Pages

میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 20 دسمبر، 2021

وٹس ایپ گروپ البلاغ المبین کے نام

 یہ ساری کائینات -بشمول الارض پر پائے جانے والے ،  بعوضہ ( کرونا) سے لے کر انسانی حد نظر کے پار خلاء میں تیرنے والے اجرام فلکی ۔ کتاب اللہ کا حصہ ہیں ۔
تمام انسانوں کے لئے اِن کے متعلق لکھی ہوئی، علمائی تفصیلات انسانی دماغ اور ذہن کی ناقابلِ یقین کاوشات ہیں ، جو الغیب سے انسانوں پر انسانوں کی  بہتری کے لئے وحی ہوئیں ۔ اِن تمام وحی کو موصول کرنے والوں نے اپنے الھام (بد و خیر) کے مطابق انسانوں کے لئے مختلف اشیاء ایجاد کیں ۔
کم علم لوگ اِسے کائینات اور انسانوں کے خلاف سازش سمجھتے ہیں۔
٭-لاؤڈ سپیکر سے شیطانی آواز نکلتی ہے ۔

٭۔ تصویر کھنچوانا حرام ہے ۔

٭۔ کسی کو اپنا خون دینا حرام ہے ۔

٭۔ اعضاء دینا گناہ کبیرہ ہے ۔

٭- نیل پالش لگانے سے عورتوں کا وضو نہیں ہوتا  ۔

٭۔ سفید بالوں پر کالی پالش کروانے سے مردوں کا وضو ہوجاتا ہے ۔

آج وہی کم علم لوگ،  اپنا علاج کفّار  کی ایجاد سے کروا رہے ہیں ۔اور کہتے ہیں کہ اللہ نے اِن کفّار کو استنجا کرنے والوں کی خدمت پر مامور کیا ہے ۔ 

لیکن اُن کے فتاویٰ اپنی جگہ پر قائم ہیں ، کوئی فاسق یہ نہیں کہتا کہ ، ہمارے  علماء فقہاء دیندار طبقہ   نے کم علمی کی بنیاد پر  دنیا میں استعمال کی جانے والی اشیاء پر فتاویٰ دیئے  ، ہم اپنے علم کی بنیاد پر ہر اُس شے کا استعمال کر سکتے ہیں  جو انسان نے انسان کے فائدے کے لئے بنائیں  اور القرآن میں جس کے منع  کرنے یا باز رہنے کا کوئی حکم  ، رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ۔ مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَکی طرف سے نہیں  اور نہ  ہی اُن ایجادوں  کا علم رکھنے والے جدید علم کے  مسلمان نے  اکٹھا ہو کر کوئی اجتھاد کیا ہے ۔ 


 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پیر، 13 دسمبر، 2021

دھانِ مبارک سے ادا ہونے والا اللہ کا کلمہ کُن ۔

 صاحبان عقل و دانش ، فہم و فکر ، شعور و تدبّر ،  اللہ کے قُول، كُن  کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ 

جو آپ کو اللہ نے نہیں بتایا  بلکہ    رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ۔ مُحَمَّد رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ القرآن کے دھانِ مبارک سے اِس کرہ ارض پر گونجا ۔ اور آپ ایمان لائے ۔

 

٭٭٭٭00001 ٭٭٭٭

 

اتوار، 5 دسمبر، 2021

ابلیس ، آدم ، بنی آدم اور اُن کا ربّ

 ابلیس کا اپنے ربّ کو کھلا چیلنج : 
قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ [7:16]  
کیوں کہ تو نے مجھے غْوَيْ کیا ، اِس لئے میں تیرے صِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (القرآن) میں قْعُدَن  ( جم کر بیٹھ ) ہوجاؤں گا ۔ 
(جو بھی القرآن  کی صراط میں بیٹھ کر لوگوں کو بہکا رہا ہے وہ ذُریّتِ ابلیس ہے )
الملائکہ کے جم غفیر سامنے اپنے ربّ کی توہین کرنے والے ابلیس کو اللہ نے بس شٹ اَپ کال دی۔
   نہ اُس کو پتھر مارے اور نہ برف کی سلیں ماریں ۔ 
 لیکن آدم اور بنی آدم کو ابدی اصول بتایا ۔
 يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُواْ مِمَّا فِي الأَرْضِ حَلاَلاً طَيِّباً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ [2:168] 
 کیوں کہ آدم نے جس پھل کا ذائقہ چکھا وہ اُس کے لئے حلال نہ تھا ۔ اور وہ حرام کام میں ملوّث ہو ا ۔
 يَا بَنِي آدَمَ لاَ يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّةِ يَـنْـزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْءَاتِهِمَا إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لاَ تَرَوْنَهُمْ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ لِلَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ [7:27] 
آدم اور اُس کی زوج کے لباس اتروادیئے ۔ اِس کے باوجود کہ وہاں صرف یہ دونوں تھے ۔
 اور اُنہیں اپنے ربّ کے حکم کے مطابق بالباس رہنا تھا ۔ گناہوں کی بستی میں نہیں اترنا تھا ۔ وہ اِس لئے کہ مہاجرزادہ کے فہم کے مطابق اُن کے ربّ نے اُنہیں الجنت میں جنسی فعل (نکاح) کی اجازت نہیں دی تھی ۔ 
 ابلیس نے اُن دونوں کو الگ الگ ، مملکتِ لازوال یعنی اولاد کا خواب  ، جنسی فعل کے ذریعے دکھایا۔ 
 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  قَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَـذِهِ الشَّجَرَةِ إِلاَّ أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ [7:20]
 
نوٹ : یہاں لباس سے مراد ریشمی یا سوتی کپڑے نہیں ۔ بلکہ غصّ البصر کی وہ انتہا ہے جس میں مرد اور عورتیں یورپیئن ، بے لباس سمندر میں جمگھٹوں میں گھومتے ہیں اور سوائے انسانی بدن کی جسمانی خوبصورتی کو سراھنے اور ذہن میں واؤ کہنے کے، اُنہیں کوئی جنسی خیال نہیں آتا ۔
یہی وجہ ہے کہ مرد اور عورت کے بلوغت کو پہنچتے ہی اُنہیں بذریہ اللہ کے حکم نکاح (جنسی فعل) کی اجازت دی ہے ۔
 نکاح   : بالغ مرد اور عورت کا  ساتھ رہنے ، حلال و طیب جیزیں کھانے اور جنسی عمل کے لئے ،   شھداء  کی موجودگی میں ، ادئیگی ءِ مہر  اور ایجاب و قبول ہے ۔ 

 ٭٭٭ ٭٭٭٭٭
بلوغت کو پہنچنے کے بعد بنی آدم نے ، الشیطان  کے بہکانے پر ، اُس شجرۃ کا ذائقہ ضرور چکھنا ہے ، کہ جس سے اُن کے ربّ نے اُن  کے آباء آدم کو منع کیا تھا ۔
مہاجر زادہ  کے اللہ کی آیات  سے اخذ کردہ فہم کے مطابق  :
1- اگر  شھداء کے موجودگی سے چھپ کر ایجاب و قبول (جنسی عمل) کیا تو یہ، اُس وقت تک
خْدَنٍ کہلائے گا جب تک مرد اور عورت  ۔ شھداءکے سامنے اپنے ریلیشن شپ ( جنسی فعل)   کاا قرار نہ کرلیں  یا ایک گھر(کمرے)   میں رہتے ہوئے  دیکھے جائیں ۔
2-حمل ساقط کے فعل سے مرد اور عورت      مُسَافِحِينَ (سفح)کہلائیں گے ۔  
3- زنا  ۔ شادی شدہ عورت   سے   جنسی فعل کرتا ہے تو ہ زانیہ  کہلائے گی اور اگر مرد کو ایجاب و قبول کے وقت یا بعد میں معلوم ہوگیا تو وہ زانی کہلائے گا ۔    کیوں کہ زنا کسی بالغ عورت کا  جس نے کسی مرد سے جنسی فعل کیا ہو اُس کا کسی مردسے جنسی فعل تین قروء کے اندر کرنے کا عمل ہے ۔ عورت کو یہ لازمی معلوم ہو کے اُس کی کوکھ میں کس کا بچہ ہے ۔ 
 4- اگر عورت ، تین قروء کے اندر کسی اور مرد سے جنسی فعل کرتی ہے تو وہ ، زانیہ  کہلائے گی ۔
5۔ مخلوط کالجوں اور یونیورسٹیوں کے چند طلبا ، مستقبل میں شادی کا جھانسہ دے کر لڑکیوں کو جنسی فعل پر راضی کرتے ہیں ۔اللہ کے قانون کے مطابق وہخْدَانٍ    اور   مُسَافِحِينَ کے  جرم  میں ملوّث ہوتے ہیں ۔ اِس کے باوجود کہ دونوں نے ایجاب و قبول کیا ہوتا ہے ۔ ممکن ہے کہ دونوں  نے اپنے دوست (ایک)  اور سہیلیوں   (دو) کو  اپنے ریلیشن شپ (جنسی فعل) کابتایا  ہو ۔ تو اِس صورت میں اُن کا نکاح   مکمل ہوا ۔ 
6- کالج و یونیورسٹی کی تعلیم ختم ہونے کے بعد ، اگر وہ دونوں  آئیندہ زندگی ساتھ نہیں گذارتے ،  عورت کو  دوسرے مرد سے مروّج نکاح(جنسی فعل )  کرنے  کے لئے تین قروء انتظار کرنا پڑے گا ۔
 ٭٭٭ ٭٭٭٭٭
 

بدھ، 1 دسمبر، 2021

طلاق ۔ اللہ کے حکم کے مطابق

طلاق کیا ہے ؟
(مرد و عورت کے جسمانی تعلقات کا یکسر خاتمہ)

شوہر اور بیوی سے علیحدگی کے لئے اللہ کے احکامات ۔
 
٭یہ احکامات ، نکاح کرانے والے اور نکاح کے گواہوں کے لئے ہیں ۔ جو طلاق کا فیصلہ کریں گے، کیوں کہ حُدُودَ اللَّهِ (1) نکاح کروانے والوں۔ (2) طلاق دلوانے والوں (3) شوہر و بیوی پر عائد ہوتی ہے ۔ :

1- اللَّهَ کے احکامات انسانوں کے لئے کہ وہ کسی پر
تَبَرُّ کرتے وقتاللَّهَ  کو اپنے أَيْمَانِ کے لئے نہ شامل کریں ۔ اور اگر وہ اللَّغْوِ کے ساتھتَبَرُّکرتے ہیں تو اُن کی پکڑ نہیں ہوگی ۔ لیکن جب وہ اِس پر قُلُوبُ کے ساتھ اپنے تَبَرُّ پر قائم رہتے ہیں تو اُن کی پکڑ ہوگی ۔

وَلَا تَجْعَلُوا اللَّهَ عُرْضَةً لِّأَيْمَانِكُمْ أَن تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ۔
لَّا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ ۔


2۔ یہ
اللَّغْوِ کے ساتھتَبَرُّ ، اپنی نِّسَاءِ کے لئے ہو تو ، وہ أْلُونَ میں مبتلا ہو جاتے ہیں ، اُن کے لئے اِس  أْلُونَ سے پر رَبَّصْ رہنے کے لئے أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ مدت ہے، اور وہ   فَاءُ(ف ي أ ) کریں ۔ تو اُن کے أْلُونَ  پر  رَبَّصْ  رہنے کے لئے اگلی کاروائی ہو گی ۔

لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ۖ فَإِن فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۔

3- اب شوہر کو عزم الطلاق کرنا ہوگا ۔

وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ۔

4- مرد کے عزم الطلاق سے بیوی خود کو
ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ کے لئے (کسی دوسرے مرد سے ہم بستری کرنے کے لئے ) رَبَّصْ کریں گی ۔( ورنہ یہ عورت کے لئے زنا میں شمار ہوگا ) ۔ لیکن شوہر   اپنے عزم الطلاق کو  ثَلَاثَةَ قُرُوءٍسے پہلے رَدِّ کر سکتا ہے ۔ اگر وہ ا پنےاللَّغْوِکے ساتھ تَبَرُّ پر  صْلَاحًا کا ارادہ رکھتا ہے ۔

وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ ۚ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا ۚ وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ‎۔

5- الطلاق دو بار (تین بار نہیں) ، جو تیسری طلاق کا فہم رکھتے ہیں وہ اللہ کی آیات سے الحاد کرتے ہیں ۔
جو حرامی مرد (حرام کھانے والا) ۔ اگر عورت کا مہر غضب کرکے اُسے طلاق دے دے ۔ یا طلاقِ فدیہ (عورت اُس کی دی گئی تمام جائداد ، مال و دولت یا مہر واپس کرے) لے ۔

الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَن يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
  ‎۔
6۔ تو ایسی عورت کو لازماً ، اِس مرد سے شادی کرنا اُس وقت حلال نہیں جب تک وہ دوسرے مرد سے شادی نہ کرے اور وہ اُسے ، عزمِ طلاق کے بعد اللَّهَ کے حکم کے مطابق طلاق دے ۔
فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۗ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ۔

7۔ طلاق دلوانے والوں کے لئے
اللَّهَکے احکامات :

وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ ۚ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوا ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا ۚ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُم بِهِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ‎۔

وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ ۗ ذَٰلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ مِنكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۗ ذَٰلِكُمْ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَأَطْهَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ۔ (البقرہ 224 تا )234
 ٭٭٭٭٭٭٭٭ 

منگل، 30 نومبر، 2021

بوڑھے کے پنشنرز میں شامل ہونے کا 20 واں سال

   30 نومبر 2021 بوڑھے کا یادگار دن ، پنشنر بننے کی 20 ویں سالگرہ اور قومی اسمبلی کے سامنے ، پنشنرز اور ملازمین کے احتجاج میں قیادت ۔


اپنے لئے نہیں پاکستان کے تمام 1 تا گریڈ 14 کے پنشنرز کے لئے ، جن کا مہنگائی کے اِس دور میں گذارہ مشکل سے ہوتا ہے ۔
حکومت پاکستان کو چاھئیے کہ مہنگائی سلیب (انڈکسشن ) برائے فیڈرل و صوبائی ریٹائرڈ ملازمین اِس طرح مقرر کرے ۔ کہ کم از کم پنشن نئے بھرتی/ملازم ہونے والے گریڈ 1 کے برابر ہوجائے ۔ اور ہر سال مہنگائی کے تناسب سے ، ملازمین کی ہر سال بجٹ میں مہنگائی کی وجہ سے بڑھنے والی تنخواہ میں اضافے کا 50٪ کے برابر پنشن میں اضافہ کیا جائے۔
آج جب میں نے سٹیج سے ملازمین کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا ، کہ آپ یہاں اِس لئے جمع ہوئے ہو کہ آپ کا گذارہ نہیں ہو رہا ، لہذا حکومت 10 فروری 2021 کو ملازمین سے کئے گئے ، وزراء کے تحریری معاہدے پر عمل کرے ۔
اگر آپ آج ریٹائر ہوجائیں تو کیا آپ کا گذارہ ہوجائے گا ؟
سب کا جواب تھا نہیں ۔
میں نے کہا کہ آپ نے 60 سال کی عمر پر پہنچ کر لازمی ریٹائر ہونا ہے ۔ آپ پنشنرز کی آواز نہ بنیں ۔ بلکہ اپنی آواز خود بنیں ، کہ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کو مہنگائی کے جن سے لڑنے کے لئے ، خود اپنے حاضر سروس ملازمین اور اپنے منتخب کئے وزراء سے احتجاج نہ کرنا پڑے ۔
اور زندہ رہنے کے لئے روٹی کپڑا اور مکان میسر ہو ۔
تو پھر آپ 10 فروری 2022 کو اپنے احتجاج کی سالگرہ ، اِس شان سے منائیں ، کہ سڑکیں اور جیلیں بھر دیں ۔تاکہ حکومتِ وقت آپ کی آواز پر آپ کی ڈیمانڈ کے مطابق تحریری فیصلہ دینے پر مجبور ہوجائے ۔  
٭٭٭٭٭٭٭٭
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔