Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 16 نومبر، 2014

اگر اللہ تعالٰی رازق ہے تو انسان بھوکے کیوں مرتے ہیں؟

وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ ﴿11:6﴾
اور
الْأَرْضِ  میں  جو بھی   ذی حیات  ہےاُس کا رزق  اللَّـهِ کے اوپر ہے ! وہ اس (رزق) کے ملنے کی جگہ اور طریقے کو جانتا ہے۔سب  كِتَابٍ مُّبِينٍمیں  ہے -
 
وَكَأَيِّن مِّن دَابَّاةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّـهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿29:6 ﴾
ا ور کتنے 
  ذی حیات ایسے ہیں جو اپنا رِزْقَ  اٹھائے نہیں پھرتے۔اللَّـهُ  انہیں اور تمہیں رْزُقُ دیتا رہتا ۔او روہ  السَّمِيعُ الْعَلِيمُہے-

 وَضَرَبَ اللَّـهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّن كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّـهِ فَأَذَاقَهَا اللَّـهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ ﴿16:112﴾
اوراللَّـهُ ایک بستی کی مثال  سے ضَرَبَ  لگاتا ہے   جو امن  (کے باعث)  مطمئن تھی۔ اس کا  رِزْقُ  اُس کے اس پاس  روزانہ  كُلِّ مَكَانٍ سے آتا  تھا۔پس انہوں نے اللہ کی نعمت کے ساتھ  کفر کیا۔پس  اللہ نے اُنہیں بھوک اور خوف  کے         لِبَاسَ کا ذائقہ  اُنہیں  دیا    اس کے سبب جس  (ضرب المثل) کے ساتھ وہ     صْنَعُ کرتے رہتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے تمام انسانی ہدایات، انسانوں کے لئے واضح لکھائیوں میں درج کر دی ہیں اور یہ واضح لکھائیاں کتاب اللہ  (دنیا اور آسمانی دنیا ) میں موجود ہیں اور یہ کتاب اللہ، الکتاب کی صورت میں متقین کی ہدایت کے لئے موجود ہے۔ 


 ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ-﴿2:2﴾
یہ الکتاب جس میں کوئی شک نہیں متقین کے لئے ہدایت ہے۔
اس سے پہلے کہ ہم اپنی عقل استعمال کریں اور اس اللہ کی بشارت کو نہ سلجھنے والی گتھی میں تبدیل کر دیں تو کیوں نہ پہلے ہم الکتاب سے ہدایت لیں۔جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بتایا ہے۔


وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِي هَـٰذَا الْقُرْآنِ مِن كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ -
﴿39:27﴾
اورحقیقت میں ہم نے انسانوں کے لئے اس القران (خاص پڑھائی) میں ہر قسم کی مثال سے ضرب  لگائی ہے ۔ تاکہ وہ اس (ضرب المثل)   کا ذکر کریں ( اپنی اپنی مثالیں نہ بنائیں)
قُرْآنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُون - 
﴿39:28﴾
قران عربی ،میں  بغیر  کسی
عِوَجٍ  کے ہے تاکہ وہ متقی ہو جائیں۔
اگرالقرآن کی عربی کے کسی لفظ میں آپ کو  
عِوَجٍ  ملے تو اپنے فہم کو درست کرتے ہوئے اُس وقت  تک ترجمہ نہ کریں جب تک  عِوَجٍختم نہیں ہو جاتی وگرنہ آپ  ترجماتی الحاد  کے مرتکب ہو کر  فرقوں  میں  متفرق  جائیں گے 
اللہ تعالیٰ سے ہدایت لینے کی بنیادی شرط، کتاب اللہ کی عربی میں پڑھائی ہے۔
لہذا جب بھی ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی کسی آیت کا ترجمہ آئے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم کتاب اللہ سے اس آیت کی عربی لازمی دیکھیں۔
اس سے ہمیں الکتاب کا علم آئے گا، آیت کے ترجمے کی تصدیق ہونے کے بعد ہمارا تزکیّہ ہو گا۔
وہ اس طرح کہ ہمارے ذہنوں میں جو عجیب عجیب فلسفے موجود ہیں اللہ کی آیات کے سامنے ماند ہو کر ختم ہو جائیں گے۔اور اس طرح ہم متقین میں شامل ہونے کی طرف اپنے قدم اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق اٹھائیں گے۔
آیات کا ترجمہ انسانی کوشش ہے اُس سے اتفاق یا اختلاف ہو سکتا ہے لیکن الکتاب میں تا قیامت، مستحکم عربی لکھائیوں میں موجود آیات اللہ سے متقین کا اختلاف ممکن نہیں۔البتہ کفار اللہ تعالیٰ کی آیات سے جحد (اجتھاد نہیں بلکہ اجتحاد) کرتے ہیں۔

وَكَذَٰلِكَ أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ ۚ فَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۖ وَمِنْ هَـٰؤُلَاءِ مَن يُؤْمِنُ بِهِ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا الْكَافِرُون - 
﴿29:47﴾  
اور اُسی  طرح ہم نے تجھ پر الْكِتَابَ  نازل کی۔پس وہ لوگ جنھیںالْكِتَابَ  دی گئی وہ اِس کے ساتھ مؤمن  رہتے ہیں۔اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو اس کے ساتھ  ایمان لائیں گے ۔اور ہماری آیات سے کوئی جْحَدُ  (اجتحاد) نہیں کرے گا  سوائےالْكَافِرُون کے۔
واضح لکھائیوں میں موجود اللہ تعالیٰ کی ہدایات سے دیکھتے ہیں۔ کہ کرہ ارض پر موجود انسانوں کے بھوک سے مرنے کی وجہ کیا ہے؟


وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّـهُ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنُطْعِمُ مَن لَّوْ يَشَاءُ اللَّـهُ أَطْعَمَهُ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ -
﴿36:47﴾
جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ اس
رَزَقَ میں سے جو تمھیں ملا   (ضرورت مندوں کو ) أَنفِقُکرو۔تو کافر ایمان والوں  کے لئے  کہتے ہیں۔کہ کیا ہم ان کوطْعِمُ کروائیں ۔جن کو اگر اللہ چاہتا تو  اُنھیں خودأَطْعَمَ کروا  دیتا (ایمان والو) بے شک تم   ضَلَالٍ مُّبِينٍ میں ہو!
انفاقِ رزق کی نصیحت کے بارے میں کفار کا استدلال کتاب اللہ میں درج ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ایمان والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے کیا ہدایات دی ہیں۔ 


أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ -
﴿30:37﴾ 
کیا وہ  نہیں دیکھتے رہتے  کہ صرف ،اللَّـهَ الرِّزْقَ  کو، پھیلائے گا  جس (رزق) کے لئے اُس کی شَاءُ ہو  اور    قْدِرُ کرتا رہتا ہے -بے شک اس (بسط و قدر ) میں قَوْمٍ يُؤْمِنُونَ  کے لئے آيَاتٍ  ہیں۔
 رزق میں تنگی اور کشائش ایمان والوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی آيَاتٍ ہیں  اور یہ اُ ن کی آزمائش ہے۔

وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ - ﴿2:155﴾
بے شک ہم تمھیں اشیاء  کے ساتھ  (جن میں)   خوف اور بھوک،اور
أَمْوَالِمیںنَقْصٍ اور  أَنفُسِ   اور الثَّمَرَاتِ  کےساتھ  ضرور آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو بشارت دے دو۔

لیکن وہ ایمان والے جنھیں اللہ تعالیٰ نے رزق میں کشائش دی ہے اور جو عقل رکھتے ہیں اُن کے لئے ۔


ضَرَبَ لَكُم مَّثَلًا مِّنْ أَنفُسِكُمْ ۖ هَل لَّكُم مِّن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن شُرَكَاءَ فِي مَا رَزَقْنَاكُمْ فَأَنتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ -
﴿30:28﴾ 
ا س (الکتاب) میں تمھیں سمجھانے کے لئے تمھارے ہی  
نفُسِ   پر ضَرَبَ سے  مَثَلً  دی ہے۔ کہ کیا تمھارے مَلَكَتْ أَيْمَانُ ہیں ، اس رَزَقْمیں تمھارے برابر کےشُرَكَاءَ ہیں جو ہم نے تم کو دیا ہے؟۔جس طرح وہ تم سے خوف کھاتے کیا اسی طرح تم   ان سے بھی  اپنے اندر خوف کھاتے ہو؟اس طرح ہم اپنی آیات قَوْمٍ يَعْقِلُونَ کے لئے تفصیلاّ بیان کرتے ہیں ۔
 
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ ۗ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ -

﴿2:254﴾
اے ایمان والو۔
أَنفِقُکرو اس رزق میں سے جو ہم نے تم کو دیاہے۔اسيَوْمٌکے آنے سے قَبْل جس میں نہ تو کوئی خریدوفروخت اور نہ خلیل  اور کوئی سفارش کام آئے گی۔اور کافر تو ظالموں میں سے  ہیں-

ایمان والوں کے لئے انفاقِ رزق کی نعمت میں کوئی اجتحادی چھوٹ نہیں ہے۔لیکن اس کے باوجود شیطانی اٹھکیلیاں اس کی سوچوں کو فتنہ پروری کی آماجگاہ بنائیں گی اوروہ لازمی کہے گا کہ:مجھے جو کچھ ملا ہے اس کے لئے میں نے اتنا عرصہ علم حاصل کیا، محنت کی، اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو استعمال میں لایا۔یہ سب کچھ میرا ہے میں جس طرح چاہوں اسے استعمال کروں۔
ان شیطانی چالوں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اُس کے علم میں اضافہ کرنے کے لئے کہا
--- ثُمَّ إِذَا خَوَّلْنَاهُ نِعْمَةً مِّنَّا قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ ۚ بَلْ هِيَ فِتْنَةٌ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُون - 
﴿39:49﴾ 
۔۔۔۔ پھر جب ہم اسے اپنی 
نِعْمَةً میں سے عطا کرتے ہیں تو کہتا ہے کہ بے شک اسے اس کے عِلْمٍ کی بدولت ملا ہے۔ بلکہ یہ (سوچ)  فِتْنَةٌ ہے ان میں سے اکثر کو اس کا علم نہیں؟
انسانی رزق ، اللہ تعالیٰ معلوم مقدار میں نازل کرتاہے۔اب ہم اس مقدار کو ہر فصل کے مطابق لیں یا سالانہ لیں اس کی مقدار نسبتاً وہی رہے گی جو اللہ تعالیٰ نے اس عرصے کے خرچ کے لئے مقرر کی ہے۔

وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ وَمَن لَّسْتُمْ لَهُ بِرَازِقِينَ 
﴿15:20﴾  
  اور ہم نے تمھارے لئے اِس (زمین) میں مَعَايِشَ(کے ذرائع) بنائے ہیں اور اِن کے لئے بھی جن کے تم رَازِقِينَ نہیں ۔
وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ - ﴿15:20﴾ 
اور کوئی شَيْءٍ  ایسی نہیں کہ جس کے خَزَائِنُ ہمارے پاس موجود نہ ہوں اور ہم اس کو ایکقَدَرٍ مَّعْلُومٍ  میں نازل کرتے ہیں ؟
مثال کے طور پر اگراس دنیا میں کل سو افراد بستے ہوں تو اللہ تعالیٰ نے ان سو افراد کا سالانہ رزق ایک معلوم مقدار میں نازل کر دیا ہے۔اور اِن سو افراد کے حصے بھی بنا دئے ہیں جو حاصل کے بعد ان کے استعمال میں آئیں گے۔
لیکن ان کا حصول سب کے لئے ممکن نہیں کیونکہ اصولِ تقسیم رزق و مال کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ان سو انسانوں میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ چنانچہ ہر آدمی اپنی اپنی فضیلت کے مطابق کسبِ رزق کرے گا۔
 
وَاللَّـهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ ۚ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَىٰ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ ۚ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَجْحَدُونَ -  ﴿16:71﴾   ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 

بیل گری ۔ جوڑوں و دیگر بیماریوں کا علاج

جون کی بات ہے ، اپنے پرانے دوست آصف اکبر کے گھر بڑھیا کے ساتھ گئے ۔ خواتین کی گفتگو  پوتے پوتیوں ، نوسے نواسیوں ، بہوؤں سے ہوتی ہوئی  ، صحت پر آکر رُک جاتی ہے ۔ 
چنانچہ واپسی میں بڑھیا نے بتایا کہ اُنہوں  وہاں اُن کی بیگم کو اپنی شوگر اور  جوڑوں کے درد کا بتایا ، تو اُنہوں نے کہا کہ کراچی سے وہ ایک  پھل نما دوائی منگوائیں گی آپ اُسے استعمال کرنا ۔ شوگر کی شکایت ، انشاء اللہ شکایت دور ہوجائے گی ۔
کوئی ہفتے بعد دوائی تو نہ آئی لیکن  ہفتے بعد، جمع کی صبح  آصف اکبر صاحب کا بیٹا، ایک ڈبے میں چار   ، ہرے رنگ کے گول   موسمبی سے بڑے پھل لایا۔
" انکل امی نے بھجوائے ہیں ، ابھی یہ کچے ہیں چار پانچ دن میں پک جائیں گے تو  پھر استعمال کرنا   " وہ بولا ۔
" آؤ بیٹھو چائے پی کر جانا " میں نے کہا ۔
" نہیں انکل میں نے جانا ہے ، جلدی ہے " اُس نے کہا 
" امی ابو  کو میرا اور آنٹی کا سلام کہنا ۔" میں نے کہا اور نوجوان چلا گیا ۔
بوڑھے نے وہ پھل لے جاکر بیوی کو دیئے اور ہدایت کر دیا ،
 بڑھیا نے وہ چاروں ، ڈبے سمیت فریج پر رکھ دئیے ۔ اور بڑھیا میں اور چم چم ایبٹ آباد چم چم کی خالہ کے پاس چلے گئے ۔ 
کل یعنی ہفتے کی بات ہے ، کچن کی صفائی ہو رہی تھی  ۔ کہ وہ پھل بھی اُسی ڈبے سے برآمد ہوئے ، بڑھیا پریشان کہ یہ کیا چیز ہے ؟  اور کِس نے یہاں رکھی ؟ 
خیرپھر، اُس ٹیں کے  ڈبے میں سڑی ہوئی  اُس چیز کو کوڑے میں ڈال دیا ۔
 دو دن پہلے آصف اکبر صاحب کے ہاں پوتی کی مبارک باد دینے گئے ، وہاں بھابی نے بڑھیا سے پوچھا ،" آپ نے بیل گری استعما ل کی کوئی فائدہ ہوا؟"
" وہ کیا ہوتی ہے ؟" بڑھیا نے پوچھا 
" ارے وہی جو   کراچی سے منگوا کر حسن کے ہاتھ آپ کو بھجوائی تھی " اُنہوں نے کہا
 بڑھیا کو یک دم یاد آگیا ۔
" بھابی ہوا یہ کہ  ۔ ۔ ۔ " اور سارا واقعہ  بتا دیا ۔ " چلیں اب اور منگوادیں ۔ میں ضرور استعمال کروں گی "
" بھابی وہ درخت ، ہماری بہن  کی ساس کے گھر تھا ، اُنہوں نے کمرہ بنایا تو وہ کاٹ دیا " اُنہوں نے کہا۔
پھر اُنہوں نے بیل گری کی افادیت پر پورا لیکچر دیا  ۔ تو بوڑھے نے واپس گھر آکر گوگل چاچا سے پوچھا ۔
"یہ بیل گری کیا ہے اور کہاں پایا جاتا ہے " ؟
جو معلومات ملیں ، آپ بھی پڑھیں ۔
بیل گری برصغیر کے بہت سے خطوں میں مشہور ہے۔ 
اردو میں اسے بیل پتھر بھی کہتے ہیں، انگریزی میں Beal Fruit اور Wood Apple ‎پنجابی میں بل ، سندھی میں کاٹھوری ،  بنگالی   اور ہندی  میں اسے بلوا کہتے ہیں۔
 پاکستان ،ہندوستان ،بنگال ، برما ،سری لنکا  اور نیپال ،میں بکثرت ہوتا ہے۔ گویا بر صغیر کا پھل ہے۔جو بیل کے درخت سے حاصل ہوتا  ہے ۔  جس کاپھل یعنی گری  ، ایک ایسا غیر معمولی پھل ہے، نہ صرف جس کے استعمال سے بلکہ پتوں  سے  بھی   ان گنت فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
بیل کا درخت  ،پچیس سے تیس فٹ اونچاہوتاہے۔موسم ِ بہار میں  ، نئے پتوں کے ساتھ ہی سبزی مائل سفید پھول جس کی چار انچ پنکھڑیاں ہوتی ہیں  ان میں تھوڑی خوشبو ہوتی ہے۔
پھل جنگلی خودرودرختوں پرلیموں کے برابر سے لےکرگیند کے برابر ہوتے ہیں۔ان پر درمیانی گیند سے لے کر ایک کلو تک پھل لگتے ہیں جو پہلے سبز اور بعد میں سرخی مائل زرد ہو جاتے ہیں۔جن کے اوپر چھلکا سخت ہوتاہے۔اورپکنے پر اندر کا گودہ لیس دار شیریں اورخوش ذائقہ ہوتا ہے اس کے اندر سے چھوٹے سفید رنگ کے تخم بھر ے ہوتے ہیں۔ ‎
    بیل کا پھل جسے بیل گری کہتے ہیں، خوب پکی ہوئی بیل  گری  کا گودہ  نہایت سرخ‘ خوشبودار اور شیریں ہوتا ہے۔
 اطباء اسے کثرت سے ادویات میں استعمال کرتےہیں اس کا مربہ بھی بہت عمدہ بنتا ہے۔ یہ خاصیت میں گرمے سے مشابہ ہوتا ہے اس کاباہر کا خول بے حد سخت جبکہ اس کا گودا بے حد نرم اور کھانے میں لذیذ ہوتا ہے۔ اس کے مغز کے چھلکے سکھالیتے ہیں اسے خشک بیل گری کہتے ہیں۔ ‎
 اطباء  بیل گری کا ‎مزاج۔تازہ   درجہ دوم اور خشک درجہ سوم بتاتے ہیں ۔
 بیل  کے درخت   کے فوائد؛
بیل  درخت کا پھل یعنی بیل گری  کے انسانی جم پر ہونے والے فوائد:
٭۔ پھل کو بطور میوہ کھایا جاتا ہے اور اِس کا شربت بنا کر بھی پیا جاتا ہے ۔ 
٭- دہی میں چینی کے ساتھ گودہ ملا کر کھایا بھی جاتا ہے ۔ 
٭- بیل گری ، انسولین سے بھرپور ہے ،جو خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول کرنے کے لئے ضروری ہے،یہ شوگر کے مریضوں کیلئے کسی بڑی نعمت سے کم نہیں۔
 ٭- بیل گری کا استعمال ، برص، بواسیر،اسہال یا ڈائیریا، ہیضہ ، السر ، سوزش،دل کی بیماریوں،نظام ہضم کی بحالی ،سانس لینے میں دشواری کے علاج سمیت دیگر بہت سی بیماریوں میں مفید ہے۔
٭- معدے میں غیر معمولی تیزابیت جو السر کا اصل سبب بنتا ہے اس کو بننے سے روکتا ہے ۔
٭۔جسم میں وٹامن سی کی کمی کے باعث کمزوری،تھکاوٹ، خون میں سرخ خلیوں کی کمی،مسوڑھوں کی بیماریوں  کے لئے  بہتر ہے ۔بیل گری میں ایسے وٹامن کی وافر مقدار موجود ہے جو ان تمام خرابیوں کو دور کرتا ہے۔
٭-  ‎بیل گری کا استعمال سوزش میں بھی انتہائی مفید ہے،جسم میں کسی جگہ سوزش کی شکایت کی صورت میں اسے متاثرہ جگہ پر لگانے سے سوزش دور ہو سکتی ہے۔
٭۔  ‎بیل گری کے پھل کا جوس اور اس کو گھی کی نسبتاً کم مقدار کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر بطور غذا میں شامل رکھنا دل کی بیماریوں کو روکتا ہے،  جس میں دل کا دورہ بھی شامل ہے اس سے بچنے کا امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ ‎
٭- بیل گری   کاگودہ  یا شربت   ، قبض کشااور اس کی بہترین قدرتی دوا ہے،اس کے گودے میں چھوٹی کالی مرچ اور نمک کو شامل کرکے کھانے سے آنتوں میں بننے والے زہریلے مادے کو ختم کردیتا ہے.
٭۔ ‎بیل گری کا استعمال خون میں کولیسٹرول کی مقدار کو قابو رکھنے میں بہت مفید ہے ،اس کا باقاعدہ استعمال خون میں کولیسٹرول کی درست مقدار کو برقرار رکھنے کا مکمل علاج ہے ۔ ‎
٭۔ صحت تندرستی میں اضافہ کیلئے بیل گری کی چائے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ معدہ صاف رہے اور آپ کا نظام ہاضمہ مضبوط ہوجائے تو آپ بھی بیل گری کی چائے استعمال کرسکتے ہیں۔
٭- جوڑوں میں درد کے خاتمے کا بھی سبب بنتا ہے ۔  
 ‎بیل کا پھل جو ٹکڑے کرکے خشک کرلیاجاتا ہے جو کہ بیل گری کے نام سے مشہور ہے۔ ‎
 خشک بیل گری کسی بھی پنسار سٹور سے بآسانی حاصل کی جاسکتی ہے۔ 
بیل درخت کے پتے :
٭-  بیل گری کے پتوں کا رس نزلہ زکام اور انفلوئنزہ میں پلانا مفید ہے اور جڑ کا جوشاندہ مقوی قلب ہے
  ٭-   تازہ پتوں کو کشید کرنے سے ایک زردی مائل تیل حاصل ہوتا ہے ۔جس  کے استعمال سے سانس لینے کی دشواریوں اور خرابیوں جیسے دمہ کے علاج کے لئے استعمال کیا جا تا ہے،شدید نزلہ زکام میں جب ناک اور کان بند ہوجائیں اس کے روغن کو سر پر لگانے سےفائدہ ہوتا ہے۔
 بیل درخت کی چھال  :
٭۔بیل درخت کی چھال کو خفیف بخاروں میں بکثرت استعمال کرتے ہیں۔ ‎
٭۔ بیل درخت کی چھال کا جوشاندہ سانپ کے زہر کو دورکرتاہے۔اور بخارسرمیں مفیدہے۔
  ٭-  بیل گری کی جڑ کی چھال سے ایک خاص جوشاندہ تیار کیا جاتا ہےجس کے پینے سے دل کی دھڑکن کی تیزی میں اور نوبتی بخار میں افاقہ ہوتا ہے۔
 طریقہ ءِ علاج   :
 مقدار خوراک : 
https://www.youtube.com/watch?v=DmLNJQb1ALsتازہ پھل۔24 گرام تا 48 گرام۔
 خشک گودا۔24 گرام تا 60  گرام۔
چھال ۔  6  گرام تا 60گرام۔ 
  


  بیل گری  کا مربہ بنانے  کی ترکیب :
1۔  100گرام بیل گری لیں‘ اسے ایک لیٹر پانی میں ڈال کر آگ پر چڑھادیں۔ اسے خوب پکنے دیں جب پانی کی مقدار تقریباً اڑھائی گرام رہ جائے۔  تو اسے گھوٹ لیں ۔
شہد ڈال کر فریج یا ٹھنڈی جگہ رکھ دیں ، لیں جناب ،  مربّہ تیار-
روزانہ  خالی پیٹ ایک چمچ دن میں تین بار کھائیں ۔


 ٭۔  ‎بیل گری کی چائے: صحت تندرستی میں اضافہ کیلئے بیل گری کی چائے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کامعدہ صاف رہے اور آپ کا نظام ہاضمہ مضبوط ہوجائے تو آپ بھی بیل گری کی چائے استعمال کرسکتے ہیں۔
  آرتھرائیٹس  کے لئے بہترین نسخہ ہے ۔

مکرر :  
بوڑھا 12 اکتوبر 2019 کو بڑھیا کے ساتھ افریقیوں کی دیس آپہنچا ۔
یہاں آکر  چڑھائیاں چڑھتے گھٹنے جواب دے گئے ، بیٹی  نے پاکستان سے آنے والے  دفتر کے ایک آفیسر سے    Knee Caps  منگوادیئے ۔ اُن سے گذارا تو ہوا لیکن  درد  رفع نہ ہوا  ،  5 دسمبر 2019 میں پاکستان جانا ہوا ،  پہلے ہفتہ تو آرام کیا ، پنسار کے پاس گیا ، اُس سے بیل گری کا پھل آدھا کلو 600 روپے میں لیا ۔دیکھنے میں واہیات 
خیر    4 جنوری کو   ایتھوپیا لے آیا ۔
   اِسے    دھو کر خشک کیا،  پیسنے کی کوشش کی دھماکے کی آواز سے چھت ہلنے لگی۔
 بوڑھےنے چار پیس پانی میں ڈالے ، وہ نرم ہو گئے ، بوڑھے نے ایک چائے کے چمچے میں ٹکڑا لے کر چکھا اور پھر کھا لیا ، جو پانی تھا اُسے پی لیا ، باقی گودے کو ایک بوتل میں بھر کر فریج میں رکھ لیا اب روزانہ  بوڑھا ایک درمیانہ چمچ کھاتا  ہے ۔

گھٹنوں پر جو Knee Caps باندھی تھیں وہ اتار دی ہیں اور روزانہ چم چم کو سکول چھوڑنے اور لانے جاتا ہے ۔ جاتے ہوئے دو منزلہ چڑھائی اور آتے ہوئے دو منزلہ چڑھائی ،بوڑھا پہاڑی بکرے کی طرح آرام سے بغیر سستائے چڑھ جاتا ہے ۔
 بھائی ثنااللہ احسن نے کمنٹ دیئے ، کہ  بیل گری کے پھل کی پنجیری بنا کر بھی کھائی جاسکتی ہے !
جواب دیا بھائی :  حلوہ اور پنجیری   کی طرف جانے سے ڈر لگتا  کہ شوگر کے ہتھے نہ چڑھ جائیں، کیوں کہ آخری حد سے پہلے بیٹھے ہوئے ہیں، یہ سمجھو کہ صاحبِ اعراف ہیں ،اسی لئے حلوہ یا پنجیری سے کوسوں دور ہیں۔
ہاں کبھی کبھی لڈو کی یاد میں لڈو کھا لیتے ہیں ، چم چم پاس ہے اور برفی کی مٹھاس بھی چکھ کر برفی کو یاد کرلیتے ہیں ۔
 ویسے ، بوڑھے کا نظریہ یہ ہے کہ چیز کھاؤ  تو خالص کھاؤ اوردوائی کھانی ہے تو اُسے میٹھا کر کے اُس کی خاصیت کم کیوں کی جائے ؟۔ 
 بیل گری کے مزید فوائد !
٭-شوگر کے لئے :  پتوں کا رس  60  گرام۔  نکال کر صبح نہارمنہ پلانا ذیابیطس کیلئے بہت مفید ہے ۔
 ٭- معدے و آنتوں کے امراض کے لئے :بیل گری کا پکا ہوا گودا جگر و معدےکوقوت دیتا ہے۔کیونکہ یہ آنتوں کو صاف کرتا ہے اور ان میں قدرتی لچک کو بحال کرتا ہے۔  آنتوں کے امراض  کو ختم کرتا ہے ۔
 ٭۔ پیچش یا اسہال  کے لئے :  بیل گری کا گودا اپنے نرم و کثیف اثرات کے باعث فائدہ مند ہے۔جن افراد کو دست آنے کی شکایت ہو ان کو بیل گری کا شربت تیس گرام پلانے سے یا بیل گری کا پاؤڈر ایک ایک گرام روز کھانے سے آرام آجاتا ہے۔ یا  ۔ 
 بچوں کو 244 ملی گرام سے  488 ملی گرام تک بیل گری کا پاؤڈر 122 ملی گرام یا 244 ملی گرام ،  کتھے میں ملا کر پانی کے ساتھ کھلاتے ہیں۔ اس سے دستوں میں افاقہ ہوتا ہے اور آنتوں کی بے قاعدگی بھی درست ہوتی ہے۔ بڑوں کو یہ مقدار دو گنا کرکےدی جاسکتی ہے۔
 ٭- حلق میں ورم کے لئے :پکے ہوئے گودے کے کھانے سے ورم حلق میں فائدہ ہوتا ہے۔
٭۔ سردیوں   کی بیماریوں کے لئے :  پتوں کا رس کھانسی‘ زکام‘ انفلوئنزا اور ورم کو تحلیل کرتا ہے۔
  ٭۔ ‎یرقان کیلئے: یرقان کےمرض میں بیل گری کا پاؤڈر ایک گرام کالی مرچ ملا کر پانی کے ہمراہ چند روز کھلانے سے مرض کی زیادتی ختم ہوجاتی ہے۔
 ‎بخار کیلئے: گرمی یا سردی کے باعث جن افراد کو بخار ہوجائے وہ اس نسخے سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ بیل کے پتوں کا رس ہم وزن شہد یا پانی میں ملا کرمریض کو پلائیں۔ اس سے بخار کا زور ٹوٹ جاتا ہے اور طبیعت میں سکون پیدا ہوتا ہے۔
 ‎بندش پیشاب کیلئے:  پروسٹیٹ گلینڈ  کی خرابی کی وجہ سے  ، پیشاب کی بندش‘ پیشاب کے رک رک کر آنے‘ دوبارہ پیشاب کرنے کے بعد حاجت ہونے اس نسخہ کا استعمال بے حد مؤثر پایا گیا ہے۔
٭٭٭صحت  پر  مضامین پڑھنے کے لئے کلک کریں   ٭واپس٭٭٭٭




پیر، 3 نومبر، 2014

اللہ یا سائینس کا اصولِ واحد !

محمد عبداللہ : رقم طراز ہیں:
کیونکہ ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہاں ھر چیز کو کرنے کے لیےٴ کسی نہ کسی کرنے والے کا ہونا ضروری ہے مگر یہ ضروری نہیں کے بنانے والا آپ کے سامنے موجود ہو۔ ساٴینس بھی اسی اصول پر چلتی ہے اور اس نے ایک بنانے والے کو مانا ہوا ہے مگر اس بنانے والے کا نام انہوں نے قدرت ﴿نیچر﴾ رکھا ہوا ہے۔ اب جس نے بھی اس بنانے والے کا نام اﷲ ﴿یا کوٴی بھی اورنام﴾ رکھا ہے تو اب یہ اسکی ذمہ داری بنتی ہے کے وہ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیےٴ کوٴی راستہ ڈھونڈے۔//

 

محمد عبداللہ :
اللہ نام نہیں ، صفت ہے اُس اصولِ واحد کی جسے مذھب یا سائینس لے کر آگے چل رہی ہے ۔

دنیا کی ہر تخلیق ، اپنے اصولِ واحد ( سنگل پرنسپل ) کی بنیاد پر خود کار انداز میں رواں دواں ہے ۔ اِس اصولِ واحد کی ابتداء کیسے ہوئی ؟

یہ ایک معمہ ہے ، مثلاً ، سائینس کے مطابق تمام جاندار ، ایک اصول واحدسے تخلیق ہوئے ۔ لیکن اگر ہم اِس وقت موجود تخلیقات ، میں دوسری تخلیق کے ذرات تلاش کریں ، تو ہمیں اُن کا ملنا ممکن نہیں ۔ جیسے درندوں ، چرندوں یا پرندوں کے اصولِ واحد کی بنیاد ایک نہیں ۔
اسی طرح نباتات ، حشرات الارض اور حشرات البحر ، کے اصول واحد بھی اپنی بنیادی لڑی کو سپورٹ نہیں کرتے ۔
سائینس یہ بتانے میں اب تک قاصر ہے ، کہ کائی سے ابتداء کرنے والی تخلیق ، اپنے سفر میں تبدیل کیوں ہوئی ؟ بہت سارے مفروضات ہیں ۔
اُن میں ایک مذھبی مفروضہ بھی ہے جو صرف اور صرف انسانوں سے متعلق ہے ۔

٭- گویا تمام جاندار تخلیقات (بشمول انسان) کا سائنسی مفروضہ ۔

٭- اور درندوں ، چرندوں، پرندوں ، نباتات ، حشرات الارض ، حشرات البحر اور انسانوں کی تخلیق کے مختلف اور الگ الگ مفروضات ۔

مجھے نہیں معلوم ، کہ محمد بن عبداللہ (موسوم محمد رسول اللہ) ، انسانی تعلیم کے کس درجے پر تھے ؟

لیکن اُن سے منسوب ، الحمد سے لے کر والناس تک صرف عربی میں تحریر ، میں سائنسی مفروضات کو، مسلمانوں کے لئے ، اطیعو الرسول کا درجہ دیا اور محمد بن عبداللہ نے اِسے اطیعو اللہ سے منسوب کیا ۔ کیوں کہ " الحمد سے لے کر والناس تک " کے عربی الفاظ انہی کی زبان سے ادا ہوئے اور اب تک وہی الفاظ ہیں ۔

ھاں تراجم میں ، اُن کے الفاظ کو لوگوں نے اپنی اپنی زبان دے کر ، زبان و ادب کے اکھاڑے میں پھینک دیا ۔

محمد عبداللہ جی:
آیئے اِس اکھاڑے میں کوڈی کوڈی کھیلتے ہیں ۔ لیکن ایک شرط ہے ۔
انتخاب : کتاب من اللہ ہے ہو گا ۔
یا
کتب من دون اللہ سے
۔
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔