Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 28 ستمبر، 2016

میری ماں !

ہمیں اماں جی اس وقت زہر لگتیں  جب وہ سردیوں میں زبردستی ہمارا سر دھوتیں-
لکس ، کیپری ، ریکسونا کس نے دیکھے تھے ..... کھجور مارکہ صابن سے کپڑے بھی دھلتے تھے اور سر بھی- آنکھوں میں صابن کانٹے کی طرع چبھتا ... اور کان اماں کی ڈانٹ سے لال ہو جاتے !!!
ہماری ذرا سی شرارت  پر اماں آگ بگولہ ہو جاتیں... اور کپڑے دھونے والا ڈنڈا اٹھا لیتیں جسے ہم "ڈمنی" کہتے تھے ... لیکن مارا کبھی نہیں- کبھی عین وقت پر دادی جان نے بچا لیا ... کبھی بابا نے اور کبھی ہم ہی بھاگ لئے  ...
گاؤں کی رونقوں سے دور عین فصلوں کے بیچ ہمارا ڈیرہ تھا - ڈیرے سے پگڈنڈی پکڑ کر گاؤں جانا اماں کا سب سے بڑا شاپنگ ٹؤر ہوا کرتاتھا ... اور اس ٹؤر سے محروم رہ جانا ہماری سب سے بڑی بدنصیبی !!
اگر کبھی اماں اکیلے گاؤں چلی جاتیں تو واپسی پر ہمیں مرنڈے سے بہلانے کی کوشش کرتیں .... ہم پہلے تو ننھے ہاتھوں سے اماں جی کو مارتے .... ان کا دوپٹا کھینچتے ... پھر ان کی گود میں سر رکھ کر منہ پھاڑ پھاڑ کر روتے-
کبھی اماں گاؤں ساتھ لے جاتیں تو ہم اچھلتے کودتے خوشی خوشی ان کے پیچھے پیچھے بھاگتے ..... شام گئے جب گاؤں سے واپسی ہوتی تو ہم بہت روتے.....ہمیں گاؤں اچھا لگتا تھا
" ماں ہم گاؤں میں کب رہیں گے "
میرے سوال پر اماں وہی گھسا پٹا جواب دیتیں ....
" جب تو بڑا ہوگا ...
نوکری کرے گا ...
بہت سے پیسے آئیں گے ...
تیری شادی ہوگی ... وغیرہ وغیرہ ...
یوں ہم ماں بیٹا باتیں کرتے کرتے تاریک ڈیرے پر آن پہنچتے  -
 مجھے یاد ہے گاؤں میں بابا مظفر کے ہاں شادی کا جشن تھا- وہاں جلنے بجھنے والی بتیاں بھی لگی تھیں اور پٹاخے بھی پھوٹ رہے تھے- میں نے ماں کی بہت منّت کی کہ رات ادھر ہی ٹھہر جائیں لیکن وہ نہیں مانی- جب میں ماں جی کے پیچھے روتا روتا گاؤں سے واپس آرہا تھا تو نیت میں فتور آگیا اور چپکے سے واپس گاؤں لوٹ گیا.....
شام کا وقت تھا ....
ماں کو بہت دیر بعد میری گمشدگی کا اندازہ ہوا- وہ پاگلوں کی طرع رات کے اندھیرے میں کھیتوں کھلیانوں میں آوازیں لگاتی پھری - اور ڈیرے سے لیکر گاؤں تک ہر کنویں میں لالٹین لٹکا کر جھانکتی رہی -
رات گئے جب میں  شادی والے گھر سے بازیاب ہوا تو وہ شیرنی کی طرع مجھ  پر حملہ آور ہوئیں- اس رات اگر گاؤں کی عورتیں مجھے نہ بچاتیں تو اماں مجھے مار ہی ڈالتی-
ایک بار ابو جی اپنے پیر صاحب کو ملنے سرگودھا گئے ہوئے تھے- میں اس وقت چھ سات سال کا تھا- مجھے شدید بخار ہو گیا- اماں جی نے مجھے لوئ میں لپیٹ کر کندھے پر اٹھایا اور کھیتوں کھلیانوں سے گزرتی تین کلو میٹر دور گاؤں کے اڈے پر ڈاکٹر کو دکھانے لے گئیں- واپسی پر ایک کھالے کو پھلانگتے ہوئے وہ کھلیان میں گر گئیں ...
لیکن مجھے بچا لیا ...
انہیں شاید گھٹنے پر چوٹ آئی ...
ان کے مونہہ سے میرے لئے حسبی اللہ نکلا ...
اور اپنے سسرال کےلئے کچھ ناروا الفاظ ...
یہ واقعہ میری زندگی کی سب سے پرانی یاداشتوں میں سے ایک ہے ....
یقیناً وہ بڑی ہمت والی خاتون تھیں-اور آخری سانس تک محنت مشقت کی چکی پیستی رہیں ...
پھر جانے کب میں بڑا ہوگیا اور اماں سے بہت دور چلا گیا...
سال بھر بعد جب گھر آتا.....
تو ماں گلے لگا کر خوب روتی لیکن میں سب کے سامنے ھنستا رہتا- پھر رات کو جب سب سو جاتے تو چپکے سے ماں کے ساتھ جاکر لیٹ جاتا اور اس کی چادر میں منہ چھپا کر خوب روتا-
ماں کھیت میں چارہ کاٹتی اور بہت بھاری پنڈ سر پر اٹھا کر ٹوکے کے سامنے آن پھینکتی- کبھی کبھی خود ہی ٹوکے میں چارہ ڈالتی اور خود ہی ٹوکہ چلاتی - جب میں گھر ہوتا تو مقدور بھر ان کا ہاتھ بٹاتا- جب میں ٹوکہ چلاتے چلاتے تھک جاتا تو وہ سرگوشی میں پوچھتیں ...
" بات کروں تمہاری فلاں گھر میں ....؟؟ "
وہ جانتی تھی کہ میں پیداٰئشی عاشق ہوں اور ایسی باتوں سے میری بیٹری فل چارج ہو جاتی ہے-
پھر ہم نے گاؤں میں گھر بنا لیا ...
اور ماں نے اپنی پسند سے میری شادی کر دی-
میں فیملی لے کر شہر چلا آیا اور ماں نے گاؤں میں اپنی الگ دنیا بسا لی-
وہ میرے پہلے بیٹے کی پیدائش پر شہر بھی آئیں ....
میں نے انہیں سمندر کی سیر بھی کرائ...
کلفٹن کے ساحل پر چائے پیتے ہوئے انہوں نے کہا
" اس سمندر سے تو ہمارے ڈیرے کا چھپڑ  زیادہ خوبصورت لگتا ہے....
ماں بیمار ہوئ تو میں چھٹی پر ہی تھا...
انہیں کئ دن تک باسکوپان  کھلا کر سمجھتا رہا کہ معمولی پیٹ کا  درد ہے ...
جلد افاقہ ہو جائے گا ...
پھر درد بڑھا تو شہر کے بڑے ھسپتال لے گیا جہاں ڈاکٹر نے بتایا کہ جگر کا کینسر آخری اسٹیج پر ہے ......
خون کی فوری ضرورت محسوس ہوئ تو میں خود بلڈ بینک بیڈ پر جا لیٹا ....
ماں کو پتا چلا تو اس نے دکھ سے دیکھ کر اتنا کہا...
" کیوں دیا خون...خرید لاتا کہیں سے...پاگل کہیں کا "
میں بمشکل اتنا کہ سکا ....
" اماں خون کی چند بوندوں سے تو وہ قرض بھی ادا نہیں ہو سکتا ... 
جو آپ مجھے اٹھا کر گاؤں ڈاکٹر کے پاس لیکر گئیں تھیں ... اور واپسی پر کھالا پھلانگتے ہوئے گر گئ تھیں .... "
وہ کھلکھلا کر ہنسیں تو میں نے کہا
"امّاں مجھے معاف کر دینا ... میں تیری خدمت نہ کر سکا "
میرا خیال ہے کہ میں نے شاید ہی اپنی ماں کی خدمت کی ہو گی ...
وقت ہی نہیں ملا ...
لیکن وہ بہت فراغ دل تھیں ....
بستر مرگ پر جب بار بار میں اپنی کوتاہیوں کی ان سے معافی طلب کر رہا تھا تو کہنے لگیں
" میں راضی ہوں بیٹا ... کاہے کو بار بار معافی مانگتا ہے !!! "
ماں نے میرے سامنے دم توڑا ....
لیکن میں رویا نہیں ...
دوسرے دن سر بھاری ہونے لگا تو قبرستان چلا گیا اور قبر پر بیٹھ کر منہ پھاڑ کر رویا-
مائے نی میں کنوں آکھاں
درد وچھوڑے دا حال نی
ماں سے بچھڑے مدت ہوگئ...
اب تو یقین بھی نہیں آتا کہ ماں کبھی اس دنیا میں تھی بھی کہ نہیں....!!!!
آج بیت اللّہ کا طواف کرتے ہوئے پٹھانوں اور سوڈانیوں کے ہاتھوں فٹ بال بنتا بنتا  جانے کیسے دیوار کعبہ سے جا ٹکرایا...
یوں لگا جیسے مدتوں بعد پھر ایک بار ماں کی گود میں پہنچ گیا ہوں ....
وہی سکون جو ماں کی گود میں آتا تھا ...
وہی اپنائیت ...
وہی محبت ...
جس میں خوف کا عنصر بھی شامل تھا .... 
اس بار منہ پھاڑ کر نہیں ....
دھاڑیں مار مار کر رویا !!!!
ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنیوالا رب کعبہ .....
اور ہم سدا کے شرارتی بچے !!!!

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 
ماں کی محبت سے متعلق ایئر وائس مارشل ریٹائرڈ ملک خداداد خان صاحب کی فرستادہ دل کو چھو لینے والی اور اردو ادب کی ایک شاھکار تحریر  ـ

شہروں کے نام کیسے پڑے؟

. اپنے وطن سے محبت ہو تو اس کے شہروں سے محبت ہونا فطری بات ہے۔ پاکستان کے سارے شہر ہمارے لیے اتنے ہی پیارے اور محترم ہیں جتنا کہ ہمیں اپنا شہر۔ شہروں کے نام اُن کے آباد کرنے والوں کے نام پر رکھے جاتے ہیں ، یا کوئی ایسی ہستی جس کی جگہ (ڈیرہ ) عوام میں اُس کی کسی خدمت کے باعث مشہور ہو گئی ہو ۔ ان شہروں کے نام کیسے رکھے گئے۔ اس حوالے سے ایک معلوماتی مضمون پیشِ خدمت ہے۔

اسلام آباد
ں مرکزی دارالحکومت کا علاقہ قرار پایا۔ اس کا نام مسلمانانِ پاکستان کے مذہب اسلام کے نام پر اسلام آباد رکھا گیا۔

راولپنڈی
یہ شہر راول قوم کا گھر تھا۔ چودھری جھنڈے خان راول نے پندرہویں صدی میں باقاعدہ اس کی بنیاد رکھی۔

کراچی 
تقریباً ۲۲۰ سال پہلے یہ ماہی گیروں کی بستی تھی۔ کلاچو نامی بلوچ کے نام پر اِس کا نام کلاچی پڑ گیا۔ پھر آہستہ آہستہ کراچی بن گیا۔ ۱۹۲۵ء میں اسے شہر کی حیثیت دی گئی۔ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۹ء تک یہ پاکستان کا دارالحکومت رہا۔

حیدرآباد
اس کا پرانا نام نیرون کوٹ تھا۔ کلہوڑوں نے اسے حضرت علیؓ کے نام سے منسوب کرکے اس کا نام حیدرآباد رکھ دیا۔ اس کی بنیاد غلام کلہوڑا نے ۱۷۶۸ء میں رکھی۔ ۱۸۴۳ء میں انگریزوں نے شہر پر قبضہ کرلیا۔ اسے ۱۹۳۵ء میں ضلع کا درجہ ملا۔

پشاور
پیشہ ور لوگوں کی نسبت سے اس کا نام پشاور پڑ گیا۔ ایک اور روایت کے مطابق محمود غزنوی نے اسے یہ نام دیا۔

کوئٹہ
لفظ کوئٹہ، کواٹا سے بنا ہے۔ جس کے معنی قلعے کے ہیں۔ بگڑتے بگڑتے یہ کواٹا سے کوئٹہ بن گیا۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ
اس شہر کا نام ایک سکھ "ٹیکو سنگھ" کے نام پہ ہے "ٹوبہ" تالاب کو کہتے ہیں یہ درویش صفت سکھ ٹیکو سنگھ شہر کے ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک درخت کے نیچے بیٹھا رہتا تھا اور ٹوبہ یعنی تالاب سے پانی بھر کر اپنے پاس رکھتا تھا اور اسٹیشن آنے والے مسافروں کو پانی پلایا کرتا تھا  سعادت حسن منٹو کا شہرہ آفاق افسانہ "ٹوبہ ٹیک سنگھ" بھی اسی شہر سے منسوب ہے

سرگودھا
یہ سر اور گودھا سے مل کر بنا ہے۔ ہندی میں سر، تالاب کو کہتے ہیں، گودھا ایک فقیر کا نام تھا جو تالاب کے کنارے رہتا تھا۔ اسی لیے اس کا نام گودھے والا سر بن گیا۔ بعد میں سرگودھا کہلایا۔ ۱۹۰۳ء میں باقاعدہ آباد ہوا۔

بہاولپور

نواب بہاول خان کا آباد کردہ شہر جو انہی کے نام پر بہاولپور کہلایا۔ مدت تک یہ ریاست بہاولپور کا صدر مقام رہا۔ پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والی یہ پہلی رہاست تھی۔ ون یونٹ کے قیام تک یہاں عباسی خاندان کی حکومت تھی۔

ملتان
کہا جاتا ہے کہ اس شہر کی تاریخ ۴ ہزار سال قدیم ہے۔ البیرونی کے مطابق اسے ہزاروں سال پہلے آخری کرت سگیا کے زمانے میں آباد کیا گیا۔ اس کا ابتدائی نام ’’کیساپور‘‘ بتایا جاتا ہے۔

فیصل آباد
اسے ایک انگریز سر جیمزلائل (گورنرپنجاب) نے آباد کیا۔ اُس کے نام پر اس شہر کا نام لائل پور تھا۔ بعدازاں عظیم سعودی فرماں روا شاہ فیصل شہید کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔

رحیم یار خاں
بہاولپور کے عباسیہ خاندان کے ایک فرد نواب رحیم یار خاں عباسی کے نام پر یہ شہر آباد کیا گیا۔

عبدالحکیم
جنوبی پنجاب کی ایک روحانی بزرگ ہستی کے نام پر یہ قصبہ آباد ہوا۔ جن کا مزار اسی قصبے میں ہے۔

ساہیوال
یہ شہر ساہی قوم کا مسکن تھا۔ اسی لیے ساہی وال کہلایا۔ انگریز دور میں پنجاب کے انگریز گورنر منٹگمری کے نام پر ’’منٹگمری‘‘ کہلایا۔ نومبر ۱۹۶۶ء صدر ایوب خاں نے عوام کے مطالبے پر اس شہر کا پرانا نام یعنی ساہیوال بحال کردیا ۔

سیالکوٹ
۲ ہزار قبل مسیح میں راجہ سلکوٹ نے اس شہر کی بنیاد رکھی۔ برطانوی عہد میں اس کا نام سیالکوٹ رکھا گیا۔

گوجرانوالہ
ایک جاٹ سانہی خاں نے اسے ۱۳۶۵ء میں آباد کیا اور اس کا نام ’’خان پور‘‘ رکھا۔ بعدازاں امرتسر سے آ کر یہاں آباد ہونے والے گوجروں نے اس کا نام بدل کر "گوجراں والا" رکھ دیا۔

شیخوپورہ
مغل حکمران نورالدین سلیم جہانگیر کے حوالے سے آباد کیا جانے والا شہر۔ اکبر اپنے چہیتے بیٹے کو پیار سے ’’شیخو‘‘ کہہ کر پکارتا تھا اور اسی کے نام سے شیخوپورہ کہلایا۔

     *ہڑپہ*
یہ دنیا کے قدیم ترین شہر کا اعزاز رکھنے والا شہر ہے۔ ہڑپہ، ساہیوال سے ۱۲ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ موہنجوداڑو کا ہم عصر شہر ہے۔ جو ۵ ہزار سال قبل اچانک ختم ہوگیا۔رگِ وید کے قدیم منتروں میں اس کا نام ’’ہری روپا‘‘ لکھا گیا ہے۔ زمانے کے چال نے ’’ہری روپا‘‘ کو ہڑپہ بنا دیا۔

ٹیکسلا
گندھارا تہذیب کا مرکز۔ اس کا شمار بھی دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ راولپنڈی سے ۲۲ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ ۳۲۶ قبل مسیح میں یہاں سکندرِاعظم کا قبضہ ہوا تھا۔

بہاول نگر
ماضی میں ریاست بہاولپور کا ایک ضلع تھا۔ نواب سر صادق محمد خاں عباسی خامس پنجم کے مورثِ اعلیٰ کے نام پر بہاول نگر نام رکھا گیا۔

مظفر گڑھ
والئی ملتان نواب مظفرخاں کا آباد کردہ شہر۔ ۱۸۸۰ء تک اس کا نام ’’خان گڑھ‘‘ رہا۔ انگریز حکومت نے اسے مظفرگڑھ کا نام دیا۔

میانوالی
ایک صوفی بزرگ میاں علی کے نام سے موسوم شہر ’’میانوالی‘‘ سولہویں صدی میں آباد کیا گیا تھا۔

ڈیرہ غازی خان
پاکستان کا یہ شہر اس حوالے سے خصوصیت کا حامل ہے کہ اس کی سرحدیں چاروں صوبوں سے ملتی ہیں۔

جھنگ
یہ شہر کبھی چند جھونپڑیوں پر مشتمل تھا۔ اس شہر کی ابتدا صدیوں پہلے راجا سرجا سیال نے رکھی تھی اور یوں یہ علاقہ ’’جھگی سیال‘‘ کہلایا۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جھنگ سیال بن گیا اور پھر صرف جھنگ رہ گیا۔

بشکریہ : کرنل سردار محمد مشتاق 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منگل، 27 ستمبر، 2016

دس روپے کا خط

دس روپے کا نوٹ تو کیا ایک روپے کا نوٹ ، ہماری جوانی میں نہایت اہمیت رکھتا تھا ، اُس پر کسی کو پیغام بھجوانے کے بجائے ، آٹھ آنے مزید ملا کر فلم دیکھنا زیادہ پسند کرتے تھے مگر اب دس روپے نے تو " انت " مچائی ہوئی ہے ، نوجوان بے دریغ اسے کبوتر کی جگہ استعمال کرتے ہیں 


بُرا ہو اِس حکومت کا جس نے یہاں بھی پر کترنے کے لئے ، قینچیاں دیوار پر لگا دی ہیں ۔









جمعرات، 22 ستمبر، 2016

سانپ چھتری

آج صبح تقریباً پونے چھ بجے گالف شروع کی سبزگھاس پر پڑی شبنم یا سردیوں کی اوس ، ہلکی ہلکی چلتی ہوئی بادِ سحر کالطف اُٹھاتے ہوئے جب ساتویں ھول پر دوسری شاٹ لگا کر چلا تو " فیئر وے" کے درمیان یہ ننھا سا پودا نظر آیا ، 

" سانپ چھتری " ذہن کے کسی عمیق گوشے سے یہ نام چھلانگ مار کر سامنے آگیا،
1958 کا زمانہ تھا ، ایبٹ آباد کی وسیع چراگاہوں میں ، یہ بے شمار اُگی ہوئی ہوتی تھیں ۔ کچھ ابھی کِھلنے کے انتظار میں اور کافی پوری کھلی ہوئی ، ہم اِس کے گودے بھرے ننھے سے تنے کو دو انگلیوں میں پکڑتے اور اکھیڑ لیتے ، الٹا کرکے دیکھنے پر یہ بالکل چھتری کی طرح لگتی عموماً اِس کا چھاتا ، انچ قطر کا ہوتا ۔ لیکن جو جانوروں کی کھاد پر اُگتیں وہ بلا شبہ دو سے تین انچ قطر کی ہوتیں اور ہماری نظر میں وہ سب سے زیادہ خطرناک ہوتیں ، کیوں ؟
ہم بچوں میں مشہور تھا کہ رات کو بارش سے بچنے کے لئے  سانپ اِس نے نیچے سوتا تھا یوں یہ سب سانپ چھتریاں کہلاتیں ۔
جب میں نے اِسے دیکھا ، تو یک دم موبائل جیب سے نکال کر اِس
" سانپ چھتری " (Panaeolus Foenisecii) کی تصویر محفوظ کر لی ۔ تاکہ آپ لوگوں کو بھی دکھا سکوں !

اتوار، 18 ستمبر، 2016

پانچواں کبوتر

                         پانچواں کبوتر........
ماسٹر حسن اختر صاحب بچے کو بڑی جان مار کے حساب سکھا رھے تھے. وہ ریاضی کے ٹیچر تھے. اُنھوں نے زبیر کو اچھی طرح سمجھایا کہ دو جمع دو چار ہوتے ہیں-مثال دیتے ہوئے انھوں نے اسے سمجھایا کہ یوں سمجھو کہ میں نے پہلے تمھیں دو کبوتر دئے. ..پھر دو کبوتر دئے...تو تمھارے پاس کل کتنے کبوتر ہو گئے.....زبیر نے اپنے ماتھے پہ آئے ہوئے silky بالوں کو ایک ادا سے پیچھے کرتے ہوئے جواب دیاکہ ماسٹر جی "پانچ"
ماسٹر صاحب نے اسے دو پنسلیں دیں اور پوچھا کہ یہ کتنی ھوئیں...زبیر نے جواب دیا کہ دو.  . پھر دو پنسلیں پکڑا کر پوچھا کہ اب کتنی ہوئیں..."چار" زبیر نے جواب دیا. ماسٹر صاحب نے ایک لمبی سانس لی جو اُن کے اطمینان اور سکون کی کی علامت تھی.....
پھر دوبارہ پوچھا...اچھا اب بتاؤ کہ فرض کرو کہ میں نے پہلے تمھیں دو کبوتر دئیے پھر دو کبوتر دیئے تو کُل کتنے ہو گئے...."پانچ" زبیر نے فورًا جواب دیا.
ماسٹر صاحب جو سوال کرنے کے بعد کرسی سیدھی کر کے بیٹھنے کی کوشش کر رہے تھے اس زور سے بدکے کہ کرسی سمیت گرتے گرتے بچے......اؤےخبیث‘‘‘پنسلیں دو اور دو "4" ہوتی ھیں تو کبوتر دو اور دو "5" کیوں ہوتے ہیں
اُنھوں نے رونے والی آواز میں پوچھا...
"ماسٹر جی ایک کبوتر میرے پاس پہلے سے ہی ہے" زبیر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
ھم مسلمان تو ہو گئے مگر کچھ کبوتر ھم اپنے آباؤ اجداد سے لےآئے ہیں اور کچھ معاشرے سے لے لئے ہیں.
اسی لئے جب قرآن کی بات سنتے ہیں تو سبحان اللّہ بھی کہتے ہیں....جب حدیث نبوی سنتے ہیں تو انگوٹھے بھی چومتے ہیں مگر جب عمل کی باری آتی ہے تو باپ دادا اور معاشرے والا کبوتر نکال لیتے ہیں. .
شادی بیاہ کی رسمیں دیکھ لیں. ہندو'سکھ اور مسلمان کی شادی میں فرق صرف پھیروں اور ایجاب و قبول کا ہے. باقی ہندو دولہے کی ماں بہن ناچتی ہے تو مسلمان کی شادی پہ بھی منڈے کی ماں بہن نہ ناچے تو شادی نہیں سجتی
وراثت میں ہندو قانون لاگو ہے...بیٹی کا کوئی حصہ نہیں. جہیز ہندو رسم ہے کہ بیٹی کو جائیداد میں حصہ تو دینا نہیں لہدْا جہیز کے نام پر مال بٹورو اور یہی کام آ ج کا مسلمان کر رہا ہے
مختلف استھانوں سے مانگنا ہندو دھرم ہے تو ھمارے ہاں بھی درباروں پر "ون ونڈو" سروس ہے کہ جو بھی ملتا ہے اسی ایک کھڑکی سے ملتا ہے
جنتر منتر‘مؤکلوں کی دنیا‘تعویز گنڈے‘ہاتھ کی لکیریں اور قسمت کا حال یہ سب "پانچواں کبوتر " ہے جو اسلام سے پہلے ہی ہمارے پاس ہے. ہم نے کلمے کی "لا" کے ساتھ اس کبوتر کو اڑا کر پنجرہ خالی نہیں کیا. نتیجہ آج یہ ہے کہ اللّہ رب العزت کے ساتھ ساتھ سارے دیگر "فرینچا ئزڈ دیوتا" مسلمان ناموں کے ساتھ اللّہ کے شریک بنے بیٹھے ہیں

"شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں مری بات"

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔