توانائی حاصل کرتا ہے  اور اپنی نشوو نما برقرار رکھتا ہے ، اگر آپ یہ توانا ئی کسی کام میں استعمال کرتے ہیں  ، تو یہی خلیہ مزید توانائی کے لئے گلوکوز   مانگتا ہے ، جو اِسے خون سے فوراًمل جاتی ہے ۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ جسم کے کن  خلیوں کو روزانہ گلوکوز کی کتنی ضروت ہوتی ہے ۔ 
  انسانی دماغ  (ہارڈ وئر)کو سب سے زیادہ گلوکوز کی ضرورت ہوتی ہے ، کیوں کہ وہ پورے جسم   کو سوتے اور جاگتے جبلّی  احکامات دیتا ہے ، پھر اُس میں جو انسانی ذہن،  نت نئے سافٹ وئر  روزانہ کے حساب سے پانچوں  حسوں (آنکھ، ناک ، کان ، زبان اور لمس) کی مدد سے بناتا ہے،  وہ باقی زندگی کے لئے محفوظ  رکھے جاتے ہیں اور پھرذہن  ،دماغ کی مدد سے اُن پر عمل کرواتا ہے ۔کیوں کہ انسانی جسم کو ہر قسم کی حرکت  کی ذمہ داری دماغ کی ہے  کیوں کہ تمام کنٹرول اُس کے پاس ہے ،وہ پورے جسم کا  باس ہے ،  جب ذہن تھک کر سو رہا ہوتا ہے اور جسم سکون کی حالت میں ہوتا ہے ، تو دماغ  سو فیصد جاگ رہا ہوتا ہے-اور دماغ کو روزانہ گلوکوز کی ضرورت ہوتی ہے  جو  انسانی جسم کا 60 فیصد بنتا ہے ،  گویا پورے جسم کو40 گرام گلوکوز کی سوتے وقت ضرورت ہوتی ہے -

 لیکن اگر آپ سست اور کاہل الوجود ہیں  ، تو آپ کے جسم کے خلیےبھی  آرام سے سو جاتےہیں ۔اب  جسم کے وہ خلیے جو حرکت میں ہوتے ہیں، تو   وہاں   گلوکوز پہنچا دیا جاتا ہے  اور جن کو ضرورت نہیں ہوتی اُن کے حصے کا  گلوکوز  کو    دماغ کے حکم سے ایمر جنسی سٹوریج یونٹ اور لانگ ٹرم سٹوریج یونٹ  میں پہنچا دیا جاتا ہے ، جہاں اُنہیں چربی میں تبدیل کرکے   مختلف  خانوں میں سٹور کر لیا جاتا ہے ۔ 
اور یوں آپ کا جسم موٹا ہونا شروع ہوتا ہے آپ خوش ہو جاتے ہیں کہ آپ کا جسم طاقتور ہو رہا ہے ، کیوں کہ آپ کے جسم پر گوشت چڑھ رہاہے ، جبکہ آپ کے جسم پر گوشت نہیں بلکہ  چربی چڑھ رہی ہے ۔ اور آپ کا وزن بڑھتا جا رہا ہے ، لیکن جب آپ ایکسرسائز کرتے ہیں ، تو  خلیوں میں پہنچنے والا گلوگوز  توانائی میں تبدیل ہوتا رہتا ہے  اور خون ،میں  شوگر اعتدال میں رہتی ہے ۔
آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ جب چھوٹے بچے  چاکلیٹ یا کوئی میٹھی چیز کھاتے ہیں تو وہ توانائی سے بھر جاتے ہیں اور خوب اچھل کود کرتے ہیں ۔  لہذا جتنی شوگر وہ کھاتے ہیں اُتنی وہ اچھل کود کرکے خرچ کردیتے ہیں  ۔ جوانی میں تو یہ اچھل کود بہت ہوتی ہے  ۔ لیکن عمر کے ساتھ ساتھ یہ کم ہوتی جاتی ہے ، لیکن خوراک وہی رہتی ہے ۔ یوں جسم پر چربی چڑھنا شروع ہو جاتی ہے ۔    شوگر،پروٹین اور چربی  انسانی جسم کی ضرورت ہے ، جو ہم اپنی غذا ؤں سے حاصل کرتے ہیں ۔

  آپ نے شائد نوٹ نہیں کیا ، خون میں بلڈ شوگر کا اضافہ   ، چربی اور کیلوسٹرول  کے اضافے کا باعث بنتی ہے ۔ لہذا یہ تینوں چیزیں اپنے پیٹ میں ایک مناسب مقدار میں ڈالیں ۔ 900 گرام خوراک ایک بالغ انسان کے معدے میں آتی ہے ۔ یعنی 24 گھنٹے میں آپ کے معدے میں   1800گرام سے زیادہ خوراک نہیں جانا چاھئیے ۔آپ اُسے تین حصوں میں تقسیم کرلیں    اور ایک وقت میں 600 گرام خوراک  لیں ، خوراک بڑھاتے جائیں معدہ بھی بڑھتا جائے گا ۔ معدہ بڑھے گا تو جسم پر چربی بھی چڑھے گی -



 اگر آپ کا وزن ، آپ کی عمر اور قد کے حساب سے ٹھیک ہے تو آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ۔ آپ پر ذیابیطس کے حملے کے چانس کم ہوجاتے ہیں ۔ بشرطیکہ آپ کے جین میں  کزن میرج سے یہ شامل نہیں   ہوئی تو ! لیکن اگر آپ کے جین میں شامل ہے تو پھر آپ کو اپنی خوراک کا استعمال اور وزن کا خیال لازمی رکھنا پڑے گا ، اِس طرح آپ اپنی   ذیابیطس ٹائپ-2،کو بارڈر پر روکنے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔ 
اب دیکھتے ہیں کہ   اِس کی  وجوہات  کیا ہیں :
 ٭- موروثیت ۔ جین ، سائینس دانوں کو   ڈی این اے کے مختلف ٹکڑے ملے ہیں ،جو جسم میں انسولین بنانے کے سسٹم کو متاثر کرتے ہیں ۔
٭-موٹاپا۔تمام بیماریوں کی جڑ ہے ۔ شوگر اور چربی سے لبریز جسم کے آگے انسولین بھی ہار مان جاتی ہے ۔ کتنے شوگر کے  وزن کو اپنے اوپر برداشت کرے اور پھر لبلبہ بھی انسولین نکالتے نکالتے تھک جاتا ہے ۔ یہ صورت حال اُس وقت پیش آتی ہے ، جس سستی اور کاہلی انسانی جسم پر طاری ہوتی ہے  یا پھر  عمر بڑھنے کے ساتھ ۔
٭-میٹا بولک سنڈروم ۔ کئی لوگوں کے جسم  کا نظام انسولین کو بلڈ شوگر کو گلوکوز میں تبدیل کرنے پر مزاحمت ڈالتا ہے ، اور یوں یہ شوگر  بطور چربی جسم میں  کمر کے گرد سٹور ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔ بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے  او ر  پھر  خون میں موجود چربی   (triglycerides)کہاں پیچھے رہتی ہے  وہ بھی اپنی مقدار بڑھا لیتی  اور رہا کیلوسٹرول(cholesterol)   وہ بھی انہی کے شانہ بشانہ چلتا ہے ۔


٭-جگر  کا  گلوکوز   مہیا کرنا ۔    جب  بلڈ شوگر میں کمی ہو جاتی ہے ، تو  جگر اپنے ایمر جنسی سٹوریج سے گلوکوز مہیا کرتا ہے ، جب آپ کھانا کھاتے ہیں  تو   بلڈ شوگر بڑھ جاتی ہے  ، جگر اِس کو اپنے پاس سٹور کرتا ہے   تاکہ بعد میں مہیا کرے ۔ لیکن کچھ لوگوں کا جگر   ، بلا ضرورت شوگر ریلیز کرتا رہتا ہے ۔
٭-  سیلز کے درمیان رابطے کا فقدان:  کچھ سیلز  غلط میسج دیتے ہیں یا میسج وصول کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں، یوں غلط پیغامات کی ترسیل  کی وجہ سے  انسولین یا گلوکوز  کا استعمال  متاثر ہوتا ہے  اورذیابیطس کا سبب بنتی ہے ۔
٭- شکستہ بیٹا  (beta )سیلز :  اگر وہ سیلز جو انسولین بناتے ہیں  وہ انسولین کی غلط مقدار   کو غلط موقع  پر بناتی ہے ، جس سے  بلڈ شوگر  زیادہ ہوجاتی ہے اور  سیل کو نقصان پہنچاتی ہے ۔


جیسا کہ اوپر وضاحت کی ہے کہ وزن  اور ذیابیطس کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ جو اِس کی رفتار بڑھاتا ہے ، جو بیماری۔ جینیٹک   وابستگی سے  50 سال کی عمر میں  نمودار ہونی تھی وہ  وزن کی وجہ سے  14 سال میں بھی نمودار ہو سکتی ہے ۔ 
٭- دیگر وجوہات: لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ جنہیں  جینیٹک   وابستگی سے     ذیابیطس ٹائپ-2،لگتی ہے - اُن کے علاوہ بھی عوامل ہیں  جو اِس کی مدد کرتے ہیں، جو اِس چارٹ سے ظاہر ہیں :
٭-  لبلبے کا کینسر :  کینسر ایک تباہ کُن بیماری ہے ۔ جس کا حتمی نتیجہ موت ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں کینسر سے ہونے والی اموات میں یہ چوتھے نمبر پر ہے ۔
پانچ سال تک زندہ رہنے کا چانس 6٪ ہے جو بہترین ہے اور 12 ماہ سے زیادہ کی بقا غیر معمولی ہے۔ صرف 20٪ مریض علاج معالجے کی کوشش کے لئے مناسب سمجھے جاتے ہیں۔ کیموتھراپی سے معمولی فائدہ ہوتا ہے جبکہ ریڈیو تھراپی کے فوائد پر بحث کی جاسکتی ہے۔ اس بہت سی وجوہات ہیں۔ چونکہ لبلبہ پیٹ کی جھلی کے اندر موجود عضو ہے اور اس میں کینسر دیر سے ظاہر ہوتا ہے ۔ لیکن پھیل جاتا ہے ۔ ابتدائی علامات اکثر غیر مخصوص ہوتی ہیں۔ اس مرض کے لئے کوئی بائیو مارکر نہیں ہے۔ 
لبلبے کے کینسر کے خطرے والے عوامل میں عمر ، سگریٹ نوشی ، جینیٹک وابستگی  ، ذیابیطس اور  لبلبے کی دائمی سوزش شامل ہیں۔ لبلبے کے کینسر کا سب سے مضبوط اور معلوم خطرہ  لبلبے کی دائمی سوزش ہے ۔   5 سال تک رہنے والی ،لبلبے کی دائمی سوزش رکھنے والے  مریضوں کو عام آبادی کے مقابلے میں لبلبے کے کینسر کے پیدا ہونے کا خطرہ 14 گنا سے زیادہ ہوتا ہے-



اب ہم آتے ہیں اُس تلخ حقیقت پر ، کہ جس کو ذیابیطس   کی بیماری لگ گئی ، اب وہ ختم نہیں ہو سکتی ، لیکن بہت سے حکیم  اور ہومیو پیتھ  لوگوں کو یہ کہہ کر دھوکا دے رہے ہیں کہ وہ ذیابیطس جڑ سے ختم کر سکتے ہیں ۔ معلوم نہیں کیسے ؟
پرہیز سے  ، گولیاں اور گولیوں سے انسولین تک ایک لمبا عرصہ ہوتا ہے ، لیکن حکیموں  کے مرکب اور 
ہومیو پیتھ نے یہ فاصلہ گھٹا دیا ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تو میرے دوستو !
اگر آپ کے  دادا ، دادی یا نانا اور نانی  کو شوگر تھی ، تو آپ اپنے جسم میں جانے والی مٹھاس  کو کم کردیں ، اپنا شوگر ٹیسٹ ہر تین ماہ بعد کرائیں۔
یاد رکھیں  کہ جونہی آپ کو علم ہوتا ہے  کہ آپ ذیابیطس  کا شکار ہوچکے ہیں ، تو فوراً  درج ذیل باتوں پر عمل کریں:

1- ہر قسم کی مٹھاس یہاں تک کہ قدرتی مٹھاس کو فوراً بند کردیں ، ڈاکٹر سے  اپنی خوراک کا چارٹ بنائیں ۔ خوب واک کریں تاکہ آپ کے خون میں جانے والی مٹھاس ، توانائی بن  کر ختم ہوجائے ۔  
٭٭٭٭٭٭٭
مزید پڑھیں ۔ شاید  آپ کی ہونے  والی  شوگر کا سدباب تو نہیں اب کمی  ہوسکے ! 

٭٭٭٭٭٭٭
٭٭٭صحت  پر  مضامین پڑھنے کے لئے کلک کریں   ٭واپس٭٭٭٭ 

اتوار، 23 فروری، 2020

ذیابیطس کیسے جسم کے ڈیفنس سسٹم کو ناکارہ بناتی ہے ؟

٭٭٭٭٭٭٭٭
کبھی آپ نے سوچا  کہ یہ جو ہم کھانا کھاتے ہیں ،  ان سب کا ہمارا کھانوں  کا ہمارے ڈیفنس سسٹم سے  کیا لینا دینا ہے، یہ تو بس ہمارا پیٹ بھرتا ہے یا پھر ہمیں قوت فراہم کرتا ہے ؟
کبھی آپ نے سوچا  کہ یہ جو ہم کھانا کھاتے ہیں ،  ان سب کا ہمارا کھانوں  کا ہمارے ڈیفنس سسٹم سے  کیا لینا دینا ہے، یہ تو بس ہمارا پیٹ بھرتا ہے یا پھر ہمیں قوت فراہم کرتا ہے ؟
اِس کے لئے  میں  مشورہ دوں   کہ بچوں کے لئے بننے والے ایک فلم     Osmosis Jones ضرور دیکھیں ۔ تو آپ کو معلوم ہوگا ، کہ بیرونی حملہ آور کیسے ہمارے کھانے  میں شامل ہو کر ہمارے جسمانی  ڈیفنس سسٹم کو نقصان پہنچاتے ہیں  اور  حملہ آور اینٹیجن ( antigen)  کو ہمارے خلیوں پر حملہ کرنے پر اکساتی ہیں۔کھانے کو معدے میں ہضم  کے عمل کے دوران  ، کچھ پروٹین  ، امینو ایسڈ حصوں میں مکمل طور پر تقسیم  ہوئے  بغیر آنتوں سے ہمارے خون  میں شامل ہو  جاتے ہیں۔ اِ ن  غیرہضم شدہ پروٹین  کی باقیات کو ہمارا ڈیفنس سسٹم بیرونی  حملہ آورسمجھتا ہے اور خودکار  تباہی   (autoimmune )    کےسسٹم کو متحرّک کر دیتا ہے ۔
گائے کا دودھ ایسی غذا ہے جس میں  ہمارے  پروٹین  کے مماثل پروٹین ہوتے ہیں ۔جب وہ  ہمارے معدے سے گذر کر ہماری آنتوں میں شامل ہوتے ہیں ، تو اُس میں موجود  اینٹیجن جو ہمارے جسم کے ایک خلیے ہی کی طرح دکھائی دیتے ہیں  ۔ لیکن ہمارا دفاعی سسٹم  دوست خلیوں اور حملہ آور  اینٹیجن  کی شناخت کر سکتا ہے ۔اور حملہ آور اینٹیجن ( antigen) کے خلاف  کولون ہمارے اپنے سیلز سے  بناتا ہے ۔ اب دوبدو مقابلے میں ، ہمارا ڈیفنس سسٹم  اپنے  کولونز کے فائر سے اپنے سیلز کو  بچاتا بھی ہے  اور یہ فیصلہ بھی کرتا ہے  کہ کون سا  پروٹین ( antigen) تباہ کیا جائے اور کون سا چھوڑ دیا جائے ۔
لیکن یہ پیچیدہ اور خودکار  طریقہءِ کار اُس وقت فائدہ مند ہوتا ہے کہ جب پورا ڈیفنس سسٹم صحت مند ہو  اور  اپنے پلان پر پوری طرح کاربند ہو ۔ بیمار خودکار ڈیفنس سسٹم  اپنی دوست اور دشمن کو پہچان کی خصوصیت کو  کھو بیٹھتا ہے  اور یوں وہ  دشمن کے ساتھ دوست کو بھی تباہ کرنا شروع کر دیتا ہے ۔

  ذیابیطس ٹائپ -1 :   کی صورت میں ،   مدافعتی نظام لبلبے کے خلیوں پر حملہ کرتا ہے جو انسولین تیار کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ یہ تباہ کن ، لاعلاج بیماری بچوں کو متاثر کرتی ہے ، جوکسی بھی  گھرانے  کے لئے ایک تکلیف دہ اور مشکل سانحہ ہوتاہے۔ زیادہ تر لوگ یہ کہ وہ اپنے بچے یا بچی کو  اِس بیماری میں مبتلاء کرنے کے خود ذمہ دار ہوتے ہیں ۔
موروثی بیماری یعنی ماں اور باپ سے   چلنے والی  کا  ہر بیماری سے سلسلہ جوڑا جاسکتا ہے۔ لیکن  ذیابیطس  ٹائپ -1 ، کا  تعلق خود ماں کی لاپرواہی سے ہوتا ہے ، جب وہ اپنے بچے کو ، طبّی وجوہات کے علاوہ  اپنے بچے کو اپنا دودھ ، ایک خاص مدّت تک  پلانے سے احتراز برتتی ہے ۔
 تحقیق کے بعد  اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ اس بیماری کا تعلق غذا اور خاص طور پر دودھ کی مصنوعات سے ہے۔کیسے ؟ 
آئیں دیکھتے ہیں :
٭- بچے کو ماں  زیادہ دن تک اپنے دودھ پر نہیں پالتی  اور اسے گائے کے دودھ  کے  پروٹین  یا ڈبے کے   شیر خوار فارمولے میں پالا جاتا ہے -
٭- جب یہ دودھ چھوٹی آنت تک پہنچتا ہے ، جہاں اسے اپنے امینو ایسڈ کے حصے میں ہضم ہونا  چاھئیے ۔
 ٭-کچھ نوزائیدہ بچوں کے لئے گائے کا دودھ پوری طرح ہضم نہیں ہوتا ہے ، اور امینو ایسڈ کے چھوٹے حصے یا اصلی پروٹین کے ٹکڑے آنت میں رہتے ہیں۔
٭- یہ نامکمل  ہاضم پروٹین کے ٹکڑے  بچے کے خون میں جذب ہو سکتے ہیں۔ 
٭-  مدافعتی نظام ان ٹکڑوں کو غیر ملکی حملہ آوروں کے طور پر پہچانتا ہے اور ان کو تباہ کرنے کا کام کرتا ہے۔
٭- بدقسمتی سے ، کچھ ٹکڑوں میں بالکل وہی  شبیہ نظر آتی ہے جیسے لبلبے کے خلیات جو انسولین بنانے میں ذمہ دار ہیں۔
٭-  مدافعتی نظام گائے کے دودھ کے  پروٹین کے ٹکڑوں اور لبلبے کے خلیوں کے مابین تمیز کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے ، اور ان دونوں کو ختم کردیتا ہے ، اس طرح سے انسولین پیدا کرنے کی بچے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔

٭-  شیرخوار ایک ذیابیطس ٹائپ 1 بن جاتا ہے ، اور وہ اپنی باقی زندگی اِسی طرح بیرونی انسولین پر گذارتا  ہے۔
 گو کہ یہ ریسرچ اِس بات کو سپورٹ کرتی ہے کہ بچے کا بہترین جسمانی مدافعتی نظام کا انحصار ماں کے دودھ پر ہے ۔ کو کم از کم  چھ ماہ  سے دو سال  تک پلانا چاھئیے کیوں کہ اُس کی تمام اعضاء  ڈولپ ہو رہے ہوتے ہیں  جن کو مناسب خوراک کی ضرورت ہوتی ہے ۔
انسان اپنے لئے نہایت آسان راستہ ڈھونڈتا ہے اور اُس کے لئے دلائل کے انبار لگا دیتا ہے ، کہ فلاں کا بچہ گائے کے یا پاؤڈر  کے دودھ پر پلا اور بالکل ٹھیک ہے ۔  لیکن اِس بات کو حتمی اِس لئے نہیں کہا جاسکتا  کہ ایسا سب بچوں کے ساتھ ہو گا ۔ اگر دس میں سے ایک یا سو میں سے ایک بچہ   بھی    ذیابیطس ٹائپ - :1    جیسے موذی مرض کا شکار ہو گیا ، اُس کی زندگی تو جہنم بن گئی  ۔کیوں کہ اب اُس نے ساری زندگی انسولین پر پلنا ہے ۔
بچوں میں عموماً یہ بیماری ، دو سال سے 10 سال کی عمر  میں ظاہر ہوتی ہے ۔
 وقت کے ساتھ ، ٹائپ 1 ذیابیطس کی پیچیدگیاں بچے  کے جسم کے بڑے اعضاء کو متاثر کرسکتی ہیں ، جن میں دل ، خون کی نالیوں ، اعصاب ، آنکھیں اور گردے شامل ہیں۔ بلڈ شوگر کی عام سطح کو برقرار رکھنے سے  بہت سارے  خطروں کو کم کیا جاسکتا ہے۔
1- دل اور خون کی نالی کی بیماری۔ ذیابیطس آپ کو مختلف قلبی امراض کے خطرے کو  بڑھاتا ہے ، بشمول سینے میں درد (انجائنا) ، دل کا دورہ پڑنے ، فالج ، شریانوں کو تنگ کرنے (Atherosclerosis) اور ہائی بلڈ پریشر سمیت دل کی شریانوں کی بیماریوں کے خطرے کو۔
2-  اعصابی نقصان ( Neuropathy) شوگر کی زیادتی سے خون کی چھوٹی چھوٹی وریدوں (کیپلیریوں) کی دیواروں کو نقصان پہنچا سکتا ہے جو آپ کے اعصاب کو خوراک مہیا  کرتے ہیں ، خاص طور پر پیروں میں۔ اس سے جھگڑا ، بے حسی ، جلن یا درد ہوسکتا ہے جو عام طور پر انگلیوں یا انگلیوں کے کناروں سے  شروع ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ اوپر کی طرف پھیل جاتا ہے۔ کمزور  طریقوں یا خود ساختہ علاج سے بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے سے آپ متاثرہ اعضاء میں چھونے کی حس بالکل ختم کر سکتے ہیں۔
 معدے کی نالی کےمتاثرہ ، اعصاب   سے متلی ، الٹی ، اسہال یا قبض کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
3-  گردے کو نقصان (Nephropathy)۔ گردوں میں لاکھوں ننھے خون کی نالیوں کے کلسٹر ہوتے ہیں جو آپ کے خون سے ناکارہ مواد فلٹر کرتے ہیں۔ ذیابیطس اس نازک فلٹرنگ سسٹم کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ شدید نقصان گردے کی مکمل خرابی پر گردے کی بیماری کا سبب بن سکتا ہے ، جس میں ڈائلیسس یا گردے کی پیوند کاری کی ضرورت ہوجا تی ہے۔
4- آنکھوں کو نقصان۔ ذیابیطس ریٹنا کی خون کی رگوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے ، جو ممکنہ طور پر اندھا پن کا سبب بنتا ہے۔ ذیابیطس سے بصارت کے دیگر سنگین حالات جیسے موتیابند اور گلوکوما کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ 
5-جسم کو نقصان :  ذیابیطس کے مریضوں  کے جسم میں  زخم ٹھیک ہونے کا عمل سست پڑجاتا ہے اور زخم بہت دیر میں بھرتے ہیں اور بعض اوقات تو ذخم نہیں بھرتے  ۔ زخموں کے لئے سب سے آسان جگہیں پیر  اور ہاتھ کے ناخن اور انگلیاں ہیں، جن   میں اعصابی نقصان یا  خون کے بہاؤ سے   مختلف پیچیدگیاں ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر علاج نہ کیا جائے تو ، زخم اور پیروں میں پڑنے والے چھالے سنگین انفیکشن بن سکتے ہیں جن کو بالآخر پیر ، پیر یا ٹانگوں کے کاٹنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
6-جلد اور منہ کی حالتیں۔ ذیابیطس آپ کو جلد اور منہ کے انفیکشن کا زیادہ خطرہ بن سکتا ہے ، جس میں بیکٹیریل  اور فنگس انفیکشن بھی شامل ہیں۔ مسوڑوں کی بیماری اور خشک منہ  رہنا   بھی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے ۔
7- حمل کی پیچیدگیاں۔ ہائی بلڈ شوگر کی سطح ماں اور بچے دونوں کے لئے خطرناک ہوسکتی ہے۔ جب ذیابیطس پر قابو نہیں پایا جاتا ہے تو اسقاط حمل ، ولادت پیدائش اور پیدائشی نقائص کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماں کے لئے ،   ذیابیطس(keto acidosis) ،   آنکھوں کی خرابی (retinopathy ) ، حمل سے متاثرہ ہائی بلڈ پریشر اور پری ایکلم پسیا (  pre-eclampsia)کا خطرہ بڑھاتا ہے۔    پری ایکلم پسیا کی علامات ،  سوجن (  edema) کے علاوہ ، پیشاب میں پروٹین ، اور ہائی بلڈ پریشر  ہیں-
جسمانی سیال میں بڑے پیمانے پر اضافے کی وجہ  وزن  میں زیادہ  اضافہ -شدید سر درد -۔ پیٹ میں درد ، خاص طور پر اوپر  دائیں جانب-
    ذیابیطس ٹائپ -1  کی وجوھات :
 ایک مشہور رائے  یہ بھی ہے کہ   ذیابیطس ٹائپ -1جینیات کی وجہ سے  ہوتی ہےاور  اکثر ڈاکٹربھی یہی رائے رکھتے ہیں ۔ لیکن   جینیات کا   اس بیماری  میں زیادہ حصہ نہیں ہوتا ۔ جین اکیلے  کام نہیں کرتے ہیں۔ اُن اثر انداز ہونے کے لئے کسی ٹریگر کی ضرورت ہوتی ہے ۔  تحقیقات  سے یہ  معلوم ہوا ہے کہ ، اگر ایک جوڑے  کو ذیابیطس ٹائپ -1ہے  تو اُس کے بچوں میں   بھی   ذیابیطس ٹائپ -1 ہونے  کا خطرہ   صرف 13-33٪کا  امکان ہوتا ہے اور دوسرے بچے یا بچوں میں   ذیابیطس ٹائپ -1بالکل نہ ہو ۔حالانکہ دونوں  بچے  والدین سے ایک جیسے ہی جین لیتے ہیں ۔
چلی میں ہونے والی ایک تحقیق میں گائے کے دودھ اور جین کے پہلے دو عوامل پر غور کیا گیا۔ کہ شیر خوار بچوں کو بیماری کا خطرہ  زیادہ ہوتا ہے   ،۔ جینیاتی طور پر حساس (والدین میں سے کسی ایک کو ذیابیطس ہو) بچوں کو گائے  کا دودھ یا  گائے کے دودھ پر مبنی فارمولے پر دودھ  پلایا جائے ،    تو  اِن بچوں  کو  شیر خواری میں   13.1 گنا زیادہ  خطرہ ہوتا ہے نسبتاً اُن بچوں کو جو  کم از کم  تین ماہ  ،  ماں کا دودھ پلایا گیا ہو ۔ 
 امریکہ میں ہونے والی ایک اور تحقیق میں بتایا گیا ہے اگر  جینیاتی طور پر حساس ببچوں کو گائے  کا دودھ یا  گائے کے دودھ پر مبنی فارمولے پر دودھ  پلایا  جائے   تو  اِن بچوں  کو  شیر خواری میں   11.3 گنا زیادہ  خطرہ ہوتا ہے نسبتاً اُن بچوں کو جو  کم از کم  تین ماہ  ،  ماں کا دودھ پلایا گیا ہو ۔ 
حالیہ سروے کے مطابق:
٭- پاکستان  :3.53  ملیئن  افراد ذیا بیطس کا شکار ہیں ، لیکن ٹائپ 1  کا ڈیٹا دستیاب نہیں  ۔  

٭- امریکہ :  1.25  ملیئن  -بچے ، ذیابیطس  ٹائپ 1  میں مبتلا ہیں ۔
٭- برطانیہ  :  4  لاکھ- بچے ، ذیابیطس  ٹائپ 1  میں مبتلا ہیں ۔

٭- کینیڈا:  3  لاکھ- بچے، ذیابیطس  ٹائپ 1  میں مبتلا ہیں ۔
٭-انڈیا:  1  لاکھ- بچے  ، ذیابیطس  ٹائپ 1  میں مبتلا ہیں ۔


 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مزید پڑھیں ۔ شاید  آپ کی ہونے  والی  شوگر کا سدباب ہوسکے ! 
 
٭٭٭صحت  پر  مضامین پڑھنے کے لئے کلک کریں   ٭واپس٭٭٭٭ 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔