Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 18 اکتوبر، 2021

بچے کی اندرونی دنیا کی پہچان۔3

ایک بچے کی اندرونی دنیا کی پہچان ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تو اُفق کے پار رہنے والے میرے پیارے دوستو !

آپ یقیناً مسکرا رہے ہو گے یا قہقہہ لگا کر ہنسے ہوگے ، کہ بوڑھا ہمیں اب  ایک بچے کی اندرونی دنیا کی پہچان کروا رہا ہے ۔ شاید یہ بوڑھا بھی بچہ بنتا جارہا ہے ۔ چلیں یوں ہی سمجھ لیں ۔ 

٭- میں کون ہوں ؟  

یہ ایک جملہ جو ہر بچے کے ذہن میں سوال بن کر ابھرتا ہے ۔اِس کا جواب بھی وہ خود ہی دیتا ہے ۔

 میں ذہین ہوں اور میں محنتی ہوں ،لہذا  ،میں سب سے بہتر ہوں ۔ کیوں کہ میری ماں یہی کہتی ہے ۔

٭۔ کیا میں خود کو پہچانتا ہوں ؟

جی کیوں نہیں ؟   میں تیز دوڑتا ہوں ۔ میں بغیر گرے  چھلانگیں لگا سکتا ہوں ۔میرا مضبوط جسم ہے ، میری آواز  مٹھاس بھری ہے ۔میرے خوبصورت اور چمکدار بال ہیں ۔ خوبصورت ناک و نقش ہیں  ۔ تیز آنکھیں اور ہر آواز سننے والے کان ہیں ۔بہترین یاداشت رکھنے والا دماغ ہے ۔

میں تمام  بچوں سے  اعلیٰ تخلیق ہوں ۔ میں ہر وہ کام کر سکتا ہوں جو دوسرا بچہ کر سکتا ہے  ۔

 واہ اعلیٰ ، نہایت خوب ! کیا خوب جواب ہے ۔

میں ہر وہ کام کر سکتا ہوں جو دوسرا بچہ کر سکتا ہے  ۔

 جسم نہیں بلکہ ذہن کا استعمال ایک بچے کو باقی تمام بچوں سے ممتاز کرتا ہے ۔ 

کیوں کہ دماغ  (تحت الشعور) میں پانچوں حواس سے جمع ہونے والی تمام    معلومات میں سے  کام کی معلومات   سوچ کی کشتی پر بیٹھ کر    ذہن (شعور) میں اتر کر    فہم و فکر ، عقل و دانش ،شعور و تدبّر! کی  اندرونی چکیوں سے گذر کر  بامعنی  اور دیرپا تبدیلیاں بن کر باہر نکلتی ہے ۔ 

 ذہن کا ماسٹر کنٹرولر  آپ کا دماغ ہے ۔ اور اُفق کر پار بسنے والے پیارے دوستو ۔ دماغ اور ذہن آپس میں لازم و ملزوم ہیں ۔ کیوں کہ دماغ  آپ کے جسم  کا تاج ہے اور ذہن اُس میں جڑا ہیرا ۔ اور ہیرے کو پالش کرنا چمکانا  آپ کا کام ہے ۔

چلیں تو آئیں جسم کے تاج کو کھوجتے ہیں کہ آخر اِس میں کیا محیّرا لعقول چیزیں چھپی ہوئی ہیں   جو انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیتی ہیں ؟

تصویر میں اخروٹ کا مغز نہیں بلکہ دائیں طرف  انسانی مغز  (Brain)ہے   اور بائیں طرف اُس کی ایکسرے سے لی گئی مختلف پوزیشنز ہیں ۔  جو انسان کے مضبوط ترین ہڈیوں کے خول میں انسان کے خالق نے محفوظ کیا ہوا ہے ۔  لیکن یہ ہڈیاں لوہے یا فولاد کی نہیں کیلثیم سے بنی ہوئی ہیں جو ایکسیڈنٹ سے چٹخ کا ٹوٹ بھی سکتی ہیں ۔
دماغ کو پہنچنے والا نقصان انسانی جسم کے کسی بھی حصے کو مفلوج کر سکتا ہے ۔

بیگنی رنگ میں دماغ کے اِس حصے کو    سیرے برم  (Cerebrum) کہتے ہیں جو 85 فیصد   دماغ  کےوزن پر مشتمل ہے ۔ جس میں :

٭- شعور  (Short Term Memories)اور تحت الشعور (Long Term Memories)   بسیرا کرتے ہیں ۔ 

٭۔ انسانی پانچوں حواس سے حاصل ہونے والی معلومات ،یعنی کانوں سے پہنچنے والی آواز  ،  جسم پر محسوس ہونے والی سرسراہٹ  یا گدگدی ، ناک سے پہنچنے والی بو  ( خوش یا بد ) ، زبان کی نوک سے حلق تک محسوس ہونے والے ذائقے    کی ریکارڈنگ، بشمول آنکھوں سے  نظر آنے والی تمام تصاویر   کو محفوظ رکھتا ہے ۔ گویا  پیدائش سے لے کر موت تک کا سارا ریکارڈ اِس میں موجود ہوتا ہے ۔

٭۔انسانی سوچ  اور تمام خود سے کئے جانے والے اعمال  کو یہ کنٹرول کرتا ہے ۔ جن میں دوڑنا ۔ جوڈو کراٹے کی مشق ، جمناسٹک کے کرتب ۔ چھلانگ مارنے  کے لئے  ہاتھوں اور پاؤں کے عضلات کو حرکت دیتا ہے ۔ دماغ کو اگر اوپر سے دیکھیں تو اِس کے دو  واضح حصے نظر آتے ہیں ۔  دایاں حصہ بائیں جسم کو کنٹرول کرتا ہے اور بایاں حصہ دائیں جسم کو۔

٭۔ حساب کے سوالات کو حل کرنے  ،کسی بھی تصویر کو کاپی کرنے اور وڈیو گیم  بنانے میں مدد دیتا ہے ۔

٭- دایاں حصہ فنونِ لطیفہ(موسیقی ،آواز کا زیر و بم ،  کائینات میں بکھرے رنگ ، خوشبو ، ذائقے ، اشکال   ) اور بایاں حصہ فنونِ کثیفہ   ( حساب وکتاب ، جمع تفریق ،  تقاریر ، مشکل ترین  اکاؤنٹنگ  کی ترتیب ، کمپیوٹر پروگرامنگ ، صحیح اندازے  ) سے متعلق  کے شعبوں  سے متعلق ہوتا ہے ۔ اور اِن دونوں کے درمیان باقاعدہ پُل بنے ہوتے ہیں جن پر سے گذر کر آپ دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں حصے میں آسانی سے جاسکتے ہیں ۔

  سیرے برم  (Cerebrum) میں موجود تمام معلومات کو  یک جاء کرنے کے لئے دماغ  کے باقی 15 فیصد وزن میں شامل   دماغ کا آٹھواں حصہ    سیرے بیلم   (Cerebellum)کہلاتا ہے ۔


تمام خود سے کئے جانے والے اعمال  کو یہ حتمی اور بہترین  نتائج  سے سنوارتا ہے  ۔لیکن اِس کے لئے آپ کو لازماً   مشقوں کی ضرورت ہے کیوں کہ آپ جتنی زیادہ مشق کریں گے اُتنا ہی  آپ کے نتائج میں نکھار آئے گا ۔ خواہ یہ علمی میدان میں ہوں یا کھیل  کے میدان میں ۔

لیکن مشقوں کے لئے  شرط ،عملِ پیہم ،مسلسل   اور بہتری  کی طرف ہو تو اعلیٰ نتائج  ملتے ہیں ۔ کسلمندی یا سستی سے کی جانے والی تمام مشقیں لا حاصل ہوتی ہیں ۔
آپ کے جسم کے  مکمل تواز ن  کی ذمہ داری ،
سیرے بیلم   (Cerebellum) پر ہے ۔ چکر آنے سے آپ کا توازن عارضی طور پر ختم ہو جاتا ہے ۔اور آپ کی حرکات آپ کے کنٹرول میں نہیں رہتیں ۔ لہذا اپنی صحت کا مکمل خیال رکھیں ۔آپ کا  سنائی دینے والا سسٹم، دکھائی دینے والا سسٹم  اور آپ کے  جوڑوں  میں خرابی  ،  سیرے بیلم   (Cerebellum) کے ذریعے ،آپ  کی حرکات کے توازن کو خراب کرتے ہیں  ۔

 آپ کے دماغ میں مٹر کے سائز کا ایک غدود ہے  ۔ جسے    پیچوٹری گلینڈ    (Pituitary Glands)کہتے ہیں۔

یہ آپ کے جسم کے ہر خلیئے میں رگوں کے ذریعے خون  کے ذریعے ، آکسیجن ، توانائی  پہنچانے کے کام پر مامور ہے ، بلکہ جسم کو ضرورت کے تمام ہارمونز   بناتا ہے  اور   ضرورت کے مطابق   جسم میں شوگر اور  پانی کی مقدار کا توازن برقرار رکھتا ہے ۔اور سب سے بڑھ کر آپ کے نظامِ انہظام کو فعال رکھتا ہے تاکہ آپ کی کھائی ہوئی غذا  ، معدے میں تحلیل ہو کر اُس میں شامل تما م غذائی  قوت آپ کے خون میں مناسب مقدار میں شامل ہو کرآپ کے جسم کو توانائی، مضبوطی اور بالیدگی کی طرف لے جائے ۔ پڑھا آپ نے اِس ننھے سے مٹر کے برابر دماغ میں موجودغدود  ، پیچوٹری گلینڈ    (Pituitary Glands)   کا کام ؟ 

 ایک صحتمند جسم کے مکمل درجہ حرارت کو اِس کے خالق کے قانون کے مطابق  98.6 ڈگری فارن ھائیٹ یا  37 ڈگری سنٹی گریڈ  برقرار رہنا چاھیئے ۔ جس کے لئے اُس نے انسانی جسم میں ایک چھوٹا  ، درجہ حرارت کنٹرول کرنے کا  غدود  ( تھرموسٹیٹ) دماغ میں رکھ دیا ہے ، جسے  میڈیکل کی زُبان میں پہچان کے لئے  ھائیپو تھیلا مس  (Hypothalamus) رکھا ہے ۔

اُفق کے پاربسنے والے پیارے دوستو ، یہ آپ کے جسم کے ٹمپریچر کو   98.6 ڈگری فارن ھائیٹ یا  37 ڈگری سنٹی گریڈ   سے  بڑھنے  یا کم ہونے نہیں دیتا ۔ 

آپ ایکسرائز کریں یا دوڑیں تو  آپ کے جسم کے ہر عضو کو آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے ، تو پیچوٹری گلینڈ ، دل کو پیغام دیتا ہے کہ خون کو جلدی جلدی پمپ کرکے جسم میں دوڑاؤ کیوں کہ  ٹانگوں اور ہاتھوں کے تمام مسلز کو توانائی ، ہارمونز ، شوگر اور پانی کی ضرورت پڑنے والی ہے ۔  دل کے دھڑکنے کی رفتار آہستہ آہستہ بڑھنے لگتی ہے اور جناب جسم کا ٹمپریچر بھی بڑھنے لگتا ہے ۔   ھائیپو تھیلا مس  (Hypothalamus)  پسینہ لانے والے غدود کو حکم دیتا ہے کہ جسم کے مساموں سے خون میں  موجود پانی کو جسم پر پھیلا دو تاکہ ہوا لگنے سے جسم ٹھنڈا رہے اور گرم نہ ہونے پائے ۔ آپ کو یہ تو معلوم ہے کہ انسانی جسم میں 45 سے 65 فیصد تک ہوتی ہے ۔ اگر آپ کا وزن 60 کلو گرام ہے تو آپ کے جسم میں پانی کی مقدار کم از کم 30 کلوگرام لازمی ہوگی ۔عام درجہ حرارت میں   دوڑنے ، بھاگنے اورایکسرسائز کرنے سے آپ کے جسم سے صرف   ڈیڑھ لٹر پانی  فی گھنٹہ پسینے اور سانس نکلتا ہے ۔گرمیوں کے موسم میں یہ  3 لٹر تک پہنچ  جاتا ہے ۔ 

ارے ہاں ، بوڑھے نے تو سردی لگنے یعنی جسم کا درجہ حرارت ،    98.6 ڈگری فارن ھائیٹ یا  37 ڈگری سنٹی گریڈ   سے    کم ہونے پر ،   ھائیپو تھیلا مس  (Hypothalamus)  کا عمل کیا ہوگا  کہ  جسم واپس گرم ہوجائے ؟

اُفق کے پاربسنے والے پیارے دوستو ، بوڑھے کو رات  کو ہفتے  ایک بار  اکثر خواب آتا ہے کہ وہ سیاچین میں برف کے نیچے دبا ہے اور مدد کے لئے ہاتھ پاؤں چلا رہا ہے  اور کسی کو پکار رہا ہے ۔مجھے کمبل اوڑھاؤ ،  مجھے کمبل اوڑھاؤ ،اِس کشمکش میں آنکھ کھل جاتی ہے ، بوڑھے کی سردی سے کپکپاہٹ کو اگر کسی پیمانے پر ناپا جائے  تووہ پیمانہ بوڑھے کی تھرتھراہٹ سے ٹوٹ جائے ، بوڑھا فوراً بڑھیا کے یخ بستہ کمرے سے باہر نکلتا ہے ، لاؤنج میں آتا ہے ، ایکسرسائز کرتاہے ، لمبی لمبی سانسیں لے کر   پھیپھڑوں میں روک کر جسم کو گرم کرتا ہے ۔5 سے 10 منٹ کے بعد بوڑھا پرسکون حالت میں آتا ہے تو جب کمرے میں داخل ہوتا ہے تو بڑھیا پوچھتی ہے کہ کیا ہوا ؟
بوڑھا کہتا ہے سیاچین میں گلیشئر کے نیچے دب گیا تھا ۔
اپنا سلیپنگ بیگ کیوں سوتے میں اتار کر پھینک دیتے ہو ؟ میں آپ کی وجہ سے ایر کنڈیشنڈ 20 سے کم نہیں کرتی   پسینے آرہے ہوتے ہیں ۔ اور آپ برف میں دبنے کا بہانہ کرتے ہیں ۔ 

بوڑھا چپ چاپ گرمیوں میں ، اپنا سلیپنگ بگ لے کر دوبارہ سو جاتا ہے ۔


تو اُفق کے پاربسنے والے پیارے دوستو ،پریشان نہ ہونا ، آپ کے جسم کی قیامت خیز کپکپاہٹ یا کھال کی تھرتھراہٹ ۔   ھائیپو تھیلا مس  (Hypothalamus)  کا عمل ہے جو آپ کے جسم کے درجہ حرارت کو واپس  ،    98.6 ڈگری فارن ھائیٹ یا  37 ڈگری سنٹی گریڈ  لانے میں مدد دیتا ہے ۔ 

لہذا   کپکپاہٹ یا پسینے کا بہنا دراصل آپ کے قدرت کی طرف سے عطا کردہا ، آٹومیٹک  تھرموسٹیٹ کا کمال ہے جو آپ کے جسم کی گاڑی کو گرم یا ٹھنڈا ہونے نہیں دیتا ۔ اور صرف یہ کیا آپ کے جسم کا تاج ، آپ کے جسم کے پورے آٹومیٹک نظام کو اُس کے خالق کے بنائے گئے پروگرامنگ کے مطابق کنٹرول کرتا ہے ۔جو دماغ سے نکلنے والے  ایک موٹی  کیبل  ، جس میں  انسانی جسم کے ہر ریشے کے لئے ایک ننھی تار  موجود ہے ۔

یوں لاتعداد  ہر ریشے سے جڑی ہوئی ،   انسانی  جسم میں موجود   نہایت باریک برقی تاریں ہیں جنہیں نروس سسٹم   ()Nervous System  کہتے ہیں ۔ 

یہ نروس سسٹم  سر میں  موجود ،  سیرے برم  (Cerebrum) ، سیرے بیلم   (Cerebellum)،     پیچوٹری گلینڈ    (Pituitary Glands)اور    ھائیپو تھیلا مس  (Hypothalamus) ،کو مکمل جسم سے ملاتا ہے اور پل پل کی جسم پر گذرنے والی آپ بیتی  ،  سیرے برم  (Cerebrum) میں پانچوں حسیات  کے ذریعے  ریکارڈ  کرواتا رہتا ہے  ۔
اُفق کے پاربسنے والے پیارے دوستو ۔ انسان کو تخلیق کرنے سے پہلے انسان کے خالق نے   مکمل انسانی پلاننگ کرلی تھی ۔ انسانی دماغ کا گرے میٹر اور وھائیٹ میٹر  اِن کے اور  حرام مغز  ( سپائنل کارڈ) کے درمیان چھوٹے چھوٹے  اجسام  جو مکمل  خودکار اور اپنے اندر بہترین انتظام کے ساتھ  وسطی دماغ  کے ساتھ جس میں پونز اور میڈولاجیسے منتظم لئے ہوتی ہے۔جس کی حفاظت کا انتظام جسم کے مکمل صحتمند ہونے پر منحصر ہے ۔ جس کے منتظم آپ ہیں۔   
کائینات اور انسان کے خالق کی طرف سے ،ایک انسان میں بلٹ  اِن سافٹ وئر  یا ہیومین آپریٹنگ سسٹم  کی بدولت ،خود بخودیعنی آٹومیٹک  ہونے والے اعمال (اندرونی) اور افعال (بیرونی ) ہوتے رہتے ہیں۔انسانی ذہن ، دوسرے انسانوں  سے آنکھ ، کان اور  جلد کے ذریعے سیکھتا رہتا ہے  اور زُبان سے اِسےبہتری کی طرف لے جاتا ہے ۔ زُبان اِسے باقی تمام مخلوقات پر اشرف  بناتی ہے ۔  
اُفق کے پاربسنے والے پیارے دوستو  ،آپ ، میں اور  ہر  انسان کائینات  کا مرکز ہے۔  کیوں کہ ہماری کائینات آپ کے میرے اور ہمارے ارد گرد پھیلی ہوئی ہے۔جسے ہم اپنی پیدائش کے فوراً  بعد  اپنے  اندر کی دنیا میں  حواسِ خمسہ سے   اپنے دماغ  میں سموتے ہیں۔ لیکن اُس سے پہلے ہماری اندرونی دنیا    بیدارہونا شروع ہو جاتی ہے ۔ 
 سب سے پہلے نروس سسٹم  حرکت میں آتا ہے ۔ جس سے چھو کر محسوس کرنے   یا  دوسرے  کے چھونے  سے پیغاماتِ  محبت دماغ  میں جگہ بناتے ہیں اور  ذہن  میں  سب سے پہلے ماں  کی محبت  پیدا ہوتی ہے     اور  پھر آہستہ آہستہ  ، اپنے ذہن  میں اندرونی دنیا بیدار ہو کر  ، بیرونی دنیا سے  اُس  کی آوازوں ،   پورے رنگوں،  خوشبوؤں اور  ذائقوں    سمیت سنتے ،   دیکھتے   سونگھتے اور  چکھتے ہیں ،سنتے اور  محسوس کرتے ہیں ۔ یاد رہے کہ حواسِ خمسہ میں سے کسی ایک میں نقص اندرونی دنیا  کو بیدار ہونے سے نہیں روک سکتا  لیکن بیرونی دنیا سے رابطے  میں خلل ضرور  پیدا کرتا ہے۔  ایک پیدائشی نابینا کی اندرونی دنیا اور بیرونی دنیا میں جو کمی پیدا ہوگی وہ  باقی چار حواسِ  پوری نہیں کرسکتے ، اِسی طرح قدرتی موسیقی کا لطف  کانوں ہی سے اٹھایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ بیرونی دنیا کی  پہچان،  اندرونی دنیا  کے لئے بنائے جانے والے قدرتی  نفس میں اچھائی  اور برائی کا الہام (پہچان) کے موازنے  کے بعد عمل (اندرونی دنیا   میں سوچوں  کی کارگذاری ) بیرونی دنیا سے اندرونی دنیا میں داخل ہوتا ہے ۔جہاں  آپ کا ذہن اُسے  اپنی قدروں ، اصولوں ، میعار اور اپنے  نفع و نقصان میں جانچتا ہے  اورفعل( بیرونی دنیا  میں منتخب اعمال کی کارگذاری ) میں  دوسروں کو نظرآتاہے ۔ 
آپ کا جو فعل میں نے دیکھا، اُس پر میں نے بھی ہوبہو عمل کیا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 پچھلا مضمون :     بچہ اور بیداریءِ فکر  

 

پیر، 11 اکتوبر، 2021

بچہ اور بیداری ءِ فکر-2

تو اُفق کے پار رہنے والے میرے پیارے دوستو !

اب ہم آگے چلتے ہیں ۔

  بیداریءِ فکر کی پہلی منزل کی طرف جہاں بوڑھا ، آپ ہی کی طرح ایک ننھا  مُنّا  گوگو گاگا     یا غوں غوں اور غاں غاں تھا ، خوشی میں ہاتھ اور پیر چلاتا  تھا  ۔ جس اُسے ملنے والی تعلیم (سوائے لکھنے  او رپڑھنے کے ) باقی پانچوں حواسات سے اُس کے دماغ  کی ھارڈ ڈسک میں،ہر پلک جھپکنے پر سیکنڈوں کے حساب سے   تصویریں ، آوازیں اور کئی معلومات جمع کرتےجارہے تھے ۔ 

1-ناک میں گھسنےوالی  مہک  ۔

2۔جسم پر چھونے والے لمس ۔ 

3-سنائی دینے  والی آوازیں  ۔

4۔زبان سے حلق تک محسوس ہونے والے ہر منہ میں ڈالی جانے والی چیز کے  ذائقے ۔

5۔ آنکھوں سے دماغ میں جانے والی ،ہر پلک جھپکنے پر سیکنڈوں کے حساب سے   تصویریں ۔ 

 یہ سب نمو کے دماغ   میں لکھی جارہی تھیں اور یہ  پانچوں  بیرونی دنیا  سے ملنے والی  معلومات ،  بوڑھے کے جسم  حصوں ۔ناک ، کھال ،کان، زبان اور آنکھوں سے ، نمّو کے دماغ کی بلکل صاف تختی   (ھارڈ ڈسک )  پر تحریر    یعنی کتب ہو رہی تھیں، نمو جو اِن کا مرکز  تھا ہے اور اپنی موت تک رہے گا   اور یہ سب   معلومات سب ایک دوسرے سے منسلک تھیں  ۔

تو اُفق کے پار بسنے والے ، آج کے دن  اِس دنیا میں آنکھیں کھولنے والے  نمّو   کے پیارے دوستو ۔  

ذرا سوچیں کہ پہلا کردار تو نمّو خود ہوا اور دوسرا اہم کردار کون تھا ۔ جن کے درمیان اِن معلومات کا تبادلہ ہورہا تھا ؟
مشکل نہیں !
آئیں ایسا کرتے ہیں کہ نمّو کے ساتھ ، آپ اپنے اُس دور میں چلیں جہاں آپ کو آپ کے خالق نے نمّو ہی کی طرح آپ کو اِس دنیا میں بھیجا ۔

جاؤ بچے موج کرو !

بس یہ  سوال یاد رکھنا :   ۔ ۔ ۔ ۔ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۔ ۔ ۔ [7:172]
تمھارا جواب یہ ہی رہنا چاھئیے ۔ 
۔ ۔ ۔ ۔ بَلَى شَهِدْنَا ۔ ۔ ۔ [7:172]

 آسان لفظوں میں ۔ میرا  ربّ ۔رَبِّ الْعَالَمِينَ  ہے ۔ جو مجھے۔  رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ  ۔تک پہنچا  دے گا ۔ جس کی اہم صفات    شَاهِدًا اور مُبَشِّرًا اور نَذِيرًا  ہے  اور  وَكِيلاً و حَفِيظًا نہیں ۔ جن کا اکثر انسانوں کو علم نہیں   کہ   رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ  ۔ کا کام صرف الْبَلاَغُ الْمُبِينُ ہے ۔

 ہاں تو بوڑھا بتا رہا تھا  کہ اِس فلم کی اہم کردار ۔نمّو کی امی تھیں ۔جس سے نمّو کو اُس کی اندرونی دنیا  اور بیرونی دنیا میں    امن مل رہا تھا ۔ ہاں خوف کی لہر اُسے ضرور رُلاتی جب وہ بھوکا ہوتا یا گیلا ہوجاتا ۔ یاد آیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہوگا ۔ کیوں کہ سب اُمی بچوں کی تربیت اُن کی امی ہی کرتی ہیں ، جو ذہن کی صاف سلیٹ پر اپنی محبت کے نقش و نگار بکھیرتی ہیں ۔ کبھی ہنس کر اورکبھی  اپنے بچے کو گدگداکر ۔یہ تمام سین   بچے کے دماغ میں ریکارڈ ہورہے ہوتے ہیں ۔سوتے وقت یہ سین اُسے مسکرانے پر مجبور کر دیتے ہیں کیوں کہ اُس کا اُس وقت مکمل تعلق اُس کی اندرونی دنیا سے جڑا ہوتا ہے ۔ 

جس میں پیار اور محبت کی دنیا آباد ہوتی ہے  ۔ خوف اُسے چھو کر بھی نہیں گذرتا ۔ لیکن اُسے خوف  سے  تعارف  جلد ہی ہوجاتا ہے ۔  یہ اُس کی بھوک و پیاس اور بستر میں اُس کا گیلا رہنا نہیں ہوتا بلکہ اُس کی بیرونی  دنیا کی ایک ہستی  ہوتی ہے ۔

جس کا تعارف شائد ماں کراتی ہے ۔ مت رو ،ورنہ بابا آجائے گا ۔گویا اُس کی پر امن  زندگی میں اُس کے لئے خوف کا احساس پیدا کروادیا گیا ۔یہ خوف اُس نومولود کے امن کا قاتل ہے ۔

نمّو کو اچھی طرح یاد ہے کہ اُس سے بڑی بہن تھی او ر چھوٹا بھائی ۔ نمّو  شاید ڈھائی سال  تھا ، کھڑکی کے ساتھ رکھی ہوئی بنچ پر نمو چڑھا کہ باہر دیکھے ، کھڑکی کے ساتھ گذرنے والی سڑک پر بھیڑ بکریاں جا رہی تھیں ، نمو دلچسپی سے دیکھ رہا تھا کہ اُسے کتا نظر آیا جو بھڑبکریوں سے تین چار گنا فاصلے پر تھا ۔ وہ گھبرا کر پیچھے ہٹا اور بنچ سے فرش پر گر کر بے ہوش ہوگیا ۔معلوم نہیں بھیڑ بکریوں  سے لطف اندوز ہونے والا نمو  ، اُن ہی کی طرح ایک جانور ، کتُے سے کیوں خوفزدہ ہوا ؟
یہ خوف  کیسے اُس کے ذہن میں داخل ہوا  یا کس نے اُس کے ذہن میں بٹھایا ؟ 

جس نے اُس کی زندگی کے امن و سکون کو ،خوف میں تبدیل کر دیا  اور اُس کا پر امن سافٹ وئر تبدیل ہو گیا ۔

 یہاں تک کے جب وہ اپنی امی ،ابو ،  چچا ، بڑی بہن اور چھوٹے بھائی  کے ساتھ 1955 کی گرمیوں کی چھٹیوں(مئی ، جون  ،جولائی ) میں لاہور سے نوابشاہ پہنچا ۔تو ماموں کے  "کالو "نامی  گرانڈیل   کتُّے کی وجہ سے وہ کمرے سے باہر نہیں نکلتا ۔ لیکن ماموں زاد بہن بھائیوں کے کتُّے کے ساتھ پیار کرنے اُسے گدگدانے  اور  کھیلنے کی وجہ سے، نمو   کے ذہن سےبھی  کتے کا خوف نکل گیا ۔یہ سب مناظر اُس کے دماغ میں پانچوں حواس سے فلم کی صورت میں جمع ہورہے تھے   اور تصویر کے ساتھ منسلک ہوتے جارہے تھے ۔ اب معلوم نہیں کہ اِس دنیا میں پہلی بار اپنی موجودگی کا احساس دلوانے کے بعد نمو کے دماغ  میں  دادی کے گھر پہنچنے تک کتنے گھنٹے کی تصویریں  ریکارڈ ہو چکی ہوں گی ۔کیا اُن کو ریوائینڈ کرکے دیکھا جا سکتا ہے ؟  کیوں نہیں    بوڑھے کے فہم کے مطابق اُن کا ریموٹ کنٹرول آپ کے دماغ میں پوشیدہ ہے ، بس  آفاقی بیٹری چارج کرنے کی ضرورت ہے ۔

بلکہ جو روزانہ کے حساب سے 70 ہزار سوچوں کے جو بلبلے ذہن میں   بن رہے ہیں اُن کا کیا ہوگا؟

تو اُفق کے پار رہنے والے میرے پیارے دوستو !

 دماغ میں جو وڈیو ریکارڈ ہو رہی ہے  ۔ پانچوں حواس کی معلومات  سے بن رہی ہے اور سوچوں کے  جو بلبلےبن رہے ہیں وہ اِن حواسی معلومات  سے خود بخود بن رہے ہیں ۔

 آپ کی صبح صبح ، امی کی آواز سے یا گھڑی کے الارم سے یا کسی اور وجہ سے آنکھ کھلی ۔ اندازہً سوچوں کے کتنے بلبلے بنے ہوں گے ؟ 

علماءِ  الابدان کے مطابق  تقریباً 70ہزار سوچ کے" یعنی یا لایعنی " بلبلے  بننےاوردماغ کے کسی خانے میں محفوظ ہوگئے  ۔ وہ معلومات جو پانچوں حواس سے آپ کے دماغ میں پہنچی سوچ کا ایک بلبلہ نہیں بنائے گی ، اُس معلوم  یا نامعلوم لہر نے بلبلوں کا ڈھیر جنم دیا ہوگا۔۔

ناشتہ بننے کی خوشبو ۔منہ میں پانی آنا۔گھڑی کی طرف دیکھنا اور ، آپ کے دیر سے پہنچنے پر خجالت کا گذشتہ منظر، سرزنش ، راستے کی طوالت ۔ راستے میں ملنے والے لوگ  ، راستے سے گذرنے والے مناظر ، پرندوں ، جانوروں کی آوازیں ، پولیس کانسٹیبل کی وسل ۔سوچتے جائیں ۔ تو سوچ کے بلبلوں  کا جم غفیر  کے ذہن میں بن رہا ہوگا جو شاید پہلے سے موجود   واقعے سے لنک ہوتا جائے گا  ۔ اور آپ اُسے جھٹک دیں گے یہ کہہ کر۔ تو کیا ؟

  اور  پیارےدوستو ، رات کو آنکھیں بند کرکے نیند کی وادیوں میں کھونے سے پہلے ، کتنے بلبلے بنے ہوں گے نہیں معلوم نہ ؟؟

 بتاتا ہوں ذرا ٹہریں ابھی تو وہ بلبلے باقی ہیں  جو آپ کی بیرونی دنیا اور اندرونی دنیا  سے تعلق رکھتے ہوئے آپ کو نیند کے جھولے پر خواب کی وادیوںمیں لے جاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ آپ کی اندرونی دنیا کا  آپ کی بیرونی دنیا سے مکمل رابطہ کٹ جاتا ہے ۔  اور آپ ۔ ۔ ۔ ۔ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۔ ۔ ۔ [7:172]  کے  مقامِ  ہست (Being)کے زیرو پوائینٹ    پر پہنچ جاتے ہو ۔

 صبح  یہ رابطہ جڑے یا نہ جڑے یہ آپ کے خالق (ہستی)  کی مرضی ہے ۔ کیا سمجھے؟؟

اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ [39:42]

ہستی  (اللہ)  کیا ہے ؟

       تمام وجود حیات کی لطیف تہوں کے نیچے دائرے میں پیچیدہ  ,لیکن مطلق  ہستی ہے، جو لاوجود ہے لیکن ماورائی ہے۔  یہ نہ توانائی ہے نہ مادہ۔ یہ خالص ہستی ہے،  وجودِ خالص  ہے۔  یہ خالص ہستی، تمام وجود کے نیچے پنہاں ہے۔  تمام اشیاء اس خالص وجود کااظہار ہے، جو تمام حیات کا اہم جزو ہے۔ ایک ابدی، لاوجود، مطلق ہستی،جو ہر تخلیق میں اپنے وجود کا اظہار کر رہی ہے۔

ہستی ہر جاہ موجود  (Omani-presence)اور  ”ہستی“ہر تخلیق کی حتمی حقیقت ہے اورتخلیق کی تمام پرتوں میں موجودہے۔یہ الفاظ، شامعہ (Smell) ، ذائقہ(Taste) ، لمسہ (Touch) ، تجربہ، حسِ اندازہ،  عمل اعضاء ، تمام مظاہر ِعامل اور افعال نیز تمام سمت میں خو ش قسمتی سے موجود ہوتی ہے۔  یہ انسان کے سامنے، پشت پر، اس کے دائیں و بائیں، اوپر اور نیچے، یہاں تک کہ اس کے اندر موجود ہوتی ہے۔ ہر جگہ اور ہرحالت میں ”ہستی“ تخلیق کا اہم جزو ہے اور اس میں داخل ہے،  خدا کی ہر جاہ موجودگی ان کے لئے ہے جو اسے سمجھتے ہیں، محسو س کرتے ہیں اور اسے اپنی زندگیوں میں زندہ رکھتے ہیں۔

ہستی کی پہچان اصل میں بیداریءِ فکر کا پہلا اور بنیادی جُزو ہے یہ اُس پیچیدہ اور طویل دھاگے کا سرا ہے ، جس کا کہیں راستے میں   آپ کی حیات کا خاتمہ اور ہستی سے  ارتکاز کے تعلق کی بتداء  ہے ۔ 

اِس سے پہلے اپنی اندورنی دنیا کی  پہچان !!

اگلا مضمون : اندرونی دنیا کی پہچان

٭٭٭٭مزیدمضامین  پڑھنے کے لئے  فہرست پر واپس  جائیں ۔ شکریہ ٭٭٭٭

 پچھلا مضمون :   انسان۔ بچہ اور بیداریءِ فکر

 


اتوار، 3 اکتوبر، 2021

توشہ خانہ کے سراغرساں ۔ صحافی رانا ابرار خالد

   اٹھائیس ستمبر 2021کو دن دس بجے اسلام آباد کے نواحی علاقے کے ایک مکان میں تین خواتین داخل ہوتی ہیں اور ’ڈینگی سروے‘ کا کہہ کر معمر خاتون خانہ سے ان کے صحافی بیٹے سے متعلق سوالات کرتی ہیں۔ 

گفتگو کی آواز سے مکان کے ایک کمرے میں سوئے صحافی کی آنکھ کھل جاتی ہے اور وہ اجنبی خواتین سے آنے کا مقصد دریافت کرتے ہوئے ان کی شناخت کا ثبوت طلب کرتے ہیں، جس پر وہ خواتین رخصت ہو جاتی ہیں۔

 ’ڈینگی سروے سے منسلک‘ خواتین جس مکان میں آتی ہیں، وہ اسلام آباد کے سینیئر صحافی رانا ابرار خالد کا ہے، جنہوں نے معلومات تک رسائی کے حق کے قانون (Right of Access to Information Act, 2017) کے تحت وزیراعظم عمران خان کو غیر ملکی شخصیات کی جانب سے ملنے والے تحائف کی تفصیلات طلب کر رکھی ہیں۔

 کارکن صحافیوں کی نمائندہ تنظیموں نے رانا ابرار کے گھر ڈینگی سروے کے بہانے آنے والی خواتین کی آمد کے واقعے کو صحافی کو ہراساں کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے) نے سینیئر صحافی کو مبینہ طور پر خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے ہراساں کرنے کی مذمت کرتے ہوئے ایسے ہتھکنڈوں کو ناپسندیدہ اور غیر ضروری گردانا، اور ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف انکوائری کا مطالبہ کیا۔

 رانا ابرار نے ا بتایا کہ اجنبی خواتین نے اپنا تعارف اسلام آباد کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) سے منسلک ڈینگی سروے ٹیم کی حیثیت سے کروایا، تاہم وہ اپنی شناخت کا کوئی ثبوت پیش نہ کرسکیں۔

 بقول رانا ابرار: ’وہ میری والدہ سے عجیب قسم کے سوالات پوچھ رہی تھیں، جو میرے روزانہ کے معمولات اور سیاسی وابستگی سے متعلق تھے، جن کا کسی بھی طرح ڈینگی سروے سے تعلق نہیں تھا۔‘ 

دوسری جانب این آئی ایچ کے ایک سینیئر ڈائریکٹر نے رابطہ کرنے پر  بتایا کہ ان کے ادارے کی طرف سے کوئی ڈینگی سروے نہیں کروایا جا رہا اور نہ ہی صحافی کے گھر کسی ٹیم کو بھیجا گیا ہے۔  

رانا ابرار خالد نے گذشتہ سال نومبر میں سیکریٹری کیبنٹ ڈویژن سے ایک درخواست کے ذریعے توشہ خانہ میں موجود وزیراعظم عمران خان کو 18 اگست 2018 سے 13 اکتوبر 2020 کے دوران غیر ملکی شخصیات کی جانب سے ملنے والے تحائف کی تعداد، ان کی تفصیلات و تصریحات، وزیراعظم نے جو تحائف اپنے پاس رکھے ان کی تعداد و تفصیلات بمعہ ماڈل نمبر وغیرہ اور قیمت (مارکیٹ ویلیو)، وزیراعظم نے ان تحائف کے بدلے کتنی رقم قومی خزانے میں جمع کروائی اور جس بینک اکاؤنٹ اور بینک میں یہ رقم جمع کروائی گئی، ان کی تفصیلات طلب کی تھیں۔ حکومتی اہلکاروں کو غیر ملکی شخصیات کی طرف سے ملنے والے تحائف توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں اور حکومتی اہلکار ایک مخصوص رقم ادائیگی کرکے ان میں سے کوئی تحفہ اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔ 

تاہم وفاقی سیکریٹری کیبنٹ ڈویژن نے رانا خالد کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سوالات کے جواب دینے سے انکار کر دیا تھا۔

  اس سلسلے میں وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ 1992 میں توشہ خانہ سے متعلق بنائے گئے قواعد و ضوابط کے تحت حکومت یہ معلومات فراہم کرنے کی پابند نہیں ہے۔

  چوہدری فواد حسین کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو غیر ملکی سربراہان مملکت و حکومت اور دوسری اہم شخصیات کی طرف سے ملنے والے تحائف کی تفصیلات ظاہر کرنے سے دو طرفہ تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض غیر ملکی شخصیات بھی نہیں چاہتیں کہ وزیراعظم کو دیے گئے تحائف کی تفصیلات منظرعام پر آئیں، کیونکہ اس سے افواہیں پھیل سکتی ہیں، جس سے غیر ضروری پیچیدگیاں پیدا ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف حکومت نے توشہ خانہ سے متعلق قواعد و ضوابط کو مزید سخت بنایا ہے اور اب کوئی تحفہ حاصل کرنے کے لیے اس کی قیمت کا 50 فیصد حکومتی خزانے میں ادا کرنا لازمی ہے۔

 رانا ابرار کے مطابق انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو تحفہ دینے والی کسی غیرملکی شخصیت کا نام طلب نہیں کیا بلکہ صرف تحائف کی تفصیلات کے لیے درخواست جمع کروائی ہے، معلومات نہ دینے سے افواہیں پھیلنے کا زیادہ امکان رہتا ہے نہ کہ معلومات کو عوام تک پہنچانے سے۔ 

وفاقی حکومت کی جانب سے انکار کے بعد رانا ابرار نے معلومات تک رسائی کے حق سے متعلق قانون کے تحت قائم اپیلیٹ فورم پاکستان انفارمیشن کونسل میں درخواست دائر کی، جو کونسل نے منظور کرتے ہوئے معلومات کی فراہمی 10 دن میں یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

 تاہم وفاقی حکومت نے پاکستان انفارمیشن کونسل کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی، جس کی آئندہ سماعت 13 اکتوبر کو ہونا ہے۔ 

 پاکستان میں صحافتی آزادی پاکستان میں حکومت تو ہر حکومت صحافیوں کو مکمل آزادی دینے کے دعوے کرتی رہی ہے لیکن خود صحافی حالات سے مطمئن نہیں۔ فریڈم نیٹ ورک پاکستان میں صحافیوں کو درپیش خطرات کی جانچ کرتا ہے، اس کے مطابق مئی 2020 سے اپریل 2021 کے دوران صحافیوں کو درپیش خطرات اور حملوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے اور صرف ایک سا ل کے دوران 148 ایسے واقعات ہوئے ہیں۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اگلی  کہانیاں :۔

 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔